بڑی بہن کے ساتھ زنا۔

4.2
(5)

Loading

میری پینٹ پھاڑ رہا تھا میں نے زپ کھول کر لن کھینچ لیا اور مسلنے لگی اپنی بہن کو ساجو کے ساتھ مزے کرتا دیکھ کر لن مسلنے کا مزہ ہی اور تھا ساجو اوپر ہوا اور بولا ہلا ہن مینوں تے ٹھڈا کر نصرت ساجو کو چھیڑ کر بولی ساجو آج رہن دے روز تے ماردا ایں پھدی میری تیرا لن بہوں وڈا اے مار دیندا اے ساجو بولا تے روز اپنی فرمائش تے لیندی ہیں آج میری وی من لئے باجی نصرت ہنس دی اور بولی ساجو کی کھا کے آیا ہیں آج ایڈی آگ چڑھی ہوئی ساجو ہنس کر بولا سوہنیے تیرے نیڑے آکے کسے شئے نوں کھانا دی لوڑ نہیں رہندی تیری جوانی دا سیک ہی آگ کا دیندا یہ کہ کر ساجو نے باجی کے نپلز دبا کر مسل دئیے جس سے باجی نصرت کرلا کر تڑپ سی گئی ساجو ہنس دیا باجی سسک کر مسکرا کر بولی ساجو لگدا ایویں توں جان نہیں چھڈنی چل تیرا چوپا مار دیندی آں میں یہ سن کر تڑپ گیا باجی چوپا بھی مارتی ہے ویسے جتنا میں جانتا ہوں باجی کے کسی طرح سے بھی ایسی نہیں لگ رہی تھی ساجو کے نیچے پڑی یہ کوئی اور لڑکی تھی میری بہن نصرت نہیں تھی۔ گھر میں میرے سامنے باجی نے آج تک بھول کر بھی کوئی ایسا لفظ نہیں بولا جا پر شرمانا پڑے یا جو لڑکی کو زیب نا دیتا ہوا پر باجی کا انداز تو پورا گشتی جیسا تھا سچ پی جب جوانی کہ آگ بھڑکتی ہے تو بڑی بڑی شریف لڑکیاں یار کے پاس جا کر گشتیاں بن جاتی ہیں میں لن کو مسل رہا تھا کہ باجی نصرت اٹھی اور اپنا قمیض اور برا اتار کر اوپر سے فل ننگی ہوگئی باجی نصرت کی گوری کمر میری طرف تھی کمان کی طرح نکلی کمر قیامت ڈھا رہی تھی باجی کی ابھری گانڈ شلوار میں بھی دل پر چھریاں چلا رہی تھی باجی نصرت کی کسی شلوار نے باجی کے دونوں چتڑ واضح کر رکھے تھے اور درمیان سے گانڈ کی لکیر صاف نظر آرہی تھی جو چڈوں سے گیلی تھی باجی نصرت کی پراندے والی گت گوری کمر سے ہوتی ہوئی باجی کی ابھری گانڈ پر پڑی قیامت لگ رہی تھی میں تو باجی کے مست جسم کو دیکھ کر بے حال تھا ساجو لیٹ چکا تھا باجی اٹھ کر اس کی ٹانگوں کے اوپر آئی اور ہاتھ آگے کرکے ساجو کا نالا کھولنے لگی میں اپنی بہن نصرت کے گورے لوگوں کو ساجو کا نالا کھولتا کر سسک گیا اور سوچنے لگا کہ کاش کبھی میرا بھی نالہ اس طرح کھولے باجی نے بڑے ماہرانہ انداز میں نالا کھولا کر شلوار کھینچ کر اندر ہاتھ ڈالا اور ساجو کا کالا پھن باہر کھینچ لیا میں ساجو کا لن دیکھ کر ہکا بکا تھا باجی کے گورے ہاتھوں میں چمکتا کالا لن کالے ناگ کی طرح پھنکارنے لگا تھا ساجو کا رنگ سانولا تھا جس کی وجہ لن کالا تھا جو باجی کے گورے ہاتھ میں جب رہا تھا ساجو کا لن پورا کہنہ جتنا لمبا اور موٹا تھا میں ہکا بکا تھا کہ باجی یہ لن پورا کے کس طرح لیتی ہے میں سوچ ہی رہا تھا کہ باجی نصرت آگے کو جھکی اور دونوں ہاتھوں میں ساجو کا لن دبا کر مسلتی ہوئی بولی افففف سسسسییی میرا شہزادہہہہ اور منہ نیچے کرکے ساجو نے لن کے ٹوپے پر ہونٹ رکھ کر دبا کر کس کر چما لیا اور پچ کی آواز سے بولی میں صدقے جاواں اپنے شہزادے تے یہ کہ کر باجی نے اپنے مموں کو آگے کیا اور لن کا ٹوپہ اپنے نپلز پر مسلتے ہوئی لن کو اپنے مموں میں دبا کر لن کو چھپا کر مموں کی لکیر میں مسل دیا جس سے باجی اور ساجو کی سسکی نکل گئی نصرت کے جھکنے سے گانڈ باہر کو نکل آئی تھی باجی نے اوپر ہوکر لن کا ٹوپہ اپنے ہونٹوں میں بھر کر دبا کر چوس کیا جس سے ساجو سسک گیا باجی نصرت نے مستی سے چوپا مارتے ہوئے اپنا منہ لن پر دبا کر آدھے سے زیادہ لن منہ میں دبا کر تیزی سے منہ اوپر نیچے کرتی ساجو کے لن کے دبا کر چوپے لگانے لگی جس سے ساجو اور نصرت دونوں مزے سے سسکنے لگے باجی نصرت کے تین چار زبردست چوپوں سے ساجو کا لن تھوک سے گیلا ہوگیا جس سے باجی نے منہ اٹھا کر دونوں ہاتھوں سے تھوک لن پر مسل دیا جس سے ساجو کراہ گیا باجی جھک کر لن ہونٹوں میں دبا کر کس کر ایک منٹ تک لگاتار چوپے مارتی رہی جس سے باجی نصرت کا سانس پھول گیا اور باجی تیزے سے اوپر ہوکر کرلا گئی باجی کے منہ سے بھی تھوک بہنے لگا اور باجی دونوں ہاتھوں سے لن کو مسل کر فل گیلا کردیا باجی کے انداز سے لگ رہا تھا کہ باجی فل ٹرین ہے اس کام میں باجی اوپر ہوئی اور کالو کی ٹانگوں سے شلوار کھینچ دی کالو سمجھ گیا اور ہنس کر بولا گشتیے میں جانڑدا ہاس توں مینوں تنگ کر رہی ہیں باجی نشلیے انداز میں ساجو کو دیکھ کر ہنستی ہوئی بولی ساجو تینوں پتا تے جس دن تیرا لن میری پھدی اچ نا جاوے مینوں سکون نہیں اندا وت توں کیویں اندازہ لا رہیا ہائیں کہ میرا دل کوئی نہیں پھدی مروان تے ساجو ہنس کر پھرتی سے اوپر اٹھا اور اسی پھرتی سے نصرت نیچے چارپائی پر لیٹ کر اپنی ٹانگیں اٹھا کر اپنی شلوار گانڈ سے اتار دی باجی نصرت کی گوری گانڈ ننگی ہوئی تو ساجو اتنے میں باجی نصرت کی ٹانگوں میں آچکا تھا ساجو نے باجی نصرت کی شلوار پکڑی اور اوپر باجی نصرت کے پیروں تک کھینچ کر رک کر باجی نصرت کی شلوار کو مروڑا دے کر دوہرا کر شلوار کے پائنچے باجی نصرت کے پیروں میں پھنسا کر باجی نصرت کے پیر دبا کر باجی شلوار باجی نصرت کی گردن میں دبا کر اس طرح پھنسائی کہ باجی نصرت کے پاؤں شلوار سے بند کر گردن کے ساتھ اٹک گئے جس سے باجی نصرت فل دوہری ہوگئی اور باجی نصرت کی موٹے چتڑوں والی گانڈ فل کھل کر سامنے آگئی میری نظر اپنی بہن کی گانڈ پر پڑی تو میری سگی بہن نصرت کی پھدی کھل کر میری آنکھوں کے سامنے آگئی جسے دیکھ کر میری تو حالت غیر ہوگئی میرا جسم کانپنے لگا میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ میں اپنی بہن کی پھدی کا نظارہ اتنی جلد کروں گا میرا جسم کانپ رہا تھا میری نظر اپنی بہن کی پھدی پر تھی باجی کی پھدی کا دہانہ کھل رہا تھا باجی نصرت کی پھدی کے ہونٹ ایک دوسرے سے جڑے تھے ساجو کے لن کی رگڑ نے باجی نصرت کی پھدی کھول کر رکھ دی تھی باجی نصرت کی پھدی کے ہونٹ رگڑ سے موٹے اور ہلکے سے براؤن ہو رہے تھے جبکہ باجی کی پھدی کا دانہ ابھر کر صاف نظر آنے لگا تھا باجی کی گلابی پھدی کا دہانہ پانی چھوڑ رہا تھا ساجو اگے ہوئے اور اپنا لن باجی نصرت کی پھدی کے دہانے پر رکھا اور باجی کے اوپر جھک کر گانڈ اٹھا کر کس کر دھکا مارا جس سے ساجو کا کہنی جتنا لن باجی نصرت کی پھدی کو چیرتا ہوا پورا جڑ تک اتر گیا ساتھ ہی باجی نصرت کی چیخ نکلی اور باجی کرلا کر بولی اوئے ہال ہوئے امممممااااں میں مر گئی ساجججوووووو اڈاااا کے رکھ دیندا ہیں ہائے ہائے ہائے اماااااں ساجو لن پورا یک لخت جڑ تک اتار کر رک گیا باجی کراہیں بھرتی ہوئی کانپ رہی تھی ساجو کا کہنی جتنا لن پورا اتر کر نصرت کی پھدی چیر کر رکھ دیتا گا باجی آہیں بھرتی کانپ رہی تھی ساجو ایک لمحے کےلیے رکا اور پھر لن کھینچ کر آہستہ آہستہ لن نصرت کی پھدی کے اندر باہر کرتا باجی کو چودنے لگا ساجو کی سپیڈ بالکل آہستہ تھی باجی سسکتی ہوئی کراہنے لگی اور آہیں بھرتی کرلا رہی تھی میں بھی اپنی بہن کی پھدی میں لن اندر باہر ہوتا دیکھ کر مچل رہا تھا باجی کی پھدی کے موٹے ہونٹ ساجو کے لن کو دبوچ کر مسل رہے تھے ساجو باجی کے اوپر جھک کر ہونٹ دبا کر چوسے اور اپنی سپیڈ تیز کرتا ہوا گانڈ اٹھا اٹھا کر پوری شدت سے دھکے مارتا ہوا لن کھینچ کھینچ کر نصرت کی پھدی کے آر پار کرنے لگا جس سے باجی نصرت کی بکاٹیاں نکل کر کمرے میں پھیلنے لگی ساجو کا کس کر دھکے مارتا ہوا پوری شدت سے لن نصرت کی پھدی میں آر پار کرتا نصرت کو چود رہا تھا جس سے نصرت تڑپتی ہوئی بکا رہی تھی ساجو رکے بغیر اپنی سپیڈ تیز کرتا ہوا پوری شدت سے کھینچ کھینچ کر پورے زور سے دھکے مارتا ہوا باجی نصرت کی پھدی کو مدلھولنے لگا ساجو کا کہنی جتنا لن پورا نکل کر باجی نصرت کی پھدی چیر کر پوری شدت سے پھدی چیر کر تیزی سے اندر باہر ہونے لگا ساجو اپنا فل زور لگا کر دھکے مارتا ہوا نصرت کی پھدی کو پوری شدت سے پیلنے لگا جس سے چارپائی بھی ہلتی ہوئی اب آوازیں دینے لگی ساجو کے لن کی چوڑی اب باجی نصرت کی پھدی کے ہونٹ رگڑ کر مسلنے لگی سے باجی نصرت بے اختیار تڑپی اور زور زور سے بکاٹ مارتی حال ایک کرنے لگی باجی کا جسم کانپنے اور باجی ارڑا کر حال حال کرتی اوئے ہالیوئے امااااااں اوئے ہالیوئے امااااااں میں مر گئی اوئے ہالیوئے امااااااں کرتی ہوئی مسلسل حال حال کرنے لگی ساجو نصرت کی حال حال کی پرواہ کیے بغیر پوری شدت سے لن نصرت کی پھدی کے آرپار کرتا ہوا کراہنے لگا ایک سے دو منٹ کے زبردست دھکوں نے نصرت اور ساجو دونوں کا کام تمام کردیا ساجو کراہ کر کرلاتا ہوا دھکا مار کر کہنہ جتنا لن پورا جڑ تک نصرت کی پھدی میں اتار کر کرلا کر نصرت کے اوپر ڈھے کر جھٹکے مارتا باجی نصرت کی پھدی میں فارغ ہونے لگا ساتھ ہی نصرت بھی کرلا کر ہینگتی ہوئی آہیں بھرتی جھٹکے مارتی فارغ ہونے لگی نصرت نے زور لگا کر گردن میں اٹکی شلوار سے پیر نکال لیے اور اپنے پاؤں نیچے ساجو کی گانڈ کے گرد ولیٹ کر گانڈ اپنی طرف دبوچ کر ساجو جو باہوں میں بھر کر ہانپتی ہوئی کراہتی ساجو کو اپنے ساتھ باہوں اور پاؤں میں دبوچ کر ساجو کے ہونٹوں کو چوستی ہوئی ساجو کا لن پھدی میں دبوچ کر نچوڑنے لگی ساجو باجی نصرت کے ہونٹ دبا کر چوستا جھٹکے مارتا باجی نصرت کی پھدی میں لن دبا کر فارغ ہورہا تھا ساجو کے ٹٹے جھٹکے مارتے منی میری بہن نصرت کی پھدی کو بھر رہے تھے دونوں عاشق معشوق ایک دوسرے کو دبوچ کر چوستے ہوئے کچھ دیر میں نڈھال پڑے تھے اس منظر کشی میں مجھے بھی پتا نہیں چلا میرا کام بھی ہو چکا تھا دیوار پر میری منی کا نشان نظر آ رہا تھا میں ہانپ سا گیا ساجو ہانپ کر بولا نصرت بہوں حال حال کردی ایں نصرت بولی کی کراں تیرا لن تے پھدی چیر کے ہاں نوں ا لگدا اے حال حال ناں کراں تے کی کراں ساجو بولا ہولی کرن دتا کر تیری حال حال باہر کسے سن لئی تے مارے جاساں گئے نصرت بولی کجھ نہیں ہوندا میری حال حال کمرے توں باہر میں جاندی اے گھر اچ کوئی وی نہیں ہوندا باہر کسے نوں نہیں پتا لگدا ساجو بولا ہولی کرن دتا کر نصرت بولی ساجو ہولی کرن نال سواد نہیں اندا تیرے کئے مرد دا پورا زور ازاماون تے مزہ آندا اے تینوں پتا میرے اندر کیڈی آگ اے تیرا لن جدوں دل تے سٹ ماردا سکون جاندا ساجو بولا تینوں تے آکھیا اے تیری کسے ہورنال وی یاتی کراواں نصرت ہنس کر ساجو کو چھیڑ مار کر بولی ناں وے میں ہور کسے نال نہیں کرنا جو وی کرنا توں ہی کرنا میرے نال میں تے تیرے کولو ہی پھدی مروانی ساجو بولا کیوں نصرت بولی بس بندہ بندہ یار بناوئیے تے بندہ چگلی جاندا بدنامی وی ہوندی مینوں عزت بڑی پیاری ہے میرے تے توں ہی بڑا ہیں ساجو بولا وت تیرا دل بھتیندا تے ہے نہیں روز میرے کولو پھدی مروندی ہیں نصرت بولی بس تیرے لن کولو اسے تو تے سٹاں مرویندی آں کہ دن لنگ جاوے نہیں تے اے میرے قابو میں اندی اے تے میرا من نہیں کردا کہ میں کسے ہور کول جاواں بس تیرے نال ہی رہنا ساجو ہنس کر بولا ہلا اے دس گولیاں لئے رہی ہیں حمل روکنے آلیاں تو نصرت بولی ساجو بڑے دن ہو گئے ہینڑ توں میرے اندر انج ہی فارغ ہو رہیا ایں آگے آر میں حاملہ ہو گئی نا تے تک لویں ساجو نصرت کے سینے سے سر اٹھا کر نصرت کو دیکھ کر ہنس کر تیرا اپنا دل کردا کے تیرے اندر فارغ ہوواں نہیں تے میں تے باہر فارغ ہو لواں گولیاں وی نہیوں کھاندی تے مینوں ساتھ وی استعمال نہیں کرنا دیندی نصرت بولی باہر فارغ ہونے دا سواد نہیں اندا دل کردا تیرا پانی اندر لواں بولا نصرت میں تینوں ہوڑدا ہاں بھلا توں آپ ہی نہوں لیندی میں تے تینوں لیا دیندا گولیاں نصرت یہ سن کر ہنس دی اور بولی چنگا نہیں ساجو بولا نصرت چار وار تے ہو گئیاں ہینڑ توں حاملہ ہوجاندی ہیں تیرا حمل صاف کرنے آلی ڈاکٹر مینوں ہر وار شرمندہ کردی کہ کیوں حاملہ کردا ایں پروٹیکشن استعمال کیتی کر میں کی دساں کہ میری سوانی آپ نہیں استعمال کرن دیندی نصرت زور سے ہنسی اور بولی تے دس دیویں اس وقت بے شک ساجو بولا اس وار میں تینوں لئے ہی نہیں جانا صفائی کروانے آپے جمسیں گئی نصرت ہنس کر بولی کوئی گل نہیں میں جم لیساں گئی جے کسے پچھیا تے اکھساں ساجو دا اے ساجو ہنس دیا اور بولا کیوں انج کردی ایں نصرت ہنس کر بولی ویسے پتا نہیں انج قسمت اچ بچہ پیدا کرنا ہے کہ نہیں انج ہی میں تیرے کولو حاملہ ہوکے سدھر لاہ لیندی آں ساجو ہنس کر بولا وت اس وار نا ضائع کروائیے اس وار بچہ جم لئے نصرت ہنس کر بولی سچی میرا دل وی کردا تے ہے پر ڈردی وی ہاں ساجو بولا کس تو ڈردی ہیں نصرت بولی بس لوگوں دا ڈر نا ہوندا ساجو آج تیرے اچو 4 واری جہڑی حاملہ ہوئی ہاں نا اے چار بچے پیدا کردی ساجو ہنس دیا نصرت بولی ساجو تیری گل سہی اے اس وار پراں جم ہی چھڈاں کی ہوسی گیا ساجو بولا کیوں مروانا ہئی نصرت ہنس دی اور بولی بڑی جلدی پھر گیا ہیں اپنی گل توں ساجو بولا نصرت لوگاں تو لوکانا اوکھا ہوجانا نصرت بولی میں لوکا لیساں توں فکر نا کر توں بس ہک وار ہور پھدی مار کے مینوں ٹھنڈا کر میں یہ سن کر ہکا بکا کھڑا تھا میری بہن نصرت اس حد تک پہنچ چکی تھی مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا ویسے بھی میری گرمی اتر چکی تھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ باجی نصرت کی بکاٹ سے میں چونکا میری بہن نصرت کی دوسری چدائی شروع ہو چکی تھی ساجو کا کس کر دھکے مارتا نصرت کو چودنے لگا اؤر نصرت کراہتی ہوئی حال حال کرتی جا رہی تھی مجھ سے کھڑا نا ہوا گیا میں واپس مڑا لن اندر ڈالا اور اپنے کمرے میں آکر سرپکڑ کر بیٹھ گیا جس بہن کو شریف اور نیک سمجھتا تھا وہ تو یک نکلی دو منٹ تک باجی کی چدائی کی آوازیں آتی رہیں پھر ساجو اور باجی فارغ ہوکر چپ ہوگئے مجھے بھی پتا تھا کہ اب ان کی بس ہو گئی ہے اس لیے میں نہیں چاہتا تھا کہ اب یہ نکلیں تو مجھے دیکھ کر شرمائیں میں جوتا ڈالا اور بیگ اٹھا کر سیڑھیوں کے راستے نکل گیا میرا سر چکرا رہا تھا مجھے نصرت سے یہ امید نہیں تھی مجھے غصہ بھی تھا غصہ اس لیے تھا کہ وہ کیسے بے باکی سے ساجو سے چدوا رہی تھی اسے کچھ تو لحاظ کرنا چاہئیے تھا خاموشی سے بی چدوا سکتی تھی میں دس منٹ تک بازار گھومتا رہا پھر مجھے جیدی ملا وہ بولا آجا بازی لگنے والی ہے پر میری بازی تو بن چکی تھی مجھے اب باشی سے کوئی سروکار نہیں رہا تھا میں گھر کی طرف آیا میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو کچھ دیر بعد باجی نصرت نے دروازہ کھولا مجھے دیکھ کر باجی کا رنگ ہی اڑ گیا اس کا ایک رنگ آنے اور جانے لگا میں سمجھ گیا کہ ساجو ابھی تک اندر ہے پہلے بھی ساجو ہمارے گھر آتا تھا پر اپنے ابے کے ساتھ یوں اکیلے میں نصرت اپنے ساتھ ساجو کو دیکھ کر میری موجودگی سے گھبرا گئی میں سب کچھ دیکھ چکا تھا اس لیے میں نے باجی کے بدلتے رنگ کا کوئی نوٹس نہیں کیا اور نارمل ہی رہا تاکہ باجی کو شک نا پڑے باجی بولی دیمی خیر ہے آج جلدی آگیا ایں میں بولا ہاں آج دو ٹیچر نہیں آئے سی تے فری سی باجی نے یہ بات اونچی آواز میں کی تھی کہ اندر ساجو سن لے جو اس نے سن بھی کی اور وہ سمجھ گیا کہ میں آگیا ہوں وہ ابھی تک غالباََ ننگا تھا اس لیے وہ کپڑے پہن کر چھپ گیا میں اپنی بہن کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے میں نے بھی وہیں کھڑے ہوکر ان کو سنبھلنے کا وقت دیا ساجو جب چھپ گیا تو باجی نے مجھے اندر آنے کا کہا باجی اس وقت چادر میں تھی میری نظر بھی جھکی تھی میں جان بوجھ کر نہیں دیکھ رہا تھا میں اسوقت ہی باجی کو غورتا تھا جب باجی اپنے دھیان میں ہو میں سیدھا اپنے کمرے میں جانے لگا تو میری نظر کھڑکی پر پڑی جہاں میری منی سم رہی تھی اب اس کا نشان باقی تھا میں اندر کمرے میں داخل ہوگیا بیگ رکھ کر میں نے جوتے اتارے اور دروازہ بند کرنے آیا تو باجی برآمدے میں کھڑی کھڑکی پر گری اس منی کو دیکھ رہی تھی باجی کا رنگ اڑا تھا میں نے باجی کو غورتا دیکھا تو میں بھی سمجھ گیا کہ باجی ضرور اندازہ لگا رہی ہے کہ یہ کیا ہے یہ سوچ کر میں نے بغیر کوئی تاثر دیے دروازہ بند کیا اور کپڑے بدلے باجی کو اپنی منی دیکھتا پا کر میرے لوں لوں کھڑے ہوئے میرے لن نے پھر انگڑائی لی پر میں نے خود کو روک لیا میں نکلا اور واشروم میں جا کر نہانے لگا باجی کو شک تھا میرے ذہن میں یہ بات نہیں تھی کہ باجی نے کچھ نوٹس کیا ہے پر باجی کو شک پڑ چکا تھا کہ کوئی ہمیں آ کر دیکھتا رہا ہے کیوں میں جب واشروم میں تھا تو باجی اور ساجو دیوار پر لگی اس منی کا بغور جائزہ لے رہے تھے کہ یہ کیا ہے باجی کو مجھ پر شک تھا پر اس نے ساجو سے یہ بات نہیں کی کیونکہ باجی کو پتا تھا کہ میری چاچے جیدی سے دوستی ہے اور اکثر میں گھر سے اسکے گھر اتر جاتا اور کبھی کبھار وہاں سے اپنے گھر بھی جاتا تھا باجی کو دھڑکا لگا ہوا تھا کہ میں نے دیکھ لیا ہے ساجو کے ساتھ اپنی بہن کو اسلیے اس نے ساجو کو جانے کا کہ دیا ساجو چلا گیا میں نکلا تو باجی نے کھانے کا پوچھا باجی کا چہرہ اترا تھا اور باجی بجھی ہوئی سی لگ رہی تھی شاید باجی کو اب غلٹ فیل ہو رہا تھا کہ کوئی آیا تھا اور اسے سجو سے چدواتا دیکھ لیا کیونکہ یہ منی کسی مرد کی ہی تھی جس کا نشان ابھی تک تھا اس کا شک مجھ پر تھا جبکہ میں نے اپنے آپ کو یوں نارمل رکھا کہ مجھے کچھ علم نہیں میں باجی کے ساتھ نارمل رہا باجی کو لگا کہ آنے والا میں نہیں تھا میں کھانا کھا کر چھت کی طرف جانے لگا تو باجی نے پوچھے کدے جاؤں ہیں میں بولا چاچے جیدی دی آج بازی ہے او ویکھو ہاں یہ سن کر باجی کا رنگ فک ہوگیا اور باجی سمجھ گئی کہ جیدی یا اس کے بیٹے محسن نے انہیں دیکھ لیا ہے اور انہیں دیکھتے وہ خود بھی مٹھ لگاتا رہا ہے جس کی وجہ سے وہ فارغ ہوا باجی کا رنگ اڑتا دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ باجی اندازہ لگا رہی ہے کہ جیدی یا محسن آیا ہوگا لیکن حقیقت میں جانتا تھا اس لیے میں مطمئن ہوگیا کہ جیدی یا محسن کو تو پتا ہی نہیں اس لیے بات جب باہر نہیں نکلے گی تو کسی کو پتا نہیں چلے گا یوں باجی مطمئن ہو جائے گی میں باجی جو پریشان چھوڑ کر اوپر چڑھتا ہوا جیدی کی طرف آگیا جہاں دونوں باپ بیٹا بازی کی تیاری کر رہے تھے میں دیوار کراس کرکے جیدی کی چھت پر اتر گیا اور واپس مڑ کر دیکھا تو باجی دروازہ بند کرتی ہوئی آڑے رنگ سے ہمیں دیکھ رہی تھی میں باجی کو اگنور کرکے جیدی کے ساتھ کبوتروں میں بزی ہوگیا کچھ دیر تک میں بزی رہا پھر مجھے گھر سے کچھ لینا تھا میں گھر کی طرف آیا تو سیڑھیوں والا دروازہ بند تھا دروازہ تھوڑا پرانا تھا اور درمیان سے ہاتھ ڈال کر کندی جھولی جا سکتی تھی میں نے ہنڈی کھول لی اور آہستہ سے نیچے اتر آیا باجی نصرت کے کمرے سے پھر آوازیں آ رہی تھیں میں نے سوچا کہ باجی ابھی تک ساجو سے چدوا رہی ہے بڑی آگ ہے باجی میں میں آگے جا کر کھڑکی میں جھانکا تو آگے کا منظر دیکھ کر میں حیران ہوا ساجو تو جا چکا تھا شاید پر اس بار ساجو کا باپ اور چاچا سرو میری بہن نصرت کو گھوڑی بنا کر نصرت کو چود رہا تھا سرو کا لمبا کہنی جتنا لن باجی کی پھدی میں تیزی سے اندر باہر ہورہا تھا سرو نے باجی نے گت دبا کر مروڑ کر کھینچ رکھی تھی جس سے باجی درمیان سے دوہری ہوکر گانڈ ہوا میں اٹھا رکھی تھی پیچھے سے سرو کس کس کر دھکے مارتا باجی نصرت کو پوری شدت سے چود رہا تھا باجی کی پھدی کا دہانہ مسلسل چدائی سے لال ہو رہا گا باجی کرسکتی ہئی تڑپ رہی تھی سرو آگے جھکتے ہوئی باجی نصرت کو چومتا ہوا چود رہا تھا کہ دو چار دھکے مار کر باجی نصرت کا جسم کانپتا ہوا جھٹکے مارنے لگا ساتھ ہی سرو بھی باجی کی پھدی میں لن جڑ تک اتار کر فارغ ہونے لگا باجی آہیں برتی مزے سے سرو کے ہونٹ چومتی فارغ ہو رہی تھی باجی کا جسم جھٹکے کھا رہا تھا جبکہ سرو کے ٹٹے اچھل اچھل کر منی باجی کے اندر پھینک رہے تھے میں یہ سب دیکھ کر ہکا بکا تھا کہ جس بہن کو بہت شریف سمجھتا تھا وہ تو پوری گشتی نکلی باجی نصرت اور سرو فارغ ہوکر کھڑے ہوگے لن ابھی تک باجی کی پھدی میں تھا دونوں ایک دوسرے کو چومنے لگے مجھے حیرانی کے ساتھ خوشی بھی تھی حیرانی اس لیے کہ باجی ایسی لگتی تو نہیں تھی خوشی اس لیے کہ باجی کے ساتھ اب کوئی چکر چلا کر مزے لیے جا سکتے تھے میں یہ سوچتا ہوا واپس پلٹا اور دروازے کو بند کرنا بھول کر واپس چلا گیا​

کہانی آپ کو کتنی پسند آئی ؟

Click on a star to rate it!

Leave a Comment

Share to...