ہماری ٹاپ کلاس کہانیاں پڑھنے کے لیے ہمارے فورم کو جوائن کریں

میرے تمام چاہنے والوں کو میرا سلام جن کی محبتیں میرا حوصلہ ہیں۔ ایک نئی کہانی کے ساتھ حاضر ہوئی ہوں امید ہے یہ اپروو ہو جائے گی اور کچھ فن تقسیم ہوگا۔ تو چلتے ہیں کہانی کی طرف اور یہ کہانی بھی جس پہ گزری ہے اسی کے انداز سے لکھی جائے گی ۔ میرا نام عمیرہے اور یہ میری سچی آپ بیتی ہے جو آپ لوگوں تک پہنچے گی ۔ ہم چار بہن بھائی ہیں ابو ایک درمیانے درجے کے کاروباری اور امی ایک بہت اچھے پرائیویٹ سکول میں پڑھاتی ہیں یہ تب کی بات ہے جب میں کلاس آٹھ میں تھا باقی ایک بھائی اور دو بہنیں مجھ سے چھوٹے ہیں میں سب سے بڑا ہوں۔ ہم سب امی کے سکول میں ہی پڑھتے تھے اور انہی کے ساتھ سکول آتے جاتے تھے ایک وین ہمیں سکول سے پک ڈراپ کرتی تھی جس میں اور بچے اور ٹیچرز بھی ہوتے تھے۔ کہانی تب سے شروع ہوتی ہے جب میں آٹھویں کلاس میں تھا میرا ایک ہی اچھا دوست تھا جس کا نام یاسر تھا۔ ایک دن سکول بریک میں جب میں کینٹین سے واپس کلاس کی طرف جا رہا تھا تو یاسر کے ساتھ ہی میرے کلاس کے دو لڑکے سلیم اور یوسف کھڑے تھے اور کسی بات پہ ہنس رہے تھے مجھے دیکھتے ہی ان کے اوسان خطا ہو گئے اور وہ کچھ پریشان سے ہو گئے۔ میں جا کر ان سے ملا اور باتیں کرنے لگا لیکن وہ تینوں کچھ الجھے الجھے نظر آئے اور جلد ہی وہ دونوں کھسک گئے اور اب میں اور یاسر اکیلے رہ گئے ۔ پہلی بار میں نے نوٹ کیا کہ یاسر مجھ سے نگاہیں چرا رہا ہے جیسے وہ کچھ بات چھپانا چاہ رہا ہو۔ میں نے یاسر سے پوچھا کیا مسئلہ ہے تم اتنے پریشان کیوں ہو رہے ہو؟ یاسر ایک دم بوکھلا سا گیا اور بولا کچھ بھی ایسا نہیں ہے ۔

لیکن میں شک میں پڑ چکا تھا اور میں نے یاسر سے پوچھا لیکن وہ بات کو ٹالنے لگا۔ میں بار بار اس سے بات کے لیے اسرار کرنے لگا لیکن اس کے بات بتانے سے پہلے ہی بریک ختم ہو گئی اور ہمیں کلاس میں جانا پڑا۔ یاسر کے اس رویے سے مجھے اس پہ بہت غصہ آیا اور میں اس سے ناراض ہو گیا کلاس میں بھی میں نے اس سے کوئی بات نہ کی اور چھٹی کے بعد گھر آ گیا ۔ اس سے ناراضگی کی وجہ سے میں کھیلنے کے لیے گراونڈ میں بھی نہ گیا اور جب شام میں وہ میرے گھر کھلینے کے لیے مجھے لینے آیا تو میں نے اسے منع کر دیا اور اسے واپس بھیج دیا یاسر نے بہت منت سماجت کی لیکن میں نے اس کی کوئی بات نا مانی اور ناراض ہی رہا تھک کہ وہ بھی واپس چلا گیا۔ اگلے دن سکول میں بھی میں نے اس سے کوئی بات نہ کی اور بریک تک وہ مجھے منانے کی کوشش کرتا رہا لیکن میں نے اس سے بات نہ کی۔ جونہی بریک ہوئی میں باہر جانے لگا تو اس نے ایک دم میرا بازو پکڑ لیا اور مجھے کہا دیکھو عمیر ناراض مت ہو میں وہ سب تمہیں بتا دیتا ہوں لیکن مجھ سے ایک وعدہ کرو پہلے۔ میں نے جب یہ دیکھا کہ وہ مجھے بات بتانے کے لیے راضی ہے تو میرا دل نرم ہوتا گیا ۔ میں نے کہا ہاں ٹھیک ہے بولو کیا وعدہ کرنا ہے،؟؟ اس نے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھایا اور میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔ میں نے یاسر کی آنکھوں میں دیکھا تو وہ مجھے بے بس نظر آیا اور بولا دیکھ عمیر تم ضد کر رہے ہو اور ناراض ہو لیکن یہ بات جان کہ تم اور ناراض نہ ہونے کا وعدہ کرو تو بتا دوں گا لیکن یہ وعدہ کرو کہ یہ بات کسی کو نہیں بتاو گے اور مجھ سے ناراض بھی نہیں ہو گے۔ یہ وعدہ کرنے میں مجھے تو کوئی مشکل نہ تھی اس لیے میں نے اس کا ہاتھ تھامے اس سے وعدہ کر لیا ۔ سارے بچے کلاس سے نکل چکے تھے میں اور وہ کلاس میں کھڑے تھے۔ یاسر نے میرا ہاتھ چھوڑا اور کلاس روم سے باہر جھانک کہ اندر میری طرف مڑا اس کے چہرے پہ ہوائیں اڑ رہی تھی اور وہ بار بار اپنی زبان ہونٹوں پہ پھیر رہا تھا اور بولنے کی ہمت جمع کر رہا تھا اور میں اس کی طرف مشتاق نظروں سے دیکھ رہا تھا جیسے وہ کوئی مجھے کرتب دکھانے والا ہو میرا بھی سسپنس عروج پہ تھا کہ جانے اب کیا بات مجھے پتہ چلے گی میں یاسر کی طرف دیکھ رہا تھا اور وہ بات کرنے کی ہمت جمع کر رہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کیا بات ہے آخر بتاو تو سہی۔ یاسر نے بے بسی سے سر ہلایا اور ہاتھ ملتے ملتے بولا یار عمیر میں کیسے بتاوں تمہیں یہ بات؟؟ میں نے کہا جس طرح تم ان سے ہنس ہنس کہ بات کر رہے تھے اسی طرح بتا دو مجھے کیونکہ مجھے بھی بہت سسپنس ہو رہا تھا کہ جانے اب بات کیا ہے ۔ یاسر نے اسی طرح الجھے ہوئے لہجے میں کہا یار ناراض نہ ہونا لیکن وہ سلیم کہہ رہا تھا کہ اس کو ٹیچر شازیہ (امی) کے دودھ بہت اچھے لگتے ہیں اور جب وہ جھک کہ پڑھاتی ہیں یا کاپی چیک کرتی ہیں تو گلے سے اندر تک نظر آتے ہیں اور پھر ان کے موٹی بنڈ میں جب قمیض پھنستی ہے تو میری للی کھڑی ہو جاتی ہے یہ سب وہ کہہ رہا تھا یاسر نے یہ ساری بات جلدی جلدی ایک ہی سانس میں کی لیکن میرے کانوں میں جیسے سائیں سائیں ہونے لگا، یہ بات مجھے بہت ہی بری لگی اور میرا سارا وجود جھنجھنا اٹھا میں ایک جھٹکے سے آگے ہوا اور یاسر کا گلہ پکڑا اس سے پہلے کہ میں اسے مارتا اس نے میرے آگے ہاتھ جوڑے اور جلدی سے بولا دیکھ عمر تو نے وعدہ کیا تھا کہ ناراض نہیں ہوگا اور کسی کو نہیں بتائے گا۔ دیکھ تو مجھے مارے گا تو بات باہر نکل جائے گی۔ اس کی بات سن کہ میں نے ایک جھٹکے سے اسے پیچھے دھکیل دیا لیکن مجھے بہت غصہ آیا ہوا تھا میرا چہرہ غصے سے لال بھبھوکا ہو چکا تھا اور مجھے اپنے کان کی لووئیں جلتی محسوس ہو رہی تھیں ۔ میں نے خونخوار نظروں سے یاسر کی طرف دیکھا تو وہ پھر بولا یار وہ یہ بات کہہ رہا تھا میں تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتا۔ میں نے خود کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی اب اتنی سمجھ مجھے بھی تھی کہ اس بات سے امی کی بدنامی ہو گی میں نے اس لیے اپنے آپ کو کنٹرول کرنے کی کوشش شروع کر دی تھی۔ یاسر میرے سامنے کھڑا تھا اور میں کرسی پہ بیٹھ چکا تھا میں نے اس کی طرف دیکھا اور کہا اور کیا بکواس اس کمینے نے کی؟ یاسر میرے پاس آیا اور بولا دیکھ عمیرخود کو کنٹرول کر میں تمہیں سب بتا دوں گا اور اس نے میرے کندھے پہ ہاتھ رکھ کہ مجھے تھپکی دی اور کہنے لگا دیکھ میں جانتا ہوں یہ بہت بری بات ہے لیکن ہم اس پہ کوئی ایکشن اس طرح نہیں لے سکتے

قہقہہ لگایا اور میرے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا۔ جو نظارہ سب سے اچھا لگے گا رات کو وہ سوچ کہ ہاتھ سے للی کو ہلانا اور پھر دیکھنا سکون کیا ہوتا ہے۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا اس نے کہا چلو جی اب کھیلتے ہیں اور میں سب کچھ بھول کر کھیل میں مگن ہو گیا۔ کھیل ختم کر کہ مغرب کے قریب جب میں گھر کے لیے روانہ ہوا تو دروازے پہ ہی امی ہماری پڑوسن کلثوم آنٹی کے ساتھ کھڑی تھیں جن کا رنگ بہت کالا تھا میں نے ان کو سلام کیا اور اندر داخل ہو گیا امی گیٹ پہ کھڑی ان سے گپ لگا رہی تھیں ۔ میں اندر صحن میں جا کہ بیٹھ گیا اور امی کی طرف دیکھنے لگا ۔ میری نظر بار بار امی کے جسم کا طواف کر رہی تھی اور میرے وہم و گماں میں بھی نہیں تھا کہ سامنے کھڑی کلثوم آنٹی یہ سب نوٹ کر رہی ہیں ۔ ان کی گپ شپ جاری تھی اور میں نظارے میں ڈوبا ہوا تھا کہ اچانک امی نے مجھے آواز دی اور مجں نے چونک کہ ان کی طرف دیکھا تو انہوں نے کئا آؤ آنٹی کو بازار سے سبزی لا دو۔ کلثوم آنٹی کوئی چالیس سال کے قریب عمر کی ایک کالی سی عورت تھیں جن کا جسم بھرا بھرا تھا مگر ان کی کوئی اولاد نہ تھی۔امی نے کہا آو آنٹی کو سبزی لا کہ ان کے گھر دے کہ آو میں جلدی سے اٹھا ان سے پیسے لیے اور بازار کی طرف نکلنے لگا تو انہوں نے کہا کہ سبزی لے کر گھر آنا میں گھر ہی جا رہی ہوں۔ یہ ایک نارمل بات تھی جس پہ مجھے کوئی حیرانی یا الجھن نہ تھی میں بازار گیا وہاں سے سبزی لی اور کلثوم آنٹی کے گھر کی طرف روانہ ہو
کلثوم آنٹی کے گھر کیونکہ کھلم کھلا آنا جانا تھا تو میں سبزی لیکر ان کے گھر کی طرف چل پڑا اور دروازہ کھول کہ اندر داخل ہوا تو وہ سامنے صحن میں لگے نل کے آگے پاؤں کے بل بیٹھی برتن دھو رہی تھیں انہوں نے مڑ کر دیکھا تو مجھے آواز دی کہ دروازہ بند کر کہ سبزی کچن میں رکھ دو۔ میں نے اچٹتی سی نظر ان پہ ڈالی اور کچن کی طرف بڑھ گیا ابھی میں سبزی رکھ رہا تھا کہ انہوں نے آواز دی علی وہاں سے گندے برتن اٹھا کر لیتے آو میں نے کچن سے گندے برتن اٹھائے اور ان کو دینے چل دیا۔ جب میں ان کے آگے برتن رکھنے لگا تو ان کے منے آدھے سے بھی زیادہ ننگے تھے اور انہوں نے کوئی چادر نہیں لی ہوئی تھی۔ برتن رکھتے میری نظر ان پہ پڑی تو ان کے ممے بناوٹ میں مجھے انی کے مموں سے بھی اچھے لگے لیکن رنگ تھوڑا کالا ہونے کی وجہ سے مجھے کوئی خاص کشش نہ محسوس ہوئی۔ اور میں ان کے سامنے برتن رکھ کہ پیچھے ہٹ گیا اور صحن میں پڑے تخت پوش پہ بیٹھ گیا کہ یہ برتن دھو کہ فارغ ہوں تو بقایا پیسے دیکر گھر کی طرف نکل جاوں۔ یوں بیٹھے بیٹھے میں نے نظر گھمائی تو کلثوم آنٹی پہ میری نظر پڑی جو قمیض کا دامن پیچھے سے خاصا اونچا کیے پاوں کے بل بیٹھی ہوئی تھیں جس سے ان کی کالی سی کمر بھی نمایاں ہو رہی تھی۔ میں نے ایک نظر ان کو دیکھا اور پھر نظر ہٹا لی کیونکہ کالے رنگ میں مجھے کوئی کشش محسوس نہ ہو رہی تھی۔ میں ادھر ادھر دیکھنے لگ گیا تو مجھے محسوس ہوا کوئی میری طرف دیکھ رہا ہے میں نے جب دیکھا تو کلثوم آنٹی نے اپنا نچلا ہونٹ دانتوں کے نیچے دبایا ہوا تھا اور وہ مجھے عجیب سی نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔ مجھے ان کے دیکھنے کا انداز بہت عجیب سا لگا اور میں نے گھبرا کہ آنکھیں نیچے کر لیں مجھے محسوس ہوا کہ وہ چلتی ہوئی میری طرف آ رہی ہیں میں نے اپنی نگاہیں فرش پہ گڑا دیں اور نیچے دیکھنے لگ گیا وہ بھی چلتی ہوئی میرے پاس آئیں اور میرے سامنے کھڑی ہو گئیں مجھے فرش پہ ان کے پاوں نظر آئے لیکن میں نے ان کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھا۔ کلثوم آنٹی میرے سامنے کھڑی تھیں اور ان کی سانسوں کی آواز مجھے واضح طور پہ سنائی دے رہی تھی۔

مجھے کلثوم آنٹی کا یوں پیار کرنا بہت عجیب سا لگا وہ میرے گالوں کو ہونٹوں کے درمیاں دبا دبا کہ چوس رہی تھیں اور میرا جسم جیسے جھنجھنا سا اٹھا تھا مجھے اپنا وجود بہت ہلکا ہلکا اور عجیب سا محسوس ہو رہا تھا اور مجھے وہ بدستور چوسے جا رہی تھیں میں حیران اور پریشان بھی تھا اور جسم کو ملتے اس سرور کو اپنی رگ رگ میں اترتا محسوس بھی کر رہا تھا۔ کلثوم آنٹی میرے گال چوستے چوستے پیچھے ہٹیں تو میں نے ان کے چہرے کی طرف دیکھا جو بہت عجیب لگ رہا تھا ان کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں اور وہ ایسے ہانپ رہی تھیں جیسے کہیں سے بھاگتی آئی ہوں اور یہ دیکھ کہ میں اور الجھ سا گیا تھا کہ ان کو کیا ہو رہا ہے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے ان سے پوچھا کہ آپ کی طبعیت تو ٹھیک ہے آنٹی آپ کو کیا ہوا ہے؟ آنٹی کے چہرے پہ ایک عجیب سی مسکراہٹ آئی اور انہوں نے میرا چہرہ اپنے ہاتھ میں پکڑ کہ اپنے موٹے ہونٹ میرے ہونٹوں پہ رکھ دئیے اور میرے ہونٹوں کو کھا جانے والے انداز میں چوسنے لگیں ان کے منہ سے ہلکی ہلکی ناگوار مہک مجھے محسوس ہو رہی تھی لیکن میرے ہونٹ ان کے ہونٹوں میں جھکڑے ہوئے تھے اور میں چاہتے ہوئے بھی ہونٹ نہ چھڑا سکا آنٹی نے میرے ہونٹ چوستے چوستے ایک لمحے کے لیے گہری سانس لی اور مجھے گھورتی ہوئی بولیں ابھی تو گھر اپنی ماں کی گول مٹول موٹی بنڈ کو گھور رہے تھے اب میرے سامنے معصوم بن رہے ہو یا صرف ابھی گھورنے پہ ہی گزارا کر رہے ہو۔ میں آنٹی کی یہ بات سن کہ بہت حیران ہوا بلکہ پریشان ہو گیا اور میرے چہرے پہ ہوائیں اڑنے لگیں۔ آنٹی نے مجھے پریشان ہوتے دیکھا تو ایک بار پھر میرے منہ پہ حملہ آور ہو گئیں اور مجھے دبوچ کہ چوسنے لگ گئیں۔ آنٹی نے میرے ہونٹ چوستے چوستے اپنا ایک ہاتھ میرے ہاتھ پہ رکھا اور میرا ہاتھ کھینچتے ہوئے اپنے ایک ممے پہ لے گئیں اور دوسرے ہاتھ سے میری للی کو پکڑ لیا ۔ مجھے انوکھا لطف مل رہا تھا مگر ان کے منہ سے آتی ناگوار سی مہک سارا مزہ خراب کر رہی تھی۔ آنٹی نے اس طرح میرے ہونٹ چوستے چوستے میرے لن کو یا للی کو مسلنا شروع کر دیا اور ہاتھ سے اسے آگے پیچھے مسلنے لگی۔۔

آنٹی نے میری للی منہ میں لی اور اسے چوسنے لگیں ساتھ ایک ہاتھ نیچے کر کہ انہوں نے میرے چھوٹے چھوٹے ٹٹوں کو بھی سہلانا شروع کر دیا میں تو جیسے ہوا میں اڑ رہا تھا مجھے بہت اچھا لگ رہا تھا کچھ دیر ایسے چوسنے کے بعد جب انہوں نے میری للی کو منہ سے نکالا تو وہ ان کے تھوک سے لت پت ہو چکی تھی انہوں نے میری طرف مسکراتے ہوئے دیکھا اور میری للی کو ہاتھ میں پکڑ کر مسلنے لگیں میری منہ سے سسکیاں نکل رہی تھیں انہوں نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا بہت ماں چود ہو للی دیکھو چھوٹی سی اور نظر رکھی ہوئی ہے اپنی ہی ماں پہ اور پھر ہنسنے لگ گئیں اور۔ میری للی کو سہلاتے ہوئے ہاتھ میں پھر سے بولیں تمہارا قصور ہے بھی نہیں تمہاری امی پہ محلے کا ہر مرد عاشق ہے کمینی ہے بھی اتنی دلکش کہ جو دیکھتا ہے اسی کا ہو جاتا ہے تم تو ابھی بچے ہو یہاں تو بڑے بڑے اس کی اداوں پہ مرتے ہیں۔ کلثوم آنٹی کی یہ بات مجھے بری تو لگی لیکن ان کے ہاتھوں میں للی دئیے میں چپ ہی رہا کہ ایسا نا ہو میں کچھ بولوں تو اس مزے سے بھی جاوں۔ کلثوم آنٹی نے میرے چہرے کی طرف دیکھا اور لن کس سہلانے کی سپیڈ تیز کر دی اور بولیں اگر شازیہ کے گورے ہاتھوں میں تمہاری یہ للی ہو تو کیسا لگے گا جو میں کر رہی ہوں اگر وہ کرے تو ؟؟ ساتھ انہوں نے للی کو سہلانے کی سپیڈ بہت تیز کر دی۔ میرا جسم بہت عجیب ہو چکا تھا ان کی یہ بات سن کر مجھے جھٹکا سا لگا لیکن میں نے شرم سے سر جھکا لیا اور کوئی جواب نا دیا۔ کلثوم آنٹی نے میری للی کو اسی طرح مسلتے ہوئے کہا مجھے یقین ہے تمہیں سن کہ ہی مزہ آیا ہو بڑے ہی ماں چود ہو فکر نہ کرو بہت جلد میں اس کی پھدی تمہارے آگے رکھوں گی بس زرا اس للی کو لن بننے دو۔ یہ کہتے ہی انہوں نے ایک بار پھر میری للی کو منہ میں بھر لیا اور تین چار زوردار چوپے لگانے کے بعد مجھے وہیں تخت پوش پہ نیچے کر کے میرے پیچھے سے تکیہ ہٹا دیا کہ میری ٹانگیں تخت پوش سے نیچے لٹکی ہوئی تھیں ۔ وہ مجھے نیچے گراتی ہوئی پاوں سے جوتیاں نکالتے ہوئے میرے پیٹ سے نیچے اکڑوں بیٹھ گئیں اور اپنی شلوار ننگی کرتے ہوئے میری للی کو ہاتھ میں پکڑ لیا۔ میں نے سر اٹھا کہ ان کی ٹانگوں کے درمیاں دیکھا تو موٹے موٹے دو کالے ہونٹوں کے درمیان ایک گول سا سوراخ بنا ہوا تھا اور کلثوم آنٹی کا کالا چہرہ پسینے سے شرابور ہو چکا تھا ان کی پھدی پہ کالے کالے بال بہت عجیب لگ رہے تھے میں نے یہ کچھ تو کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا جو کچھ ہونے جا رہا تھا آنٹی نے اپنے دانتوں سے اپنا نچلا ہونٹ دبایا اور میری للی کو پکڑ کر اپنی پھدی کے سوراخ پہ رکھا اور اس پہ بیٹھ گئیں مجھے یوں لگا جیسے کوئی بہت گیلی گیلی اور گرم جگہ میں میری للی جا چکی ہے میرے زہہن میں یہیں تھا کہ گندی نے پیشاب کر دیا ہے لیکن للی کے ارد گرد جو گرمی اور پھسلن تھی وہ اچھی لگ رہی تھی آنٹی نے میری طرف دیکھا اور پھر پھدی کو بھینچا جس سے میری للی ان
کی پھدی میں دب گئی اور وہ اپنا بھاری وجود مجھ پہ اچھالنے لگ گئی اور للی کو اندر باہر خود ہی کرنے لگ گئیں

مجھے بہت مزہ تو مل رہا تھا لیکن مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی یہ کیا ہو رہا ہے آنٹی میری للی کو اپنے اندر سموئے اس پہ اوپر نیچے ہو رہی تھیں جب وہ اوپر ہوتی تو میری للی سلپ ہو کہ باہر نکل آتی جسے وہ پھر ہاتھ نیچے کر کہ سوراخ پہ ایڈجسٹ کرتیں اور اوپر نیچے ہونے لگتی ۔ ان کے منہ سے بھی عجیب عجیب آوازیں نکل رہی تھی پھر انہوں نے میرے سائیڈ پہ پڑے ہاتھ پکڑے اور ان کو اٹھا کر اپنے مموں پہ رکھ لیا اور اسی طرح اچھلتی گئیں۔ ماں چود ان کو پکڑ نا حرامزادے ساتھ ان کے منہ سے گالیاں نکلیں جن پہ مجھے بالکل بھی مزہ نا آیا ادھر آنٹی بھی سمجھدار تھیں فورا سمجھ گئیں اور ایک ہاتھ سے میرے گال سہلاتے ہوئے بولیں میرا شہزادہ میرا منا میرا بچہ اب گالی نہیں دیتی میری جان ۔ اور ان کے اوپر اچھلنے کی رفتار بہت تیز ہو گئی ان کی موٹی گانڈ جب میری ران پہ لگتی تو تھپ تھپ کی آواز آتی اور للی جب ان کی گیلی پھدی میں جاتی تو پچک پچک کی آواز آتی ان کا صحن انہی آوازوں سے گونج رہا تھا مجھے اپنی للی پہ بہت گیلا گیلا محسوس ہو رہا تھا میں نے آنٹھ کے چہرے کی طرف دیکھا تو ان کی آنکھوں کی پتلیاں اوپر چڑی ہوئی تھیں اور وہ زور سے ہانپ رہی تھیں اور میرے اوپر ایک مشین کی طرح اچھل رہی تھیں میرا جسم تو ایک نئے ہی لطف سے روشناس ہو رہا تھا لیکن آنٹی کی حالت مجھے عجیب لگ رہی تھی۔ اس سے پہلے کہ میں ان کی حالت پہ ان سے کچھ پوچھتا ان کے منہ سے عجیب سی آوازیں نکلنے لگیں وہ مجھ پہ مشینی انداز پہ اچھلنے لگیں اور اپنے ہاتھ میرے سینے پہ دبا کہ سارا وزن مجھ پہ ڈال دیا ان کی پھدی نے میری للی کو بری طرح دبوچ لیا اور پھر مجھے للی کے ارد گرد پانی ہی پانی محسوس ہوا اور ان کی پھدی میری للی کے ارد گرد تنگ اور کھلی ہوتی گئی اور ان کی پھدی سے پانی رستہ ہوا میری رانوں کو بھگونے لگے ان کے منہ سے ایک زوردار آہ نکلی اور وہ اپنے بھاری بھرکم وجود سمیت مجھ پہ گرتی چلی گئیں ۔ مجھ پہ گرتے ہی انہوں نے میرے چہرے کو بے تحاشہ چومنا شروع کر دیا اور میرے گال ماتھے ناک آنکھوں سبھی جگہ پہ پیار کرنے لگیں ان کے چہرے پہ ایک اطمینان اور آسودگی کے تاثرات تھے جیسے انہیں ہفت اقلیم کی دولت مل گئی ہو ۔
کیسا لگا ؟ آنٹی نے مجھے چومتے ہوئے مجھ سے پوچھا میری للی ابھی ان کی گیلی پھدی کے درمیان ہی تھی میرے کچھ بولنے سے پہلے وہ پھر مجھے چوستی چومتی گئیں اور میرے پورے چہرے پہ پیار کرتی گئیں ۔ میں نےکہا مجھے بہت اچھا لگا اور ان کے آگے چپ لیٹا رہا وہ اسی طرح مجھے چومتی ہوئی بولیں یہ مزہ تجھے شازیہ بھی نہیں دے سکتی وہ پورا محلہ اوپر چڑھا سکتی ہے مگر تیرا کوئی چانس بہیں ہے تجھے یہ مزہ مجھ سے ہی ملے گا اور پھر میرا چہرہ چومتے ہوئے بولیں ہاں اگر تم میرے ساتھ ٹھیک رہے تو میرا وعدہ ہے ایک دن تمہیں ضرور اس کی پھدی ملے گی ۔ تمہاری ماں کی گرم گرم پھدی تمہارے لن کو یوں دبوچے گی یہ کہتے ہوئے انہوں نے اپنی پھدی کو میرے لن پہ کس لیا اور بولی اس طرح تمہارا لن چوسے گی تمہاری ماں کی پھدی اس میں لن ڈالو گے نا؟ یہ بات سن کر میرے چہرے پہ نا چاہتے ہوئے بھی شرم کے تاثرات آ گئے ۔ کلثوم آنٹی ایک تجربہ کار عورت تھی وہ سمجھ گئے اور مسکراتے ہوئے بولی میرا اندازہ ٹھیک ہی تھا یہ میرا منا اپنی ہی ماں کی پھدی پہ گرم تھا۔مجھے ان کی بات پہ شرم بھی آئی لیکن میں ابھی ان کے سامنے کھلنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ میرے اوپر سوار ہی تھیں وہ جھک کہ میرے چہرے کی طرف ہوئیں اور میرا چہرہ ہاتھ میں پکڑ کہ بولیں ابھی تک میرا یقین نہیں ہوا تمہیں ؟؟ ساتھ ہی انہوں نے جسم کے نچلے حصے کو حرکت دی اور پھدی سے لن کو دبا کہ بولیں یہ دیکھ تیری للی اب بھی میرے اندر ہے اور تو مجھ سے شرما رہا ہے دیکھ مجھے سب پتہ ہے بس تیرے منہ سے سننا چاہتی ہوں کہ تمہیں اپنی ماں اچھی لگتی ہے نا؟ انہوں نے یہ کہہ کر سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا تو میں نے بھی ہاں میں سر ہلا دیا۔ ان کی آواز تھوڑی سرگوشی میں بدل گئی اور وہ دھیرے سے بولیں اسی طرح اس کی بھی پھدی میں ڈالنا چاہتے ہو؟ میں نے ایک بار پھر ہاں میں سر ہلا دیا۔ کلثوم آنٹی یہ دیکھ کر مسکرائی اور ہاتھ آگے بڑھا کہ میرا ہاتھ پکڑا اور بولی یہ ایک دوست کا وعدہ ہے تمہیں اس کی پھدی ضرور ملے گی بس تم مجھ سے دھوکا نا کرنا کبھی ۔

میں امی کے ساتھ چلتا ہوا گھر کی طرف روانہ ہوا اور امی بھی سنجیدہ موڈ میں چل رہی تھیں میں سمجھ گیا وہ سٹیج پہ ہوئی حرکتوں کی وجہ سے موڈ میں ہیں اور انہیں برا لگا ہے لہزا چور کی داڑھی میں تنکا تھا تو میں بھی چپ چاپ چلتا ہوا ان کے ساتھ گھر داخل ہوا گھر داخل ہوتے ہی انہوں نے اپنے اوپر سے چادرین اتار دیں اور اپنے بھاری کولہے مٹکاتی ہوئی اندر کی طرف چلنے لگیں ان کے اوپر سے چادر اترتے ہی میں نے دیکھا کہ ان کی گانڈ میں اسی طرح قمیض پھنسی ہوئی تھی اور ان کی گانڈ ہچکولے کھا رہی تھی میں کلثوم آنٹی کی نصیحت کو بھول کر ان کو تکنے لگ گیا اور انہوں نے چار پانچ قدم اٹھائے اور ایک دم پلٹ کر مجھے دیکھا تو ان کا بھاری سینہ بھی ادھ ننگا مجھے نظر آیا میں نے فورا ان کی گانڈ سے نظر اٹھا کر ان کی طرف دیکھا تو ہماری نگاہین چار ہوئیں تو مجھے ان کی نگاہ مین ناگواری سی محسوس ہوئی ۔ انہوں نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا چلو جاو چینج کرو اور کمرے میں جا کہ سو جاو ان کے انداز میں سختی تھی تو میں ان کے کہنے پہ سر جھکائے تیزی سے سٹور روم میں گیا اور کپڑے تبدیل کر کہ کمرے میں سونے چلا گیا۔ کلثوم آنٹی کا یہ مشن کامیاب رہا یا ناکام میں اتنا تو سمجھ نہیں سکا تھا بس مجھے یہ تھا کہ امی کو غصہ تھا اور اس کے بعد کچھ دن مجھے کلثوم آنٹی نظر نا آئیں اور ہم بھی سکول اور گھر کی روٹین میں مشغول ہو گئے اس کے بعد بھی کلاس میں امی کو تاڑنا اور دوسرے لڑکوں کا تاڑنا بھی میں دیکھتا اور برداشت کرتا رہا تو اس واقعہ کے کوئی بیس دن بعد یا زیادہ دن سمجھ لیں میں کھیل کر گراونڈ سے واپس آ رہا تھا تو کلثوم آنٹی اپنے گھر کے دروازے میں کھڑی تھیں مجھے دیکھتے ہی وہ کھل سی اٹھیں اور میرے سلام کرنے پہ گھر کے اندر کی طرف داخل ہو کر مجھے گھر میں آنے کا راستہ دیا۔ میں جیسے ہی ان کے گھر داخل ہوا تو انہوں نے مجھے دروازہ بند کرتے ہوئے فورا جپھی ڈال لی اور مجھے چومتے ہوئے بولیں کدھر رہ گئے تھے تم اتنے دن سے؟؟ میں نے کہا وہ مجھے ڈر لگ رہا تھا اس دن امی اتنے غصے میں تھیں تو مجھے لگا وہ کسی کو مارنے نا لگ جائیں ۔ کلثوم آنٹی نے اسی طرح مجھے چومتے ہوئے کہا ارے اس کنجری کی فکر ہی نہ کرو اس گشتی کو تیرے نیچے نا لٹایا تو میرا نام بھی کلثوم نہیں بس تم دیکھتے جاو میں کیا کرتی ہوں ۔ یہ کہتے ہوئے وہ پاوں کے بل فرش پہ بیٹھ گئیں اور میرے ٹراوزر کو نیچے کرتے ہوئے میری للی کو نکال کر دیوانہ وار چومنے لگ گئیں میری للی کا اچھی طرح چوپا لگانے کے بعد انہوں نے اپنی شلوار اتاری اور صحن میں پڑی چارپائی پہ ہاتھ رکھ کہ نیچے جھک گئیں اور مجھے پیچھے مڑ کہ دیکھتے ہوئے کہا چل پھر ڈال دے ابھی ادھر پھر دیکھ تجھے ماں کی پھدی کیسے لیکر دیتی ہوں میرا دل تو ان کو دیکھ کر نہیں چاہ رہا تھا لیکن امی کا سن کہمیں ان کے قریب ہوا تو انہوں نے ایک ہاتھ سے اپنی گانڈ کو کھولا جس سے ان کی پھدی کے کالے ہونٹ سامنے نظر آئے اور میں نے اپنی للی ان کی پھدی میں گھسا کہ جھٹکے مارنے شروع کر دئیے اور وہ سیکس انجوائے کرنے لگیں اور میں بھی یہ ناگوار فریضہ سرانجام دینے لگا کچھ ہی دیر میں وہ فارغ ہو گئیں اور سیدھی ہو کر مجھے چومنے لگیں اور پھر بولیں کل چھٹی ہے کل صبح میں تم لوگوں کے گھر آوں گی اور تمہیں ایک سرپرائز دوں گی۔

میں امی کے پاس کچن میں چلا گیا اور جا کر ان سے باتیں کرنے لگا پھر ہم نے کھانا کھایا اور اس کے بعد عام روٹین چلتی رہی ۔ اس واقعہ کے بعد میری اور امی کی دوستی ہو گئی ہم کھل کہ بات کرنے لگے امی بھی مجھ سے مختلف باتیں شئیر کر لیتیں اور ہمارے درمیان ہنسی مزاق بھی چلتا رہتا ۔ کچھ دن بعد ہی مجھے پتہ چلا کہ ہم یہ گھر بیچ کر کسی اور جگہ منتقل ہو رہے ہیں اور ایسا ہی ہوا کہ امی ابو نے گھر تبدیل کر لیا اور اس طرح ہمارا محلہ بدل گیا اور نئے محلے میں امی مجھے زیادہ باہر نہیں گھومنے دیتی تھیں اسی طرح وقت گزرتا گیا اور ہمارے پیپر آ گئے امی اسی طرح چادر لیکر جاتی تھیں اور بڑی کلاسسز کو نہیں پڑھاتی تھیں میرے پیپرز کے بعد امی نے میرا سکول تبدیل کروا دیا اور ہم سب ایک نئے سکول میں داخل ہو گئے اس طرح میرے وہ کلاس فیلو بھی بدل گئے ۔ اب ہم ایک نئے ماحول میں تھے اسی طرح عام روٹین میں امی سے ہنسی مزاق میں سال اور گزر گیا اب میری للی بھی بڑی ہو کہ لن کی شکل اختیار کر چکی تھی اور اس کی سائیڈوں پہ ہلکے ہلکے بال بھی نمودار ہو چکے تھے اور مجھے دو تین بار اختلام بھی ہو چکا تھا اور سکول فیلوز سے بہت کچھ ہنسی مزاق میں پتہ بھی چل چکا تھا ۔ امی کے جسم سے ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ بھی چلتی رہتی تھی لیکن ایک حد ہمارے درمیان قائم تھی ایک پردہ درمیان میں حائل تھا۔ پھر کرتے کرتے گرمیوں میں ہمارا پروگرام مری جانے کا بن گیا اور ہم سب اپنی گاڑی میں مری روانہ ہو گئے ۔ ہمارا ارادہ وہاں تین دن رہنے کا تھا۔ ایک لمبے سفر کے بعد ہم لوگ مری پہنچے اور وہاں ایک ہوٹل میں قیام کیا ۔ تھکاوٹ کی وجہ سے پہلے دن تو ہم پہنچتے ہی مشکل سے کھانا کھا کہ لیٹ گئے اور آرام کیا۔ صبح جب ہم جاگے تو ایک حسین منظر ہماری نگاہوں کے سامنے تھا سر سبز پہاڑ اور آسمان کو چھوتے ہوئے درخت اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا ایک عجیب سماں باندھ رہی تھی۔ امی ابو بھی بہت خوش تھے اور ہم بچے بھی سب بہت خوش تھے۔ ناشتہ وغیرہ کرنے کے بعد ہم لوگ پیدل ہی پہاڑوں میں گھومنے کے لیے نکل کھڑے ہوئے ۔ ہمارے ہوٹل کے قریب سے ہی ایک واکنگ ٹریک جنگل کی طرف بنا ہوا تھا جو اوپر پہاڑی کی طرف جا رہا تھا ہم نے اس ٹریک پہ چلنا شروع کر دیا اور سب اس ماحول سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ باقی بہن بھائی ابو کے ساتھ اٹھکیلیاں کرتے ہوئے چلتے جا رہے تھے جبکہ امی کی رفتار بھاری ہونے کی وجہ سے کچھ کم تھی اور میں ان سے آگے مگر ان کے قریب قریب چل رہا تھا۔ وہاں ٹریک کے ارد گرد جو چیز ہمیں حیران کر رہی تھی وہ بندروں کی موجودگی تھی جہاں بندر درختوں پہ اٹھکیلیاں کر رہے تھے۔ ابو لوگ ہم سے آگے آگے چل رہے تھے ہم نے پاس پانی اور دیگر سامان بھی رکھا ہوا تھا اور ہم پہاڑی پہ چڑھ رہے تھے امی بھی میرے ساتھ ماحول درختوں کی باتیں کرتی اوپر چڑھی جا رہی تھیں ان کی رفتار کم ہونے کی وجہ سے ابو لوگ ہم سے کافی آگے نکل چکے تھے۔ ہم اوپر جنگل میں ایک جگہ پہنچے تو امی کچھ بے چین نظر آنے لگیں میں تھوڑی دیر تو چپ رہا لیکن پھر ان سے پوچھاکہ کیا ہوا ہے کیوں پریشان ہیں تو امی کے چہرے پہ مسکراہٹ نمودار ہوئی اور بولیں ایویں شودا نا بنا کرو مجھے کوئی پریشانی نہیں ہے اور میرے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے میرے بازو پہ ہلکا سا مکا مارا اور پھر خود بولیں یار مجھے سُوسُو آیا ہے یہی سوچ رہی تھی کہ کدھر کروں یہاں تو ٹائلٹ مشکل ہی ہو اس جنگل میں۔ میں ان کی بات پہ ہنس پڑا اور کہا ارے امی یہ پورا جنگل ہی ٹائلٹ سمجھ لیں یہاں کون ہے اور رک کر پیچھے کی طرف دیکھا تو واکنگ ٹریک بالکل ویران تھا اسی طرح میں نے پھر اوپر نظر دواڑائی اور پھر دائیں بائیں دیکھا تو صرف پرندوں اور ان کی چہکار کے سوا کوئی انسان نظر نا آیا ۔ امی نے بھی میری نظر کے تعاقب میں نظریں دوڑائی اور کہا ہاں کہتے تو تم ٹھیک ہو یہاں تو کوئی نہیں ہے۔

امی نے میرے فارغ ہوتے ہی مڑ کر میری طرف دیکھا اور دھیمے لہجے میں بولیں اففف بدتمیز زرا بھی لحاظ اور شرم نہیں کی کہ تمہاری ماں ہو مجھے تو ایسے چود رہے تھے کہ جیسے تمہاری ہی بیوی ہوں ان کی آنکھوں سے چھلک رہا تھا کہ وہ بہت مزے میں ہیں میرا نیم اکڑا لن ان کی پھدی کے اندر موجود تھا جس کے گرد اب چپچپاہٹ ہو چکی تھی میں نے ان کی کمر کو پکڑتے ہوئے لن کو پھر ان کی پھدی میں ہلایا اور ہلکا سا دھکا مارا اور کہا آپ پہ ہزار بیویاں قربان مجھے آپ کی چاہت ہے مجھے اور کوئی نہیں چاہیے ہے ۔ امی نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا اوئے اب بس اب نا ہلانا یہ پھر کھڑا ہو جائے گا اور آگے ہو کر لن کو پھدی سے نکال دیا لن پھدی سے باہر نکلتے ہی مجھے امی کی پھدی کا کھلا سوراخ نظر آیا جس سے ہلکا ہلکا سفید پانی رس رہا تھا اور میرا لن بھی اسی پانی سے لتھڑا ہوا تھا امی نے لن کو باہر نکالا اور اوپر اٹھ گئیں میں نے بھی ان کی گانڈ پہ ہلکا سا تھپڑ مارا اور اٹھ کھڑا ہوا امی اٹھ کر میری طرف مڑیں اور بے ساختہ مجھے گلے سے لگا کر میرے گال پہ ایک پیار دیا اور پھت مجھ سے الگ ہوتے ہوئے بولیں چلو اب دیر ہو گئی ہے جلدی سے نہا لو باقی لوگ آ جائیں گے اور جلدی سے اپنے آپ کو صاف کرنے لگیں میں نے بھی شاور چلا دیا اور پھر خود کو صاف کرنے لگا ساتھ ان کے ہلکی چھیڑ چھاڑ بھی کرتا رہا نئا دھو کر ہم باہر نکلے اور کمرے میں آ گئے اور امی تولیہ سے بال خشک کرنے لگیں اور میں فرش پہ بچھے گدے پہ لیٹ گیا اور لیٹتے ہج میری آنکھ لگ گئی اور میں سو گیا۔ جب میری آنکھ کھلی تو شام کا اندھیرا چھا چکا تھا اور باقی لوگ بھی آ چکے تھے میں اٹھ کر فریش ہوا اور سب سے گپ لگانے لگ گیا اور گپ لگاتے میں نے ایک دو بار امی کی طرف دیکھا لیکن وہ بالکل نارمل تھیں اور میں بھی نارمل انداز میں بیٹھا باتیں کرتا رہا اسی طرح ہمارا مری کا ٹرپ بہت شاندار رہا اور ہم گھوم پھر کر اپنےشہر واپس آ گئے اور پھر وہی روٹین شروع ہو گئی ۔ میں اور امی جب گھر اکیلے ہوتے تو ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ میں ان سے کر بھی لیتا لیکن کھل کر کچھ کرنے کا موقع نہیں مل رہا تھا اسی کشمکش میں مہینے سے اوپر ہو گیا کہ مجھے امی سے کھل کر کچھ کرنے کا موقع نا ملا ہونٹ چوس لینا ممے دبا لینا یا ان کے جسم کو چھو لینا اب یہ عام سی بات تھی جو ہم ہر روز موقع دیکھ کر کر لیا کرتے تھے لیکن کھل کر سیکس کا موقع نہیں مل رہا تھا۔ پھر ایک دن ابو جب شام کو دفتر سے گھر واپس آئےتو انہوں نے بتایا کہ وہ دفتری کام کے سلسلہ میں کل کراچی جا رہے ہیں اور تین دن وہاں رہنا ہو گا تو یہ بات سنتے ہی میرے من میں لڈو پھوٹنے لگے لیکن میں اوپر سے معصوم بنا چپ چاپ ان کی باتیں سنتا رہا کھانا کھانے کے بعد امی نے ان کے کپڑے وغیرہ ایک بیگ میں ڈال دئیے اور پھر ہم سو گئے صبح سویرے جب میں جاگا تو ابو تیار تھے اور ناشتہ بھی کر چکے تھے مجھے دیکھ کر انہوں نے مجھے گھر اور امی کا خیال رکھنے کی ہدائت کی اور اسی دوران ان کی گاڑی اور باقی دفتری لوگ گیٹ پہ آ گئے اور ابو ان کے ساتھ گھر سے نکل پڑے۔

ہم نے ابو کو گیٹ سے الوداع کیا اور جب وہ گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوئے تو ہم اندر کی طرف مڑے میں نے گیٹ بند کیا تو امی چلتی ہوئی اندر کی طرف جا رہی تھیں میں گیٹ بند کر کہ دوڑا اور ان کے پیچھے سے جپھی ڈال لی اور اپنے بازو ان کے پیٹ کے گرد باندھ لیے میرا نیم اکڑا لن ان کی گانڈ کی گئرائی میں رگڑ کھانے لگا امی ہنستے ہوئے بولیں بدتمیز کچھ حیا کر باقی بچے بھی گھر ہیں سب اور یہ کہتے ہوئے انہوں نے اپنا آپ میری گرفت سے نکالنے کی کوشش کی حالات کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے میں نے بھی انہیں چھوڑ دیا اور کہا امی ابھی تو دن ہے رات کے بارے میں کیا خیال ہے میں نے ان کے پیچھے چلتے ہوئے ان کی گانڈ پہ ہلکی سی تھپکی دی ۔ امی نے مسکراتے ہوئے میری طرف مڑ کہ دیکھا اور بولیں اوئے بچت کا کوئی زریعہ نہیں ہے ان کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی میں نے بھی سر نفی میں ہلاتے ہوئے کہا جی بالکل بھی کوئی بچت نہیں ہو سکتی ۔ امی نے کہا اچھا چلو ابھی تو سب ناشتہ کرو اور نکلو شام میں دیکھیں گے کیا کرنا ہے اس کے بعد ہم نے ناشتہ کیا اور سکول کیطرف نکل گئے ۔ سکول سے واپسی پہ ہم نے کھانا کھایا اور پھر میں نے امی کے ساتھ برتن اٹھائے اس دوران ان سے چھیڑ چھاڑ چلتی رہی لیکن کوئی قابل زکر بات نا ہوئی کیونکہ امی نے کہا رات جب باقی بچے سو جائین گے تو پھر دیکھا جائے گا مجھے بھی امید تھی کہ ایسا ہی ہو گا اور میں بہت خوش تھا اسی طرح شام ہو گئی میں نے سکول کا کام کیا اور پھر شام میں ٹی وی دیکھتا امی اور باقی بہن بھائیوں سے روٹین کی گپ ہوتی رہی پھر ہم نے رات کا کھانا کھایا اور میں اپنے کمرے میں آ گیا اور امی کا انتظار کرنے لگا میرے زہہن میں یہی تھا کہ باقی بہن بھائی سو جائیں گے تو پھر امی کےپاس چلا جاؤں گا اور میں بستر پہ لیٹ کر امی کے فری ہونے کا انتظار کرنے لگا لیکن میری بدقسمتی کہ میری آنکھ لگ گئی اور میں سو گیا رات کے کسی پہر میری آنکھ کھلی تو میں تیزی سے اٹھا اور وقت دیکھا تو رات کے دو بج رہے تھے میں جلدی سے امی کے کمرے کی طرف گیا اور ان کے کمرے میں داخل ہوا تو وہ بے سدھ سو رہی تھیں ان کی ایک سائیڈ پہ چھوٹی اور دوسری سائیڈ پہ میرے دوسری بہن سوئی ہوئی تھیں امی بیڈ کے کونے پہ تھیں اور کروٹ کے بل لیٹی ہوئی تھیں پہلے تو میرا دل کیا کہ ان کو نا چھیڑوں مگر لن نے مجھے مجبور کیا اور میں نے ہاتھ آگے بڑھا کہ ان کی بھاری گانڈ کے اوپر رکھا اور اسے تھپتپھایا امی کے جسم میں ہلکی سی لرزش ہوئی اور وہ نیند میں ہی بولیں نہیں کریں نا مجھے سونے دیں اور اسی طرح کروٹ کے بل لیٹی رہیں میں سمجھ گیا کہ وہ نیند میں ابو کا سمجھ رہی ہیں میں ان کے پیچھے بیٹھا اور ان کے چوتڑوں سے شلوار اتار کر نیچے کرنے کی کوشش کی شلوار کچھ تو اتری کچھ ان کے بھاری وجود کے نیچے دب گئی اور میں نے جب شلوار کھینچی تو انہوں نے اسی طرح بند آنکھوں سے کہا افف نہیں کریں نا یار سونے دیں مجھے نیند آئی ہوئی ہے لیکن انہوں نے اپنا وجود اوپر اٹھایا تا کہ میں شلوار کو اتار سکوں میں نے شلوار ان کے گھٹنوں تک اتار دی اور کچھ بولے بغیر ان کی گانڈ اور کمر پہ ہاتھ پھیرنے لگ گیا انہوں نے کروٹ بدلی اور الٹی لیٹ گئیں اور پھر بولیں نہیں کریں نا یار اب سونے بھی دیں مجھے ۔ میں نے ان کی ٹانگوں کو تھوڑا پھیلایا اور ان کی گانڈ کے بھاری چوتڑوں کو ہاتھ سے کھولا اور زیروبلب کی روشنی میں ان کے حسین سراپے پہ ایک نظر دالتے ہوئے ان کے ایک چوتڑ کو چوم لیا اور پھر چوتڑوں کو کھولتے ہوئے منہ ان کی گانڈ کے درمیان گھسا کر زبان باہر نکالی اور ان کی پھدی اور گانڈ کے درمیانی حصہ پہ لگا دی میری زبان اپنے جسم پہ لگتے ہی امی ایک جھٹکے سے اوپر ہوئیں اور انہوں نے مجھے دیکھا اور اوپر اٹھ کر بیٹھ گئیں اور سرگوشی میں بولیں بدتمیز ادھر کیا کر رہے ہو ؟؟ میں نے ان کی طرف دیکھا اور ہونٹوں پہ زبان پھیری اور ساتھ اپنے اکڑے ہوئے لن کی طرف دیکھ کر کہا امی وہ میں سو گیا تھا کہیں ۔ انہوں نے اپنی ہنسی کنٹرول کرنے کے لیے منہ پہ ہاتھ رکھ لیا اور بولیں تو اچھا ہو گیا تھا نا میں آگے ہوا اور ان کے ممے پکڑنے کی کوشش کی امی نے مصنوعی غصے سے میری طرف دیکھا اور پھر سوئی ہوئی بہنوں کی طرف اشارہ کیا اور بیڈ سے نیچے اترنے لگیں میں ان کو نیچے اترتا دیکھ کر پیچھے ہٹ گیا۔

امی کے اس انداز کے پیار اور مدہوشی نے مجھے سکون اور مزے کی ایک دنیا سے روشناس کروا دیا تھا امی کے جسم سے ہلکی ہلکی مہک آ رہی تھی جو میری مستی اور سرور کو اور بڑھا رہی تھی میں نے امی کو بازوں میں لیا ہوا تھا اور ان کے بازو مجھے اپنی گرفت میں لیے ہوئے تھے۔ میں نے ایک ہاتھ اوپر کرتے ہوئے ان کا ایک مما ہاتھ میں بھرا تو ان کے منہ سے ہلکی سی سسکی نکلی لیکن اسے میں نے ان کے ہونٹ چوستے ہوئے اپنے ہونٹوں میں دبا لیا ان کے چہرے پہ پسینے کے ہلکے ہلکے قطرے نمودار ہو چکے تھے جن کو میں چوستا جا رہا ہے پیار کرتے کرتے ان کی سانس بھی تیز ہو چکی تھی انہوں نے مجھے پکڑے ہوئے پیچھے ہٹنا شروع کیا اور لاونج میں لگے صوفے پہ بیٹھ کر اس پہ لیٹتی گئیں اور میں ان کے ہونٹ چومتا ہوا ان کے اوپر صوفے پہ لیٹتا گیا اور میرا لن ان کے اوپر سیدھا لیٹنے سے ان کی گداز ٹانگوں کے درمیان سے ان کی پھدی سے رگڑ کھانے لگا رگڑ تو کیا وہ ایک نرمی اور ملائمت کا احساس تھا ایک نرمی اور گیلا پن مجھے اپنے لن پہ محسوس ہوا ادھر ان کے ہونٹوں نے میرے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں بھر رکھے تھے میرے ہونٹ چوستے وہ تھوڑا کسمسائی اور میرے منہ سے اپنا منہ الگ کرتے ہوئے بولیں عمیر زرا بات سن ۔ میں ان کی بات سن کہ ان کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا اور ان کے چہرے پہ آئے بال اپنا ہاتھ آگے کر کہ ہٹائے اور ان کی خوبصورت جھیل سی آنکھوں میں دیکھنے لگا میری دیوانگی وارفتگی محسوس کرتے ہوئے وہ شرما سی گئیں اور بولیں عمیر مجھ میں ایسا کیا ہے جو تم میرے دیوانے بن گئے ہو اور اپنی عمر کی کوئی لڑکی تمہں کیوں اچھی نہیں لگتی؟ انہوں نے یہ سوال کرنے کے بعد اپنے ہونٹوں پہ زبان پھیری اور میری طرف دیکھنے لگ گئیں۔ میں نے دونوں ہاتھ آگے کیئے اور ان کے دونوں مموں کو اپنے ہاتھوں میں پکڑتے ہوئے کہا امی مجھے کچھ پتہ نہیں ہے بس مجھے آپ کے سوا اور کوئی اچھا نہیں لگتا بس میرا دل کرتا ہے میرے سامنے صرف آپ ہوں اور کوئی نا ہو اور میں آپ کو دیکھتا جاوں پیار کرتا جاوں ۔ یہ کہتے ہوئے میں نے ان کا گال چوم کر ہونٹوں پہ ایک پیار کیا اور انہوں نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں سے چھڑواتے ہوئے کہا پھر بھی میری اور تمہاری عمر میں بہت فرق ہے نا اس کے ساتھ انہوں نے اپنی رانیں جوڑ لیں جس سے میرا لن ان کی سڈول رانوں میں اور پھنس گیا

میں نے کہا امی مجھے اور باتیں تو نہیں آتی بس میرا دل کرتا ہے آپ ہی میرے سامنے ہوں اور کوئی ہمارے درمیان نا ہو اور میں بس آپ کو دیکھتا اور پیار کرتا جاؤں یہ کہتے ہوئے میں نے ان کے بھاری مموں کو الگ الگ ہاتھ میں پکڑ کر ہلکا ہلکا مسلنا اور دبانا شروع کر دیا انہوں نے بھی میری طرف دیکھتے ہوئے چہرہ اوپر کیا اور میرے ہونٹ چوسنے لگیں اور نیچے سے ان کی گداز اور نرم رانیں میرے لن کو جھکڑتی اور پھر چھوڑ دیتیں امی کی سانس بہت تیز ہو چکی تھی اسی طرح کچھ دیر کسنگ کرنے کے بعد انہوں نے اپنا آپ مجھ سے چھڑایا اور مجھے اوپر سے ہٹنے کا اشارہ کیا میں ان کے اوپر سے نےچے اترا تو وہ بھی صوفے سے نیچے اتریں اور مجھے صوفے پہ لیٹنے کا اشارہ کیا میں ان کی بات تو نا سمجھا لیکن میں صوفے پہ لیٹ گیا انہوں نے مجھے تھوڑا اور سیٹ کیا اور پھر صوفے پہ اس طرح سوار ہوئیں کہ انہوں نے اپنے گھٹنے میرے سر کے دائیں بائیں رکھے اور آگے میرے پیٹ پہ جھکتی گئیں مجھے ابھی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ امی کیا کر رہی ہیں انہوں نے اپنا بھاری وجود میرے منہ سے کچھ اوپر رکھتے ہوئے نیچے جھک کر میرا لن پکڑا ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ یہ کیا ہے کہ لن کے ارد گرد مجھے گیلی اور نرم چیز کے احساس نے ہلا کر رکھ دیا اور اگلے ہی لمحے میں سمجھ گیا کہ میرے لن کو امی نے منہ میں لے لیا ہے میرا آدھا لن ان کے منہ میں تھا اور وہ اسے ہونٹوں میں رکھ کر چوسے جا رہی تھیں مزے کی ایک لہر سے میں اوپر ہوا اور میرا منہ میرے چہرے پہ موجود ان کی ہھدی سے لگ گیا اور میں نے بے ساختہ ان کی پھدی کے ہونٹوں سے ہونٹ جوڑ دئیے میرے ہونٹ اپنی پھدی پہ لگتے ہی ان کے منہ سے کچھ آوازیں نکلیں اور لن پہ ان کے چوپوں کی رفتار بہت تیز ہو گئی میں نے تو اس بات کا سوچا تک نا تھا کہ امی یوں میرے لن کو چوسیں گی یہ ایک انوکھا مزہ تھا ادھر وہ میرے لن کو چوسے جا رہی تھیں اسھر مین اپنے چہرے پہ موجود ان کی پھدی چاٹ رہا تھا ان کی پھدی چاٹتے ہوئے میں نے اپنے ہاتھ ان کی نرم پھیلی ہوئی گانڈ پہ رکھ دئیے اور ان کی پھدی کا رس چاٹنے لگا ادھر امی کے لن چوسنے کی رفتار بھی بہت تیز ہو رہی تھی میں زبان کو پھدی کے ہونٹوں سے رگڑتے ہوئے پھدی کے سوراخ پہ گھماتا اور پھر پھدی کے موٹے ہونٹ چوسنے لگ جاتا پھر میں نے سانس لینے کے لیے منہ پیچھے کیا اورپھدی کے ہونٹوں سے زرا اوپر میری نظر امی کے گانڈ کے سوراخ پہ پڑی تو میں نے منہ اوپر کرتے ہوئے زبان باہر نکالی اور ان کی گانڈ کے سوراخ پہ رکھ کہ دبائی تو حیرت انگیز طور پہ زبان ان کی گانڈ کی موری کی بیرونی دیوار کھولتی ہوئی اندر اتر گئی اور گانڈ کی اندرونی دیوار مجھے اپنی زبان کے گرد محسوس ہوئی امی کے منہ سے اففففف ہائےےےےے نکلا اور انہوں نے بھاری گانڈ میرے منہ پہ دباتے ہوئے میرا لن پورا منہ میں بھرنے کی کوشش کرتے ہوئے چوسنا شروع کر دیا مجھے لن چوسنےسے بہت مزہ مل رہا تھا ادھر جب میری زبان ان کی گانڈ میں اتری تو وہ مزہ اور دوبالا ہو گیا میری ٹھوڑی سے ان کی پھدی رگڑ کھا رہی تھی اور میری زبان ان کے گانڈ کی اندرونی دیواریں چاړٹ رہی تھی مزہ اپنی انتہا پہ تھا ایک ایسا سرور جس کی کوئی انتہا نا تھی

امی کی گانڈ شہد کی طرح چاٹ رہا تھا اور وہ دیوانہ وار میرے لن کو چوسے جا رہی تھیں میرے گانڈ کے عمل سے ان کی سپیڈ بہت تیز ہو گئی تھی اور وہ تیزی سے سر اوپر نیچے کرتے ہوئے میرے لن کو منہ میں بھر اور چوس رہی تھیں میرا آدھا لن ان کے منہ میں جاتا اور باقی نچلے حصے کو وہ ہاتھ کی مٹھی سے مسل رہی تھیں وہ لن کی ٹوپی سے چوستے ہوئے ادھا لن چوستی اور ادھے ٹٹوں سے اوپر ہاتھ سے مسلتی جا رہی تھیں میں ان کی گانڈ کے سوراخ کی اندرونی دیواروں کو چاٹتے ہوئے ان کے چوتڑوں کو ہاتھ سے پکڑے ہوئے تھا امی کے منہ سے غوں غوں کی آواز نکل رہی تھی اور میرے منہ سے تھوک نکلتی ہوئی ان کی گانڈ کے سوراخ اور سائیڈوں پہ لگ رہی تھی اور ان کی پھدی سے رستا ہلکا ہلکا پانی مجھے اپنی ٹھوڑی پہ بہتا ہوا محسوس ہو رہا تھا کچھ دیر امی اسی طرح لن کو چوستی اور مجھ سے پھدی گانڈ چٹواتی رہیں اور پھر اچانک میرا لن منہ سے نکال کر وہ آگے ہوئیں اور چہرہ میری طرف کر کہ پلٹیں اور میرے لن کو ہاتھ میں پکڑے میرے پیٹ سے نیچے ہوتے ہوئے میرے لن کو ہاتھ میں پکڑے اپنی پھدی کے سوراخ پہ رکھتے ہوئے اس پہ بیٹھ گئیں غپ کی ہلکی سی آواز کے ساتھ ان کے منہ سے سسکی نکی اور انہوں نے ہونٹ کو دانت سے دباتے ہوئے میری طرف دیکھا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے ممے پکڑے اور بولیں گندے بچے سکون مل گیا ماں کی پھدی مار کہ یا ابھی رہتا ہے؟ میں مزے میں ڈوبا ہوا تھا میں نے بھی اسی سرور میں کہا امی اگر اس پھدی کا مزہ بھی نا آئے تو کس کا آئے گا اور نیچے نظر کر کہ اپنا لن دیکھنے لگا جو ان کی پھدی کے موٹے ہونٹوں میں غائب ہو چکا تھا میں نے ہاتھ اوپر کر کہ امی کے ممے پکڑنے چاہے تو وہ آگے کو جھکیں جس سے ان کے موٹے ممے میرے منہ پہ آ گئے اور انہوں نے اپنی گانڈ اٹھا کر میرے لن پہ مارنی شروع کر دی جس سے لن ان کی پھدی میں اندر باہر ہونے لگا میں نے بھی ان کے ممے کا ایک نپل منہ میں لے لیا اور اسے تیزی سے چوستے ہوئے دوسرے ممے کے نہل کو ہاتھ میں لیکر مسلنے لگ گیا امی میرے سر اور ماتھے پہ پیار کر رہی تھیں کیونکہ میں ان کا مما چوس رہا رہا تھا اس لیے وہ مجھے چہرے پہ پیار نہیں کر پا رہی تھیں میں ان کے ممے بدل بدل کر چوستا اور مسلتا گیا اور وہ اپنی گانڈ اٹھا کر میرے لن پہ مارتی گئیں ۔ تھوڑی دیر ایسا کرنے کے بعد وہ میرے لن سے اوپر اٹھ گئیں اور نیچے اتر کر کھڑی ہو گئیں میں بھی تیزی سے نیچے اتر کر کھڑا ہوا اور ان کو بانہوں میں بھر لیا امی زرا سی ہنسی اور بولیں اوئے گندے ابھی تیرا دل نہیں بھرا کیا
میں نے ان کے رسیلے گال کو چوستے ہوئے کہا آپ سے کب دل بھر سکتا ہے امی میرا بس چلے تو صبح شام آپ کو پیار کرتا رہوں آپ پیاری ہی اتنی ہیں جیسے مکھن اور شہد سے بنی ہوں یہ بات کر کے میں نے ان کے دوسرے گال کو چومنا چاہا تو مجھے لگا امی کے چہرے پہ زرا سا سوگ اور اداسی چھا گئی ہے میں نے اپنے بازو ان کی ننگی کمر پہ پھیرتے ہوئے کہا امی جانو کیا ہوا کیوں چپ ہو گئی ہو آپ اور ان کے چہرے پہ بوسے دینے لگا ۔۔ امی تھوڑا چپ ہوئیں اور پھر تھوڑی اداس ہوتے ہوئے بولیں تم سچ نہیں کہہ رہے میں اتنی خوبصورت نہیں ہوں ۔ میں نے ان کے چہرہ نیچے کرتے ہوئے ان کے ممے پہ پیار کیا اور ایک ہاتھ سے مما پکڑتے ہوئے کہا یہ دیکھیں امی آپ کتنی گوری ہیں کتنی پیاری ہیں آپ سے کب دل بھر سکتا ہے ؟؟ میرا تو دل کرتا ہے میں بس آپ کے سارے جسم کو پلکوں سے چومتا جاؤں ۔ امی نے بازو میری گردن کے پیچھے سے گزارے اور اداسی بھرے لہجے میں کہا تم بچوں کا پیار ہی مجھے زندہ رکھے ہوئے ہے ورنہ تو بس۔۔ اور اس کے ساتھ انہوں نے ایک گہری سانس لیکر اپنا جسم میرے ساتھ جوڑ دیا اور اپنا تھوڑا وزن مجھ پہ ڈال کر ہچکیاں لینے لگیں مجھے کچھ صورتحال کا اندازہ ہو گیا کہ شائد وہ ابو سے خوش نہیں ہیں لیکن یہ بھی ایک بات تھی کہ ہم نے کبھی ان کے تعلقات میں کمی یا لڑائی نہیں دیکھی تھی لیکن میں نے کہا امی آپ حوصلہ کریں میں ہوں نا آپ کے ساتھ ہر لمحہ ہر پل ۔۔ اور ساتھ ان کے جسم کو سہلاتا گیا میں نے جب امی کو پریشان دیکھا تو میری توجہ سیکس سے خود بخود کم ہو گئی اور میں نے ان کا چہرہ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور ان کی آنکھوں میں دیکھا تو ان کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں اور آنسو ان کی پلکوں پہ لرز رہے تھے۔ میں نے ہونٹوں سے ان کی پلکیں اور آنسو چوس لیے اور انہیں دل سے لگاتے ہوئے تھپکنے لگا اور کہا امی آپ کو جو بھی دکھ جو بھی پریشانی ہے مجھے بتا دیں میں ہوں نا میں ہر طرح سے آپ کے ساتھ ہوں ۔وہ میرے ساتھ چمٹ گئیں اور اپنا منہ میرے کندھے پہ رکھ کر رونے لگ گئیں میں ان کی کمر کو سہلاتا رہا اور ان کو تھپکنے لگا مجھے بہتر یہی لگا کہ وہ کھل کر رو لیں تو پھر ان سے وجہ پوچھی جا سکتی ہے تھوڑی دیر امی جب روتے روتے چپ ہوئیں تو میں نے ان کا چہرہ جو آنسووں سے بھیگا ہوا تھا چومنا شروع کر دیا اور ان کے آنسو اپنے ہونٹوں سے چنتا گیا میرے اس والہانہ پیار سے ان کے چہرے پہ دھیمی سی مسکراہٹ آ گئی اور مجھے جوابی پیار کرتے ہوئے انہوں مے میرے لن کو ہاتھ میں پکڑ لیا جو کہ نیم کھڑا تھا اور بولیں سوری عمیر میں زرا جزباتی ہو گئی تھی تم چلو اب اپنی خواہش پوری کر لو اور میرے لن کو مسلتے ہوئے میرے ہونٹوں سے ہونٹ جوڑ دئیے ۔ میں نے ان کو ایک پیار کیا اور منہ پیچھے کر کہ کہا پہلے مجھے اب وہ وجہ بتائیں گی پھر کوئی اور بات کریں گے پہلے آپ بتاو آپ روئی کیوں؟؟ میری بات سنتے ہی وہ زور سے میرے سینے سے لگیں اور ان کے نرم ممے زور سے میری چھاتی پہ لگے اور بولیں کیا کرو گے وہ سب جان کر ؟؟ اور میں تمہیں پریشان نہیں کرنا چاہتی سو وہ بات چھوڑو اور بس یہاں تک بول کر وہ چپ ہوئیں اور میرے لن کی مٹھ مارتے ہوئے زرا سا مسکرا کہ بولیں چلو اس کو اس کی منزل تک پہنچاو تا کہ اس کا وقت برباد نا ہو ۔ میں نے ان کی گانڈ کو ہلکا سا تھپڑ مارا اور کہا اگر آپ چاہتی ہو کہ میں پریشان نا ہوں تو مجھے وہ وجہ بتاو جس سے آپ روئی ہو ۔ امی نے میری طرف سوچتی نظر سے دیکھا اور سنجیدہ ہوتے ہوئے بولیں عمیرکچھ باتیں بچوں کے جاننے کی نہیں بھی ہوا کرتیں نا۔ میں نے امی کا مما پکڑ کر ہلکا سا دبایا اور کہا اب اس کے بعد تو مجھے آپ بچہ نا سمجھو امی ۔ انہوں نے میرے سر پہ ہلکی سی چپت لگائی اور بولیں عمیر بات بتانے کی نہیں ہے وہ راز جان کر شائد خود سے جڑے کچھ رشتوں سے تم مخلص نہیں رہ پاو گے میں یہ نہیں چاہتی کہ تمہاری آئندہ کی زندگی دوسروں سے نفرت کی نظر ہو جائے شائد یہ بات تم نا برداشت کر سکو مجھے یہی خطرہ ہے تمہاری کوئی حرکت تمہارے اور میرے لئیے پریشانی کا باعث نا بن جائے ۔ میں امی کے گلے لگا ہوا یہ سب سن اور سوچ رہا تھا آخر ایسا بھی کیا راز ہو گا۔ میں نے کہا امی مجھ پہ اعتماد رکھیں دیکھیں آج تک ہم پہ کسی کو شک نہیں اور میری کوشش یہی رہے گی کہ آپ پہ کوئی حرف کوئی الزام نا آئے ۔ امی نے کہا پھر مجھ سے وعدہ کرو یہ بات سن کر تم اس بات کے کرداروں سے نارمل رہو گے کبھی اپنے جزبات کا اظہار نہیں کرو گے کہ تمہیں یہ بات پتہ چل چکی ہے اور اپنا ملائم ہاتھ میری طرف بڑھادیا ۔ میں نے امی کو کس کہ بازوں میں بھرا ان کا چہرہ چوما اور ان کا ہاتھ تھام کر کہا امی جی پکا وعدہ ہے آپ بولو کیا بات ہے وہ ہمیشہ راز رہے گی۔

میں نے امی کے جسم کو بازووں میں بھرا ہوا تھا ان کا ہاتھ ایک ہاتھ سے تھاما اور دوسرے بازو سے ان کو خود سے لپٹاتے ہوئے کہا امی بولیں کیا بات ہے ۔ وہ ایک لمحے کو چپ ہوتی ہوئی پھر بولیں عمیر ایسے نہیں بتایا جائے گا مجھ سے اور پھر مجھ سے الگ ہوتے ہوئے صوفے پہ پیچھے ہٹ کر سیدھی لیٹ گئیں میں نے ان کی طرف دیکھا اور ان کے اوپر چڑھتا ہوا ان کے اوپر لیٹا اور اپنا لن ان کی رانوں کے درمیان رکھنے کی کوشش کی تو انہوں نے ٹانگیں کھول کر مجھے اپنی بھاری ٹانگوں کے درمیان کر لیا اور مجھے ماتھے پہ چوم لیا ۔ میں نے ان کے گال چومتے ہوئے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر ان کی پھدی کے لبوں سے رگڑا جو کہ گیلے ہو چکے تھے اور میں نے پھدی کے سوراخ پہ رکھتے ہوئے دھکا لگایا تو میرا لن بہت آرام سے ان کی پھدی میں آدھا دھنس گیا امی نے ہلکی سی سسکی بھری اور مجھے اپنے اوپر کھینچ کر بازو میں دبوچ لیا ۔ میں نے امی کی طرف دیکھا تو انہوں نے شرما کہ آنکھیں بند کر لیں میں نے لن کو پیچھے کھینچ کر ایک اور دھکا دیا تو پورا لن ان کی پھدی میں اتر گیا اور میں نے لن کو پورا ان کے اندر رکھتے ہوئے ان کے چہرے کو چومنا شروع کر دیا اور ان کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے چوسنا شروع کر دیا میں ان کے ہونٹ چوستا اور پھر زبان نکال کر ان کے گال چاٹتا اور پھر چاٹی ہوئی جگہ کو ہونٹوں کے درمیان رکھ کر چوستا اور پھر نیچے سے دھکا لگا دیتا امی میرے اس عمل سے مست ہوتی جا رہی تھیں ان کی ٹانگیں کھلتی جا رہی تھیں اور ان کے ہاتھ دیوانہ وار میری کمر کو سہلا رہے تھے۔ میں نے امی کو چومتے پیار کرتے ہوئے کہا امی آپ کچھ بتانے لگی تھیں نا ۔ امی نے اپنی آنکھیں کھولیں جن میں عجیب سی خماری چھائی ہوئی تھی اور مجھے دیکھتے ہوئے بولیں اس وقت کیا سوچ رہے ہو ؟؟ میں نے کہا امی اس وقت کیا سوچ سکتا بھلا؟؟ اس وقت تو آپ سے پیار سے ہٹ کر مجھے اور کچھ سوجھ بھی کیسے سکتا ہے؟ ساتھ ہی مین نے ان کے چہرے کو چومنا چاٹنا اور پھدی میں لن اندر باہر کرنا جاری رکھا ہوا تھا ۔ امی نے اپنے نچلے ہونٹ کو دباتے ہوئے اپنی ٹانگیں اور اوپر اٹھا لیں اور نیچے سے بھاری گانڈ اٹھا اٹھا کر لن کو اپنے اندر سمونے لگیں ان کی آواز بھاری ہو گئی اور سسکیاں انتہائی تیز ہو گئیں اور وہ اس بھاری آواز میں بولیں جیسے تم مجھے پیار کر رہے ہو اور تمہارے زہہن میں میرے سوا کوئی اور نہیں ہے لیکن تمہارے باپ نےکبھی مجھے اس طرح پیار نہیں کیا وہ مجھے چودتا تو ہے مگر زہہن میں کوئی اور رکھ کر کسی اور کا سوچ کر ۔ امی نے یہ کہتے ہوئے اپنا بھاری وجود اور اوپر اٹھایا اور لن کو مزید اپنی پھدی میں لیتے ہوئے دبانے لگیں ۔ مجھے یہ بات بہت عجیب لگی مجھے مزہ تو بہت آیا ہوا تھا اور سانس پھولی ہوئی تھی اور میں ان میں لن ڈالے جھٹکے لگا رہا تھا میرے جزبات سے بھرے لہجے میں یہ نکلا اففف ابو بھی کتنے احمق ہیں آپ سے خوبصورت جسم اور کس کا ہے بھلا جو کسی اور کا سوچا جائے اس کے ساتھ میں نے ان کے چہرے پہ آئے ہوئے بال ہٹاتے ہوئے وارفتگی کے عالم میں انہیں دیکھا اور جھپٹنے والے انداز میں ان کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لیکر چوسا اور کہا اففف امی جان آپ کے جیسا مہکتا اور رسیلا بدن بھلا اور کسی کا کب ہو سکتا ہے؟؟امی نے بھی نیچے سے میرا بھرپور ساتھ دیتے ہوئے کہا لیکن تیرے پھدو باپ کو یہ سمجھ نہیں آتی اور وہ تیری کتی پھوپھی مصباح کی گانڈ اور مموں پہ مرتا ہے جانے اس کتی میں اسے کیا نظر آتا ہے؟ امی کی یہ غیر متوقع بات سن کر مجھے ایک دھچکا لگا اور میں ایک لمحے کے لیے جیسے رک سا گیا اور حیران نظروں سے امی کی طرف دیکھتا گیا امی یہ کیسے ممکن ہے میرے منہ سے ہکلاتے ہوئے نکلا۔

میں ان کے پیچھے چلا اور اور ان کے پیچھے کھڑا ہونے سے پہلے میں نے لائٹ آن کر دی جس سے پورا لاوئنج اچھی طرح روشن ہو گیا امی نے اسی طرح جھکے ہوئے میری طرف دیکھا اور بولیں اوئے بے شرم سارا کچھ تو دیکھ لیا اب یہ لائیٹ کیوں جلائی ہے میں ان کے پیچھے کھڑا ہوا اور ان کی موٹی سفید ابھری ہوئی گانڈ کے درمیان دیکھنے لگا جس کی درمیانی گلی میں گانڈ اور پھدی کے سوراخ نمایاں تھے میں نے ان کی گانڈ کی ایک سائیڈ پہ ہلکا سا تھپڑ مارا اور کہا مجھے سب کچھ واضح اور صاف دیکھنا ہے کہ کیسے کیا ہوتا ہے کیسے اندر جاتا ہے میرا تھپڑ اپنی گانڈ پہ لگتے ہی امی نے ہلکی سی اوئی کی اور اپنی موٹی گانڈ کو میرے آگے لہرانے لگیں اور بولیں افففف کتنا کنجر بچہ ہے ماں کی پھدی میں لن جاتا ہوا دیکھنا چاہتا ہے میں ان کی بات سنتے ہوئے ان کی گانڈ اور پھدی کا معائینہ کرنے لگا ان کی رانوں کے درمیان ان کی پھدی کے موٹے پھولے ہوئے ہونٹوں سے اوپر پھدی کا سوراخ تھا اور وہ بھی گول سوراخ بنا ہوا تھا اس سے زرا سا اوپر ان کی گانڈ کا گہرا براون سوراخ تھا جو پھدی کے سوراخ کی نسبت بہت چھوٹا تھا میں نے ان کی گانڈ کے حصے دونوں ہاتھوں میں بھرتے ہوئے ان حصوں کو مخالف سمت میں کھینچ کر الگ کیا تو ان کے دونوں سوراخ اور واضح ہو گئے ان کے جسم پہ کہیں بال نا تھے میں نے ہاتھ ان کی رانوں کے درمیان سے گزار کر ان کی پھدی پہ پھیرا تو مجھے انتہائی نرمی اور ملائمت کے ساتھ ہلکے گیلے پن کا احساس ہوا امی اس طرح صوفے پہ جھکی ہوئی تھی یا یوں کہنا مناسب کہ الٹی لیٹی ہوئی تھیں کیونکہ ان کے پیٹ کے نیچے صوفے کے بازو کا سہارا تھا۔ میں نے ہاتھ پھدی کے ہونٹوں سے رگڑتے ہوئے اوپر لایا اور پھر ایک انگلی پھدی کے سوراخ میں گھسائی تو وہ آرام سے اندر گھس گئی میں نے انگلی کو کچھ دیر اندر باہر کیا اور پھر گیلی انگلی کو باہر نکال کر ان کے گانڈ کے سوراخ پہ رکھا اور اندر دبا دیا انگلی گانڈ کے سوراخ کی دیواروں سے رگڑ کھاتے ہوئے اندر گئی تو مجھے بہت اچھا لگا کیونکہ پھدی میں تو انگلی آرام سے اتر رہی تھی لیکن گانڈ میں وہ سوراخ کی دیوار سے رگڑ کھا کہ گئی تھی ۔ میں نے انگلی کو گانڈ میں اندر باہر کرنا شروع کیا تو امی نے اوئی اوئی کرتے ہوئے کہا عمیر بچے تیل لائی ہوئی ہوں وہ لگاو خشک انگلی اندر مت کرو مجھے جلن ہو گی بعد مین ۔لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ انہوں نے مجھے روکا نہیں تھا اور نا آگے سے ہلنے کی کوشش کی

میں پیچھے ہوا اور میں نے تیل کی بوتل اٹھائی اور اس سے تیل ہتھیلی پہ لگاتے ہوئے امی کی گانڈ کے سوراخ پہ لگایا اور پھر کچھ تیم سے انگلیا لتھڑتے ہوئے وہ تیل ان کی گانڈ کے سوراخ پہ رکھ کر انگلی اندر باہر کرنے لگا تیل لگنے سے ان کی گانڈ کا سوراخ نرم کو گیا اور اس کا منہ تھوڑا سا کھل گیا میں نے پھر تیل کی بوتل اٹھائی اور تیل کی دھار اوپر سے ان کی گانڈ کے سوراخ پہ گرائی دھار پہلے سوراخ کی سائیڈ پہ گری تو میں نے بوتل اور دھار کو ایڈجسٹ کیا اور تیل کی دھار ان کے سوراخ کے درمیان گرنے لگی انہوں نے تیل اپنی گانڈ میں گرتا اور جاتا محسوس کیا تو سر اٹھا کر مجھے دیکھا اور بولیں اوئے بدتمیز بس بھی کر دے ساری بوتل اندر گراو گے اب ۔ میں نے بھی ہنستے ہوئے تیل کی بوتل ٹیبل پہ رکھی اور اپنا اکڑا ہوا لن لیکران کے پیچھے کھڑا ہو گیا امی نے اپنی گانڈ میرے سامنے ہلا کر اوپر اٹھائی اور شرماتے ہوئے بولیں بدتمیز مجھے یوں گھور رہا ہے جیسے میں اسی کی ملکیت ہوں ۔ میں نے ان کی گانڈ پہ ہلکی سی چپت لگائی اور کہا میری ہی ہیں اور آپ پہ میرا ہی حق ہے کسی اور کی ہو کر تو دیکھیں اس کی جان لے لوں گا ۔۔ امی یہ بات سن کر ہنس پڑیں اور زیر لب بولیں میرا دیوانہ عاشق ۔ پاگل ہو گئے ہوجاو کوئی اپنی عمر کی دیکھو مجھ بڈھی میں کیا ڈھونڈ رہے ہو تمہارے باپ نے اب چھوڑا ہی کیا ہے ؟ میں نے لن کو ان کی گانڈ کے تیل سے لتھڑے ہوئے سوراخ پہ رکھا اور کہا امی آپ جیسی اور کون ہے بھلا ؟؟ پورے خاندان میں ہمارے پورے محلے میں آپ جیسی خوبصورت عورت اور کوئی نہیں ہے یہ کہتے ہوئے میں نے لن کی نوک ان کی گانڈ کے سوراخ پہ دبائی جیسے ہی ان کو دباو محسوس ہوا وہ ایک دم اچھلیں اور گانڈ کو ہلا دیا اور میری طرف مڑ کہ دیکھنے لگیں میں نے سوالیہ نظروں سے ان کی طرف دیکھا تو وہ بولیں پہلے آگے ڈالو پیچھے بعد میں ڈالنا۔ مجھے کیا اعتراض ہو سکتا تھا میں نے لن کی ٹوپی پھدی کے منہ پہ رکھی اور اندر دبائی میرا لن سلپ ہوتا ہوا تھوڑا سا اندر اترا ہی تھا کہ امی نے ایک جھٹکے سے اپنی بھاری گانڈ میرے ساتھ مار دی جس سے میرا پورا لن ان کی پھدی میں اترا اور ان کی گانڈ میرے لن پہ لگتے ہی تھپ کی آواز گونجی اس تھپ کے ساتھ امی کے منہ سے ایک زوردار آہ نکلی میں نے بھی لن کو کھینچ کر باہر نکالنا چاہا تو امی نے پھدی کو انتہائی ٹائیٹ کر لیا اور میرا لن پھنستا ہوا باہر نکلا اس سے پہلے کہ میرے لن کی ٹوپی باہر نکلتی انہوں نے پھر اپنی گانڈ زور سے میرے لن پہ ماری۔ میں نے جب ان کو اس طرح رسپانس دیتے دیکھا تو میں نے لن اندر باہر کرنے کی مشین چلا دی اور تیز جھٹکے لگاتے ہوئے لن ان کی پھدی میں اندر باہر کرنے لگ گیا پہلے میں نے دونوں ہاتھ ان کے بھاری کولہوں سے زرا اوپر رکھتے ہوئے ان کی کمر پکڑتے ہوئے جھٹکے لگانا شروع کیے تو ان کے منہ سے غوں غوں افففف ہائے اوئی کی آوازیں نکلنے لگیں ہر بار جب لن ان کی پھدی میں اترتا تو پھدی اپنی دیواریں کھولتی ہوئی لن کو اپنے اندر آنےکا راستہ دیتی اور جیسے میں لن باہر کھینچتا تو وہ پھدی کو بھینچ لیتیں مزے اور سکون کی ایک پوری لہر میرے وجود میں تھی اور امی بھی مزے سے سسک رہی تھیں ہمارے جسم پسینے سے شرابور ہو چکے تھے اسی طرح جھٹکے لگاتے لگاتے امی نے دونوں ہاتھ پیچھے کیے اور اپنا چہرہ صوفے پہ رکھتے ہوئے اپنے دونوں چوتڑ ھاتھ سے کھول دئیے اور تیز تیز سسکیاں لینے لگیں میں نے جھٹکے لگاتے ہوئے پھولی ہوئی سانس کے ساتھ ہوچھا امی کیا ہوا ہے تو وہ اسی طرح جزبات میں ڈوبے لہجے میں بولیں عمیر میری جان اور زور لگا شاباش ایسے ہی اپنی ماں کی پھدی مار میرے لعل میرے سوہنے ماہیا اپنی امی کو چودو میری جاں افففف شاباش اور زور لگاو میرے ہر جھٹکے پہ وہ سسکیاں بھر کر یہی کہنے لگ گئیں میری جان میرے لعل اپنی ماں کو اچھے سے چود میرا بچہ شاباش اسی طرح زور لگا میری جان ۔۔ میں یہ سن کر اور زیادہ مزے میں ڈوب گیا اورتیز دھکے لگانے لگا کچھ ہی دیر کے جھٹکوں کے بعد امی کے منہ سے ایک تیز چیخ نکلی جو پورے گھر میں گونجی اور ان کا پورا جسم اکڑا جیسے ان کی جان نکل رہی ہو انہوں نے جسم کو پورا اوپر اٹھایا اور کانپتے ہوئے اوئی اوئی کرتے ہوئے ڈھیلی ہوتے ہوئے صوفے پہ گر گئیں اور اس کے ساتھ ہی مجھے ان کی پھدی میں لن کے ارد گرد جیسے چشمہ ابلتا ہوا محسوس ہوا امی فارغ ہو چکی تھیں ۔ میں نے ان کی گانڈ پہ ہلکا سا تھپڑ مارا میرا لن اکڑا ہوا ان کی پھدی میں موجود تھا انہوں نے ہلکی آواز میں اوں کیا اور بولیں کیا ہے میرے لعل ابھی تو فارغ نہیں ہوا ہے ؟ میں نہیں کہا نہیں امی ابھی تو نہیں ہوا وہ ہلکی سی کسمسائیں اور بولیں اچھا پھر جاری رکھو جب تک تم فارغ نہیں ہو جاتے میں نے ان کی بات سن کر لن کو پھدی کے اندر ہلایا لیکن وہ گیلی ہونے کی وجہ سے مجھے کوئی خاص مزہ نا آیا میں نے تین چار بار لن اندر باہر کیا لیکن مجھے بالکل مزہ نا آیا میں نے لن کو ان کی پھدیسے باہر نکالا تو ان کی پھدی سے ہلکا ہلکا سفید پانی رسنے لگا

امی نے مڑ کہ پیچھے دیکھا اور ہاتھ بڑھا کر سائیڈ پہ پڑی اپنی قمیض اٹھائی اور اس اپنی ٹانگوں کے درمیان سے ہاتھ گزار کہ اپنی پھدی صاف کرنے لگ گئیں اور پھدی صاف کرتے میری طرف دیکھا میرا لن ان کی پھدی کے پانی سے گیلا ہو چکا تھا انہوں نے ایک نظر لن پہ ڈالی اور بولیں بیغرتی کی انتہا دیکھو ماں کی پھدی مار کہ بھی پیچھے کھڑا ہے اور اس کے چہرے پہ کوئی شرم کے آثار نہیں ہیں بالکل باپ پہ گیا ہے یہ بات کرتے ان کے چہرے پہ ہلکی مسکراہٹ تھی وہ مذاق کر رہی تھیں میں ان کی بات سمجھ گیا اور ہلکا سا تھپڑ ان کی گانڈ پہ مارا میرا ہاتھ لگنے سے ان کے بھاری کولہے لرز کر ایک دوسرے سے ٹکرائے اور سفید پہاڑیاں آپس میں جڑ کر الگ ہوئیں وہ نظارہ کسی کے بھی ہوش اڑانے کے لیے کافی تھا ۔ میں نے اس نظارے کی گہرائی میں ڈوبتے ہوئے کہا میں تو پیار کی انتہا دیکھ رہا ہوں جہاں ایک ماں نے اپنا خوبصورت بدن اپنے بیٹے کے آگے رکھ دیا ہے اس سے زیادہ محبت اور کیا ہو سکتی ہے یہ کہتے ہوئے میں نے پھر ہلکا سا تھپڑ ان کی گانڈ پہ مارا ۔ امی نے ہلکی سی سسکی لی اور اپنا منہ آگے صوفے پہ ٹیکتے ہوئے بولیں بے شرم ماں کو مکھن لگا رہا ہے ؟؟ میں نے اپنے ہاتھ کی بڑی انگلی ان کی گانڈ کی موری پہ رکھ کر دبائی تو پوری انگلی بغیر کسی رکاوٹ کے اندر گزر گئی اور انگلی اندر ڈالتے ہوئے بولا نہیں مکھن تو نہیں تیل لگایا ہے امی جانو کی گانڈ پہ اگلی بار تو مکھن لگا کر چاٹوں گا۔ میری بات سن کر وہ ہنس پڑیں اور بولیں اب ماں کی جان کب چھوڑو گے بڈھی میں اتنی ہمت تو نہیں ہے اب بس کر دو لیکن یہ کہتے ہوئے انہوں نے اپنی گانڈ اور اوپر اٹھائی جس سے ان کی پھدی اور گانڈ کے ہونٹ واضح ہو گئے میری نظر ان کی پھدی کے ہونٹوں کے نیچے پھدی کے سوراخ پہ پڑی جو میری چودائی سے کھلا ہوا تھااور اس کے ساتھ گانڈ کا سوراخ جو تیل لگنے سے چمک رہا تھا میں نے انگلی ان کی گانڈ میں اندر باہر کی اور پھر باہر نکالی اور لن کی نوک کو گانڈ کی موری پہ رکھ کر ہلکا سا دبایا امی کے منہ سے تیز سسکی نکلی اور بولیں اپنی ماں کو گانڈو بنانا لازمی ہے کیا بیٹا؟؟ میں نے کہا امی جی میری تکمیل اسی سے ہو گی نا ادھر لن کی ٹوپی نے ان کی گانڈ کی موری کو کھولا تو سکون کی ایک لہر میرے جسم میں دوڑی میرے منہ سے بھی بے اختیار افففف نکلا
میرے منہ سے اففف نکلتے ہی امی نے تیزی سے میری طرف مڑ کہ دیکھا اور بولیں کیا ہوا میری جان اففف کیوں کیا؟؟ ان کے چہرے پہ پریشانی کے تاثرات تھے۔ میں نے ہاتھ سے ان کی کمر کو سہلاتے ہوئے کہا ارے امی بس مزے کی وجہ سے نکلا ہے اور کچھ نہیں امی نے سر کو دائیں بائیں ہلایا اور ہنستے ہوئے اسی طرح جھک کر گانڈ کو ہلایا اور پوری گانڈ کو پیچھے زور سے دھکیلا میرے لن کی ٹوپی ان کی گانڈ کے سوراخ میں دھنسی ہوئی تھی ان کے یوں کرنے سے وہ پچک کر کہ سارا لن ان کی گانڈ میں اتر گیا امی نے ایک زوردار آہ کی اور مڑ کہ میری طرف دیکھا اور بولیں دیکھو سارا اندر گیا ہے یا نہیں۔ میں نے نیچے دیکھا تو میرا سارا لن ان کی گانڈ کی سفید پہاڑیوں کے درمیان سے اندر ہو چکا تھا اور گانڈ کی موری نے اسے یوں جکڑا ہوا تھا جیسے یہ لن بنا ہی اسی گانڈ کے لیے ہے مجھے بہت مزہ آ رہا تھا میں نے ایک نظر گانڈ میں گھسے لن کو دیکھا اور پھر امی کو دیکھا جن کے چہرے پہ ممتا ہی ممتا تھی پیار ہی پیار تھا اور اپنا سب کچھ بیٹے پہ وار دینے کی ہمت اور جزبہ ان کے چہرے سے عیاں تھا۔ میں نے ان کے اوپر جھکتے ہوئے جزبات سے ڈوبے لہجے میں کہا امی لو یو امی اور ان کی گردن کے پیچھے چومنے لگا اور ہاتھ نیچے لے جا کر ان کے بھاری ممے مسلنے لگ گیا ۔ امی نے ہلکی سی سسکی بھری اور جزبات سے ڈوبے لہجے میں کہا لو یو بیٹا میرا سارا کچھ تم ہی تو ہو میری جوانی کا احساس میرے جسم کی خوبصورتی کا احساس دلانے والے تم ہی تو ہو ورنہ میں تو خود کو ختم سمجھ رہی تھی۔ میں نے ان کے ممے تھامے ہوئے لن کو تھوڑا پیچھے کھینچا اور پھر اندر گھسایا تو ان کی گانڈ کی موری مجھے پوری طرح لن کے ارد گرد کستی ہوئی محسوس ہوئی تو میں نے کہا اففف میری ماں دیکھو تو سہی آپ کتنی جوان اور رسیلی ہو اففف کتنی ٹائیٹ گانڈ ہے امی جان اففف امی نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور مجھے ان کی گانڈ کی موری مزید ٹائیٹ ہوتی ہوئی محسوس ہوئی لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ سوراخ تنگ ہو رہا تھا کولہے اسی طرح الگ الگ تھے وہ اپنی گانڈ میں میرے لن کو بھینچ رہی تھیں۔

میں نے ابو کو اور انہیں سلام کیا وہ صوفے پہ بیٹھی ہوئی تھیں اور انہوں نے ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پہ رکھی ہوئی تھی جس سے ابو والی سائیڈ سے ان کے بھاری بھر کم کولہے اور ان کی درمیانی لائن واضح تھی اوروہ ابو سے باتیں کر رہی تھیں میں نے ان کو سلام کرتے ہوئے ان پہ نظر ڈالی اور پھر باقی بہن بھائیوں کو دیکھنے اندرونی کمروں کی طرف بڑھ گیا تو دیکھا وہ سب مل کہ کھیل رہے تھے۔ میں پھر واپس آیا اور ان کو دیکھ کر کچن میں چلا گیا جہاں امی کھانا بنا رہی تھیں ۔ میں نے جا کر ان کو سلام کیا اور باہر دیکھتے ہوئے ان کے چوتڑوں پہ ہلکا سا تھپڑ مارا اور کہا باہر آپ کی سوتن آئی ہے اور آپ اسے ابو کے پاس چھوڑ کر کچن میں گھسی ہوئی ہیں ۔ امی میری طرف مڑیں تو ان کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی انہوں نے دروازے سے باہر دیکھا تو باہر سے اندر کچھ نظر نہیں آ رہا تھا کہ کچن کی سیٹنگ ایسی تھی امی میری طرف مڑتے ہوئے باہر کو دیکھتے ہوئے میرے سینے سے لگیں اور مجھے اپنے ساتھ لگا لیا ان کے بھاری اور نرم ممے مجھے اپنی چھاتی پہ محسوس ہوئے اور وہ میری کمر سہلاتے ہوئے بولیں اپنی سوتن تو میں خود لاؤں گی تیرے لیے اور اپنا ہاتھ اوپر کر کے میرے نیچے والے ہونٹ کو انگلی سے مسلنے اور دبانے لگیں ۔ میرا موڈ ان سے کچھ مذاق کرنے کا تھا لیکن ان کی اس بات نے مجھے لاجواب سا کر دیا میں نے بھی پھر ان کا گال چوم لیا اور ہاتھوں سے ان کی کمر سہلانے لگا امی نے میرے گال پہ پیار کیا اور مجھے ہونٹ پہ ایک تیز کس کر کہ پیچھے ہٹیں میرا لن تو ان کے ساتھ لگتے ہی اکڑ چکا تھا امی دروازے کی طرف گئیں اور دروازے کی چوکھٹ سے لگتے ہوئے باہر جھانکنے لگیں جہاں ابو اور پھپھو کی باتیں جاری تھیں امی دروازے کی چوکھٹ سے یوںلگی ہوئی تھین کہ ان کا سارا بدن دیوار کے پیچھے اور چہرہ اوپر دروازے سے باہر تھا میں امی کے پیچھے جا کھڑا ہوا اور کہا امی کیا دیکھ رہی ہیں امی نے اسی طرح کھڑے سرگوشی میں کہا کچھ نہیں تیرے باپ کی بیغرتی دیکھ رہی ہوں کیسے باتوں میں لگا ہے اور اس کتی کو دیکھو کیسے جلوے دکھا رہی ہے مجھے امی کی باتوں سے اندازہ ہوا کہ انہیں غصہ ہے میں پیچھے سے ان کے ساتھ جڑا اور کہا امی ان کو دفع کریں میں ہوں جو آپ کے پاس اور ان کے ساتھ جڑنے سے میرا اکڑا ہوا لن ان کی گانڈ کے درمیان لگا اور وہاں اپنا راستہ بنانے لگا امی نے ہلکی سی سسکی لی اور اپنی گانڈ پیچھے دباتی ہوئی بولیں عمیر۔۔ میں نے کہا جی امی ،؟؟ وہ اسی طرح دروازے سے باہر دیکھتی ہوئی تھوڑی سی جھکیں اور سرگوشی میں بولیں جب وہ باز نہیں آ رہا تو نا سہی مجھے ان کی بات کچھ سمجھ نہ آئی لیکن دوسرے ہی لمحے جب امی نے اپنے چوتڑوں سے جھکتے ہوئے قمیض اوپر کی تو میں ساری بات سمجھ گیا کہ امی کیا چاہتی ہیں اور مرد ہوتے ہوئے بھی صورتحال کو محسوس کر کے میری ٹانگیں کانپ گئیں لیکن کہتے ہیں ہوس جب طاری ہو پھر کچھ سمجھ نہیں آتا میں نے بھی ان کی شلوار کو کھینچ کر ان کے چوتڑوں کو ننگا کر لیا اور نیچے بیٹھ کر ان کو چومنے لگ گیا امی نیچے جھکی دروازے سے باہر دیکھ رہی تھین اور انہوں نے اپنی گانڈ اوپر اٹھائی ہوئی تھی جسے میں پاگلوں کی طرح چومے جارئا تھا اور باہر لاونج میں ابو بھیٹھے پھپھو سے باتیں کر رہے تھے

میں نے امی کے بھاری سفید کولہوں پہ پیار دینے شروع کر دئیے اور ان کے کولہوں کے گوشت کو ہونٹوں کے درمیاں دبا کہ ہلکے ہلکے کاٹنے لگ گیا جس سے کہ میرے دانت ان کے گوشت سے نہ ٹکرائیں بلکہ ہونٹوں کے درمیان گوشت کو دباتا اور پھر چھوڑ دیتا اسی طرح جس جگہ کو ہونٹوں میں دباتا مڑ کہ اسی جگہ پہ زبان نکال کہ پھیرتا امی اسی طرح جھکی ہوئی دروازے سے باہر جھانک رہی تھیں میں نے پیار کرتے کرتے ایک ہاتھ ان کی ٹانگوں میں گھساتے ہوئے ان کی پھدی کو اپنے ہاتھ کہ نیچے رکھ کر مسلنا شروع کر دیا امی نے آواز تو کوئی نا نکالی لیکن اپنی گانڈ کو مزید چوڑا کرتے ہوئے پیچھے کی طرف دھکیل دیا میں نے دوسرے ہاتھ سے ان کی گانڈ کے ایک حصے کو پکڑ کر باہر کی طرف کھینچا اور منہ گانڈ میں گھسا کر زبان گانڈ کے سوراخ پہ رکھی اور اسے چاٹنے لگ گیا اور دوسرے ہاتھ سے ان کی پھدی کو جو گیلی ہو رہی تھی مسلنے لگ گیا میری زبان اپنی گانڈ پہ لگتے ہی امی کے جسم کو جھٹکا لگا لیکن وہ بدستور باہر دیکھتی رہیں مجھے ان کی گانڈ چاٹتے کوئی دو منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ امی آگے سیدھی ہوئیں اور اوپر اٹھ کر کھڑی ہو گئیں میں بھی ان کے پیچھے اٹھ کر کھڑا ہو گیا امی نے شلوار اوپر نا کی اور میری طرف مڑیں اور میرا چہرہ اپنے ئاتھوں میں تھام کر مجھے دیکھنے لگیں ان کی آنکھوں میں کچھ عجیب سا تاثر تھا جو میں بلکل نا سمجھ سکا میرا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے انہوں نے سرگوشی میں پوچھا عمیر میں کون ہوں اور اسی طرح نم آنکھوں سے میری آنکھوں میں جھانکتی رہیں ۔ میں نے ہاتھ آگے بڑھائے اور ان کی کمر کو پکڑ کر ساتھ لگایا اورکہا میری امی ہو میری جان اور کون ہو سکتی بھلا؟؟ امی نے میرا جواب سنتے ہی مجھے کس کہ جپھی ڈالی اور میرے کندھے پہ سر رکھتے ہوئے بولیں یہ باہر جو بیٹھا ہے نا تیرا باپ یہ اپنی بہن کے جسم سے آنکھیں سینک رہا ہے کمینہ اور پھر رات بھر مجھے بہن بنا کر نوچے گا میری تزلیل کرے گا اور ان کا جسم ہچکیاں لینے لگا ۔ میں نے اپنے ہاتھ ان کی کمر پہ رکھے اور ان کو تھپکیاں دینے لگا اور ان کے کان کی لو چوم کر کہا امی جانو میری جان تو آپ ہو اور آپ کو کسی اور سے کیا لگا؟؟ میں جو ہوں آپ سے پیار کرنے کے لیے تو آپ کو کسی اور کی کیا ضرورت ہے؟؟ امی ایک پل کے لیے چپ سی ہو گئیں اور پھر بولیں ہاں یہ بھی ٹھیک کہہ رہا ہے تو اور پھر پیچھے ہٹتے ہوئے بولیں کچھ سزا تو اسے بھی ملنی چاہیے نا جو مجھ سے بیوفائی کر رہا ہے اور میرے جواب کا انتظار کیے بغیر مجھ سے الگ ہوئیں اور فریج سے مکھن کا پیکٹ نکال کر مجھے دیا اور کہا میں دروازے سے باہر دیکھتی رہوں گی تم یہ مکھن لگاو اور میری گانڈ مارو اس کتے کو بھی تنگ سوراخ کا مزہ نہیں دوں گی ۔ میں نے ان کے ہاتھ سے مکھن پکڑا اور کہا امی ان کو شک نہیں ہو گا کہ سوراخ کیسے کھلا ہوا ہے؟ وہ بولیں بس یہ فکر تم چھوڑو میں سنبال لوں گی تمہیں جو کہا ہے وہ کرو اور یہ کہہ کر وہ دروازے کی طرف مڑ گئیں اور دروازے کی چوکھٹ سے لگ کر کھڑی ہو گئیں میں ان کے پیچھے گیا ان کی شلوار تو نیچے ہی تھی مجھے اپنے پیچھے محسوس کر کہ امی نے اپنی قمیض کا پچھلا دامن اٹھاتے ہوئے خود کو جھکا لیا اور مجھے ہاتھ کے اشارے سے کرنے کو کہا۔ میں نے اپنا ٹراوزر تھوڑا نیچے کیا اور اپنے اکڑے ہوئے لن کو محسوس کیا اور پھر مکھن کے پیکٹ سے کچھ مکھن انگلیوں پہ لگاتے ہوئے پیکٹ کو کچن کی شیلف پہ رکھا اور ان کی گانڈ کھولتے ہوئے ان کی گانڈ کے سوراخ پہ مکھن لگا دیا امی بدستور آگے جھکی ہوئی باہر دیکھ رہی تھیں

میں نے امی کی گوری سفید گانڈ کے درمیاں ہلکے براون رنگ کے سوراخ پہ مکھن لیپ کرتے ہوئے ایک نظر امی پہ ڈالی اور امی کو دیکھا جو دروازے کی چوکھٹ سے لگی باہر جھانک رہی تھیں اور ابو اور پھپھو کی طرف دیکھ رہی تھیں جو باہر بیٹھے گپیں ہانک رہے تھے ان کی باتوں کی اور قہقہوں کی آواز ہمیں کچن تک آ رہی تھی میں نے ایک نظر امی پہ ڈالی تو ان کی قمیض ان کے کندھوں سے اوپر تک تھی برا کے سٹریپ سامنے نظر آ رہے تھے اور شلوار گھٹنوں تک اتری ہوئی تھی مجھے ایک لمحے کے لیے امی بہت قابل رحم لگیں کہ اپنے شوہر سے بدلہ لینے کے چکر میں وہ اپنے ہی بیٹے کے آگے ننگی جھکی ہوئی تھیں اور اپنے سگے بیٹے سے اپنی گانڈ خود مروانے کو تیار ہیں ۔ سیانے سچ کہتے جب عورت انتقام پہ اتر آئے تو وہ کچھ بھی کر سکتی ہے وہ اپنی جان دے بھی سکتی ہے اور کسی کی جان لے بھی سکتی ہے تاریخ اور ہمارے ارد گرد ایسے کئی واقعات ہیں جہاں عورت نے پسند کی شادی کے لیے اپنے بچے تک قتل کر دئیے اور آشنا کیساتھ مل کر اپنے ہی گھر والے مار دئیے ۔ (بحیثیت ایک عورت میں سمجھتی ہوں کہ عورت کے اندر بھی ایک عورت ہے جو اپنے احساس کرنے والے اسے توجہ دینے والے کے لیے جاگتی ہے اور پھر اس کی غلامی میں عمر گزار دیتی ہے)۔ میں نے امی کی طرف ایک بار پھر دیکھا اور اپنے لن کو پکڑ کر باقی بچا ہوا مکھن اس پہ لگا دیا اور لن کو پکڑ کر ان کی گانڈ کی موری کے اوپر رکھا امی نے لن کو گانڈ کی موری پہ محسوس کرتے ہوئے اپنے گانڈ کو ہلا کر ایڈجسٹ کیا اور اپنی گانڈ کو تھوڑا اوپر اٹھایا اور ہاتھ اپنے گھٹنوں پہ رکھ دئیے میں نے لن کو موری پہ رکھ کر ہلکا سا زور لگایا تو مکھن لگا ہونے کی وجہ سے لن کی نوک باآسانی سلپ ہوتی ہوئی ان کی گانڈ کے سوراخ میں اتری اور مجھے گانڈ کے گرد ایک نرم اور تنگ گرپ محسوس ہوئی امی نے مڑ کر میری طرف دیکھا اور مجھے آنکھ سے لن کو اور اندر کرنے کا اشارہ کیا۔ میں نے ہاتھ ان کے دبیز نرم چوتڑوں پہ رکھتے ہوئے لن کو دھکیلنا شروع کر دیا اور لن بڑی نرمی اور روانی سے ان کی گانڈ کی موری میں اترتا گیا اور جڑ تک ان کی گانڈ میں اتر گیا ۔ امی نے لن کو اپنی گانڈ میں محسوس کیا اور پھر آگے مڑ کر باہر جھانکنے لگ گئیں میں نے ان کے چوتڑوں پہ ہاتھ رکھے لن کو ان کی گانڈ میں آرام سے اندر باہر کرنا شروع کر دیا اور امی نے بھی اگے سے اپنی بھاری گانڈ ہلا کر ساتھ دینا شروع کر دیا میں جب لن کو اندر گھساتا تو وہ گانڈ کو کھولتے ہوئے باہر میری طرف دھکیلتیں اور جب میں لن کو باہر کھینچتا تو وہ اپنی گانڈ کو ٹائیٹ کر لیتیں۔ امی کے اس طرح ساتھ دینے سے جلد ہی میں ہمت ہار بیٹھا اور میرے دھکوں کی رفتار بڑھتی گئی ادھر میرے دھکے تیز ہوئے ادھر باہر بھی ایک فرمائشی قہقہہ گونجا اور امی نے اس قئقہے کو سنتے ہی اپنا آپ پیچھے دھکیلا اور اففف کیا اور ان کے اس طرح کرنے سے میں ان کی گانڈ میں ہی فارغ ہوتا گیا

میرے فارغ ہوتے ہی امی نے اپنی گانڈکو ٹائیٹ کر لیا اور مسکراتی نظروں کے ساتھ مڑ کر مجھے دیکھا ان کے چہرے پہ عجیب تاثرات تھے میں نے لن کو پیچھے کھینچ کر باہر نکالنا چاہا لیکن انہوں نے مجھے اشارے سے منع کر دیا اور ایک نظر پھر باہر دیکھنے لگ گئیں میں نے امی کو باہر دیکھتے ہوئے دیکھا تو ہاتھ ان کی ننگی کمر پہ پھیرنے لگ گیا اور ان کے جسم کو اپنے ہاتھ کے نیچے محسوس کرنے لگ گیا ۔ امی نے باہر دیکھتے ہوئے ہلکی سی سسکی بھری اور پھر مجھے ان کی گانڈ اپنے لن پہ تنگ ہوتی ہوئی محسوس ہوئی میرا نیم اکڑا لن ان کی گانڈ کے اندر تھا۔ امی نے مڑ کر میری طرف دیکھا اور لن کو آہستہ سے کھینچ کر باہر نکالا میرا لن ان کی گانڈ سے باہر نکلا تو میری نظر ان کی گانڈ کے سوراخ پہ پڑی جس کا منہ کھلا ہوا تھا اور اس کے نیچے پھدی سے بھی ہلکا پانی رسا ہوا تھا۔ میں نے امی کی طرف دیکھا تو وہ اوپراٹھیں اور اپنی شلوار ٹھیک کرتے ہوئے میرے سینے سے لگ گئیں میں نے بھی اپنا ٹراوزر اوپر کرتے ہوئے ان کے گالوں کو چوما اور ان کے ہونٹوں پہ ایک زوردار کس کی۔ اور پھر کچن سے باہر نکل گیا ۔ پھر امی کا اور میرا یہ تعلق بن گیا جب بھی موقع ملتا تو ہم آپس میں یہ سب کچھ کرتے رہتے میں کالج سے یونیورسٹی اور پھر نوکری پہ لگ گیا باقی بہن بھائی بھی بڑے ہو گئے اور یہ سب کچھ چلتا ہی رہا ۔ پھر امی نے اپنی بھانجی سے میری شادی کروا دی اور ہم سب ہنسی خوشی رہنے لگ گئے ۔۔(ختم شد)

📖 ہماری پریمیم کہانیوں کو پڑھنے کے لیے ہمارے فورم کو جوائن کریں

🔗 فورم جوائن کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *