سہاگن بہن ۔کمپلیٹ اسٹوری

4.7
(7)

Loading

 فرینڈز میرا نام عثمان ہے . . میرا تعلق لاہور پاکستان سے ہے اور جو کہانی آج میں آپ سے شیئر کرنے جا رہا ہوں وہ انفیکٹ ان سب نوجوانوں کے دِل کی آواز ہے جنہیں ان کی جوان بہن کی مدمست جوانی نے مجنوں بنا کر رکھ دیا ہے … جی میں انہی منچلوں کی بات کر رہا ہوں جن کا لن اپنی بہن کو دیکھتے ہی احتراما کھڑا ہو جاتا ہے … جتنے مرضی شرم و حیا کے پردے ہوں اور اِس سماج کی کتنی ہی دیواریں کیوں نا رستے میں حائل ہوں اِس لن نے اپنی من مانی کرنی ہوتی ہے اور پھر اگر لن کو اپنے ہی گھر میں شکار مل جائے تو پھر رہا کہاں جاتا ہے … یہ وہی نوجوان ہیں کہ جنکی اپنی بہن پہ ٹھرک کا آغاز تو باتھ روم میں اس کے اُترے ہوۓ کپڑے سونگھنے …اسکی برا کو اندر سے چوسنے اور پینٹی کو چاٹنے سے شروع ہوتا ہے اور یہ سلسلہ کہاں جا کر رکتا ہے یہ اپنے اپنے نصیب کی بات ہے . یہاں میں یہ واضح کر دوں کہ سگی بہن کے جوسی مموں کو تصور میں لا کر اس کے اُترے ہوۓ برا کو چُوسنے کا مزہ دنیا سے نرالا ہے اور وہ جو کبھی کبھار نمکین ذائقہ سا منه میں اترتا ہے وہ بہن کی رس بھری مسمیوں کا پسینہ ہوتا ہے …بھائی اب کچا دودھ میسر نہیں تو پسینہ ہی سہی … مگر خیر یہ تو ابتداء ہے … پھر کچھ خوش نصیب ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں بہن کی پینٹی میں سے اسکی جھانٹ کا بال مل جاتا ہے … انکی منزل کے قریب ترین رہنے والی چیز کو دیکھتے ہی لن خوشی کے مارے منی کے آنسو رونے لگتا ہے … اب جب بہن پہ لٹو ہو ہی جائے تو آہستہ آہستہ اسکی ہر بات میں انٹرسٹ ڈیولپ ہوتا ہے اور اسکی ہر حرکت جان لیوا ثابت ہوتی ہے … وہ مسکرائی تو دل کیا لن نکا ل کر گالوں پہ رگڑ دیں … کہیں زرا جھکی تو قمیض میں یوں جھانکیں گے جیسے اندر کوئی خزانہ پڑا ہوا ہے … زرا بےدھیانی میں اسکی قمیض کمر پہ سے ہٹی . . دِل کیا دیوانہ وار اس کے بدن کو چومتے جائیں … سارا دن اس کے باتھ روم میں جانے کا انتظار کرنا تا کہ وہ نہا کر اپنے اُترے کپڑے واشروم میں چھوڑے تو یہ اس کے انڈر گارمنٹس پہ مٹھ کی برسات کر آئیں … کبھی بہن کو سوتے ہوۓ دیکھا تو لگے اسکی جوانی کو نہارنے … بس یونہی دن رات کٹتے ہیں اور پھر رات کو خواب میں بہن کی ٹھکائی علیحدہ سے … اور احتلام کی مصیبت علیحدہ … یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے مگر صرف یکطرفہ محبت کی طرح یکطرفہ ٹھرک … کیوں کہ بہن ہے کہ اپنے دبنگ ممے لیے گھر میں بے دھڑک گھومتی پھرتی رہتی ہے … اس کے سینے کا یہ حسن کب اس کے سگے بھائی کا سینے کا بوجھ بن گیا اس بیچاری کو کوئی خبر ہی نہیں … ٹائیٹ تنی ہوئی مگر کومل گانڈ علیحدہ قیامت ڈھاتی پھرتی ہے … اور اس کے چلنے سے اسکی گانڈ کے زیرو بم کس رشتے کے تقدس کو پامال کر جاتے ہیں وہ ان سب سے انجان ہوتی ہے … یا شاید جان کر انجان بنی رہتی ہے … شاید اسے بھی اپوزٹ سیکس کو ترسانے میں خوب مزہ آتا ہے چاھے وہ اسکا بھائی ہی کیوں نا ہو…خیر حاصل کلام یہ کہ جوانی میں پیر رکھنے کے بَعْد ان سب فیلنگز کا ذمے دَار نا تو بھائی ہوتا ہے نا ہی بہن بس سب نیچرل ہوتا ہے ہاں مگر کچھ لوگ اِس جوانی کی دہکتی آگ کو بجھانے کے لیے تھوڑی ہمت ضرور دکھاتے ہیں اور پھر جو کامیاب ہوتے ہیں انہیں کیسے اپنے گھر میں جنت ملتی ہے اور کیسے سچا پیار ملتا ہے اِس بات کا اندازہ آپکو اِس اسٹوری کو پڑھ کر ہو جائے گا …میری عمر ‫18 سال ہے … چھوٹی سی فیملی ہے . . فادر 50‬ سال ایک بزنس مین … موم 45 سال ایک سوشل ورکر . . ایکچولی فیملی چونکہ کھاتی پیتی ہے اِس لیے موم روایتی امیر بیگمات کی طرح سوسائٹی میں امیج پیدا کرنے میں لگی رہتی ہیں 45 کی ہو کر بھی وہ ایک دم ینگ ہیں . . خود کو خوب فٹ رکھا ہے انہوں نے … ہاں مگر کوئی 2 نمبر عورت نہیں . . ڈریسنگ بھی بالکل سلجھی ہوئی اور حرکتیں بھی … یعنی پیسے نے ہم لوگوں میں بگاڑ پیدا ہرگز نہیں کیا…موم تھوڑی موٹی ہیں مگر بے ڈھنگا جسم نہیں بلکہ متناسب بالکل ایک دم خوبصورت . ہاں مگر پاپا کافی موٹے ہیں اور پیٹ بھی نکلا ہوا ہے … خیر گھرمیں میری موم اور پاپا کے علاوہ اِس اسٹوری کا مین کردار میری ایک نازک سی دلکش اور معصوم سی پیاری سی بہنا بھی ہے … نام ہے حمائل اور عمر ہے 20 سال یعنی مجھ سے دو سال بڑی … میں کالج کا اسٹوڈنٹ ہوں اور وہ یونیورسٹی کی…حمائل کا رنگ بالکل دودھ کی طرح گورا چٹا ہے دودھ ۶۳ کے ہوں گے اور گانڈ 36 کی تقریباً …یوں تو بالکل نازک سی ہے مگر دودھ اور گانڈ دونوں صحتمند ہیں اس کی گانڈ باہر کو نکلی ہوئی راؤنڈ شیپڈ ہے … کمر پتلی سی بازو بھی پتلے پتلے اور ہائٹ٥ فٹ ٥ انچ جو لوگ اسے اِمیجن کرنا چاہتے ہیں وہ فرینچ ایکٹریس کر ولینا کو مائنڈ میں رکھ لیں کیوں کہ اسکا فیس بالکل اس سے ملتا جھلتا ہے … خیر یہ تو ہے ہماری چھوٹی سی فیملی مگر یہاں میں آپ کو ایک بات بتا دوں مجھے پہلے پہل اِس ٹاپک سے کہ جس پہ میں اسٹوری لکھ رہا ہوں شدید نفرت تھی… وجہ بہت سمپل سی ہے بھلا کوئی بھی شخص اپنی سگی بہن کے بارے میں ایسے گندے خیالات کیسے رکھ سکتا ہے … بھائی تو بہنوں کی عزت کے رکھوالے ہوتے ہیں کوئی گھر سے باہر بازار میں بہن کو ذرا گندی نظر سے دیکھے تو اسکی آنکھیں نکا ل دیں … بہن کی گا لی تو تن بدن کو آگ لگا دیتی ہے … پتہ نہیں کس بیمار ذہن کے حامل لوگوں کی یہ سوچ ہوتی ہے … گھن آتی تھی مجھے ایسا سوچتے ہوۓ بھی … کوئی مجھ سے پہلے پُوچھتا کہ کوئی اپنی بہن سے سیکس کرنا چاہتا ہو تو اس کے بارے میں میری کیا رائے ہے تو میں تو ایسے بندے کو جان سے ما ر دینے کا کہتا … . ہاں مگر میری یہ سوچ بَعْد میں بَدَل گئی انفیکٹ ایک واقعہ ایسا ہوا جس نے سوچ بدل دی… میں ایک دن اپنے گھر میں برآمدے میں لیٹا ہوا تھا چارپائی پہ … گرمیوں کے دن تھے اِس لیے ایک فرشی پنکھا میری رائٹ سائڈ پر چل رہا تھا چارپائی سے تھوڑا دور… امی ذرا ساتھ والی آنٹی کی طرف گئیں تھیں اور حمائل کچن میں روٹیاں بنا رہی تھی… لیٹے لیٹے میری ذرا آنکھ لگ گئی …خواب میں میں نے دیکھا کہ میں ٹی وی پر سونگز دیکھ رہا ہوں اور وینا ملک ناچ رہی ہے …اسکا ڈریس خوب سیکسی تھا اور میرا لن فل جوبن پہ کھڑا ہوا تھا . . چونکہ یہ صرف اونگھ تھی اِس لیے میری چارپائی ہلکی سی ہلی تو میری آنکھ کھل گئی . . آنکھ کھلتے ہی جو میں نے منظر دیکھا وہ ناقابلِ یقین تھا میرے لئے … حمائل میری چارپائی کے لیفٹ سائڈ پہ کھڑی تھی اس نے پنک شلوار قمیض پہنی تھی جو کہ کافی باریک سی تھی… اس نے قمیض کا پلو آگے سے پکڑا ہوا تھا اور قمیض کو یوں اوپر اٹھایا ہوا تھا کہ اسکا چاندی سا چمکتا پیٹ آدھا ننگا ہو گیا تھا… میرا لن ابھی بھی تاؤ میں تھا… اسکی قمیض آگے ہونے کی وجہ سے میں قمیض کے نیچے آگیا تھا اور اسے میری آنکھ کے کھلنے کا پتہ نا چل سکا … میں آنکھ کھلتے ہی سچویشن کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگا… اور سچویشن سمجھنے میں مجھے زیادہ دیر نہیں لگی… ایکچولی ہوا یوں تھا کہ وہ کچن میں روٹیاں بنا رہی تھی اور اندر پنکھا تو چل نہیں رہا تھا اِس لیے گرمی بلا کی تھی … . وہ برآمدے میں پنکھے کے سامنے ذرا پسینہ سکھانے آئی اور پنکھے کے سامنے اِس لیے نہیں کھڑی ہوئی کہ کہیں ہوا کے رکنے کی وجہ سے میری آنکھ نا کھل جائے لہذا وہ میرے اور پنکھے کے بیچ میں آنے کی بجائے میری دوسری طرف ( لیفٹ سائڈ پہ ) آ کر کھڑی ہو گئی … اس نے یقینا اِس بات کی تسلی کی ھو گی کہ میں سو رہا ہوں یا نہیں اور پھر کنفرم کرنے کے بَعْد قمیض اٹھا کر پسینہ سکھانے لگی ہو گی … لیکن دلچسپ حرکت یہ ہوئی کہ اِس دوران اس نے ٹانگیں چارپائی سے لگا دیں اور اسی وجہ سے میری چارپائی میں ذرا جنبش ہوئی جسکا اسے تو پتہ نہیں چلا مگر میری آنکھ کھل گئی … اور یہ شاید بہن کی دہکتی جوانی کا اثر تھا کہ خواب بھی سیکسی آیا اور لن اسکی پُھدی سے اٹھتی ہوئی گرمی ( وارمتھ ) کے سگنلز کو کیچ کرنے لگا اور ایک دم کھڑا ہو گیا …خیر میں چُپ چاپ لیٹا یہ حَسِین نظارہ دیکھنے لگا… یہ سب اصولی طور پہ تو غلط لگا مگر جب لن بھی جوش میں ہو اور سامنے ایک سیکسی ان چھوا کومل بدن بے پردہ ہو تو انسان کی رائے بدل ہی جاتی ہے … اتنے میں حمائل آگے کو جھکی وہ پنکھے کی ہوا کو زیادہ سے زیادہ سمیٹنا چاہتی تھی لہذا مجھ پر کسی کمان ( بو ) کی طرح سایہ کیے جھک گئی … اور پھر اس دلکش پری نےاپنی قمیض اور اوپر اُٹھائی ہوا کے جھونکے نے اسکی قمیض کے اگلے حصے کو خوب پھولا کر رکھ دیا جیسے کوئی بہت بڑا غبارہ ہو اور قمیض کا پچھلا حصہ ہوا میں جھنڈے کی طرح لہرانے لگا… لہذا دوستو اب نیچے لیٹے ہوۓ اِس بھائی کے لیے منظر کچھ یوں تھا کہ اسکی جوان اور پاکیزہ بہن اپنی شلوار کے اوپر سے اپنے مموں تک بالکل ننگی اپنے بھائی سے ڈیڑھ دو فٹ کی دوری پہ تھی… اسکن کلر کے برا میں قید ممے بھی نیچے سے خوب جچ رہے تھے … ایک آدھ بار بغل بھی دِکھ گئی … پیچھے سے بھی قمیض ہوا میں تھی… بس یوں سمجھ لیں کہ آپکی بہن آپ کے سامنے اچانک صرف شلوار اور برا میں آ جائے تو جو کیفیت آپ کی اس لمحے ھوگی وہی میری ہو گئی تھی… خیر جب وہ آگے کو جھکی تو ایک زبردست بات ہوئی … ہوا یہ کہ چونکہ وہ چارپائی سے چپکی ہوئی تھی اِس لیے اسکی شلوار میں کھچاؤ پیدا ہوا اور آگے جھکنے سے اس کی شلوار تھوڑی نیچے ہو گئی … یعنی ایک ہی وقت میں کھچاؤ کی وجہ سے ٹائیٹ بھی ہوئی اور پھر نیچے بھی … اسکی شلوار جو پہلے اسکی ناف سے 2 انچ نیچے تھی مزید ایک انچ نیچے ہو گئی … کیا کمال کا منظر تھا یوں لگا جیسے شلپا سیٹھی ساڑی باندھے سامنے کھڑی ہو… شلوار ٹائیٹ ہونے کی وجہ سے اسکی پھولی ہوئی چوت بھی واضح ہونے لگی پھر شلوار کے باریک ہونے کی وجہ سے جسم کی ہلکی ہلکی جھلک بھی دکھنے لگی… اس کے جھکنے کی وجہ سے اسکی پُھدی اور میرے کھڑے ہوۓ موٹے اور 8 انچ لمبے لن کے بیچ میں آدھے فٹ کا فاصلہ رہ گیا تھا… یعنی وہ ذرا غیر متوازن ہو کر گرتی تو اسکی کنواری چوت سیدھا اس کے بھائی کے ٹوپے پہ ہوتی… یوں ایک خوشگوار حادثے کے نتیجے میں ایک بہن اپنے سگے بھائی سے اپنی سیل تڑوا بیٹھتی … آہ کاش… اتنے میں ڈور بیل بجی وہ فوراً مڑی میں نے بھی آنکھیں کلوز کر لیں پتہ نہیں جاتے جاتے اس نے میرا لن دیکھا یا نہیں … خیر میں اب اُلٹا لیٹ کر سوچنے لگا . . اُلٹا اِس لیے لیٹا کہ دروازے پہ امی نے ھونا تھا وہ اندر آتے ہی میرے لن کو اِس طرح کھڑا دیکھتی تو کیا سوچتی کہ گھر میں اسکی جوان بہن کے سوا تو کوئی ہے نہیں لہذا اسی کی چوت پہ ڈورے ڈال رہا ہو گا … یہ نہیں سوچیں گی کہ بہن نے ابھی کونسی قیامت کے جلوے دکھائے ہیں … اِس مسكین لن کی کوئی کہاں سنتا ہے …خیر میں اُلٹا لیٹا سوچنے لگا… بھائی سچ تو یہ ہے کہ ہم لوگ انتہائی منافق ہیں … جب دیکھو ایک ڈرامہ رچایا ہوا ہے غیرت کا… بہن بھائی کے رشتے کےتقدس کا… بھلا مجھے ایک بات بتاؤ جب یہ بھائی اپنی نازوں پلی بہن کو کسی اجنبی کی ڈولی میں بٹھاتے ہیں تو انکی غیرت کو ٹھیس نہیں لگتی… یہ جانتے ہوۓ کہ یہ جو رشتہ ابھی تھوڑی دیر پہلے بنا ہے جسے لڑکی کا باپ اپنا بیٹا کہہ رہا ہے یہ ہٹا کٹا جوان آج رات انکی بہن بیٹی کی جوانی کی دھجیاں اڑا دے گا … اس کے کانوں کی لو کو چوسے گا اس کے لبوں کو چومے گا … چوت پر تھپڑوں کی برسات کرے گا … بُنڈ پر چکیاں ڈالے گا … بغلوں میں لن رگڑے گا … بہن کی صراحی دار گردن پہ اپنی گرم سانسیں پھینکے گا … اور یہ بہن بھی کسی پروفیشنل رنڈی کی طرح اس کے نیچے دبی سسکاریاں لیتی ہوئی اسکی کمر کو نوچتی ، رس چھوڑتی رہے گی … مزے سے کانپے گی تو کبھی اس سے لپٹ جائے گی … سوچو ذرا یہ جو اب اسٹائل سے چھوٹے چھوٹے لقمے بنا کر كھانا کھاتی ہے سہاگ رات پہ پورا لن نگل جائے گی … تب کہاں جاتی ہے آپکی غیرت … جس نے اسے بچپن سے پالا اس کے لیے اس کے جسم کو چھونا غلط اور جو کچھ بھی نہیں لگتا وہ ایک رات میں نچوڑ ڈالے … یہ کہاں کا انصاف … پھر ذرا غور کریں ہماری بہن تقریباً 14 سال سے جوان ہو جاتی ہے اور شادی کب ہوتی ہے 24 25 یا اِس کے بھی بَعْد اتنے عرصے میں اسکی کتنی جسمانی ریکوائرمنٹس ہیں جو پوری ہونے سے رہ گئیں کبھی سوچا کسی نے … جب یہ جوان ہوئی اور ممّے سر اٹھانے لگے تو اِسے سینے میں گلٹیاں بننے کی وجہ سے کتنا دَرْد ہوا کبھی مسلا آپ نے اِس کے مموں کو… کبھی کوشش کی اِس کو آرام پوھنچانے کی… چھوٹی تھی تو باپ نے سینے سے لگا کر سلایا … جب سینے سے لگانے کی عمر ہوئی تو بستر علیحدہ کر دیا… بچپن میں پیار نا بھی کرتے تو خیر تھی لیکن جوانی میں ایک بار اسے مظبوط بانہوں میں جکڑنا ضروری تھا… . ایک کتیا جب گرم ہوتی ہے تو اسکا مالک اس کے لیے شہر بھر میں صحت مند سے صحت مند کتا چنتا ہے … آپکی بہن نے جوانی میں قدم رکھنے سے لے کر شادی تک ایسی کتنی راتیں جوانی کی گرمی میں جلتے ہوۓ بستر پر کروٹیں لے لے کر گزا ر دیں لیکن آپ نے کبھی اسکی آگ کو ٹھنڈا کرنا گوارہ نا کیا… سچ تو یہ ہے کہ یہ بھائی ہونے کے ناتے ہمارا حق بھی ہے اور فرض بھی کہ بہن کے جسم کی آگ کو ٹھنڈا اور بستر کو گرم رکھیں … اگر زیادہ نہیں تو کم از کم ایک ہفتے میں ایک رات ایک بھائی کو اپنی بہن سے لپٹ کر سونا چاہیے … آج مغرب کی عورتیں اسی لیے کونفیڈنٹ ہیں کہ وہ کئی مردوں سے سچا پیار حاصل کر چکی ہیں …… ماہر نفسیات بھی یہی کہتے ہیں کہ لڑکیوں میں چڑچڑا پن اور کم برداشت کی وجہ سیکس کی کمی ہے … ایسے کئی خیالات میرے ذہن میں جنم  اگلے دن سے میں نے بھرپور کوشش کی کہ کسی طرح وہی نظارہ دیکھنے کو مل جائے مگر روز روز سنڈے تو نہیں ہوتا نا… حمائل کے آگے پیچھے گھومنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا ہم دونوں کو اسکول سے چھٹیاں تھیں اِس لیے اس کے سارا دن گھر میں ہونے کی وجہ سے اس کے واشروم یا روم میں جانے کا بھی موقع نہیں ملا… دو دن یونہی گزرے تو تیسرے دن وہ اور امی شاپنگ پہ گئیں … ان کے گھر سے جاتے ہی میں سیدھا اس کے روم میں گیا … اسکی الماری کو اچھی طرح چھان ڈالا … کچھ خاص اسٹف نا ملا … عجیب عورت ہے بھائی نا اس کے پی سی میں کوئی پورن ہے نا الماری میں کوئی پلے بوائے ٹائپ رسالہ … نا کچھ اور پرسنل ہاں اس کے واشروم میں اس دن کے اُتارے ہوۓ کپڑے ضرور ملے … پینٹی تو نا تھی البتہ برا تھا اور شلوار قمیض بھی … . میں نے کیا کیا کہ اس کے برا کو اور شلوار کو بیڈ پہ پھیلایا اور پھر اوپر لیٹ کر گھسے مارنے لگا…آنکھوں کا سامنے وہی 2 دن پہلے والا منظر تھا… پھر میں نے اس کی شلوار کو منه سے لگا کر گہری گہری سانسیں لیں اور دوسرے ہاتھ سے مٹھ مارنے لگا… مزہ تو خوب آیا مگر وہ بات نہیں تھی… بلا شبہ بہن کے جسم کو اتنے قریب سے دیکھنے کا جو سرور اس دن آیا تھا وہ اِس سب میں کہاں … مٹھ مارنے کے بعد میں نے اس کے کپڑے واپس واشروم میں رکھے اور اب میرے دِل کو افسوس ہوا … جذبات ٹھنڈے پڑے تو لگا جیسے سب کچھ غلط ہو رہا ہے مجھے یہ سب نہیں کرنا چاہیے … رات کو كھانا کھا کر بستر پہ لیٹا تو دوبارہ وہی باتیں ذہن میں آنے لگیں … زرا لن میں جان آئی تو وہی ننگی حمائل آنکھوں کے سامنے گھوم گئی … لن پھر تاؤ میں … اب کے میں نے سوچا اس کے روم میں جاؤں … دراصل امی ہمیں نصیحت کرتی ہیں کہ روم کا دروازہ بند تو کر لیا کرو مگر لوک نہیں … . میں نے آرام سے اس کے روم کا دروازہ کھولا وہ رائٹ سائڈ پر کروٹ لیے سو رہی تھی ٹانگیں اکٹھی کی ہوئی تھیں اِس لیے بُنڈ صاحبہ باہر کو نکلی ہوئی تھی…وائٹ شلوار قمیض تھی بالکل لائٹ … قریب گیا اور اسکا نام لیا… دوبارہ لیا… وہ بالکل نہیں ہلی … یعنی بات بن سکتی ہے …مم…. اس کے ڈریسنگ ٹیبل کے اوپر لگی چھوٹی لائٹ جل رہی تھی… اور اسی کی روشنی روم میں تھوڑی سی پھیلی ہوئی تھی… مگر یہ روشنی اِس اینگل میں تھی کہ سیدھی اسکی بُنڈ پہ پڑ رہی تھی… لہذا میرے مطلب کی چیز مجھے نظر آنے لگی… میں دھیرے سے نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھا اور پھر اسکی بُنڈ کے قریب منه لے گیا … واہ کیا خوشبو تھی… مدھوش کن… یا شاید میرا وہم تھا… دراصل مجھے اسکی نازک سی بُنڈ پہ پیار ہی اتنا آ رہا تھا کہ مجھے اِس وقت وہ لگ بھی کسی گلاب کی طرح رہی تھی اور مہک بھی گلابوں والی آ رہی تھی… خیر ٹچ کرنے کی ہمت تو نا ہوئی مگر اٹھ کر لن باہر نکالا اور اسکی بُنڈ کے قریب لے گیا …تنا ہوا تگڑا لن اِس وقت میری سگی بہن کی بُنڈ سے ایک آدھ انچ کی دوری پہ تھا اور لن میں اتنی جان آئی ہوئی تھی کہ اِس سے پہلے ایسا جوش نہیں دیکھا میں نے … لگتا تھا باڈی کا سارا بلڈ لن کی طرف دوڑ رہا ہے … میں سوچنے لگا اگر ابھی جذبات کی یہ حالت ہے تو کبھی ٹچ کیا تو کیا ہوگا … میں اِس وقت ایک شورٹ ٹائپ نیکر میں تھا اور اوپر ٹی شرٹ … لن فل حال باہر نکلاپھنپھنا رہا تھا… ویسے اِمیجن کرو اس وقت اگر اسکی آنکھ کھل جاتی اور وہ مڑ کر مجھے اِس حالت میں دیکھتی تو کیا سوچتی… وہ بھائی جس کے ساتھ اسکا بچپن کھیلتے کھیلتے گزرا … بچپن میں اکٹھے سوۓ … جوان ہوئی تو کسی کے سامنے بغیر دوپٹے کے نہیں گئی سوائے بھائی کے … جس سے وہ عید پہ گلے لگ کے ملتی … جس پہ وہ ٹرسٹ کرتی تھی جس نے اسے خود اپنے ھاتھوں سے ڈولی میں بٹھانا تھا اور جس کے لیے اس نے دلہن لانی تھی… وہ بھائی اِس وقت اپنا سودا نکالے اسکی گانڈ کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا ہے … یہ دیکھ کر اسے کتنا برا لگتا نا… خیر اسے جیسا بھی لگتا ایسے تگڑے لن کو اپنے اوپر عاشق ہوتے اور صدقے واری جاتے دیکھ کر اسکی چوت کی پھانکیں خوشی سے پھڑک اٹھتیں … . میں نے تھوڑی ہمت دکھائی اور اسکی قمیض پیچھے سے تھوڑی سی اوپر کردی… جتنی ہو سکتی تھی اتنی… زیادہ تو نہیں ہو سکی مگر اتنی ہوئی کہ شلوار سے کچھ اوپر کی کمر دکھنے لگی… . میرے لیے اتنا ہی کافی تھا… بس ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگا… وہ شلوار خاصی نیچے باندھتی تھی… انفیکٹ جہاں نیفا تھا کمر تو اس کے کافی اوپر ختم ہو گئی تھی… اور اسکی بُنڈ کا حصہ بھی شروع ہو گیا تھا ہاں مگر بُنڈ کا کریک نا صرف ڈھکا ہوا تھا بلکہ نیفااس سے اچھا خاصا اوپرتھا… دِل تو بہت کیا کہ اِس نظارے کے ساتھ ساتھ بُنڈ کو بھی لگے ھاتھوں چھو لوں مگر پھر سوچا نازک سی ہے کہیں چھونے سے ٹوٹ نا جائے یا پھر بغیر اِجازَت چھونے پر زندگی بھر کے لیے روٹھ نا جائے … . ویسے سچ پوچھو تو دِل میں تو یہ ڈر تھا کہ حمائل کی آنکھ کھل گئی تو یہی لن موڑ کر میری گانڈ میں دے دے گی … خیر میں نے اتنے ہی پر اکتفا کیا اور سامنے سے ٹشو پیپرز نکا ل کر لن کے منه پر لگائے اور لگا مٹھ مارنے … . بھائی جب چھوٹا تو بڑی مشکل سے خود پر قابو کیا کیوں کہ بس نہیں چل رہا تھا کہ حمائل سے چپک جاؤں … ایک بات جو میں نے پہلے بھی نوٹ کی اور اب کی بار بھی وہ یہ کہ مٹھ تو پہلے بھی مارتا تھا مگر جب سے بہن کے نام کی مارنے لگا ہوں نا صرف مقدار میں زیادہ نکلتی ہے بلکہ مزہ بھی بے تحاشا ہوتا ہے … اور لن کا جوش بھی قابل دید … کبھی بہن کے رشتے کو اِس نظر سے دیکھا نہیں لہذا اِس رشتے میں چھپی خوشیوں کا اندازہ نہیں تھا… . میرے جو ریڈرز یہ حرکت کر چکے ہیں وہ اچھی طرح میری فیلنگز کو سمجھ سکتے ہیں … مٹھ مارنے کے بَعْد حمائل کی بُنڈ اور کمر پہ ایک پیار بھری نظر ڈالی اور واپس اپنے روم میں آ گیا … اگلے دن دوپہر کوحمائل جب میرے روم میں كھانا دینے آئی ( شلوار قمیضاور بغیر دوپٹے کے ) تو کہنے لگی بھیا آپ سے ایک چھوٹا سا کام ہے کر دو گے پلیز میں ( دِل میں ) : ہائے کیا میری پیاری بہنا کو سیل تڑوا نی ہے یا ممے چوسوانے ہیں یا بُنڈ کو بخار ہو گیا ہے اور بھائی کے تھرما میٹر کی ضرورت پڑ گئی ہے … میں : ہاں بولو کیا بات ہے حمائل : وہ دراصل مجھے کل یونیورسٹی جانا ہے ایک کام ہے چھوٹا سا… وہ نشا اور حنا بھی ساتھ چلیں گی آپ پلیز گاڑی پہ لے جانا اور واپس بھی لے آنا پلیز ( یہ پلیز اس نے ایک ریکویسٹ والی سمائل کے ساتھ کہا جس کے نتیجے میں اسکا فیس اتنا کیوٹ لگا کہ دیکھنے والی کی بے اختیار چومی نکل جائے ) میں نے بھی ہونٹوں سے لائٹ سی کس کی آواز نکا لتے ہوۓ کہا ہاں شیور بس صبح جگا دینا جب جانا ہو … وہ بولی شکریہ بھیا آپ بہت اچھے ہو اور یہ کہتی ہوئی دوڑ گئی … اس کے دوڑنے کی وجہ سے اس کے ممے چھلک اٹھے … بُنڈ تھر ک گئی اور یہاں میرا لن مچل گیا … . رات ہوئی تو پھر دِل کیا کہ کل والی حرکت ہو جائے … ویسے بھی رات کے ١:٣٠ بج رہے تھے حمائل کو سوئے ہوۓ کافی ٹائم ہو گیا تھا… میں چونکہ رات بھر پورن دیکھتا تھا دیسی انسیسٹ اسٹوریز پڑھتا تھا اور عورت کو کیسے پٹایا جائے اس پہ سرچ کرتا رہتا تھا اِس لیے میری روٹین تھی رات دیر تک جاگنا … خیر میں اٹھا لیپ ٹاپ سے اور سیدھا حمائل کے روم میں … وہ آج پھر اسی اسٹائل میں سوئی ہوئی تھی اور روشنی کا بھی وہی سین تھا… یعنی ایک اور جاندار مٹھ ویٹ کر رہی تھی میرا… میں قریب گیا کنفرم کیا کہ وہ گہری نیند میں ہے … اور پھر اسکی بُنڈ سے قمیض اٹھا دی… آج سین تھوڑا سا مختلف اور دلچسپ تھا دراصل اس نے پہنا تو لاسٹک ہوا تھا… سوتے میں کہیں شلوار کو کھچاؤ لگا اور وہ ایک سائڈ سے تھوڑا نیچے ہو گئی … یعنی وہ رائٹ کروٹ لیے ہوئی تھی لیفٹ بمپ اوپر کو تھا رائٹ نیچے کو اور شلوار رائٹ بمپ پہ سرک کر تھوڑا نیچے ہوگئی تھی… جس جگہ سے ہٹی تھی وہاں لاسٹک نے لائٹ ریڈ سا نشان بنا دیا تھا جو دودھ جیسے گورے بدن کی نزاکت کا گواہ تھا… اب بات یہ ہے کہ شلوار کتنا نیچے ہوئی تو فرینڈز سچویشن یہ تھی کہ لیفٹ بمپ فل کورڈ اینڈ رائٹ والا ہالف کورڈ . . اور دونوں کے درمیان پارٹیشن لائن کا ابتدائی سِرا تھوڑا سا دِکھ رہا تھا… یوں تو مٹھ کے لیے اتنا کافی تھا مگر مجھ سے رہا نا گیا اور میں نے رائٹ ہینڈ میں لن پکڑا لیفٹ سے ذرا سا شلوار کو اپنی طرف کھینچا تا کہ اندر جھانک سکوں … اتنے میں حمائل کی باڈی موو ہوئی میں نے فوراً شلوار کو چھوڑا اور خود جلدی سے بیڈ کے نیچے گھس گیا … شلوار اچانک چھوڑنے کی وجہ سے ذرا زور کی اسکی باڈی سے ٹکرائی لہذا وہ جاگ کر بیٹھ گئی … میں نیچے لیٹا سوچنے لگا کیسی کتے کی نیند سوتی ہے شلوار کھینچنے سے پیٹ پہ ہلکا سا کھچاؤ پڑا ھوگا اور یہ جاگ بیٹھی … خیر میں نے بھی تو چول ماری تھی باڈی موو ہونے کا مطلب یہ تونہیں کہ وہ جاگی ہو شلوار کے زور سے لگنے سے بھی تو آنکھ کھل سکتی ہے … خیر جو بھی ہوا جان بچی سو لاکھوںپائے … اب دوبارہ سوئے تو میں نکلوں یہاں سے اچانک خوف کا جھٹکا لگنے کی وجہ سے لن جھاگ کی طرح بیٹھ گیا تھا میں نیچے لیٹا ویٹ کر رہا تھا کہ کب وہ سوتی ہے مگر وہ شاید ڈر گئی تھی… اٹھی کمرے کی لائٹ جلائی اور اپنا بستر جھاڑا پھر گئی روم کا ڈ ور اندر سے لوک کیا اور واشروم چلی گئی … واپس آئی اور لائٹ آ ف کر کے سو گئی … لو گو پھنس گیا میں تو اب روم کا ڈ ور اندر سے لوکڈ تھا اور میں اس کے بستر کے نیچے … اب سالا نکلوں توکیسے … دروازہ کھول کر جاتا ہوں تو اسے صبح یقین ہو جائے گاکہ کوئی اور بھی روم میں تھا…یعنی ساری رات یہاں ہی گزرنی پڑے گی … سالا سو بھی نہیں سکتا … ایک تو نیند آئے گی نہیں سخت فرش پہ دوسرا آ بھی گئی تو صبح حمائل پہلے نا جاگ جائے بھائی کو اپنے بستر کے نیچے لیٹا دیکھے گی تو فوراً پُھدی پہ ہاتھ رکھ کر چیخ پڑے گی …چلو خیر جو تقدیر کو منظور یہاں پہ لیٹو اب تو… اب میں لیٹے لیٹے سوچنے لگا… بھائی جو بھی ہوا منظر تو کمال کا دیکھا کاش اپنے ھاتھوں کی لکیروں میں بھی ایک لکیر اسکی بُنڈ کی لکیر لینے کی ہو… کاش… صبح ہوئی تو اسکا الارم بجا . . میں تو جاگ ہی رہا تھا وہ بھی جاگ گئی … میری تھکن کا یہ عالم تھا کہ دِل کیا بیڈ کے نیچے سے نکل کر اسے کہوں کہ بہن میری جوتھپڑ مارنے ہیں ما ر لو مجھے اِجازَت دو میں اپنے روم میں جا کر سو جاؤں … لیکن یہ کہنے کی بھی ہمت نا تھی… پھر آج تو مجھے اس کے ساتھ اسکی یونیورسٹی بھی جانا تھا… یعنی ساری نیند غارت … وہ جاگی اور سیدھا واشروم میں گُھس گئی کچھ دیر بَعْد واشروم میں شاور چلنے کی آواز آئی … واشروم کا ڈور اوپن تھا مگر مجھ میں ہمت نا تھی کہ بیڈ کے نیچے سے سر نکا ل کر دیکھتا لہذا بس پانی گرنے کی آواز سن کر تصور کرنے لگا… وہاں لن بھی ہلکا پھلکا سر اٹھا رہا تھا… اتنے میں وہ واشروم سے باہر آئی اور آ کر بیڈ کی سائڈ پہ کھڑی ہو گئی اسکا فیس ڈریسنگ ٹیبل کے مرر کی طرف تھا میں بیڈ کے نیچے تھا اور بیڈ پہ پڑی چادر کی جھالر سائڈ پہ لٹک رہی تھی جو بیڈ اور زمین کے ہالف فاصلے کو کور کیے ہوۓتھی… میں بھی تھوڑا پیچھے کو سرک گیا تا کہ ان کیس اسکی نیچے کو نظر بھی پڑے تو شک نا ہو… مجھے اِس وقت نیچے سے اسکی ہالف سے کم پنڈلیاں نظر آ رہی تھیں جو کہ ننگی تھیں … واہ میری سگی بہن اِس کمرے میں ننگی کھڑی تھی اور میں اس کا عاشق دیکھنے سے محروم تھا… آہ … اتنے میں اس کے پیروں پر ٹاول آ کر گرا یعنی وہ اب تک ٹاول میں تھی اور اب بالکل ننگی کھڑی تھی… وہ الماری کی طرف بڑھی اور اس میں سے ایک ڈریس نکل کر بیڈ پر پھینکا… یہ ریڈ کلر کی شلوار قمیض تھی… شلوار اور قمیض دونوں کا آخری سِرا بیڈ سے زمین تک ایریا کو ٹچ کر رہا تھا… اس نے الماری سے کچھ اور بھی نکالا . . شاید انڈر گارمنٹس … اتنے میں اس کے فون کی بیل بجی… اس نے فون اٹھایا… حمائل (فون پہ ) : ہاں بول ماموں کیسا ہے تو… جاگ گیا کیا… ہاں میں ابھی نہا کے نکلی ہوں … جی بالکل ننگی ہوں ابھی کچھ بھی نہیں پہنا… کہو تو یونہی آ جاؤں آج… ہاہاہاہا … نہیں بھائی مجھے کوئی شوق نہیں لوگوں کو ہارٹ اٹیک کروانے کا ویسے بھی بھائی کے ساتھ جانا ہے ننگا دیکھے گا تو جان سے ما ر ڈالے گا … شٹ اپ بھائی ہے وہ میرا وہ کیوں مارنے لگا اپنی بہن کی… اچھا میں ابھی نشا کو کال کرتی ہوں بائے … اوہ تیری خیر .. دِل کیا ابھی باہر نکل کر کہوں کہ باجی یہ فون پہ جو کوئی بھی تھا ٹھیک کہہ رہا تھا آپ کا بھائی واقعی آپکی ما رنا چاہتا ہے … اور ڈونٹ وری جان سے تو نہیں ماروں گا آپ کو مگر پوری جان لگا کر ضرور ماروں گا آپکی… اور یہ ماموں کون تھا کس سے بات کر رہی تھی یہ اور پھر یہ زبان … اِس نے مُنا بھائی کا لن کب سے چوسا جو اسکی زبان بول رہی ہے …خیر کر تو یہ اِس وقت بہت کچھ ایسا رہی ہے جو کبھی ہمارے سامنے نہیں کیا نا ایسی زبان بولی نا کبھی نہا کے ننگی سب کے سامنے آئی … اتنے میں اس نے اسی حالت میں کال کی… مجھے اِس بات کا آئیڈیا اسکی سیلف ٹاک سے ہوا وہ مسلسل کہہ رہی تھی… کم آن پک اٹ اپ ابھی تک سو رہی ہےتو… خیر اس نے فون رکھا اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے تیار ہونے لگی شاید ننگی … میرا مطلب شلوار قمیض یا پینٹی تو نہیں پہنی تھی اس نے پہنتی تو مجھے پتہ چل جاتا… برا شاید پہن رکھا ہواتنے میں اسکی دونوں بالیاں نیچے گر گئیں ایک ایک طرف دوسری دوسری طرف وہ فوراً بولی… یہ کیا … اور پھر بالیاں اٹھانے کے لیے نیچےبیٹھی … مر جاؤں گڑ کھا کے … مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نا آیا یوں لگا جیسے کوئی خواب دیکھ رہا ہوں سچ میں مجھے یقین کرنے کے لیے اپنی آنکھیں ایک بار ملنا پڑیں … وہ اِس وقت ننگی یوں بیٹھی تھی جیسے انڈین سیٹ پہ ٹوائلٹ کرنے کے لیے بیٹھتی ہیں … بُنڈ میری طرف تھی اور نظارہ کتنا حَسِین تھا یہ تو شاید الفاظ میں بیان ہی نہیں ہو سکتا اسکی سونے جیسی چمکتی سفید اور سنہری رنگ کی راؤنڈ شیپ والی چکناہٹ سے بھرپور بُنڈ میری طرف تھی اور یوں بیٹھنے کی وجہ سے تھوڑی کھل بھی گئی تھی…پیچھے سے اسکی بُنڈ کے چوتڑوں میں سے اسکی پنک پُھدی کے لپس بھی دِکھ رہے تھے … میرا لن بھی فل کھڑا ہو کر سلامی دے رہا تھا میں کھسک کر تھوڑا اسکی جانب ہوا اتنے میں وہ مڑی دوسرا جھمکا اٹھانے کے لئے … اب پنک پُھدی سامنے تھی جس کے لپس مجھے کچھ سوجے ہوۓ سے لگے … ایک صحتمند چوت کی نشانی … ایسی چوت جو لن کو یوں جکڑتی ہے جیسے انڈین کبڈی ٹیم کے جاپھی مخالف ٹیم کےرائڈرز کو… اس نے جھمکے اٹھائے ہی تھے کہ بیڈ پہ پڑا اسکا سیل بجا … وہ گھٹنوں پر چلتی ہوئی بیڈ تک آئی اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر ہی کال اٹینڈ کی… اب ذرا آپ خود سین کو تصور کریں جس بیڈ کے نیچے میں لیٹا تھا اور اسکی گانڈ دیکھنے کے لیے سرک کر کونے تک آگیا تھا بالکل بیڈ پہ پڑے اس کے کپڑوں کی آڑ میں وہ اسی بیڈ سے چپکی گھٹنوں کے بل بیٹھی بات کر رہی تھی… وہ بھی مکمل ننگی … لہذا اوپر کا دھڑ اسکا بیڈ پر جھکا ہوا اور نیچے ننگی ٹانگیں ، رانیں اور پُھدی اس کے سگے بھائی کے منہ سے تقریباً آدھا فٹ دور… میں اسکی رانوں کو اور پُھدی کو محو حیرت دیکھتا رہا اور لبوں سے فلائنگ کس کے نظرانے بھیجتا رہا … . وہ کچھ یوں بات کر رہی تھی… کیا رے کہاں مروا رہی تھی کتنی بیلیں گئیں تو نے جواب نہیں دیا… کیا کہا تو اِس وقت جھانٹوں کے بل صاف کر رہی تھی… مانا بابا چھٹیوں میں کہیں جانا نہیں ہوتا لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ صفائی کا خیال نا رکھو ( دِل تو چاہا کہ بات اور لمبی ہو اور لمبی ہوئی بھی مگر اس نے وہاں مزید بیٹھنا گوارہ نا کیا اور اٹھ کر ڈریسنگ ٹیبل پہ چلی گئی ) … میں تو ہر تیسرے دن صاف کرتی ہوں اچھی طرح سے … ہاں تم یہی سمجھ لو اپنے راج کمار کے انتظار میں ہی سنوا رتی رہتی ہوں اِسے ویسے بھی وہ کیا ایس ایم ایس سنایا تھا تم نے کہ قسمت اور پھدی کسی وقت بھی کھل سکتی ہے … ہا ہا ہا ہا ہا…ہاں ہاں پتہ ہے لطیفے میں چوت کالفظ تھا لیکن ہم نے تو اپنا کوڈ ورڈ ہی بولنا ہےنا… اچھا جلدی سے تیار ہوجا حنا سے بات ہوگئی ہے میری ( اچھا تو وہ ماموں حنا تھی ) … چل او کے رکھتی ہوں بائے … آپ فرینڈز سوچ رہے ہو گے کہ کیوں نا ایک بار اپنی اپنی بہن کی پرائیویسی میں ٹانگ اڑائی جائے بھائی میں تو صرف رائٹر ہوں میرا کام کچھ تجویز کرنا نہیں اور یہ بات کہانی کے اسٹارٹ میں بھی ہو چکی ہے کہ یہ کہانی صرف تفریح کے لئے ہے لھذا بہتر ھوگا اپنے جذبات کو کمپیوٹر اسکرین سےاٹھنےسے پہلے ٹھنڈا کر لیں …ہاں مگر یہ سچ ہے کہ آپ اگر کسی سادہ ، شریف اور گھریلو لڑکی کی پرسنل لائف کی ایک جھلک بھی لے لیں تو کافی انٹرسٹنگ تجربہ ہوتا ہے کیوں کہ یہ لڑکیاں اپنی تنہائی میں اس کے بالکل برعکس ہوتی ہیں جو یہ ریئل لائف میں نظر آتی ہیں جیسے میری ایک بار ایک لڑکی سے بات ہوئی یاہو پہ اس نے مجھے بتایا کہ وہ کافی مذہبی ہے پردہ بھی کرتی ہے کبھی خود لذتی بھی نہیں کی اور پورن بھی نہیں دیکھا لیکن جب بھی وہ اپنے روم میں اکیلی ہوتی ہے تو آئینے کے سامنے آدھی ننگی ہو کر انڈین فلموں کے سونگز پر ڈانس کرتی ہے اور فلمی ڈائلوگ بھی بولتی ہے جیسے کسی فلمی سین کو فلما رہی ہو… اس نے کہا کہ اپنی گرمی ختم کرنے کا یہ بہترین نسخہ ہے … لہذا اب سوچیں ذرا کہ اس کے بھائی کو اپنی بہن اِس حالت میں دیکھنے کو ملے تو اس کے لیے یہ کتنا بڑا سرپرائز ہو گا … اسی طرح حمائل کی یہ باتیں سن کر مجھے خوب مزہ آنے لگا اور ان باتوں نے اور ان جلووں نے ساری تھکن غائب کر دی… . وہ اتنے میں کپڑے پہن چکی تھی اور پھر دروازہ کھول کر میرے روم کی طرف چل دی مجھے جگانے کے لئے … میں جھٹ سے بیڈ کے نیچے سے نکلا اور سیدھا کچن میں چلا گیا … کچن سے یوں باہر نکلا جیسے ابھی ابھی جاگا ہوں اور کچن میں پانی پینے گیا ہوں … . مجھے دیکھ کر وہ بولی بھیا جلدی سے جینز شرٹ پہن لو پھر چلتے ہیں … میں نے جینز اور ٹی شرٹ پہنی منه ہاتھ دھویا اور چل دیا اس کے ساتھ … رستے میں نشا کو بھی پک کیا اور حنا کو بھی … سارے رستے کوئی خاص بات نہیں کی میں نے … بس وہ دوستیں آپس میں کھسر پھسر کر رہی تھیں … اور ہنس رہی تھیں …حمائل آگے بیٹھی تھی ایک موقع پر حمائل بولی… حنا آج ہماری اِس ڈفر دوست کی دلچسپ بات پتہ چلی ہے بَعْد میں بتاؤں گی … نشا فوراً بولی کون سی وہ جھانٹوں والی ؟ . . . . حمائل اور حنا دونوں کو جھٹکا لگا… حمائل نے پیچھے مڑ کر اسے آنکھیں دکھائیں اور حنا بولی او کے بَعْد میں بات کرتے ہیں … نشا واقعی ڈفر تھی یا ذرا شوخی کہہ لو آپ… فوراً بولی… تو اِس میں کیا ہے کونسا جوئیں پڑ گئی تھیں ویسے بھی میرے بال کافی دنوں بَعْد آتے ہیں تمھاری طرح نہیں کہ جھاڑیاں اُگ آئیں دوسرے دن ہی … حنا اس کے منه پہ ہاتھ رکھ کر آہستہ سےبولی… یار کوئی جگہ ہی دیکھ لیا کرو… چھوڑو کسی اور موضوع پہ بات کرتے ہیں … ہم یونیورسٹی پوھنچے حمائل کی یونیورسٹی صرف لڑکیوں کے لیےتھی… وہ اندر چلی گئی … مجھے اپنی بہن سب میں بہت حَسِین دِکھ رہی تھی اور ہوٹ اور سیکسی بھی … اور یہ بات کافی حد تک سچ بھی ہے کہ شاید سب کی نظر میں وہ ابووغیرہ کی نظر میں بہت خوبصورت تھی… . میں تھکن کا مارا گاڑی میں بیٹھا اونگھنے لگا… تقریباً ایک گھنٹے بَعْد حمائل نے کوئل جیسی آواز میں میرا نام لے کر جگایا اسکا ایک ہاتھ میرے کندھے پہ بھی تھا… میں جاگا اور پھر واپس گھر کو ڈرائیو شروع کردی… نشا اور حنا کو بھی ان کے گھروں میں ڈرا پ کر دیا… واپسی پہ ایک جو انٹرسٹنگ بات پتہ چلی وہ یہ کہ حمائل کے مطابق اِس ہفتے کے آخر پہ امی ابو دونوں شہر سے باہر ہوں گے اور وہ تینوں دوستیں ہفتے کی رات ہمارے گھر پارٹی کر کےگزاریں گی … . میرا دِل خوشی سےجھومنے لگا یعنی میں پھر بیڈ کے نیچے … اس رات میں دوبارہ حمائل کے بیڈ کے نیچے لیٹ گیا مگر اس رات اس نے کوئی حرکت نا کی… بس بیڈ پہ بیٹھ کر کوئی بُک پڑھی کوئی ڈرامہ دیکھا اور سو گئی … میں بھی نکل کر اپنے روم میں آیا اور ریلائیز کیا کہ وہ جب اکیلی ہوتی ہے تو کافی بورنگ لائف اسپینڈ کرتی ہے اِس لیے کوئی خاص فائدہ نہیں ہر رات اس کے روم میں گزا رنے کااگلے دو دن یونہی گزرے … میں دن رات انسیسٹ اسٹوریز اور پورن پہ گزارا کرتا رہا … اور پھر ہفتے کی رات یعنی پارٹی نائٹ آ گئی … امی ابو تو صبح کے ہی نکل گئے تھے میں شام کو حمائل کے پاس گیا اورکہا … آج مجھے دوست کی طرف جانا ہے رات بھر ویڈیو گیمز کھیلنے کا پروگرام ہے لہذا صبح آؤں گا تم اکیلی رہ سکتی ہو… اگر نہیں تو میں نہیں جاتا… وہ جھٹ سے خوش ہوتے ہوۓبولی… . نہیں بھیا آپ چلے جائیں ویسے بھی میں اکیلی نہیں ہوں گی حنا اور نشا آج رات میری طرف آئیں گی پوری رات کے لیے لہذا آپ پریشان نہیں ہوں … میں او کے کہہ کر گھر سے نکل پڑا اور اسے کہا کہ یاد سے دروازہ لوک کرلے… باہر ذرا واک کی ایک سگریٹ پھونکی اور واپس دیوار پھلانگ کر گھر میں اینٹر ہوا اور اپنے روم کی کھڑکی سے کہ جسے میں کھلا چھوڑ گیا تھا گھر کے اندرآ گیا … . گھر کے اندر آ کر اپنے روم سے چپکے سے باہر نکلا اور حمائل کے روم کے ساتھ سیڑھیوں کے نیچے جہاں اندھیرا تھا وہاں جا کر بیٹھ گیا … اتنے میں حمائل اپنے روم سے نکلی اور کچن کی طرف گئی … وہ اِس وقت اپنی تنہائی کو خوب انجوئے کر رہی تھی اور ایک پنک کلر کی چھوٹی سی چڈی اور وائٹ ٹی شرٹ میں تھی چڈی نے اس کی آدھی رانوں کو ڈھانپا ہوا تھا اور شرٹ ڈھیلی ڈھالی سی تھی… اسے کچن کی طرف جاتے پیچھے سے دیکھا تو دِل کیا کہ جنگلی بکرے کی طرح پیچھے سے جا کر اس سے لگ جاؤں اور ان گوری رانوں اور موٹے چوتڑوں میں گھسے ما رتا رہوں اور چودتا رہوں مرتا رہوں اور چودتا رہوں … کچن میں وہ کچھ پارٹی کا سامان تیار کر رہی تھی لہذا یہی موقع تھا اس کے روم میں اینٹر ہونے کا میں سیدھا اس کے بیڈ کے نیچے گُھس گیا … میں نے بلیک ڈریس پہنا تھا تا کہ بیڈ کے نیچے نظر پڑے بھی تو میں آسانی سے نا دِکھ سکوں … اتنے میں حمائل میری جان میری پیاری بہن روم میں آئی اور سیدھا واش روم میں گُھس گئی دروازہ کھلا رکھا اس نے … اِس لمحے مجھے احساس ہوا کہ یہاں نیچے لیٹے رہنے سے میں ان دوستوں کی باتیں تو سن سکوں گا مگر کوئی نظارہ نہیں دیکھ سکوں گا … سو یہاں لیٹنا فائدہ مند نہیں ہے لہذا کوئی بھی چکر چلایا جائے … کوئی اور جگہ ڈھونڈی جائے لیکن کم از کم یہ نہیں … لہذا جب حمائل ٹوائلٹ سے نکل کر کچن میں گئی تو میں باہر نکلا اور روم سے باہر نکل کر سیڑھیوں کے نیچے بیٹھ گیا جہاں گھپ اندھیرا چھایا ہوا تھا اور کسی کی موجودگی کا بالکل علم نہیں ہوتاتھا… میں وہاں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ کونسی پوزیشن لوں کہ اتنے میں بیڈروم میں پڑاحمائل کا فون بجنے لگا وہ دوڑتی ہوئی آئی … اسے چھوٹی سی چڈی میں دوڑتا دیکھ کر دِل لڈیاں ڈالنے لگا پھر اسکی لوز شرٹ میں اس کے ممے بھی جھوم رہے تھے اور اس کے دوڑنے کی وجہ سے ایک دوسرے سے بری طرح ٹکرا کر دودھ کی لسی بننے لگی … وہ روم میں گئی اسکی آواز آئی … او کے اوکے کھولتی ہوں گیٹ ذرا انتظار کرنا بس آئی … پھر وہ ذرا دیر بَعْد روم سے باہر نکلی تو اس نے شلوار پہنی ہوئی تھی اور اوپر ایک بڑی سی چادر لپیٹی تھی جس نے فل باڈی کو ڈھانپ دیا تھا… فرینڈز یہ ہماری بہنوں کا مشرقی پن ہے جو کوئی ب

 لینے لگے اور میں شیطانی سوچ کے زیر اثر جانے لگا…اگلے دن سے میں نے بھرپور کوشش کی کہ کسی طرح وہی نظارہ دیکھنے کو مل جائے مگر روز روز سنڈے تو نہیں ہوتا نا… حمائل کے آگے پیچھے گھومنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا ہم دونوں کو اسکول سے چھٹیاں تھیں اِس لیے اس کے سارا دن گھر میں ہونے کی وجہ سے اس کے واشروم یا روم میں جانے کا بھی موقع نہیں ملا… دو دن یونہی گزرے تو تیسرے دن وہ اور امی شاپنگ پہ گئیں … ان کے گھر سے جاتے ہی میں سیدھا اس کے روم میں گیا … اسکی الماری کو اچھی طرح چھان ڈالا … کچھ خاص اسٹف نا ملا … عجیب عورت ہے بھائی نا اس کے پی سی میں کوئی پورن ہے نا الماری میں کوئی پلے بوائے ٹائپ رسالہ … نا کچھ اور پرسنل ہاں اس کے واشروم میں اس دن کے اُتارے ہوۓ کپڑے ضرور ملے … پینٹی تو نا تھی البتہ برا تھا اور شلوار قمیض بھی … . میں نے کیا کیا کہ اس کے برا کو اور شلوار کو بیڈ پہ پھیلایا اور پھر اوپر لیٹ کر گھسے مارنے لگا…آنکھوں کا سامنے وہی 2 دن پہلے والا منظر تھا… پھر میں نے اس کی شلوار کو منه سے لگا کر گہری گہری سانسیں لیں اور دوسرے ہاتھ سے مٹھ مارنے لگا… مزہ تو خوب آیا مگر وہ بات نہیں تھی… بلا شبہ بہن کے جسم کو اتنے قریب سے دیکھنے کا جو سرور اس دن آیا تھا وہ اِس سب میں کہاں … مٹھ مارنے کے بعد میں نے اس کے کپڑے واپس واشروم میں رکھے اور اب میرے دِل کو افسوس ہوا … جذبات ٹھنڈے پڑے تو لگا جیسے سب کچھ غلط ہو رہا ہے مجھے یہ سب نہیں کرنا چاہیے … رات کو كھانا کھا کر بستر پہ لیٹا تو دوبارہ وہی باتیں ذہن میں آنے لگیں … زرا لن میں جان آئی تو وہی ننگی حمائل آنکھوں کے سامنے گھوم گئی … لن پھر تاؤ میں … اب کے میں نے سوچا اس کے روم میں جاؤں … دراصل امی ہمیں نصیحت کرتی ہیں کہ روم کا دروازہ بند تو کر لیا کرو مگر لوک نہیں … . میں نے آرام سے اس کے روم کا دروازہ کھولا وہ رائٹ سائڈ پر کروٹ لیے سو رہی تھی ٹانگیں اکٹھی کی ہوئی تھیں اِس لیے بُنڈ صاحبہ باہر کو نکلی ہوئی تھی…وائٹ شلوار قمیض تھی بالکل لائٹ … قریب گیا اور اسکا نام لیا… دوبارہ لیا… وہ بالکل نہیں ہلی … یعنی بات بن سکتی ہے …مم…. اس کے ڈریسنگ ٹیبل کے اوپر لگی چھوٹی لائٹ جل رہی تھی… اور اسی کی روشنی روم میں تھوڑی سی پھیلی ہوئی تھی… مگر یہ روشنی اِس اینگل میں تھی کہ سیدھی اسکی بُنڈ پہ پڑ رہی تھی… لہذا میرے مطلب کی چیز مجھے نظر آنے لگی… میں دھیرے سے نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھا اور پھر اسکی بُنڈ کے قریب منه لے گیا … واہ کیا خوشبو تھی… مدھوش کن… یا شاید میرا وہم تھا… دراصل مجھے اسکی نازک سی بُنڈ پہ پیار ہی اتنا آ رہا تھا کہ مجھے اِس وقت وہ لگ بھی کسی گلاب کی طرح رہی تھی اور مہک بھی گلابوں والی آ رہی تھی… خیر ٹچ کرنے کی ہمت تو نا ہوئی مگر اٹھ کر لن باہر نکالا اور اسکی بُنڈ کے قریب لے گیا …تنا ہوا تگڑا لن اِس وقت میری سگی بہن کی بُنڈ سے ایک آدھ انچ کی دوری پہ تھا اور لن میں اتنی جان آئی ہوئی تھی کہ اِس سے پہلے ایسا جوش نہیں دیکھا میں نے … لگتا تھا باڈی کا سارا بلڈ لن کی طرف دوڑ رہا ہے … میں سوچنے لگا اگر ابھی جذبات کی یہ حالت ہے تو کبھی ٹچ کیا تو کیا ہوگا … میں اِس وقت ایک شورٹ ٹائپ نیکر میں تھا اور اوپر ٹی شرٹ … لن فل حال باہر نکلاپھنپھنا رہا تھا… ویسے اِمیجن کرو اس وقت اگر اسکی آنکھ کھل جاتی اور وہ مڑ کر مجھے اِس حالت میں دیکھتی تو کیا سوچتی… وہ بھائی جس کے ساتھ اسکا بچپن کھیلتے کھیلتے گزرا … بچپن میں اکٹھے سوۓ … جوان ہوئی تو کسی کے سامنے بغیر دوپٹے کے نہیں گئی سوائے بھائی کے … جس سے وہ عید پہ گلے لگ کے ملتی … جس پہ وہ ٹرسٹ کرتی تھی جس نے اسے خود اپنے ھاتھوں سے ڈولی میں بٹھانا تھا اور جس کے لیے اس نے دلہن لانی تھی… وہ بھائی اِس وقت اپنا سودا نکالے اسکی گانڈ کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا ہے … یہ دیکھ کر اسے کتنا برا لگتا نا… خیر اسے جیسا بھی لگتا ایسے تگڑے لن کو اپنے اوپر عاشق ہوتے اور صدقے واری جاتے دیکھ کر اسکی چوت کی پھانکیں خوشی سے پھڑک اٹھتیں … . میں نے تھوڑی ہمت دکھائی اور اسکی قمیض پیچھے سے تھوڑی سی اوپر کردی… جتنی ہو سکتی تھی اتنی… زیادہ تو نہیں ہو سکی مگر اتنی ہوئی کہ شلوار سے کچھ اوپر کی کمر دکھنے لگی… . میرے لیے اتنا ہی کافی تھا… بس ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگا… وہ شلوار خاصی نیچے باندھتی تھی… انفیکٹ جہاں نیفا تھا کمر تو اس کے کافی اوپر ختم ہو گئی تھی… اور اسکی بُنڈ کا حصہ بھی شروع ہو گیا تھا ہاں مگر بُنڈ کا کریک نا صرف ڈھکا ہوا تھا بلکہ نیفااس سے اچھا خاصا اوپرتھا… دِل تو بہت کیا کہ اِس نظارے کے ساتھ ساتھ بُنڈ کو بھی لگے ھاتھوں چھو لوں مگر پھر سوچا نازک سی ہے کہیں چھونے سے ٹوٹ نا جائے یا پھر بغیر اِجازَت چھونے پر زندگی بھر کے لیے روٹھ نا جائے … . ویسے سچ پوچھو تو دِل میں تو یہ ڈر تھا کہ حمائل کی آنکھ کھل گئی تو یہی لن موڑ کر میری گانڈ میں دے دے گی … خیر میں نے اتنے ہی پر اکتفا کیا اور سامنے سے ٹشو پیپرز نکا ل کر لن کے منه پر لگائے اور لگا مٹھ مارنے … . بھائی جب چھوٹا تو بڑی مشکل سے خود پر قابو کیا کیوں کہ بس نہیں چل رہا تھا کہ حمائل سے چپک جاؤں … ایک بات جو میں نے پہلے بھی نوٹ کی اور اب کی بار بھی وہ یہ کہ مٹھ تو پہلے بھی مارتا تھا مگر جب سے بہن کے نام کی مارنے لگا ہوں نا صرف مقدار میں زیادہ نکلتی ہے بلکہ مزہ بھی بے تحاشا ہوتا ہے … اور لن کا جوش بھی قابل دید … کبھی بہن کے رشتے کو اِس نظر سے دیکھا نہیں لہذا اِس رشتے میں چھپی خوشیوں کا اندازہ نہیں تھا… . میرے جو ریڈرز یہ حرکت کر چکے ہیں وہ اچھی طرح میری فیلنگز کو سمجھ سکتے ہیں … مٹھ مارنے کے بَعْد حمائل کی بُنڈ اور کمر پہ ایک پیار بھری نظر ڈالی اور واپس اپنے روم میں آ گیا … اگلے دن دوپہر کوحمائل جب میرے روم میں كھانا دینے آئی ( شلوار قمیضاور بغیر دوپٹے کے ) تو کہنے لگی بھیا آپ سے ایک چھوٹا سا کام ہے کر دو گے پلیز میں ( دِل میں ) : ہائے کیا میری پیاری بہنا کو سیل تڑوا نی ہے یا ممے چوسوانے ہیں یا بُنڈ کو بخار ہو گیا ہے اور بھائی کے تھرما میٹر کی ضرورت پڑ گئی ہے … میں : ہاں بولو کیا بات ہے حمائل : وہ دراصل مجھے کل یونیورسٹی جانا ہے ایک کام ہے چھوٹا سا… وہ نشا اور حنا بھی ساتھ چلیں گی آپ پلیز گاڑی پہ لے جانا اور واپس بھی لے آنا پلیز ( یہ پلیز اس نے ایک ریکویسٹ والی سمائل کے ساتھ کہا جس کے نتیجے میں اسکا فیس اتنا کیوٹ لگا کہ دیکھنے والی کی بے اختیار چومی نکل جائے ) میں نے بھی ہونٹوں سے لائٹ سی کس کی آواز نکا لتے ہوۓ کہا ہاں شیور بس صبح جگا دینا جب جانا ہو … وہ بولی شکریہ بھیا آپ بہت اچھے ہو اور یہ کہتی ہوئی دوڑ گئی … اس کے دوڑنے کی وجہ سے اس کے ممے چھلک اٹھے … بُنڈ تھر ک گئی اور یہاں میرا لن مچل گیا … . رات ہوئی تو پھر دِل کیا کہ کل والی حرکت ہو جائے … ویسے بھی رات کے ١:٣٠ بج رہے تھے حمائل کو سوئے ہوۓ کافی ٹائم ہو گیا تھا… میں چونکہ رات بھر پورن دیکھتا تھا دیسی انسیسٹ اسٹوریز پڑھتا تھا اور عورت کو کیسے پٹایا جائے اس پہ سرچ کرتا رہتا تھا اِس لیے میری روٹین تھی رات دیر تک جاگنا … خیر میں اٹھا لیپ ٹاپ سے اور سیدھا حمائل کے روم میں … وہ آج پھر اسی اسٹائل میں سوئی ہوئی تھی اور روشنی کا بھی وہی سین تھا… یعنی ایک اور جاندار مٹھ ویٹ کر رہی تھی میرا… میں قریب گیا کنفرم کیا کہ وہ گہری نیند میں ہے … اور پھر اسکی بُنڈ سے قمیض اٹھا دی… آج سین تھوڑا سا مختلف اور دلچسپ تھا دراصل اس نے پہنا تو لاسٹک ہوا تھا… سوتے میں کہیں شلوار کو کھچاؤ لگا اور وہ ایک سائڈ سے تھوڑا نیچے ہو گئی … یعنی وہ رائٹ کروٹ لیے ہوئی تھی لیفٹ بمپ اوپر کو تھا رائٹ نیچے کو اور شلوار رائٹ بمپ پہ سرک کر تھوڑا نیچے ہوگئی تھی… جس جگہ سے ہٹی تھی وہاں لاسٹک نے لائٹ ریڈ سا نشان بنا دیا تھا جو دودھ جیسے گورے بدن کی نزاکت کا گواہ تھا… اب بات یہ ہے کہ شلوار کتنا نیچے ہوئی تو فرینڈز سچویشن یہ تھی کہ لیفٹ بمپ فل کورڈ اینڈ رائٹ والا ہالف کورڈ . . اور دونوں کے درمیان پارٹیشن لائن کا ابتدائی سِرا تھوڑا سا دِکھ رہا تھا… یوں تو مٹھ کے لیے اتنا کافی تھا مگر مجھ سے رہا نا گیا اور میں نے رائٹ ہینڈ میں لن پکڑا لیفٹ سے ذرا سا شلوار کو اپنی طرف کھینچا تا کہ اندر جھانک سکوں … اتنے میں حمائل کی باڈی موو ہوئی میں نے فوراً شلوار کو چھوڑا اور خود جلدی سے بیڈ کے نیچے گھس گیا … شلوار اچانک چھوڑنے کی وجہ سے ذرا زور کی اسکی باڈی سے ٹکرائی لہذا وہ جاگ کر بیٹھ گئی … میں نیچے لیٹا سوچنے لگا کیسی کتے کی نیند سوتی ہے شلوار کھینچنے سے پیٹ پہ ہلکا سا کھچاؤ پڑا ھوگا اور یہ جاگ بیٹھی … خیر میں نے بھی تو چول ماری تھی باڈی موو ہونے کا مطلب یہ تونہیں کہ وہ جاگی ہو شلوار کے زور سے لگنے سے بھی تو آنکھ کھل سکتی ہے … خیر جو بھی ہوا جان بچی سو لاکھوںپائے … اب دوبارہ سوئے تو میں نکلوں یہاں سے اچانک خوف کا جھٹکا لگنے کی وجہ سے لن جھاگ کی طرح بیٹھ گیا تھا میں نیچے لیٹا ویٹ کر رہا تھا کہ کب وہ سوتی ہے مگر وہ شاید ڈر گئی تھی… اٹھی کمرے کی لائٹ جلائی اور اپنا بستر جھاڑا پھر گئی روم کا ڈ ور اندر سے لوک کیا اور واشروم چلی گئی … واپس آئی اور لائٹ آ ف کر کے سو گئی … لو گو پھنس گیا میں تو اب روم کا ڈ ور اندر سے لوکڈ تھا اور میں اس کے بستر کے نیچے … اب سالا نکلوں توکیسے … دروازہ کھول کر جاتا ہوں تو اسے صبح یقین ہو جائے گاکہ کوئی اور بھی روم میں تھا…یعنی ساری رات یہاں ہی گزرنی پڑے گی … سالا سو بھی نہیں سکتا … ایک تو نیند آئے گی نہیں سخت فرش پہ دوسرا آ بھی گئی تو صبح حمائل پہلے نا جاگ جائے بھائی کو اپنے بستر کے نیچے لیٹا دیکھے گی تو فوراً پُھدی پہ ہاتھ رکھ کر چیخ پڑے گی …چلو خیر جو تقدیر کو منظور یہاں پہ لیٹو اب تو… اب میں لیٹے لیٹے سوچنے لگا… بھائی جو بھی ہوا منظر تو کمال کا دیکھا کاش اپنے ھاتھوں کی لکیروں میں بھی ایک لکیر اسکی بُنڈ کی لکیر لینے کی ہو… کاش… صبح ہوئی تو اسکا الارم بجا . . میں تو جاگ ہی رہا تھا وہ بھی جاگ گئی … میری تھکن کا یہ عالم تھا کہ دِل کیا بیڈ کے نیچے سے نکل کر اسے کہوں کہ بہن میری جوتھپڑ مارنے ہیں ما ر لو مجھے اِجازَت دو میں اپنے روم میں جا کر سو جاؤں … لیکن یہ کہنے کی بھی ہمت نا تھی… پھر آج تو مجھے اس کے ساتھ اسکی یونیورسٹی بھی جانا تھا… یعنی ساری نیند غارت … وہ جاگی اور سیدھا واشروم میں گُھس گئی کچھ دیر بَعْد واشروم میں شاور چلنے کی آواز آئی … واشروم کا ڈور اوپن تھا مگر مجھ میں ہمت نا تھی کہ بیڈ کے نیچے سے سر نکا ل کر دیکھتا لہذا بس پانی گرنے کی آواز سن کر تصور کرنے لگا… وہاں لن بھی ہلکا پھلکا سر اٹھا رہا تھا… اتنے میں وہ واشروم سے باہر آئی اور آ کر بیڈ کی سائڈ پہ کھڑی ہو گئی اسکا فیس ڈریسنگ ٹیبل کے مرر کی طرف تھا میں بیڈ کے نیچے تھا اور بیڈ پہ پڑی چادر کی جھالر سائڈ پہ لٹک رہی تھی جو بیڈ اور زمین کے ہالف فاصلے کو کور کیے ہوۓتھی… میں بھی تھوڑا پیچھے کو سرک گیا تا کہ ان کیس اسکی نیچے کو نظر بھی پڑے تو شک نا ہو… مجھے اِس وقت نیچے سے اسکی ہالف سے کم پنڈلیاں نظر آ رہی تھیں جو کہ ننگی تھیں … واہ میری سگی بہن اِس کمرے میں ننگی کھڑی تھی اور میں اس کا عاشق دیکھنے سے محروم تھا… آہ … اتنے میں اس کے پیروں پر ٹاول آ کر گرا یعنی وہ اب تک ٹاول میں تھی اور اب بالکل ننگی کھڑی تھی… وہ الماری کی طرف بڑھی اور اس میں سے ایک ڈریس نکل کر بیڈ پر پھینکا… یہ ریڈ کلر کی شلوار قمیض تھی… شلوار اور قمیض دونوں کا آخری سِرا بیڈ سے زمین تک ایریا کو ٹچ کر رہا تھا… اس نے الماری سے کچھ اور بھی نکالا . . شاید انڈر گارمنٹس … اتنے میں اس کے فون کی بیل بجی… اس نے فون اٹھایا… حمائل (فون پہ ) : ہاں بول ماموں کیسا ہے تو… جاگ گیا کیا… ہاں میں ابھی نہا کے نکلی ہوں … جی بالکل ننگی ہوں ابھی کچھ بھی نہیں پہنا… کہو تو یونہی آ جاؤں آج… ہاہاہاہا … نہیں بھائی مجھے کوئی شوق نہیں لوگوں کو ہارٹ اٹیک کروانے کا ویسے بھی بھائی کے ساتھ جانا ہے ننگا دیکھے گا تو جان سے ما ر ڈالے گا … شٹ اپ بھائی ہے وہ میرا وہ کیوں مارنے لگا اپنی بہن کی… اچھا میں ابھی نشا کو کال کرتی ہوں بائے … اوہ تیری خیر .. دِل کیا ابھی باہر نکل کر کہوں کہ باجی یہ فون پہ جو کوئی بھی تھا ٹھیک کہہ رہا تھا آپ کا بھائی واقعی آپکی ما رنا چاہتا ہے … اور ڈونٹ وری جان سے تو نہیں ماروں گا آپ کو مگر پوری جان لگا کر ضرور ماروں گا آپکی… اور یہ ماموں کون تھا کس سے بات کر رہی تھی یہ اور پھر یہ زبان … اِس نے مُنا بھائی کا لن کب سے چوسا جو اسکی زبان بول رہی ہے …خیر کر تو یہ اِس وقت بہت کچھ ایسا رہی ہے جو کبھی ہمارے سامنے نہیں کیا نا ایسی زبان بولی نا کبھی نہا کے ننگی سب کے سامنے آئی … اتنے میں اس نے اسی حالت میں کال کی… مجھے اِس بات کا آئیڈیا اسکی سیلف ٹاک سے ہوا وہ مسلسل کہہ رہی تھی… کم آن پک اٹ اپ ابھی تک سو رہی ہےتو… خیر اس نے فون رکھا اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے تیار ہونے لگی شاید ننگی … میرا مطلب شلوار قمیض یا پینٹی تو نہیں پہنی تھی اس نے پہنتی تو مجھے پتہ چل جاتا… برا شاید پہن رکھا ہواتنے میں اسکی دونوں بالیاں نیچے گر گئیں ایک ایک طرف دوسری دوسری طرف وہ فوراً بولی… یہ کیا … اور پھر بالیاں اٹھانے کے لیے نیچےبیٹھی … مر جاؤں گڑ کھا کے … مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نا آیا یوں لگا جیسے کوئی خواب دیکھ رہا ہوں سچ میں مجھے یقین کرنے کے لیے اپنی آنکھیں ایک بار ملنا پڑیں … وہ اِس وقت ننگی یوں بیٹھی تھی جیسے انڈین سیٹ پہ ٹوائلٹ کرنے کے لیے بیٹھتی ہیں … بُنڈ میری طرف تھی اور نظارہ کتنا حَسِین تھا یہ تو شاید الفاظ میں بیان ہی نہیں ہو سکتا اسکی سونے جیسی چمکتی سفید اور سنہری رنگ کی راؤنڈ شیپ والی چکناہٹ سے بھرپور بُنڈ میری طرف تھی اور یوں بیٹھنے کی وجہ سے تھوڑی کھل بھی گئی تھی…پیچھے سے اسکی بُنڈ کے چوتڑوں میں سے اسکی پنک پُھدی کے لپس بھی دِکھ رہے تھے … میرا لن بھی فل کھڑا ہو کر سلامی دے رہا تھا میں کھسک کر تھوڑا اسکی جانب ہوا اتنے میں وہ مڑی دوسرا جھمکا اٹھانے کے لئے … اب پنک پُھدی سامنے تھی جس کے لپس مجھے کچھ سوجے ہوۓ سے لگے … ایک صحتمند چوت کی نشانی … ایسی چوت جو لن کو یوں جکڑتی ہے جیسے انڈین کبڈی ٹیم کے جاپھی مخالف ٹیم کےرائڈرز کو… اس نے جھمکے اٹھائے ہی تھے کہ بیڈ پہ پڑا اسکا سیل بجا … وہ گھٹنوں پر چلتی ہوئی بیڈ تک آئی اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر ہی کال اٹینڈ کی… اب ذرا آپ خود سین کو تصور کریں جس بیڈ کے نیچے میں لیٹا تھا اور اسکی گانڈ دیکھنے کے لیے سرک کر کونے تک آگیا تھا بالکل بیڈ پہ پڑے اس کے کپڑوں کی آڑ میں وہ اسی بیڈ سے چپکی گھٹنوں کے بل بیٹھی بات کر رہی تھی… وہ بھی مکمل ننگی … لہذا اوپر کا دھڑ اسکا بیڈ پر جھکا ہوا اور نیچے ننگی ٹانگیں ، رانیں اور پُھدی اس کے سگے بھائی کے منہ سے تقریباً آدھا فٹ دور… میں اسکی رانوں کو اور پُھدی کو محو حیرت دیکھتا رہا اور لبوں سے فلائنگ کس کے نظرانے بھیجتا رہا … . وہ کچھ یوں بات کر رہی تھی… کیا رے کہاں مروا رہی تھی کتنی بیلیں گئیں تو نے جواب نہیں دیا… کیا کہا تو اِس وقت جھانٹوں کے بل صاف کر رہی تھی… مانا بابا چھٹیوں میں کہیں جانا نہیں ہوتا لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ صفائی کا خیال نا رکھو ( دِل تو چاہا کہ بات اور لمبی ہو اور لمبی ہوئی بھی مگر اس نے وہاں مزید بیٹھنا گوارہ نا کیا اور اٹھ کر ڈریسنگ ٹیبل پہ چلی گئی ) … میں تو ہر تیسرے دن صاف کرتی ہوں اچھی طرح سے … ہاں تم یہی سمجھ لو اپنے راج کمار کے انتظار میں ہی سنوا رتی رہتی ہوں اِسے ویسے بھی وہ کیا ایس ایم ایس سنایا تھا تم نے کہ قسمت اور پھدی کسی وقت بھی کھل سکتی ہے … ہا ہا ہا ہا ہا…ہاں ہاں پتہ ہے لطیفے میں چوت کالفظ تھا لیکن ہم نے تو اپنا کوڈ ورڈ ہی بولنا ہےنا… اچھا جلدی سے تیار ہوجا حنا سے بات ہوگئی ہے میری ( اچھا تو وہ ماموں حنا تھی ) … چل او کے رکھتی ہوں بائے … آپ فرینڈز سوچ رہے ہو گے کہ کیوں نا ایک بار اپنی اپنی بہن کی پرائیویسی میں ٹانگ اڑائی جائے بھائی میں تو صرف رائٹر ہوں میرا کام کچھ تجویز کرنا نہیں اور یہ بات کہانی کے اسٹارٹ میں بھی ہو چکی ہے کہ یہ کہانی صرف تفریح کے لئے ہے لھذا بہتر ھوگا اپنے جذبات کو کمپیوٹر اسکرین سےاٹھنےسے پہلے ٹھنڈا کر لیں …ہاں مگر یہ سچ ہے کہ آپ اگر کسی سادہ ، شریف اور گھریلو لڑکی کی پرسنل لائف کی ایک جھلک بھی لے لیں تو کافی انٹرسٹنگ تجربہ ہوتا ہے کیوں کہ یہ لڑکیاں اپنی تنہائی میں اس کے بالکل برعکس ہوتی ہیں جو یہ ریئل لائف میں نظر آتی ہیں جیسے میری ایک بار ایک لڑکی سے بات ہوئی یاہو پہ اس نے مجھے بتایا کہ وہ کافی مذہبی ہے پردہ بھی کرتی ہے کبھی خود لذتی بھی نہیں کی اور پورن بھی نہیں دیکھا لیکن جب بھی وہ اپنے روم میں اکیلی ہوتی ہے تو آئینے کے سامنے آدھی ننگی ہو کر انڈین فلموں کے سونگز پر ڈانس کرتی ہے اور فلمی ڈائلوگ بھی بولتی ہے جیسے کسی فلمی سین کو فلما رہی ہو… اس نے کہا کہ اپنی گرمی ختم کرنے کا یہ بہترین نسخہ ہے … لہذا اب سوچیں ذرا کہ اس کے بھائی کو اپنی بہن اِس حالت میں دیکھنے کو ملے تو اس کے لیے یہ کتنا بڑا سرپرائز ہو گا … اسی طرح حمائل کی یہ باتیں سن کر مجھے خوب مزہ آنے لگا اور ان باتوں نے اور ان جلووں نے ساری تھکن غائب کر دی… . وہ اتنے میں کپڑے پہن چکی تھی اور پھر دروازہ کھول کر میرے روم کی طرف چل دی مجھے جگانے کے لئے … میں جھٹ سے بیڈ کے نیچے سے نکلا اور سیدھا کچن میں چلا گیا … کچن سے یوں باہر نکلا جیسے ابھی ابھی جاگا ہوں اور کچن میں پانی پینے گیا ہوں … . مجھے دیکھ کر وہ بولی بھیا جلدی سے جینز شرٹ پہن لو پھر چلتے ہیں … میں نے جینز اور ٹی شرٹ پہنی منه ہاتھ دھویا اور چل دیا اس کے ساتھ … رستے میں نشا کو بھی پک کیا اور حنا کو بھی … سارے رستے کوئی خاص بات نہیں کی میں نے … بس وہ دوستیں آپس میں کھسر پھسر کر رہی تھیں … اور ہنس رہی تھیں …حمائل آگے بیٹھی تھی ایک موقع پر حمائل بولی… حنا آج ہماری اِس ڈفر دوست کی دلچسپ بات پتہ چلی ہے بَعْد میں بتاؤں گی … نشا فوراً بولی کون سی وہ جھانٹوں والی ؟ . . . . حمائل اور حنا دونوں کو جھٹکا لگا… حمائل نے پیچھے مڑ کر اسے آنکھیں دکھائیں اور حنا بولی او کے بَعْد میں بات کرتے ہیں … نشا واقعی ڈفر تھی یا ذرا شوخی کہہ لو آپ… فوراً بولی… تو اِس میں کیا ہے کونسا جوئیں پڑ گئی تھیں ویسے بھی میرے بال کافی دنوں بَعْد آتے ہیں تمھاری طرح نہیں کہ جھاڑیاں اُگ آئیں دوسرے دن ہی … حنا اس کے منه پہ ہاتھ رکھ کر آہستہ سےبولی… یار کوئی جگہ ہی دیکھ لیا کرو… چھوڑو کسی اور موضوع پہ بات کرتے ہیں … ہم یونیورسٹی پوھنچے حمائل کی یونیورسٹی صرف لڑکیوں کے لیےتھی… وہ اندر چلی گئی … مجھے اپنی بہن سب میں بہت حَسِین دِکھ رہی تھی اور ہوٹ اور سیکسی بھی … اور یہ بات کافی حد تک سچ بھی ہے کہ شاید سب کی نظر میں وہ ابووغیرہ کی نظر میں بہت خوبصورت تھی… . میں تھکن کا مارا گاڑی میں بیٹھا اونگھنے لگا… تقریباً ایک گھنٹے بَعْد حمائل نے کوئل جیسی آواز میں میرا نام لے کر جگایا اسکا ایک ہاتھ میرے کندھے پہ بھی تھا… میں جاگا اور پھر واپس گھر کو ڈرائیو شروع کردی… نشا اور حنا کو بھی ان کے گھروں میں ڈرا پ کر دیا… واپسی پہ ایک جو انٹرسٹنگ بات پتہ چلی وہ یہ کہ حمائل کے مطابق اِس ہفتے کے آخر پہ امی ابو دونوں شہر سے باہر ہوں گے اور وہ تینوں دوستیں ہفتے کی رات ہمارے گھر پارٹی کر کےگزاریں گی … . میرا دِل خوشی سےجھومنے لگا یعنی میں پھر بیڈ کے نیچے … اس رات میں دوبارہ حمائل کے بیڈ کے نیچے لیٹ گیا مگر اس رات اس نے کوئی حرکت نا کی… بس بیڈ پہ بیٹھ کر کوئی بُک پڑھی کوئی ڈرامہ دیکھا اور سو گئی … میں بھی نکل کر اپنے روم میں آیا اور ریلائیز کیا کہ وہ جب اکیلی ہوتی ہے تو کافی بورنگ لائف اسپینڈ کرتی ہے اِس لیے کوئی خاص فائدہ نہیں ہر رات اس کے روم میں گزا رنے کااگلے دو دن یونہی گزرے … میں دن رات انسیسٹ اسٹوریز اور پورن پہ گزارا کرتا رہا … اور پھر ہفتے کی رات یعنی پارٹی نائٹ آ گئی … امی ابو تو صبح کے ہی نکل گئے تھے میں شام کو حمائل کے پاس گیا اورکہا … آج مجھے دوست کی طرف جانا ہے رات بھر ویڈیو گیمز کھیلنے کا پروگرام ہے لہذا صبح آؤں گا تم اکیلی رہ سکتی ہو… اگر نہیں تو میں نہیں جاتا… وہ جھٹ سے خوش ہوتے ہوۓبولی… . نہیں بھیا آپ چلے جائیں ویسے بھی میں اکیلی نہیں ہوں گی حنا اور نشا آج رات میری طرف آئیں گی پوری رات کے لیے لہذا آپ پریشان نہیں ہوں … میں او کے کہہ کر گھر سے نکل پڑا اور اسے کہا کہ یاد سے دروازہ لوک کرلے… باہر ذرا واک کی ایک سگریٹ پھونکی اور واپس دیوار پھلانگ کر گھر میں اینٹر ہوا اور اپنے روم کی کھڑکی سے کہ جسے میں کھلا چھوڑ گیا تھا گھر کے اندرآ گیا … . گھر کے اندر آ کر اپنے روم سے چپکے سے باہر نکلا اور حمائل کے روم کے ساتھ سیڑھیوں کے نیچے جہاں اندھیرا تھا وہاں جا کر بیٹھ گیا … اتنے میں حمائل اپنے روم سے نکلی اور کچن کی طرف گئی … وہ اِس وقت اپنی تنہائی کو خوب انجوئے کر رہی تھی اور ایک پنک کلر کی چھوٹی سی چڈی اور وائٹ ٹی شرٹ میں تھی چڈی نے اس کی آدھی رانوں کو ڈھانپا ہوا تھا اور شرٹ ڈھیلی ڈھالی سی تھی… اسے کچن کی طرف جاتے پیچھے سے دیکھا تو دِل کیا کہ جنگلی بکرے کی طرح پیچھے سے جا کر اس سے لگ جاؤں اور ان گوری رانوں اور موٹے چوتڑوں میں گھسے ما رتا رہوں اور چودتا رہوں مرتا رہوں اور چودتا رہوں … کچن میں وہ کچھ پارٹی کا سامان تیار کر رہی تھی لہذا یہی موقع تھا اس کے روم میں اینٹر ہونے کا میں سیدھا اس کے بیڈ کے نیچے گُھس گیا … میں نے بلیک ڈریس پہنا تھا تا کہ بیڈ کے نیچے نظر پڑے بھی تو میں آسانی سے نا دِکھ سکوں … اتنے میں حمائل میری جان میری پیاری بہن روم میں آئی اور سیدھا واش روم میں گُھس گئی دروازہ کھلا رکھا اس نے … اِس لمحے مجھے احساس ہوا کہ یہاں نیچے لیٹے رہنے سے میں ان دوستوں کی باتیں تو سن سکوں گا مگر کوئی نظارہ نہیں دیکھ سکوں گا … سو یہاں لیٹنا فائدہ مند نہیں ہے لہذا کوئی بھی چکر چلایا جائے … کوئی اور جگہ ڈھونڈی جائے لیکن کم از کم یہ نہیں … لہذا جب حمائل ٹوائلٹ سے نکل کر کچن میں گئی تو میں باہر نکلا اور روم سے باہر نکل کر سیڑھیوں کے نیچے بیٹھ گیا جہاں گھپ اندھیرا چھایا ہوا تھا اور کسی کی موجودگی کا بالکل علم نہیں ہوتاتھا… میں وہاں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ کونسی پوزیشن لوں کہ اتنے میں بیڈروم میں پڑاحمائل کا فون بجنے لگا وہ دوڑتی ہوئی آئی … اسے چھوٹی سی چڈی میں دوڑتا دیکھ کر دِل لڈیاں ڈالنے لگا پھر اسکی لوز شرٹ میں اس کے ممے بھی جھوم رہے تھے اور اس کے دوڑنے کی وجہ سے ایک دوسرے سے بری طرح ٹکرا کر دودھ کی لسی بننے لگی … وہ روم میں گئی اسکی آواز آئی … او کے اوکے کھولتی ہوں گیٹ ذرا انتظار کرنا بس آئی … پھر وہ ذرا دیر بَعْد روم سے باہر نکلی تو اس نے شلوار پہنی ہوئی تھی اور اوپر ایک بڑی سی چادر لپیٹی تھی جس نے فل باڈی کو ڈھانپ دیا تھا… فرینڈز یہ ہماری بہنوں کا مشرقی پن ہے جو کوئی ببھی ان سے چھین نہیں سکتا … یعنی جتنی مرضی مستی چڑھی ہو صرف اِس لیے کہ کہیں باہر چڈی اور شرٹ میں نکلنے پر کوئی اپنے گھر کی چھت سے نا دیکھ لے یا سڑک پہ چلتے کسی آدمی کو جھلک نا دِکھ جائے حمائل نے اپنے آپ کو خوب پردوں میں لپیٹ لیا… اس کے باہر جانے پر میں نے ادھر اُدھر نظردوڑائی تو مجھے ایک کام کی جگہ مل گئی جو بالکل میرے مقصد کے عین مطابق تھی… حمائل کا کمرہ سیڑھیوں کے ساتھ والا تھا اور اِس میں ایک روشن دان بھی تھا اوپر کرکے … اس روشن دان پہ شیشہ تو لگا ہوا تھا لیکن اِس وقت وہ اوپن تھا اور وہاں تک ہاتھ بھی کسی کا نہیں جاتا لہذا اوپن ہی رہتا تھا… مگر اِس روشندان کے نیچے باہر کی طرف یعنی سیڑھیوں والی سائڈ پہ کچھ سامان پڑاتھا… ایک پیٹی تھی کپڑوں سے بھری اس کے اوپر مزید رضایاں اورتکیےوغیرہ اور پھر ان سب پہ ایک بڑی چادر اور یہ سب کچھ اندھیرے میں … میں دوڑ کر اس سامان پر چڑھ گیا اور وہ چادر اوپر یوں لی کہ میں بھی سامان کا حصہ بن گیا … اب میں نے اندر روم میں جھانکا … روم میں جس دیوار پہ روشندان تھا اس کے بالکل نیچے کے ایر یے کے سوا سب دِکھ رہا تھا یعنی حمائل کے پی سی کے علاوہ روم کا ہر کونا دِکھ رہا تھا… الماری بھی ڈریسنگ ٹیبل اور واشروم کا ڈور بھی بیڈبھی …ہر چیز … لہذا یہ بہترین جگہ تھی …تھوڑی ہی دیر میں تینوں دوستیں ہنسی مذاق کرتی روم میں اینٹر ہوئیں … حمائل نے آتے ہی شلوار اُتَا ر دی اور چادر بھی سائڈ پہ پھینک دی وہ اپنے اسی ڈریس میں تھی شرٹ اور پینٹی میں … اسکی دونوں دوستوں نے بھی دوپٹے سائڈ پہ پھینکے اورقمیض اتا رنےلگیں … حنا نے ابھی قمیض آدھی ہی اوپر کو اُٹھائی تھی کہ حمائل سےبولی… یار یہ ڈور تو بند کردو تمھارا بھائی آگیا تو ؟ . . . حمائل بولی… ڈونٹ وری یار وہ گھر پہ نہیں ہے اور رات بھر نہیں آئے گا … حنا نے یہ سنتے ہی قمیض اُتَا ر دی وہ وائٹ برا میں تھی اور بلو شلوار میں … نشا بھی سرخ رنگ کی قمیض اُتا َر چکی تھی اسکا برا بھی سرخ تھا… وہ حمائل کی طرف دیکھ کر شوخی ہو کر کسی پرانی مووی کی ہیروئن کی طرح گہری گہری سانسیں لیتی ہوئی بولی… کیا کہا تم نے وہ گھر پہ نہیں ہے …یہ کہتے ہی اس نے شلوار نیچے کو کھینچی اور دوسری طرف منه کر کے بُنڈ باہر کو نکا ل کربولی… . دِل توڑ دیا تو نے میرا… تب میں نے نوٹ کیا کہ اس نے بھی ویسی ہی پنک پینٹی پہنی ہوئی ہے جس کی بیک پہ ایک بڑا سا ہارٹ بنا ہے جو آدھا ایک بمپ پہ اور آدھا دوسرے پہ ہے … حمائل اور حنا دونوں ہنسنےلگیں … حمائل نے اسکی بُنڈ پہ چماٹ مار کرکہا … دِل کا تو نہیں پتا ہاں مگر تیری پسلی توڑ ڈالوں گی میں … نشا فلمی اندازِ میں ہی بولی… اسے توڑنے کے لیے جو ڈنڈا چاہیے وہ تمہارے پاس نہیں … . حنا بولی… مل جائے گا جان من ایک نا ایک دن مل جائے گا خود تیرے والدین انتظام کر دیں گے لیکن جب ملے نا تو سچی اسے یہ پیچھے کا را ستہ مت دکھانا … نشا بولی… وہ تو وقت ہی بتائے گا … حمائل بولی… اچھا بابا شرٹس تو پہن لو تم دونوں . تب میں نے اسکی فرینڈز کے جسم پر غور کیا… سچ پوچھو تو کچھ خاص نہیں تھیں …آدھی ننگی لڑکی دیکھ کر مزہ تو آیا مگر میری بہن کے مقابلے کی نہیں تھیں … انہوں نے شوپر سے وائٹ ٹی شرٹس نکالیں ویسی ہی جیسی حمائل نے پہنی تھی… ان تینوں کی شرٹس پر مموں کی جگہ تصویریں بنی ہوئی تھیں کمرے میں پنکھا بند تھا اور اسپلٹ اے سی چل رہا تھا لہذا آواز مجھ تک آسانی سے پہنچ رہی تھی کچھ وہ بھی بے فکری سے بول رہی تھیں کیوں کہ ان کے خیال میں وہ گھر پہ اکیلی تھیں . . . حنا : اب کیا سین ہے نشا : پلو فائٹ ! ! ! ! میں ( دِل میں ) : یس پلیز پلیز پلیز پلو فائٹ … یاہو حمائل : نہیں یار پہلےکھانا … پھر فائٹ سے ہضم ہو جائے گا … حنا : یار کھانے سے پہلے ڈانس ہو جائے … حمائل اور نشا : ہاں یہ فٹ رہے گا میں نے فوراً جیب سے اپنا آئی فون نکالا تا کہ ان یادگار لمحات کو قید کر سکوں … پہلے تینوں نے “جسٹ چل چل” پہ ڈانس کیا پھر نشا نے “منی بدنام ہوئی ” اور حنا نے “شیلاکی جوانی” اب میری شہزادی کی باری تھی… حمائل نے ڈیسائیڈ کیا کہ وہ “انار کلی ڈسکو چلی” پہ ڈانس کرے گی . . اس نے اپنی شلوار پہنی اسی پینٹی کے اوپر پھر اپنی شرٹ اُتَا ر دی… واہ وہ نیچے ایک دم ننگی تھی … وائٹ کلر کے تگڑے صحت مند ممے سر اٹھائے کھڑے تھے … آپ یقین نہیں کریں گے اس کے دودھ ذرا بھی لٹکے نا تھے بالکل کھڑے ہوۓسولڈ سے … یہ میری امی کا کمال تھا جو کہ کافی سوشل ہیں اور انہیں خوب آئیڈیا تھا کہ عورت کا اصل حسن کیا ہوتا ہے لہذا وہ حمائل کی ڈائٹ کا خوب خیال رکھتیں … فوڈ سپلیمینٹ بھی کھلاتیں اور جم بھی جوائن کرایا ہواتھا… حمائل کےتنے ہوۓممے اور 2 دن پہلے جو اسکی پھولی ہوئی چھوٹ اور راؤنڈ شیپڈ ٹائیٹ گانڈ دیکھی وہ امی کی محنتوں کا ہی نتیجہ تھی… محنت تو خیر امی نے خود پہ بھی کم نا کی تھی مگر ابھی میری فل توجہ حمائل پہ تھی… کوئی خوش نصیب ہی ھوگا جو ان مموں کو چوسے گا … خیر اس نے نشا کو کہا کہ برا پہنائے … . میں یہ سب سین ریکارڈ کر رہا تھا… خاص طور پر جب وہ برا پہن رہی تھی تو اس کے چہرے پر کمال کی معصومیت تھی اور مجھے ڈھیر سارا پیار آ رہا تھا اس پر… اس کے مموں پر بھی اسکی آنکھوں پر بھی گالوں پر بھی بالوں پربھی … ہر چیز پہ … اس نے برا پہنا اور شلوار اور پینٹی دونوں تھوڑا نیچے کر دیں اور اِس حالت میں ناچنے لگی… حمائل نے جب دوسری طرف منه کر کے بُنڈ مٹکائی تو میں نے غور کیا کہ اس سیکس کی ملکہ کے بُت کے ڈمپلز جن کو ڈمپل آف وینس بھی کہتے ہیں وہ بھی پڑتے ہیں … ایک عورت کے سیکسی ہونے کی سب سے بڑی نشانی … . وہاں میری سگی بہن ناچ رہی تھی یہاں میرا لن بھنگڑے ڈال رہا تھا جسے میں نے ٹراؤزر سے باہر نکال دیا تھا… اسکا ڈانس ختم ہوا تو اسے سانس چڑھ چکا تھا… چہرہ بلش تھا اسکا حسن نکھر رہا تھا… سانس چھڑھنے کی وجہ سے ممّے اوپر نیچے ہو رہے تھی… شکر ہے برا میں قید تھے ورنہ ایک بار اور ننگے دیکھنے کو ملتے تو شاید آج یہ بھائی اپنی سگی بہن کے سودوں کے حسن کی تاب نا لاتے ہوۓ چل بستا… حمائل نے شرٹ پہنی اور تینوں کچن کو چل دیں … وہاں سے سنیکس وغیرہ اور کھانے پینے کا دوسرا اسٹف لیا اور مزے لے لے کر کھانےلگیں … میرا بھی جی للچانے لگا مگر مجھے اِس وقت جسم کی بھوک کا سامان زیادہ پیارا تھا لہذا میں نے اپنے آپ کو کٹرول کیا … کھانے کے بَعْد تینوں بستر پہ لیٹ گئیں … نشا نے کہا … یار وہ پلو فائٹ کا کیا کرنا ہے … حمائل بولی… نہیں بھائی کھا کر کچھ نہیں ہوتا اب صرف چیٹ کرتے ہیں …… حنا حمائل سے بولی… ویسے یار اچھا کیا جو چادر بھی لے لی اور شلوار بھی چڑھا لی تم نے ورنہ تو اگر اِس حالت میں دروازے پہ آتی تو میرے ڈرائیور کی تو بس ہوجانی تھی… نشا بولی ہاں واقعی گرم ہوجاتا لیکن تمہیں پتا ہے حنا پروبلم تمہیں ہی ھونا تھا کیوں کہ گرم جسے بھی دیکھ کر ہو گرمی اتارنی تو اس نے اپنی چھوٹی با جی پہ ہی تھی نا… یہ کہہ کر وہ ہنستی ہوئی بولی… کیوں حمائل …حنا بولی : مجھ پہ کیوں گرمی اُتارے گا شادی شدہ ہے اپنی بیوی پہ اُتارے گا جیسے اتا رتا ہے ہمیشہ … یہ سن کر کمرے میں خاموشی چھا گئی اور نشا اور حمائل دونوں حنا کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنےلگیں … حمائل نے گلا صاف کرنے کی ایکٹنگ کی… مم مم … حنا نے ذرا اپنے الفاظ کو دوبارہ سوچا اور معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوۓ بولی : ارے بھائی میرا مطلب ہے کہ نکا لتا ہی ھوگا بیوی اور کس لیے ہوتی ہے … حمائل بولی… تمہیں پتا ہے بےبی تم ہمیں پاگل نہیں بنا سکتی … اپن کو چونا نہیں لگا سکتی تو کیا… حنا … وہ دراصل میں قسم کھاتی ہوں صرف ایک بار ایسا ہوا … ابو نے مجھے کہا کہ ڈرائیور انکل کو کہہ کر آؤ کہ کل ہمیں اسلام آباد جانا ہے لہذا صبح جلدی جاگ جائے … رات کا وقت تھا میں سرونٹ کوارٹر گئی ابھی ڈور نوک کرنے ہی لگی تھی کہ اندر سے آوازیں آئیں جیسے کوئی عورت کرا ہ رہی ہو اور اسی وقت تیز تیز سانس لے رہی ہو… بیچ میں مر گئی مر گئی کی آواز بھی آتی د بی ہوئی…سائڈ پہ کھڑکی تھی اور اسکا پردہ ہٹا ہوا تھا لہذا میں نے اندر دیکھا … یہ بول کر حنا ذرا چُپ ہوئی … نشا ایک دم سے اچھلی … وہ تینوں اِس طرح بیڈ پہ لیٹی تھیں کہ حمائل سینٹر میں حنا اس کی رائٹ سائڈ اور نشا لیفٹ سائڈ پہ … نشا اچھل کر حمائل کے اوپر لیٹ گئی اور حنا کے قریب ہوتے ہوۓبولی… ہائے بتاؤ نا اندر کیا ہو رہا تھا… حمائل فوراً بولی یہی جو تم میرے ساتھ کرنے جا رہی ہو یہی ہو رہا تھا… دراصل نشا حمائل کے اوپر یوں لیٹی تھی جیسے مشنری اسٹائل میں چودتے ہیں … نشا حمائل کی گال پہ چھوٹی سی کس کر کے بولی… ڈونٹ وری ڈیئر اِس کے ڈرائیور والے فنکشن مجھ میں نہیں ہیں … حمائل حنا سے بولی… اوئے تو بتا کیا چل رہا تھا اندر … حنا بولی… یار دراصل اسکی بیک تھی میری طرف اور وہ اور اسکی وائف اسی پوزیشن میں تھے جس میں تم دونوں ہو ابھی بس یہ فرق تھا کہ وہ بالکل ننگے تھے اور دوسرا اسکی وائف کی ٹانگیں اپنے ہسبنڈ کے کندھوں پرتھیں … دونوں کے پرائیویٹ پارٹس صاف دِکھ رہے تھے مجھے اور ہاشم چچا بری طرح سے دھکے مار رہے تھے … مجھے تو سب ظلم لگا اس بیچاری پر … . نشا جھٹ سے بولی… کیا کہا … ظلم … ارے بابا اسے ظلم نہیں پیار کہتے ہیں اچھا ایک بات تو بتا . . حنا : ہاں پوچھ … نشا… وہ ہاشم چچا کا کتنا بڑا تھا حمائل فوراً بولی… یہ کیا … نشا نے اسکا جملہ کمپلیٹ کیا. . بہن چود … تم ہمیشہ بہن چود کالفظ کھا کیوں جاتی ہو … حنا بولی… کام کی چیز اپنے لیے رکھ لیتی ہے حمائل ( مزاق اڑاتے ہوۓ ) … ہا ہا ..بہت مزاحیہ … پورا اِس لیے نہیں بولتی کیوں کہ میں تم لوگوں کی طرح بیہودہ نہیں اور تو یہ بتا نا (نشا کی طرف دیکھتے ہوۓ) یہ تجھے ہاشم چچا کا سائز جان کر کیا کرنا ہے . نشا… ویسے ہی … صرف معلومات کے لئے … حمائل … پلیز اپنے الفاظ پہ غور کیا کرو اب ہاشم چچا کا لو گی کیا… نشا… معاف کرو با با میں نے کہا نا کہ صرف معلومات کے لیے پوچھا ورنہ میرا سٹیمنا تو اِس سے کہیں زیادہ ہے . . حنا بولی… ہاں ہاں تم کروز کا لو گی تم تو… نشا… اچھا اس نے کبھی ریکویسٹ کی تو سوچیں گے … ویسے تمہیں پتا ہے حنا ہَم میں سے سب سے زیادہ گرم تو یہ ہے ( حمائل کی طرف اشارہ ) جو 14 سال کی عمر سے آئے روز خواب میں چدتی ہے … اور اسکی پھدی بھی بات بات پہ جوسز چھوڑتی ہے ابھی بھی چھوڑ رہی ہو گی … دکھاؤ ذرا … یہ کہتے ہی اس نے حمائل کی پینٹی نیچے کرنا چاہی جو حمائل نے فوراً سے پکڑ لی اور بولی… یہ کیا … حنا … ارے واقعی جان … خواب میں کون چودتا ہے تمہیں حمائل … . ہاں جیسے تمہارے ساتھ یہ سب نہیں ہوا کبھی … حنا … اچھا ہوا ہے لیکن بہت زیادہ بار نہیں … حمائل … ہاں تو تم لوگ بتاؤ نا کون کون لگ چکا ہے تمہیں … حنا … اچھا تمہیں پتا ہے یار یہ سب جو مائنڈ میں چل رہا ہو وہی خواب میں آتا ہے لہذا کبھی کسی فلم کا ہیرو کبھی کوئی ان نون کبھی کوئی کبھی کوئی… جیسے ایک بار میں نے ٹیلر کو دن کے وقت ناپ دیا . . وہ گھر ہی آتا ہے ہمارے … ناپ لیتے وقت اسکا ہاتھ لگا میرے سینے پہ … بس پھر رات کو میں نے خواب میں دیکھاکہ میں ننگی ہو کر اسے ناپ دے رہی ہوں … اور وہ ناپ لیتے لیتے میرے بریسٹس کو سک کرنے لگتا ہے بس پھر پورا جسم کانپ گیا میرا… چل اب تو بتا تیرے کیس میں کون ہوتا ہے … . حمائل … اچھا سچ پوچھو تو ہم ٹی وی کا ایسا کوئی ہیرو نہیں جو میرے خواب میں میرے ساتھ رنگ رلیاں نا منا چکا ہو… نشا… ہش شاباش … ویسے سچ پوچھ نا حمائل تو تو جتنی خوبصورت اور سیکسی ہے تو تو کئی مردوں کے خواب کی زینت بنتی ہوگی … حمائل … چل باتیں نا بنا اپنا بتا تجھے کون کون فک کر چکا ہے … نشا… خواب میں یا حقیقی زندگی میں … حمائل اور حنا … . کیا مطلب … نشا… کم آن مذاق کر رہی ہوں حقیقی زندگی میں تو کسی نے چھوا تک نہیں خواب میں سب چلتا رہتا ہے … جیسے ایک بار تم لوگ نہیں آئے تھے کالجتو مجھے عالیہ وغیرہ کے ساتھ جانا پڑا ٹیکسی پہ … لیکن ٹیکسی لینے کے لیے ہم یونیورسٹی کے پیچھے والے نالے کے ساتھ سے گزرے وہاں ایک آدمی پیشاب کر رہا تھا … اسکے اوزار کو قریب سے دیکھا میں نے لائک چند قدم کی دوری سے …کافی بڑا تھا اسکا … بس پھر خواب میں میں نے ایک ان نون آدمی کو ننگا دیکھا اس رات اور اسکا اپنے ہاتھ میں بھی پکڑا … اِس طرح چلتا رہتا ہے مگر بہت کم آتے ہیں ایسے خواب … ہاں ایک لٹل سیکریٹ ہے تھوڑا سیکسی سا… حمائل … بتاؤ بتاؤ … نشا… یار ایک بار میں نے ممی پاپا کو گارڈن میں رومینس کرتے دیکھا ٹیرِس سے … وہ والا رومینس نہیں جو اِس نے دیکھا اپنے ڈرائیور کو کرتے ہوۓوہ تو ہارڈ کور تھا نا یہ سوفٹ کور تھا … پاپا نے ممی کو پیچھے سے ہگ کیا ہوا تھا اور ان کے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر دو چا ر بار اوپر اٹھایاانہیں … ممی ہنس رہی تھیں … جب پاپا نے چھوڑا تو انکی شلوار میں تمبو بنا ہوا تھا…اسی رات میں نے خواب میں دیکھا کہ پاپا نے مجھے پیچھے سے ہگ کیا ہوا ہے اور مجھے خوب مزہ آ رہا ہے آنکھ کھلی تو پسینے بھی چھوٹ رہے تھے اور پھدی سے بھی رَس بہہ رہا تھا… حمائل … تمہیں پتا ہے نشا یہ سچ میں بہت سیکسی ہے … تم اپنے باپ کے بارے میں ایسا کیسے سوچ سکتی ہو… نشا… ارے بابا میں نے کیا سوچا وہ تو بس خواب تھا اب وہ لوگ جوان بیٹی کے سامنے ایسی حرکت کریں گے تو یہ تو ھوگا نا… اور اتنا اعتراض کر رہی ہو یہ تو پھر خواب تھا اپنا بتاؤ نا جو حقیقی زندگی میں اپنے باپ سے بھی بڑے بلکہ ایک بڈھے سے مزے لے چکی ہو جو ہم دونوں نے آج تک نہیں کیا… یہ سنتے ہی میرے رونگھٹے کھڑے ہو گئے … میری بہن نے کسی سے مزے لئے … اسکی جوانی کا رس چوسا کسی نے … مجھے خوب غصہ آنے لگا… بہن سے پیار اور اس پرٹھرک اپنی جگہ مگر بہرحال عزت ہے وہ ہماری یوں کیسے کسی اجنبی کے ساتھ افئیر چلا سکتی ہے وہ … وہ بھی بوڑھا … اتنے میں حمائل بولی… دیکھو ڈیئر میں نے کوئی مزے نہیں لیے پہلے بھی بتایا ہے تمہیں وہ بس ایک حادثہ تھا چھوٹا سا… . نشا… چلو حادثہ ہی سہی اور آپ کہتی ہیں تو چھوٹا سا ہی سہی مگر ذرا تازہ ہو جائے آج… اب آپ خود بیان کریں گی یا میں سناؤں … حمائل … نہیں آپ رہنےدیجیےآپ نے مسالے لگا لگا کر بتانا ہے میں ہی بتاتی ہوں جو ہوا تھا… نشا… ہاں مگر پورا سچ اور وہ بات بھی جو آپکا باڈی ری ایکشن تھا… حمائل … او کے بابا سب پتا ہے مگر پھر بھی سننا ہے … اچھا سنو ہوا کچھ یوں کہ لاسٹ ونٹر کی بات ہے … ویسے تو مجھے یا ڈرائیور چھوڑ آتا ہے یا بھیا . . کبھی پاپا کبھی ممی یا پھر میں خود گاڑی لے جاتی ہوں چھوٹی والی… لہذا یونیورسٹی کبھی بھی خود جانا نہیں ہوا … ایک دن بھیا مجھے یونیورسٹی چھوڑنے گیا واپسی پہ اسکا ایگزام تھا لہذا وہ تو نا آ سکتا امی کی کمٹ منٹ تھی کہ لینے آئیں گی لیکن انہیں اچانک کسی میٹنگ میں جانا پڑ گیا … گھر میں نا ڈرائیور نا پاپا… بس پھر امی نے کہا کہ یا تو کسی فرینڈ کو کہو کہ ڈراپ کر دے یا آج ٹیکسی پہ آ جاؤ … یونیورسٹی میں میری اور کوئی دوست تو ہے نہیں اور اس دن تم دونوں کمبخت بھی نہیں آئی تھیں اس لئے میں نے سوچا ٹیکسی ہی بیسٹ ہے … باہر نکلی تو کوئی ٹیکسی ہی نا آئی … ہماری کلاس میں شائستہ وغیرہ ہیں نا وہ 4 لڑکیوں کا گروپ وہ بھی کھڑی تھیں وہاں انہوں نے مجھے کہا آج کوئی ٹیکسی یونیورسٹی کے باہر نہیں ملے گی کیوں کہ سی این جی کی ہڑتال ہے پچھلے 3 دن سے اور پیٹرول پہ چونکہ وہ کرایہ زیادہ مانگتے ہیں جو اسٹوڈنٹ آفورڑ نہیں کر سکتے سو یونیورسٹی کے باہر تو ہرگز کوئی ٹیکسی نہیں ملے گی اور رکشے والوں نے تو ویسے بھی ہڑتال کی ہوئی ہے سی این جی کی لوڈ شیڈنگ پہ … ورنہ ہم نے بھی رکشہ لگوایا ہواہے … ایک ہی آپشن ہے یہ لوکل بسیں چلتی ہیں نا ہم انہی پہ جاتی ہیں اکثر تم بھی چلو… ایسا کرو ہمارے اسٹاپ تک بس پر چلو وہاں سے ٹیکسی آسانی سے مل جائے گی … مجھے آئیڈیا تو ٹھیک لگا کیوں کہ یونیورسٹی والے تو بس کارڈ کے سوا بس میں بیٹھنے ہی نہیں دیتے پھر کچھ دیر کی بات تھی پھر مجھے ٹیکسی مل جاتی… جب بس آ کر رکی تو میں تو رش دیکھ کر پریشان ہو گئی … مگر مرتی کیا نا کرتی ان چاروں کے ساتھ میں بھی بس میں گُھس گئی …میں خوب رش تھا آگے والا حصہ لیڈیز کا تھا پیچھے والا جینٹس کا مگر بیچ میں کوئی پارٹیشن نہیں   “ صرف لیڈیز کے لئے ” اس لئے کھڑے ہونے کی جگہ ملی … کنڈیکٹر وغیرہ نے کم از کم اتنا کیا ہوا تھا کہ نوجوانوں کی بجائے بزرگوں کو وہاں بٹھایا ہوا تھا کہ جہاں سے لیڈیز سیکشن ختم اور جینٹس شروع ہوتا تھا… میں اندر اینٹر ہوئی تو پیچھے اور لیڈیز بھی چڑھ آئیں … کنڈیکٹر بولا باجی آپ لوگ پیچھے ہوتی جائیں آج رش زیادہ ہے لہذا تھوڑا ایڈجسٹ کریں … بیٹھنے کی جگہ تو تھی نہیں لہذا کھڑے کھڑے دھکم پیل کی وجہ سے میں جینٹس سیکشن کے قریب پہنچ گئی منه میرا سامنے تھا بس کے فیس کی طرف … چونکہ یہ میرا پہلا سفر تھا کسی بھی لوکل بس کا اس لئے مجھے آئیڈیا نہیں تھا کہ اوپر لگی بار کو یا ہینڈل کو پکڑنا ہے … دراصل اتنی کامن سینس تو تھی لیکن اسی وقت چڑھی تھی پھر رش وغیرہ سو دھیان ہی نہیں گیا … جیسے ہی بس جھٹکے سے چلی میں تو دھڑام پیٹھ کے بل جا گرییہ سنتے ہی اسکی دونوں دوستیں ہنسنےلگیں … حنا بولی… اچھا پھر کیا ہوا حمائل … دراصل پیچھے کو تو گری لیکن نیچے نہیں گری پیچھے کھڑے ایک بزرگ انکل نے پکڑ لیا اور پکڑا بھی میرے کندھوں کے نیچے میری بغلوں سے … ان کے بھا ری بھر کم دونوں ھاتھوں نے میرے مموں کو بھینچ لیا… اب ممے تو میرے بھی چھوٹے نہیں لیکن ان کے ہاتھ کافی بڑے اور مضبوط تھے … انہوں نے فوراً مجھے اٹھایا اور آگے کر کے کہا “ پتر آ ڈنڈے نوں ہاتھ پا لے کس کے ” میں نے راڈ کو کس کر پکڑ لیا اور مڑ کر کہا شکریہ بابا جی … دراصل وہ واقعی بزرگ تھا کوئی 70 75‬ سال کا ھوگا مگر ایک بات ہے وہ کوئی پہلوان تھا شاید میرا مطلب جوانی میں پہلوان رہا ھوگا کیوں کہ اس کا سینہ چوڑا چکلا قد اتنا کہ بس کی چھت کو سر چھو رہا ہو… بڑے بڑے ہاتھ اور بازو… کافی مضبوط جسم . . پہنا کرتا اور دھوتی ہوا تھا… اب میں کھڑی ہوئی تو میری لیفٹ پہ ایک عورت آ کھڑی ہوئی موٹی … اس نے میرے پیچھے ہاتھ لے جا کے اوپر لگے ہینڈل کو پکڑ لیا… اس کی اِس حرکت کی وجہ سے مجھے کچھ آگے ھونا پڑا مگر رش اتنا تھا کہ تل دھرنے کی جگہ نا تھی… سو میں چل کے آگے تو نا ہو سکی مگر مجبورا اوپری جسم جھکانا پڑا … سو اب میں آگے کو جھکی سفر کر رہی تھی اور رش اتنا کہ لیفٹ رائٹ دیکھنا بھی ممکن ناتھا… بس جہاں کھڑے ہو وہاں ہی جمے رہو … اتنے میں بس اگلے اسٹاپ پر رکی تو کنڈیکٹر مردوں سے بولا کہ سارے تھوڑا آگے آگے ہو جاؤ کسی اور کے لیے بھی جگہ بن جائے گی … بزرگوں تھوڑا آگے ہونا… یہ سن کر وہ بابا جی بولے اچھا پتر … اور یہ کہتے ہی مجھ سے چپک گئے … بلکہ مجھ سے کیا جس طرح میں کھڑی تھی میری ٹانگوں اور میری بیک سے چپکے … بابا جان کے چپکنے سے مجھے جھٹکا سا لگا ان کے چوڑے چوڑے چوتڑوں نے میری رانوں اور گانڈ کو کور کیا اور مجھے واضح طور پر اپنی کمر پہ ایک ڈھیلی ڈھالی چیز محسوس ہوئی جو دیکھتے دیکھتے سخت اور بڑی ہونے لگی…نشا… مم یعنی آپ کی جوانی نے مردے میں بھی جان ڈال دی… حمائل … سناؤں یا نہیں … حنا … کم آن نخرے نا کر سنا نا یار…حمائل … مجھے لگتا ہے وہ حرامی بڈھا ہر بار بس میں آگے کھڑا ہو کر کوئی شکار ڈھونڈتا ھوگا کیوں کہ وہ ایک پل کے لیے بھی نہیں ہچکچایا اور سیدھے ہاتھ سے اپنی شال کو پکڑتے ہوۓہاتھ میری رائٹ سائڈ والی سیٹ کے اوپر رکھ دیا تا کہ رائٹ سائڈ پہ بیٹھی ہوئی لیڈیز میں سے کوئی نا دیکھ سکے … رائٹ سائڈ فل کور ہوئی … لیفٹ میں پہلے موٹی سی آنْٹی تھی جو دوسری طرف منه کیے کھڑی تھی لہذا لیفٹ بھی فل کور … اب اس حرامی نے دوسرے ہاتھ سے میری قمیض اوپر اُٹھائی اور اپنی بھی اور پھر اپنی دھوتی سے اپنا گھوڑا آزاد کیا … اِس وقت اسکی شرم گاہ بالکل ننگی تھی اِس بات کا اندازہ مجھے بالکل نا ہوا لیکن جیسے ہی اس نے اپنے گھوڑے کو میری قمیض میں ڈالا میرے تو چودا طبق روشن ہو گئے … اس کا قد چونکہ بڑا تھا اِس لیے اس کے ہتھیار والی جگہ میری کمر کے درمیان سے تھوڑا نیچے بنتی تھی… میں جھکی ہوئی تھی اب اسکا گھوڑا … نشا… ایک منٹ رکو… یہ کیا گھوڑا گھوڑا لگا رکھی ہے نا گھوڑا چلے گا نا ہتھیار … یار یا تو لوڑا کہو یا لن … حمائل … میں ایسے گندے الفاظ نہیں بولتی… حنا … پلیز یار ہمارے سوا کون ہے یہاں ذرا کہانی کا مزہ آ جائے گا … پلیز حمائل … او کے بابا جیسے تمہاری مرضی … تو میں کیا کہہ رہی تھی… ہاں اس ٹھرکی کا لل … اوہ یار کیا مصیبت ہے او کے … اسکا لن …آہ … اپنی بہن کی میٹھی آواز میں لن کالفظ سن کر میرے لن نے بھی دو بوندیں منی کی بہا دیں … حمائل … اسکا لن بالکل ننگا میری کمر پر تھا… پتا نہیں کس چکی کا آٹا کھاتا تھا جو اِس عمر میں بھی جوش کا یہ عالم تھا… یہ موٹا اور لمبا لن … کہ جسکی لمبائی اور صحت کا اندازہ اس کے میری ریڑھ کی ہڈی سے چپکے ہونے سے ہو رہا تھا… میں ذرا سیدھی ہوئی تو پتا چلا جناب کا اوپری حصہ میرے برا کی پٹی کو چھو رہا ہے اور لن سے بہنے والا گرم لیس دَار پانی رستا ہوا میری بیک بون پہ اوپر سے نیچے کی طرف ٹریول کر رہا ہے … اس لیس دَار پانی کی دھار سے میرے بدن میں عجیب سی سنسناہٹ بھی ہوئی اور گدگدی بھی … اس لمحے اتنا مزہ آیا کہ دِل کیا سفر لمبے سے لمبا ہوتا جائے … مگر میرے لیے ضروری تھا کہ شرم اور حیا کا دامن ہاتھ سے نا چھوٹے سو میں دوبارہ جھک گئی … دراصل میرے جھکنے سے اس کے لن اور میری باڈی میں ٹچ کافی کم ہو گیا اور پہلے جیسے اسکا لن فل لینتھ میں مجھ سے چپکا تھا اب صرف اسکا کچھ حصہ مجھ سے ٹچ ہو رہا تھا… لیکن یہ واپس جھکنا دَر اصل بیوقوفی تھی جسکا آئیڈیا مجھے اس وقت نہیں ہو سکا میں بھول ہی گئی کہ جھکنے سے اگر کمر کا کچھ بھلا ہوا تو میری گانڈ تو فل داؤ پر لگ چکی تھی… بابا جی نے اپنا لن باہر نکالا… مجھے کچھ سکھ کا سانس آیا لیکن آگے جو اس نے کیا وہ توقع ہی نہیں کر رہی تھی… بابا جی کا قد لمبا تھا اِس لیے انہوں نے اپنے گھٹنوں کو تھوڑا نیچے کیا نیچے کوجھکے میری قمیض تو اوپر تھی ہی بس پیٹھ پہ شلوار کا کپڑا تھا… انہوں نے اپنا لن ایڈجسٹ کیا اور لگے میری رانوں اور گانڈ پر رب کرنے (یعنی گھسے مارنے … جسے حمائل رب کرنا کہہ رہی تھی) … یہاں وہ پوائنٹ ہے یہ جو نشا کہہ رہی تھی باڈی ری ایکشن … اِس پوائنٹ تک تو مجھے بزرگوں کی حرکت پر حیرت ہو رہی تھی لیکن اِس کے بَعْد خود پر ہوئی کیوں کہ میری باڈی نے بڑا عجیب ری ایکشن دیا… میری ٹانگیں جڑی ہوئی تھیں کب کھلیں پتا ہی نہیں چلا… نتیجہ یہ نکلا کہ جب اس ٹھرکی بڈھے نے اپنا لن نیچے میری رانوں پر پھیرنا شروع کیا اور جیسے ہی اوپر آیا تو میری رانوں کے درمیان اور میری گانڈ کے نیچے ان فیکٹ گانڈ ہول کے قریب آ کررکا… اِس موقع پر میری باڈی نے نا چاہتے ہوۓایک جھٹکا کھایا اور اس کے لن کو میری رانوں نے اور گانڈ نے جکڑ لیا… یار یہ سب میں نے نہیں کیا خود ہی ہوا بلکہ جب مجھے احساس ہوا تو میں نے چھوڑنا چاہا … باڈی کو ریلکس کرنے کی خوب کوشش کی لیکن میرا اپنے آپ پہ کوئی کنٹرول نہیں تھا ( دراصل میری پیاری بہن کی پیاسی پُھدی بھوکی گانڈاور رانوں نے اس کے لن کو بھینچ لیا تھا… یہ ہر گرم چوت اور گانڈ کا حسن ہوتا ہے کہ جب یہ پیاسی ہوں تو بڑے سے بڑا شکاری خود شکار بن جاتا ہے ) … . اُف میری ماں …کیا بتاؤں کیا حالت تھی میری سردی میں پسینہ آنے لگا چہرہ شرم کے مارےلال … سانسیں اتھل پلھ … . حالت یہ تھی کہ اس کا لن میری گانڈ میں یوں پھنس گیا تھا جیسے چوہا کڑکی میں …اِس لمحے اگر وہ کہتا کہ دیکھو لوگو یہ لڑکی کیا حرکت کر رہی ہے تو واقعی وہ سچا ہوتا اِس بار قصور میرا تھا میری باڈی نے اس کے لن کو جکڑ لیا تھا وہ چھڑانا چاہتا بھی تو نہیں چھڑا سکتا تھا اور میری اپنے آپ پہ چل نہیں رہی تھی میں چھوڑنا چاہتی بھی تو چھوڑ نہیں سکتی تھی… . اتنے میں شائستہ نے مجھے کہا تیار ہو جاؤ حمائل ہمارا اسٹاپ آنے والا ہے … . میں تو شرم سے پانی پانی ہو گئی … اب کیا بڈھے کا لن گانڈ میں لے کر نیچے اتروں گی … اِس حالت میں لوگ دیکھیں گے تو کیا کہیں گے کہ اِس لڑکی کو تو آخر ہی آ گئی ہے اِس کے ماں باپ شادی نہیں کرتے تو کم از کم اسے ٹھنڈا تو رکھا کریں … بابا بھی پیچھے ھونا چاہ رہا تھا مگر گانڈ چھوڑ ہی نہیں رہی تھی… اتنے میں مجھے آئیڈیا آیا … جب یہ ڈھیلا تھا تو ایسا کچھ نہیں تھا اگر پھر سے ڈھیلا ہو جائے تو بات بن سکتی ہے … سو میں نے آنکھیں بند کی تھوڑا اس کے لن کو فیل کیا اور زور لگا کر مزیدجکڑلیا … بابا کو اِس سے خوب مزہ آیا اس کے لن میں اور تاؤ آگیا میں نے مزید جکڑ لیا اور زیادہ سے زیادہ اسے ہیٹ دینے کی کوشش کی… بابے سے میری جوانی کی گرمی سہی نا گئی اور اس نے خوب زور کا ایک جھٹکا مجھے مارا ان فیکٹ پوری جان لگا کر وہ سیدھا کھڑا ہو گیا … اس کی اِس حرکت سے میں بھی صرف اس کے لن کے اور سامنے والے ڈنڈے کے سہارے اوپر ہوا میں اچھلی بلکہ چند سیکنڈز کے لیے زمین سے 3 4 انچ اوپر ہوا میں کھڑی رہی … اِس دوران مجھے اپنی گانڈ میں اور رانوں میں اس کے لن کی رگیں پھولتی ہوئی محسوس ہوئیں اِس جوش میں اس کے لن نے تھوڑا رستہ بنایا اور میری پھدی تک پہنچ گیا … . وہ اپنی جگہ بہہ رہی تھی جب سے میں نے خود سے فیل کرنا شروع کیا… اور اِس کے ساتھ ہی اس کے ننگے لن نے میری گانڈ کی دراڑ سے ہوتے ہوۓ میری رانوں کے بیچ میں میری ٹائیٹ شلوار میں کسی ہوئی پھدی کے منه پر لاوا اگل دیا… یوں لگا جیسے کوئی فوارہ چھوٹ گیا ہو… اتنا پانی بہا اس کے لن سے کہ آدھے گلاس سے بھی زیادہ تقریباً پورا گلاس … شلوار پوری طرح گیلی ہو چکی تھی… چپ چپ شلوار کے اندر رانوں میں اور گانڈ اور پھدی پر بھی فیل ہو رہی تھی… . اِس سب کا ایک فائدہ تو ہوا وہ یہ کہ اسکا لن ڈھیلا ہوا اور میری گانڈ بھی جو اپنی گرمی تو نا بجھا پائی مگر اسکی منی کا خراج لے کر اسکی جان بخش دی… ہماری اِس آخری حرکت میں ایک انٹرسٹنگ بات ہوئی جب اس نے مجھے جھٹکے سے اٹھایا تو میرے منه سے زور کا نکالا… اوہ … اس نے بھی چھوٹتے ہوۓ آہ کہا … یہ بات رائٹ سائڈ پہ بیٹھی آنْٹی نے نوٹ کر لی وہ اپنے بچے کو دودھ پلا رہی تھیں انہوں نے ساتھ والی عورت کے کان میں کچھ کہا انہوں نے بھی مسکرا کر میری طرف دیکھا بابا جی کا شال ٹھیک کرنا میری قمیض نیچے کرنا بھی نوٹ کیا… پرس سے ٹشو پیپرز نکال کر مجھے دیتے ہوۓ بولیں … یہ لو جو ھونا تھا وہ ہو گیا اب اچھی طرح صاف کر لینا … اور ہنسنے لگیں … وہ مجھے کوئی 2 نمبر لڑکی یا طوائف سمجھ رہی تھیں … بس ہمارے اسٹاپ پہ رکی شائستہ بولی حمائل آ جاؤ … بابا جی بولے پتر آ تواڈا اسٹاپ آ چلو شاباش دھیان نال اترنا پہلے میری بیٹی نوںسٹ واج گئی اے … میں نے اترتے وقت مڑ کر اسکی طرف نفرت سے دیکھا تو اس نے مسکرا کر آنکھ مار دی… اسکا بھی کیا قصور اسٹارٹ اس نے کیا تھا لیکن گرین سگنل تو میں نے ہی دیانا… نا چاہتے ہوۓ … مجھے اپنی گانڈ پہ اتنا غصہ آیا کہ دِل کیا میرے سامنے ہو تو میں جوتیاں مار مار کر اسکی ساری گرمی نکال دوں سالی کو اپنے پرائے کی تمیز نہیں ہے بھری محفل میں شرمندہ کرا دیا مجھےاس کے اِس آخری جملے پہ اسکی دونوں دوستیں خوب ہنسنے لگیں … میری بھی ہنسی چھوٹ گئی … غصہ تو آیا کہ یہ سب میری بہن کے ساتھ ہوا لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ ٹوٹنے والی چیز کے ٹوٹ جانے پہ کیسا غم اسی طرح چدنے والی چیز کے چد جانے پہ کیسا افسوس… پھر میری بہن چدی تو نہیں صرف سوفٹ کور ایکسپیرینس لیا اس نے … اُدھر حمائل کہہ رہی تھی… ہنسو کمینیو ہنسو … وہ تھوڑا اور کانفیڈینس دکھا کر میری شلوار نیچے کرتا نا تو میری لاش دیکھنے کو ملتی تمہیں … . اِس بات پہ اسکی فرینڈز نے ایک زور دار قہقہہ لگایا … میری بھی ہنسی چھوٹ گئی جسے میں نے فوراً کنٹرول کیا… نشا… یار ویسے سچ بتا تھوڑا بہت ہی سہی تجھے مزہ تو آیا نا… . حمائل … شٹ اپ مزہ رومینس میں ہوتا ہے ڈیئر ایسی فضول سچویشن میں نہیں … حنا … ہاں مگر آپ کی اپنی پھدی تو آپ سے ایگری نہیں کرتی تبھی اس نے ہنسی خوشی گلے لگا لیا… بابا جی کے گھنٹے کو ( الفاظ چباتے ہوۓ ) حمائل … ہاں یار بس یہ جوانی تو باغی ہے فطری طور پہ … پھر باڈی ری ایکشن کےایسا ہونے کی دو وجوہات ہیں ایک تو یہ کہ پرائیویٹ پارٹس کو کوئی ٹچ کرے کو ئی جھرجھری تو ہوتی ہے اور باڈی ری ایکٹ کرتی ہے دوسرا یہ کہ میری جم ٹرینر مجھے خاص طور پر گانڈ والے حصے اور رانوں کی ورزش کرواتی ہے اور ایک بار کہہ رہی تھی کہ یہ فگر کو بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ آپ کے ہسبنڈ کو خوش رکھنے میں ہیلپ آؤٹ کرے گی اور آئی پرامس آپ کا غلام بن کے رہے گا … تب تو میں بات کو نا سمجھی مگر اِس ایکسپیرینس سے اندازہ ہوا کہ وہ کیا کہنا چاہ رہی تھی… خیر چھوڑو اِس بات کو… نشا… ایویں چھوڑ دیں … . اتنا مزہ آ رہا ہے … اچھا چل یہ بتا تیرے پی سی پہ نیٹ لگتا ہے آج تھوڑا پورن دیکھتے ہیں ویسے بھی تو نے یہ گرما گرم واقعہ سنا کر ماحول بنا دیا ہے …حنا … ہاں یار ماحول کا تقاضہ تو یہی ہے … حمائل … نا بابانا… انٹرنیٹ میں بیک اپ پہ فائلز بنتی ہوتی ہیں وہ مجھےریموو نہیں کرنی آتیں نا ہی ہسٹری وغیرہ … بھائی بھی کبھی کبھی یوز کرتا ہے پی سی پھر اس کا ماہر بھی ہے خراب ہو تو ٹھیک بھی کر دیتا ہے لہذا اسکی کہیں نظر پڑ گئی تو میں تو گئی جان سے نشا … تیرے بھائی سے یاد آیا وہ گھر پہ نہیں ہے نا اس کے لیپ ٹاپ کی تلاشی لیتے ہیں بھائی جوان ہے کوئی ایسا ویسا اسٹف تو ھوگا ہی … حمائل … جی نہیں بہت شریف ہے میرا بھائی ( یہ کس نے کہہ دیا تمہیں بہنا … ہاں یوں کہہ لو شریف تھا کچھ دنوں سے تو بہن چود ہونے پر تلا ہوا ہوں ) … پھر ویسے بھی امید ہے اس کے لیپ ٹاپ کو پاسورڈ لگا ہوگا … حنا … یار امید پہ دنیا قائم ہے تو امید ہے ممکن ہے کوئی پاسورڈ نا ہو اور امید ہے اندر پورن کی فل کلیکشن پڑی ہو… میں (دِل میں) … پہنچی ہے استاد پہنچی ہے … بالکل اسی طرح ہے … خیر وہ تینوں میرے روم میں گئیں اور لیپ ٹاپ لے آئیں بستر پہ لیٹیں اور آن کر دیا… اِس وقت وہ بیڈ پہ پیٹ کے بل لیٹی ہوئی تھیں یعنی تینوں نے گانڈیں اوپرکی ہوئی تھیں اور میں ان کے پیچھے والی دیوار کے روشندان سے دیکھ رہا تھا… لیپ ٹاپ آن ہوا ان کی سرچنگ شروع … مائی ڈوکومینٹس میں گئیں پکچرز میں سی ڈرائیو ڈی ڈرائیو آخری ڈرائیو میں گئیں تو پرسنل کے نام سے فولڈر ملا … اس میں گھسیں تو آگے پورن کی بہار آئی ہوئی تھی… کافی اسٹف ڈاؤن لوڈ کر چکا تھا میں ان چند ہی دنوں میں … بس پھر ایک ویڈیو کو کِلک کیا انہوں نے اور ایک پورن ویڈیو چل پڑی … حمائل آپریٹ کر رہی تھی اس نے ویڈیو کے سینٹر میں کِلک کیا تو اسکرین پر دو ننگے جسموں کی دھکم پیل چل رہی تھی… آواز اتنی اونچی تھی کہ پچک پچک اور لڑکی کی آہوں کی آوازیں مجھ تک آرام سے سنائی دے رہیں تھیں … پہلے تو تینوں نے ایک دوسرے کا منه حیرانی سے دیکھا پھر مزے لے لے کر دیکھنےلگیں … ایک کے بَعْد ایک فائل اوپن کی انہوں نے … آپس میں فرینکنس تو بہت تھی انکی لیکن شاید ایک حد تک اسی لیے کسی کو اپنی چوت یا ممّے مسلنے کی ہمت نہیں ہوئی بس چُپ کر کے دیکھتی رہیں بیچ بیچ میں ہیرو ہیروئن پر کمنٹ کر دیتیں … کبھی مموں پر کبھی گانڈ پر کبھی لن پہ … بڑا حوصلہ تھا ان گرم پھدیوں کا یہ سب دیکھ کر بھی کنٹرول کیے بیٹھی تھیں … یونہی کرتے کرتے وہ ایک سسٹر نام کے فولڈر میں پوھنچی … حمائل نے ڈبل کِلک کیا تو فولڈر سے باہر پڑے ہوۓ پورن سے زیادہ پورن اِس فولڈر میں تھا… سسٹر سیڈکشن کے نام سے … مائی ہوٹ سسٹر … ایک عورت کو کیسے پٹایا جائے … اِس طرح کا سارا اسٹف یہاں پڑا تھا سسٹر کے باتْھ لیتے ہوۓ کی ویڈیوز جو مجھے نیٹ سے ملیں وہ بھی … حمائل انہیں اوپن کر کے دیکھنے لگی اسکے فیس پر کیا ایکسپریشنز تھے میں اِس بات سے بے خبرتھا… اتنے میں اس نے ایک فولڈر اوپن کیا جسکا ٹائٹل تھا “آئی وانٹ ٹو ڈو سیکس ود مائی سسٹر ” اور اس میں کافی ساری لڑکیوں کے فیس تھے جو کہ منی سے بھرے ہوۓ تھے اور وہ سب سمائل کر رہی تھیں … مختلف فائلز کے نام تو جو نیٹ سے ملے وہی تھے لیکن فولڈر کا نام میں نے خود دیا تھا… اِس فولڈر کو اوپن کرنے کی دیر تھی پیس کو دیکھتے ہی اور فولڈر کا نام پڑھتے ہی حمائل ایک جھٹکے سے اٹھی اور بیڈ سے نیچے اتر کر بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی … اسکا فیس میری طرف تھا اور آنکھوں میں ہلکے سے آنسو اور چہرے پر افسردگی تھی… ٹانگیں سمیٹی ہوئی تھیں فیس گھٹنوں کے اوپر اور دودھ جیسی گوری رانیں پنڈلیوں کے بیک گراونڈ میں تھیں … حنا اسکی سچویشن سمجھ گئی اس نے فولڈربند کیا اور مڑ کر حمائل کے پاس آ کر بولی… حنا … حمائل جانی کیا ہوا کم آن سویٹ ہارٹ … نشا بالکل سچویشن کی سنجیدگی کو نہیں سمجھ پائی اس لئے … فوراً بولی… کیا یار فولڈر کلوز کر دیا تو نے دیکھنے تو دیتی ان کے فیس پہ کیا چیزتھی…حنا … شٹ اپ نشا تمہیں پتا نہیں کب عقل آئے گی … شٹ ڈاؤن کرو اسے اور واپس رکھ کر آؤ بالکل اس جگہ پر جہاں سے اٹھا کر لائے تھے ہم… جاؤ شاباش… نشا نے لیپ ٹاپ بند کیا اور ایک ہاتھ سے چوت کھجاتی ہوئی چل دی اور خود سے بولی… پتا نہیں کیا مسئلہ ہے ان چڑیلوں کے ساتھ ابھی تو مزہ آنے لگا تھا… ہمیشہ اپنی من مانی کرتی ہیں …ادھر حنا نے حمائل کے شولڈرز پر دونوں ہاتھ رکھ کر اسے کہا … اٹس او کے تمہیں کچھ برا لگا تو مجھ سے شیئر کر لو… حمائل کے آنسو آنکھوں سے چھلک کر گالوں پہ آئے اس نے فوراً صاف کیے اور روہانسی آواز میں بولی … نہیں میں ٹھیک ہوں ویسے بھی میں اس کے متعلق بات نہیں کرنا چاہتی …حنا … او کے ٹھیک ہے بس ریلکس اب ہم لوگ سو جاتے ہیں ٹھیک ہے … نشا واپس آئی تو تینوں روم کی لائٹ بند کر کے لیٹ گئیں ان کے کمرے میں خاموشی چھا گئی اور اندھیرا بھی.. میں بھی نیچے اترا اور اپنے کمرے میں جا کر لیٹ گیا … . حمائل کی آنکھوں میں آنسوجچے نہیں لیکن تھا تو یہ سچ ہی نا مگر آدھا سچ کیوں کہ میں اس سے صرف سیکس نہیں کرنا چاہتا تھا بلکہ مجھے اس سے محبت بھی تھی… . میں الارم لگا کر سو گیا صبح سویرے جاگا … گھر سے باہر گیا دیوار پھلانگ کر اور پھر گھر کی بیل بجائی … تھوڑی دیر بَعْد حمائل آئی اس نے کل والی شلوار قمیض پہنی تھی ڈوپٹہ اوڑھا ہوا تھا سینے پہ بھی سر پہ بھی آنکھوں میں نیند تھی اس نے ڈور کھولا مجھے سلام کیا اور واپس چل دی میں نے ڈور بند کیا اندر آیا اور اپنے روم میں لمبی تا ن کر سو گیا … دن کو لیٹ جاگا 12 کے قریب باہر آیا تو حمائل ٹی وی لاؤنج میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی… مجھے دیکھ کر سلام کیا اور بولی… بھیا ناشتہ بناؤں … میں بولا… ہاں پلیز بنا دو اور تمھاری دوستیں چلی گئیں ؟ . . . حمائل …ہاں وہ تو چلی گئیں … اس نے مجھے ناشتہ سرو کیا… وہ بالکل سپاٹ فیس لیے میرے سامنے آئی … نظریں ملانا بھی گوارہ نہیں کیا… میں نے ناشتہ کیا اور روم میں گُھس گیا …دِل تھوڑا افسردہ تھا… حمائل ناراض ہو تو میں کیسے خوش رہ سکتا ہوں … بس سارا دن یونہی گزرا شام کو ممی پاپا بھی آ گئے … .سو یہ تو طے تھا کہ حمائل کو میری کشش کا بَخُوبی اندازہ ہو گیا تھا اسی لیے اس نے اگلے دن مجھ سے بات بھی نا کی… خیر میں نے دن بھر اور پھر رات گئے تک اسکی ریکارڈڈویڈیوز کو اپنے لیپ ٹاپ میں خوب مزے لے لے کر دیکھا … زوم کر کر کے اسکی جوانی کے مزے اٹھائے اور پھر مٹھ پر مٹھ …مٹھ پر مٹھ… 24گھنٹوں کے اندر 4 بار مٹھ مار چکا تھا… دِل ابھی بھی سیرنہیں ہوا تھا… اسکا شلوار اتارنا… ننگے ممے … برا پہننا… ٹھمکے ما رنا سب بہت دلکش تھا… یوں تو میں نے اپنی پیاری بہن کے بارے میں پچھلے 2 دنوں میں وہ سب سنا اور دیکھا تھا جو کبھی تصور نہیں کیا تھا… بیڈ کے نیچے لیٹے اسکی پُھدی اور گانڈ کے نظارے … اسکا بڈھے سے گھسے لگوانا… دوستوں سے ہنسی مذاق … یہ سب میری مٹھوں کے لیے کافی اسٹف تھا… پھر ریکارڈڈ ویڈیوز تو کسی بھی وقت دیکھی جا سکتی ہیں … لیکن ایک مسلہ تھا… دو دنوں کے اندر اندر اِس سب سے دِل بھرنے سا لگ گیا … اِس لیے نہیں کہ حمائل میں دلچسپی نہیں رہی تھی مجھے یا میرا مائنڈ سیٹ چینج ہو رہا تھا بلکہ یہ سب اِس لیے تھا کہ اسے چود چود کر نہال کرنے کی کشش اتنی زور پکڑ گئی تھی کہ یہ پورن یہ ویڈیوز یہ مٹھیں سب ناکافی تھیں … مجھے ہر حال میں اسکی لینی تھی… ایسا سندر پیس میرے گھر میں ہو اور دلہن کسی اور کی بن جائے … یہ دِل ( یا لن کہہ لیں ) کو گوارہ نا تھا… . لہذا اب اِس حسن کی دیوی کو چدنا تھا تو اپنے سگے بھائی سی…مگر یہ سب کیسے ہو… انہی سوچوں میں میں گھر سے باہر نکلا پارْک میں واک کرنے کے لئے … دراصل پچھلے دو دن سے مسلسل اپنے روم میں ہی بیٹھا مٹھیں مار رہا تھا… آج تیسرا دن تھا اس پارٹی نائٹ کو… اور میں گھر سے باہر … . ذہن میں مختلف سوچیں چل رہی تھیں … یہاں تک کہ اسکا ریپ کرنے کا بھی سوچا… کوئی سولڈ پلان نہیں بن پایا… اسی کشمکش میں گھر واپس لوٹا … شام کا وقت تھا … امی نے دروازہ کھولا … انہیں سلام کیا اندر آیا … وہ مجھے بولیں … .  گھر داخل ہی ہوا تھا کہ امی بولیں بیٹا اچھا ہوا تم آگئے. دیکھو حمائل کی طبیعت بڑی خراب ہے. کافی دیر سے الٹیاں کررہی ہے. ذرا جلدی سے اسے ڈاکٹر کے لے جاؤ. یہ سنتے ہی میں پریشان ہوگیا اور فوراً ٹیکسی کیلئے گھر سے باہر دوڑا. ٹیکسی لا کر اس کے کمرے میں گیا تو حمائل زرد چہرہ لئے بستر پر لیٹی تھی. دوپٹہ سائڈ پر پڑا تھا اور اس کا صحت مند سینہ پوری آب و تاب سے بالکل اوپن ملاحظہ کیلئے تیار پڑا تھا. مجھے دیکھتے ہی اس نے جلدی سے سرہانے کی طرف ہاتھ مار کےدوپٹہ اٹھانے کی کوشش کی. ابھی ڈوپٹے پر ہاتھ گیا ہی تھا کہ دوبارہ متلی ہوئی اور وہ فوراً اٹھ کے واش روم کی طرف دوڑی اور واش بیسن پر جھک کے ابکائی کرنے لگی. اسکی پوزیشن اتنی ہیجان خیز اور سیکسی تھی کہ چند لمحوں کیلئے میں بھول گیا کہ وہ بیمار ہے اور ایک ٹک اسکی خوبصورت گانڈ کو دیکھتا رہا لیکن پھر اپنے آپ کو سنبھال کے واش روم کی طرف پڑھا اور ابکائی لیتی حمائل کی کمر پر ہاتھ رکھ کے سہلانے لگا. یہ طریقہ میں نے اپنے بڑوں سے سیکھا تھا اور خود بیماری میں جب امی میری کمر کو سہلاتی تو مجھے بڑا سکون ملتا. حمائل میرے لمس پر ایک دم چونکی لیکن اسکی حالت ایسی نہیں تھی کہ کوئی جاندار ردعمل دیتی بیچاری صرف غاں غاں ہی کرتی رہی.طبیعت کچھ سنبھلی تو اس نے سر اٹھایا اور سیدھی کھڑی ہو گئی. میں نے فوراً اسکا بازو پکڑا اور سہارا دے کے بستر تک لایا اور اسے بٹھا دیا. پھر واش روم گیا اور گندے سنک کو پانی بہا بہا کے صاف کردیا. واپس آیا تو حمائل آنکھوں میں آنسو لیے بیٹھی تھی. میں نے پوچھا باجی کیا خیال ہے ڈاکٹر کے چل سکو گی اس نے ڈبڈبائی آنکھوں سے مجھے دیکھا اود ہلکا سا سر ہلا دیا. پھر وہ کھڑی ہوئی اور چادر سے جسم چھپاتی باہر آکر ٹیکسی میں بیٹھ گئی. امی بھی پیچھے پیچھے آئی اور بولی بیٹاتم بھی پچھلی سیٹ پر اسکے ساتھ ہی بیٹھو کہیں راستے میں طبیعت خراب ہوئی تو سنبھال تو لو گے. میں خاموشی سے حمائل کے ساتھ بیٹھ گیا. راستے میں ایک دو مرتبہ ہلکی متلی ہوٹی لیکن خیریت گزری. متلی کا فائدہ یہ ہوا کہ حمائل نے نقاہت سے اپنا سر میرے کاندھے پر ٹکا دیا میں نے بھی موقع سے فائدہ اٹھایا اور اور بازو اسکی کمر پر پھیلا دیا. ڈاکٹر نے حالت دیکھی تو ٹیکہ لگانے کا کہا. جب ٹیکا لگانے لگے تو یہ پرابلم ہوئی کہ بازو بہت تنگ تھے اور قمیض فولڈ نہیں ہورہی تھی. نرس نے کہا میں کولہے پر لگا دیتی ہوں. یہ سنتے ہی حمائل نے آنکھیں پوری کھول دیں اور نہ میں سر ہلانے لگی. میں نے اسکی حالت کے پیش نظر نرس سے کہا سسٹر آپ لگائیں. حمائل نے شکوہ بھری نگاہوں سے مجھے دیکھا اور اٹھ کے پردے کے پیچھے جانے لگی. اٹھتے ہی چکر آیا تو فوراً میرا سہارا لے لیا اب حالت یہ تھی کہ اسکا سر میرے سینے سے ٹکا ہوا تھا اور وہ مکمل میری بانہوں کے حصار میں. میرا تو مزے سے برا حال ہوگیا. لیکن یہ سب لمحاتی بات تھی. میں آہستہ آہستہ اسے پردے کے پیچھے لے گیا اور اسے بیڈ پر لٹا کے باہر نکل آیا. دو منٹ بعد نرس نے بلایا تو وہ کولہے پر ٹیکہ لگا کے اس پر ہاتھ مل رہی تھی. اسکے ملنے پر وہ قیامت گانڈ ایسے ہل رہی تھی جیسے طوفانی لہریں. میں آنکھیں سینکتا آگے بڑھا تو نرس باہر نکل گئی. میں نے حمائل سے پوچھا درد تو نہیں ہوا اس نے بچوں کی طرح ڈبڈبائی نظروں سے مجھے دیکھا اور ہاں میں سر ہلا دیا. میں نے شرارت سے پوچھا تو کیا جگہ مل دوں تو حمائل نے آنکھیں پھاڑ کے مجھے دیکھا اور زور سے نہ میں سر ہلانے لگی اور خود ہی اپنے ہاتھ سے جگہ ملنے لگی. میری پوری توجہ اسکی گانڈ کے ابھاروں پر ہی تھی جو مدوجزر کا نقشہ پیش کررہے تھے. حمائل نے بھی میری نظروں کو بھانپ لیا اور جھینپتے ہوئے اٹھ بیٹھی اور بولی چلو بھائی گھر. واپسی کا سفر امن اور خاموشی سے گزرا.اگلے روز تک حمائل کی طبیعت کافی بہتر ہوچکی تھی اور ساتھ ہی موڈ بھی. میں کمرے میں گیا تو تکیے کا سہارہ لے کے بیٹھی تھی. دوپٹہ سائڈ میں کرسی پر پڑا تھا. مجھے دیکھا تو اوپر لی چادر کو تھوڑا کھینچ کر سینے تک کرلیا. مجھے اتنی تبدیلی بھی بہت غنیمت لگی. کیسی طبیعت ہے میں نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا. اب بہت ٹھیک ہے. دوبارہ ٹیکے کی ضرورت تو نہیں، میں نے معصومیت سے پوچھا. اسپر اسکے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آکے گزر گئی اور وہ بولی، نہیں اب مزید ٹیکے کی ضرورت نہیں. ہاں تمہیں ایک ٹیکے کی بہت ضرورت ہے اسکے لہجے میں واضح شرارت تھی. کیوں میں نے بھنویں اچکا کے پوچھا. پتہ نہیں، اس نے بےنیازی سے جواب دیا. اتنے میں اسکا فون بج اٹھا. نمبر دیکھ کر اسنے فوراً ملایا، دوسری طرف حنا تھی جسکی آواز سن کے اسکے چہرے پر بشاشت پھیل گئی… کمینی آگئی یاد میری . اب بھی نہ کرتی(حنا کیا بولی مجھے نہیں پتہ بس یکطرفہ ڈائلاگز سے اس کی باتوں کا اندازہ لگاتا رہا)ہاں ہاں اب ٹھیک ہے پر کل کا دن بہت خراب گزرا.حنا کیا بولی مجھے نہیں پتہ بس یکطرفہ ڈائلاگز سے اس کی باتوں کا اندازہ لگاتا رہا)ہاں ہاں اب ٹھیک ہے پر کل کا دن بہت خراب گزرا.حنا…….حمائل. ہاں بھائی ڈاکٹر کے لے گیا تھا)حنا نے نہ جانے کیا کہا کہ حمائل کا رنگ لال پڑ گیا اور بولی. تو مل پھر میں دلاتی ہوں تجھے مزا. میں سمجھ گیا کہ میرے بارے میں ہی کوئی سیکسی کمنٹ کیا ہوگا. حمائل چور نظروں سے مجھے دیکھ کر بات کررہی تھیہممم. ہاں ہےہممم قریبنہیں کمینی اتنا بھی نہیںمر جا تو خود کر کے دیکھ لےاب بظاہر تو میں اس گفتگو سے لاتعلق اپنے موبائل میں مصروف تھا مگر میری ساری توجہ اس کی باتوں پر تھی. حمائل کے فقروں سے میں بہت کچھ سمجھ رہا تھا اور دل ہی دل میں حنا کا شکریہ ادا کررہا تھا. چند دن ایسے ہی گزرے اور کوئی خاص بات نہیں ہوئی. جمعے کو ابو واپس آئے تو امی سے کہنے لگے بیگ تیار کر لینا کل صبح ہی نکلیں گے. یہ سنتے ہی میرے کان کھڑے ہوگئے اور میں نے فوراً پوچھا کہاں جا رہے آپ ابو نے سوالیہ نظروں سے امی کو دیکھا اور کہا کیا تم نے بچوں کو نہیں بتایا. امی بولی نہیں بس موقع نہیں ملا. اس پر ابو نے کہا بیٹا تمہاری پھپھو کی طرف جا رہے ہیں. انکی طبیعت کافی خراب ہے ایک دن رک کے اتوار کو واپس آجائیں گے. تم گھر کا اور بہن کا خیال رکھنا. میں اپنی خوشی چھپاتے فوراً بولا جی ابو آپ بے فکر ہو کے جائیں.ابو امی کے جانے کی اتنی خوشی تھی کہ میں نے فوراً اوپر کمرے میں جاکر حمایل کو یہ خبر سنائی. وہ میرے چہرے کو غور سے دیکھتی ہوئی بولی وہ تو ٹھیک ہے پر تم اتنا خوش کیوں ہو رہے ہو. یہ سن کے میں واقعی بوکھلا گیا اور ہکلاتے ہوئے بولا خوش کون ہورہا میں تو صرف بتا رہا.رات کے کھانے کے بعد حمائل امی سے پوچھ رہی تھی امی اجازت ہو تو میں کل اپنی فرینڈز کو گھر پر بلا لوں. امی نے بھی ترنت سر ہلایا ہاں ہاں کیوں نہیں. تمہارا دن بھی اچھا گزر جائے گا. میری تو مانو لاٹری نکل آئی. دل کررہا تھا کہ ابھی ڈانس شروع کردوں. بس بڑی مشکل سے قابو پایا.اگلے دن ناشتے کے بعد ابو امی گاؤں کے لئے روانہ ہوگئے. اور میں بے چینی سے حنا اور نشا کا انتظار کرنے لگا. دن ایک بجے کے قریب ایک گاڑی گھر کے باہر آکے رکی تو میرے دل کی دھڑکن یقیناً 120 کے قریب ہوگی. فوراً دروازہ کھولا تو حنا دروازے کو ناک کرنے ہی لگی تھی. اسکا اٹھا ہاتھ اٹھا ہی رہ گیا اور میرا چہرا دیکھتے ہی اسکے خوبصورت چہرے پر ایک مسکراہٹ آگئی. اسکے بولنے سے پہلے میں نے سائڈ پر ہٹ کے انہیں اندر آنے کا راستہ دیا. حمائل بھیباہر آچکی تھی اور تینوں سہیلیوں نے بڑی زوردار جپھیاں ڈال کے ایک دوسرے کا استقبال کیا. میں تو دور کھڑا حسرت سے دیکھتا ہی رہا کہ میری قسمت میں ایسی مزیدار جپھیاں کب آئیں گی. پھر وہ کمرے میں جانے لگی تو میں نے پیچھے سے آواز لگائی باجی کنڈی لگا لو میں دوست کی طرف جا رہا ہوں کچھ لیٹ آؤں گا گھر سے نکل کر میں دوست کی طر ف جانے کی بجائے گھوم کر پچھلے دروازے سے سے پھر اپنے گھر میں داخل ہوا اور اپنی پرانی جگہ پر پہنچ گیا. روشندان سے جھانکا تو دیکھا کہ تینوں سہیلیاں بڑے مزے سے لیٹی پزا کھا رہی تھیں اور ٹی وی پر ایک وڈیو گانا اونچی آواز سے چل رہا تھا. گانے کی آواز کی وجہ سے مجھے انکی گفتگو سنائی نہیں دے رہی تھی. اچانک حنا نے کھڑے ہو کر بڑے سیکسی انداز میں بیونسے کے گانےپر ڈانس کرنے لگی وہ بار بار اپنی موٹی گانڈ حمائل کے منہ کے پاس لا کر گھماتی اور اور دور چلے جاتی. حمائل اور نشا اس کے ڈانس سے بہت لطف اندوذ ہو رہی تھیں. ایک مرتبہ جب حنا نے اپنی گانڈ کو حمائل کے منہ کے سامنے گھمایا تو میری پیاری بہن نے اسکی گانڈ کو دونوں طرف سے پکڑ کے اپنامنہ پورا اس کی گانڈ سے چپکا دیا اور زور زور سے منہ کو جھٹکے مارنے لگی. حنا نے بھی اپنی گانڈ وہی روک لی اور اوپری جسم کو ہیجان انگیز طریقے سے لہرانے لگی. یہ دیکھ کر نشا سے بھی نہیں رہا گیا اور اسنے اٹھ کر حنا کی قمیض کوسائڈ سے پکڑ کر اتارنا شروع کردیا حنا نے بھی ہنستے ہوئے اپنے بازو بلند کردیئے اور اگلی ہی لمحے اس کا صحتمند اور سیکسی جسم میری آنکھوں کے سامنے تھا. اس نے بڑا باریک بلیک برا پہنا یوا تھا ج سے اسکے 34 سائز کے گول گول سفید ممے آدھے باہر کو نکل ہوئے تھے. اب وہ مزید مستی میں آچکی تھی اور بہت سیکسی بیلی ڈانس کررہی تھی یہ ڈانس تیکنیک میں تو کوئی خاص نہیں تھا پر اسے دیکھ کر میرا ہاتھ بے ساختہ اپنے لن پر پہنچ گیا جو پتھر بن چکا تھا. حنا کی دیکھا دیکھی نشا  نے بھی اپنی قمیض اتار دی اور حنا کے سامنے کھڑی ہوکر لہرانے لگی. اسکا جسم کچھ پتلا تھا پر اس پر اسکے لمبوترے مائل 34 کے بوبز قیامت ڈھا رہے تھے. وہ کچھ زیادہ ہی جوش میں لگ رہی تھی کیونکہ جلد ہی اس نے اپنے برا کو بھی نیچے دھکیل دیا اور ناچتے ناچتے اپنا مما ہاتھ میں پکڑ کر میری باجی کو پیش کرنے لگی جو ہنس ہنس کے بے حال ہو چکی تھی اور اسکا رنگ لال سرخ ہوچکا تھا. نشا کو یہ کرتا دیکھ کر حنا نے نے بھی اپنا برا ہٹا دیا اور اپنے موٹے ممے کو حمائل کے منہ سے لگا دیا اب صورتحال یہ تھی کہ دونوں سہیلیاں اپنے اپنے دودھ میری باجی کے منہ میں دیئے ہوئے تھیں اور میری بہن کا ہنس ہنس کے برا حال ہو رہا تھا. اچانک گانا ختم ہو گیا اور دونوں سہیلیاں  بستر پر گر کر ہانپتے ہوئے ہنسنے لگیں. حنا بولی کیسا لگا  باجی بولی مجھے پتہ ہوتا کہ تم نے مجھے  اپنا دودھ پلانا ہے تو میں بھائی کو بازار سے دودھ لانے سے منع کردیتی. اس پر نشا شرارتی انداز میں بولی تو کیا تیرا بھائی بھی ان ہی پر گزارہ کرے گا. نہ بابا میں تو اسے نہیں پلاؤں گی کہیں کاٹ ہی نہ دے میرے کنوارے بوبز پر. حنا فوراً بولی پر میں تو بالکل راضی ہوں اسے دودھ پلانے پر.حمائل بڑے جارحانہ انداز میں ہاتھ اٹھا کے بولی. خاموش وہ میرا بھائی ہے تمہاری کیا جرات کہ میری اجازت کے بغیر اسے الم غلم چیزیں کھلاؤ. اس پر حنا چہک کے بولی ارے واہ ہمارا کنوارا دودھ الم غلم ہو گیا تو کیا اپنا پاک پوتر پستان دےے گی اسکے منہ میں. یہ سن میری تو مانو پھٹ گئی کہ لو اب تو شامت آ گئی حنا کی لیکن حمائل کا جواب سن کے میرے تو چودہ طبق روشن ہوگئے.، ہاں دے دوں گی جو وہ مانگے گا یہ ہمارا گھریلو معاملہ ہے. نشا تڑپ کے بولی. قسم کھا جو کچھ وہ مانگے گا دے گی اسے. اس دن دیکھا تھا اسکے لیپ ٹاپ میں کیا لکھا تھا اس نے اپنی بہنا کے بارے میں، i want to have sex with my sister,نشا نے ہر لفظ چبا چبا کر کہا. حمائل نے اسی اطمینان سے کہا ہاں تو پھر اس نے کوئی غلط حرکت کی تو نہیں نا. دونوں حنا اور نشا اس پر قہقہہ لگا کر ہنس پڑیں. حنا بولی لگتا ہے ماموں کا اچھا وقت آنے والا ہے. حمائل بھی اس بات پر ہنس پڑی. نشا بولی یار لیپ ٹاپ لائیں تیرے بھائی کا دیکھیں کیا چیز ایڈ کی ہے اس نے، اور جواب سنے بغیر میرےکمرے کی طرف بھاگ گئی. آدھے منٹ سے بھی کم میں وہ لیپ ٹاپ بغل میں دبائے کمرے میں آن موجود تھی اور جلدی سے لیپ ٹاپ بیڈ پر رکھ کے تینوں لڑکیاں اس کے سامنے الٹا لیٹ گئیں. تینوں جوانی کے خزانے سے مالا مال تھیں. مگر جو چوتڑوں کا تناسب میری جانم حمائل کا تھا وہ اسکی دونوں سہیلیوں میں نہیں تھا. کمپیوٹر آن کرتے ہی حمائل کے ہاتھ تیزی سے چلنے لگے اور دوسرے ہی لمحے میرا انسیسٹ فولڈر اس کے سامنے تھا. حنا نے ہاتھ بڑھا کے میرا مخصوص فولڈر کھلا اور ننگی تصویروں کا ایک سیلاب آگیا. اس فولڈر میں مختلف لڑکیوں کی پکس اور کلپس تھے مگر ان میں ایک بات کامن تھی کہ ان کا فگر حمائل سے ملتا جلتا تھا. یہ بات سب سے پہلے ڈفر نشا نے محسوس کی اور بولی، حمائل دیکھ یہ سب لڑکیاں تجھ سے کتنی ملتی ہیں. بوب سائز، بٹکس، باڈی سب کی تیری جیسی ہے.حمائل بھی سحرزدہ سی بولے بغیر تصویریں دیکھ رہی تھی. کئی تصویروں کے نیچے میں نے کیپشن دیا ہوا تھا. مثلاً

Me sucking teats ov my sis
My sis suckin my dick
Me eating sis cunt
ایک فائل کو کھولا تو بس انت ہی ہو گئی. اس کلپ میں میں اپنا لن اکڑائے ڈائیلاگز بول رہا تھا
Come baby take my dick, suck it darling, i
will insert my whole dick in your lil cunt
حمائل ایک جھٹکے سے اٹھی اور بولی چھوڑو یار کچھ کھاتے ہیں. حنا شرارت سے بولی ارے ابھی تو وہ باہر گیا ہے واپس تو آنے دو پھر کھا لینا. حمائل نے خونخوار لہجے میں کہا اس سے پہلے میں تیری طبیعت صاف نہ کردوں. یہ کہتے ہی حمائل نے حنا پر حملہ کردیا اور پہلے ہی ہلے میں اسکی برا اوپر کر کے اسکے موٹے نپل کو منہ میں لے لیا. اس اچانک حملے سے حنا چینخ اٹھی اورجب تک وہ سنبھلتی اسکا مما حمائل کی گرفت میں اور چوچی اسکے منہ میں تھے. اس نے ہنستی ہوئے احتجاج کیا حمائل کتی تو میرے ممے خراب کرے گی لیکن اس نے حمائل کو اپنے سینے سے ہٹایا نہیں. حمائل کے منہ کی گرمی نے اسکی زبان چپ کرا دی اور اسکے ایک ہاتھ نے حمائل کے سر کو تھام لیا. ایک منٹ میں ہی کمرے میں مکمل خامشی چھا گئی. نشا بھی چپ چاپ حنا کے ساتھ آکے لیٹ گئی. اسکا ایک ہاتھ حنا کے ممے پر تھا جسے وہ ہلکا ہلکا دبا رہی تھی جبکہ دوسرے ہاتھ سے وہ اپنی پھدی پر مساج کررہی تھی.
میرے لئے یہ سین اتنا گرم تھا کہ میں بیٹھے بٹھائے فارغ ہوگیا. مگر لن تھا کہ اتنی منی نکال کر بھی اسی طرح اکڑا ہوا تھا.
حنا کی آنکھیں بند تھیں اور اسکا ہاتھ حمائل کی گردن پر حرکت کرتا ہوا اسکی برا کی سٹرپ پر پہنچ گیا. اس نے آہستگی سے اسکا کلپ کھولا تو برا نیچے کو گر گیا. میری آنکھیں پھٹ سی گئی تھیں اور میں بے چین تھا حمائل کے بوبز دیکھنے کیلئے.
اگرچہ کمرے میں کنوارے خوبصورت مموں کی دو جوڑیاں پہلے سے ہی نظروں کے سامنےموجود تھیں مگر میرے دل کی جو کیفیت حمائل کے مموں کو دیکھنے کے لئے تھی وہ ناقابل بیان تھی. حنا نے برا کی سٹرپس ہٹا کر برا کے کپ کو پرے کیا اور حمائل کے سرخ وسفید ممے کو کس کیا. اس کے کس کرنے پر حمائل کےمنہ سے بے اختیار ایک اونچی سسکی نکل گئی اور اس کے جسم کی تھرتھراہٹ مجھے دور سے بھی بڑی واضح نظر آئی. جس پوزیشن میں حمائل تھی مجھے اس کے سینے کی صرف سائڈ نظر آرہی تھی اور میں جذبات کی بلند ترین سطح پر تھا. میرا لن پتھر کی طرح سخت ہو چکا تھا اور میں بڑی بے چینی سے اسے ہاتھ میں تھامے بیٹھا تھا. نشا جو اب تک سائڈ پر تھی اپنی تنہائی برداشت نہ کر پائی اور اس نے حمائل کی کمر میں ہاتھ ڈال کے حمائل کو اپنی طرف کھینچ کیا.. اس طرح کھینچے جانے پر حمائل کمر کے بل بستر پر گری اور اس کے شاندار ممے پہلی دفعہ پوری طرح سامنے آگئے. یارو ان  کی تعریف کیا بیان کروں ایسے لگ رہا تھا کہ مکھن کے پیڑوں میں روح افزا ملا کر اسکے سینے پر لگا دیا ہو. نشا بھوکی بلی کی طرح اسکے ممے کو بھنبھوڑنے لگی اور اپنی لمبی زبان سےاسکے ممے کو ایسے چاٹنے لگی جیسے بچے چاک بار کو چاٹتے ہیں. حمائل کے اس طرح کھینچ لئے جانے پر حنا نے ناگوار سا منہ بنایا مگر زیادہ وقت ضائع کئے بغیر حمائل کے دوسرے ممے کی طرف لپکی اور اسے پورا اپنے منہ میں سمونے کی کوشش کرنے لگی. حمائل کا منہ جذبات سے پورا کھلا تھا اور اسکے منہ سے مسلسل سسکیاں نکل رہی تھیں. معاملہ میری برداشت سے باہر تھا اور میرا لن منی کو نہ روک سکا اور پوری قوت سے منی باہر پھینکنے لگا. فارغ ہونے کا یہ عمل اتنا زوردار تھا کہ پہلے کبھی اسکا تجربہ نہیں ہوا تھا. مزے کی شدت سے میرے گھٹنے پورے کھل گئے اور میرا جسم بری طرح جھٹکے کھانے لگا. میں بھول گیا کہ میں روشندان کے چھوٹے سے شیڈ پر بیٹھا ہوں. پھر وہ ہوا جو نہیں ہونا چاہئے تھا. میرے جسم کی ایک ٹکر روشندان کو لگی جس کی زوردار آواز نے جنسی عمل میں مصروف ان پریوں کو بری طرح چونکا دیا. سب سے پہلے حمائل نے ہی مجھے دیکھا اور اسکی آنکھیں ناقابل بیان حد تک پھیل گئیں. معاملے کی نزاکت کا احساس ہوتے ہی میں تیزی سے پیچھے ہٹا اور شیڈ سے سیدھا نیچے پڑی کرسی سے ٹکراتا ہواسخت فرش پر لینڈ کر گیا. بے ہوش ہوتے وقت صرف ایک ہی خیال میرے ذہن میں تھا کہ لگ گئے لوڑے…ایسا سندر پیس میرے گھر میں ہو اور دلہن کسی اور کی بن جائے … یہ دِل ( یا لن کہہ لیں ) کو گوارہ نا تھا… . لہذا اب اِس حسن کی دیوی کو چدنا تھا تو اپنے سگے بھائی سی…مگر یہ سب کیسے ہو… انہی سوچوں میں میں گھر سے باہر نکلا پارْک میں واک کرنے کے لئے … دراصل پچھلے دو دن سے مسلسل اپنے روم میں ہی بیٹھا مٹھیں مار رہا تھا… آج تیسرا دن تھا اس پارٹی نائٹ کو… اور میں گھر سے باہر … . ذہن میں مختلف سوچیں چل رہی تھیں … یہاں تک کہ اسکا ریپ کرنے کا بھی سوچا… کوئی سولڈ پلان نہیں بن پایا… اسی کشمکش میں گھر واپس لوٹا … شام کا وقت تھا … امی نے دروازہ کھولا … انہیں سلام کیا اندر آیا … وہ مجھے بولیں … . اچھا ہوا بیٹا ٹائم پہ آ گئے تم میں ذرا نہانے جا رہی ہوں اور حمائل اپنے روم میں پڑھ رہی ہے کافی دیر پہلے گئی ہے کہہ رہی تھی کہ کوئی ڈسٹرب نا کرےاسے … اور ہاں اسکا نیٹ بھی نہیں چل رہا تھا تمہارے لیپ ٹاپ سے کوئی اسائنمنٹ وغیرہ ڈاؤن لوڈ کی اس نے یو ایس بی میں لے گئی … خیر میں چلتی ہوں … .یہ کہہ کر امی اپنے روم میں چل دی… . مم… اسائنمنٹ … لوڑا میرا اسائنمنٹ ڈاؤن لوڈ کی اس نے … اس نے یو ایس بی میں یقینا کوئی اسٹف اٹھایا ہوگا … اس فولڈر میں اتنا کچھ تھا… دیسی انسیسٹ اسٹوریز وغیرہ بھی … دوستوں کے سامنے تو ڈیٹیل میں نہیں دیکھ سکی اب جب 2 دن بَعْد میں گھر سے نکلا ہوں تو اسٹف اٹھا لیا اِس نے … اور جب میرا لیپ ٹاپ یوز کر رہی ھوگی تو امی نے دیکھ لیا ھوگا اسی لیے امی کو یہ بہانہ لگا دیا اس نے … واہ جی واہ ساڈے نال گیما ں ( گیمز )… . میں بلی کی پھرتی کے ساتھ اسی روشن دان پر پہنچ گیا اور اندرجھانکا … اندر جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ اس کے پی سی کے سوا سارا روم نظر آتا ہے … وہ اِس وقت پی سی کے سامنے ہی بیٹھی تھی اور مجھے اس کا صرف فیس نظر آ رہا تھا… اس نے بالوں کا جوڑا بنایا ہوا تھا اور نظر کی عینک بھی پہنی تھی… . مم… عینک مطلب کچھ پڑھ رہی ہے لب بھی ہل رہے ہیں … مطلب سیکس اسٹوریز کا پیج اوپن کیا ہے … اچھا کہیں واقعی اسائنمنٹ نا بنا رہی ہو کیوں کہ اس کے نیٹ میں پرابلم تو ہے ہی …لیکن بابو یہ بھی تو سچ ہے نا کہ ایک بار اتنا پورن میرے لیپ ٹاپ میں دیکھ لے کوئی اور پھر اگنور کر دے … یہ ممکن نہیں … پھر میرے باہر جاتے ہی لیپ ٹاپ کی ضرورت کیوں پڑی اسے میرے ہوتے ہوۓ تو نہیں کہا اس نے … شاید میرے منه نا لگنا چاہتی ہو… . اِس طرح کے کئی متضاد خیالات میرے ذہن میں چل رہے تھے کہ اتنے میں وہ چیئر سے اٹھی … اور سب سوالوں کا جواب مل گیا … . حمائل اِس وقت کمپلیٹ ننگی تھی اور اسکا لیفٹ ہاتھ اس کی پُھدی پہ تھا… چہرہ فل بلش اور صرف چہرہ ہی نہیں اسکی گردن اور ممے بھی سرخ ہو رہے تھے … رائٹ ہاتھ سے اس نے عینک اتاری اور بیڈ پر الٹی لیٹ گئی اور لیفٹ ہاتھ سے چوت مسلنے لگی… پھر تھوڑی دیر بَعْد جب خوب گرم ہوئی تو ہاتھ نکالا اور تکیہ اٹھا کر رانوں کے بیچ میں دے دیا اور لگی پمپنگ کرنے …پیچھے سے دیکھنے پر یہ منظر بہت دلکش لگا… ام ام مم کی آوازیں بھی نکال رہی تھی دھیمی دھیمی … تھوڑی ہی دیر میں اسکی سپیڈ بڑھ گئی وہ بے قابو ہونے لگی… سانسیں اوپر نیچے …ٹانگوں کی حرکت اور تیز … اور پھر اسکا بدن مکمل اکڑ گیا اس کے منه سے آہوں کی آوازیں آنے لگیں اور پھر وہ ٹھنڈی پڑ گئی … اسکی چوت نے جوانی کے مزے سے سرشار ہو کر رس چھوڑ دیا تھا… وہ اسی حالت میں لیٹی رہی … یہ سب منظر تو کمال کا تھا… دیکھ دیکھ کر دِل ہی نہیں بھر رہا تھا… لیکن اب آگے ھونا ہی کیا تھا اس نے اٹھ کر واشروم ہی جانا تھا… اور اِس سے پہلے کہ امی واپس آتی اور کوئی نئی مصیبت کھڑی ہوتی میں نے وہاں سے اُتَر کر واپس روم میں جانا غنیمت سمجھا ویسے بھی مجھے اب غور و فکر کر کے سچویشن کی حقیقت کو سمجھنا تھا…. میں اپنے روم میں بیٹھا سوچنے لگا… لو جی سچویشن یہ ہے کہ امی کہہ رہی تھی کافی دیر سے اندر ہے … میرے لیپ ٹاپ سے اس نے پورن بھی اٹھایا ھوگا یقینا … یعنی پورن بھی دیکھا …مگر اس وقت تو وہ پڑھ رہی تھی… اور پڑھنے کو میرے پاس صرف انسیسٹ اسٹوریز تھیں وہ بھی دیسی… اس کا مطلب ہے کہ باوجود اِس کے اس نے پورن بھی دیکھا سہی طرح گرم وہ بہن بھائی کے سیکس کے بارے میں پڑھ کر ہوئی تبھی اس نے مٹھ ما ری… اور پھر دیسی اسٹوریز بھی تو کمال کی ڈاؤنلوڈ کر رکھی تھیں میں نے چن چن کر.. کس کی مٹھ رکتی ہے انہیں پڑھ کر جو حمائل قابو کرتی خود کو… اچھا ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اس نے پورن دیکھ کر بھی فنگرنگ کی ہو یہ پڑھ کربھی … پھر جتنی گرم وہ ہے 10 12 بار چھوٹ کر ہی ٹھنڈی ہوگی …خیر یہ تو ڈن ہے کہ اس نے اسٹوری پڑھ کر فنگرنگ کی… آرگیزم ہوا اور وہ ریلیز ہوئی … لیکن یہ چینج کیسے آیا … 3 دن پہلے تو آنْسُو بہا رہی تھی یہ سب دیکھ کر… اچھا بندے کا ذہن بدلتے کتنا ٹائم لگتا ہے … میرے ساتھ بھی تو یہی ہوا تھا ایک سیکس سے بھرپور نظارے نے میرا مائنڈ سیٹ چینج کر دیا… وہ بھی تجسس کے مارے پڑھ رہی ھوگی اور مائنڈ چینج ہو گیا … . یعنی اب راستہ آسان ہے … اگر وہ بھی چدنا چاہتی ہے تو دیر کیسی آج رات ہی چلتا ہوں اس کے روم میں …. . نہیں نہیں یہ کیا بکواس ہے … ایک لڑکی نے اپنی تنہائی میں اگر کچھ سوچا اور فنگرنگ کر لی تو ضروری نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے چدنا چاہتی ہو یہ سب ون ٹائم پلے بھی تو ہو سکتا ہے پھر ممکن ہے سب بھول جائے وہ … اور ویسے بھی میں اسے چودنے کے معاملے میں خاصا سیریس ہوں اِس لیے کچی گوٹیاں نہیں کھیلنی … ایک پلان کے تحت کروں گا یہ سب … . اور پھر میں نے رات گئے تک برین اسٹورمنگ کی کچھ بکس بھی پڑھی تھیں سیڈکشن کے حوالے سے . . انسیسٹ اسٹوریز بھی … اور اپنا مشاہدہ بھی تھا لہذا جو پلان تیار ہوا وہ آپ کے سامنے حاضر ہے … . یہاں میں ایک بار پھر سے اپنے ریڈرز کو واضح کر دوں کہ یہ جس ایک افسانہ ہے … اور لکھنے کا مقصد بھی صرف انٹرٹینمنٹ ہے اِس لیے اگر اوور ایکسائٹمنٹ ہو تو کمپیوٹر اسکرین سے اٹھنے سے پہلے جذبات ٹھنڈے کر لیجئے گا … اگر آزمودہ پلان ہوتا تو ضرور تجویز کرتا فل حال کی تجویز یہی ہے کہ یہ صرف ایک کہانی ہے اس پر عمل نہ کریں …بہن کو چودنے کا پلان 3 فیز پر مشتمل تھا فرسٹ فیز یہ تھا کہ مجھے اپنی سسٹر کے پرائیویٹ پارٹس کو چھونا تھا اچھی طرح سے اور وہ بھی صرف ھاتھوں سے نہیں بلکہ فل باڈی کونٹیکٹ بشمول لن … اب یہ سب بہن کے ساتھ کرنا اتنا آسان تو نہیں وہ بھی اس کے پورے ہوش و حواس میں ہوتے ہوۓاور وہ بھی فرسٹ اسٹیپ میں اس لئے اِس سب کے لیے ضروری تھا کہ اس کو نیند کی گولیاں دے کر سلایا جائے اور پھر یہ حرکت کی جائے … اِس کی وجہ بھی سن لیں … آپ نے سنا ھو گاکہ اندھے لوگ جب کسی کو ایک بار ٹچ کر لیں تو وہ ٹچ کبھی نہیں بھولتے اور اسی ٹچ کی بیس پر انہیں یاد رہتا ہے کہ کون دوست ہے کون دشمن … یہ حقیقت صرف اندھے لوگوں کے لیے نہیں دراصل سب کے لیے ہے … فرق صرف اتنا ہے کہ چونکہ ہماری باقی سینسز بھی کافی اسٹرونگ ہیں اس لئے ٹچ کی فیلنگز کو یاد رکھنا ہماری باڈی کے لیےآسان نہیں … لیکن اگردماغ غنودگی کی حالت میں ہو یعنی نیند میں اور پھر باڈی کو ٹچ کیا جائے اور وہ بھی باڈی کے ان پارٹس کو جنہیں بہت کم چھوا جاتا ہو… تو پھر مائنڈ کو ایک سگنل جاتا ہے اور مائنڈ میں محفوظ ہوجاتا ہے … اب جب ہوش و حواس میں بھی کوئی اس باڈی کو ٹچ کرے گا تو چونکہ مائنڈ کی چپ میں اس کا ریکارڈ پہلے سے ھوگا اس لئے باڈی اس ٹچ کو ہمیشہ ویلکم کرے گی … میں یہ وجہ ڈیٹیل میں بھی بیان کر سکتا تھا مگر یہ بائیو اور مائنڈ سائنسز آپ لوگوں کو بور کر دیں گی سومختصرا جتنا ہو سکا سمجھا دیا… سیکنڈ سٹیج پہ مجھے اس کے کونشیس مائنڈ کو جیتنا تھا… دراصل اندر سے ایک لڑکی جتنا مرضی راضی ہو سیکس کرنے پر یا جتنی مرضی گرمی کیوں نا چڑھی ہو جب تک اسکا ذہن اِس بات پہ رازی نہیں ھوگا وہ کبھی بھی خود کو مکمل طور پر کسی کو نہیں سونپے گی … سیکس کے جذبات سے بے قابو ہو کر اگر کوئی لڑکی ایسی غلطی کر بھی بیٹھے تو جتنی جلدی ہو اسکی توبہ کر لیتی ہے اور دوسری بار نہیں کرتی… لیکن اگر کوئی ذہنی اور دِلی طور پر مطمئن ہو تو ہر بار یہ حرکت کرنا چاہتی ہے … اب جو حرکت میں کرنا چاہ رہا تھا اس میں میری سسٹر کی سچویشن کافی مختلف تھی اس کے لیے اپنے بھائی سے سیکس کرنا اتنا آسان نہیں تھا… لہذا میرا اس سے کلوز ھونا اور اسے اِس بات کی یقین دہانی کرا نا کہ ہمارے تعلق میں یہ سب بھی ممکن ہے بہت ضروری تھا اور اِس کے لیے اس سے دوستی اس سے قربت اور اِس بات کا اظہار کہ میں کیا چاہتا ہوں یہ سب کرنا تھا مجھے … دوستی اور قربت پہ کام تو پہلے دن سے ہی شروع ھونا تھا اور مسلسل چلنا تھا ہاں البتہ جذبات کے اظہار کے لیے میں نے ذومعنی باتیں کرنے کا پلان بنایا تا کہ اس تک بات پہنچ بھی جائے اور مجھے کہنا بھی نا پڑے … اور اگر بات بگڑ بھی جائے تو تمہیں پتا ہے “ میرا یہ مطلب نہیں تھا ”… . .اِس سیکنڈ سٹیج کو آپ “دماغ کو جیتنا ” کا ٹائٹل بھی دے سکتے ہو دراصل ہمارے پاکستان اور انڈیا دونوں کا جو کلچر ہے وہ عورت کو اتنی گنجائش تو دیتا نہیں کہ جوان ہونے کے بَعْد کلب میں جائے نت نئے بوائے فرینڈز بنائے … لہذا اسکی سیکس سے متعلق خواہشات اندر ہی پلتی اور دبتی رہتی ہیں … اورمیں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ اِس بات سے شاید بے خبر ہوں لیکن آپ کی بہنیں بھی بہت سے موقعوں کا خوب فائدہ اُٹھاتی ہیں لیکن خود بڑھ کر کچھ نہیں کرنا کوئی اور کر جائے تو ٹھیک ہے … خود سوچیں بازار میں رش والی جگہ میں گھسنا تو مجبوری ہے لہذا گُھس جاؤ یہ جانتے ہوۓ کہ پتا نہیں کتنے لوگ انگلیاں چڑھا دیں گے … خود کسی مرد سے ہنس کر بات نہیں کریں گی … بس میں رش کے دوران چاھے 32 35 لوگ بُنڈ پہ لن رگڑ جائیں ( جو کچھ حمائل کے ساتھ ہوا اس بس میں روز کتنی عورتوں ساتھ ہوتا ھوگا) …یونہی ڈوپٹہ کبھی سر سے بھی نا اترنے پائے لیکن بھری محفل میں بےبی کو بریسٹ فیڈ کرانا ہو تو مما ننگا کرنے میں کوئی حرج نہیں … . اور میں شرط لگاتا ہوں کہ کتنی بہنوں اور ماؤں نے خود کو ڈاکٹروں کے سامنے ننگا کیا ھوگا اور خود بھی سچویشن کا مزہ لیا ھوگا اور دوسرے کو بھی مزہ دیا ہوگا … آپ کو اور مجھے خبر نہیں یہ اور بات ہے … . لہذا ایک بار ذہنی طور پر راضی کر لو انہیں پھر موجیں لوٹو اور بات ہے … . لہذا ایک بار ذہنی طور پر راضی کر لو انہیں پھر موجیں لوٹو …یہ سیکنڈ سٹیج کب تھرڈ میں کنورٹ ھوگی یعنی فکنگ سٹیج اور کب ھوگی اس کا آئیڈیا بھی آپ کو خود ہو جائے گا مگر میں صرف اتنا واضح کر دوں تھرڈ سٹیج میں صرف اسکی کی چودائی ہی نہیں ہو گی بلکہ اس کو پیار سے چودنا ہوگا وہ خود کو کوئی سیکس اوبجیکٹ نا سمجھے بلکہ ایک محبوبہ سمجھے ..لو جی اب بات ھو گی کہ میں نے ان تینوں فیز کو کیسے سر کیا… سب سے پہلے تو اس سے دوستی کی… وہ کوئی خاص مشکل کام نہیں تھا… منڈے کا دن تھا میں اس کے روم میں گیا دوپہر کے وقت …میں … ہیلو حمائل کیسی ہوحمائل … ھم ٹھیک ہوں بھیا بولو کیسے آنا ہوا … ( وہ کچھ خوش نہیں تھی میرے اس کے روم میں جانے سے تبھی روکھے اندازِ میں بات کر رہی تھی)میں … کم آن اب تم سے بات بھی نہیں کر سکتاحمائل … کر سکتے ہو… اور یہی تو کہہ رہی ہوں میں کہ کیا بات ہے …میں … اچھا وہ میں سوچ رہا تھا کہ سارا دن بور ہوتا ہوں میرے لیپ ٹاپ میں کچھ ویڈیو گیمز ہیں 2 پلیئرز والی تم چاہو تو تھوڑی کمپنی دے دو… ہوتی تو تم بھی فارغ ہی ہوحمائل … او کے دیکھوں گی فل حال مجھے میرا ناول پڑھنے دووہ اِس وقت کوئی لیڈیز کے لیے لکھا ہوا ڈائجسٹ پڑھ رہی تھی… . اِس میں کونسا پیو والا لن ڈھونڈھ رہی ہے تو بہن چود… . میرا اندازہ ٹھیک نکلا اسکی وہ پرسوں رات والی حرکت وہی فنگرنگ والی صرف ون ٹائم مزہ تھا اسے اپنے بھائی میں کوئی انٹرسٹ نہیں تھا… . خیر میں کونسا قسمت سے کوئی توقع کر رہا تھا میرا پلان بھی تو بدل چکا تھا… اب اسے آہستہ آہستہ پٹانا تھا مجھے …میں اس کے روم سے نکل آیا … شام کو میں گھر سے باہر نکلا اور 2 آئس کریم شیکس لے آیا راستے سے سلیپنگ پلز بھی لیں اور اس کے گلاس میں 2 ٹیبلیٹس ڈال دیں ایک اچھی گہری نیند کے لیے یہ کافی تھیں یہ بات میں نے کیمسٹ سے بھی پوچھ لی… . لہذا گھر آیا اور سیدھا اس کے روم میں گیا … ہیلو بول کر اسے وہ شیک پکڑایا …حمائل … اوہ ہو آج تو لگتا ہے بارش ھوگی یہ بہن کا خیال کیسے آگیا تمہیں …میں … ارے تمہیں بھولا کب تھا وہ بس کیا ہے کہ میرےدوست بھی چھٹیوں میں گاؤں چلے گئے ہیں اور میں اکیلا گھر میں بور ہوتا ہوں تو سوچا تمہارے ساتھ تھوڑا ٹائم پاس کر لوں … تھوڑی کمپنی ہو جائے گی میرے لئے …حمائل … اچھا تو دوسرے الفاظ میں یہ رشوت ہے تا کہ میں تمہارے ساتھ ویڈیو گیم کھیلوں . .میں … اچھا وہ تو آپ کی مرضی پہ منحصر ہے … میں تو صرف بہن سمجھ کر لایا ہوںحمائل … اچھا بس بس ( مذاق میں ) ہے تو یہ رشوت ہی اور اگر تم چاہتی ہو کہ میں گیم کھیلوں تو روز کوئی نا کوئی تحفہ لانا ھوگا اسی طرح کامیں … ہاں ضرور کیوں نہیں ( دِل میں … بہن میں تو کہتا ہوں ابھی ڈیل کرو چوت مروانے کا کیا لو گی )وہ مسکراتے مسکراتے ملک شیک پینے لگی… میں نے وہاں کھڑے کھڑے ادھر اُدھر کی باتیں کی اور پھر اپنے روم میں آ گیا … ڈائیننگ ٹیبل پر ڈنر کے وقت کافی عرصے بَعْد میں امی ابو اور حمائل اکٹھے ہوۓ تھے … كھانا کھا کر حمائل بولی… بھائی میں تو بہت تھک گئی ہوں سر میں بھی دَرْد ہے لہذا میں تو سونے جا رہی ہوں …یہ کہہ کر وہ چل دی تو ابو امی سے بولے … بیگم ہم بھی سوتے ہیں … امی بولی… ارے ابھی سے … اتنی جلدی کیا ہے … میں نیچے پلیٹ کی طرف دیکھ کر كھانا کھا رہا تھا… ابو نے میری طرف دیکھا پھر امی سے بولے … وہ بس آج ذرا جلدی سونا ہے تم بھی آ جاؤ … کام بھی ہے تم سے ذرا … امی تھوڑا چڑ کر بولی… اچھا چلیں آپ آتی ہوں یہ برتن سمیٹ کر… . ابو اٹھ کرگئے …امی برتن سمیٹتے ہوۓ منه ہی منه میں بولی… . جذبات بڑے ہیں ڈھنگ سے ھونا پھر بھی نہیں اِس سے … میں بولا… جی ممی کیا کہا … امی بولی ( غصے سے ) … کچھ نہیں کھا لیا ہو تو جاؤ تم بھی اپنے روم میں … میں بھی اٹھ کر روم کی طرف آ گیا … آج مجھے پہلی بار آئیڈیا ہوا کہ امی ابو کا تعلق کافی پیچیدہ ہے … امی ابو کے ساتھ سہی معنوں میں خوش نہیں ہیں … خیر امی کو چھوڑو اُدھر حمائل کی چوت اپنے بھائی کا انتظار کر رہی ہوگی … . .اپنے روم میں تقریباً 2 گھنٹے بیٹھا رہا … بیٹھ کر پورن دیکھتا رہا 2 گھنٹے بَعْد مجھے لگا کہ یہ ٹائم پرفیکٹ ہے حمائل بھی گہری نیند میں ھوگی اور اگر امی ابو نے بھی اگر کوئی بہن چدائی کی ہے تو اب تک سو ہی گئے ہوں گے فارغ ہو کر… اس لئے میں پوھنچا سیدھا حمائل کے روم میں …کانفیڈینس سے اینٹر ہوا … روم کا ڈور بند کیا اندر اے سی کی ٹھنڈک تھی… لائٹ جلائی … اور بیڈ کی طرف دیکھا … حمائل اسکائی بلو کلر کی باریک شلوار قمیض میں سیدھی لیٹی سو رہی تھی… اس کا چہرہ بتا رہا تھا کہ خوب گہری نیند میں ہے …ایک دو بار اسے آوازیں دے کر اور ہلکا سا ہلا کر کنفرم بھی کر لیا میں نے … لو جی آج ذرا بغور جائزہ ہو جائے … پہلی بار اتنی روشنی میں اتنے قریب آنے کا موقع ملا ہے … چونکہ اب حمائل کے جاگنے کا ڈر نہیں تھا اِس لیے میرا کانفیڈینس یوں تھا جیسے اپنی بیوی کے قریب جا رہا ہوں …حمائل کی قمیض کا گلا بڑا تھا اس میں سے گورا چٹا سینہ دِکھ رہا تھا اور سائڈ پہ وائٹ برا کی اسٹریپ بھی … ممّے حسب معمول تنے ہوۓ تھے … اور قمیض اتنی باریک تھی کہ پیٹ کی جھلک بھی دِکھ رہی تھی… قمیض تھوڑی اوپر تھی… اتنی کے شلوار کا نیفا دِکھ رہا تھا … میں اس کے قریب گیا اس کے ہونٹوں پر لائٹ سی کس دیا اور پھر سیدھا اسکی رانوں کے بیچ میں اپنے اندازے سے اسکی چوت پہ ایک لائٹ سی کس… شلوار کے اوپر سے ہی … اب میں اٹھا اور اپنی ٹی شرٹ اور شارٹس دونوں نکال دیے … کسی بپھرے ہوۓ گھوڑے کی طرح اچھلتے لن کو ہاتھ کی لگام ڈالی اور سیدھا اپنی بہن کی رائٹ سائڈ پہ اس کے بستر پر لیٹ گیا … میں نے کبھی سوچا بھی نا تھا کہ ایک دن یوں بہن کے ساتھ ننگا لیٹنا نصیب ہو گا … اب میں نے اسکا رائٹ ہینڈ اپنے لن پہ رکھا جو کہ میرے پیٹ پہ پلسٹیاں کھا رہا تھا… . حمائل کے نرم ھاتھوں کا لمس ملتے ہی پورے بدن میں کرنٹ دوڑ گیا اور لن بھی لیس دار پانی بہانے لگا… میں کچھ دیر یونہی لیٹا سچویشن کا مزہ لینے لگا… پھر لیٹے لیٹے اس کے اوپر ہو گیا … لیکن اس پہ وزن نہیں ڈالا … اس کی گردن پہ لائٹ سی کس دے کر بولا… میری جان آئی لو یو سو مچ تمھارا وفا دار کتا بن کر رہوں گا بس ایک بار میری ہو جاؤ … میں واپس رائٹ سائڈ پہ لیٹا اور یونہی لیٹے لیٹے اس کے مموں پر لائٹ سی کس کی اور بولا… سچ بتاؤ تمہیں یہ پسند ہے یا نہیں … پھر اسکی قمیض اوپر کر کے اسکا پیٹ ننگا کر دیا… . کومل پیٹ پہ دھیرے سے ہاتھ پھیرا اور بولا… ارے کرنے دو نا بابا اسی پیار میں ہی تو مزہ ہے … کوئی نہیں دیکھتا یار یہاں بس ہم دونوں ہیں …دراصل حمائل تو نیم بے ہوش پڑی تھی . . بالکل بے سدھ … یہ سب میں خود تصور کر کر کے بول رہا تھا… دراصل کیا کروں پہلی بار عورت کے جسم کو چھونے کا موقع ملا وہ بھی اپنی بہن وہ بھی بے ہوش اس لئے اپنے مزے کو دوبالا کرنے کے لیے یہ سب کر رہا تھا… اب میں نے اس کی رائٹ سائڈ پہ لیٹے لیٹے جب کہ اسکی قمیض بھی اس کے پیٹ پہ نا تھی اس کے نیفے پر ہاتھ رکھا اور اسکی طرف دیکھ کر بولا… تمہیں میری قسم ایک بار دیکھنے دو… پلیز ایک بار… اسکی شلوار کو تھوڑا اوپر کھینچا اندر جھانکا … پیٹ جو کہ ایک دم سپاٹ تھا اور اسکی پسلیؤں سے اسکی ناف تک دراصل اس سے بھی تھوڑا نیچے تک ایک مسلسل سلوپ اور اترائی تھی… کچھ آگے جا کر جتنا حصہ شلوار کے نیچے تھا وہ اترائی ختم ہوئی اور دوبارہ جسم تھوڑا اوپر کو اٹھتا ہوا محسوس ہوا … اِس ایریہ کی اسکن باقی ایریہ کی نسبت زیادہ وائٹ تھی… بلا شبہ اِس لیے کیوں کہ وہاں باقاعدہ ہیر ریموو ہوتے تھے اور اِس وقت بھی بالکل صاف تھی… اسی اٹھی ہوئی جگہ پہ ایک گہری لکیر نے دو ہونٹ کرئیٹ کیے ہوۓ تھے جو کہ قدرے موٹے تھے … میں نے ایک نظر حمائل کے چہرے پر دیکھا اور پھر اس کی شلوار میں جھانکا … پتلے لبوں والی اِس حسینہ کی چوت کے موٹے ہونٹ … حسن کا دلکش امتزاج تھا… میں دوبارہ اس کے اوپر لیٹا (اپنے دونوں گھٹنوں کے بل تھا اس وقت ) تھوڑا نیچے جھکا تو لن اس کے پیٹ پر ٹچ ہونے لگا… میں نے لمبائی کے رخ لن پیٹ سے چپکایا اور تھوڑا رب کیا… اس کے جسم کی گرمی لن کو بے قرار کر رہی تھی… اب میں نے اس کی شلوار کو تھوڑا اوپر کھینچا آگے ایک غار سا بنا اور اس غار میں میں نے اپنا لن ڈال دیا… یعنی پہلے لن اگر اوپر کی طرف لمبائی کے رخ تھا تو اب نیچے کی طرف لینتھ وائز تھا… اور لن کے اوپر کی اسکن اسکی باڈی سے ٹچ ہو رہی تھی… میرا ٹوپا اِس وقت اسکی پُھدی کے لبوں کے بیچ میں تھا اور جیسے ہی وہ وہاں ٹچ ہوا حمائل کی باڈی میں تھوڑی موومنٹ آئی … بہت معمولی … لیکن وہ اتنی گہری نیند میں تھی کہ اِس سے زیادہ موو نہیں ہوئی … ہاں مگر مجھے آئیڈیا ہو گیا کہ اگر میں حد سے زیادہ بڑھا تو اسکی آنکھ کھل سکتی ہے … اور میری گانڈ … . .اب میں نے نیکسٹ موو لیا . . نہایت نرم ھاتھوں سے اور بہت پیار سے اس کی شلوار کو نیچے کھسکا دیا… اِس بار اس کے چوتڑوں کے نیچے سےبھی … تا کہ چوت ایک دم ننگی ہو کر آنکھوں کے سامنے آ جائے … شلوار اور نیچے کی اور ٹخنوں تک لے گیا … اس کی ٹانگوں کو اکٹھا کیا… صرف گھٹنوں کے نیچے سے اور پھر دونوں ٹانگوں کو سائڈ پہ کر کے کھول دیا… اب مجھے حمائل کی سڈول رانوں میں سے اسکی پُھدی ایکدم دعوت نظارہ دے رہی تھی یہ پوز ایسا تھا جیسے مشنری سیکس پوزیشن لیکنکھلی ٹانگوں کے ساتھ … کمال کا منظر تھا یار… دودھ جیسی گوری چٹی رانوں کے بیچ ایک دم کریم کلر کی پھولی ہوئی پُھدی جس کے لب گلابی تھے … اور جیسے مجھے مسلسل کہہ رہی ہو “اب چاٹ بھی لو نا”… . میں نے بہن کی رانوں میں منه دیا… اور سیدھا اسکی پُھدی کے منه پر پہنچ گیا … اسکی چوت جسے وہ پیار سے اندام نہانی کہتی ہے اوپر سے وائٹ تھی بلا شبہ اسکن کلر کا بھی ٹچ تھا اس سفیدی میں … دونوں باہر والے وائٹ ہونٹ یوں تو جڑے تھے لیکن تھوڑے سے گلابی اندرونی ہونٹ بھی دِکھ رہے تھے … چوت کے ختم ہوتے ہی ایک ھڈی تھی کہ جس کے پر گانڈ کا سوراخ تھا… وہ بھی ایک دم گلابی … میں نے آگے بڑھ کر بہن کی کلٹ میں اپنے ناک کی ٹپ لگائی … اور سونگھنے لگا… واہ کیا خوشبو تھی… اتنی ایروٹک کے لن کو ٹچ کیے بغیرمنی نکل جائے … میں مزے سے بے قابو ہونے لگا… کبھی سوچا نہیں تھا کہ بہن کی پُھدی کے اتنے قریب جانے کا موقع ملے گاکہ میری گرم سانسیں اور اسکی مست مہک ایک ہو جائیں گی … . اتنے میں باہر ٹی وی لاؤنج میں کچھ کھٹکا ہوا … جیسے وہاں کوئی موجود ہو… . میری تو پھٹ کے ہاتھ میں آ گئی … ایک دم بیڈ سے نیچے اچھلا … سب سے پہلے لائٹ بند کی…. بہن چود اگر امی ہوئی تو میں تو مر گیا … . ٹی وی لاؤنج میں جو بھی ھوگا اس نے حمائل کے روم کی لائٹ تو جلتی دیکھی ہی ہوگی … میں نے شارٹس پہنا اور باہر نکلا ٹی وی لاؤنج میں تو کوئی نہیں تھا ہاں البتہ کچن میں پھر سےکھٹکے کی آواز آئی … وہاں جا کر لائٹ جلا کر دیکھا تو کچھ نا دکھا اتنے میں ایک چوہیا نیچے دوڑتی نظر آئی … میری سانس میں سانس آئی … اسی نے کوئی برتن وغیرہ کو چھیڑا ہو گا … مگر اب دِل میں خوف پیدا ہو گیا تھا… فل حال تو چلو چوہیا تھی اگر اگلی بار امی ہوئی … اور وہ سیدھا حمائل کے روم میں گُھس آئی اور مجھے اپنی سگی بہن کی رانوں میں منه دیتے دیکھا تو کیا سوچے گی … . خیر کیا سوچے گی میں تو کسی ہوس زدہ کتے کی طرح تھا ہی اور حمائل نے بھی آج نہیں تو کل ایک کتیا سے بھی زیادہ برے طریقے سے چدنا تھا…اور اب اگر یہ تھوڑا سا آج ہو جائے تو اِس میں کیا حرج ہے … . ابے بہن چود اپنے آپ سے باتیں کرنا بند کر اور جو کام آدھا چھوڑ کر آیا ہے وہ پورا کر سگی بہن پُھدی کھول کر بیٹھی ہے تو اپنی فلاسفی جھا ڑ رہا ہے … میں واپس ٹی وی لاؤنج میں آیا اور جا کر ممی پاپا کے روم کو باہر سے کنڈی لگا دی… تا کہ اگر وہ جاگ بھی جائیں تو باہر نا آ سکیں … اب یہ رسکی تو تھا مگر بہن کے بستر میں ننگی حالت میں کھڑے لن کے ساتھ اس کی چوت میں منه دیے پکڑے جانے سے تو بہتر تھا… کوئی بھی بہانہ کر دوں گا یا مانوں گا ہی نہیں کہ میں نے دروازہ لوک کیا تھا باہر سے … خیر دیکھی جائے گی … میں واپس حمائل کے روم میں آیا لائٹ جلائی … اور پھر اس کے بستر پہاب چونکہ میرے دِل کو نا خوشگوار واقعہ ہونے کا خدشہ پڑ گیا تھا اِس لیے میں نے زیادہ رومینٹک ہونے اور فلمی جملے بولنے سے گریز کیا… حمائل کی پُھدی کو لرزتی ہوئی زُبان سے چاٹا … وہ فل حال خشک تھی… پھر زُبان کی ٹپ کو کلٹ میں ڈالا … یوں معلوم ہوا جیسے عمدہ قسِم کے ویلوٹ کی تہہ لگی ہوئی تھی اور میں نے اس تہہ میں پڑے گیپ میں زُبان رکھ دی ہو… یہ تو میری فیلنگز تھیں لیکن حمائل کو بھی کم مزہ نہیں آیا کیوں کہ اسکی باڈی نے بھی ری ایکٹ کیا ہلکی سی جھرجھری لی اس کے بدن نے اور گردن بھی سائڈ پہ کی. ارے یہ کہیں جاگ تو نہیں رہی …نہیں جاگ رہی ہوتی تو پہلے ہی جاگ جاتی جب میں نے شروع میں کنفرم کیاتھا… پھر ویسے بھی میڈیسن فول پروف تھی اس کا سونا تو پکا ہے … تو پھر میں 2 گولیاں اور ڈال دیتا… یا پھر شاید ڈال دیتا تو بھی فرق نا پڑتا … شاید یہ ہے ہی اتنی گرم کہ نیم بے ہوش تو کیا نیم مردہ حالت میں بھی رسپونڈ کرے گی … . بلے بھائی بلے ہمیں پتا ہی نہیں کہ بہن کی جوانی کس نہج پہ پہنچ گئی ہے … اب میں نے ذرا سا پھر چاٹا … 4 5 بار چاٹنے کے بَعْد میں نے اپنے لن کے ٹوپےکو اسکی پُھدی پر ٹچ کیا جیسا کہ توقع تھی اس کے بدن نے پھر جھرجھری لی… ٹوپے نے پُھدی کے باہر والے ہونٹ کو تھوڑا کھولا تو مجھے آئیڈیا ہوا سیلڈ پُھدی کسے کہتےہیں … اپنی سوہنی بہنا کی پُھدی میں پنک کلر کی جھلی مجھے صاف دِکھ رہی تھی… جو بالکل سلامت تھی… اور اِس کے ہی اوپر ایک چھوٹا سا ہول تھا شاید ماہواری کے لئے … خیر میں کوئی ڈاکٹری معائینہ تو کر نہیں رہاتھا… . کچھ دیر لن آرام آرام سے مسلنے کے بَعْد میں نے اس کی پھدی کے اوپر کے ایریہ میں بھی مسلا اور گانڈ کے سوراخ پہ بھی اور رانوں پہ بھی … اس کے ممّے چُوسنے کا دل تو بہت کیا لیکن یہ اتنا آسان ناتھا… وجہ سادہ سی ہے جتنا آسان شلوار نیچے کرنا ہے اتنا آسان قمیض اوپر کرنا نہیں … وہ بھی اتنی کہ ممے بھی آزاد ہو جائیں … پھر ان کو اس ٹائیٹ برا کی قید سے کون چھڑائے اِس سب چکر میں اتنی دھینگا مشتی ہونی تھی کہ ڈر تھا کہ حمائل جاگ ہی نا جائے … اس لئے یہ ممے چُوسنے والی حسرت دِل میں ہی رہ گئی ویسے بھی آج نہیں تو کل پوری جوانی چوسنی تھی میں نے اس لئے جلدبازی کیسیاب میری اصل محبت میری بہن کی بُنڈ کی باری تھی میں نے اسے بڑی احتیاط کے ساتھ اُلٹا کیا…حمائل کے نرم نرم چوتڑ میری آنکھوں کے سامنے تھے اور اتنے معصوم لگ رہے تھے کہ کیا بتاؤں … میں نے جھک کر اس کے دونوں چوتڑوں پر باری باری بوسہ دیا… ایک حدت سی اٹھ رہی تھی ان میں سے اور اب مجھے احساس ہوا کہ اس بابے کا کوئی قصور نہیں تھا کس بہن چود کا ہاتھ میرا مطلب ہے لن رکتا ہے اِس جوانی کے خزانے کو دیکھنے کے بعد… . میں نے لن اسکی سوکھی گانڈ کی دراڑ میں پھیرا مگر بالکل آرام آرام سے کہیں جاگ نا جائے نا اِس لئے … پھر دوبارہ اس کے چوتڑوں کو چومنے لگا… یار ان کو کس کر کر کے دِل ہی نہیں بھر رہا تھا… اب میں نے اپنی رائٹ اور لیفٹ گال دونوں کو اس کے چوتڑوں پر باری باری کچھ سیکنڈز کے لیے چپکایا …دکھنے میں تو چوتڑ روئی کے گالوں کی طرح سفید تھے مگر انکی نرمی صرف باہر والی جلد کی تہہ تک تھی ورنہ بُنڈ تو بہت ٹائیٹ تھی تبھی اِس طرح اٹھی ہوئی تھی اور راؤنڈ شیپ میں … . دِل کیا یہ وقت یہیں رک جائے اور میں ساری زندگی بس یہی حرکت کرتارہوں … لیکن وقت کہاں رکتا ہے اور اِس سے پہلے کہ دوبارہ کوئی نا خوشگوار واقعہ ہو اور میرا برا وقت شروع ہو مجھے یہ سب ختم کرنا پڑا … اسکی شلوار اوپر کی اسے سیدھا کیا… قمیض درست کی اور اسکی گالوں پر ماتھے پر اور ہونٹوں پر لائٹ سی کس کی… اور جاتے جاتے الوداعی طور پر اس کے پورے چہرے پر لن بھی پھیرا بلکہ ہونٹوں کو تو معمولی سا کھول کر ٹپ کو اندر بھی ڈالا … یہ سب منظر مجھے جنونی بنا رہا تھا اور اِس سے پہلے کہ میں پاگلوں کی طرح بہن کا ریپ کر ڈالتا مجھے اپنے جذبات پر کنٹرول کرنا پڑا … . میں سیدھا واپس اپنے روم میں آگیا لیکن امی ابو کے روم کی کنڈی کھولنے کے بعد … . دِل تو بہت کیا مگر میں نے مٹھ نہیں ماری بس جتنا لن چو( لیک ) گیا تھا اتنا ہی کافی تھا مٹھ اِس لیے نہیں ماری کیوں کہ آنے والے دنوں میں مجھے خوب مستی کی ضرورت تھی… اگلے فیز میں مستی کو اپنے عروج پر ھونا ضروری تھا… مجھے اِس بات کا تو کوئی آئیڈیا نہیں تھا کہ میری اِس حرکت نے میرے مقصد کو کتنا پورا کیا… کیوں کہ یہ میری اپنی ریسرچ اور بکس اور کئی انسیسٹ اسٹوریز پڑھی تھیں اسکا نتیجہ تھا… کسی سائنٹسٹ کی ریسرچ تو تھی نہیں کہ اس نے اپنی بہن پہ کامیاب تجربہ کیا ہو اور اب میں رپیٹ کر رہا ہوں … ہاں مگر یہ سچ ہے کہ اِس کام میں مزہ خوب آیا … ننگی بہن کے ساتھ یہ سب کرنا ایک بھائی کا بہت بڑا خواب ہوتا ہے گلے دن صبح اٹھا… روز رات کو پورن دیکھتا تھا رات پہلی بار عورت کے جسم کی گرمی کو محسوس کیا تھا… پھر اِس بات کی خوشی یہ سوچ سوچ کر دوبالا ہو رہی تھی کہ وہ عورت اور کوئی نہیں میری ہی بہن ہے … امی نے ناشتہ بنا کر دیا… کھا پی کر ٹی وی لاؤنج میں بیٹھا تھا ساڑھے بارہ ہو رہے تھے کہ حمائل اپنے روم سے نکلی … اتنا ڈھیر سارا سو کر بھی تھکی تھکی سی لگ رہی تھی… نیند کی گولیوں کا اثر تھا سب … رات سونے سے پہلے سوچ رہا تھا کہ 2 4 دن تو یہ سب ھونا چاہیے … لیکن اب اسکی حالت دیکھ کر دِل نہیں مان رہا تھا بندے کو اپنے مزے میں اتنا بھی غرق نہیں ھونا چاہیے کہ جو چیز مزے دے رہی ہو اسی کی ماں چود دے … خیر لنچ تک کا سلسلہ یونہی چلتا رہا روز کی طرح … شام کو میں پھر سیدھا حمائل کے روم میں …میں … ہیلو حمائل … کیسی ہے میری پیاری بہن …حمائل … وعلیکم ہیلو ( ہنستے ہوۓ ) … میں بالکل ٹھیک … تم سناؤ کیسےہو… یار یہ کل کیا پلا دیا تھا تم نے اتنی نیند آئی مجھے بالکل بے ہوشوں کی طرح سوئی ہوں … مجھے تو لگتا ہے کسی نے نشہ ڈال کے دے دیا تھا تمہیں ڈرنک میں …میں … ( بہن چودکتنی تیز ہے ) ہاں بالکل میں نے ہی ڈالا تھا… تمہیں جان سے ما رنا جو چاہتا ہوں (میں نے بات کو مذاق میں ٹالنا ہی بہتر سمجھا)حمائل … مجھے مار کر کیا ملے گا تمہیں ( شوخی سے )میں … بس پتا نہیں کیوں ایسا لگتا ہے تمھاری ماروں گا تو ہی چین سے بیٹھ پاؤں گا …حمائل … اچھا … ہیں کیا کہا تم نے …میں … کچھ نہیں یار مذاق کر رہا تھا میں کیوں ماروں گا تمہیں …حمائل … ہاں لیکن تمہیں اُرْدُو بولنا بھی نہیں آتی… تم نے تمہیں مارنے کی بجائے تمھاری کہا ہے ایڈیٹ …میں … (واقعی بڑی تیز ہے بھائی ) اچھا ! ! ! وہ تمہیں پتا ہے زبان پھسل گئی … اس لئے تو کل تم نے رشوت لی تھی آج کیا اِرادَہ ہے پھر…حمائل … کیسا اِرادَہمیں … وہ تم نے کہا تھا نا ویڈیو گیم وغیرہ کھیلو گی حمائل … ہاں لیکن وغیرہ کی تو کوئی بات نہیں ہوئی تھی ( مسکراتے ہوۓ )میں … (رنڈی اور وغیرہ میں میں نے تیری گانڈ مارنی ہے کیا ) نہیں میرا مطلب ٹائم ہی اسپینڈ کرنا ہے نا تھوڑا اس لئے تمہیں ویڈیو گیم اچھی لگی تو وہ کھیل لیں گے ورنہ اور کچھ جیسے تمہاری مرضی …حمائل … بھائی وہ تو میں نے ویسے کہہ دیا تھا… میرا مطلب تمہارے ساتھ ٹائم اسپینڈ کرنے میں تو کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن یہ سب گیم وغیرہ میں کیا انٹرسٹ مجھے …میں … اچھا جیسے تمہاری مرضی..کیا ہے نا گیم کافی انٹرسٹنگ ہے تمہیں اچھی لگے گی اور اگر واقعی اچھی لگے تو پھر بے شک میرا لیپ ٹاپ لے کر سنگل پلیئر میں کھیل لیا کرو میں برا نہیں مانوں گا … لیکن چلو جیسے تمہاری مرضی … یہ کہہ کر میں اٹھ کر روم سے باہر جانے لگا تو وہ پیچھے سےبولی…حمائل … وہ بھیا آپ ٹھیک کہتے ہو نئی چیز ٹرائی کرنے میں کیا حرج ہے مجھے کھیلنے آتی تو نہیں لیکن تم سکھا دو گے تو کھیل لوں گیمیں … دل میں… (اسی لیے کہتا ہوں کنجری بات کرنے سے پہلے اپنی کنواری پُھدی سے مشورہ کر لیا کر اب میرے لیپ ٹاپ کے پورن کے پیچھے تو راضی ہو گئی ، پتا ہے نا کہ میں ہر وقت گھر پہ ہوتا ہوں میرے لیپ ٹاپ تک ہاتھ ڈالنا اب آسان نہیں … اور گیم سیکھنے کی تو فکر ہی نا کر تو ایسی ایسی گیم سکھاؤں گا روز میرے بستر پر ننگی ہو کر دنگل کرے گی) … . او کے فائن تو آ جاؤ پھر…حمائل … او کے واش روم سے ہو کر آتی ہوں …میں نے اپنے روم میں جا کر لیپ ٹاپ آن کیا… یہ واقعی ایک انٹرسٹنگ گیم تھی… دی ڈائینمائٹ بلاسٹر ایک چھوٹی سی گیم جس میں 2 پلیئرز میں مقابلہ میں بہت مزہ آتا تھا… وہ اور میں مل کر کھیلنے لگے … اس کے سینے پر ڈوپٹہ تھا اِس وقت … گیم کھیلتے کھیلتے ہمیں خوب مزہ آنے لگا جیسے ہی اس نے پوائنٹ لیا میں نے اس کے بازو پر بائی سپ کی جگہ ایک ہلکا سا ہاتھ مار کر کہا …یو چیٹحمائل … ارے میں نے کہاں چیٹنگ کی خود دھیان سے کھیلونا…اب دوبارہ اس نے پوائنٹ لیا تو دوبارہ میں نے پھر ہاتھ مارا اِس بار جان کر اسکا بائی سپ مس کیا اور سیدھا اس کے لیفٹ ممے (کیونکہ حمائل میری دائیں سائیڈ پہ تھی ) کی سائڈ کو خوب ٹچ کیا… اپنی توجہ بالکل سامنے گیم پر رکھی اور یوں ایکٹ کیا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں … ہاتھ اس کے دوپٹے کے اوپر سے جا کر لگا تھا مگر مما پریس اچھا خاصا ہو گیاتھا… اسکا ری ایکشن کیا تھا یہ جاننا میں نے ضروری ہی نہیں سمجھا … . اب پھر تیسری بار موقع ملا تو دوبارہ میں زور کاچیخا…پھر چیٹنگ اور یہ کہتے ہی اپنا رائٹ ہاتھ اِس کے سائڈ ممے پہ … اِس بار میں نے ہاتھ وہاں ہی رہنے دیا اور اسکی توجہ ہٹانے کے لیے کہا … نہیں نہیں ایک منٹ یہ سکور تو میرا ہوا ہے …یہ کہہ کر آگے جھک کر لیپ ٹاپ پر دیکھنےلگا… ہاتھ وہیں تھامیرا… اتنی بچی تو وہ تھی نہیں کہ ممے پہ کسی کا ہاتھ ہو اور اسے پتا نا چلے اس لئے اس نے میری بات کا جواب دیتے ہوۓاپنے رائٹ ہاتھ سے میرے ہاتھ کو تھوڑا سائڈ پہ جھٹک دیا…لو جی اِس کے ساتھ ہی میری سیکنڈ فیز شروع ہو گئی … اور یہ تقریباً اگلے ایک مہینے تک رہی … اِس میں مختلف واقعات ہوۓ اسی طرح کے … کہ جس میں میں نے بہن کے ساتھ خوب خرمستیاں کی اسکا ایک دم پکا دوست بن گیا … کیا کیا فن ہوا … آپ بھی سنیے … ہاں مگر عملی طور پر ان واقعات میں کوئی خاص تسلسل نہیں تھا بس جب موقع ملا اس کے قریب ہوتا اس سے مزے لیتا …پہلے دن ہم نے ویڈیو گیم کھیلی تو دوسرے دن حمائل میرے روم میں آئی … دوبارہ ہم نے کچھ دیر گیم کھیلی تو کہنے لگی… بھائی دیکھو روز آپ سے ہا ر جاتی ہوں … ایسا کرو اپنا لیپ ٹاپ دو کچھ دیر کے لیے میں اکیلی کھیلوں گی تو پریکٹس ہو جائے گی پھر مجھے رولز کا بھی ٹھیک طرح سے پتا چل جائے گا ورنہ آپ یہی کہتے رہو گے کہ چیٹنگ کرتی ہوں … .میں … ہاں ٹھیک ہے … ایسا کرو اپنی یو ایس بی لے آؤ تو میں تمہیں گیم ڈال دیتا ہوں …حمائل ( مایوس ہو کر ) … اچھا … چلو لاتی ہوںمیں … نہیں رکو مجھے تو نیند آ رہی ہے لیپ ٹاپ فارغ ہی ہے تم لیپ ٹاپ لے جاؤ خود ہی یو ایس بی میں ٹرانسفر کر لینا …حمائل ( خوش ہو کر ) … ہاں یہ ٹھیک ہے ابھی کچھ دیر میں دے جاتی ہوں …میں … دِل میں … (کمال ہے یار کیسے چہرہ کھل اٹھا ہے اس کا … ابھی کوئی اسکی لات اٹھا کر مارے تو اسے پتا چلے اصل خوشی کسے کہتے ہیں)کچھ دیر بَعْد وہ مجھے لیپ ٹاپ دے گئی . . میں نے اِس بار تو لنا مناسب نہیں سمجھا کیوں کہ اب اِس نے پک کر گرنا تو میری جھولی میں ہی تھا لہذا جتنا پورن دیکھتی ہے جتنی گرم ہوتی ہے میرے ہی بھلے کی بات ہےاگلے دو دن یونہی گزرے اِس دوران میں روز اس کے لیے کوئی نا کوئی کھانے کی چیز بطور رشوت لے جاتا اور باتیں کرتے ہوۓجو ہلکا پھلکا گریبان میں جھانکنے کو ملتا یا کسی موقع پر ٹچ کرنے کو ملتا وہ میری اُجْرَت ہوجاتی… تیسرے دن میں اس کے لیے چکن چیز برگر لے کر گیا … جیسے ہی اس کے روم میں اینٹر ہوا تو دیکھا کہ وہ شیشے کے سامنے براؤن کلر کا ڈریس پہنے کھڑی ہے اور قمیض کے پیچھے کی ذپ کو بند کرنے کی کوشش کر رہی ہے … ایک سائڈ پہ ٹرن لے کر شیشے میں دیکھتے ہوۓاسے بند کرنے کی کوشش کر رہی ہے … ذپ ساری ہی کھلی تھی جس کی وجہ سے اسکی آدھی سے زیادہ کمر ننگی تھی اسکا بلیک برا بھی دِکھ رہا تھا پیچھےسے … میں نے اینٹر ہوتے ہی بولا اوہ سوری اور فوراً واپس مڑا . . اس نے بھی مجھے مڑ کر دیکھا … میں روم سے باہرآ گیا … اور دروازے سے بولا… میں باہر انتظار کر رہا ہوں پہن لو توبتانا… ذرا دیر بَعْد اس نے کہا … آجاؤ اندر … میں اندر اینٹر ہوا اوربولا… مجھے معاف کر دو وہ مجھے نوک کر کے آنا چاہیےتھا… . وہ بولی… پہلے کبھی نوک کر کے آئے ہو… اس لئے کوئی بات نہیں … میں ریلکس ہو گیا اسے برگر دیا… یہ لو تمہارے لیے لایا ہوںحمائل … اوہ شکریہ بھائی آپ بہت اچھے ہو …میں اس کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا… وہ ابھی نہا کر باہر آئی تھی اور یوں دِکھ رہی تھی جیسے بارش سے دھلے پیروں پر سورج کی دھوپ پڑتی ہے تو دیکھنے والے کی آنکھوں میں تعریف نظر آتی ہے … میں بھی اس کے حَسِین چہرے کو دیکھ کر اپنے فیس پہ آنے والے جذبات کو روک نہیں پا رہاتھا… میرا فیس صاف بتا رہا تھا کہ مجھے اِس چہرے سے کتنی محبت ہے …وہ برگر کھاتے ہوۓبولی… مم بہت مزیدار ہے … لیکن بھائی پتا کیا اب صرف اتنی رشوت سے کام نہیں چلے گا … (لو جی شروع ہو گئے لڑکیوں والے نخرے … اور تمہیں رجنی کانت کا لن چوپنا ہے برگر کے ساتھ ساتھ )میں … ہاں بولو اور کیا کرنا ھوگامجھےبرگر سے منه بھر کر بولنے کی کوشش کرنے لگی… . وہ ام میں کیا کہہ رہی تھی… مم…انتظار اور پھر ایک سپ ڈرنک کی لی ( میں یہ منظر دیکھتے وقت نارمل سلوک کرنے کی کوشش کر رہا تھا کیوں کہ اسے جب ننگا دیکھا تھا تو لن بے قابو ہو رہا تھا اب جب اسکی معصومیت اور اداؤں سے پالا پڑا تو دِل بے قابو ہونے لگا اور میرے فیس ایکسپریشنز بھی دِل کی کہانی سنانے لگے تھے ) … ہاں تو میں کہہ رہی تھی کہ تمہیں پتا ہے ممی کیسی ہیں رحمدل …انہوں نے کوئی اسکول جوائن کر لیا ہے فری لیکچرز دیں گی وہاں پر اس لئے صبح کا ناشتہ بھی مجھے بنانا ھوگا اور دوپہر کا كھانا بھی (جملے کے آخری حصے کو یوں بولی جیسے کوئی قیامت آگئی ہو اسکی ننھی سی جان پہ )میں … (یار یہ ممی کا کیا ذکر چھیڑ دیا تو نے اس بیچاری کا بھی پکا رولا چل رہا ہے کوئی پتا نہیں اسکول کی جگہ کوئی پلے کلب جوائن کر لیا ہو) … ہاں تو اِس میں کیا ہے كھانا تو تم پہلے بھی بناتی ہو…حمائل … ہاں لیکن روز نہیں اور وہ بھی دو ٹائم کا…میں … ہاں تو اب بنا لونا… میرا مطلب کتنا فرق پڑتا ہے …حمائل … نہیں بس مجھے نہیں پتا آپ میری ہیلپ کراؤ گے… صبح کا تو میں بنا لوں گی لیکن لنچ ساتھ بنواؤ گےمیں … (کچن کی گرمی … اِس کا باریک ڈریس … وہ پہلے دن والی موج … بلے بلے … یہ تو تقریباً دعوت گناہ ہوگئی) ہاں ہاں … او کے ( منہ سے رال ٹپکتے ٹپکتے بچی )حمائل … بس جی ڈن ہو گیا … ایک منٹ میری لپسٹک رہ گئی … لگالوں ذرا … وہ واپس شیشے کے سامنے کھڑی لپسٹک لگانے لگی میری طرف بیک کر کے … اسکی ذپ ابھی بھی پوری طرح بند نہیں ہوئی تھی قمیض ٹائیٹ تھی ہاتھ اتنا اوپر گیا نہیں ھوگا اس لئےآدھی کمر ننگی تھی اور بلیک برا کی اسٹریپ بھی دِکھ رہی تھی بلکہ بالکل ہُک والی جگہ آنکھوں کے سامنےتھی… اس ننگی کمر پر اس کے سر کے لمبے با ل آ گئے تھے اس لئے نظارہ پورا تو نہیں تھا مگر کالے بالوں میں سے جھانکتی چکنی کمر کا منظر خوب لگ رہا تھا… میں حسن کے خزانے کی اِس چھوٹی سی کھڑکی میں اتنا گم ہو گیا تھا کہ مجھے آئیڈیا ہی نہیں ہوا کہ حمائل نے مجھے شیشے سے دیکھ لیاتھا…اس نے اچانک گلا صاف کیا… اہم آ ہم … میں فوراً ہوش میں آیا … اسے آئینے میں سے اپنی غزال آنکھوں میں سوالیہ نشان لیے مجھے دیکھتے پایا تو فوراً میرے ماتھے پر پسینہ چھوٹ گیا …میں … اچھا مم میں چلتا ہوں پھرہاں … رات کے کھانے پر ملتے ہیں … اسکی آنکھوں میں ابھی بھی سوال تھا…میں … وہ تم کافی کافی (ہوٹ بولا تو بہن چود مار پڑ جائے گی ) خوبصورت لگ رہی ہو اِس ڈریس میںحمائل … مسکراتے ہوۓ … شکریہ میں ہوں ہی خوبصورت …میں … اور سیکسی بھی . . میں نے نہایت دھیمی آواز میں کہاحمائل … کچھ کہا …میں . . نن نن نہیں کچھ بھی نہیں … میں واپس ہو کر چل دیا… دو ہی قدم چلا تھا کہ ہمت اکٹھی کی اور واپس مڑ کر اس سےبولا… وہ ایک بات کہوں مائنڈ تو نہیں کرو گی …وہ واپس مڑ چکی تھی اسکا فیس میری جانب تھا… ہاں بولو… .میں … . وہ تمھاری قمیض کی ذپ ابھی بھی کھلی ہے ( بہن چودبعض اوقات سادہ سے الفاظ بھی بولنا عذاب ہو جاتا ہے)حمائل …اوہ شٹ . . ایک تو یہ درزی بھی نا … مجال ہے جو کبھی کوئی کام پرفیکٹ کرے … تم ایک کام کرو بند کردو نا پلیز … اس نے میرے جذبات میری سہمی ہوئی آواز سب کو اگنور کرتے ہوۓبڑے عام اندازِ سے کہا …میں … ہاں کیوں نہیں … وہ واپس مڑی آئینے کی طرف اور اپنے سلکی بالوں کو ایک ہاتھ سے اٹھا کر آگے کندھے پر ڈال دیا اسکی چکنی کمر کا وہ ننگا حصہ میری آنکھوں کے سامنے تھا… میں نے قمیض کو پکڑا اور رائٹ ہینڈ سے ذپ اوپر کرنے لگا… مجھے ہیلپ کرنے کے لیے اس نے تھوڑا کندھوں کو پیچھے کی جانب کیا تا کہ قمیض میں تھوڑا جھول پیدا ہو اور میں ذپ چڑھا سکوں … ذپ لگاتے وقت میں نے آئینے میں اس کے حَسِین چہرے کی طرف دیکھا اور دِل ایک گانا گنگنانے لگا ” تینوکرداٍ پیار بڑا پر کہہ نئی ہندا … ہے دِل دا دَرْد براجیڑ ا سہہ نہیں ہندا”شاید سچ کہتے ہیں کہ دِل کو دِل سے راہ ہوتی ہے اس کے فیس پر ایسے ری ایکشن آئے جیسے میں نے منه سے گنگناکر یہ کہہ دیاہو… ذپ لگ چکی تھی لیکن میرا ہاتھ ابھی کمر پہ ہی تھا… وہ فوراً مڑی اور بوکھلاتے ہوۓبولی… وہ میں شاید موٹی ہوتی جا رہی ہو ( یوں بولی جیسے میری فیلنگز کو جھٹلانا چاہ رہی ہو ) … میں نے اس کے مموں پر نظر ڈالی اورکہا … ہاں شایدتم ٹھیک کہہ رہی ہو … اس نے ڈوپٹہ تو پہنا نہیں تھا تنے ہوۓ مموں پر بھائی کی نظر پڑی تو شرما گئی بس نیچے دیکھنےلگی… چہرہ خوب بلش … میرے پاس بھی کہنے کو کچھ ناتھا… میں بھی اپنی آنکھوں اور چہرے سے دِل کا حَا ل کہتا ہوا روم سے باہر نکل آیا اگلے دن صبح اٹھا… ناشتہ کیا اور ٹی وی کے آگے بیٹھ گیا … ناشتہ حمائل نے ہی بنا کر دیا تھا پھر وہ اپنے روم میں چلی گئی تھی… میں ٹی وی دیکھ رہا تھا کہ اتنے میں آئی … اس نے گرین شیڈ کا ڈریس پہناتھا… ڈوپٹہ سینے پر ڈالا تھا… وہ سیدھی میری طرف آئی اور میرے ساتھ کاوچ پر بیٹھ گئی … بیٹھتے وقت اسکا دھیان ٹی وی کی طرف تھا اور جب وہ لاؤنج میں اینٹر ہوئی تھی تو میں نے اسے سمائل پاس کی تھی لیکن اس کے قریب آنے تک میں بھی ٹی وی پر فوکس کر رہا تھا…اس نے اپنی قمیض بیٹھنے سے پہلے پیچھے سے تھوڑی اوپر اُٹھائی اور جیسے ہی نیچے بیٹھی میں نے اپنا لیفٹ ہاتھ اسکی سیٹ پر رکھ دیا… وہ نرم گدا ز اور دہکتی بُنڈ جیسے ہی میرے ہاتھ سے ٹچ ہوئی پورے بدن میں کرنٹ سا دوڑ گیا میں نے فوراً ایکٹنگ کی… اوہ دیکھ کر… وہ بھی عین بُنڈ کے سینٹر میں ہاتھ کا ٹچ لگنے سے اچھلی اوربولی… اوہ سوری بھیا میں نے دیکھا نہیں ٹھیک سے … میں نے کہا … کوئی بات نہیں … وہ شوخی سے بولی… او کے ہے تو پھر سے بیٹھ جاؤں کیا…دِل تو کیا اسے پکڑ کر گود میں بٹھا لوں لیکن ابھی مجھے نارمل سلوک کرنا تھا لہذا بولا… نہیں بابا پلیز ایسا نہیں کرنا تمھارا وزن نہیں سہہ سکتا میرا نازک سا ہاتھ … . وہ فوراً بولی… ہائے میں مر گئی … مطلب میں اتنی وزنی ہوں … جائیں میں نہیں بولتی آپ سے ( سالا یہ ری ایکشن تو انسیسٹ اسٹوریز میں پڑھا تھا میں نے … لگتا ہے رات کو با قاعدگی سے پورن دیکھتی اور اسٹوریز پڑھتی ہے … شباش بہنا شاباش… اسی ٹریک پر چلتی رہو … پھر ہاتھ کیا لن بھی حاضر ہے جتنا مرضی اُچَھلْنا کودنا اِس پہ … )اچانک اسکی آواز نے مجھے میرے خیالوں سے واپس حقیقت میں گھسیٹا … پتا ہے صرف 56 کلوگرام ہے میرا وزن …میں … او کے بابا مذاق کر رہا تھا… وہ تو دیکھ کر ہی لگتا ہے کہ تم کتنی سمارٹ اور . . سادہ ہو ( یہ سالا سیکسی میرے منه سے نکلے گا کسی دن)حمائل … اچھا بھیا یاد ہے نا آپ نے آج لنچ بنوانا ہے میرے ساتھ . . آپ کو بھی فل ٹرین کر دوں گی … تا کہ بیوی کی خوب خدمت کر سکو … ویسے بھی آج کل مرد جورو کے غلام ہوتے ہیں …میں … اچھا تم بڑا جانتی ہوں مردوں کو…حمائل … بھائی مشاہدہ ہے میرا ( شوخی سے )میں … اچھا یہ بتاؤ تمہیں کیسا ہسبنڈ چاہیے غلام ٹائپ یا وہ جو تمہیں غلام بنا کر رکھے …وہ ایک دم شرما گئی آنکھوں کے ڈورے حیا سے سرخ ہو گئے … بھائی تھی تو آخر مشرقی لڑکی نا…حمائل … مجھے نہیں پتا… نا مجھے شادی کرنی ہے . .میں … لو یہ کیا بات ہوئی شادی تو سب نے کرنی ہوتی ہےحمائل … اچھا چھوڑو اِس بات کو… ویسے بھی آئی تھنک ہسبنڈ وائف کے درمیان انڈر اسٹیڈنگ ہونی چاہیے کوئی کسی کو غلام نا بنائے بس دوستوں کی طرح رہیں …میں … دوستوں کی طرح تو ہم دونوں بھی رہتے ہیں …وہ ایک دم سیدھی ہو کر بیٹھی اور ہوا میں ہاتھ نچاتے بولی… اچھا نایار… ابھی چھوڑو اِس ٹاپک کو دوستوں میں بہن بھائی میں اور ہسبنڈ وائف میں کیا فرق ہوتا ہے پھر کبھی ڈسکس کریں گے …ابھی کام ہے مجھے میں جا رہی ہوں … اور اٹھ کر روم کی طرف چل دی…میں پیچھے سے بولا… ارے بابا ابھی تو آئی ہو… حمائل اگنورڈ مائی وائس … لو جی ذہن تو اس کا بھی بدل رہا ہے مگر صنف نازک ہے نا اِس لیے سچویشن ہینڈل نہیں کر پاتی پھر شاید اس کا اتنی سی مستی سے گزارا ہو جاتا ہے … خیر لن لیے بغیر تو یہ بھی نہیں رہنے والی دیر سویر کرے گی تو سب کچھ …میں ٹی وی پہ ہی بیٹھا مووی دیکھتا رہا جب کافی دیر بَعْد وہ اپنے روم سے نکلی … اس نے وہی اسکائی بلو کلر کا باریک سا ڈریس پہنا تھا اور دوپٹے سے بالکل بے نیازتھی…حمائل … چلو بھیا کچن میں چلو اور اپنا وعدہ پورا کرو…میں … اوکے … ویسے اس ڈریس میں کیا پرابلم تھی…حمائل … کچھ نہیں پرابلم تو کوئی نہیں تھی… کچن میں کچھ زیادہ گرمی ہوتی ہے نا تو یہ پرانا بھی ہے اور باریک بھی تو بہترہے … اسکی باریک ڈریس سے اسکا بدن جھانک رہا تھا… وائٹ برا کا بھی بخوبی اندازہ ہو رہا تھا…میں … او کے چلو پھر یہ فرض بھی نبھاتے ہیں … وہ مجھے اپنے ساتھ کچن میں لے گئی … … او کے چلو پھر یہ فرض بھی نبھاتے ہیں … وہ مجھے اپنے ساتھ کچن میں لے گئی …حمائل … ہاں تو کیا کیا کر لیتے ہوآپ…میں … تمہیں نہیں پتا کہ مجھے یہ گھر دا ری والا کوئی کام نہیں آتا جاتا…حمائل … او کے مطلب سب سکھانا پڑے گا … تو پھر یوں کرتے ہیں کہ آٹا گوندھنے سے شروع کرتےہیں … اس نے سوکھا آٹا نکالا… پرات میں ڈالا مجھے بھی نیچے چُکی پر بیٹھنے کو کہا اور پانی ڈال کر مکس کرنے لگی… مکس ہو گیا تو گوندھنے کی باری آئی …حمائل … لو جی اب گوندھو گےآپ…میں … مگرکیسے …حمائل . . ایسےبابا… وہ آٹا گوندھنے لگی…جھک بھی جڑگئے اور تھوڑا باہر کو بھی نکلے … انکا اوپر کا ابھار بھی خوب دکھنے لگا . . میں مموں کا مزید دیدار کرنے کے لیے تھوڑا اوپر اٹھا اور اس کے گریبان میں جھانکا … ان دودھ کی کٹوریوں نے دماغ کا دہی کر دیاتھا…دِل کر رہا تھا ابھی چھوٹا بچہ بن جاؤں اور اِسے اپنی ماں بنا کر سارا دودھ پی جاؤں …اتنے میں اسکی آواز سنائی دی میں خیالوں سے واپس ایک جھٹکے میں لوٹا … بھیا ٹھیک کہا نا میں نے … اس نے مجھے اپنے مموں کوتاڑتے دیکھ لیا تھا . .میں … ہاں ہاں . . ٹھیک کہا …حمائل … کیا خاک ٹھیک کہا جب سنا ہی نہیں آپ نے … پتا نہیں کہاں ہے سارادھیان … چہرے پر بناوٹی غصہ لا کر اس نے آنکھوں کو ترچھے زاویے میں گھما کر کہا …حمائل … چلیں اب جیسے میں گوندھ رہی تھی گوندھیں ایسے … میں سلاد کاٹتی ہوں تب تک … یہ کہہ کر وہ فریج کی طرف چل دی…یار یہ اب پُھدی کے چکر میں ایسے چوتیا کام بھی کرنے پڑیں گے … ساری مردانگی کھڈے لائن لگ گئی … چلو عشق عاشق کی آزمائش تو کرتا ہی ہے … مگر ایک ٹھرکی کے ساتھ زیادتی ہے یہ … نہیں ٹھرک کیسی بہن ہے وہ میری اور یہ بہن بھائی کا پیار ہی ہے بس ذرا روپ تھوڑا دنیا سے ہٹ کرہے …وہ واپس آئی … ہاتھ میں کچھ سلاد کا اسٹف اٹھایا ہوا تھا… اور وہیں نیچے بیٹھ کر کاٹنے لگی… اب اس کے مموں کا نظارہ تو نہیں مل رہا تھا مگر ٹائیٹ شلوار میں سے رانیں خوب دِل لبھا رہی تھیں …اِس ڈریس کی قمیض بھی چھوٹی تھی… اس لئے اس کے نیچے بیٹھنے سے قمیض اکٹھی ہو گئی تھی اور یوں لگ رہا تھا جیسے ٹی شرٹ اور شلوار میں بیٹھی ہو … میں بھی ہاتھ آٹے پر اور نظریں اسکی ٹانگوں پر جمائے بیٹھا تھا … اسکی زُبان مسلسل چل رہی تھی… پتا ہے حنا کہہ رہی تھی… نشا کہہ رہی تھی … اس دن کلاس میں … بلا بلا بلا… بڑا زور لگایا میں نے کہ کس بات میں سیکس کا ٹچ ڈالا جائے لیکن اسکی کسی بات میں اپنا لن نہیں اڑا سکا … . بہن چود اوپر کے ہونٹ اتنے چلتے ہیں تو نیچے والے کے جنہیں کبھی بولنے کا موقع نہیں ملا وہ تو اپنی والی پہ آئے تو لن ہی اُکھا ڑ پھینکیں گے … .اسکی آواز نے پھر میرا تخیل توڑ دیا . . . ہاں اور سنو بھیا وہ کام والی ماسی بھی چھوڑ گئی ہے … اب کوئی نئی رکھنی پڑے گی … یہ برتن ، کپڑے یہ جھاڑو پونچھا تو نہیں ہوتا نا مجھ سے … نشا کو کہا ہے میں نے اسکی کام والی ہے نا اسکی بہن ہے وہ آئے گی کل پرسوں میں … . ( کیا مغز ماری ہےیار… کب سے اسکی باتوں پر ہوں ہاں ہی کر رہا ہوں … اتنے میں اس نے بایاں ہاتھ اٹھایا اور لیفٹ آنکھ پر لے کر گئی … . اف … ایک تو پیاز کاٹتے ہوۓ ہمیشہ بہت آنْسُو آتے ہیں مجھے … اِس لمحے وہ بائیں ہاتھ سے آنکھ صاف کر رہی تھی اور اسکی بغل پسینے سے بھیگی پڑی تھی… سائڈ سے ممے بھی خوب دِکھ رہے تھے … برا میں تھے لیکن پسینے نے انکی وضع قطع کو چار چاند لگا دیے تھے … اِس جوان جسم سے بہتے پسینے کی مہک میں بھی مردانہ کمزوری کاعلاج ہوگا … کاش کوئی ایسا سین بنے کہ میں قریب جا کر سونگھ سکوں …میں فوراً بولا… اچھا ہمیشہ آنسو بہتے ہیں … ویسے میں نے سنا ہے جس لڑکی کو پیاز کاٹتے وقت آنکھ میں جتنی زیادہ جلن ہو نا اسکو اتنا ہی پیار کرنے والا ہسبنڈ ملتا ہے …حمائل … ہسبنڈ نہیں بدھو ساس ملتی ہے …میں … اچھا … پھر میں نے غلط سنا ہو گا … (سنا تو ساس کا ہی تھا مگر بہن چود لن کا مارجن ساس کے ذکر میں تو نہیں نکلتا نا) … چلو ویسے بھی ایک ہی بات ہے …حمائل ( ہنستے ہوۓ ) … ہسبنڈ اور ساس میں بڑا فرق ہوتا ہے … یہ کہہ کر وہ اٹھ کر چولہاجلانےلگی … اور ساتھ میں آئل وغیرہ بھی الماری میں سے نکالا…میں … مثلا ( لن پہ اسٹریس دے کر ) … ( اب آئی نا لائن پہ ) … اس نے پتا نہیں لن پہ کیسے رسپونڈ کیا اسکا فیس دوسری جانب تھاحمائل … ہسبنڈ لائف پارٹنر ہوتا ہے یار ساس اسکی ماں …میں … ہاں واقعی عورت کا جو تعلق اپنے ہسبنڈ سے ہوتا ہے وہ واقعی یونیک ہوتا ہے ہر لحاظ سے … اچھا ذرا نمک تو دو… (میں نے اِس ہارڈ لائن کے ساتھ ایک سوفٹ بات کرنا مناسب سمجھا)اس نے بات کے پہلے حصے کو جیسے فل اگنور کیا اور کہنے لگی یہ اٹھا لو اوپر والی الماری سے …بس یہ غلطی کر گئی تو… بہن چودترسے ہوۓلن کو خود موقع دے دیا تو نے انجانے میں … وہ الماری عین اس کے اوپرتھی… میں بھی اگر عام حالت میں ہوتا تو ضرور احتجاج کرتا کہ ایک ہاتھ سے اٹھا کے دینے میں کیا موت ہے مگر اپنا ٹارگٹ تو کچھ اورتھا… فوراً جمپ مار کر اٹھا اور اس کے پیچھے جا کر جٹ گیا … آدھا کھڑا لن اسکی سوفٹ بُنڈ سے ٹچ ہوتے ہی ہشیاری پکڑنے لگا… نمک کا ڈبہ میرے ہاتھ کی رینج میں تھا مگر اِس لمحے نے زیادہ دیر تک ہاتھ میں نہیں رہنا تھا اِس لیے تھوڑا اور آگے ہوا جیسے ڈبہ اٹھانے میں کوئی دشواری ہو رہی ہو… اُدھر لن نے بُنڈ سے سلام دعا کے بعد اس کی دراڑ میں معمولی سی جگہ بناتے ہوۓ چوتڑوں کو جپھی ڈال دی تھی (شاید کوئی پرانی واقفیت نکل آئی تھی ان سے ) …میں اس کی لیفٹ سائڈ سے اس کے چہرے کے قریب ہوتے ہوۓ تھوڑا سیریس اندازِ میں بولا… کتنا ڈالنا ہے … میری آنکھیں صاف کہہ رہی تھیں کہ میں نمک کی بات نہیں کر رہا …وہ بولی… بس تھوڑا سا ڈالنا … معمولی سا… اسکی آنکھیں صاف کہہ رہی تھیں کہ وہ یہ جانتے ہوۓ کہ میں لن کی بات کر رہا ہوں … نمک کی بات کر رہی ہے …میں نے نمک کا ڈبہ اٹھایا نیچے بیٹھا اور تھوڑا سا نمک ہاتھ میں لے کر کہا … اتنا بہت ہے … اس نے مڑ کر دیکھا اور بولی… ہاں بہت ہے … اسکی آنکھوں اور چہرے پر واضح طور پر دو جذبات آپس میں ٹکراتے ہوۓ محسوس ہو رہے تھے … ایک مزہ جسے وہ برداشت نہیں کر سکتی تھی اور ایک شرم کے جسکا دامن وہ چھوڑنا نہیں چاہتی تھی… .وہ فوراً نارمل حالت میں واپس آئی اور بولی… اچھا لاؤ اب آٹا دو یہ کہہ کر اس نے جھک کر مجھ سے آٹا لیا میں نے بھی اٹھ کر اسکی قمیض میں جھانکا … اِس بار دونوں ممے فل لینتھ میں نظر آئے اور ان کے درمیان کے گیپ سے اسکا پیٹ بھی دِکھ رہا تھا…پھر سے باتوں کا سلسلہ چا لو ہوا …حمائل … اس لئے بھائی آج کل تو گھر سے باہر ہی نہیں نکلتے … سارا دن اپنے روم میں … کیا کرتے رہتے ہو آخر ( آواز چلبلی سی ہوگئی ) … یعنی کیڑا اسے بھی کاٹ رہا تھا… ڈونٹ وری اِس کیڑے کابڑھیا علاج ہے میرے پاس بہن … )میں . . ہاں بس ایسے ہی کبھی ویڈیو گیمز کبھی موویز وغیرہ … .حمائل … اوہ … موویز کیسی پسند ہیں تمہیں …میں … اچھا زیادہ تر ایکشن …حمائل … اچھا کس قسِم کا ایکشن ( الفاظ کو چباتے ہوۓ ) … میرا مطلب ہے وہ ٹھشوں ٹھشوں والا یا وہ دوسرا مارشل آرٹس والا… یا پِھر کوئی اور . . یہ جملے کا آخری حصہ اس نے میری جانب دیکھ کر شیطانی سمائل دیتے ہوۓکہا …سالی میری لے رہی ہے … دراصل وہ بھی سچویشن کو فل انجوئے کر رہی تھی مگر اب بال اس کے کورٹ میں تھی… باوجود اِس کے … کہ اسکی اِس شیطانی سمائل کا مطلب واضح تھا مگر میں ایسی پوزیشن میں نہیں تھا کہ آگے سے پورن کا ذکر کرتا . . وہ جو بھی کہہ رہی تھی ذومعنی تھا لہذا کسی بھی بات کا رونگ سائڈ والا مطلب لیتا تو غلطی میری بنتی… “کیوں کہ حمائل کا یہ مطلب نہیں تھا ” کیا گانڈ و تو کیا سمجھتا ہے تو ہی بس بہن کی بُنڈ میں لن دے سکتا ہے اب لے اس نے وہی بیلنا جس سے روٹی بیل رہی ہے تیری گانڈ میں اُتَا ر دیا ہے . . . . خیر میں بھی سچویشن ہاتھ سے جانے تو نہیں دیتا…میں … ہر قسِم کا… میں نے بھی یہ بات شیطانی سمائل کے ساتھ کی لیکن اس کا فائدہ نہیں تھا تب تک وہ آگے دیکھ رہی تھی…حمائل . . ویسے اِس موقع پر ایک شعر کی آمد ہو رہی ہے تھوڑا عجیب شعر ہے … عرض کیا ہےدیکھتے ہیں وہ رات بھر موویز ایکشندیکھتے ہیں وہ رات بھر موویز ایکشندھن دھانہ دھن دھن دھانہ دھنیہ کہہ کر وہ کھلکھلا کر ہنسی اور بولی…کیسا لگا شعر …میں خاموش رہاوہ روٹی بیلتے ہوۓ بُنڈ کو کچھ زیادہ ہی تھرکا رہی تھی… نیچے بیٹھ کے دیکھنے والے پر تو غضب ڈھا رہی تھی…حمائل … اچھا جی تو ذرا یہ تو بتائیں کہ آپ کی فیوریٹ مووی کون سی ہے ( وہ مزے لے لے کر بول رہی تھی )میں … (بہت ہو گیا بہن چود اب بازی پلٹنی ہی پڑے گی ) … اچھا آل ٹائم فیوریٹ کوئی ایکشن مووی نہیں بلکہ ایک رومینٹک مووی ہے …حمائل … کون سی …میں … ٹائی ٹینک …حمائل . .مم ہاں ہے تو واقعی وہ کلاسک… آپکو اس میں کیا سب سے اچھا لگا…میں … (فل کانفیڈینس سے ) … باقی تو ساری مووی بکواس لگی بس وہ ایک سین فٹ تھا… کتے کی پینٹنگ بنانے والا… بس جب بھی دیکھتا ہوں وہی سین دیکھتا ہوں بار بار… .لو جی یہ چلبلی رنڈی اِس ذومعنیبات میں ایسا سیدھا جواب توقع ہی نہیں کر رہی تھی…میرا جواب سن کر چہرے کا رنگ تو اڑا یا نہیں لیکن بیلن پہ چلتے ہاتھ ضرور تھم گئے اور وہ اوور سپیڈ سے تھرکتی بُنڈ بھی نارمل سپیڈ پر آگئی …حمائل … اچھا تم نے آٹا گوندھنا تو سیکھ لیا روٹی بنانا بھی تو آنا چاہیےنا… (بات کا رخ کیوں پلٹ رہی ہے پوچھ نا سین میں کیا اچھا تھا… ممے یا پُھدی یا گانڈ … سالی چلی تھی سچویشن کو جیتنے )میں … ہاں واقعی آنی تو چاہیے کبھی بنانی پڑ گئی تو صرف آٹا گوندھ کر تو نہیں کھاؤں گا نا…وہ تھوڑا نا چاہتے ہوۓ مسکرا کر بولی… او کے ادھر آؤ لو بیلن پکڑو اور شروع ہو جاؤ … وہ میری رائٹ سائڈ پہ تھی اور میں بیلن ہاتھ میں پکڑے روٹی کو اُلٹا سیدھا بیلنے لگا…حمائل . . ارے بابا یوں نہیں لاؤ مجھے دو… اِس طرح سے آرام آرام سے اور تھوڑا پریس کر کے …میں نے پِھر ٹرائی کیا روٹی پتا نہیں کس ملک کا نقشہ بنتی جا رہی تھی…وہ کھلکھلا کر ہنسی … یار روٹی کی شیپ گول ہی اچھی لگتی ہے یہ تجربے ناکرو… لاؤ دکھاؤ ذرا … اس نے پھر سے بیلن لیا اور روٹی بیلنے لگی…میں … بس یہ میرے ھاتھوں کی موومنٹ میں تھوڑا مسئلہ ہے … جیسے تمہارے ہاتھ چل رہے ہیں نا اِس ردھم میں میرے بھی چلیں تو فٹ بنے گی … ایسا کرتے ہیں تمہارے ھاتھوں پر ہاتھ رکھ کر بناتا ہوں …اور یہ کہتے ہی میں اسے جواب کا موقع دیے بغیر اس کے پیچھے چمٹ کر کھڑا ہو گیا اور دونوں ہاتھ اس کے ھاتھوں پر رکھ دیے … اسکا بیلن چلانا بند ہو گیا … میرا لن اسکی بُنڈ سے چپکا تھا اور سینہ کمر سے … اور میرا منه اس کے لیفٹ کندھے پر تھا… میں نے بُنڈ پر تھوڑا پریشر بڑھایا اور ساتھ ہی بیلن کو چلانے لگا اُلٹا سیدھاجیسابھی … اُدھر لن نے امیزنگ قسِم کا جوش پکڑا …ایک تو اِس کو چھوتے ہی میرا دِل ٹٹوں میں دھڑکنے لگتا ہے …میں … مم اب سہی سمجھ آ رہی ہے … وہ خاموش رہی …اتنے میں اسکی بُنڈ نے وہی یونیک ریسپونس دیا کہ جسکا ذکر حمائل نے اپنی دوستوں سے کیا تھا… لن میرا اس کے چوتڑوں کو پہلے ہی اپنی موجودگی کا احساس دلا گیا تھا لہذا اِس بار اسکی بُنڈ نے ایک وارم ویلکم دیا اور جیسے ہی لن نے اس کے گانڈ کریک میں تھوڑی جگہ بنائی اس کے چوتڑوں نے آگے سے زور دار جپھی ڈال دی ( وہی پرانی واقفیت ) … اب اسکی بُنڈ باقاعدہ لن کو کھینچ رہی تھی… ٹانگیں بھی کھلنےلگیں … حمائل نے ایک جھٹکے سے میری طرف دیکھا اس کے چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی تھیں … جھیل سی گہری آنکھوں میں ایک خوف سا تھا جو اسکی آنکھوں کے حسن کو ہزار گنا بڑھا رہا تھا … . چہرے پر شہوت اور خوف دونوں کے آثار تھے … شہوت اِس لیے کہ لن کے لمس کی وجہ سے اسکی بُنڈ سے جو مزے کی لہریں اٹھ رہی تھیں وہ اس کے جسم کے روئیں روئیں میں شائیں شائیں کر رہی تھیں … اور خوف اِس لیے کہ اسے پتا تھا کہ اسکی بُنڈ نے اِس سچویشن کو کونسا موڑ دینا ہے … اسکی آنکھوں میں لاج کے مارے ہلکے سے آنسو بھی تیرنے لگے …اب یہ میرا وہم ہے یا حقیقت تھی لیکن مجھے اس کے چہرے پر دیکھتے ہوۓ یوں لگا جیسے اس نے اپنے آپ کو میرے بازؤں میں بے بس پا کر سر کو نفی میں ہلایا تھا… جیسے کہہ رہی ہو کہ پلیز اِس سے آگے نا بڑھنا … میں بھی اِس وقت ایک حد سے زیادہ نہیں بڑھنا چاہتا تھا اِس لیے لن کو فوراً سے پیچھے کھینچ لیا… اِس سے پہلے کہ اسکی بُنڈ کوئی نیکسٹ موو لیتی … میں دِل میں ہی بولا . . ڈونٹ وری سسٹر جب بھی لوں گا . . تیری کہہ کر لونگا …اس کے چہرے پر سکون کے آثار دکھائی دیے … میں اس سے علیحدہ ہوا اور دوبارہ نارمل ہوتے ہوۓ بولا… وہ میں پھر کبھی سیکھ لوں گا ابھی کام یاد آ گیا … تم بناؤ روٹی …وہ بھی نارمل ہو کر نا چاہتے ہوۓمسکرا کر بولی… ہاں ضرور بَعْد میں سہی … تم جاؤ میں كھانا لگا دوں گی … اسکی آواز تھوڑی سہمی ہوئی تھی . . .میں نے جاتے جاتے پیاز کا ایک ٹُکْڑا پکڑا …اپنی آواز میں شوخی لا تے ہوۓکہا … ویسے مجھے بھی ایک شعر کی آمد ہو رہی ہے … یہ بھی عجیب ٹائپ کا شعر ہے … عرض کیا ہےان کے ہاتھ میں دیکھ کربیلنان کے ہاتھ میں دیکھ کربیلنجی کرتا ہے دے دوںان کے منہ میں اپنا… …وہ منه کھلے مجھے حیرت سے دیکھے جا رہی تھی… اسے اسی حیرت کے عالم میں چھوڑ کر میں واپس اپنے روم میں آ گیا …اگلے دو دن یونہی گزرے ہلکے پھلکے ہنسی مذاق میں … ہاں ایک چینج جو میں اب حمائل میں واضح طور پر نوٹ کر رہا تھا وہ یہ کہ میرے صبح جاگنے سے لے کر امی کے گھر واپس آنے تک جتنی دیر ہم دونوں اکیلے ہوتے وہ دوپٹہ بالکل نا لیتی … کپڑے ٹائیٹ بھی ہوتے اور اتنے باریک بھی کہ اگر کسی بھی عزت دار گھرانے کی لڑکی کو پہننے پڑیں تو وہ قمیض کے نیچے شمیض ضرور پہنے … حمائل کو اپنے بھائی کے سامنے ایسی ٹائیٹ شلوار اور اتنی باریک قمیض شمیض کے بغیر پہننے میں بالکل کوئی دقت نہیں تھی… لیکن یہ سب اہتمام اس نے خاص کر میرے لیے کر رکھا تھا… کیوں کہ جیسے ہی امی کا آنے کا ٹائم ہوتا فوراً روم میں گھستی اور انتہائی مہذبانہ لباس زیب تن کر کے برآمد ہوتی… امی کو آئیڈیا ہی نہیں ہوتا ھوگا اسے دیکھ کر کے یہ لڑکی ان کے آنے سے پہلے اپنے سگے بھائی کے سامنے بے دھڑک اندازِ سے اپنی آدھ ننگی جوانی لیے گھومتی رہتی ہے … اور جہاں تک میری عقل کام کرتی ہے جو کچھ آگے ہونے جا رہا تھا وہ تو امی کے اچھے اچھوں نے بھی نہیں سوچا ہو گا … حمائل کا چینج ہوتا ہوا رویہ صاف بتا رہا تھا کہ اسے”میرا گھر میری جنت” والی فیلنگز ہو رہی ہیں … بھائی سے ضد کرنا . . نخرے دکھانا … باتیں شیئر کرنا… نٹ کھٹ کرنا… اس کے سامنے پتلی کمر لچکا کر چلنا … انگڑائیاں لینا … کبھی اس کے کندھے پر سر رکھ دینا… وہ ہنسی مذاق … یہ سب حرکتیں صاف بتا رہی تھیں کہ وہ بھی اپنی سونی زندگی کو ” کلیوں کے چمن ” میں ڈھا لنا چاہتی ہے … اس کے لہجے میں کچھ ایسا بدلاؤ آیا تھا جیسے وہ اپنے بھائی سے نہیں اپنے ہسبنڈ سے بات کر رہی ہو… اسے میرے جاگنے کی روٹین تو پتا تھی… لہذا جب بھی صبح جاگتا کبھی آ کر کہتی … آپ بیڈ ٹی لینا پسند کریں گے کیا… چلیں فریش ہو کر آ جائیں میں نے ناشتہ لگا دیا ہے … کبھی بیٹھے بیٹھے میرے سر کو دباتی … بھیا تھک گئے ہوں گے کرنے دیں نا… کچھ زیادہ ہی خیال رکھنے لگی تھی میرا سچ پوچھو تو میرے جیسے آوارہ مزاج کو کبھی کبھی یہ سب عجیب لگتا…مگر میں جانتا تھا کہ یہ چینج دراصل پوزیٹو ہے یہ اور بات ہے کہ ابھی بھی ہمارے تعلق میں وہ مقام نہیں آیا کہ اس سے سیکس کی ٹرائی کی جائے … اس لئے میں اِس سارے سلسلے کو اسی طرح رکھنا چاہتا تھا… .اسی طرح دو دن بَعْد موسم کافی اچھا تھا… صبح جاگا تو دیکھا کہ صبح سے بادل چھائے ہوۓ ہیں اور پہلے بارش ہو بھی چکی ہے اور ابھی بھی بوندا با ندی سی چل رہی ہے … ٹی وی لاؤنج میں آیا تو حمائل اپنے روم سے نکلی … اس کے چہرے پر ایک زبردست سا نکھا ر تھا . . دراصل پچھلے ایک ہفتے سے ہی تھا… شاید روز رات کو چوت مسلتی ہے … اور پھر جو پیار بھرا موڑ ہمارے رشتے میں آ رہا تھا وہ بھی اسکی خوشی کی بہت بڑی وجہ تھا… وہ اِس وقت بالوں کا جوڑا بنائے ہوۓ تھی جس کی وجہ سے اسکی صراحی دار گردن میرے اندر کسی شا عر کو جنم لینے پر مجبور کر رہی تھی… اس نے وائٹ شلوار قمیض پہنی تھی… شلوار اتنی ٹائیٹ کہ تقریباً چوڑی دارپا جامہ اور قمیض حسب معمول پچھلے 4 5 دنوں کی طرح بالکل باریک سی … یوں سمجھ لیں قمیض کا تو تکلف ہی کیا اس نے ورنہ وائٹ شلوار پہ بلیک برا پہنی تھی … قمیض میں ایک اور خاص بات تھی اب کے بار… وہ یہ کہ قمیض کی سائڈ سے چاکس کافی اونچی تھیں شاید اس نے خود دوبارہ سیا تھا انہیں … سائیڈز سے اسکی کمر اور پیٹ کا کچھ حصہ ننگا ہو رہا تھا…میں دِل میں سوچنے لگا کہ اگر اس کا ذہن ایسے ہی بنا رہا تو ہفتے کے اندر اندر میرے سامنے ننگی آنے میں بھی کوئی حرج نہیں محسوس کرے گی … اسکی اِس طرح کی ڈریسنگ بہت سے مرحلے آسان تو کر رہی تھی لیکن اسی وقت میں کسی کتے کی طرح اس پہ جھپٹنا نہیں چاہتا تھا… پِھر مجھے یہ بھی ڈر تھا کہ سیکس کامیاب ہو بھی گیا اور اگر میں اِس تعلق کو بڑھا نا سکا تو وہ کہیں رنڈی ہی نا بن جائے … میرا مطلب جو مجھ سے چدسکتی ہے وہ باہر جا کر کسی کا بھی لے سکتی ہے … اس لئے میرا کوئی بھی موو صرف سیکس بیسڈ نہیں ھوگا اس میں رومینس کا تڑکا اور محبت اور وفا داری کا عنصر بھی بہت مضبوط ھونا چاہیے …اتنے میں اس نے سمائل کے ساتھ آگے جھک کر مجھ سے پوچھا … بھیا کیا لیں گےجس طرح وہ میرے سامنے جھک کر کھڑی تھی مجھے تو مینو میں دو چار چیزیں ہی نظر آئیں … یا ملک پیک یا پنیری پُھدی یا رسیلے ہونٹ یا پھر دو سُندر اور سیکسی ران بروسٹ … اب بہن چود ان سب میں سے کونسی چیز مانگوں … اتنے میں میری نظر اس کے گورے مموں پر پڑی … وہ یوں جھکی ہوئی تھی کہ اس کے دونوں ہاتھ اس کے گھٹنوں پر تھے اور بازؤں نے دونوں مموں کو سائیڈز سے سمیٹا ہوا تھا… بالکل جس طرح کا سین اس کے آٹا گوندھتے وقت تھا… اس کے اِس طرح کرنے سے نا صرف ممے آپس میں جڑ گئے بلکہ ان کی اوپر کی گولائیاں گریبان سے باہر آتی ہوئی محسوس ہوئیں … . ادھر میں نے اپنے اندر ایک اور بغاوت نوٹ کی… پہلے تو سالا صرف لن سر اٹھاتا تھا اب میرے دونوں ہاتھ بھی بے قابو ہونے لگے نظر اس کے مموں کی درمیانی لکیر میں ڈوبتی چلی جا رہی تھی اور ہاتھ پر کپکپی طاری ہو رہی تھی… یوں لگ رہا تھا کہ ہاتھ ابھی اچھل کر مموں کوبھینچ ڈالیں گےمیں نے اپنے دِل میں اپنے ھاتھوں کو مخاطب کر کے کہا … سالو شرم کرو کچھ . . بہن ہے وہ میری… زیادہ گرمی دکھائی نا تو کسی مٹھل کو رینٹ پہ دے دوں گا … .حمائل … بولیں نا بھائی …میں اسکی آواز پر ہڑبڑا سا گیا … بڑی مشکل سے میری نظر اس کے مموں کی لکیر سے آزاد ہو کرلوٹی … ہاں وہ دودھ … .حمائل میرے سر پر ہلکی سی پیار بھری چپت مار کر مسکراتے ہوۓ بولی… یہ دودھ کب سے پینے لگے…میں … وہ ہاں دودھ نہیں چائے چائے … . ہاں چائے … بہن چوددودھ کالفظ میرے منه سےبے خیالی میں نکل گیا … اور یہ بھی شکر ہے کہ دودھ ہی نکلا … مما نہیں بول دیا میں نے ورنہ ساری گیم الٹی ہو جانی تھی… حمائل بُنڈ مٹکاتی ہوئی کچن کی طرف چل دی… . ساتھ ساتھ گانا گنگنا رہی تھی… رات کا نشہ ابھی آنکھ سے لا لا لااس کے جانے کے بَعْد میں ذرا اپنے آپ سے مخاطب ہوا … ابے او مستقبل کے بہن چود…تو کیا اس کے ایک آدھ نظارے پر بوكھلا جاتا ہے … دیکھ یا تو اس کے سامنے آنے سے پہلے ایک آدھ مٹھ مار لیا کر لیکن کم از کم کانفیڈینس تو شو کر ذرا … کل کو تجھے اسے بستر پر پٹخ پٹخ کر چود نا ہے یوں اس کے سامنےحواس کھو دینا درست نہیں … لڑکی ہمیشہ کونفیڈنٹ آدمی سے چدنا چاہتی ہے … . پھر ویسے بھی کافی ٹائم ہو گیا اس سے چھیڑ چھاڑ کیے ہوۓ آج تو موسم بھی فٹ ہے … کچھ سین ہی کر لے…حمائل واپس آئی … مجھے چائے دی… ایک کپ اپنے لیے بھی لائی تھی . . . سامنے صوفے پہ بیٹھ کر پینے لگی… میں نے بھی سپ لینا شروع کر دیا…میں … اچھا ویسے چائے تم نے اپنے دودھ کی بنائی ہے نا…حمائل کے رونگھٹے کھڑے سے ہو گئے … مطلب …میں … بھائی ڈبے کا دودھ بھی لاتی ہیں نا امی آج کل … اس لئے مجھے تو اسکی اچھی نہیں لگتی گھر کے دودھ کا اور مزہ ہے …حمائل … جی گھر کے دودھ کی ہی ہے …سامنے ٹی وی چل رہا تھا میں ٹی وی دیکھنے لگا اور ترچھی ترچھی نظروں سے اسے بھی تاڑتا رہا …حمائل … ویسے بھیا یہ بتاؤ باہر کا دودھ کبھی پیا ہے آپ نے … میرا مطلب باہر کے دودھ کی چائے وغیرہ … تمہیں پتا ہے ضروری عنصر تو دودھ ہی ہوتا ہے …میں … (کم آن سب سمجھ رہا ہوں میں اتنا کور کرنے کی ٹرائی نا کیا کر ) … نہیں بالکل نہیں …چاھے کتنی ہی مجبوری کیوں نا ہو میں تو ٹوٹلی ایوائڈ کرتا ہوں … (پھر اس کے مموں کو اس کے سامنے تاڑتا ہوا بولا ) بھائی بازاری دودھ پہ کون ٹرسٹ کرے خالص دودھ تو گھر میں ہی ملتا ہے …اِس بار اس کے ری ایکشن میں فرق تھا وہ یہ سب باتیں لائک کرنے لگی تھی… اندر سے تو کرتی ہی تھی اب اس نے ہچکچانا بھی چھوڑ دیا تھا… اپنے بھائی سے اپنی چھاتیوں کی ڈھکے چھپے الفاظ میں تعریف سن کر اسکی خوشی کی انتہا نہیں تھی… وہ اِس وقت کیوٹ سا فیس لیے یوں شرما رہی تھی جیسے کسی چھوٹے بچے کی تعریف کرو سب کے سامنے تو اسے شرم آتی ہے …. . اچھا بھیا ایک کام کرتے ہیں موسم اچھا ہے باہر چلتے ہیں تھوڑی آؤٹنگ بھی ہو جائے گی اور لنچ بھی باہر ہی کریں گے …میں … او کے فائن آئیڈیا تو فٹ ہے میں تیار ہو آتا ہوں تم بھی ریڈی ہو جاؤ پھر چلتے ہیں … یہ کہہ کر میں اپنے روم میں چل دیا اور اِس کے لیے مجھے اس کے سامنے سے گزرنا تھا… میں کاٹن کے شارٹس اور ٹی شرٹ میں تھا فل اکڑا ہوا لن لے کر اس کے سامنے سے گزرا … دراصل لن تو اس کی موجودگی میں کئی بار اکڑا تھا مگر ہر بار میں نے مینٹلی اسکی ایریکشن کو کم کرنے کی کوشش کی تھی… ظاہری بات ہے بندہ بہن کے سامنے اتنا لمبا اور موٹا لن ایریکٹ حالت میں لے کر تو نہیں گھومتا نا… برا لگتا ہے بابا… لیکن آج جب اسے ایک قدم آگے بھرتے دیکھا تو میں نے بھی پیچھے رکنا مناسب نہیں سمجھا … اس لئے اب میں لن فل تان کر اس کے سامنے سے گزرا … اور ساتھ ہی گنگنانے لگا… تو کوئی رات میرے ساتھ گزا رو . . تجھے صبح تک میں مم… . . میں نے اپنے روم کے ڈور پر پہنچ کر اسے مڑ کر دیکھا تو وہ بھی صوفے سے اٹھ چکی تھی… بُنڈ کو نکالے قمیض سے نظر آتی ایک اسٹائل سے کھڑی مجھے دیکھ رہی تھی… اس کے چہرے پر گہری مسکان تھی… اس نے ایک ہاتھ سے بالوں کا جوڑا کھولا اور خوشی سے اپنے سر کو دائیں بائیں ہلایا جس سے اس کی زلفین آزاد ہو کر ہوا میں لہرانےلگیں … یہ بھی لڑکیوں کا اپنی خوشی سیلیبریٹ کرنے کا خاص اندازِ ہوتا ہے … اِس وقت ہمارا تعلق ایک ایسی سٹیج پر پہنچ گیا تھا کہ جہاں ہم ایک دوسرے کو کچھ کہے سنے بغیر سب سمجھ رہے تھے … اسے مجھ سے کیا چاہیے اور مجھے اس سے کیا… آنکھیں تقاضا بھی کرتی تھیں اور حرکتیں ظاہر بھی کر رہی تھی… اِس موقع پر مجھے لگا کہ شاید اب وہ لمحہ ہے کہ جس میں سٹیج 2 کو سٹیج 3 میں کنورٹ ھونا ہے … لیکن بہن کو چود نا ایک نازک معاملہ تھا میں نے دو چار دن مزید انتظار کرنا مناسب سمجھا پھر اگر دوسری طرف بھی آگ برابر لگی ہوئی ہے تو دیکھیں ذرا اس طرف سے کیا نیکسٹ موو ہوتی ہے …میں تیار ہو کر باہر نکلا وہ ابھی اپنے روم میں ہی تھی . . اس کے ڈور کے باہر جا کر میں نے آواز دی… تیار نہیں ہوئی کیا… اسکی آواز آئی … بس بھیا آ رہی ہوں بس ابھی آئی … میں ٹی وی دیکھنے لگ گیا … اتنے میں وہ روم سے باہر نکلی میرے سامنے آ کر بولی… کیسی لگ رہی ہوں بھائی …اسکی طرف دیکھتے ہی بیک گراؤنڈ میں اسی گانے کی دوبارہ آواز سنائی دینے لگی… “تینو کردا پیار بڑا پر کہہ نئی ہوندا”… . اس نے اِس وقت کا سنی کلر کا ڈریس پہنا تھا ایک باریک شلوار قمیض کے جو ہلکی سی باریک بھی تھی… میں نے اٹھ کرمدہوش چہرے کے ساتھ اس کو کندھوں سے پکڑا اور گھما دیا… گھماتا گیا اور اس کے ڈریس کا جائزہ لیتا رہا … قمیض چھوٹی تھی… اتنی کہ آدھی بُنڈ کو ڈھک رہی ھوگی ہاں مگر قمیض کے گلے پر بہت بھا ری کڑھائی کی ہوئی تھی… لگتا تھا ڈیزائنرکا ڈریس ہے … قمیض کی چاکس بھی چھوٹی تھیں … سائڈ سے گورا چٹا بدن دِکھ رہا تھا… اور دونوں چاکس پر قمیض کے دونوں پلوں سے ایک چھوٹی سی چین اٹیچ تھی… یعنی اگر کوئی چاک پکڑ کر مزید پھاڑنا چاھے تو یہ چین الاؤ نا کرے ( بلا شبہ چین کا مقصد تو صرف فیشن تھا لیکن اسکی پلیس مینٹ سمجھانے کے لیے میں نے یہ بات کی ) … چاکس کے ختم ہوتے ہی 3 4 انچ اسکا ننگا بدن اور پھر نیچے کا سنی کلر کی ہی لاسٹک والی شلوار کہ جس کی بیلٹ بھی تھی اور وہ تھی بھی پٹیالہ شلوار … شلوار پر پائنچوں کے اوپر سے بل اور جھول سے شروع ہوتے تھے جو سب کے سب اوپر کی طرف تھے … یوں معلوم ہوتا تھا جیسے اپنے پر پڑنے والی ہر نظر کو بُنڈ اور پُھدی کا راستہ دکھا رہے ہوں … شلوار بذات خود اتنی سیکسی تھی کہ دِل کیا ابھی نیچے اُتَا ر کر اسکی پُھدی چاٹنے لگوں اور وہ اپنی شہد جیسی میٹھی آواز میں بھیا بھیا کہتی رہے … . اس نے بالوں میں درمیانی مانگ نکالی ہوئی تھی… اور بال اتنے سلکی اور چمکدار تھے کہ ان پہ ایک مٹھ علیحدہ سے بنتی تھی… یہ کشمیری سیب جیسے گال یہ گلاب کی پتیوں جیسے ہونٹ یہ کاجل سے سجی نگینہ آنکھیں … آنکھیں … اسکی آنکھیں مجھے فوراً ہپناٹائزڈ سٹیج سے واپس لے کر آئیں … اسکا پوچھا ہوا سوال اب اسکی آنکھوں میں تیر رہا تھا… واقعی یار اس نے تو بس اتنا پوچھا تھا کہ کیسی لگ رہی ہوں میں نے باڈی کا ایک ایک حصہ سکین کر ڈالا … میں آنکھوں میں سوال پڑھتے ہی فوراً بولا… بہت بہت بہت خوبصورت ( وہ واقعی کسی نئی نویلی دلہن کی طرح سجی ہوئی تھی ) … . وہ مسکرا کر بولی شکریہ بھائی … .میں تھوڑا اس کے گالوں کے قریب ہوا … اتنا کہ ایسے لگ رہا تھا ابھی کس کروں گا لیکن میں نے کس تو نا کی لیکن اس کے کان میں جا کر کہا … باقی تو سب ٹھیک ہے لیکن ایک بات کا آئیڈیا نہیں ہو رہا ( آواز میں شرارت تھی ) … اس نے بھی میرے گال کو تقریباً چھوتے ہوۓ کان میں سیکس بھری آواز کے ساتھ کہا … . کیا بھائی … . میں دوبارہ کان میں بولا… وہ تمہارے اسکا کلر کیا ہے … . اس نے ایک پل کے لیے میرے فیس کو دیکھا آنکھوں میں بناوٹی غصہ لائی پھر فوراً مسکرائی اور آنکھیں بھی ہنسنے لگیں … دوبارہ میرے کان کے پاس جا کر میرے کان میں رس گھولتے ہوۓ بولی… سیاہ … اب میں نے اس کے چہرے کو سمائل کرتے دیکھا اور اس کے کان میں جا کر کہا … بیوقوف میں لپسٹک کی بات کر رہا تھا… اس نے فوراً میرے کان میں کہا … اوہ سوری میں سمجھی کاجل کی بات کر رہے ہو… حالانکہ ہم دونوں بخوبی سمجھتے تھے کہ ہم کیا بات کر رہے ہیں اور مجھے تو آگے ہونے والے واقعات کی بھی جھلک دِکھ رہی تھی… . ہم دونوں گاڑی میں بیٹھے اور باہر چل دیے … اِس رومینس کو سہی تڑکا تو تب لگتا اگر یہ لنچ کی جگہ ڈنر کا پروگرام ہوتا لیکن ڈنر تک امی ابو گھر پہ ہوتے ہیں اس لئے فل حال اسی پہ گزارہ کرنا پڑا … .راستے میں حمائل بولی… بھیا لنچ میں تو ابھی ٹائم ہے کہیں لانگ ڈرائیو پہ چلتے ہیں زیادہ دور نہیں جائیں گ میں … او کے لیکن کسی پارْک وغیرہ نا چلیں یا چلو تمہیں تھوڑی شاپنگ کرا دیتا ہوں پھر کسی فاسٹ فوڈ یا ریسٹورنٹ چلیں گے …حمائل … نہیں بھائی … پھر نیچے دیکھتی ہوئی بولی… دراصل آپ کو تو پتا ہے کہ امی ابو کا سوشل سرکل بڑا ہے . . مم … میں نے ایسی ڈریسنگ پہلے کبھی نہیں کی… بس کبھی کبھار فرینڈز کے ساتھ پارٹی کروں تو ایسے ڈریس پہن لیتی ہوں ( ان کے ساتھ تو جو تو حرکتیں کرتی ہے ان کا میں چشم دید گواہ ہوں ) … اس لئے میں کیا کہہ رہی تھی کہ ہم ویسے بھی موسم انجوئے کرنے نکلے ہیں تو جگہ سے کیا فرق پڑتا ہے کہیں چلتے ہیں نہر کنارے اور وہاں سے ہی کچھ لے کر کھا لیں گے … . اسکی بات میں دم تو تھا… اس لئے میں نے ایک پکنک اسپاٹ کی طرف گاڑی موڑ دی جو زیادہ دور بھی نہیں تھا اور زیادہ تر کپل ہی وہاں آتے تھے … راستے میں عام باتیں ہوتی رہیں … اب جب دوستی خوب گہری ہو گئی تھی تو تقریباً ہر دوسری بات میں کوئی خرمستی کوئی فن لازمی ہوتا…اچانک اس نے کہا … اوہ ہو میرا سیل کہاں گیا ابھی تو تھا ہاتھ میں … جوش… بھیا ذرا مس کال ما رنا…میں نے کال کی تو فون کی دبی دبی رنگ ٹون سنائی دی اس نے اچانک اپنا رائٹ پٹ اٹھایا اور گانڈ کے نیچے سے اپنا سیل نکا لتے ہوۓ اپنے آپ سے بولی… اوہ یہ کہاں جا گرا پہلے حنا کہتی ہے کہ میرے نیچے جا کر چیزیں غائب ہوجاتی ہیں … ( حنا نے تو پتا نہیں کس کونٹکسٹ میں یہ بات کی تھی لیکن حمائل کا یوں اِس وقت اِس بات کو دہرانا … مجھے بہت ہنسی آئی ) …میں ایک زور دار قہقہہ لگا کر ہنسا … وہ بھی ہنسنے کی وجہ کسی حد تک تو سمجھ گئی لیکن پھر بھی مجھ سے پوچھا … کیا ہوا …میں ہنسی کو کسی طرح کنٹرول کرتے ہوۓ بولا… کچھ نہیں … مجھے آج پتا چلا کہ میری پیاری ہمشیرہ کو چیزوں پر بیٹھ کر انہیں غائب کرنے کا بھی فن آتا ہے …وہ فوراً چہرے پر بناوٹی غصہ لا کر بولی… ہا ہا ہا . . بہت مزاحیہ … اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے آپ تو ہر بات کا اُلٹا مطلب نکالتے ہو…میں بولا… لو جی اُلٹا مطلب کیا نکالا . . میں تو بس کہہ رہا تھا کہ دیکھو دس شلواروں کا کپڑا لگا ہوا ہے اِس ایک میں اسی کے کسی جھول شول میں گم ہو گیا ھوگا موبائل …وہ فوراً ہاتھ سے ہوا میں اسٹاپ کا اشارہ کر کے ڈرامائی انداز میں بولی… بس جی باتیں نا بنائیں سب سمجھتی ہوں میں … اور پھر دوسری طرف منه کر کے شیشے سے باہر دیکھنے لگی…میں اسکی جانب دیکھتا ہوا دِل میں بولا… میں تو بس اتنا کہہ رہا تھا کہ ایک بار میری گود میں بیٹھ کر اِس لن کو غائب کر دو اے جادوگرحسینا…مجھے اپنی طرف دیکھتے ہوۓ محسوس کر کے اس نے میری طرف دیکھا اور بولی… اب سامنے دیکھ کر گاڑی چلائیں … چہرے پر سمائل کو روکنے کی کوشش کر رہی تھی… یوں لگ رہا تھا جیسے میرے دِل کی آواز سن لی ہو اس نے … وہ دوبارہ دوسری طرف دیکھنے لگی…میں نے لیفٹ ہاتھ اسکی چاک کے ساتھ ننگے بدن پر پھیرا… مان جاؤ نا پلیز . . وہ ایک دم مڑ کر ہنستے ہوۓبولی… او کے بابا لیکن یوں تو نا کریں گدگدی ہوتی ہے … ( گدگدی نہیں ہوتی تجھے رنڈی … تیرا ذہن بدلنے لگتا ہے … اچھی طرح پتا ہے تجھے کہ اِس وقت تجھے سب سے زیادہ کس چیز کی طلب ہے مگر لگی ہے نخرے کرنے … ایک تو چوت کو پانے کے لیے اتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں کبھی سوچا نہیں تھا… خیر یہ نخرے بھی میرے فائدے کی ہی چیز ہیں … کیوں کہ ایک بار یہ ذہنی طور پر میری ہو گئی تو اپنی سیکس ایک حادثہ نہیں ھوگی بلکہ ایک نئی زندگی کا آغاز ھوگا )ہم ایک جھیل کے کنارے پوھنچے اور وہاں سموسے پکوڑے وغیرہ لئے … ان کا ٹیسٹ کمال کا تھا… اِس اسپاٹ پر جھیل کے کنارے کافی خاموشی تھی کچھ درختوں کے نیچے بینچ تھے … جن پہ اکثر کپل ہی بیٹھے تھے … اور کچھ کپل نے جھاڑیوں میں بیٹھنا ہی بہتر سمجھا … ہم بھی ایک سایہ دار درخت کے نیچے بینچ پر بیٹھ کر پیٹ پوجا کرنے لگے… آس پاس سے جو دو چار کپل گزرے ان میں کوئی بھی ایسا نہیں تھا کہ جس کی نظر میری سیکسی بہن پر نا پڑ رہی ہو… سب حمائل پہ نظر ڈالنے کے بَعْد ایک قابل رشک نظر مجھ پر بھی ڈالتے …ہم ساتھ کھا بھی رہے تھے اور ڈرنکس بھی پی رہےتھے … اور بلا شبہ چٹ چیٹ بھی چل رہی تھی… اتنے میں میں نے حمائل کا رائٹ ہاتھ پکڑ لیا اور ہاتھ سیدھا کر کے اسے غور سے دیکھنے لگا… وہ حیران ہو کر بولی کیا ہوا بھیا کیا دیکھ رہے ہو…میں . . ھم بس کچھ خاص نہیں تمھاری قسمت پڑھ رہا ہوں . .حمائل … اچھا اس لئے تمہیں یقین ہے کہ آدمی کی تقدیر اس کے ہاتھ پہ لکھی ہوتی ہے . .میں … اچھا میں اسے سچ مانتا بھی نہیں اور یہ بھی سچ ہے کہ جھوٹ بھی نہیں مانتا… میرا مطلب ایک آرْٹ ہے کچھ لوگ کہتے ہیں سچ ہے کچھ کہتے ہیں جھوٹ … میرا مطلب کون جانتا ہے کہ کیا سچ ہے … .حمائل … اچھا ہاتھ پڑھنا آتا ہے تو بتاؤ میرے ہاتھ میں کیا لکھا ہے …میں … تمہارے ہاتھ میں حیرت کی جو بات ہے وہ یہ ہے کہ عقل کی لکیر ہے ہی نہیں … حمائل نے مجھے ایک ہلکی سی چپت سر پہ مار کر کہا … بھیا انسان بنو… سچی بتاؤ کیا لکھا ہے …میں اس کے حَسِین ہاتھ پر انگلیاں پھیرتے ہوۓ بولا… اچھا سچی بتاؤں … ایسا ہے ڈیئر کہ تمہارے ہاتھ میں لکھا ہے کہ تم بہت جلد سہاگن بننے والی ہو… اس کے چہرے پر ایک لالی سی آئی … فوراً بولی اچھا جناب ذرا دکھاؤ تو کہاں کر کے لکھا ہے …(میں چونکہ چولیں مار رہا تھا اِس لیے بولا ) … کیا بابا ایسے سیدھا سیدھا تھوڑی لکھا ہوتا ہے … پڑھ کر بتا رہا ہوں نا صرف ٹرسٹ می …حمائل … او کے بھیا آئی ٹرسٹ یو اب یہ بتاؤ جلدی سے کیا مراد ہے آپ کی… کتنی جلدی…میں … اچھا ہو سکتا ہے ایک ہفتے میں ہیحمائل … لو جی اتنا بڑاجھوٹ . . یہ تو میں ابھی ثابت کر سکتی ہوں کہ ایسا کچھ نہیں ہونے لگا…میں … وہ کیسے …حمائل … بھائی سیدھی سی بات ہے … نا میرے رشتے کی کوئی بات چلی ہے نا منگنی … نا کچھ اور… آپ ہو کہ میری 7 دن کے اندر اندر شادی کروا رہے ہو … اچھا ہاتھ پڑھنا جانتے ہو آپ…میں . . میں نے کب کہا کہ شادی ہو رہی ہے تیری . . اس نے چونک کر میری جانب دیکھا اور حسب معمول اس کی زُبان پہ آنے والا سوال پہلے اسکی آنکھوں میں اُتَر آیا . . وہ بولی… کیا مطلب شادی نہیں تو اور کیا…میں … بھائی میں نے کہا سہاگن بنے گی … دلہن نہیں کہا میں نے …حمائل … ہاں تو ایک ہی بات ہے … مجھے اُرْدُو نہیں آتی جیسے … سہاگن اور دلہن ایک ہی ہوتی ہیں …میں … نہیں ڈیئر ایک فرق ہے … دلہن اس لڑکی کو کہتےہیں جسے دلہا مل گیا ہو… سہاگن اسکو کہتے ہیں جسے اپنا سہاگ ملا ہو… اور تمہیں پتا ہے سہاگ محبوب کو کہتے ہیں … لہذا جب ایک لڑکی کواپنی زندگی کا سچا پیار ملتا ہے تو وہ سہاگن بن جاتی ہے … شادی ہو یا نہیں …اب اسکی آنکھوں میں جھانک کر میں اس کے دِل کا حال پڑھ رہا تھا… وہ بات کو خوب سمجھ رہی تھی . . بولی… اچھا ! ! ! او کےدیکھتے ہیں آپ کی یہ بات سچ ثابت ہوتی ہے یا نہیں … لیکن بس ایک ہفتہ یا چلو دس دن … زیادہ سے زیادہ ( اپنے حَسِین ہاتھ سے دوبارہ ہوا میں اسٹاپ کا اشارہ کیا… مجھے وہ اِس وقت بات کرتے ہوۓ یوں لگ رہی تھی جیسے کہہ رہی ہو بس دس دن کے اندر اندر چود ڈالو … اب سہا نہیں جا رہا ) … کافی دیر ہو گئی تھی اِس سے پہلے کہ امی گھر آتی ہمیں گھر پہنچنا تھا لہذا ہم اُٹھے اور گاڑی میں بیٹھ گئے ابھی میں نے گاڑی اسٹارٹ ہی کی تھی کہ اتنے میں حمائل کی سائڈ پہ ایک بھکاری عورت آئی اور اسے دیکھتے ہی کہنے لگی… ہائے نظر نا لگے میری شہزادی کو . . کچھ صدقہ نکالو نا . . دعا کروں گی کہ تم ہمیشہ سہاگن رہو . . اور تمہارا سہاگ ہمیشہ ہمیشہ سلامت رہے ( اس نے تمھارا سہاگ کہتے ہوۓ میری جانب دیکھا تھا اور حمائل بھی سمجھ گئی تھی کہ وہ ہمیں ہسبنڈ وائف سمجھ رہی ہے ) … حمائل کو تو جیسے شوک سا لگ گیا تھا میں نے جیب سے 100 کا نوٹ نکال کر اس عورت کو دیا… حمائل حیرت سے منه کھولے مجھے دیکھ رہی تھی… حمائل کو صرف اسکا بھائی نہیں بلکہ تقدیر بھی اشارے دے رہی تھی کہ اسے آگے کیا فیصلہ لینا ہے … وہ بھی ایک گہری سوچ میں ڈوب سی گئی تھی… ہم واپس گھر لوٹ آئے … واپسی پہ گاڑی میں گانا لگا ہوا تھا “دوروں دوروں اکھیاں مارے منڈا پٹواری دا…پٹھے سیدھے کردا اشارے منڈا پٹواری دا” . . ہم دونوں راستے بھر یہ گانا سنتے ہوۓ ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے … .اگلے دن میں شام کے وقت چھت پر کھڑا پتنگ اُڑا رہا تھا… باہر سڑک پہ دیکھا کہ ایک کتا کتی کو راضی کرنے میں لگا ہے … دراصل ہمارے گھر کے سامنے ایک خالی پلاٹ تھا وہاں کچھ جھاڑیاں ٹائپ بھی تھیں اور تھوڑا بہت گند بھی پڑا تھا… کتی مسلسل آگے آگے دوڑ رہی تھی…جیسے ہی کتا اس کے قریب ہوتا وہ اسے غرا کر وارن کرتی جیسے کہہ رہی ہو کہ قریب آنے کی کوشش نا کرنا… مگر تھوڑا آگے جا کر خود ہی نیچے لیٹ جاتی اور مٹی میں پلسٹیاں کھاتی اور کتے کو ترسانے لگتی… یعنی میری بہن والی حرکتیں … ایک تو یہ عورت اور کتی نیچر وائز ایک جیسی ہی ہوتی ہیں … مگر کتا بھی ہمت نہیں ہا ر رہا تھا بالکل میری طرح … یعنی آپ یہ کہہ لو کا مرد اور کتا بھی نیچر وائز ایک جیسے ہوتے ہیں … مجھے پتنگ اڑانے کے ساتھ ساتھ یہ اچھی تھرل مل گئی … کوئی خاص انٹرسٹ تو تھا نہیں مجھے انکے سیکس میں لیکن ایک تجسس ضرور تھا کہ کتا کام ڈالنے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں … .اتنے میں حمائل اوپر چھت پر آئی . . اس نے سرخ شلوار اور سفید قمیض پہن رکھی تھی اور قمیض پہ ڈیزائن پرنٹ بھی تھا… سر پہ وائٹ ڈوپٹہ بھی لیا ہوا تھا… مجھ سے اسکی بے تکلفی اپنی جگہ لیکن چھت پر تو اس نے شریف زادیوں کی طرح ہی آنا تھا نا… اوپر آتے ہی شوخ انداز میں مجھ سے باتیں شروع کر دیں … ہیلو … کیا ہو رہا ہے جناب … بڑی گڈیاں شڈیاں اڑا رہے ہو ( اسکا انداز ایک دم جب وی میٹ کی کرینہ والا تھا… اب بھائی کو پٹانے کے لیے اسے شوخ پنا تو چاہیے ہی تھا نا ) …میں … ہاں جی لگتا ہے بس گڈی کو اُڑانا ہی ہمارے نصیب میں ہے ( میں یوں بولا جیسے اڑانے کی جگہ چودنے اور گڈی کی جگہ پُھدی کی حسرت ہو مجھے ) . .حمائل … اچھا جی … ویسے آپ گڈی اڑاتے ہوۓ بہت کیوٹ لگتے ہو…میں … اچھا . . آؤ تم بھی جوائن کرو ( میں نے بایاں ہاتھ کھول کر اسے اپنے آگے آ کر کھڑے ہونے کا اشارہ کیا… یعنی میں اسے پیچھے سے ہگ کر کے پتنگ اُڑانا چاہتا تھا )اسے میرے ارادوں کا آئیڈیا ہو گیا فوراً بولی… رہنے دیجیے جی . . ابھی چھت پہ کھڑے ہو کر یہ سب کرتے اچھے نہیں لگتے … پھر امی بھی گھر پہ ہیں … آپ ہی اڑائیں ورنہ آپ کا دھیان بلاوجہ کہیں اور لگا رہے گا …میں نے اسکی جانب دیکھ کر سمائل کیا… اس نے آگے سے آنکھ مار دی… ادھر اس نے آنکھ ماری اُدھر پتنگ کو تاؤ آیا اور ڈور نے اچانک میری انگلی پہ کٹ ڈال دیا… معمولی سا خون بہنے لگا… میں نے جھٹکے سے ہاتھ چھڑا یا … ڈور دوسرے ہاتھ میں پکڑی اور رائٹ ہینڈ کو ہوا میں سی سی کرتے لہرانے لگا…اس نے فوراً میرا ہاتھ پکڑا اور کٹ کو دیکھنے لگی… دھیان سے بھیا کیا کرتے ہو تم ( اسکی آنکھوں میں ایک بہن کی بے لوث محبت امڈ آئی … میں سوچنے لگا کہ یار یہ رشتہ بھی کیا خوب ہے سیکس اور رومینس کے بھی مزے اور ایک نازک سے دِل میں آپ کے لیے اتنا پیار بھرا احساس…واہ قسمت کھلنے والی تھی اپنی تو )اس نے ذرا انگلی پر غور کیا اور پھر اسے منه میں لے لیا .. جیسا کہ ہم ہمیشہ معمولی سے کٹ پڑنے پر کرتے ہیں … اسکی زُبان کی گرمی جب انگلی پر پڑی تو لن بھی سر اٹھا کر انگلی کو حسرت سے دیکھنے لگا… میں دِل میں انگلی کی جگہ لن تصور کر رہا تھا اور اسے اِس بات کا آئیڈیا میری آنکھوں میں جھانک کر خوب ہو گیا … اس نے فوراً انگلی کو لن کی طرح 2 چوپے لگائے . . تھوڑا مزید منه میں ڈال کر اور خوب سارا تھوک لگا کر ( سوچ رہی ھوگی تھوڑی اِس مسكین کی بھی موج ہو جائے ) … دو چوپوں کے بَعْد اس نے انگلی باہر نکالی اور بولی… آئی تھنک اتنا کافی ہے ( آنکھوں میں معنی کچھ اور ہی تھے ) … میں نے فوراً اسکی تھوک سے بھری انگلی اپنے منه میں ڈال لی… .میں انگلی چوس کر فرینچ کس تصور کر رہا تھا کہ میری نظر اس کے پیچھے سڑک پر پڑی … کتا اِس ٹائم کتی کو کامیابی سے لگا ہوا تھا . . وہ کتی کو راضی کرتے کرتے روڈ کے کنارے پہنچ گیا تھا اور اِس وقت لگاتار جھٹکے مار رہا تھا… میں یہ منظر دیکھتے ہوۓ بھول ہی گیا کہ حمائل ابھی مجھے اس انگلی والی حرکت پہ حیران ہو کر دیکھ رہی تھی… اور میں تھا کہ اسے اگنور کر کے کچھ اور دیکھ رہا تھا… اس نے اچانک میری نظروں کا پیچھا کیا… اس کے رخ پھیرنے پر میرا دھیان دوبارہ اس پہ گیا … حمائل نے میری جانب ترس کھاتی ہوئی نظروں سے دیکھا … میں نے گھبرا کر انگلی منه سے نکالی … اِس سے پہلے کہ میں اپنی پوزیشن کو جسٹیفائی کرتا وہ بول اٹھی … بہت افسوس کی بات ہے . . بھیا یہ تو سنا تھا کہ لوگ چھت پر چڑھ کر لڑکیوں کو تاکتے ہیں آپ نے تو اس کک . . جانور کو بھی نہیں بخشا ( وہ کتیا بولتے بولتے رہ گئی … جانتی تھی کہ کتیا تو وہ خود بھی ہے ) … . میں فوراً سنبھلا اور سچویشن کو ہینڈل کرنے لگا… بلا شبہ یہ اقرار کر نا کہ میں کتیا کی چدائی دیکھ رہا تھا وہ بھی اپنی جوان بہن کے سامنے تھوڑا عجیب تھامیں … ارے نہیں نہیں غلط مت سمجھو میں تو دیکھ رہا تھا کہ یہ یہ لڑکی کون ہے جو ابھی ابھی ہمارے گھر سے نکلی ہےحمائل نے ایک نظر نیچے دیکھا … ہمارے گھر سے واقعی ایک لڑکی نکل کر جا رہی تھی جو جوان بھی تھی اور صحتمند بھی لیکن حلیے سے کوئی میڈ لگ رہی تھی…حمائل … اچھا وہ ہاں وہ شازیہ ہے کام والی لڑکی ہے بتایا تھا نا آپکو کہ پرانی چھوڑ گئی ہے تو اسی سلسلے میں آئی تھی… .میں … اچھا تو یہ ہے شازیہ …حمائل … جانتے ہو اسے …میں بارے میں سنا ہے یہ شاذو گھنٹی کے نام سے مشھور ہے …حمائل … کیا شاذو گھنٹی ( لاسٹ لفظ حیرت سے ) … یہ کیسا نام ہوا جی ( آواز میں وہ شروع والی مستی برقرار تھی )میں … ہاں ہاں شاذو گھنٹی … محلے کے لڑکے نے نام رکھا ہے اس کا …حمائل … وہ کیوں … اچھا اچھا پلیز نا بتانا لڑکوں نے رکھا ہے تو کوئی فضول وجہ ہی ہوگی …میں ( ہنستے ہوۓ ) … بھائی وجہ یا سچی ہوتی ہے یا جھوٹی اِس میں فضول جیسا کیا ہے …حمائل … ہاں جی اور آپ جناب تو جھوٹ بولتے نہیں… چلیں اب وجہ بھی بتا دیں … ہمیں بھی معلوم پڑے ایسا یونیک لقب کیوں ہے اس کا …میں … بھائی وجہ بہت سادہ ہے … نام پہ غور کرو تو پتا چل جائے گی وجہ …حمائل … اِس میں غور کیا کرنا… بس گھنٹی کہتے ہیں اسے . میں … اچھا یہ بتاؤ گھنٹی کو کیا کرتے ہیں …حمائل ( جھٹ سے ) … بجاتے ہیںمیں … بالکل ( زور دیتے ہوۓ ) …حمائل کے چہرے پر ایک دو رنگ اکٹھے آ گئے … تھوڑا رنگ اڑا تھوڑا شرم سےگالیں سرخ ہوئیں … مگر فوراً سنبھل گئی …حمائل … وہ میں … یہ محلے کے لڑکے بھی نا… ویسے واقعی ؟ ؟ ؟ …میں … میں کیا واقعی … .حمائل … میرا مطلب واقعی بجتی ہے … .میں … ہاں ہاںحمائل … اوئے کہیں تم نے بھی تو ایسی ویسی حرکت نہیں کی… . امی کو کہتی ہوں اِس سے بات بالکل ڈن نا کریں … بھیا کے ارادے ٹھیک نہیں …میں … ارے کیا کہہ رہی ہو میں کیوں تمہارے ہوتے ہوۓ کسی اور کو بجانے لگا…حمائل … چل ہٹ … میں کوئی گھنٹی ہوں …میں … نہیں نہیں میرا مطلب ہے کہ گھر میں جوان بہن ہو تو کونسا بھائی باہر ایسی حرکتیں کرنے کی جُرات کر سکتا ہے …حمائل … بس جی سب سمجھتی ہوں میں ( سالیے سب سمجھتی ہے تو مرواتی کیوں نہیں … بول ! )میں … اچھا ویسے ایک بات ہے شیکسپئر کہتا ہے کہ ہر عورت بنیادی طور پر ایک گھنٹی ہوتی ہے ( حمائل کے جواب سے پہلے میرے اپنے لن نے کہا واہ استاد کیا فلاسفی جھا ڑی ہے … لعنت ہو آپکی دانشوری پہ )حمائل ( سب سمجھتے ہوۓ مسکراکر ) … اچھا جی بڑا پڑھا ہے آپ نے شیکسپیئر کو… ویسے آپکا یہ شیکسپیئر کہتا ٹھیک ہے ( میں نے فوراً لن سے کہا … دیکھ بھوسڑی کے کبھی کبھی اندھیرے میں چلائے ہوۓ تیر بھی نشانے پہ لگ جاتے ہیں … اسکی پُھدی تک میرا میسیج پہنچ گیا … پھر مجھے لن لینا ہے شیکسپیئر کا ) … لیکن ایک بات ہے بھائی … گھنٹی لیگل طریقے سے بجتی ہے یا ال لیگل یہ تو میٹر کرتا ہے نا ( آج حمائل بھی فل موڈ میں تھی )میں ( کھسیانا ہو کر ) … ہاں وہی تو… مگر یہ لیگل ال لیگل کا چکر کہاں سے آ گیا … بھائی گھنٹی بجانے میں اور اسلحہ رکھنے میں فرق تو ہوتا ہے نا…حمائل … نہیں لیگل مطلب کہ جیسے کہتے ہیں نا کہ دو ھاتھوں میں گاڑی خراب ہو جاتی ہے اسی طرح گھنٹی بجانے والا بھی ایک ہی ھونا چاہیے … ایک ہی تعلق جو معاشرے کی نظر میں بھی جائز ہو…میں … اچھا اتنا جانتی ہو تو ایک کنفیوژن سی ہے وہ تو حَل کردو…… جی جی بولیں پروفیسر حمائل آپکی تسلی ضرور کروائیں گی …میں نہیں لیکن اگر … اگر کوئی بھائی اپنی بہن کی گھنٹی بجانا چاھے تو بہن مائنڈ تو نہیں کرے گی …وہ ایک دم کھلکھلا کر ہنسی اور مجھے ایک چپت پیار سے گال پر مار کر بولی… چل ایڈیٹ بھائی بھی کبھی بہنوں کی گھنٹی بجاتے ہیں …اور اگر کوئی بھائی ایسا سوچے نا تو بہن کو جوتی اُتَا ر کر اسکی درگت بنانی چاہیے … اچھا میں جا رہی ہو بائے … یہ کہہ کر وہ دوڑ گئی …میں ( پیچھے سے ) … ارے مگر سنو تو . . ( کیا بہن چودہے یار جاؤ میں نہیں کھیلتا … جب بات بننے لگتی ہے یہ بُنڈ مٹکا کر دوڑ جاتی ہے … سالا کتے والی زندگی ہوگئی ہے اپنی تو )میں نے نظر اٹھا کر باہر روڈ کی جانب دیکھا … کتا ایک بھرپور شوٹ لگا کر سڑک کنارے بیٹھا ہانپ رہا تھا اور میری جانب یوں دیکھ رہا تھا جیسے مسکرا کر کہہ رہا ہو… سالے تو کس بنیاد پہ خود کو کتے سے کمپیئر کر رہا ہے … کتے کا جگرا دیکھ سڑک کنارے ٹانگ اٹھا کر کتی چود لیتا ہے اور اپنی اوقات دیکھ گھر بیٹھی پُھدی تک کے بھاؤ نہیں پوچھتے …میرا دماغ گھومنے لگا دِل میں بولا… چُپ کر سالے کتا ہو کر جگت ما رتا ہے ابھی پتھر ما رتا ہوں تجھے . . اور میں نے پتھر مار بھی دینا تھا اگر پیچھے سے امی کی آواز نا آتی…ممی … عثمان بیٹا … کیا کر رہے ہو ( موم ہمیشہ انتہائی شائستہ اندازِ میں بات کرتی تھیں )میں … جی ممی وہ پتنگ اُڑا رہا تھا…ممی … ہاں مگر پتنگ ہے کہاں …میں میں ہی ہے لیکن پتنگ کب کا کٹ چکا ہے . . اب پتا نہیں حمائل سے نوک جھونک کرتے کٹ گیا یا کتے سے وائرلیس کمیونیکیشن کے دوران…میں … ہاں وہ تو کٹ گیا …ممی … اچھا بچے آپ کو میں نے کام کہا تھا کچھ … جاؤ ذرینہ آنٹی کے گھر سے سامان اٹھا لاؤ …میں … جی ممی بس گھنٹی بجا کر جاتا ہوں …ممی … کیا کہا …میں … کک کچھ نہیں بس جا رہا ہوں ( ایک تو بہن چود جب ملتی ہے دماغ چود جاتی ہے یہ لڑکی ) … میں دوڑ کر نیچے آگیا اور امی کے کام سے چلا گیا …اس دن میں بہت پریشان تھا . . یہ سب اچھا تو لگ رہا تھا لیکن جس طرح پہلی سٹیج پہ مزہ آنا ختم ہو گیا تھا اسی طرح یہ سب کافی محسوس نہیں ہو رہا تھا اب لن والی سائڈ سے پریشر بہت بڑھ چکا تھا جیسے تیسے حمائل کو چودنا ضروری ہوتا جا رہا تھا لیکن وہ تھی کہ تھوڑے ہی مزے سے دِل بہلا کر غائب ہو جاتی… بہن چود ٹینشن کے مارے میں نے پہلے رات کو مٹھ ماری پھر سگریٹ پیتے ہوۓ دو چار انڈین موویز دیکھیں … رات کافی دیر تک یہ سب چلتا رہا … اور رات کے آخری پہر سو گیا میں …صبح آنکھ کھلی تو حمائل میرے ہی سرہانے بیٹھی تھی .. بھیا جی کیسے ہو آپ ( اس نے مسکرا کر کل والے اندازِ میں ہی بات کی ) … میں نے آنکھیں ملتے ہوۓ اسے دیکھا تو پہلا خیال جو دِل میں آیا وہ یہ تھا… لو جی ہماری ساری محنت غارت گئی … یہ میں نے اِس لیے سوچا کیوں کہ وہ اِس وقت ایک سرخ ڈریس میں بیٹھی تھی جو نا تو باریک تھا بلکہ اوپر سے اس نے ڈوپٹہ بھی نہایت سلیقے سے لیا ہوا تھا… سینے پر بھی اور سر پر بھی … میں نے سامنے گھڑی کی جانب دیکھا . . یار ابھی ٹائم بھی اتنا نہیں ہوا کہ امی واپس آ گئی ہو اور نا ہی اِس میں یہ ہمت ہے کہ امی کے ہوتے ہوۓ میرے روم میں آئے . . پھر اگر صرف ہم دونوں ہی گھر میں ہیں تو یہ اچانک کیسے سدھر گئی … .میں … ہاں میں ٹھیک . . بس وہ ہاتھ میں دَرْد سا ہے …حمائل … چھوٹا سا تو زخم تھا بھرا نہیں کیا…میں … نہیں وہ تو بھر گیا لیکن پتا نہیں کیوں تھوڑا دَرْد سا باقی ہے … تمہارے پاس کوئی ٹکور والی جگہ ہے تو ٹکور کر دو اس کے منه میں صبح صبح انگلی جاتی تو “صبح بخیر ” والی فیلنگ آتی…وہ میری بات کو بخوبی سمجھ گئی ایک دم گہری سی مسکان اس کے چہرے پر آئی پھر اس نے میرا دایاں ہاتھ پکڑا اپنا ڈوپٹہ اوپر اٹھایا اور میرا ہاتھ سیدھا اپنی لیفٹ بغل میں لے گئی اور اوپر سے ڈوپٹہ دے دیا…اوہ بہن چودیہ پہلی بار تھی کہ وہ بغیر برا کے میرے سامنے آئی تھی . . اب اوپر تو ڈوپٹہ تھا لیکن جیسے ہی ہاتھ بغل میں گیا مجھے اِس بات کا احساس ہوا کہ اس نے برا نہیں پہنا اس کے لیفٹ ممّے کا سائڈ ٹچ اتنا ظالم تھا کہ منی نے سوئے ہوۓلن کو ٹھیک طرح سے جاگنے کا موقع بھی نہیں دیا اور آدھے کھڑے لن میں ہی میری منی بالکل ٹپ پر پہنچ گئی … اگر اِس موقع پر حمائل ایک ہلکا سا ہاتھ بھی لن پہ ما رتی تو میں نے چھوٹ جانا تھا… اُدھر اس کے ممے سے اٹھانے والی گرمی نے نا صرف ہاتھ بلکہ میری پوری روح کی ٹکور کر ڈالی تھی… سواد آگیا سجنو تے بیلیو… لیکن یہ اِس ڈریسنگ کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آئی شاید وہ اپنی طرف سے کوئی پلان بنا کر چل رہی ہے اور پٹھے سیدھے چسکے لے رہی ہے … اس نے ہاتھ وہیں رکھے رکھا اور بولی… اب کیسا فیل کر رہے ہو…میں … ہاں فرق تو پڑ رہا ہے …اس نے میرے اٹھتے ہوۓ لن کی جانب دیکھ کر کہا … ہاتھ کو بھی کوئی فرق پڑ رہا ہے یا نہیں …میں … ہاں ہاں یہ بہتر ہو رہا ہے اور وہ کھلکھلا کر ہنس دی…حمائل . . اچھا بھیا ایک کام کرو نا… مجھے شہتوت کھانے ہیں کل کی بارش کے بَعْد پكگئے ہیں چلو توڑ کر کھاتے ہیں ( وہ ہمارے لان میں لگے درخت کی ہی بات کر رہی تھی… اچھا تو لان میں جانا تھا اِس لیے تھوڑا انسانوں والا ڈریس پہنا ) . .میں … تم جا کے توڑ لو نا (بندے کا ہاتھ بہن کے ممے پر ہو اور وہ اسکی بات ماننے سے انکار کر دے یہ نری زیادتی ہے … خیر میری ہر حرکت تو پلان کے مطابق تھی نہیں)حمائل … اچھا چلو تم ساتھ تو آؤ اب کی بار میں درخت پر چڑھوں گی تم بس مجھے پیچھے سے پُش کرنا ( جی پھر میں آپ سے دو چار گھسے لگواؤں گی اور اپنے روم میں دوڑ جاؤں گی … پتر آکہانیاں ہن پرانیاں ہو گیاں نے )اب کیا کیا جا سکتا تھا ملنی تو تبھی تھی جب وہ اپنی مرضی سے دیتی اس لئے یا تو اب تک کی ساری ایفرٹ ضایع جاتی یا پھر ایک چانس لیا جا سکتا تھا شاید اب کی بار قسمت کھل جائے … اور بلا شبہ میں نے چانس لینا مناسب سمجھا جیسے ہی میں نے او کے کہا اس نے میرا ہاتھ باہر نکالا اور بولی . . اچھا پھر منه ہاتھ دھو کر لان میں آ جاؤ … اور وہ چلی گئی … ہاتھ نے باہر آتے ہی مجھے کہا …پتر میرے اوپر میری مرضی چلتی نا تو تیرے منه پہ ایک ایسی چپیڑ پڑنی تھی کہ تیرے چہرے کا نقشہ بَدَل جاتا… . ( بہن چود بہن کے پیچھے ایک میں ہی نہیں میرے جسم کا رواں رواں ٹھرکی ہوا بیٹھا ہے … . )خیر میں منه ہاتھ دھو کر شلوار اور ویسٹ پہن کر باہر چلا آیا … اِس بار شلوار میری بھی اس کے ڈریس کی طرح کافی باریک تھی اور ویسٹ اتنی چھوٹی تھی کہ شلوار سے اوپر ہی تھی… شلوار میں آدھا کھڑا لن صاف دِکھ رہا تھا … شلوار لاسٹک والی تھی ( اکثر رات کو پہن کے سوتا ہوں ) اور میں نے اسکی ساری چنتیں اکٹھی کر کے پیچھے کو کر دیں … اس لئے 8 انچ کے لمبے اور موٹے لن پہ بس باریک ساکپڑا تھا … یہ بے شرمی کی انتہا تھی لیکن آج دِل آر یا پا ر ہونے کو کر رہا تھا اِس لیے میں نے بھی ننگے پن میں کوئی کسر نا چھوڑ ی… لان میں پہنچا تو حمائل وہاں لگے درخت سے شہتوت توڑ کر کھا رہی تھی ( جتنی ٹہنیوں تک اسکا ہاتھ پہنچ پا رہا تھا ) … میرے وہاں آنے کا نوٹ کیا اس نے … مڑ کر سمائل دی اور پھر دوبارہ سامنے دیکھا اور پھر ایک بار پھر مڑ کر دیکھا … اِس بار اسکی نظر لن پہ تھی… میں اسکی کل والی حرکت پہ اتنا تپا ہوا تھا کہ آج اِسے مار کر بھی چود نا پڑتا تو چود ڈالتا اس لئے یہ بے شرمی تو میرے ارادوں کے سامنے کچھ نا تھی… .وہ شہتوت توڑنے لگی… میں اس کے پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا (اور بلا شبہ صرف میں ہی نہیں کھڑا ہوا تھا ) … اس نے اپنی گانڈ کا دباؤ لن پر تھوڑا سا بڑھایا اور پھر مسکرا کر ایک ہاتھ سے شہتوت مڑ کر میرے منه میں ڈالا … بھیا ٹیسٹی ہے نا…میں … ھم مزیدار ( آواز سیکس سے بھرپور تھی اور یقینا وہ ہنڈرڈ پرسنٹ شیور نہیں تھی کہ میں شہتوت کے ٹیسٹ پر کمنٹ کر رہا ہوں یا اس کے بدن کی گرمی پہ )حمائل … اچھا تو پلان یہ ہے جی کہ آپ نا جی مجھے درخت پر چڑھائیں گے اور میں توڑوں گی شہتوت…میں … او کے جی اس لئے چڑھو درخت پہ میں تمہیں پیچھے سے پُش کرتا ہوں اور سہارا بھی دیتا ہوں آج اپنا یہ ایڈونچر بھی پورا کر لو… . اور یہ ڈوپٹہ اُتَا ر دو تو بہتر ہے …حمائل … نہیں دوپٹہ ٹھیک ہے … اُتارے بغیر بھی چلے گا ( یار یہ آج چاہتی کیا ہے … عجیب خواری ہے بھائی )اس نے درخت پر چڑھنے کی کوشش کی اور ساتھ ساتھ ہلکے ہلکے ہنسنے لگی جیسے بچے ایڈونچر کا مزہ لیتے ہیں … میں نے بھی پیچھے سے بُنڈ کو پریس کیا… وہ اِس وقت دونوں پاؤں درخت کے تنے پر رکھ چکی تھی اور صورت حَا ل یہ تھی کہ وہ تھوڑی بینڈ ہو گئی تھی اور اسکی بُنڈ ہوا میں میرے سامنے تھی… میں نے اسے کہا … اور اوپرکروں … وہ بولی… ہاں جی بھیا پُشکرو اور … چونکہ میرے ہاتھ اسکی بُنڈ پہ آئی ہوئی قمیض سے سلپ ہو رہے تھے اس لئے میں نے اپنی آسانی کے لیے قمیض کو بُنڈ سے ہٹا دیا… تا کہ صرف ٹائیٹ شلوار ہو اور میری گرپ اس کے موٹے چوتڑوں پر آسانی سے ہو سکے … جیسے ہی میں نے قمیض اوپر کی میرے اوسان خطاہوگئے … بہن چود ایسی گرمی چڑھی کے کانوں سےدھویں نکلنے لگے…تو یہ تھا سرپرائز اپنے بھائی جان کے لئے … قمیض ا ٹھا تے ہی پتا چلا کہ اسکی شلوار کو ایک اچھا خاصا بڑا کٹ لگا ہے وہ بھی عین پُھدی اور گانڈ کے سوراخ پر … کٹ اتنا بڑا تھا کہ بخوبی آئیڈیا ہو رہا تھا کہ شلوار پھٹی نہیں پھاڑی گئی ہے اور کٹ بھی اتنا بڑا لگایا گیا کہ اگر شلوار تھوڑی آگے پیچھے بھی ہو تو ٹارگٹ پلیس ننگی ہی رہے … میں نے دونوں ھاتھوں کی انگلیاں اس کے چوتڑوں پر اور دونوں انگوٹھے اس کی پُھدی پر رکھ دیے … جیسے ہی پُھدی پر میرے ہاتھ کا ٹچ لگا اس نے مسکرا کر دیکھا اور بولی… کم آن بھیا جان ختم ہو گئی کیا تھوڑا زور لگاؤ نا… ( ہاں بہنا جان تو ختم ہونی ہے نا . . دِل نے جو سارے جسم کا خون اکٹھا کر کے لن کو سپلائی کر دیا ہے )میں … اُف بہت وزن ہے تمھارا . . میں اپنا پورا زور لگا رہا ہوں … ( اور دراصل اسکی گیلی پُھدی کا مساج کر رہا تھا ) … مزہ تو اُسے بھی بے تحاشا آ رہا تھا لہذا بولی… او کے بھیا زور لگاتے رہو ہا ر نہیں ماننی (سسکاریاں روکنے کی کوشش میں اسکی آواز کی ٹون بھی بدل سی گئی تھی ) …میں نے تھوڑا اسکی بُنڈ کو ڈھیلا چھوڑا وہ نیچے کو ہوئی اور پھر میں نے یہ کہتے ہوۓ کہ “زور لگا کہ ہاۓ ” اپنا منه اس کے چوتڑوں میں دے دیا… میں اِس وقت یوں ایکٹ کر رہا تھا کہ گویا اسکا وزن نا سہنے کی وجہ سے میرے ہاتھ بینڈ ہو گئے ہیں اور اسکی گانڈ نیچرلی میرے منه تک آ پوھنچی ہے … گانڈ کے دَر پہ پوھنچتے ہی میں نے زُبان باہر نکال کر اسکی پُھدی کو چاٹا . . بلکہ زُبان کی ٹپ اسکی گیلی پُھدی میں ڈالی … اس کے بدن نے جھٹکا کھایا اور منه سے واضح طور پر آہ نکلی … اسے بھی یہ سب اتنا پسند آیا کہ مزید زور میرے منه پہ ڈالنے لگی… میں نے بھی چوت کی چوسائی تیز کردی ساری دنیا سے بے خبر ہو کر… اگر امی گھر پہ ہوتی اور اِس منظر کو دیکھ لیتی تو خوش ہو جاتی کہ کیسے اسکی پُھدی سے نکلی اسکی خاندانی اور شریف بیٹی اپنے غیرت مند بھائی سے چوت کا دانہ چسوا رہی ہےچوت تو گیلی تھی ہی اور اسے چاٹنے کا مزہ بھی دلکش تھا… لیکن میں تو پہلے دن سے اِس گانڈ کا عاشق تھا اِس لیے چوت چاٹوں اور ذرا ہی دوری پر گانڈ کے سوراخ کو اگنور کر دوں ایسا ممکن نہیں تھا… اس لئے اس کی چوت کے پانی اور اپنی تھوک سے بھرا ہوا منه اس کی گانڈ کے سوراخ پر جوڑ دیا… گانڈ کے سوراخ کو ذرا چاٹا تو اپنی گانڈ میں انگلی ہوئی پتا نہیں کیا سوچ کر میں نے اسکی گانڈ میں انگلی کرنے کا سوچا اور اسی پرانی پوزیشن میں ہاتھ رکھ کر اِس بار انگوٹھا اس کی گانڈ کے سوراخ پر رکھ دیا… تھوڑا بہت گیلا تو میں کر چکا تھا سوراخ کو اب اس میں انگوٹھا دھکیلنے لگا… خوب مزہ آ رہا تھا… لیکن میں مزے میں بھول گیا کہ یہ مزہ صرف میرے لیے تھا… حمائل کو گانڈ کے ٹائیٹ سوراخ میں انگوٹھا جانے سے مزہ نہیں آیا بلکہ دَرْد ہوا … اس نے دَرْد سے ہلکی سی چیخ بھی ماری اور دَرْد بھری آواز میں صرف اتنا بولی… بھیا ! ! ! . . . میں اِس بات سے بے خبر کہ اس پر کیا گزر رہی ھوگی اپنی مستی میں انگل چڑھا تا رہا اور اوپر کو زور لگاتے ہوۓ کہا … چلو شاباش اوپر چلو ڈونٹ وری میں نیچے کھڑا ہوں . .حمائل … نہیں بھیا پلیز نیچے اتارو مجھ سے نہیں چڑھا جا رہا میں گر جاؤں گی ( وہ مشکل سے الفاظ ادا کر رہی تھی)میں … کم آن میں ہوں نا کچھ نہیں ہوتا…حمائل … عثمان سنا نہیں میں نے کیا کہا (اس نے پہلی بار میرا نام لیا وہ بھی انتہائی غصے سے)میں مزے میں ایسا غرق تھا کہ اس کے غصے کو بناوٹی سمجھ رہا تھا… ویسے بھی آج آر پار کرنے کی قسم کھائی تھی لہذا کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا…وہ باقاعدہ چلائی … اتارو مجھے . . اتارو مجھے . . اور ساتھ ہی ایک ٹانگ اٹھا کر پیچھے میرے سینے پر بھی ماریاب جیسے ایک جھٹکے سے میں واپس حقیقت میں آیا … وہ واقعی خوب ناراض تھی… میں نے اسے احتیاط سے نیچے اتارا… نیچے اتری تو اسکی آنکھوں میں آنسو بھی تھے اور چہرے پر غصہ بھی ( اوہ شٹ … یہ ٹھیک نہیں ہوا … کچھ تو گڑبڑ ہوگئی مجھ سے … مجھے اس وقت آئیڈیا نہیں تھا کہ کیا چول مار بیٹھا ہوں)وہ مجھے پیچھے کو پُش کر کے دوڑ کر اندر چلی گئی … میں اس کے پیچھے پیچھے … اسکا رخ اپنے روم کی جانب تھا… میں اس کے پیچھے دوڑ کر گیا … ابھی وہ ٹی وی لاؤنج میں تھی کہ میں نے اسے آواز دی… رکو . . رکو حمائل . . وہ اگنور کرتی چلتی رہی میں نے پیچھے سے جا کر اسکا ہاتھ پکڑا اور اسے گھما دیا… سنا نہیں تم نے میں کب سے آوازیں دے رہا ہوں … کیا ہو گیا ہے تمہیں اچانک … سب ٹھیک تو چل رہا تھا… ہم اِس وقت ٹی وی لاؤنج میں کھڑے تھے وہ واپس مڑی اس کے چہرے پر غصہ اور آنکھوں میں نمی تھی…حمائل … کیا ہو گیا ہے مجھے ؟ ؟ ؟( روہانسی آواز میں … آنکھوں پہ لگا کاجل پھیلتا جا رہا تھا ) … کم آن بھیا اپنی طرف دیکھو … کیا ہو گیا ہے تمہیں … کسے دھوکہ دے رہے ہو مجھے یا اپنے آپ کو… بھائی ہو آپ میرے … اچھا اسی میں خوشی ہے نا آپ کی تو یہ لو… ( یہ کہتے ہی اس نے اپنی قمیض اپر اُٹھائی اور اتارنے لگی )میں نے جھٹ سے اسکی قمیض پکڑ کر نیچے کردی… کم آن حمائل ہوش میں آؤ . . انسان بنوحمائل … بھیا پتا ہے جب بھی کوئی باہر گندی نظر سے دیکھتا ہے تو دِل چاہتا ہے اسکی آنکھیں نکال لوں . . اس وقت ایک ہی خواہش ہوتی ہے کہ یہاں میرا بھائی ہوتا تو کسی کی ہمت نہیں ہونی تھی آنکھ اٹھا کر بھی دیکھنے کی… لیکن میرا بھائی ہے کہ … (وہ باقاعدہ ہچکیاں لینے لگی… اس لمحے دِل تو بہت کیا کہ یہ جو پاکدامن بنی اِس ساری سچویشن اور یہاں تک جن رستوں سے ہو کر ہم پوھنچے ہیں ان سب کا ذمے دَار مجھے ٹھہرا رہی ہے … اسے میں ذرا آئینہ دکھاؤں … کیا یہ تالی پہلے دن سے دو ھاتھوں سے نہیں بج رہی … اس نے تو جیسے کبھی کوئی ریسپونس نہیں دیا…کونسی بہن ایسے کپڑے پہنتی ہے بھائی کے سامنے کون سی بہن ایسی ذومعنی باتیں کرتی ہے … کس بہن کا لہجہ بھائی سے بات کرتے ہوۓ طوائفوں والا ہوتا ہے …کونسی بہن اپنے سودوں پر اپنے بھائی کا ہاتھ انجوئے کرتی ہے … شلوار ادھیڑ کر بھائی کے منه پر رکھے گی تو یہ سب تو ھوگا نا… دِل تو کیا کہ ایک تھپڑ رسید کر کے اسے اسکی اصلیت دکھا دوں لیکن میں جانتا تھا… میں جانتا تھا کہ اِس وقت عقل مندی کس میں ہے . . اسے غلط ثابت کرتا تو وہ مجھ سے تو سیکس نا کرتی لیکن جو آگ میں نے لگائی ہے اسے بجھانے کے لیے دَر دَر پہ جاتی… اس لئے وہ مقصد جو پہلے دن سے میرے ذہن میں تھا کہ صرف چود نا نہیں رومینس کرنا ہے وہ برباد ہو جانا تھا )میں نے اسے آگے بڑھ کر گلے لگایا … آئی ایم سوری حمائل … دیکھو بھائی کبھی بھی بہنوں کو غلط نظر سے نہیں دیکھتے … بھائی ہمیشہ پیار کی نظر سے دیکھتے ہیں … اور پیار کبھی غلط نہیں ہوتا… اور پیار میں کوئی بھی غلط نہیں ہوتا… اگر پیار ہو تو کوئی بھی کام ناجائز نہیں … بس میری جان رَو مت ورنہ میرا دِل پھٹ جائے گا ( یہ تھوڑا زیادہ فلمی ہو گیا مگر سچویشن کی ضرورت تھی… اس کے جذبات کو بھی تو ٹھنڈا کرنا تھا )ادھر حمائل صاحبہ مجھ سے یوں چپکی تھی جیسے مجھ میں سما جائے گی … اسکی قمیض ٹھیک طرح نیچے نہیں ہوئی تھی اور گلے لگاتے ہوۓ میرے ہاتھ قمیض میں گھس گئے تھے … اب میں نے گلے یوں لگایا تھا کہ میرے دونوں ھاتھوں نے اسکی ننگی کمر کو جکڑا تھا… لن پُھدی سے چپکا تھا اور برا سے آزاد ممے ( ڈوپٹہ قمیض والا ناٹک کرنے سے پہلے وہ اتار چکی تھی ) میرے سینے سے لگے ہوۓ تھے … اور اوپر سے سونے پر سہاگہ … حمائل کے ہاتھ مسلسل میری کمر پر چل رہے تھے … یعنی ایک فل رومینٹک جپھی … وہ بھی جسے حمائل مزید سے مزید ٹائیٹ کرتی جا رہی تھی… . لو جی اب یہ ریسپونس میری سمجھ سے باہر تھا… یعنی ابھی رونا بھی ہے بھائی سے بے غیرتی کی شکایت بھی کرنی ہے پھر اسی سے لپٹ کر بدن کی گرمی کو تڑکا بھی لگانا ہے … شاید وہ اپنے آپ کو دھوکہ دینا چاہ رہی تھی… رونے سے اور مجھے برا بھلا کہنے سے جو بوجھ اس کے دِل میں تھا احساس گناہ کی وجہ سے وہ اسے ہلکا کرنا چاہ رہی تھی… اس لئے یہ اسکی ایک طرح سے کونفیشن سٹیج تھی… اور سچ پوچھیں تو مجھے خوشی تھی کہ یہ سب ہوا … ایک بار جب آپ رَو کر دِل کا غبار نکال لیتے ہو تو آپ نارمل محسوس کرتے ہو اور جب آپ نارمل محسوس کرتے ہو تو کچھ بھی کر لیتے ہو … اس لئے اب میں پر یقین تھا کہ اِس کے بَعْد اس کا دماغ مکمل راضی ہو گا … اور وہ کبھی بھی نہیں پلٹے گی … شاباش بہنا مبارک ہو… اب تمھاری ہر رات شب برات ھوگی اور ہر دن عید کا دن ہو گا …میں اسکی کمر پر ہاتھ پھیرتے بولا… او کے بس … بس… چلو تمہارے روم میں چلتے ہیں تھوڑی دیر لیٹ جاؤ … وہ مجھ سے خاموشی سے چمٹی رہی … میں نے اسے بازؤں میں اٹھایا اور روم کی طرف لے گیا … میرا لن اِس وقت نیچے سے اسکی ننگی چوت کو چھو رہا تھا ( کاش میں بھی ننگا ہوتا ) … اسے اس کے بیڈ پہ لٹایا … اس نے دوسری جانب کروٹ لی… بُنڈ باہر کو نکالی …سالی نے رَو کر خود کو بے گناہ تو ثابت کر دیا لیکن بڑے کانفیڈینس سے اِس وقت قمیض ہٹا کر بُنڈ نکال کر بیٹھی تھی… وہ بُنڈ کہ جس میں شلوار کے پھٹے ہونے کی وجہ سے گانڈ کی موری اور رستی ہوئی چوت صاف دِکھ رہی تھی… وہ خاموش لیٹی تھی اور میں ترسے ہوۓ کتے کی طرح اسکی چوت کے پنک لبوں کو دیکھی جا رہا تھا کہ جن پہ اس کے جوسز کی بوندیں چمک رہی تھیں ( کس کشمکش میں ڈال دیا تو نے )میں … او کے میں چلتا ہوںحمائل … تھوڑی دیر بیٹھے رہو ( کسی جذبات کے بغیر )میں … او کے بیٹھا ہوں یہاں تم پریشان نہیں ہو . .حمائل . . چاہو تو اوپر لیٹ جاؤ …میں چُپ چاپ ( دِل میں ڈرتے ہوۓ کہ پِھر نا اِسے کہیں شرافت کا دورہ پڑ جائے ) اس کے پیچھے چپک کر لیٹ گیا … لن اسکی پُھدی کو چھونے لگا… اور حالت یہ تھی کہ میری شلوار بھی نا صرف اس کے گیلے پن بلکہ میری منی کی بوندوں کی وجہ سے بھی گیلی ہو رہی تھی… اس لئے لن کے ٹوپے پہ پُھدی کا ٹچ صاف فیل ہو رہا تھا… اور مجھے یوں لگ رہا تھا کہ اب چھوٹا کہ تب چھوٹا …مجھ سے رہا نا گیا … حمائل کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اس کے گالوں کے قریب ہو کر کہا …حمائل . .حمائل … ھممیں … حمائل ڈیئر تمھارا بھائی ہوں تم سے جھوٹ نہیں بولوں گا … مجھے تم سے بہت محبت ہے اور میں تمہیں اپنی سہاگن بنانا چاہتا ہوں ( بڑی ہمت چاہیے بھائی )وہ ایک دم اٹھ کر بیٹھ گئی اپنی قمیض بھی ٹھیک کی اور تکیہ اٹھا کر سینے پر رکھ گھٹنے جوڑ کر بیٹھ گئی … اور بولی… بھیا پلیز یہاں سے چلے جائیںمیں … لیکن میری بات تو…حمائل ( بات کاٹتے ہوۓ ) … پلیز … پلیز چلے جاؤ …میں خاموشی سے اٹھ کر اپنے روم میں آ گیا … یہ موقع یہ بات کہنے کا تھا یا نہیں یہ تو نہیں پتا مجھے لیکن اتنا طے ہے کہ اب مجھ سے مزید رہا نہیں جا رہا تھا… اس لئے وہ مانے نا مانے … پلان کامیاب ہو یا نہیں اِس لمحے جو کیا وہ بالکل ٹھیک تھا… ناکامی تو ہوئی … بات بنتے بنتے رہ گئی لیکن مجھے کسی بات کا افسوس نہیں تھا کیوں کہ اب میں نے کوئی کسر نہیں چھوڑ ی تھی یہ سب اسکی ضد تھی . . اس لئے بستر پہ لیٹا اور کچھ دیر میں سو گیا … ہاں سونے سے پہلے میں نے یہ سوچ لیا تھا کہ اب میں نے مزید نہیں نخرے اٹھانے اس کے … اب خود آ کر کہے گی تو ہی لوں گا … .اگلے 3 دن یونہی گزرے … حمائل بس ناشتہ اور لنچ سرو کرتی مگر مجھ سے کوئی بات نا کرتی میں بھی اسے گھاس ڈالنا پسند نہیں کر رہا تھا کیوں کہ بہرحال دِل تو اپنا بھی ٹوٹا تھا… یہ بےرخی جاری رہی … چوتھے دن میں گھر سے باہر تھا گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا… گاڑی میں کوئی غزل ٹائپ کا گانا لگا ہوا تھا… ” آوارگی میں حد سے گزر جانا چاہیے “… اسی گانے کے سینٹر میں کچھ بول آئے … ” مجھ سے بچھڑ کے ان دنوں کس حال میں ہیں وہ … یہ دیکھنے رقیب کے گھر جانا چاہیے “… اچانک میرے ذہن میں ایک آئیڈیا آیا … یار حمائل اپنی تنہائی میں آج کل کیا کر رہی ہے کچھ پتا تو چلے … اتنے ڈھیر سارے مزے لیے اس نے اور اب اچانک چُپ سادھ لی… تنہائی میں کچھ تو کرتی ھوگی ایسا ویسا… کہ جس سے مجھے اس کے مائنڈ سیٹ کا آئیڈیا ہو… میں نے گاڑی گھر کی جانب موڑ لی… آج دن کو گھر میں کوئی نہیں تھا… امی ابو دونوں کو ایک ہی جگہ جانا تھا کسی رشتہ دار کی طرف اور انہوں نے رات کو دیر سے گھر آنا تھا… حمائل آج نشا کے گھر گئی تھی صبح سے اور اس نے شام کو آنا تھا… شام کا وقت ہو چلا تھا… اس لئے امید ہے وہ اب تک آ گئی ہوگی … پِھر اگر گھر کو تالا نا لگا ہوا تو اس کا مطلب ہے وہ اندر ہی ہے … میں یہ سوچ کر گھر آیا …باہر سے تالا تو نہیں لگا تھا لہذا دیوار پھلانگ کر اندر کود گیا … اندر حمائل کی گاڑی تو نہیں کھڑی تھی لہذا اس کا مطلب ہے وہ نہیں آئی تھی ہاں البتہ امی ابو کی کار کھڑی تھی… اوہ تو آج یہ دونوں جلدی آ گئے کہہ کر تو رات کو آنے کا گئے تھے … خیر اب آ ہی گئے ہیں تو چیک کریں ان کے روم میں کیا چل رہا ہے …میں گیلری سے ہوتا ہوا ان کے روم کی طرف گیا . . جس طرح حمائل کے روم میں روشن دان تھا جو گھر کے اندر ہی کھلتا تھا اسی طرح ان کے روم کا بھی ایک روشن دان تھا جو باہر کی جانب تھا اور روشن دان کے ساتھ ایک شیڈ بھی بنا تھا کہ جس کے اوپر اسپلٹ اے سی کا یونٹ رکھا ہوا تھا…باہر اندھیرا چھا گیا تھا لہذا اس کا مطلب ہے اگر میں اس شیڈ پہ چڑھ کر اندر جھانکتا تو اندر والوں کو میری موجودگی کا آئیڈیا نا ہوتا… میں پہلے دیوار پہ چڑھا اور پھر وہاں سے کسی طرح کر کرا کر شیڈ پہ پہنچ گیا . . خود کو ایڈجسٹ کیا اور اندر جھانکا … یوں تو اب تک جو کچھ ہوا وہ پلان کے مطابق تھا خاصی حد تک … اور مجھے کوئی خاص بائے چانس فائدہ نہیں ہوا تھا لیکن یہ میری قسمت تھی کہ آج اندر اِس ٹائم سیکس کا ماحول بنا ہوا تھا… اور میں شاید تھوڑا لیٹ ہو گیا تھا کیوں کہ شو مڈل میں پوھنچا ہوا لگ رہا تھا… .اندر امی بیڈ پہ لیٹی تھیں اوپر ایک چادر سی لی تھی… اور اندر ننگی تھی… اِس بات کا آئیڈیا اِس سے ہو رہا تھا کہ ان کی ایک ننگی ٹانگ چادر سے باہر تھی… آدھی ران سے لے کر پاؤں تک …اپنی بیٹی کی طرح وہ بھی خوب دھودھیا رنگ کی تھیں … چہرے پر ایک سمائل سی تھی جو کہ سچویشن کی وجہ سے تھی… جی ہاں سچویشن اِس وقت کافی فنی تھی… میرے ابو امی کے سامنے ننگے کھڑے تھے اور وہاں کھڑے کھڑے ممی کو کہہ رہے تھے … رازو… رازو بیگم … رضیہ خاتون پلیز مان جاؤ نا… پلیز … مجھے نہیں پتا مان جاؤ پلیز … وہ کسی بچے کی طرح اچھلا اسکا چھوٹا سا لن اسکی توند سے ٹکرایا …میں نے شروع میں عرض کیا تھا کہ ابو کافی بے ڈھنگے جسم کے ہیں قد چھوٹا اور جسم موٹا … اِس وقت ان حرکتوں سے کیوٹ تو لگ رہے تھے لیکن ایک عورت مرد کے اندر جو مردانگی نوٹ کرتی ہے وہ غائب تھی… .ابو… اچھا چلو میں تمہیں ڈانس کر کے دکھاتا ہوں … ( اور پھر دائیں اور بائیں بطخ کی چا ل والے اسٹیپس لینے لگے )آئی ایم اے باربی گرل ان دی باربی ورلڈ . . ( لو جی بھتنی کے بچے نے گانا بھی گیا تو کونسا… عجیب چول ہے یہ … ابھی اگر اسکی ویڈیو بنا کر اِس کے آفس والوں کو دکھائی جائے نا… کہ کیسے انکا باس گھر میں پُھدی کے پیچھے تھرڈ کلاس کھسرے والی حرکتیں کرتا ہے … بہن چود اتنا  پیسہ ہے تیرے پاس تھوڑا لن پہ خرچہ کر لیتابو… اچھا چلو میں تمہیں ڈانس کر کے دکھاتا ہوں … ( اور پھر دائیں اور بائیں بطخ کی چا ل والے اسٹیپس لینے لگے )آئی ایم اے باربی گرل ان دی باربی ورلڈ . . ( لو جی بھتنی کے بچے نے گانا بھی گیا تو کونسا… عجیب چول ہے یہ … ابھی اگر اسکی ویڈیو بنا کر اِس کے آفس والوں کو دکھائی جائے نا… کہ کیسے انکا باس گھر میں پُھدی کے پیچھے تھرڈ کلاس کھسرے والی حرکتیں کرتا ہے … بہن چود اتنا پیسہ ہے تیرے پاس تھوڑا لن پہ خرچہ کر لیتا تو یہ دن نا دیکھنا پڑتا … نیچ انسان )ابو… پلیز مان جاؤ نا… جیسے پوز میں تم کہو گی اس میں کریں گے … دیکھو میرا لن کتنا شرارتی ہوا کھڑا ہے … (کر لو گل … کتنے کانفیڈینس سے لن لن کہہ رہا ہے … ابّا جی ابھی ذرا اسی حالت میں میرے ساتھ سڑک پہ چلو اور کسی سے ایماندارانہ رائے لے لو… یہ جسے تم شرارتی لن کہہ رہے ہو نا اِس کے ساتھ کی چیزوں کو دنیا “شرارات والی انگلی ” کہتی ہےاتنے میں ابّا نے امی کو راضی کر لیا وہ اٹھ کر گھوڑی بن گئی … آہ ما ر جوان بنارسی پان کھا کے …میں انہیں سائڈ سے دیکھ رہا تھا لیکن تربوز جیسے دو بڑے بمپ غضب کے دِکھ رہے تھے … وہ اسکن کلر کے نہیں سنہری رنگ کے دِکھ رہے تھے … ایسی بڑی گانڈ دیکھ کر تو سنڈا بھی بے قابو ہو جائے … پتا نہیں کتنی انگلیاں چڑھی ہوں گی آج تک ( غالبا لن بھی ) … خیر ابّا جی نے نام نہاد “ لن ” پُھدی پہ ٹکایا اور اپنی طرف سے چودنے لگے… توند نکلی ہوئی تھی اسکی . . وہی بار بار امی کے چوتڑوں سے ٹکرا کر آواز پیدا کر رہی تھی… اس لئے نرا شور شرابا تھا چدائی تو برائے نام ہی تھی…ابو اپنی شرمندگی کو کور کرتے ہوۓ بولے … ہے ہے ہی … خاصی وڈی ہو گئی تیری . . ہے کہ نہیں ٹھیک طرح جا نہیں ریا… امی خاموش تھی لیکن انکا بیٹا مسلسل دِل میں بولی جا رہا تھا… نہیں ابّا جیوڈی تے جنی وی ہےذرا اپنے ٹڈ دی وی فکر کرو… بہن چود کو کبھی پیٹ سے نیچے دیکھنا نصیب ہوا ہو تو للی اور لن کا فرق پتا چلے نا…امی مڑ کر ابو کی طرف نفرت سے دیکھ رہی تھیں … لیکن خاموش تھیں … پتا نہیں کب سے یہ زیادتی سہتی آ رہی تھی… پتا نہیں کہیں اور نا پیاس بجھانے جاتی ہو… پتا نہیں میں اور حمائل بھی ابّا جی کے ہی ہیں یا نہیں …اُدھر ابّا امی سے … میں کی کیندا سنیا ای اے بہہ کے نہیں ہو ریا نا تے اسی لیٹ کے کرلیندے آن … یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے … میں ماں کو رستی چوت کے ساتھ ترستا دیکھ کر دِل میں بولا… ابّا جی اے گل بہہ کے نہیں مکنی ناتے لمبے پے کے وی نہیں مکنی… اُدھر ہوا بھی یہی ابے نے آخر میں لن نکال کر امی کے چوتڑوں پر مٹھ ماری اور پھر جیسے بڑا احسان کر رہا ہو ، امی سے بولا… چل تجھے ایک زبردست سا فنگر فک دیتا ہوں … اپنی ماں کی چوت میں انگلی جاتے کون دیکھ سکتا ہے . . میں بھی دل برداشتہ ہو کر نیچے اُتَر آیا اور سیدھا اپنے روم میں گھس گیا …وہ فنی سیکس دیکھ کر میرے دِل نے جو بھی کمنٹس دیے وہ اپنی جگہ لیکن یہ سچ تھا کہ مجھے دِلی طور پر افسوس ہوا تھا کہ ممی ایک ایوریج سیکس لائف بھی نہیں جی پا رہی تھی… . میرے دِل میں ایک بیٹا ہونے کے ناتے کوئی فرض نبھانے کا احساس جاگنے لگا… خیر پہلے بھائی ہونے کا فرض تو نبھا لوں … وہاں وہ معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا ہے …3 تِین دن بَعْد دوپہر کو امی کی غیر موجودگی میں حمائل میرے روم میں آئی … میں نیوز پیپر پڑھ رہا تھا اسے اگنور کیا… اس نے مجھے کہاحمائل … بھائی …میں ( بغیر دیکھے ) … ھمحمائل … بھیا میں سوچ رہی تھی کہ وہ آپکا پروپوزل اتنا برا بھی نہیں ہے … کسی دن میری طرف آ کر ڈسکس کر لیجئے  میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ اپنی بات کہہ کر پلٹ چکی تھی اور روم سے باہر جا رہی تھی…میری خوشی کی انتہا نہیں تھی… . یاہو اب چدے گی بیٹی منور کمال کی(میرے باپ کا نام )

آہ … بلاخر ساری محنت رنگ لے آئی … اب اپنی راتیں بھی رنگین ہونے جا رہی تھیں … میری آنکھوں کے سامنے جوان ہوئی میری بہن … کتنی بار اِس کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہوا … کتنی بار بےدھیانی میں اِس کے جسم کی جھلک بھی دِکھ گئی … لیکن میں اِس پر جان چھڑکنے والا ایک غیرت مند بھائی بنا رہا … اس دن کے منظر نے نا صرف سوچ بدل دی بلکہ قسمت کی کایہ ہی بدل دی… . آہ بچپن میں کبھی اکٹھے سوتے تھے اب بھری جوانی میں بہن کے ساتھ ایک ہی بستر میں اس سے لپٹ کر اس کے نازک دِل کی دھڑکن کو محسوس کرنے کا موقع ملے گا (حمائل نے حامی کیا بھری میرے ذہن میں مسلسل سہاگ رات کے سین چلنے لگے ) … خیر میں اٹھا نہایادھویا … اور سارا دن یونہی گزر گیا …

رات ہوئی تو میں حمائل کے روم میں گیا … دروازہ نوک کیا… وہ اندر سے بولی… آ جائیں … میں اندر اینٹر ہو کر اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا …

حمائل … جی کیسے آنا ہوا …

میں … وہ آپ نے صبح کچھ کہا تھا… تو اسی سلسلے میں حاضر ہوا تھا…

حمائل … ممی پاپا سو گئے کیا…

میں … ہاں اب تک تو سو گئے ہوں گے …

حمائل … اچھا بھیا وہ میں کہہ رہی تھی کہ … ومم… وہ … ( وہ اپنے دوپٹے کو انگلیوں پر لپیٹنے لگی نظریں بھی انگلیوں کو گھور ے جا رہی تھیں )

میں … چلو تم کچھ کہو مت صرف خاموشی سے کرتے ہیں …

حمائل … نہیں … میں … میں … او کے وہ میں … دراصل ممی پاپا ہفتے بعد گاؤں جا رہے ہیں شادی پہ تو میں سوچ رہی تھی کہ ہم نے جو بھی کرنا ہو تب کریں … میرا مطلب گھر پہ اکیلے ہوں گے تو زیادہ آسان فیل کریں گے … ان کے ہوتے ہوۓ وہ بات نہیں ہوگی … . باقاعدہ شادی کریں گے آپ مجھ سے . .

میں … شادی ؟ ؟ ؟

حمائل … ہاں بابا میں غیر قانونی کام نہیں کرنے لگی . .

میں … یار تمہیں شادی کا طریقہ پتا ہے …

حمائل … یار میرے لیے تو شادی ہی ھوگی اِس لیے میں تو پوری دلہن بنوں گی ( یہ کہتے ہوۓ وہ سائڈ پہ دیکھنے لگی . . اب ایسے الفاظ استعمال کرتے ہوۓ بھائی کی آنکھوں میں دیکھنا مناسب تو نہیں تھا نا… . اچھا تو شادی سے مراد اسکی نکاح نہیں بلکہ دلہن کی طرح چدنا ہے )

میں … ٹھیک ہے بالکل ٹھیک ہے … اس لئے ہماری شادی ہفتے بَعْدہو گی …

حمائل … او کے ڈن

میں … او کے میں چلتا ہوں ابھی . . وہ ایسا ہے کہ اب بات پکی تو ہوگئی ہے جاتے جاتے ایک گڈ نائٹ کس دے دیتی تو…

اس نے تکیہ اٹھا کر مجھے مارا اور ہنستے ہوۓ بولی… جاؤ یہاں سے ٹھرکی کہیں کے … اور ویسے بھی ہفتے تک آپ نے مجھ سے ملنا نہیں ہے …

میں … ارے وہ کیوں …

حمائل … وہ اِس لیے جناب کے شادی سے پہلے دلہا دلہن کو دیکھے تو دلہن کو روپ نہیں چڑھتا …

میں … پھر تو اچھا ہے نا چڑھے … اِس سے زیادہ روپ چڑھا نا تو میں سہہ نہیں پاؤں گا … جان سے چلا جائے گا بھائی تمہارا …

حمائل . . . کیا کچھ بھی بولتے رہتے ہیں … آپ کو میری زندگی بھی لگ جائے … جائیں جا کر شادی کی تیاری کیجئے … مجھے بھی کل سے تیاری کرنی ہے … اور پلیز شادی تک مجھے بخش دیجیے گا ( وہ مسکراتے ہوۓ ہاتھ جوڑ کر بولی )

دراصل اِس وقت اس کے اور میرے تعلق میں سین یہ چل رہا تھا کہ ہم دونوں سیکس پہ تو راضی تھے اور جہاں تک میرا تعلق ہے میں تو ابھی بھی اس پہ چڑھ جانے کو تیار تھا لیکن وہ اپنی زندگی کی پہلی چدائی کو خوب انجوئے کرنا چاہتی تھی… اِس لیے شادی کا ٹچ دے رہی تھی…بھائی سہی ہی کہہ رہی تھی… جب بندے نے مروانی ہی ہے تو مروائے تو اہتمام سے …

اگلے دن سے ہَم دونوں کی تیاریاں شروع ہو گئیں … تیاریاں کرنی بھی کیا تھیں … میں نے ایک برانڈ نیو ذبردست سا کرتا شلوار خریدا … بہترین سے کٹنگ کرائی … فل باڈی مساج اور سوناباتھ … جم تو جاتا ہی تھا جم کو ذرا زیادہ ٹائم دینے لگا… میں نے ٹائم بڑھانے کے لیے سیکس سپرے بھی لے لیا… میں اچھی طرح جانتا تھا کہ میں جتنا بھی صحت مند کیوں نہ ہوں حمائل کی چوت کی گرمی نہیں سہہ پاؤں گا … مجھے جذبات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایسی پراڈکٹ کی ضرورت تھی… میں نے جہاں سے مساج کرایا تھا وہاں سے ایک مساج کے لئے مہنگا تیل بھی لیا تھا جو خاص طور پر ایروٹک مساج کے لیے بنایا گیا تھا… ادھر دوسری طرف بھی یہی سب ہو رہا تھا… آخر ایک بہن اپنے بھائی کو اپنی نازو پلی چوت سونپنے جا رہی تھی کچھ بڑھ کر کرنا تو ضروری تھا نا… خوب صفائیاں ہو رہی ہوں گی اُدھر بھی … اس دن تو شاپنگ کر کے آئی تو شاپنگ بیگ میں اُبْٹَن کی ڈبیاں بھی دِکھ رہی تھیں اور مہندی بھی … مجھے دن کو ناشتہ اور لنچ سرو کرتی تو نقاب اوڑھ کر اور ڈریسنگ بھی ایسی کہ پتا ہی نا چلے کہ اندر حمائل ہی ہے یا کوئی اور … مجھے شدت سے شادی کے دن کا انتظار تھا… ایسی بہن کے ساتھ سہاگ رات تو خواب میں منانے کو مل جائے تو بھی بندے کی خوشی کا ٹھکانا نا رہے یہاں تو یہ سب حقیقت میں ہونے جا رہا تھا… .

امی ابو نے بھی اپنے جانے کا باقاعدہ اعلان کر دیا تھا… یہی کہ وہ دو دن بَعْد جائیں گے … میں اس رات ٹیرِس پہ گیا تو دیکھا کہ حمائل وہاں کھڑی فون پر اپنی دوست سے باتیں کر رہی ہے …میں غلطی یہ کر بیٹھا تھا کہ دن کو آزمانے کے طور پر وہ سیکس سپرے لگایا تھا اور تب سے ہشیاری بہت زیادہ ہو گئی تھی لن بھی تھا کہ بیٹھنے کا نام نہیں لے رہا تھا… اب جو اپنی بہن اور ہونے والی سہاگن کو دیکھا تو رہا نا گیا . . . اس کے پیچھے سے جا کر اسے جپھی ڈال دی… وہ اچانک ڈر کر چیخی … پیچھے مڑ کر دیکھا اور پھر فون پہ بولی… او کے میں بَعْد میں بات کرتی ہوں . .

حمائل … یہ کیا ہو رہا ہے بھیا . .

میں … ارے بابا اپنی ہونے والی بیوی کو ہگ کیا ہے صرف …

حمائل … شکر ہے فون پہ نشا کو آئیڈیا نہیں ہوا کچھ … اور یہ پلیز اسے تو لگام ڈالیں . . چُبھ رہا ہے (میں اِس وقت اسے پیچھے سے ہگ کیے ہوۓ تھا . . وہ ساتھ ساتھ میرے ھاتھوں کی گرفت بھی ڈھیلی کرنے کی ناكام کوشش کر رہی تھی اور ساتھ میں لن کی شکایت بھی لگا رہی تھی مگر شرم کے مارے نام نہیں لے پائی )

میں … ارے اِس سے تو تمھاری خوب یاری ہونی چاہیے … آگے اسی کا تو مین رول ہے … ابھی سے چُبھ رہا ہے دو دن بَعْد تو اِس نے اندر تک جانا ہے …

اس نے فوراً میری طرف رخ پھر لیا اور میرے منه پہ ہاتھ رکھ کر بولی… آہستہ … کوئی سن لے گا … میرا لن وہ سپرے لگانے کی وجہ سے خوب تنا ہوا تھا اور اِس وقت شلوار میں تمبو بنائے اسکی پُھدی کو تقریباً ٹچ کر رہا تھا… وہ میرے لن کی طرف دیکھ کر بولی… اور ہاں جہاں تک اِس اوور کونفیڈنٹ کا تعلق ہے اِسے تو میں دو دن بَعْد ہی بتاؤں گی …

میں … لیکن سویٹ ہارٹ یہ صرف اوور کونفیڈنٹ نہیں اوورہیٹڈ بھی ہے … اپنے ان سوہنے سوہنے ھاتھوں سے ایک چھوٹی سی مٹھ لگا دو نا ( چھوٹی میں نے یوں کہا جیسے چھوٹی سی فیور مانگ رہا ہوں) …

حمائل …مم مٹھ مطلب …

میں … ماسٹربیشن یار… یعنی ہینڈ جوب…

حمائل … چھی چھی … میں کیوں کروں آپ کے ہاتھ ٹوٹ گئے ہیں کیا…

میں … یار میں تو کب سے کر رہا ہوں لیکن ٹھنڈا ہی نہیں ہو رہا … تمہارے ہاتھ سے شاید تھم کے بیٹھ جائے …

حمائل … دیکھیں جی مٹھوں سے ٹھنڈا نہیں ہو رہا نا تو مکے مار لیں یا پھر فریزر سے برف کی ڈلیاں نکال کر ان میں دے دیں ایسے … لیکن مجھے معاف کریں … یہ کہہ کر وہ میرے ہاتھ چھڑا کر جانے لگی…

میں نے جھٹ سے اسے پکڑ کر اپنے قریب کیا

میں … تمہیں اپنے بھائی کی قسم آج مت جاؤ … دیکھو چاندنی رات ہے بیٹھ کر کچھ باتیں کر لیتے ہیں پیاربھری … .

اسکی آنکھیں جو پہلے دودھ سے بھرے کپ میں چاکلیٹ جیسی تھیں حیا کے مارے نشیلی سی ہو گئیں جیسے اسی کافی کپ میں شراب مکس ہوگئی ہو… اب ظاہری بات ہے ایک لڑکی کسی سے رومینٹک باتیں کرنے جا رہی تھی… لڑکپن سے دِل کے بستر پہ سوئی ہوئی خواہشات نے انگڑائی تو لینی تھی… .

حمائل … نہیں میں نے کوئی پیار بھری باتیں نہیں کرنی…

میں … او کے بابا نا کرنا… پیار والی نا سہی صرف باتیں کر لو… .

حمائل … ٹھیک ہے لیکن میں مایوں بیٹھی ہوئی ہوں … کیا کہا تھا میں نے شادی سے پہلے نہیں ملنا …

میں … اوہ اچھا دیکھو مایوں میں ہسبنڈ کے سامنے نہیں جاتے نا میرا مطلب ہونے والے ہسبنڈ کے سامنے … بھائی سے تو بات کر سکتی ہو… اس لئے شرماؤ نہیں آؤ یہاں نیچے بیٹھتے ہیں … یہ کہہ کر میں نیچے بیٹھ گیا اور اسے بھی ہاتھ سے پکڑ کر گود میں بٹھانے لگا… مست تو وہ بھی تھی لہذا اپنی حرکتوں سے رضامند نظر آئی … وہ سمجھ گئی کہ میں اسے کہاں چڑھانا میرا مطلب بٹھانا چاہتا ہوں فوراً ڈوپٹہ سر پہ لیا اور قمیض سمیٹتے ہوۓ نہایت سلیقے سے میری گود میں آ گئی … دراصل میں اِس وقت نیچے دیوار کے سہارےدوزانوں ہو کر بیٹھا تھا ٹانگیں بٹر فلائی شیپ میں اوپن تھیں وہ بھی نیچے اسی طرح بیٹھی … یوں کہ اسکی بُنڈ بھی زمین پہ تھی لیکن باڈی میری ٹانگوں کے حصار میں … خاص طور پر میری رانیں اس کی پسلیوں سے جڑی ہوئی تھیں اور اس کے دونوں بازو میرے گھٹنوں پر تھے … .

حمائل … جی بھیا اب بولئے کیا باتیں کرنی ہیں آپ کو…

میں … کم آن ٹیک لگا کر ایزی ہو جاؤ … میں نے اسے اس کے کندھوں سے پکڑ کر خود سے چپکا لیا… اب صورت حال یہ تھی کہ میں شلوار اور بنیان میں تھا . . لن بری طرح پھڑپھڑا رہا تھا اور اس کو پیچھے خود سے چپکانے کی وجہ سے لن اسکی کمر سے چپکا ہوا تھا جسکا احساس اسے خوب ہو رہا ہو گا …

حمائل ( ٹیک لگاتے ہی ) … اوہ گوش کاش آپ بھی ذرا ایزی ہو جاتے …

میں ہنستے ہوۓ … بس یار تمہیں کیسے بتاؤں کیسے راتیں گزر رہا ہوں آج کل …

حمائل … بھائی میں پہلے وارن کر رہی ہوں بھائیوں والی باتیں کرنی ہیں ورنہ چلی جاؤں گی اٹھ کر…

میں … اچھا یار ناراض مت ہو… دیکھو چاند کتنا حَسِین لگ رہا ہے . .

حمائل … مم… ویسے چودھویں کے چاند کے بارے میں کہتے ہیں کہ اسے دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے یہ آپکو ہی دیکھ رہا ہو اور کچھ کہنا چاہ رہا ہو…

میں … ہاں ہاں ہمیں ہی دیکھ رہا ہے … سالا مجھ سے جیلس ہو رہا ہے . .

حمائل نے یہ سنتے ہی مجھے مڑ کر دیکھا اور شرما کر بولی… اچھا جی وہ کیوں …

میں نے حمائل کی گردن کو گال سے چھوا اس کے بالوں سے خوشبو آ رہی تھی… اس کے کان کے پاس جا کر سرگوشی کی… مجھے پریوں جیسی پیاری بہن جو ملی ہے اِس لیے بے چارہ جیلس ہو رہا ہے …

حمائل … اچھا جی … . لگتا ہے اب مجھے چلنا چاہیے ویسے بھی تھک گئی ہوں بیٹھ بیٹھ کے …

میں … ارے بھائی تھکنا تو ہے تم نے … نیچے سخت زمین پہ جو بیٹھی ہو میری گود میں بیٹھ جاؤ نا… اتنی سخت زمین ہے تمھاری گول مٹول میں دَرْد تو ھونا ہے …

حمائل ( مڑ کر میری آنکھوں میں حیرت سے دیکھتے ہوۓ ) … کک کیا… کہاں دَرْد ھونا ہے ؟

میں … گول مٹول میں …

اس کے چہرے پر ہنسی آ گئی … بھیا وہ کس چیز کا نام ہے

میں نے کانفیڈینس سے اس کے ہپس پہ لائٹ سی چٹکی کاٹی … یہ ہے …

حمائل … اوہ … کتنے بے شرم ہو آپ… کوئی بھائی بھلا بہن کی شرم گاہ کا نام رکھتا ہے …

میں … بھائی نام تو عزت کی علامت ہوتا ہے … جب آپ کسی کی عزت کرتے ہو تو اس کو کوئی نام تو دیتے ہو نا . .

حمائل . . اچھا بس بس اب کوئی فلاسفی مت جھاڑنا پلیز . .

میں … اچھا گود میں تو آؤ نا… یہ کہتے ہی میں نے اسے اسکی بغلوں سے اٹھا کر اوپر اپنی گود میں بٹھا لیا… گود میں کیا بٹھا یا… ایک ہاتھ سے لن ایڈجسٹ کیا اور اسکی بُنڈ کو اس پہ ٹکا دیا… .

حمائل … بھائی … کیا آپ بھی نا بس … ویسے آپ کا یہ بہت مضبوط ہے … وہ گود میں ایڈجسٹ ہوتے ہوۓ بولی…

میں … اچھا تو بتاؤ میرا مضبوط کیا ہے … . .

اس نے ایک دم پیچھے مڑ کر دیکھا … آنکھوں کی شیطانی تو صاف جواب دے رہی تھی کہ ایک جوان بہن کی نظر میں ہمیشہ اس کے بھائی کا لن مضبوط ہوا کرتا ہے مگر منه سے کچھ اور ہی بولی . .

حمائل … مم مضبوط کا تو نہیں پتا لیکن کمزور کا بتا سکتی ہوں …

میں … اچھا چل وہی بتا دے …

حمائل … مم آپ کا دل…

میں … وہ کیسے … .

حمائل … 24 گھنٹے اِس وحشی کو جو بلڈ سپلائی کرتا رہتا ہے … اس نے نہایت معصومیت اور پیار بھرے انداز میں کہا …

میں قہقہہ لگا کر ہنس دیا… . اُوں میں … وہ… کس وحشی کی بات کر رہی ہو…

حمائل … جی جیسے آپکو نہیں پتا… ویسے آپکی گول مٹول نیچے زیادہ خوش تھی… گود میں تو مسلسل چُبھ رہا ہے یہ وحشی کہیں کا…

اپنی بہن کو ایسا لائٹ ہنسی مذاق کرتے دیکھ کر دِل باغ باغ ہو گیا … اسکی مخملی گانڈ اِس وقت اتنی گرم تھی جیسے گرم گرم تیل میں سے تازہ کچوری نکالی جاتی ہے … وہ سڈول رانوں کا لمس …اسکی پتلی اور نازک کمریا پر میرے ہاتھ … ان آنکھوں کی چمک … اسکی گالوں پر حیا اور مستی کےپھیلے ہوۓ رنگ … ہوا سے کھیلتی وہ چند باغی زلفیں … . اتنی پیاری بہن کے نام تو کوئی بھائی دس گیلن بھی مٹھوں کے بہا دے تو شاید بھائی ہونے کا حق ادا نا ہو… میرے اندر اس کے لیے سیکس کے ساتھ ساتھ ایک بھائی کے جذبات بھی جاگ رہے تھے … آج اِس لمحے اگر وہ حَسِین چہرہ مجھے ٹھکرا بھی دیتا… میری بہن اگر ہمارے رشتے پر کوئی لمِٹ بھی لگا دیتی تو مجھے منظور تھا… پتا نہیں کیوں اسکی خوشی ہر شے سے بڑھ کر ہو گئی تھی…

 حمائل … اچھا بھیا جانی یہ تو بتائیں ذرا یہ آپ کا مجھ پہ دِل کب آی میں نے اسے اس دن کا سارا واقعہ بتا دیا ( جب میں سویا ہوا تھا فرشی پنکھے کے سامنے … لیکن پہلے دن کے سوا جو چھپ چھپ کر دیکھتا رہا وہ نہیں بتایا ) جسے سنتے ہی وہ بری طرح شرما گئی …حمائل … بھیا تمہیں پتا ہے یہ اچھا نہیں کیا آپ نے … میں تو اس وقت گرمی کے ھاتھوں مجبور تھی… پھر مجھے کیا پتا تھا کہ آپ کی آنکھ کھل گئی ہے … اور اگر کھل گئی تھی تو یوں دیدے پھاڑ کے دیکھنا ضروری تھا کیا… اب ایک گھر میں رہتے ہوۓ بہن کے جسم کی جھلک بھائی پہ پڑ جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بھائی انسان سے جانور بن جائے …وہ اِس وقت میرے فولادی لن پہ اپنی نرم نازک گانڈ ٹکائے بیٹھی تھی… میں نے اس کی گردن کی بیک سائڈ پہ ایک لائٹ سی کس کر کے کہا … جانو میں بھی تو گرمی کے ھاتھوں مجبور تھا… . .حمائل … جی اور نکا لنے کے لیے بہن ہی ملی آپکو…میں … اب پریوں جیسی بہن ہو تو بھائی کیا کرے … یہ کہتے ہوۓ میں اسکی بغلوں میں ہاتھ ڈالے اس کے سائڈ ممے کا مساج کر رہا تھا… اچھا تم بتاؤ تمھارا دِل کب رضا مند ہوا اِس سب پہ … .حمائل … اچھا … . بھیا تمہیں پتا ہے جب ہم دوستوں کی پارٹی تھی اس دن ہم نے آپ کے لیپ ٹاپ کی تلاشی لی تھی صرف مزے کے لئے … اس میں مجھے کچھ ایسا اسٹف نظر آیا تمہیں پتا ہے بھائی بہن والا… پھر جب میں نے آپ کا لیپ ٹاپ ادھار لیا اس دن میں نے وہ سب ویڈیوز اور اسٹوریز کاپی کر لیں … تب مجھے پتا چلا کہ میرا بھائی مجھے کتنا چاہتا ہے … .میں جوش سے پاگل ہونے لگا اس کی میٹھی آواز میں یہ سب سیکسی باتیں … مجھے اپنے آپ پہ قابو نہیں ہو رہا تھا… اسے بری طرح جکڑ لیا …لن نے کیا گانڈ کیا پُھدی کیا رانیں ہر جگہ تہلکہ مچایا ہوا تھا…حمائل … ہائے میں مر گئی … آپ کو تو سیکسی ہونے کا بہانہ چاہیے … . بہن ہوں آپکی کچھ تو دھیان کریںمیں … یار میں کیا کروں … مجھ غریب کی تو کوئی سنتا ہی نہیں … ایسا کرتا ہوں اسے باہر نکا لتا ہوں تم خود سمجھا دو…وہ ایک دم اچھل پڑی … اٹھنا چاہا لیکن میں نے اپنے بازؤں میں جکڑے رکھا …حمائل … نہیں بابا پلیز نکا لنا مت ایسی چیزیں قید ہی اچھی رہتی ہیں …میں … ارے یار دیکھو کب سے تنگ کر رہا ہے مجھے پھر میری تو مانتا نہیں تم بہنوں کی طرح سمجھاؤ گی تو شاید سدھر جائے … شاید وحشی سے انسان بن جائے … یہ کہتے ہی میں نے اس پر اپنی گرفت ڈھیلی کی… وہ گود سے اٹھ کر میرے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی …حمائل … ایک تو بہنوں کی زندگی بھی خوب ہے … بھائی کو علیحدہ سمجھیں اور انکی بگڑی ہوئی اولاد کو علیحدہ سے …میں … ( ہنس کر ) یہ اولاد کہاں سے آگئی بھائی …حمائل … پا ل پوس کے تو یونہی بڑا کیا ہوا ہے اسے جیسے اولاد ہو آپکی… پتا نہیں انسان ہو یا سانڈھ …اسکی ان باتوں سے رضامندی جھلک رہی تھی لہذا میں نے کانفیڈینس کے ساتھ لاسٹک والی شلوار نیچے کر دی اور موٹا لمبا تگڑا لن ٹٹوں سمیت باہر نکال کر بیٹھ گیا … اب حمائل کا چہرہ دیکھنے والا تھا کشمیری سیب جیسی گالیں اِس وقت ٹماٹروں کی طرح سرخ ہو گئی تھیں آنکھیں عجیب کشمکش میں تھیں ایک طرف شرم کا بوجھ اٹھا نہیں پا رہی تھیں دوسری طرف حیرت اور خوشی کے مارے اور بڑی ہوتی جا رہی تھیں … مجھے اس کے چہرے کے ایکسپریشن سے صاف محسوس ہو رہا تھا کہ میری سوہنی بہن اِس وقت تھوک نگل رہی ہے … سگے بھائی کے لن کو اپنے حسن کے اعزاز میں یوں کھڑا دیکھ کر کسی بھی بہن کے منه میں پانی آ جائے …اگرچہ لن بہت صاف نہیں بھی دِکھ رہا تھا تو بھی اِس چاندنی رات میں اسکی جسامت اور شیپ کا خوب آئیڈیا ہو رہا تھا خاص کر کے 1 فٹ دور بیٹھی سگی بہن کو…وہ لن کو حیرت سے دیکھے جا رہی تھی…میں . . ہیلومیڈم کہاں گم ہو گئی …میری آواز سنتے ہی حمائل یوں چونکی جیسے یہ لن اسکی آنکھوں کے سامنے نہیں بلکہ اسکی پُھدی میں پڑا تھا اور اب ایک جھٹکے سے باہر نکلا ہے …حمائل … مم میں … وہ … اس نے ایک بار پھر تھوک نگلی … . اپنی آنکھیں حیا کے مارے نیچے جھکا کر ایک ہاتھ سے اپنی زلفوں کو ماتھے سے ہٹایا … دوسرا ہاتھ میری گرفت میں تھا… کچھ ہلچل اس ہاتھ میں بھی ہوئی … . بھیا پلیز آپ اسے کور کر لیں شیم شیم ہو رہی ہے …میں ( مسکرا کر ) … بھائی ہوتی ہے تو ہونے دو مجھے پرواہ نہیں ہے … .حمائل … مم میں چلتی ہوں … وہ اپنا ہاتھ چھڑا کر اٹھنے کی کوشش کرنے لگی میں نے جھٹکے سے اسے اپنی جانب کھینچا … نگاہیں جھکی ہوئی تھیں جسے ہی اسے آگے اپنی جانب کیا… اسکی جھکی نگاہیں لن پہ پڑیں اس نے فوراً لن سے نظر چرانے کے لیے اوپر میرے چہرے کی جانب دیکھا … . میں نے دوسرا ہاتھ اس کے بالوں پہ پھیرا اور اس کے لبوں پر کس کرنے کے لیے آگے بڑھا . .حمائل … بھیا . . یہ سب غلط ہے …میں … نہیں حمائل نہیں … غلط یہ نہیں غلط وہ زندگی ہے جو تم آج تک جیتی آئی ہو سوچو ذرا کیا آج تک کبھی اتنی خوش تھی تم جتنی ان چند دنوں سے ہو… اور پھر تم یہ سب کسی غیر کے ساتھ نہیں اپنے بھائی کے ساتھ کر رہی ہو ہم دونوں بہن بھائی ایک دوسرے سے محبت تو کرتے ہیں بس آج تک یوں اظہار نہیں کیا… یہ سب ہمارے لیے نیا تو ہے مگر غلط نہیں … شاباش ہمت کرو آج رک گئی تو زندگی بھر پچھتاؤ گی کہ تم نے وہ ذائقہ نہیں چکھا کہ جس پہ تمہیں پورا پورا حق تھا… اسکی آنکھیں نم تھیں اور وہ میرے چہرے کو دیکھے جا رہی تھی… شاید میری باتوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی… میں نے اِس دوران اسکا دایاں ہاتھ پکڑا … اِس ہاتھ میں اس نے چوڑیاں بھی پہنی تھیں اور مہندی بھی لگی ہوئی تھی… میں اسکا ہاتھ اپنے ہونٹوں تک لایا اور اسے چوما… مہندی کی مہک نے دماغ پر ویاگرا والا اثر کیا پورے بدن خاص کر کے لن کی رگوں میں سنسناہٹ سی دوڑ گئی … . اب میں نے یہی ہاتھ پکڑ کر اپنے لن پر رکھ دیا اور اسکی سلکی انگلیوں کا ایک حلقہ سا لن کے گرد بنا ڈالا … بالکل مٹھ والے اندازِ میں … حمائل کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی … وہ آگے بڑھی اور میرے کان میں سرگوشی کرنے لگی… .حمائل … بھائی … اسے سمجھانے سے پہلے میں آپ کو ایک بات سمجھا دوں … یا تو اسے کاٹ کر آدھا کر دو یا پھر میں یہ شادی نہیں کرنے لگی ( اسکی آواز میں شوخی تھی )ہنستے ہوۓ بولا… دراصل ابھی بولنے ہی لگا تھا کہ حمائل نے اپنی انگلی میرے ہونٹوں پر رکھ کر کہا … ششاب وہ اپنے نازک ہاتھ کو آگے پیچھے کر کے میری مٹھ لگانے لگی… اس کے مٹھ لگانے سے اسکی چوڑیاں بھی ایک رتھم میں کھنکھنانے لگیں … اپنے گرم لن پہ اپنی سگی بہن کی نازک گرفت … چاندنی رات… ان آنکھوں میں دبی مسکراہٹ اور خوشی… اس کے گرم جسم کی حدت … بالوں سے اٹھتی مہک اور چوڑیوں کی کھنک … اِس منظر نے یقیناّ مجھے دنیا کا خوش نصیب ترین بھائی بنا دیا تھا… مجھے نہیں لگتا کہ اگر اس ہاتھ کی جگہ کسی اور عورت کا ہاتھ ہوتا تو یہ سرور ملتا … کیوں کہ کوئی بھی لڑکی ہو مجھے سیکس اور پیار دونوں کے جذبات سے نواز سکتی ہے لیکن ایک بہن کی بے لوث محبت اور کیئر شو نہیں کر سکتی … .اتنے میں حمائل نے اپنے منه کو تھوک سے بھرا اور تقریباً ایک فٹ کی اونچائی سے میرے لن کی ٹپ پہ ڈھیر سارا تھوک گرایا… لن پہلے ہلکا ہلکا چو ( لیک ) رہا تھا اس کی ٹپ پہ حمائل کی گرم تھوک نے جلتی پہ آگ کا کام کیا… یوں لگ رہا تھا جیسے آج مٹھ نکلی تو اتنی نکلے گی کہ اسی چھت کے پرنالے بہنے لگیں گے … وہاں حمائل کے ہونٹوں سے میرے لن کی ٹپ تک تھوک نے ایک لمبی سی ڈوری بنا دی تھی… اس نے گرفت ذرا سی ڈھیلی کی تا کہ تھوک نیچے تک جائے پھر دوبارہ گرفت مضبوط کر کے مٹھ لگانے لگی… اِس مٹھ لگانے کے دوران اس کی رائٹ سائڈ کی زلفین اس کے حَسِین چہرے پر گرنے کے بَعْد کسی ناگن کی طرح پہرہ دے رہی تھیں جب کہ حمائل کا سارا دھیان نیچے اپنے بھائی کے للے پہ لگا ہوا تھا…میں نے بائیں ہاتھ سے اس کی زلفوں کو پیچھے کیا اور اس کی گال پہ ہلکی سے چپت ماری … اس نے قاتل نگاہیں اٹھا کر میری جانب دیکھا میں نے اپنے رائٹ ہینڈ کی انگلیاں اس کے لبوں پر پھیریں اور پھر ایک انگلی لبوں میں اینٹر کر کے انہیں اوپن کیا… اس کے دانتوں پر انگلی پھیرتے ہوۓ آنکھ سے لن کی طرف اشارہ کیا… وہ سمجھ گئی کہ میں چوپا مارنے کا کہہ رہا ہوں … حمائل نے ایک ادائے بےنیازی سے سر کو ہلکا سا جھٹکا دے کر منه ہی منه میں “حوح” کہا … . میں نے فوراً دونوں ہاتھ اس کے سامنے جوڑ کر سر کو التجائی اندازِ میں ہلایا … وہ ہنسی … یوں معلوم پڑتا تھا جیسے کسی مندر کی گھنٹیاں بج رہی ہوں … اس ہنسی میں پیار بھی تھا شوخی بھی … میں نے اسکے گالوں پر پڑنے والے ڈمپل پر انگلیاں پھیریں … جب سے ہَم ساتھ ہیں اور جہاں تک میری یاداشت کام کرتی ہے میں نے کبھی بھی حمائل کے چہرے پر ایسی خوشی نہیں دیکھی تھی… مجھے نہیں معلوم میں جو کچھ بہن کے ساتھ کر رہا تھا وہ دنیا کی نظر میں کتنا غلط تھا مگر میں اتنا ضرور جانتا تھا کہ ہم دونوں اپنی زند گی کے خوشگوار اور حَسِین ترین لمحات میں سے گزر رہے تھے …اچانک وہ مسکراتا چہرہ نیچے میرے لن کی جانب متوجہ ہوا اور پھر حمائل نے گردن مزید جھکائی … وہ لن کا چوپا لینے سے ہچکچا بھی رہی تھی لیکن لن سے نظریں بھی نہیں ہٹا پا رہی تھی دراصل لن کو یوں دیکھ رہی تھی جیسے بچہ قلفی کو دیکھتا ہے … اتنے میں میرے جسم کا رواں رواں سنسنا اٹھا… آسْمان پہ چاند مسکرانے لگا تارے جو پہلے آسْمان پہ بکھرے ہوۓ معلوم ہو رہے تھے اب آپس میں ھاتھوں میں ہاتھ دیے کہکشائیں بنانے لگے… حمائل نے میرے لن کی ٹوپی اپنے منه میں اتار لی تھی… اس کے منه کی گرمائش سردیوں میں لیے گئے لحاف کی طرح تھی کہ جو انسان کے لیے ماں کے پیٹ کی طرح اپنے آپ میں ایک دنیا ہوتا ہے …میرا لن بھی اِس وقت اپنی بہن کے منه میں یوں فیل کر رہا تھا جیسے یہ بنا ہی اسی مقصد کے لیے ہو… اپنے بھائی کے لیے وہ سارا بے لوث پیار کہ جس کو بیان کرنے کے لیے ایک بہن کے پاس الفاظ نہیں ہوتے بہن چاہے تو وہی زُبان بھائی کے لن پہ پھیر کر اظہار کر ڈالے … یہی سب اِس وقت حمائل کر رہی تھی… حمائل دھیرے دھیرے چھوٹے چھوٹے چوپے لگا رہی تھی بس فل ٹوپی اور اس سے آگے کا کچھ حصہ … میں حمائل کے اپنے بھائی کے لیے اِس پیار کو دیکھ کر صدقے واری جا رہا تھا… وہ جس خلوص کے ساتھ اپنے سگے بھائی کا لن چوپ رہی تھی اگر کوئی دیکھ لیتا تو اس پری کو نظر لگ جانی تھی ( خیر کوئی دیکھ لیتا تو نظر لگتی نا لگتی گانڈ ضرور لگ جانی تھی… لیکن میں نے بھی انتظام کیا تھا… اول تو یہ کہ چھت کا دروازہ اوپر آتے ہی بند کر دیا تھا دوسرا یہ کہ ہم شیڈ کے نیچے کونے میں بیٹھے تھے … ارد گرد کسی بھی گھر کی چھت سے نہیں دِکھ سکتے تھے … حمائل بھی اِس بات سے واقف تھی اسی لیے مزے لے لے کر چوپ رہی تھی )اِس لمحے اسکا آنچل اس کے گلے سے ڈھلک چکا تھا اور اسکی گود میں گرا پڑا تھا… اس کے جھک کر چوپے لگانے کی وجہ سے اس کے گریبان سے اس کے ہلکے ہلکے ہلتے ممے دِکھ رہے تھے … یار کیا خوب منظر تھا اُدھر ایک چاند آسْمان پہ تھا ایک میرا لن چوپ رہا تھا اور دو میری بہن کی قمیض میں سے یوں دِکھ رہے تھے جیسے بادلوں میں سے جھانک رہے ہوں … اوپر سے ہر چوپے پر ایک روح پرور تسکین علیحدہ … اتنے میں حمائل نے میرے چہرے کی جانب دیکھا اسے خوب آئیڈیا ہو گیا کہ میں اس کے ممے تاڑ رہا ہوں فوراً سیدھی ہوئی اور ڈوپٹہ گلے میں درست کیا میرے سر پہ ہلکی سی چپت ماری اور بولی…حمائل … اپنی بہنوں کی قمیضوں میں جھانکنے والے بھائی بیغیرت ہوتے ہیں …میں … اچھا اور اپنے بھائی کے وحشی کو منه سے لگام ڈالنے والی بہن کو کیا کہو گی آپ…میں … ارے نہیں … پلیز پلیز پلیز … او کے بابا معاف کردو غلطی میری تھی… بہنیں بھی کبھی غلط ہوئی ہیں بھلا ( اب گو کہ اسکی وجہ مجھے سمجھ نہیں آئی لیکن بندہ لن چوپوائے یا ڈیبیٹ کرے )حمائل … نہیں ایسے نہیں … آہ … ہاں آئیڈیا …یہ کہہ کر اس نے اپنا ڈوپٹہ اتار کر میری آنکھوں پہ باندھ دیا…حمائل … ہاں جی اب بنے آپ ایک سچے بھائی …میں … چلو ایسے ہی سہی لیکن یہ تم سچی بہن والا کام جاری رکھو …حمائل دوبارہ میرے لن کے چوپے لگانے لگیاتنے میں اس نے جوش کے مارے تھوڑا بڑا چوپا لگایا میرا ٹوپا اس کے حلق میں جا کر ٹچ ہوا اِس کے نتیجے میں میں تو ایک لمحے میں ہواؤں میں تیرنے لگا لیکن حمائل کو اِس حماقت کی قیمت چکانی پڑی … اچانک وہ شدت کے ساتھ کھانسی … اسے الٹی تو نہیں آئی لیکن لن گلے تک جانے کے نتیجے میں طبیعت بری طرح خراب ہوئی … میری آنکھوں پہ پٹی تھی لہذا مجھے صرف اتنا معلوم پڑا کہ وہ کھانس رہی ہے اور اس نے لن کو بھی منه سے باہر نکال دیا ہے … میں نے فوراً پٹی آنکھوں سے اتاری اور پاگلوں کی طرح اسے سینے سے لگا لیا… لن کا جوش بھی کم ہو گیا تھا… اپنی بہن کے لیےٹھرک سےنے نیاز سچا پیار جاگ اٹھا تھا . . میری آنکھوں میں آنسو تھے اور میں اسے سینے سے لگائے بیٹھا تھا… حمائل کی طبیعت ابھی سنبھلی نہیں تھی… اس نے اپنے بھائی کی خوشی کے لیے یہ بولڈ اسٹیپ اٹھایا تھا اور بھائی کی خوشی میں وہ اتنی خوش تھی کہ اسے اپنا احساس ہی نہیں رہا … یہاں مجھے افسوس ہو رہا تھا… مٹھ تو وہ اپنی خوشی سے لگا رہی تھی لیکن مجھے یہ کھوتے جیسا لن اپنی معصوم بہن کے نازک اور چھوٹے سے منه میں نہیں دینا چاہیے تھا… بہنیں ہمیشہ قربانی دیتی ہیں لیکن میں نے اِس لمحے بھی خود غرضی دکھائی … وہ میرے سینے سے لگی بیٹھی تھی … اب اسکی سانسیں نارمل ہو چکی تھیں . .حمائل … میں ٹھیک ہوں بھائی … میں ٹھیک ہوں … گھبرائیں مت…میں … حمائل میری جان تمہیں ذرا بھی تکلیف ہو یہ مجھے گوارہ نہیں … ایم سوری ڈیئر سب میری غلطی ہے …حمائل … نہیں بھیا ایسے مت کہیں … چلیں میں باقی کا چُوستی ہوں یوں اپنے بھائی کا چوستے ہوۓ آدھے راستے میں چھوڑنا بہنوں کے لیے اچھا شگن نہیں ہوتا ( وہ میری جذباتی حالت دیکھ کر اپنی باتوں میں ہنسی مذاق کرنے کی کوشش کر رہی تھی )میں … نہیں چلو نیچے چلتے ہیں اب تمہیں آرام کرنا چاہیے … میں نے شلوار درست کی اور اسے اپنے ساتھ لے کر نیچے اس کے روم میں چلا گیا …اس کے روم میں جاتے ہی میں نے اسے بستر پر لیٹنے کو کہا …حمائل … بھائی … میں ٹھیک ہوں … آپ کیوں پریشان ہو رہے ہیں … ( یہ کہہ کر وہ بیڈ پہ لیٹ گئی )میں اس کے قریب نیچے بیڈ کے ساتھ بیٹھ گیا … اسکا ہاتھ اپنے ھاتھوں میں لیا…میں … تم نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا… پتا ہے تم ذرا بھی ہرٹ ہو یہ مجھے گوارہ نہیں ( پہلے دن سے لے کر اب تک شاید یہ پہلی بار تھی جب میرے ڈائیلوگ تو فلمی تھے لیکن جذبات سچے تھے )حمائل … اٹس اوکے بھیا . . غلطی میری تھی اتنا اندر نہیں اتا رنا چاہیے تھا… ویسے بھیا جس بہن کا آپ جیسا بھائی ہو اسے کچھ نہیں ہو سکتا ( اس نے اپنا ہاتھ اٹھا کر اپنے ہاتھ میں دیا ہوا میرا ہاتھ چوم لیا )میں … تم نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا… پتا ہے تم ذرا بھی ہرٹ ہو یہ مجھے گوارہ نہیں ( پہلے دن سے لے کر اب تک شاید یہ پہلی بار تھی جب میرے ڈائیلوگ تو فلمی تھےمیں … تم نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا… پتا ہے تم ذرا بھی ہرٹ ہو یہ مجھے گوارہ نہیں ( پہلے دن سے لے کر اب تک شاید یہ پہلی بار تھی جب میرے ڈائیلوگ تو فلمی تھے لیکن جذبات سچے تھے )حمائل … اٹس اوکے بھیا . . غلطی میری تھی اتنا اندر نہیں اتا رنا چاہیے تھا… ویسے بھیا جس بہن کا آپ جیسا بھائی ہو اسے کچھ نہیں ہو سکتا ( اس نے اپنا ہاتھ اٹھا کر اپنے ہاتھ میں دیا ہوا میرا ہاتھ چوم لیا )میں … تمہارے لیے کچھ بنا کر لاؤں … چائے وغیرہ …حمائل … نہیں شکریہ ویسے بھی یہ خدمت بہن کی ذمہ داری ہوتی ہے … اور آج تو اپنے بھائی پہ مجھے اتنا پیار آ رہا ہے کہ دِل کر رہا ہے آپ کو اپنے دودھ کی چائے بنا کر دوں …میں اس کے مموں کو گھور کر دیکھتے ہوۓ بولا… بھائی دودھ تو اب ہم لازمی پئیں گے لیکن چائے وائے میں نہیں بلکہ ڈائریکٹ کٹوریوں کو منه لگا کر… وہ کھلکھلا کر ہنسنے لگی… اس کے ہنستے ہوۓ چہرے کو دیکھ کر میں سوچنے لگا کہ جب ہمارے درمیان سیکس کا تعلق نہیں تھا تو کتنے لڑتے جھگڑتے تھے ایک دوسرے کی شکایتیں لگاتے تھے … اور اب یہ عالم ہے کہ دونوں ایک دوسرے پر صدقے واری جا رہے ہیں پھر جب سب کچھ پہلے سے بہتر ہو رہا ہے تو میں اسے غلط کیسے مانوں … میں نے آگے بڑھ کر اسکی آنکھوں کو چوم لیاحمائل … ویسے بھیا آپ کی اطلاع کے لیے عرض کر دوں ان میں ابھی دودھ نہیں اترا یہ نا ہو بَعْد میں آپ کو مایوسی ہو ( بلا شبہ دوستو عورت جب تک ماں نا بنے تب تک اس کے مموں میں دودھ نہیں آتا … لیکن اپنی بہن کے منه سے یہ درستگی بہت اچھی لگی اور اسکی اِس سوچ پر بہت پیار بھی آیا کہ وہ نہیں چاہتی کہ اسکا بھائی کچھ ایسا توقع کرے جو وہ دے نہیں سکتی )میں اسکی معصوم سی وضاحت پہ ہنس پڑا اور بولا… او کے میں چلتا ہوں تم ریسٹ کروحمائل … بھیا وہ کام تو اَدُھورا رہ گیا …میں … اٹس او کے میں خود پورا کر لونگا …حمائل … نہیں بھیا یوں اچھا نہیں لگتا…میں … ارے نہیں ایسا کچھ نہیں یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں . .حمائل … پیار کرنے والی بہن کے لئے یہ بڑا مسئلہ ہے ایک بہن کو بالکل گوارہ نہیں …میں … یار دیکھو ( میں بھی کچھ زیادہ ہی سخی ہو رہا تھا )حمائل ( بات کاٹتے ہوۓ ) … بس آپکو میری قسم … .میں … اوہ او کے جیسے تمہاری مرضی … ( ادھر لن خوشی کے مارے سندھی ٹُھمْری ڈال رہا تھا… مجھ سے مخاطب ہو کے بولا… جیسے تمہاری مرضی . . واہ کتنے کھلے دِل کے ہیں آپ… گانڈ و ابھی بتا نا ا سے کہ کیسے پہلے دن سے تو اسکی کلائیوں سے لے کر اس کے مموں کی گولائیوں تک ایک ایک انچ کے نام کی مٹھ مار رہا ہے … یہ تیرا دوغلا پن دیکھ کر دِل کرتا ہے ہیلمٹ پہن کر تیری گانڈ میں وڑ جاؤں )حمائل شرماتے ہوۓ … اچھا نکالیں اِسے باہر .(وہ ابھی بھی لیٹی تھی اور میں اس کے سرہانے کھڑا تھا) …میں نے ڈور لوک کیا اور اسکی جانب مڑ کر بولا… اب اتنا تردد کر رہی ہو تو نکال بھی خود لو…وہ آدھی اٹھ کر بیٹھی اور میری شلوار کو نیچے کر کے لن آزاد کر دیا… ایک لائٹ سی کس لن کے ٹوپے پہ دی اور بولی… بہت شرارتی ہو گیا ہے بہن کو تنگ کرتا ہے … ایک لگاؤں گی نا تو سدھر جائے گا …لن مستی کے مارے چھلانگیں مار رہا تھا اور جب حمائل اس سے لاڈ پیار کر رہی تھی تو دو بار جھٹکا کھا کر اس کی گالوں پر لگا… وہ ہنسنے لگی…حمائل … بھیا لگتا ہے یہ اپنی بہن سے بہت پیار کرتا ہے … لیکن بھیا ایک بات تو بتاؤ …میں … ہاں بولو…اس نے اب میرے لن کو اسی چوڑیوں والے ہاتھ سے تھام لیا تھا…حمائل … بھیا یہ ایک بھائی کا لن وحشی ہو سکتا ہے تو ایک بہن کی چوت وحشی کیوں نہیں ہو سکتی ( یہ پہلی بار تھا کہ اس نے میرے منه پہ لن اور چوت کالفظ بولا تھا )میں … ہو سکتی ہے بلکہ ہوتی ہے … سچ پوچھو تو یہ لن چوت دونوں ہیں ہی دو وحشی درندوں کے نام…حمائل … تو بھیا یہ بتاؤ ایک بھائی کے لن کی وحشت کو دور کرے ایک بہن … تو پھر بہن کی چوت کی وحشت کون دور کرے گا . .میں … ایک بھائی ( میں خوشی کے مارے چلا اٹھا )حمائل … شش آہستہ … امی ابو کو پتا چلا نا تو سر قلم کر دیں گے دونوں وحشیوں کا…میں … اوہ سوری… تو میں کیا کہہ رہا تھا کہ بہن حکم تو کرے بھائی ہوتے ہی بہنوں کی خدمت کے لیے ہیں یہ کہہ کر میں نے اسے پیچھے کو لٹایا اور بیڈ پر کود گیا اسکی قمیض اوپر کی اور شلوار کے اوپر سے ہی اسکی پُھدی کی جانب جھکا … اتنے میں اس نے قمیض واپس ایڈجسٹ کی اور مجھے پیچھے کو دھکیلا …حمائل … ارے … ارے یہ کیا کر رہے ہیں کبھی دیکھا ہے کسی بھائی کو یوں بہن کی قمیض اٹھا کر اسکی رانوں میں منه دیتے ہوۓ …میں بیڈ پہ ہی بیٹھا تھا اسکی ٹانگیں بٹر فلائی اوپن تھیں لیکن اس کے منع کرنے کی وجہ سے سہم گیا تھا کچھ کر نہیں پا رہا تھا…میں … شونی بہنا آپ نے ہی تو کہا کہ وحشت کم کرو…حمائل … تو ہر کام کے آداب ہوا کرتے ہیںلو جی اب بندہ بہن کی چوت بھی ادب سے چاٹے … میں منه میں بڑبڑاتے ہوۓ اٹھا بیڈ سے نیچے اترا اور ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا …میں … ہمشیرہ جی مودبانہ گزارش ہے کہ آپکا برادرحقیقی آپکی شرمگاہ کو چاٹ چاٹ کر ٹھنڈا کرنے کا آرزو مند ہے … آپ کی اِس بارے میں کیا رائے ہے …حمائل بری طرح سے ہنسنے لگی… اور ہنستے ہنستے بولی… اِجازَت ہے … .اس کے کہنے کی دیر تھی کہ میں پھر تہذیب کے سارے اصولوں کی ماں کو لن دے کر اس پہ چڑھ دوڑا…اس نے فوراً ٹانگیں بند کر کے کہا … اوئے پھر وہی حرکت … تم تو معصوم کو جان سے مار ڈالو گے …میں … وہ غلطی ہو گئی معاف کر دو…حمائل … مم مجھ سے نہیں اس سے معافی مانگو (اس نے ہاتھ سے چوت کی طرف اشارہ کیا اور ٹانگیں دوبارہ کھول دیں )میں نے اب دونوں ہاتھ جوڑ کر کہا … حمائل کی چوت صاحبہ پلیز اِس بھائی کو ایک بار معاف کر دیں میں وعدہ کرتا ہوں آپ کو نہایت احترام کے ساتھ چاٹوں گا بالکل یوں جیسے آپ میری بہن نہیں ماں کی چوت ہو…حمائل … چلو آپ کو تو روٹھوں کو منانا بھی نہیں آتا لیکن بھیا میرے چکر میں آپ کا کام تو آدھے میں رہ گیامیں … وہ کیا ہے نا لیڈیز آلویز فرسٹ اوربہن تو لیڈیز سے بھی فرسٹ … اچھا اب تو بتا دو یہ راضی ہوئی یا نہیں …حمائل …مم مجھے نہیں پتا آپ خود اسے بے نقاب کر کے دیکھ لو اگر گیلی ہوئی تو راضی خشک ہوئی تو ناراضیہ سنتے ہی میرے کانوں میں خوشی کی شہنائیاں بجنے لگیں . .میرے ھاتھوں پہ مزے کے مارے کپکپی سی طاری ہونے لگی… جھٹ سے اسکی شلوار نیچے کی سامنے پنک پُھدی جوانی کے رس میں نہا رہی تھی… میں نے ایک نظر پُھدی پہ ڈالی دوسری حمائل پہ …میں … جی یہ تو بالکل راضی ہے بلکہ بڑی اتاولی ہو رہی ہے …حمائل نے معصوم سے چہرے پر بناوٹی غصہ لا کر کہا … میری طرف مت دیکھو شرم آتی ہےمیں … ہائے میں صدقے جاؤں اِس مشرقی حسینہ پہ …حمائل … اچھا بھیا جو بھی کرنا ہے میری طرف دیکھے بغیر کرو… یہ کہہ کر اس نے ایک ہاتھ اپنی آنکھوں پہ رکھ لیا اور بڑبڑائی . . بہت بے شرم ہو گئے ہو… میں دوبارہ پُھدی پہ متوجہ ہوا … جھک کر ایک لائٹ کس کی… حمائل کی پُھدی بلکہ اس کی ساری رانوں پہ اس نے یوں جھٹکا مارا جیسے بندے کا ہاتھ اچانک کسی گرم چیز کو چھوئے تو رفلیکسس حرکت میں آتے ہیں اور باڈی نا چاہتے ہوۓ ری ایکٹ کرتی ہے … اپنی بہن کی نازک اور کمسن چوت کی بیتا بی دیکھ کر فوراً ایک شعر کی آمد ہوئیاِس عمر کنواری میں … .کیسے جیتی ہیں بہنیں بے قراری میں … .اُدھر لن نے ایک مصرعہ کسادِل کرتا ہے لن دے دوںتمھاری نسل ساری میںابے ا و تقریباً بہن چود ابھی باہر نکال اور پورے ملک میں ریفرنڈم کرا لے کون سا بھائی بہن کی کھلی چوت کے سامنے ذہن سے کام لیتا ہے … گانڈ و یہ ایکشن کا وقت ہے … .کہہ تو یہ بہن لن بھی ٹھیک ہی رہا تھا… ایسے موقع بار بار تھوڑی ملتے ہیں جو بندہ سوچ سوچ کر ٹائم ویسٹ کرے … اس لئے اب میں نے بھی دِل لگا کر حمائل کی پُھدی کو چاٹنا شروع کر دیا… گیلی پُھدی کو چاٹتے وقت یوں لگ رہا تھا جیسے دلیے کی پلیٹ میں منه مار دیا ہو… اُدھر حمائل کی پُھدی نے بھی خوب جوش پکڑا ہوا تھا… شرمیلی بہن کی تمام پوشیدہ خواہشات جسم کے کونے کونے سے پُھدی کا رخ کر رہی تھیں اور پانی کی شکل میں پُھدی سے رس رہی تھیں … چوت کی اپنی حالت کسی پنک گلاب جیسی ہو گئی تھی… میں پُھدی کو چاٹتے ہوۓ بیچ میں جب اسکی درز میں اپنی زُبان پھیرتا تو زُبان کی نوک ٹچ ہوتے ہی حمائل ایک جھٹکا مارتی ساتھ میں ٹانگیں بھی سکڑتیں … چوت کا دہانہ بھی تھوڑا ٹائیٹ ہوتا اور ہشیاریوالی فیلنگز کی وجہ سے وہ اپنی پھدی بھی تھوڑا کو پیچھے کھینچتی اور اپنے ہاتھ سے میرے ماتھے کو پُش کر کے تھوڑا دور کرنے کی کوشش کرتی میں زُبان باہر نکالتا تو جذبات سے دوبارہ اپنی پُھدی کو میرے منه پر پُش کرتی اور ساتھ ہی اپنے ہاتھ سے میرے بال پکڑ کر سر کو پُھدی کی طرف پُش کرتی… اس سے رہا نہیں جا رہا تھا مزہ لینا بھی چاہتی تھی اور مزے کی شدت کو سہہ بھی نہیں پا رہی تھی… مجھے اپنی نفیس مزاج والی بہن کی اِس کشمکش پر بہت پیار آ رہا تھا… میں نے ایک پل کے لیے منه اٹھا کر اس کے چہرے کی جانب دیکھا اسکا چہرہ بھی اِس وقت اسکی پُھدی کی طرح بلش تھا… اور وہ مدھم مدھم سسکیاں لے رہی تھی… یوں معلوم ہو رہا تھا جیسے وہ اِس دنیا کا حصہ ہی نہیں ہے بلکہ ہواؤں میں تیر رہی ہے … میں نے چونکہ چاٹنا بند کر دیا تھا اِس لیے اسے بھی جلد ہی اِس بات کا احساس ہو گیا … فوراً آنکھیں کھول کر میری جانب دیکھا … میں نے ایک پیار بھری سمائل دی وہ بری طرح سے شرما گئی اپنے آنچل سے منه کو ڈھانپ لیا… چند لمحوں بَعْد آنچل ہٹایا تو میں اسے اس وقت بھی اسی طرح دیکھ رہا تھا… وہ مزے میں ڈوبی ہوئی آواز میں بولی… بھیا ایسے کیا دیکھ رہے ہو… مجھے بہت شرم آ رہی ہے پلیز اپنا کام کرو…اس حَسِین چہرے کی خوشی دیدنی تھی لیکن میں اسے مزید ستانا بھی نہیں چاہتا تھا اِس لیے واپس پُھدی چاٹنے لگا… اسکی چوت کا دانہ اِس وقت سوجھ چکا تھا اور میں اسے چوس بھی رہا تھا اور بیچ بیچ میں لائٹ لائٹ بائٹس بھی ڈال دیتا تھا… کچھ ہی دیر میں اسکی سسکیاں بلند ہونے لگیں اور تیز بھی … اتنے میں اس نے لیٹے لیٹے اپنی کمر کو اوپر اٹھایا . . اتنا اوپر کے ایک آرچ بن گئی پھر جب اس نے کمر سیدھی کی تو اپنی کمر کے بل کو کم کرنے کے لیے اوپری جسم اوپر کرنے کی بجائے اپنی لوئر باڈی کو اور زیادہ نیچے کو دھکیلا خاص طور پر اپنی پُھدی کو… اُدھر سے ایک ہاتھ سے مجھے بالوں سے جکڑ کر اپنی پُھدی سے بری طرح چپکا دیا… یعنی ادھر سے بھی پریشر اور اُدھر سے بھی … اِس وقت اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ کسی طرح اپنے بھائی کوسالم ہی اپنی چھوٹی سی پُھدی کے راستے نگل لے… میں نے بھی اِس لمحے چاٹنا بند کر کے اسکی پُھدی پر اپنے ہونٹ رکھ کر خوب پریشر ڈالا … اِس کے ساتھ ہی اس نے اپنے ہاتھ سے میرے سرکو پیچھے کی طرف دھکیلا اور پھر ہاتھ ڈھیلے چھوڑ کر تھر تھر کانپنے لگی… دراصل اب وہ چھوٹ رہی تھی اور اِس موقع پر اسکی پُھدی اتنی حساس ہوگئی تھی کہ وہ اس پر کوئی ٹچ نہیں برداشت کر سکتی تھی… میں بھی اِس لمحے اوپر کو اٹھ کر بیٹھ گیا اور جب اسے یوں مزے سے کانپتے دیکھا تو اسکی ادھر اُدھر مستی میں جھومتی بانہوں کو اپنے دونوں بازؤں میں سمیٹ کر اس کے اوپر لیٹ گیا … جیسے لیٹے ہوۓ اسے ہگ کر رہا ہوں دوستو ہم جانتے ہیں کہ جب کسی کو قے ہوتی ہے تو ہم اس کے ماتھے پہ ہاتھ رکھتے ہیں … دراصل اس وقت زور لگنے کی وجہ سے باڈی کو سہارے کی ضرورت ہوتی ہے … میں نے بھی جب اپنی بہن کو اپنے آپ سے باہر ہوتے دیکھا اور اسکی باڈی میں کرنٹ کو دوڑتے دیکھا تو اسے اپنی بانہوں میں جکڑ لیا تا کہ وہ اِس لمحے کو انجوئے بھی کر سکے اور اسے اپنے بھائی کا سہارا بھی میسر ہو… اِس وقت میں اس کے اوپر ننگا لیٹا تھا اور وہ صرف قمیض میں تھی میرا لن اسکی پُھدی کے اوپر کے ایریہ میں لینتھ وائس چپکا ہوا تھاوہ تھوڑی نارمل ہوئی تو میں نے اس کے چہرے کی جانب دیکھا وہ خوشی کے مارے پھولے نہیں سما رہی تھی… نارمل ایکٹ کرنے کی کوشش کرتی لیکن اندر کی فیلنگز کو شکست نہیں دے پا رہی تھی… گال ٹماٹروں کی طرح سرخ تھے اور آنکھیں ہونٹوں سے بھی زیادہ مسکرا رہی تھیں … . میں نے والہانہ طور پر اس کے چہرے پر بوسوں کی برسات شروع کر دی… اس کے کندھوں پہ بھی … گردن پہ بھی اس نے دونوں ھاتھوں سے میرے چہرے کو پکڑا اور پھر ایک لانگ فرینچ کس دی… کبھی میں اسکی زُبان کو چوستاکبھی وہ میری زُبان کو… کبھی میں اپنے دونوں لبوں سے اس کے اوپری لب کو چوستا کبھی وہ دونوں لبوں سے میرے نیچے والے ہونٹ کو چوستی…ایک لمبی کس کے بَعْد وہ میرے بالوں کو سہلاتے ہوۓ اکھڑی ہوئی سانس میں بولی…حمائل . . بھیا جانی آپ کو پتا ہے نا آپ کی بہن بہت نازک ہے …میں … ہاں وہ تو ہے … دنیا کی نازک ترین لڑکی ہے …حمائل … تو پھر بھیا کائنڈلی اتنا بوجھ تو مت ڈالو …تبھی مجھے احساس ہوا کہ فرینچ کس کرتے وقت میں کچھ زیادہ ہی مزے میں ڈوب گیا تھا اور اِس لمحے اپنے پورے وزن کے ساتھ اس کے اوپر لیٹا تھا… میں سوری سوری کرتا فوراً اٹھ کر بیٹھا …فوراً اپنے لن سے مخاطب ہوا . . بہن لن تو ہی بتا دیتا … میری شونی بہن پتا نہیں کب سے برداشت کر رہی تھی سب … لیکن تبھی مجھے آئیڈیا ہوا کہ لن تو مجھ سے بھی کہیں زیادہ مدھوش ہے اور میری کسسنگ کے دوران حمائل کی ناف کے اوپر نیچے دائیں بائیں اپنی لیس سے اپنے دِل کی باتیں لکھتا رہا ہے … اتنے میں حمائل بھی اٹھ کر بیٹھ گئی اور میرے لن کو دونوں ھاتھوں میں تھام کر بولی…حمائل … میری جان… میری زندگی … یہ کہتے ہی اس نے میرے ٹوپے پر ایک لائٹ سی کس کی…پھر لن سے لاڈ کرتے ہوۓ بولی… میرا نونو مونو بھلا اپنی بہن سے پیار کرتا ہے ؟ ؟ ؟ . . . پھر خودی ایک ہاتھ سے لن کو اوپر نیچے ہلایا جیسے ہم ہاں میں سر ہلاتے ہیں … پھر خود ہی بولی… بہت اچھے … اچھا مجھے یہ بتاؤ اپنی بہن کو کبھی بھی چھوڑ کر جاؤ گے … پھر خود نے دائیں بائیں لن کو ہلایا جیسے نفی میں سر کو ہلاتے ہیں … اسکی اِس حرکت سے اس کی گرم سانسیں لن کی ٹوپی پرپڑ رہی تھیں اور میرا بہت دِل کر رہا تھا کہ وہ لن کا چوپا لگائے … یہ دِل کی بات اس تک پہنچ تو گئی لیکن اس نے کی اپنی من مانی…حمائل ( پھر لن سے باتیں کرتے ہوۓ ) … پتا ہے میرا بہت دِل کر رہا ہے آپ کو چوسنے کا لیکن یہ جو ہے نا ( میری طرف اشارہ کرتے ہوۓ ) … . اسے لگتا ہے میں ابھی بچی ہوں ذرا بھی کھانسی آگئی تو پھر سے پریشان ہو جائے گا … اس لئے میں آپکو پیاری سی سویٹ سی ہینڈ جاب دوں گی … یہ کہتے ہی وہ ڈریسنگ ٹیبل سے کریم اٹھانے کے لیے گئی …میرا لن میری جانب دیکھ کر بولا…ہن آرام ای … وہ کیا کہتے ہیں جو بو گے وہی کاٹو گے اور اسے اتنا سوفٹلی ٹریٹ کرتے … میاں یا اسکا دِل جیتو یا پُھدی . . ایویں بہن کے چکروں میں ہم سے نا یاری بگا ڑ لینا … میں نے لن سے کہا … چُپ کر جا یار سب تیرے لیے ہی کر رہا ہوں … اگر چوپا نہیں لگاتی نا تو کم از کم مٹھ بھی گوارہ نہیں … ڈالتا ہوں کوئی گیم …اتنے میں حمائل واپس لوٹ آئی تھی… .میں … ٹھہرو بہنا وہ میں سوچ رہا تھا کہ . . ایک اور کام کرتے ہیں … ایسا کرو تم الٹی لیٹ جاؤ میں تمھاری گانڈ میں لوشن لگا کر وہاں اپنا لن رگڑوں گا …حمائل شرم کرو پیچھے سے تو میں مر کر بھی نا کرواؤں … وہ جگہ کوئی اِس کام کے لیے بنی ہے … پتا ہے کتنا درد…میں . . ( بات کاٹتے ہوۓ ) … ارے بابا بات تو سن لو میں نے کہا صرف رگڑوں گا … اندر نہیں کروں گا یار… اب اتنی بڑی گول مٹول گانڈ ہے ( اسکی بُنڈ پہ لائٹ سی چٹکی بھری ) کچھ اسکی گرمی بھی چکھنے دو… ( شرماتے ہوۓ ) . . آپ بھی نا بھائی … .اب وہ بستر پہ الٹی لیٹ گئی … میں نے اسکی قمیض اوپر اُٹھائی نیچے سے اسکی سوفٹ ، موٹی اور باہر کو نکلی ہوئی بُنڈ برآمد ہوئی … وہ یوں شائن کر رہی تھی جیسےبرتن قلعی کرانے کے بَعْد شائن کرتے ہیں … دونوں چوتڑوں کی پیک پہ مدھم سے پنک کلر کے سرکل بنے ہوۓ تھے …یہ چوتڑ اِس وقت میری بہن کی نزاکت کی گواہی دے رہے تھے … یعنی بُنڈ کی ٹپ چونکہ اٹھتے بیٹھتے ٹچ ہوتی تھیں اِس لیے وہ مسلسل پنک ہو گئی تھیں … بالکل اسی طرح جیسے کسی گوری لڑکی کی گالوں کو پکڑ کر کوچی کوچی کرو تو وہ پنک ہو جاتی ہیں … مجھے وہ وقت یاد آنے لگا کہ جب حمائل کی سوتے میں اسکی بُنڈ کی لکیر دیکھی تھی… اس وقت میرے وہم و گمان میں نا تھا کہ یہ حسرت پوری ہو جائے گی …میں اس کے چوتڑوں کو باری باری چومنے لگا… چونکہ گانڈ پُھدی کی طرح حساس نہیں ہوتی ویسے بھی وہ ایک آرگیزم حاصل کر چکی تھی اِس لیے اِس وقت سسکاریاں نہیں لے رہی تھی … بلکہ اِس وقت انتہائی اطمینان سے لیٹی گانڈ پر اپنے بھائی کی محبت کا دلفریب اظہار انجوئے کر رہی تھی…حمائل … بھیا میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ آپ مجھ سے اتنا پیار کرتے ہو… یاد ہے پہلے ہم لوگ کتنا جھگڑتے تھے … سچ پوچھیں تو ہمیشہ میرا ہی قصور ہوتا تھا… میں ہی جوان ہونے کے بَعْد چڑچڑی سی ہوگئی تھی… لیکن آپ کا بھی ایک بہت بڑا قصور ہے … آپ نے پہلے یہ سب کچھ کیوں نہیں کیا… کبھی مجھے ٹائیٹ سی جپھی دیتے تو ہم کب کے مزے لے رہے ہوتے …میں اِس وقت چوتڑوں کو چومنے اور چاٹنے میں مصروف تھا… اتنے میں میں نے اس کے چوتڑوں کو کھول کر اسکی گانڈ کے سوراخ پر زُبان پھیری… .حمائل … ومم… واہ مزہ آ گیا … بس دھیان کرنا کافی ڈینجرس ایریہ ہے اندر سے کوئی حملہ ہوا تو میں ذمے دَار نہیں ہوں …میں ( ہنستے ہوۓ ) … ڈونٹ وری … پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نا جائے گا …حمائل ( ہنستے ہوۓ ) … آپ بھی نا حد کرتے ہیں . .حمائل کو اپنی گردن پہ قطرہ تو فیل ہوا ہی تھا اور لوئر بیک پہ بھی … مڑ کر دیکھتے ہوۓ مجھ سے بولی… بھیا . . اتنا پریشر … لن ہے یا پمپ ہے … پھر اپنی بیک پہ نظر ڈال کر بولی… اف … یہ سب کیا اسی تھیلی میں سے نکلا ہے ( میرے ٹٹوں کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ ) … اچھا اب جلدی سے صاف کردو… گردن سے بھی کرنا…میری پوری باڈی ریلکس ہوگئی تھی … لن بھی خوش دِکھ رہا تھا… میں نے اسکی پیٹھ کو اچھی طرح صاف کیا گردن کو بھی … پھر اس کی لیفٹ سائڈ پہ اس کے ساتھ ہی لیٹ گیا … اسکی کمر اور بُنڈ اسی طرح ننگی تھی…میں . . پھر کیسا لگا یہ سب میری پیاری سی بہن کو…حمائل … آپ خود ہی اندازہ کر لو میرے چہرے پر پہلے کبھی اتنی خوشی دیکھی ہے …میں … جان من اصل خوشی تو تمہیں کل حاصل ھوگی جب ہم سہاگ رات منائیں گے …حمائل … دیکھئے جی زیادہ بغلیں بجانے کی ضرورت نہیں ہے … ابھی سے بتا رہی ہوں ذرا دھیرج رکھیے گا … یہ اِس سانڈ کو لگام ڈالنا آسان کام تھوڑی ہے … میں ذرا سی بھی ہرٹ ہوئی تو زندگی بھر کے لیے روٹھ جاؤں گی …میں … اچھا تو تمہیں لگتا ہے کہ تمھارا بھائی تمہیں ہرٹ کرے گا …اس نے آگے ہو کر اپنا سر میرے بازو پر رکھ کر کہا … میرا بھائی تو میری زندگی ہے … اور پھر ہونٹوں پر ایک لائٹ سی کس دی…میں … اچھا ایک بات تو بتاؤ … تم اس وقت کہہ رہی تھی نا کہ گول مٹول (ہر گانڈ ) کے اندر مت ڈالنا دَرْد ہوتا ہے … تو یہ بتاؤ تمہیں کیسے پتا کہ پیچھے ڈالنے سے دَرْد ہوتا ہے …حمائل … بس آئیڈیا ہو جاتا ہے نا…میں … نہیں جب کبھی ڈلوایا نہیں تو پتا کیسے چلا… پھر جس طرح تم جذباتی ہو کر کہہ رہی تھی ایسا لگتا ہے کہ کوئی اُلٹا سیدھا ایکسپیریمینٹ کیا ہے تم نے … ( دراصل میں اسکی گانڈ کا عاشق تھا اور اسکا یہ ڈر نکالنا چاہتا تھا . . آخر پتا تو چلے اس نے یہ کیوں کہا کہ مر کر بھی پیچھے سے نہیں کرواؤں گی )حمائل … بہت ذہین ہو آپ ہر بات کو نوٹ کرتے ہو… دراصل بھیا ایک بار کافی قبض تھی تو امی نے کہا کہ گلیسرین کی بتیاں جو کہ ریکٹم میں ڈالتے ہیں ) استعمال کرو… پتا ہے بھیا اتنی سی ھوگی وہ ( اپنی فنگر کے دوسرے پورے پر انگوٹھا رکھ کر مجھے سائز بتایا ) اور پتلی بھی کافی تھی لیکن میں نے تو ایک ہی ڈالی اور میری بری حالت ہو گئی … میں تو مر کر بھی نا ڈالوں آئِنْدَہ کوئی چھوٹی سی بھی چیز… امی سے کہا تو کہنے لگیں کہ وہ تو 3 4 آرام سے ڈال لیتی ہیں … .میں … امی کی تم سے بڑی بھی تو ہے پھر کیا پتا ابو کا لیتی ہوں اس لئے کھلی بھی زیادہ ہوگی …حمائل … کیا فضول باتیں کر رہے ہیں کوئی ماں کے بارے میں یوں سوچتا ہے ( تمہیں کیا آئیڈیا ہو بہنا میں کیا کیا سوچتا ہوں … لیکن اس کے اِس ری ایکشن سے یہ پتا چل گیا کہ وہ مجھ سے پیار تو خوب کر سکتی ہے مگر گندی باتوں میں انٹرسٹیڈ نہیں پھر وہ بھی امی کے بارے میں … جب کہ میں فیوچر میں امی کی بھی مارنے کا سوچ رہا تھا… اِسے تو سپورٹو رول کرنا ہے … اس کا یہ رویہ تو آگے جا کر خود چیلنج بن جائے گا … )میں … دراصل تب تمہیں قبض تھی نا اِس لیے دَرْد ہوا ورنہ نا ہوتا… اب نہیں ہے نا اس لئے اب استعمال کرنا کسی دن … میں لا کر دوں گا تمہیںحمائل … آپ کو کیوں اتنا انٹرسٹ ہے اِس بات میں … ابھی سے بتا رہی ہوں کہ میں کسی الٹی حرکت کی اِجازَت نہیں دوں گی ( یار گانڈ پہ ہی تو فدا ہوں میں وہی نہیں دے گی یہ … عجیب مصیبت ہے )میں … او کے جیسے تمہاری مرضی اب سو جاؤ کل تمہارے لیے بڑی رات ہے نیند بھی پوری کرنا اور پلیز کل کوئی ایسی چیز نا كھا نا کہ قبض ہو جائے ( ہنستے ہوۓ ) …حمائل … ( ہنستے ہوۓ ) … بہت بدتمیز ہو گئے ہو آپ… جاؤ یہاں سے . .میں . . او کے بابا جاتا ہوں … ان سے میں کل ہی نپٹوں گا ( اس کے مموں پر باری باری لائٹ سی کس کرنے کے بَعْد بولا . . اور پھر اپنے روم میں آگیا ) …اگلی صبح میں کچھ جلدی اٹھ گیا … بازار گیا اور وہاں سے بنی بنائی سیج لے آیا ساتھ میں گلاب کی پتیاں بھی … امی سے نظر بچا کر اوپر والے حصہ میں پہنچا … اِس سیکنڈ اسٹوری میں 4 بیڈ روم تھے … اور یہاں امی کا شاذو ناظر ہی آنا ہوتا تھا… ایک بیڈروم ماسٹر بیڈ روم تھا… میں نے اس بیڈروم میں بیڈ پہ سیج سجائی … بیڈ کے اوپر گلاب کی پتیاں چھڑک دیں … ایک خوشبودار آئل کی بوتل اور ایک لکویڈ چاکلیٹ کی بوتل بھی سائڈ ٹیبل پہ رکھ دی… 2 3 گھنٹوں میں کمرا بالکل ریڈی تھا… نیچے آیا تو امی اپنی پیکنگ کر چکی تھی… تھوڑی دیر میں ابو بھی آ گئے اور دونوں ہم بہن بھائیوں کو صلح صفائی سے رہنے کی تلقین کر کے چل دیے … انکا ٹرپ 4 دن کا تھا…حمائل ان کے جاتے ہی اپنے کمرے میں دوڑ گئی … میں اس کے پیچھے گیا … لیکن اس نے ڈور اندر سے لوک کر دیا تھا… میں نے باہر سے ہی کہا کہ میں نے اوپر والا بڑا بیڈروم تیار کر دیا ہے تم تیار ہو کر 8 بجے وہاں پہنچ جانا… خود میں باہر گاڑی پہ گھومنے پھرنے چلا گیا … رات 7 بجے کے قریب آیا … میں ڈور کو باہر سے ہی لوک کر گیا تھا اِس لیے مجھے اندر اینٹر ہونے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی … اپنے روم میں گیا اور نہا دھو کر کرتا شلوار پہن کر سینٹ لگا کر بن سنور کر باہر نکلا … 8 بجنے والے تھے … حمائل کے روم میں دیکھا تو وہ وہاں نہیں تھی… شاید اوپر چلی گئی تھی… اب میں بھی اوپر چل دیا… .روم میں اینٹر ہوا تو دیکھا کہ وہ پھولوں کی سیج پہ سرخ کلر کا ڈریس پہنے بیٹھی ہے … ڈریس دلہن کے ڈریس کی طرح لہنگا تو نہیں تھا لیکن ڈیزائنرکا تھا ایک دم پارٹی ڈریس نہایت قیمتی …میں بھی اس کے ساتھ جا کر بیٹھ گیا … وہ گھونگھٹ نکال کر بیٹھی تھی… میں نے گھونگھٹ اٹھایا… اس کی نظریں نیچے کو جھکی ہوئی تھیں … اپنے ہاتھ سے اسکی ٹھوڑی کو اوپر اٹھایا…وہ کمال کی حَسِین دِکھ رہی تھی… میک اپ لائٹ سا کیا ہوا تھا… گالیں ابھی سے گلابی ہو رہی تھیں … آنکھیں عام حالت میں اتنی غضب ناک دکھتی تھیں اب جو کاجل لگایا تو اور زیادہ بڑی ہو گئیں … اس کے چہرے کو دیکھ کر یوں معلوم ہو رہا تھا جیسے کسی شا عر نے سیف الملوک کے کنارے کسی پر ی کو محو رقص دیکھ کر کوئی غزل لکھی تھی اور آج وہ غزل الفاظ کے تمام بندھن توڑ کر ایک انسان کا روپ دھار کر بیٹھی تھی… میں نے اسکی لیفٹ گال پہ ایک لائٹ سی کس کی تو اس نے ہاتھ سے سائڈ ٹیبل کی طرف اشارہ کیا… سائڈ ٹیبل پہ جو نظر پڑی تو وہاں دودھ کا ایک گلاس پڑا ہوا تھا… میں نے گلاس اٹھایا اور پینے سے پہلے حمائل کی جانب دیکھ کر کہا . . کیوں جی کہیں زہر دے کر مارنے کا اِرادَہ تو نہیں ہے … یہ سنتے ہی حمائل نے اپنا حنا کی خوشبو سے مہکتا رائٹ ہینڈ اٹھا کر میرے لبوں پر رکھ دیا اور پہلی بار آنکھیں اٹھا کر مجھے تھوڑے سے بناوٹی غصے سے دیکھا … میں اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ بولا… ام زہر نہیں تو پھر اچھی خاصی ویاگرا گھول کر پلا رہی ہو اپنے بھائی کو… تا کہ خوب کٹائی کر سکے تمھاری کمسن پُھدی کی… یہ سنتے ہی حمائل نے حیا کے مارے نظریں جھکا لیں … اسکا چہرہ بلش ہو گیا تھا… بھائی جس مرضی نہج تک پہنچا دو ان مشرقی لڑکیوں کو… شرم و حیا کا کوئی نا کوئی رنگ پھر بھی باقی رہتا ہے … اور پھر اپنے سگے بھائی سے تو اور بھی زیادہ لاج آتی ہے ایسے موقع پر … خیر میں نے فوراً سے دودھ غٹا غٹ پی لیا… مجھے تو اس کا کوئی خاص مقصد نظر نہیں آ رہا تھا لیکن اب بہن کو نا بھی نہیں کر سکتا تھا… دودھ پینے کے بَعْد میں پھر سے حمائل کی جانب متوجہ ہوا … اسکی گالوں پر لائٹ لائٹ کسسنگ شروع کر دی… باوجود اِس کے کہ ابھی ایک رات پہلے ہم نے خوب مزے لیے تھے کچھ دیر بَعْد چدنے کے احساس سے حمائل کچھ زیادہ ہی حساس ہوئی پڑی تھی . . ایک ایک کس پہ بھی کسمسا سی جاتی … جیسے 10 12 وولٹ کا کرنٹ لگ رہا ہو اسے … . اس کے ریشم سے سلکی بالوں کو سائڈ پہ کر کے اس کے کانوں میں پھونکیں ما رتا… پھر دوبارہ چُمّا چاٹی شروعمیں اسکی گالوں کو ماتھے کو گردن کو چومے جا رہا تھا… اب وہ بھی میرا ساتھ دینے لگی تھی…لائٹ لائٹ کس کر رہی تھی… میں نے اب کی بار اس کے لبوں کو دبوچ لیا وہ بھی مزے لے لے کر دبوچنے لگی… میں نے اسے دوپٹے سے آزاد کیا اور اس کی گردن پہ آدَم بول سے کس کرتا ہوا نیچے ہنسلی کی ہڈی کی جانب بڑھا … اسکی نازک گردن اور بیوٹی بون کے درمیان ایک گاڑھا سا بنا ہوا تھا… اسکو کس کرتے ہی میری بہن کے بدن نے لائٹ سی جھرجھری لی…اِس مقام کی حساسیت کا پہلے مجھے علم نہیں تھا… اسی بیوٹی بون سے ذرا نیچے ایک سونے کی چین تھی… اور اس کے نیچے کچھ دور جا کر اسکی قمیض … سونے کی چین سے لے کر اسکی قمیض تک کسسنگ کرتے ہوۓ مجھے اس کے دِل کی دھڑکن میرے ہونٹوں پر ایک اِرْتِعاش پیدا کرتی ہوئی واضح طور پر محسوس ہو رہی تھی… اب دِل کی دھڑکن جوش سے بھی تیز ہوتی ہے اور گھبراہٹ سے بھی … حمائل کے کیس میں شاید یہ دونوں وجوہات شامل تھیں کیوں کہ بہرحال اس کے ممے اب تک بالکل ان چھوئے تھے … قمیض کے گلے تک کسسنگ کرنے کے بَعْد میں اٹھ کر بیٹھا اور اپنا کرتا بھی اتار دیا… . روم کے ایک کونے میں صندل کی چھوٹی سی لکڑی جل رہی تھی اور اسپلٹ اے سی بھی آن تھا… اس لئے یہ ایک کمپلیٹ رومینٹک ماحول تھا … میں قمیض اتار کر اس کے سامنے بیٹھا تو وہ میری گردن میرے کندھوں اور پھر میرے سینے کو چومنےلگی… میں اِس دوران اس کے بالوں سے کھیل رہا تھا… وہ ابھی میرے سینے کو چوم ہی رہی تھی کہ میں نے اسے تھوڑا اپنی جانب کھینچا اور پھر نیچے سے اسکی چھوٹی سی قمیض کا سِرا پکڑ کر اوپر اٹھایا… قمیض کو اوپر اٹھا تے وقت جیسے ہی میری انگلیوں کے پورے اس کے پیٹ کی سائڈ سے ٹچ ہوۓ اس نے ایک بار پھر لائٹ سی جھرجھری لی… اس کے پورے بدن میں جوانی ٹھاٹھیں مار رہی تھی… وہ میری اِس حرکت کو سمجھ گئی … سیدھی ہو کر بیٹھی اور قمیض اتا رنے میں میری ہیلپ کی… ہیلپ کیا کرنی تھی بس ہاتھ اوپر اٹھائے اور میں نے اسکی قمیض اتار کر سائڈ پہ رکھ دی… وہ نیچے بلیک برا پہنے ہوئی تھی… برا میں قید ممے اتنے بڑے تھے کہ برا سے باہر کو نکلتے محسوس ہو رہے تھے اور دونوں مموں کی گولائیوں نے آپس میں سر جوڑ رکھے تھے … یوں معلوم ہو رہا تھا کہ جیسے یہ برا اِس سائز کے مموں کے لیے چھوٹا ہے … اب یا تو اس نے اِس حسن کو چار چاند لگانے کے لیے چھوٹی برا پہنی یا پھر آج یہ ممے ہی خوشی سے پھول کر کپا ہو گئے تھے … وہ مسلسل نیچے کی جانب دیکھ رہی تھی… میں نے اسے ہگ کیا اور پھر اپنے ھاتھوں سے جو کہ اِس وقت اسکی بیک پہ تھے اسکا برا کھول دیا… برا کھلتے ہی پیچھے والی اسٹریپ کی دونوں ڈوریاں دوڑ کر اسکی بغلوں تک جا پہنچیں … اس کے ممے جو کب سے اِس برا سےنبرد آزما تھے ہُک کے کھلتے ہی برا کو خود سےپرے دھکیلنے میں کامیاب ہو گئے …میں نے اسکا برا مکمل اتار دیا تھا… لیکن جیسے ہی میں نے برا اتارا اس نے بے اختیاری طور پہ اپنے دونوں ھاتھوں کو اپنے مموں پر رکھ لیا …پل کے لیے تو مجھے اسکی اِس معصوم حرکت پہ ہنسی سی آئی کیوں کہ اس کے تتلیوں کے پروں جیسے نازک اور چھوٹے سے ہاتھ ان تگڑے مموں کا عشرو عشیر بھی نہیں چھپا پا رہے تھے بس نپل اور اس کے گرد کا پنک ایریہ چھپا ہوا تھا وہ بھی کہیں کہیں سے اسکی انگلیوں کے گیپ میں سے دِکھ رہا تھا… اپنے مموں کو اپنے بھائی کے سامنے بے پردہ پا کر اور پھر بھائی کی آنکھوں میں مزے کی لہر کو دیکھ کر وہ فوراً بولی… لائٹ ؟ . میں بولا… کم آن ڈارلنگ لائٹ تو شوہر کے ساتھ بجھائی جاتی ہے … ایک بھائی سے کیا شرمانا … وہ مسکرائی … میں نے اس کے دونوں ھاتھوں پر کس کی… اور ریکویسٹ کرنے والے اندازِ میں اسے دیکھا … اس نے اپنے ہاتھ ہٹا لئے … ممے آزاد ہو چکے تھے … ہر قسِم کے پردے سے اور ہر طرح کی پابندی سے … . اس کے ممے اوپر سے دودھ کی طرح سفید تھے اور اِس اوپری حصے میں رگوں کا ایک جال سا بھی دِکھ رہا تھا لیکن جیسے جیسے میری نظر اس کے نپلز کی طرف گئی وہ جال کہیں اسکن میں گم ہوتا چلا گیا اور مموں کے سینٹر سے گلابی رنگت کا راج شروع ہو گیا … اِس راج کا راجہ اسکا ایریکٹ شدید پنک نپل تھا… وہ خود کو بھائی کے سامنے اِس حالت میں پا کر ہچکچا رہی تھی اور شرم کے مارے اکٹھی ہو رہی تھی… لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ حسن وہ جو چھپائے نا چھپے وہ پیچھے کو ہو رہی تھی اور ممے تھے کہ ایریکٹ نپل کے ساتھ تنے ہی چلے جا رہے تھے … چند لمحے اِس دلچسپ سچویشن میں گزرے اس نے مجھے یوں تاڑتے دیکھا تو چلبلی سی ہو کے بولی…اب دیکھتے ہی رہو گے یا کچھ کرو گے بھی … میں ایک لمحے کا توقف کیے بغیر اس کے مموں پر یوں ٹوٹ پڑا جیسے بکری کا بچہ ماں کے تھنوں سے لپٹتا ہے …میں نے اسے پیچھے کو بیڈ پر لٹایا اور مموں کی چوسائی شروع کر دی… میں اِس وقت دونوں مموں کو مٹھی میں بھینچے ہوۓ تھا اور باری باری چوس رہا تھا… یوں تو بہنیں بہت نازک ہوتی ہیں لیکن ان کے مموں اور بُنڈ کو کبھی بھی سوفٹلی ٹریٹ نہیں کرنا چاہیے ان کو جتنے سخت ہاتھ لگیں بہن کو اتنا گہرا سکون اور مزہ حاصل ہوتا ہے جیسا کہ میں نے کہانی کے آغاز میں ہی کہا تھا کہ جوانی میں قدم رکھتے ہی ہماری بہنوں کی چھاتیوں میں گلٹیاں جنم لینے لگتی ہیں اور کسی محبوب کے نا ہونے کی وجہ سے سہاگ رات تک انکی جکڑن دور کرنے والا کوئی نہیں ہوتا لہذا جب موقع ملے تو ظاہری نزاکت کو نظر اندازِ کر کے سالوں پرانے کس بل نکالنے چاہییں … اسی لیے میں نپلز پہ چکیاں بھی ڈال رہا تھا اور مموں کی گولائیوں کو بھی بائٹ کرتا کبھی اٹھ کر سائڈ ممے پہ تھپڑ رسید کرتا… وہ اِس سارے عمل میں نا صرف مسلسل آہ آہ کر رہی تھی بلکہ میری کمر کو اپنے ناخنوں سے کھرچ کھرچ کر مجھے ایکسائٹ بھی کر رہی تھی… کافی دیر مموں کو پاگلوں کی طرح چوسنے کے بَعْد جب میں نے چھوڑا تو وہ کشمیری سیب کی طرح سرخ ہو گئے تھے ، ان پہ جگہ جگہ میرے دانتوں کے نشان بھی تھے اور مجھے آئیڈیا ہو گیا کہ ابھی تو وہ مستی میں ہے ورنہ جب جسم ٹھنڈا پڑے گا تو اسے کافی درد ہو گی … . مموں کے بَعْد میں نیچے آیا …مموں کے بالکل نیچے چاٹا … پھر نیچے چاٹتا ہوا پورا پیٹ کور کیا اسکی ناف پہ آیا تو ناف کے اندر زُبان پھیری … وہ پر سکون انداز میں آنکھیں بند کیے انجوئے کر رہی تھی میں اپنی بہن کے انچ انچ پر اپنے بھائی ہونے کا فرض نبھانا چاہتا تھا… میں اب ناف سے نیچے کو چاٹنا شروع کیا اور اس کے نیفے تک جا پہنچا … یوں تو اسکا پورا بدن مہک رہا تھا لیکن اِس ایریہ سے کچھ زیادہ ہی مہک اٹھ رہی تھی… یہ پرفیوم لگا کر اس نے تکلف ہی کیا تھا کیوں کہ سچ پوچھیں تو جو مہک مجھے پہلے دن جب وہ سو رہی تھی اور میں نے اسکی پُھدی میں منه مارا تھا اس دن جو نیچرل خوشبو آئی تھی گو کہ اس میں معمولی سے پیشاب کی خوشبو بھی معلوم ہوتی تھی لیکن اس جیسی مست خوشبو کے آگے سب پرفیومز دم توڑ دیں … خیر مزہ تو اب بھی آ رہا تھا… .میں نے اسکی لاسٹک والی شلوار اتار کر نیچے کر دی… اتنے میں وہ آدھی اوپر کو اٹھی اور گاؤ تکیہ اٹھا کر پیچھے رکھ لیا اور گہری مسکراہٹ مسکرانے لگی… شلوار نیچے کرنے کے بَعْد مجھے اِس مسکراہٹ کی وجہ معلوم پڑی … اس نے سرخ شلوار کے نیچے بلیک پینٹی پہنی تھی …لیسز والی لیکن انٹرسٹنگ بات یہ تھی کہ اس نے ایک گفٹ ریبن کو پینٹی پر یوں لپیٹا تھا جیسے ہم گفٹ کو پیک کرتے ہیں اور ایک پھول کی شکل میں گرہ ڈالی تھی… ساتھ میں ایک چھوٹا سا کارڈ بھی تھا جیسے میں نے جب کھول کر پڑھا تو اس پہ لکھا تھا… “دنیا کے سب سے اچھے بھائی کے لئے اس کی بہن کی طرف سے ” میں نے پڑھ کر کارڈ کو ایک کس کی وہ اِس وقت لیٹی مجھے ہی دیکھ رہی تھی میں نے جیسے ہی اسکی پینٹی کی جانب ہاتھ بڑھائے اس نے نیچے سے تکیہ نکالا اور پیچھے کو لیٹ گئی … وہ اِس منظر سے شرما گئی تھی… میں نے شلوار اور پینٹی کو نکال باہر کیا… اب وہ مکمل طور پر ننگی لیٹی تھی… اب میں نے لکویڈ چاکلیٹ کی بوتل اُٹھائی اور اسکی چوت پہ تھوڑی چاکلیٹ ڈالی … چوت پہلے مموں کی چوسوائی کی وجہ سے گیلی تھی… اب میں نے اِس چاکلیٹی پُھدی کو چاٹنا شروع کیا میرے چاٹنے کا انداز بھی کل جیسا ہی تھا اور اسکا ریسپونس بھی کل والا ہی تھا… لیکن یہ ہے کہ میں نے اتنا نہیں چاٹا کہ وہ چھوٹ جائے … چھوٹ جاتی تو بھی خیر تھی کیوں کہ بہنوں میں اتنی گرمی ہوتی ہے کہ 6 7 آرگیزم کے بَعْد ہی مکمل ٹھنڈی پڑے … لیکن میں پھر بھی ایوائڈ کر رہا تھا کیوں کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ اسکا آرگیزم سادہ چٹوانے سے ہو… میں لن پیل کر جی اسپاٹ کے ذریعے اسکو آرگیزم دینا چاہتا تھا…کافی دیر چاٹنے کے بَعْد میں نے آئل اٹھایا اور اسے مساج دینے کی تیاری کی… مساج اِس لیے کیوں کہ چدائی کو فلی انجوئے کرنے کے لیے ضروری تھا کہ حمائل کی باڈی سے ساری ٹینشن کو ختم کیا جائے … یہ ٹینشن اسپا ٹس زیادہ تر شولڈرز میں . . مموں کے اپر حصہ میں ،پیٹ کے نیچے والے حصے میں ، رانوں میں اور چوتڑوں میں ہوتے ہیں … میں نے حمائل کو فل باڈی مساج دیا… پیٹ کے نیچے والے حصے میں پُھدی کے اوپر کے ایریہ کو اپنی مٹھی میں بھینچا … یہاں اتنا گوشت تھا ( اور ہمیشہ ہوتا ہے ) کہ وہ مٹھی میں آ جائے … بھنچنے کے بَعْد اِس ایریہ کو اچھی طرح تھپتھپایا اور مکوں سے گوندھا بھی … یہی گوندھنے کا عمل میں نے اسکی بُنڈ پہ بھی کیا… بلکہ بُنڈ کو تو کچھ زیادہ زور سے بھینچا اور کہنی کی نوک سے اچھی طرح پریشر ڈالا …مجھے معصوم سیگانڈ پر ترس تو آیا لیکن میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ چونکہ مموں پہ اور بُنڈ پہ کافی گوشت ہوتا ہے لہذا انھیں سخت مساج کی ضرورت ہوتی ہے اِس لیے کسی قسِم کی نرمی نہیں کرنی چاہیے …دِل نا بھی مانے تو بھی یہ بہت ضروری ہے … اور پھر بُنڈ پہ بےشمار چانٹے رسید کیے پہلے ہلکے ہلکے پھر اتنے زور دار کہ کمرہ گونج اٹھا… ان چانٹوں کی وجہ سے حمائل بھی کراہ اٹھی . . بلکہ چیخ اٹھی … بظاہر تو یہ ظالمانہ حرکت تھی… اتنی نازک بہن یہ سب ڈیزرو نہیں کرتی تھی… لیکن میں جانتا تھا کہ وہ ایک مشرقی بیٹی ہے اور ہمارے ہاں لڑکیاں دن بھر کاموں میں مصروف تو رہتی ہیں لیکن نا کبھی کسی نے انکا مساج کیا نا انہوں نے کبھی سونا باتْھ وغیرہ لیا نا کبھی بے حس باپ بھائیوں نے فکر کی… اس لئے اس کے نازک بدن کی اینٹھن دور کرنے کے لیے یہ سب ضروری تھا… اسکی بُنڈ فل سرخ ہو گئی تھی… گہرے مساج نے ٹینشن ناٹس کھولیں اور چانٹوں نے بلڈ فلو بڑھا دیا… اس لئے اب اسکی بُنڈ ایک دم فریش تھی… دراصل مساج کی وجہ سے فل باڈی فریش ہو گئی تھی…اب میں نے حمائل کو بانہوں میں اٹھایا اور واشروم میں لے گیا جہاں پہلے سے باتْھ ٹب پانی سے بھرا ہوا تھا… میں نے پہلے اسے وہاں کھڑا کر کے دھویا اور پھر اچھی طرح سوپ ملا تا کہ تیل اُتَر جائے اور اب اسے باتْھ ٹب میں بیٹھنے کو کہا … پھر خود اس کے پیچھے جا کر بیٹھ گیا اور بانہوں میں بھر کر باتیں کرنے لگا…حمائل … بھیا جانی ویسے آپکو اپنی گول مٹول کے ساتھ یوں نہیں کرنا چاہیے تھا . . میں تو آپ کے لن کو اتنا پیار کرتی ہوں جیسے ایک ماں اپنے بیٹے سے …میں … ہاں تو میں بھی گول مٹول کو اپنی بیٹی کی طرح سمجھتا ہوں …حمائل … تو اتنی سختی کیوں کی اس بیچاری کے ساتھ …میں … یار اب ماں باپ کو اولاد کے بھلے کے لیے کبھی کبھی سختی تو کرنی پڑتی ہے نا…حمائل … صرف باپ کو… ماں کا دِل تو بہت نازک ہوتا ہے … ویسے اچھا ہی کیا آپ نے آپ کی اِس حرکت کی وجہ سے اس وقت تو بہت دَرْد ہوا لیکن اب بہت سکون مل رہا ہے … یوں لگ رہا ہے جیسے روئی کے گالوں کی طرح سوفٹ اور ہلکی پھلکی ہو گئی ہو…میں اس کے کندھے پہ ٹھوڑی ٹکا کر بولا… اچھا سویٹ ہارٹ اب ریڈی ہو نا…وہ میری بات سمجھ گئی چہرہ موڑ کر میری جانب کیا آنکھوں کی پتلیاں سکڑ گئیں اور آنکھوں میں ایک ایسا دلچسپ سا خوف دکھائی دیا جیسے بندہ جتنا مرضی بڑا ہو جائے سرنج کی نیڈل سے ہمیشہ ڈرتا ہے اور انجکشن لگنے کا سن کر خوف زدہ سا ہو جاتا ہےحمائل … بھیا جانی… نہیں نا… دَرْد ہو گا … یہ کہتے ہوۓ اسکی ٹانگیں بھی سکڑ گئیں …میں اسکی کمر پر پیار سے دونوں ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولا… اب ڈر رہی ہو نا تو پُھدی کے مسلز اور زیادہ ٹائیٹ ہو رہے ہیں پُھدی کا دہانہ ( انٹرینس ) جتنا ٹائیٹ ہوتا جائے گا اتنا پرابلم ہو گا … اس لئے صرف ریلکس …حمائل … اب آپ اورڈرا رہے ہو ( کسی چھوٹے بچے کی ٹون میں بولی )میں … ڈرا نہیں رہا میری جان سمجھا رہا ہوں … ایسے کرتی رہو گی تو کبھی بھی زندگی کا اصل مزہ نہیں لے پاؤ گی … ( اسکی یہ مزاحمت جہاں مجھے کچھ چیلنج سی لگ رہی تھی وہیں مجھے کافی خوشی بھی ہو رہی تھی… اگر وہ اِس وقت اپنے ہیسبنڈ کے ساتھ ہوتی تو شاید یہ کہنے کی ہمت نا کر پاتی اور کہہ بھی دیتی تو ہسبنڈ نے سنی ان سنی کر کے اسے بستر پہ پٹخ کر چود ڈالنا تھا… یہ ایک بھائی کی آغوش کا حسن تھا کہ وہ ضدی بچے کی طرح دِل کی بات کہہ رہی تھی ) … . اب میری جان مجھے خود بتائے کہ سہاگن بننا ہے یا نہیں … اپنی لائف کی سب سے قیمتی رات کو انجوئے کرنا ہے یا نہیں … .وہ ایک دم شرما کر نیچے دیکھنے لگی اور دھیرے سے بولی… او کے میں تیار ہوں …میں … کیا کہا ذرا زور کا بولو میں نے سنا نہیں …حمائل . . نا تنگ کریں مجھے …میں … او کے میری جان چلو بیڈ پہ چلتے ہیں … میں اٹھا اسے ٹاول میں لپیٹا اور اٹھا کر روم میں لے آیا … اسے بیڈ پہ لٹایا اور اسکا بدن اچھی طرح سکھایا … اسے بستر پہ اُلٹا لٹایا اور اس کے پیٹ کے نیچے تکیہ رکھا … میں نے یہ نیٹ پہ پڑھا تھا کہ سیل کھولنے کے لیے یہ پوزیشن بیسٹ ہے … میں نے پیچھے سے لن اسکی پُھدی پہ ٹکایا تو اس نے مڑ کر سہمے ہوۓ چہرے کے ساتھ میری جانب دیکھا …میں … حمائل جانو تم یہ کر سکتی ہوحمائل … کیا کر سکتی ہوں ؟میں … میرا یقین کرو … جانو تم میری زندگی ہو… میں تمہیں ہرٹ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا … سچ میں بہت مزہ آئے گا … اگر نا آئے اور درد ہو تو مجھے روک دینا میں آگے نہیں کروں گا …میں نے لن پہ تیل لگایا اور اسکی چوت پر ملنے لگا… میرے ہونٹوں کا اور زُبان کا مساج وہ چوت پر ایکسپیرینس کر چکی تھی لیکن مطلب کی چیز کی باری تو اب آئی تھی… لن اور پُھدی کی کیمسٹری اتنی ملتی تھی کہ دونوں کا آپس میں ٹچ ہوتے ہی لیس دَار پانی بہنے لگا… تیل بھی لگا ہوا تھا لہذا چکناہٹ تو کافی ہو چکی تھی… میں نے پہلے انگلی اسی لیے نہیں ڈالی تا کہ لن کی ہشیاری سے اسے جو مزہ آئے اسکی وجہ سے پُھدی کھلنے کی تکلیف کم ہو جائے جب مارنی لن نے ہے تو پہلا اسٹیپ بھی لن کو لینے دو انگلی کی کیا ضرورت … میرا ٹوپا اِس وقت اسنوکر کی بال سے تھوڑا ہی چھوٹا ھوگا اور پھر پیچھے ایک لمبی اور موٹی شافٹ … حمائل ٹھیک کہتی ہے یہ سہنا کسی کھوتی گھوڑی کے بس کی بات ہے ایک معصوم سی ورجن کتیا کے بس کا روگ نہیں یہ … وہاں حمائل کی پُھدی کو جہاں چیرا لگنا تھا وہاں جگہ اتنی ٹائیٹ تھی کہ انگلی بھی اینٹر ہو جائے تو بڑی بات ہے … لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ مجھے حمائل کو انڈرایسٹیمیٹ نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ عورت کی ایک بار کھل جائے تو وہ وہ چیزیں اندر لے سکتی ہے کہ گھوڑیاں بھی شرما جائیں … اس لئے پہلا اسٹیپ تھوڑا تکلیف دہ ھوگا پھر سب فٹ ہو جانا ہے …میں لن سے پُھدی پہ مساج کرنے لگا اور وہ مزے سےسسکاریاں بھرنے لگی…میں نے اسکی پُھدی کی پوزیشن ایڈجسٹ کی اور جب میں لن رگڑ رہا تھا اور وہ آہ آہ آہ کر رہی تھی تو ایک ہی جھٹکے میں اندر کر دیا… جھٹکا زیادہ زور کا نہیں مارا لیکن اتنا زور کا ضرور تھا کہ اسکی پُھدی کم از کم 2 سے 3 انچ تک گہرائی میں کھل جائے … کیوں کہ 2 3 انچ کا ایریہ پھدی کا انتہائی حساس پارٹ ہوتا ہے اسے فتح کر لیا تو آگے کوئی مسئلہ نہیں اور اچانک جھٹکا اِس لیے مارا کہ اگر دھیرے دھیرے ڈالتا تو وہ زیادہ پین فل ہوتا ایک بار کا دَرْد سہنا نسبتا آسان کام ہے … لیکن ایسا نہیں ہے کہ میں نے چھوٹا جھٹکا مار کر اس پہ کوئی بڑا احسان کر دیا تھا… اِس اتنے سے جھٹکے سے بھی اسے بہت تکلیف ہوئی بلکہ اچھی خاصی ہوئی … اتنی کہ وہ بیچاری ٹھیک طرح سے چیخ بھی نہیں مار سکی… کیوں کہ چیخ مارنے کے لیے بھی انرجی کی ضرورت ہوتی ہے یہاں یہ عالم تھا کہ سیل کے ساتھ ساتھ اسکا سانس بھی ٹوٹ گیا تھا اور شاید دِل بھی . . کیوں کہ میں نے اسے پرامس کیا تھا کہ وہ ہرٹ نہیں ھوگی لیکن عین اس موقع پر جب وہ آہ آہ آہ کر کے مزے لے رہی تھی میں نے لن اندر دھکیل دیا… اسکی تکلیف کا اندازہ اِس بات سے ہو رہا تھا کہ اس نے اپنے نازک ھاتھوں سے بیڈ کی چادر کو بری طرح بھینچ لیا تھا . . اُدھر لن پہ گرم لکویڈ کا احساس ہوا جو اسکی پُھدی کی لیس کی نسبت پتلا تھا… شاید یہ اسکا بلڈ تھا میں چونکہ جھٹکا مارنے کی وجہ سے اس کے اوپر بینڈ ہو گیا تھا جیسے وہ لیٹی تھی اسی طرح اس پہ لیٹا تھا لیکن اس پہ بوجھ دیے بغیر میرا بوجھ میرے بازؤں پہ تھا جو اس کے دائیں بائیں تھے . . اِس لیے اِس پوزیشن کی وجہ سے میں بلڈ نہیں دیکھ سکا …حمائل نے مڑ کر میری جانب دیکھا اس کے چہرے پر ناراضی کے آثار بھی تھے اور آنکھوں میں آنْسُو بھی … اس نے ٹوٹتی ہوئی آواز میں کہا … بھیا باہر نکالو ابھی … بہت دَرْد ہو رہا ہے … میں بولا… جان بات تو سنو… اس نے میری بات ان سنی کر کے اٹھنے کی کوشش کی ھاتھوں سے میرے بازؤں کو بھی ہٹانا چاہا اور ٹانگیں بھی ہلائیں … میں نے جھٹ سے اس بازؤں کو پیچھے کی جانب کھینچ کر قابو کیا اور اپنا سارا وزن اس پہ ڈال کر ہلکے ہلکے جھٹکے مارنے لگا… جنکی سپیڈ تو میں نے زیادہ کر دی لیکن لن زیادہ اندر نہیں ڈالا … میں اسی ایریہ میں اسکو مزے دینا چاہتا تھا…اب سچویشن یہ تھی کہ حمائل میرے نیچے لیٹی تھی اسکا منه بائیں سائڈ پہ تھا اور اوپر سے مجھے چہرہ دِکھ رہا تھا… وہ دَرْد بھری آہ آہ آہ کر رہی تھی ہر جھٹکے کے ساتھ ساتھ … . اسکی کجراری آنکھوں سے آنسو بھی بہہ رہے تھے اور چہرہ بےبسی کی تصویر بھی بنا ہوا تھا… مجھے پہلے اسکی گانڈ پہ تھپڑ ما رتے ہوۓ افسوس ہوا اور اب یوں چوت میں لن دے کر گھسے ما رتے ہوۓ … میں تو سب اسکی خوشی کے لیے کر رہا تھا… یہ محبت بھی عجیب ہے کیسی آزمائش میں ڈال دیتی ہے بندے کو… میرے بس میں ہوتا تو اسے معمولی سی بھی تکلیف نا ہونے دیتا…کچھ ہی دیر میں حمائل کا کراہنا ختم ہوا وہ بالکل خاموش ہو گئی بس ہر جھٹکے کے ساتھ اس کے سانس کی آواز سنائی دیتی… چند ہی لمحوں کی خاموشی کے بَعْد اس نے دوبارہ آہ آہ آہ کرنا شروع کیا اور آواز صاف بتا رہی تھی کہ یہ مزے کی آہیں اور سسکیاں ہیں … میں نے اپنے دھکے مزید بڑھائے اور لن کو بھی تھوڑا آگے کو دھکیلا … نیچے سے تکیہ بھی نکال دیا…میرا پورا لن اندر جا چکا تھا اور اب حمائل کی چوت کے مسلز باقاعدہ طور پر میرے لن کو اپنی جانب کھینچ رہے تھے . . . . ایک بہن کا پیار بھائی پر یوں برس رہا تھا… معلوم ہوتا تھا جیسے مجھے پورے کے پورے کو چوت کے راستے نگل لے گی …اب جب لن اچھی طرح گہرائیوں میں اُتَر گیا تو میں نے بھی اپنے دھکوں کی رفتار بڑھانا شروع کردی … چند ہی لمحوں بَعْد میں ایک ردھم کے ساتھ برق رفتاری سے حمائل کی پُھدی کو پیل رہا تھا… کمرا پچک پچک کی آواز اور حمائل کی سسکاریوں سے گونجنے لگا . . ہم جس بیڈ پہ چدائی کر رہے تھے اسکا میٹرس بھی سپرنگ میٹرس تھا اور کافی موٹا تھا اس کے باوجود بیڈ کے گوڈے گٹوں سے چور چور کی آوازیں آنےلگیں … سگی بہن کی پُھدی کی ٹھکائی کے نتیجے میں اٹھنے والی خوشبو دماغ کے روئیں روئیں میں جنون پیدا کر رہی تھی… اِس لمحے مزے کا یہ عالم تھا کہ میں شعوری طور پر یہ جانتا ہی نہیں تھا کہ میں کہاں ہوں اور کیا کر رہا ہوں … یہاں تک کہ وہ مسلسل لگنے والے جھٹکے بھی باڈی خود لگا رہی تھی پھر سپرنگ میٹرس کی مہربانی سے ذرا سی محنت بھی رنگ لا رہی تھی… یوں لگ رہا تھا گویا بجلی پہ چلنے والا کوئی ڈلڈو لگا ہو…میں ہر تھوڑی دیر بَعْد ذرا رک کر پورا زور لگا کر لن کو اندر باہر کیے بغیر صرف اندر کو دھکیلتا … اتنا زور کہ شاید اتنا میں نے جم میں بھی کبھی نہیں لگایا ہو گا … سچ ہے بہن کی شرم گاہ کو ٹھنڈا کرنا مردانگی کا اصل امتحان ہے … یوں کرنے سے لن انتہائی گہرائی میں اُتَر جاتا اور جب میرے لن کی بس پُھدی کی انٹرینس پہ دستک دے رہی ہوتی اس وقت لن کی ٹوپی حمائل کی بچے دانی پہ ٹچ ہو رہی ہوتی… اس لمحے پُش کرنے پہ لن کا منه تھوڑا سا کھل جاتا اور جیلی جیسا مٹیریل لن کی ٹوپی کو ٹچ ہوتا . . میں نے کافی طریقوں سے مٹھ ماری تھی لیکن طریقہ جو بھی ہو لن کیرگڑائی تو ہمیشہ باہر والی اسکن کی ہی ہوئی تھی… لیکن جو مزہ اِس وقت مل رہا تھا وہ 100 مٹھوں کے مقابلے میں بھی بہت تھا… ایک بہن کی ٹانگوں کے درمیان اتنی خوشی اور اتنا لطف پوشیدہ ہوتا ہے یہ کبھی مجھ جیسے مٹھل بھائی نے سپنے میں بھی نہیں سوچا تھا… کچھ لمحوں بَعْد حمائل کی سسکاریاں اتنی بلند ہو گئیں کہ فرسٹ فلور کا کونا کونا پورے ہوش و حواس میں حمائل کی چدائی کی گواہی دے سکتا تھا…انہی سسکاریوں کے ساتھ ساتھ حمائل کی باڈی بھی ٹائیٹ ہونے لگی… پُھدی کے مسلز اتنے ٹائیٹ ہوۓ کہ ایک پل کے لیے تو مجھے لگا کہ آج لن دو ٹوٹے ہو جائے گا میں نے بھانپ لیا کہ حمائل کا کلائیمیکس ہونے والا ہے لہذا اپنا لن پورے کا پورا اندر دھکیل دیا اور جھٹکے بھی روک دیے … مگر ساتھ ہی یہ مسلز اچانک لوز ہوۓ اور لن کی اسکن کو چھونے والی جیلی جیسی چیز زور سے پھڑپھڑائی … یوں کہ 2 3 سیکنڈز میں اس نے مجھے 25 30 بار تو چھوا ہی ہو گا … یہ اتنا لطف اندوز لمحہ تھا کہ بیان کرنے کے لیے الفاظ کا چناؤ مشکل ہو رہا ہے … اِس کے بَعْد میں نے اپنا لن باہر نکالا اور ایک دو منٹ کے وقفے کے بَعْد پھر چدائی شروع کر دی…اگلے آرگیزم کے بَعْد اسکی ایک ٹانگ اٹھا کر چدائی کی… جس کے نتیجے میں لن نے اس کے پلوک ریجن کی ہڈیوں میں جا کر سر ٹکرایا … پھر اسکی ایک ٹانگ کو لپیٹ کر اس کے سینے سے لگایا اور اسکی چوت کو محبت کا سبق پڑھایا … پھر ڈوگی اسٹائل میں پھر مشنری پوزیشن میں … اِس پوزیشن میں حمائل مزے میں آ کر میرے چوتڑوں کو بھینچ رہی تھی جس کا مجھے بھی مزہ آ رہا تھا… وہ مزے کے مارے میری کمر میں بھی اپنے ناخن گاڑتی … میں نے اس رات 3 4 مختلف اسٹائلس میں اسکی چدائی کی اور 5 بار اسے آرگیزم کرایا… لاسٹ آرگیزم کے ساتھ ہی میری پھولوں جیسی بہن کواتنا مزہ آیا کہ اسکا پورا چہرہ کسی پھول کی طرح کھل اٹھا تھا اور خوشی کے مارے اس کی باچھیں بھی بند نہیں ہو رہی تھیں … چہرہ سرخ تھا اور انگلیوں کی پوروں سے لے کر نپلز تک سب کچھ کانپ رہا تھا… اب میں نے اسے اِس خوشی کے عالم میں آگے بڑھ کر اسے بٹھا یا اور اپنے سینے سے جکڑ لیا… وہ میرے گالوں سے گال جوڑے بیٹھی تھی … کچھ بولنا چاہ رہی تھی لیکن سانس ہی برابر نہیں ہو رہا تھا… میں نے اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوۓ کہا … بس میری جان بس . . چُپ رہو اور صرف گلے لگی رہو … اس کے پیٹ تک کے مسلز کانپ رہے تھے … اس نے اسی عالم میں ٹوٹتی ہوئی آواز میں مجھے کہا … تھینک . . تھینک یو . . بھائی … میں فوراً بولا… ارے پگلی اِس میں تھینک یو کی کیا بات ہے یہ تو میرا فرض تھا… میں اسے گود میں بٹھائے اسکی کمر پر ہاتھ پھیر رہا تھا… جب اسکی حالت سنبھلی تو میں نے اسے بستر پہ لٹا دیا… ایسی زبردست چدائی کے بَعْد اسے نیند کی آغوش میں جانے میں زیادہ دیر نہیں لگی… وہ دائیں کروٹ لے کر ننگی ہی سو گئی … میں نے اس کے سونے کے بَعْد گیلے کپڑے سے اسکے چوتڑوں اور رانوں پہ جما ہوا اسکا خون صاف کیا…بیڈ شیٹ پہ بھی دھبے تھے جن کو صاف کرنا ممکن نا تھا… یہ صفائی کر کے میں نے اپنے ہاتھ خوب چکنے کیے لن کو بھی ویسلین سے چکنا کیا اور حمائل کی نکلی ہوئی گانڈ میں اپنا ٹوپا سما دیا اور مٹھ لگانے لگا… حمائل کی گانڈ پہ اچھا خاصا گوشت تھا لہذا لن کا اوپری حصہ اس کے چوتڑوں میں تھا اور پیچھے سے میں مٹھ لگا رہا تھا … بہن کی گانڈ کی گرمی سے بھائی کی منی کب تک بچ پاتی تھوڑی ہی دیر میں ایک ذبر دست مٹھ لگی اور میری منی حمائل کے چوتڑوں سے بہنے لگی… میں اسی حالت میں اس سے لپٹ کر سو گیا …بح اٹھا تو میں اِس وقت سیدھا لیٹا تھا . . لن منار پاکستان کی طرح اکڑا کھڑا تھا… جاگتے ہی اِس بات کا احساس ہوا کہ اب مجھے اپنی بہن کی پُھدی مل چکی ہے … اور میری خوشی کا کوئی ٹھکانا ہی نا رہا … روز جاگ کے لن کو ترسی نگاہوں سے دیکھتا تھا لیکن اب لن کے بھی دن پِھر گئے تھے … حمائل اسی پوزیشن میں سو رہی تھی . . اتنے زبردست مساج اور چوت مروانے کے بَعْد اسے ایسی گہری نیند آئی کہ رات بھر اسی پوزیشن سے ٹس سے مس نا ہوئی . . اسکی گانڈ میں میری منی جم چکی تھی جو بستر پہ گری تھی وہ وہیں پتھر کی ہوگئی تھی … اپنی سوہنی بہن کی بُنڈ پہ لائٹ سی کس کی اور ننگا ہی کچن میں چل دیا… کچھ پھل لئے … کیلے کا ملک شیک بنایا… نیچے جا کر وٹامن کی شیشی اُٹھائی اور اوپر آگیا . . یہ سب کچھ حمائل کے بیڈ کی سائڈ ٹیبل پہ رکھا اور کرسی کو آگے کھینچ کر اس کے سامنے ننگا بیٹھا اپنی سگی بہن کی جوانی کو دیکھ دیکھ کر آنکھوں کی پیاس بجھانے لگا… لیکن یہ پیاس تھی کہ بجھنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی… اس کے لیفٹ بازو کے نیچے سے جھانکتا مما . . سانس لینے کی وجہ سے اوپر نیچے ہوتا گورا پیٹ . . وہ بُنڈ کی اٹھان . . نازک کومل رانیں . . وہ خوبصورت پاؤں کہ جنکی نزاکت دیکھ کر لگتا تھا کبھی زمین کو چھوا ہی نا ھوگا اِنھوں نے … سگی بہن کو ننگا دیکھنا وہ منظر ہوتا ہے کہ جس کے سامنے کشمیر کی وادیوں کا حسن… سَر سبز کھیتوں پہ برستے جھرنے اور بادلوں میں گھرے گلگت کے پہاڑوں کی چوٹیوں کی سحرانگیزی … سب ما ند پڑ گئیں اتنے میں حمائل کی آنکھ کھلی وہ فوراً سیدھی ہو کر بیٹھ گئی … اس نے ارد گرد ہاتھ مارا لیکن نا تو کوئی ڈوپٹہ تھا نا چادر… اس لئے اب وہ شرم کے مارے ٹانگیں سمیٹ کر بیٹھ گئی اور اپنے بازؤں میں اپنے دلکش ابھاروں کو سمیٹ لیا… میں اٹھ کر اس کے ساتھ بیٹھا اور بولا… حمائل جانو میاں بِیوِی دو مختلف جسم لیکن ایک روح ہوتے ہیں اور پھر بہن بھائی تو جنم بھی ایک ہی ماں کے پیٹ سے لیتے ہیں اس لئے آخر ہمارے درمیان پردہ کیسا ( پتا نہیں یہ الفاظ کنونسنگ تھے یا نہیں لیکن جو منه میں آیا وہ بول دیا ) … وہ مسکرانے لگی… میرے کھڑے لن کو دیکھ کر بولی… بھیا جانی یہ کبھی بیٹھتا بھی ہے ؟ ؟ . . میں ہنستے ہوۓ بولا . . ام پتا نہیں میں نے تو جب دیکھا ہے ایسے ہی دیکھا ہے … پھر سویٹ ہارٹ جن بھائیوں کی تم جیسی شرمیلی اور غضب ناک حد تک سیکسی بہنیں ہوں ان کے لن ہمیشہ فخر سے کھڑے رہتے ہیں … وہ مسکراتے ہوۓ بولی… لیکن میں نے اِسے سوتے ہوۓ دیکھا ہے … لیں آپکو بھی دکھاتی ہوں … یہ کہہ کر اس نے اپنا آئی فون نکالا اور مجھے ایک پک دکھائی جو میرے سوئے ہوۓ لن کا کلوز اپ تھی اور اس میں میرا لن میری چھوٹی انگلی سے بھی چھوٹا لگ رہا تھا ہاں مگر تھا موٹا … میں فوراً بولا… ارے تم آج مجھ سے پہلے جاگ گئی تھی کیا… حمائل بولی… نہیں بھیا جانی یہ آج کی نہیں ہے … یاد ہے جس دن ہم نے شہتوت توڑے تھے لان سے … اس دن جب آپ کو جگانے آئی تھی تب لی تھی یہ پک…میں . . او بے شرم . . اپنے بھائی کی شلوار میں جھانکا تم نے …حمائل … واہ اور تم کیا کیا کرتے رہے وہ سب بتاؤں …میں . . اچھا بابا ہا ر مانی تم تو بیوی بنتے ہی جھگڑنے لگی…ہم دونوں ہنس پڑے … اس دن ہم سارا دن گھر میں ننگے پھرتے رہے اور مستیاں کرتے رہے …بیچ میں چدائی کا بھی سیشن لگایا … رات کو بھی اپنی بہن کو چودا … سیکس کے ساتھ ساتھ جو خرمستیوں میں مزہ آیا … ننگے پکڑن پکڑائی کھیلنے میں لپٹنے میں . . وہ سب بھی کمال کا ایکسپیرینس تھا . .اگلی صبح آنکھ کھلی تو دیکھا کہ میرا لن حسب معمول تنا کھڑا ہے اور حمائل میری رانوں پر سر رکھ کر لن کو گھور ے جا رہی ہے . .میں … کیا دیکھ رہی ہو بہنا …حمائل … . ( انگلی ہونٹ پر رکھتے ہوۓ ) شیشہ…اب حمائل نے ویسلین سے اپنے ہاتھ چکنے کیے اور اور لن پہ بھی ویسلین مل دی… اس نے میرے لن کی جڑ پہ اپنے بائیں ہاتھ کی انگلی اور انگوٹھے کی مدد سے چھلا سا بنایا اور لن کو مضبوطی سے پکڑ لیا دوسرے ہاتھ سے وہ لن کی جڑ سے ٹوپے تک اسی طرح کا چھلا بنا کر اوپر نیچے مگر دھیمے دھیمے اسٹروک لگانے لگی کبھی کبھی وہ جڑ پہ موجود ہاتھ کی گرفت کو ڈھیلا بھی چھوڑتی لیکن پھر دوبارہ ٹائیٹ کر دیتی… اِس سب کا فائدہ یہ ہوا کہ بہن کے نازک ھاتھوں کے مساج کا مزا بھی آیا اور لن کی جڑ کو جکڑنے کی وجہ سے لن چھوٹا بھی نہیں …کافی دیر یہ سلسلہ چلا… پھر اس نے لن کے منه کے ساتھ موجود جھلی کو بھی اپنے انگوٹھے سے مساج کیا پھر لن کی ٹوپی پہ چکنی ہتھیلی کی چھت ( روف ) سی بنا کر دوسرے ہاتھ سے لن ہلانے لگی… . یہ ٹوپے کے لیے اِسْپیشَل مساج تھا… پھر دونوں ھاتھوں کو تالی بجانے والی پوزیشن میں بنا کر لن کو ہتھیلیوں کے درمیان لے لیا اور ہاتھ یوں آگے پیچھے چلانے لگی جیسے دودھ میں سے مکھن نکالتے وقت اس میں مدھانی چلاتے ہیں … پھر اِس نے لن کی انٹرینس پر اپنے نپل سے مساج کیا… اور اور لن منه میں لے کر اسے چوسنے لگی…وہ چونکہ نا تجربے کا ر تھی اِس لیے لن پہ ہلکی ہلکی بائٹ بھی کر جاتی… یوں تو وہ بائٹ بھی مزے کی تھی لیکن چوپے کے دوران کباب میں ھڈی کا کام کر رہی تھی… میری بہن اتنی مروت سے اور سیدھی نیت کے ساتھ چوپا لگا رہی تھی کہ جیسا تیسا بھی تھا میں سہتا رہا میں اسے دانت مارنے سے منع کر کے اسکا دِل نہیں دُکھانا چاہتا تھا… اسی دوران جب اسکا دانت لن کو چبھا تو میری آہ نکل گئی … وہ منه میں لن لیے ہی بڑبڑائی … پھر لن باہر نکال کر بولی… ایک تو منه میں لے کر یوں لگ رہا ہے جیسے میرے منه کا ہی حصہ ہو… کیا ہوا بھائی …میں … وہ جانو… ہے تو تمھارا ہی جیسے مرضی ٹریٹ کرو لیکن اسے دانت نہیں چبھاتےحمائل … ہائے میں مر گئی … میں تو کب سے یوں کر رہی ہوں … پہلے کیوں نہیں کہا آپ نے …میں … وہ میں نے سوچا تمہیں ٹوکا تو تمھارا دِل دکھ …حمائل ( بات کاٹتے ہوۓ ) … بھیا جانی… یوں بہنوں کا دِل زیادہ دکھتا ہے … پلیز اب یوں مت کرنا کھل کے بول دیا کرو… وہ پھر لن چوپنے لگی اِس بار بہت احتیاط سے … میں نے ایک ہاتھ سے اس کے چہرے پہ آئی زلفوں کو سائڈ پہ کیا اور اس چاند کے ٹکڑے کی پھولی ہوئی ( لن کی وجہ سے پھولی ہوئی ) گالوں پر اپنی انگلیوں کی بیک سائڈ پھیرنے لگا… سیانے سچ کہتے ہیں عورت کا منه بھی دانتوں والی پُھدی ہوتا ہے … حمائل کے منه میں بھی اسکی پُھدی والی لذت تھی…جب لن چھوٹنے لگا تو میری شرم و حیا کی پیکر ، پاکدامن بہن کو فوراً آئیڈیا ہو گیا اس نے لن باہر نکالا اور ساری منی اپنے حَسِین چہرے پر ریسیو کی… اسکا چہرہ ماتھے سے لے کر ٹھوڑی تک منی سےبھر گیا … ایک قطرہ تو ٹھوڑی سے بھی نیچے کو ٹپکنے لگا… حمائل مسکرا کر بولی… لو جی آج میرے بھیا راجہ کی دِلی خواہش پوری ہوئی …میں … ویسے ایک اِس سے بھی بڑی خواہش ہے میری…حمائل . . وہ کیا بھیا . .میں نے اسکی گانڈ کی لکیر پر انگلی پھیر کر کہا … یہ لینے کی…حمائل فوراً سیدھی ہو کر بیٹھ گئی اور بولی… بھیا میں آپ کے جذبات کی قدر کرتی ہوں لیکن جب بہنیں آپ کے ساتھ بستر شیئر کرنے لگ جائیں نا تو انکی رائے بھی بہت امپورٹنٹ ہو جاتی ہے …میں نہیں چاہتی کہ ہمارے اِس رشتے میں دراڑ آئے اور اگر آپ بھی نہیں چاہتے تو ایسی بات دوبارہ مت کرنا… حمائل کی اِس بات نے مجھے یقین دلا دیا کہ اِس جنم میں اسکی گانڈ لینے کا سپنا شاید اَدُھورا رہ جائے دن اور اس سے اگلے دو دن ہم نے بہت زیادہ مستی کی . . ان چار دنوں میں میں نے اسے کئی طریقوں سے چودا مموں میں لن لینا تو حمائل کو بہت ہی پسند تھا… ان چار دنوں میں ہم مسلسل ننگے رہے اور میں نے ایسی کوئی بھی چیز نہیں کھائی کہ جس پہ حمائل کی پُھدی کا رس نا ہو…آئس کریم تو میں کھاتا ہی اپنی بہن کی پُھدی پہ ڈال کر تھا… 4 دن بَعْد ممی پاپا آ گئے … ہماری چھٹیاں ابھی چل رہی تھیں ہم نے امی ابو سے کہا کہ ہم نے اپنا اپنا روم اوپر شفٹ کر لیا ہے وہاں بیٹھ کر پڑھتے ہیں … اوپر والے فلور کا اگر سیڑھیوں والا ڈور بند کر دو تو وہ بالکل سیپریٹ ہو جاتا تھا… بس پھر کیا تھا ہم اوپر والے فلور کو سکیور کر کے ننگے پڑے رہتے دن رات… امی اور ابو کا اس طرف ویسے بھی آنا نہیں ہوتا تھا اور آتے بھی تو ڈور کلوز تھا… حمائل کا چہرہ چدائی کے بَعْد یوں کھل گیا تھا کہ مجھے ڈر تھا کہ کہیں امی کو شک ہی نا ہو جائے کہ انکی بیٹی نہار منه اور رات سوتے ہوۓ لن لیتی ہے … اور وہ بھی اپنے بھائی کا…انہی دنوں میں ایک رات جب حمائل اور میں ننگے سو رہے تھے میری آنکھ کھلی … پانی کی بوتل خالی پڑی تھی اوپر والے فریج میں دیکھا تو وہاں بھی پانی نا تھا میں نیچے پانی لینے آیا تو دیکھا کہ امی ابو کے کمرے کی لائٹ جل رہی تھی … کافی دن ہو گئے تھے انکی خبر لیے اس لئے دوبارہ باہر نکلا اور ان کے روم کی بیک سائڈ سے اسی اولڈ پلیس پہ چڑھ کر اندر جھانکا …اندر امی ابو دونوں بیڈ پہ نائٹی پہنے لیٹے ہوۓ تھے …موم… آپ کو کتنی بار کہا ہے کہ یہ عمر کے ساتھ ہو جاتا ہے … پھر آپ تو ٹینشن بھی بہت لیتے ہیں … آپکی یہ کمزوری ڈپریشن کی وجہ سے ہے اپنا علاج کروانے میں کوئی حرج نہیں …ابو … رضیہ بیگم کوئی رات ایسی ہے کہ جس میں اِس موضوع پہ بات نا ہو… دیکھو آج میں تمہیں کلیئر کر دینا چاہتا ہوں . . یہ میرا آج بھی اتنا ہی بڑا ہے جتنا سہاگ رات کو تھا اور باقی جہاں تک کھڑے ہونے کا سوال ہے تو تمہیں دیکھ کر کھڑا بھی ہو تو جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے … اس لئے پلیز یوں روز روز لیکچر مت دیا کرو…موم… میں جانتی تھی کہ آپ یہی کہوگے … مجھ سے دِل بھر گیا نا… رات رات بھر گھر بھی نہیں آتے… یقینا غیر عورتوں کے ساتھ …ابو … ہاں ہاں دِل بھر گیا تم سے اور میرا بس چلے تو اِس اسلام آباد میں کبھی بھی نا آؤں …تمہیں میں کم پڑتا ہوں نا تو جاؤ کوئی اور ڈھونڈ لو… اِس عمر میں بھی اپنی ذمے داریاں نبھانے کی بجائے اتنی گرمی چڑھی ہے نا تو بے شک باہر جا کر زنا کیا کرو… موم یہ سن کر رونے لگ گئی اور ابو ٹیبل لیمپ بند کر کے دوسری سائڈ پہ کروٹ لے کر سوگئےمیں یہ جانتا تھا کہ ابو اچھی طرح جانتے ہیں کہ امی میں باہر جا کر زنا کرنے کی ہمت نہیں لیکن ابو یہ نہیں جانتے تھے کہ کس طرح انکی بیٹی نے لن کی طلب میں اتنا بڑا فیصلہ لیا اور کس طرح ایک مشرقی عورت اگر بغاوت پہ اُتَر آئے تو پورے خاندان کا ستیاناس کر سکتی ہے … میں نہیں چاہتا تھا کہ میری ماں کا گھر سے باہر کسی کے ساتھ چکر چلے … وہ کسی مرد کے ساتھ حالت غیر میں پکڑی جائے یا زنا کرتی پھرے … مجھے اپنے آپ پر بہت غصہ آ رہا تھا کہ یہ سب جانتے ہوۓ کہ امی کس جذباتی دباؤ سے گزر رہی ہے میں اسکی بیٹی کے ساتھ رنگ رلیاں مناتا پھر رہا ہوں … میں اِس حقیقت سے واقف تو پہلے کا تھا لیکن حمائل کی جوانی کے نشے نے سب بھلا دیا تھا… خیر دیر آئد درست آئد … مجھے اب ایک بھائی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بیٹا ہونے کا فرض بھی نبھانا تھا…رات نیند بھی جیسے تیسے آئی صبح جاگا تو کافی پریشان تھا… حمائل حسب معمول صبح صبح میرے لن سے کھیل رہی تھی… وہ روز صبح جاگ کر میرے لن سے گپ شپ کرتی اور میں لن کو ہاتھ میں پکڑ کر کسی پتلے کی طرح ہلاتا اور لن کی طرف سے اسے اپنی وائس ٹون چینج کر کے جواب دیتا… یہ میری بہن کا دلچسپ مشغلہ تھا…حمائل ( میری ٹانگوں میں بیٹھ کر لن کے سامنے منه کر کے ) … پتا ہے شادی کے بَعْد سب عورتیں موٹی ہو جاتی ہیں … لیکن میں موٹی نہیں ھونا چاہتی اور اگر ہوئی نا تو اِس کے قصور وار تم ہوگے …میں اپنے خیالوں میں گم تھاحمائل ( تو لن ) … مجھے ایزی مت لینا یہ جو تم روز روز صبح صبح آکر کر کھڑے ہو جاتے ہو نا… سارے کس بل نکال دوں گی … میں کوئی معمولی عورت نہیں …میں ( لن پکڑ کر… نا چاہتے ہوۓ ) … معمولی نہیں کیوں تم کیا چوت سے سیٹیاں بجاتی ہو…حمائل ( لن سے … لن کو پیار سے پکڑ کر ) … . سیٹیاں تو نہیں لیکن اِس بانسری کو بہت اچھے سے بجاتی ہوں …یہ کہنے کے بَعْد حمائل اوپر اٹھ کر میرے سینے پہ سر رکھ کر لیٹ گئی اور بولی… . بھیا جانی اب جھوٹ مت بولنا یہ تو میں جانتی ہوں کہ آپ کسی بات پہ بہت پریشان ہو وہ بات کیا ہے اب خود بتا دو…حمائل کے میری سچویشن بھانپ لینے کے بَعْد کچھ بھی چھپانا بیکار تھا لہذا میں نے اسے سب سچ سچ بتا دیا اور میں امی کے بارے میں کیا سوچ رہا تھا وہ بھی بتا دیا…حمائل … بھیا آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے … میں کوئی سوتن برداشت نہیں کروں گی …میں … دیکھو وہ ہماری ماں ہے …حمائل … کوئی بھی ہو بھائی … میں اپنا سہاگ کسی کے ساتھ شیئر نہیں کر سکتی اپنی ماں کے ساتھ بھی نہیں …میں … حمائل بھولو مت تمہیں بھی میں نے تمھاری خوشی کے لیے چودا تھا… ورنہ مجھے لڑکیوں کی کمی نہیں …… اوہ تو آپ نے مجھے چودا تھا میں سمجھی آپ مجھ سے پیار کرتے ہو… حمائل کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے اور آواز بھی بھرا گئی … لڑکیوں کی کمی نہیں … ہونہہ … میں سمجھتی رہی کہ یہ آپ کی محبت ہے لیکن آپ نے تو مجھے ترس کھا کر چودا تھا… خوب نیکی کی آپ نے مسٹرعثمان … تمہیں پتا ہے کیا . . میں تم سے نفرت کرتی ہوں … یہ کہہ کر اس نے تکیہ اٹھا کر میرے منه پہ مارا اور اپنے کپڑے ہاتھ میں پکڑے ننگی ہی بیڈروم سے باہر چلی گئی … .سب کچھ بگاڑتا جا رہا تھا میں ماں کو بھی ہر حَا ل میں چود نا چاہتا تھا اور حمائل کی جدائی بھی قابل قبول نا تھی… حمائل اب میرے ساتھ نہیں سوتی تھی سونا تو دور کی بات… وہ بات کرنا بھی پسند نا کرتی تھی… کچھ دن یونہی گزرے امی کو بھی ہماری ناچاقی کا آئیڈیا ہو گیا . . انہوں نے پوچھا تو ہم نے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہے … یونیورسٹی اوپن ہوئی . . حمائل پہلے میرے ساتھ جاتی تھی اب اسے یا اسکی دوست پک کرتی یا وہ اپنی چھوٹی گاڑی لے جاتی… ایک دن مجھے یونیورسٹی میں امی کا فون آیا کہنے لگیں آج حمائل اپنی دوست کے ساتھ یونیورسٹی گئی تھی لیکن واپسی پہ اسکی دوست کی گاڑی نہیں آئے گی اس لئے تمہیں اسے اور اسکی دوست کو گھر ڈراپ کرنا ہے …میں حمائل کی یونیورسٹی پہنچا اسے اور نشا اور حنا کو پک کیا جب اسکی دوستوں کو ان کے گھر چھوڑ دیا تو حمائل کی طرف متوجہ ہوا … اس نے لائٹ بلو شلوار قمیض پہنی تھی ڈوپٹہ نہایت سلیقے سے سینے اور سر پر لیا تھا…میں … حمائل مجھے تم سے بات کرنی ہے …حمائل … او کے آئس کریم پارلر پہ گاڑی روکنا…میں نے گاڑی روکی اندر گئے اور جیسے ہی میں آئس کریم کا آرڈر دینے لگا حمائل نے مجھے منع کر دیا اور پھر کہا رکو تمہیں کچھ دکھانا ہے …3 لڑکے کاؤنٹر پر پیسے دے کر واپس جا رہے تھے … وہ ابھی کاؤنٹر پہ ہی تھے کہ حمائل نے بیٹھے بیٹھے ایک کو نہایت پھنسانے والی سمائل پاس کی… وہ لڑکا کچھ دیر ٹھہر کے ہمارے پاس سے گزرا اور ایک چٹ حمائل کے سامنے رکھ کر چل دیا . . اس میں یقیناََ اس نے اپنا نمبر لکھا ہو گا …یہ دیکھ کر میں آگ بگولا ہوگیا میں فوراً اٹھا کہ جا کر اس لڑکے سے جھگڑا کروں آخر اسکی ہمت کیسے ہوئی میری بہن کو لائن مارنے کی… میں جیسے ہی اٹھا حمائل بولی…حمائل … بیٹھ جاؤ … بیٹھ جاؤ میرے غیرت مند بھائی … یہ تو صرف ٹریلر ہے … کیا کہا تھا تم نے تمہیں لڑکیوں کی کمی نہیں … دیکھو تمھاری بہن کا کیا مقام ہے … میں تو بھرے شہر میں جس لن پہ ہاتھ رکھ دوں وہی میرا ہو جائے …میں خوب پچھتا رہا تھا… اس وقت غصے میں بڑا بول تو بول بیٹھا لیکن اب احساس ہوا کہ مجھے آج کی عورت کو نیچا نہیں دکھانا چاہیے تھا… اب با ل حمائل کے کورٹ میں تھی اور میرے پاس سرنڈر کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں تھی…میں … حمائلآئی ایم سو سوری مجھے تم سے یوں بات نہیں کرنی چاہیے تھی… تمھارا جذباتی ھونا جائز ہے لیکن تم بھی ذرا اِس بات کو سمجھو … تمھاری کچھ جسمانی ضروریات نے ہمارے درمیان اِس رشتے کو جنم دیا اور اگر میں یہ کہوں کہ امی کی وہی ضروریات ایک مدت سے پوری نہیں ہو رہیں تو کیا تمہارے دِل میں کوئی دَرْد نہیں ہو گا … تمہیں تو میری مدد کرنی چاہیے اپنی ماں کو سکھ دینے کے لئے … یقین کرو اگر امی کی جگہ ابو کو اِس سب کی ضرورت ہوتی تو میری خواہش ہوتی کہ تم اپنا بیٹی ہونے کا فرض نبھاؤ … ڈیئر تم میرے لیے ہمیشہ ہر ایک سے بڑھ کر ہو… پلیز اپنے بھائی کو معاف کر دو اپنے تو آخر اپنے ہوتے ہیں نا… اور جہاں تک سہاگ شیئر کرنے کی بات ہے تو ڈیئر نا یہ تمھاری اِجازَت کے بغیر ممکن ہے نا تمھاری مدد کے بغیر اس لئے تم اگر منع کر دو تو میں ایسا کچھ نہیں کروں گا … لیکن ایک پل کے لیے خود کو اپنی ماں کی جگہ رکھ کر سوچو . . کیا تم تکبر کا شکار نہیں کیا تمھارا تمہارے بھائی پہ حق ہے تو ایک ماں کا اپنے بیٹے پہ نہیں …. میری یہ ایومشنل بلیک میلینگ کام کر گئی اور حمائل میرا ہاتھ تھام کر بولی… ڈونٹ وری بھیا جیسے آپکو آپکی غلطی کا احساس ہوا ہے مجھے بھی اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے امی تو ہماری اپنی ہیں انکی خوشی میں میری خوشی ہے … میں خود اپنی سوتن کو اپنے گھر بیاہ کر لاؤں گی …(ختم شد)

کہانی آپ کو کتنی پسند آئی ؟

Click on a star to rate it!

Leave a Comment

Share to...