لاڈ سے پیار تک

5
(2)

Loading

نہیں امی نہیں میں پلین سے نہیں جانا چاہتی ” میں ٹرین سے سفر کرنا چاہتی ہوں میں نے منہ بسورتے ہوے امی کو بتایا جب انہوں نے کہا کہ تم ٹرین سے نہیں پلین سے کراچی جاؤ ؛ مگر کیوں , نوشی تم کو معلوم ہے ٹرین میں سفر کرنا آسان نہیں ہوتا اور پھر ١٨ گھنٹے اور وہ بھی تنہا اور کیا گارنٹی ہے کہ ٹرین ٹائم پر پہنچاۓ گی . ١٨ گھنٹوں کے ٢٨ گھنٹے نہ ہونگے ؛ امی مجھے کنونس کرتے ہوے بولیں . امی یہ میری دیرینہ خواہش ہے . ٹرین میں تنہا ایک لمبا سفر کرنا آپ اسے میری فنٹیسی سمجھ لیں پلیز آپ نہ مت کریں اور ابو کو بھی آپ نے ہی منانا ہوگا میں نے امی سے منت کرتے ہو کہا . ٹھیک ہے تم اپنی ضد نہ چھوڑو گی تو یہ بھی سن لو تمہارے ابو تمھیں اکیلا تو نہ جانے دینگے . انہوں نے کہا ہے کہ تمھیں بتا دوں کہ بائی ایئر نہ جاؤگی تو وہ ٹرین میں تمہارے ساتھ جا کر تمھیں اپنے سسرال چھوڑ کر آئیں گے . امی نے میری فنٹیسی کی ایسی کی تیسی کرتے ہوے بتایا . میں اپنے کو کچھ ٹائم دینا چاہتی ہوں خود اپنے ساتھ کچھ وقت رہنا چاہتی ہوں . یہ ایک المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ ہم اپنوں پرایوں غیروں بیگاونوں سب سے ملتے پھرتے ہیں مگر ہم خود آپنے آپ کو نہ ٹائم دیتے ہیں نہ کبھی ملتے ہیں نہ جانے کیوں میں خود اپنے آپ کے لئے اداسی فیل کر رہی تھی . چونکہ کراچی تو میں نے جانا ہی تھا تو کیوں نہ ٹرین پر ہی کراچی تک جاؤں اور 16- ١٨ گھنٹے اپنے ساتھ گزاروں . اسی لئے میں چاہتی تھی کہ ٹرین سلیپر میں جاؤں اور تنہا اپنے آپ سے ملوں – مگر مرے والدین بھی دوسرے والدین کی طرح وہم و گمان میں مبتلا رہتے ہیں ان کو اپنی اولاد کا زیادہ فکر رہتا ہے چاہے اولاد شادی شدہ ہی کیوں نہ ہو؛ کیونکہ میں اپنے ابو جانی کو اچھی طرح جانتی ہوں اس لئے مجھے ہار ماننا پڑی اور میں نے یہی بہتر سمجھا کہ گر ابو ساتھ جانا چاہیں تو بھی پلین سے میں نہیں جاؤنگی . میری شادی سکھر سندھ کے مضافات میں ٣ ماہ پہلے ہوئی تھی -٢ ماہ وہاں قیام کے بعد ایک ماہ پہلے میرے خاوند مجھے اپنے میکے میں چھوڑ گئے تھے . ہم لوگ پنجاب میں چکوال کے پاس ایک گاؤں میں رہتے ہیں اور میرے سسرال سندھ میں ہیں . میرے خاوند سردار ارمان حیات کے والد سردار کامران حیات اور میرے والد ملک نوازش علی آرمی آفیسر تھے اور دونوں میں اچھی دوستی ہو گئی میں اور ارمان نے ایک ٢ سال کے وقفہ کے ساتھ جنم لیا دودستی کو رشتہ داری میں بدلنے کے لئے انہوں نے ہم دونوں کی منگنی کر دی . جس کا مجھے علم نہیں تھا نہ ہی گھر میں کبھی اسکا ذکر ہوا . میں شروع ہی سے بیباک اور آزاد خیال و سوچ رکھتی تھی . میں ریٹای ڈ آرمی آفیسر کے گھر کے ڈسپلن سے تنگ تھی اور کالج جا کر میں باغی ہو گئی اور اپنی من مانی کرنے لگی- میں بے باک ہونے کے ساتھ ساتھ حسن و شباب میں بھی کم نہ تھی . کالج میں میرا شمار خوبصورت لڑکیوں میں ہوتا تھا اور دبے الفاظ میں مجھے سیکسی بھی کہا جاتا تھا . میں ہر کسی کے ساتھ فری نہیں ہوتی مگر مغرور نہیں ہوں حسین ہوں اور حسن پرست ہوں مجھے ادب سے بھی لگاؤ ہے اور شعر و شاعری سے بھی دلچسپی ہے . کالج کی بزم ادب میں اور دوسرے فنکشنز میں حصہ لینے کی بدولت میں جلد ہی اپنی پہچان بنانے میں کامیاب ہو گئی . میری شوخ طبیعت اور فطری دوستانہ رویے نے کئی لڑکوں کو غلط فہمی میں ڈال دیا – ہر کوئی مجھے اپنی دوست سمجھتا یا بنانا چاہتا مگر میں عاطف جو کہ سینئر سٹوڈنٹ تھا کی چاہت کا شکار ہو گئی اس کھلنڈرے سے خوبصورت نوجوان کو میں خوابوں کا شہزادہ بنا بیٹھی اور عاطف بھی میری طرف مائل اور میرا سائل نکلا . ہم میں دوستی ہوئی جو کہ محبّت میں تبدیل ہو گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے کالج میں نوشی ملک اور عاطف کی کہانیاں آئے روز کا ٹاپک بن گئیں – عاطف لاہور کا رھنے والا تھا جب کہ ہم راولپنڈی کلج میں زیر تعلیم تھے ایک بار وہ مجھے اپنے والدین سے ملوانے لاہور لے گیا اور اس کے والدین کا برتاؤ بہت حوصلہ افزا تھا – اور میں اپنے آپ کو اس گھر کی بہو سمجھنے لگی – لاہور جانے سے پہلے عاطف نے کئی بار تنہائ میں کچھ زیادہ بے تکلف ہونے کی کوشش کی مگر میں نے ہمیشہ اسکی حوصلہ شکنی کی تھی ہمیشہ ایک حد تک ہی اس کا ساتھ دیتی ؛ بوس و کنار لپٹنا لپٹانا تک ہی ہم رہتے وہ بھی اس لئے کہ یہ سب مجھے اچھا لگتا مگر اس کے والدین سے مل کر لاہور سے واپسی پر میں محتاط نہ رہ سکی اور ہم لذت و مزے کی لکیر کراس کر بیٹھے فورتھ ایئر سمر میں جب گھر اپنے پنڈ گئی تو امی نے بتایا گریجویشن کے بعد تمہاری شادی قرار پائی ہے – اس لئے محنت کرنا تاکہ کامیاب ہو جاؤ کیونکہ تمہارے ابو جلد سے جلد تمہارے فرض سے سبکدوش ہونا چاہتے ہیں . – امی نے جب میری منگنی کا بتایا تو میرا سانس اوپر کا اوپر نیچے کا نیچے رہ گیا . میں نے امی کو صاف صاف بتا دیا کہ میں شادی عاطف سے کرونگی ورنہ مر جانا پسند کرونگی . ارمان حیات کو نہ میں جانتی ہوں نہ ہی میں اس سے شادی کر سکتی ہوں کیونکہ میں عاطف کو پسند کرتی ہوں . امی نے سمجھانے کی کوشش کی مگر میں بھی اپنے باپ کی اولاد تھی یہ کیسے ممکن تھا کہ میں اپنے پیار کو صرف اس لئے کھو دوں کہ میرے والد نے ٢٠ سال پہلے اپنے دوست سے کوئی وعدہ کیا تھا . امی نے میرا دو ٹوک فیصلہ جاننے بعد بولا دیکھو ابھی کچھ کہنے کی ضرورت نہیں میں کوشش کرونگی کہ تمہارے والد کو سمجھا سکوں . مگر زیادہ پر امید نہ رہنا – میں سمر میں عاطف کے اپنے گاؤں میں آنے کی منتظر تھی کیونکہ عاطف نے بولا تھا کہ وہ اپنی امی کے ساتھ ہمارے گاؤں سیر کرنے آئیگا اور کچھ دن رہیگا . وہ علاقے کے مشھور مقامات کلر کہار کٹاس ٹمپل ؛ چوا سیدن شاہ ؛ دھربی ڈیم وغیرہ مگر عاطف نے پورے سمر کوئی رابطہ ہی نہ کیا . کالج کھلنے پر سب طالبعلم کالج میں آ گئے نیا سمسٹر سٹارٹ ہو گیا – مگر عاطف نہ آے یہ عاطف کا لاسٹ سمسٹر تھا – مگر اسکی کوئی خبر نہی کہ کس حال میں ہے کہاں ہے ؛ کسی کو بھی اس بارے کوئی علم نہ تھا میں کافی پریشان ہوئی اسکی خیر و عافیت کے متعلق میرے وہم و گمان پریشان کرنے لگے میں نے نیکسٹ ویکینڈ میں لاہور جانے کا پروگرام بنایا اور ٢ راز دار سہیلیوں کے ساتھ عاطف کے گھر لاہور گئی – تو اس کی امی نے بتایا کہ عاطف تو اپنے ماموں کے پاس لندن چلا گیا ہے کیونکہ اس کے ماموں کی بیٹی سے اسکی شادی ہو رہی ہے اس لئے اس کے ماموں نے اسے وہیں بلا لیا ہے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو سمجھ سکیں اور عاطف وہیں کالج میں ایڈمٹ ہو گیا ہے . . میرے پاؤں کے نیچے سے جیسے کسی نے ذمیں سرکا دی ہو . میری سہیلیوں کو میری اور عاطف کی محبت کا علم تھا وہ مجھے واپس راولپنڈی لے آئیں ؛ میں ایک ٢ روز تک کالج نہ جا سکی میں کافی پریشان تھی مگر عاطف کو میں کوئی الزام بھی نہ دے سکتی تھی کیونکہ ہمارے درمیان شادی کی کوئی بات ہی نہ ہوئی تھی اس نے مجھے نہ کبھی پروپوس کیا تھا نہ کوئی پرامس کیا تھا . بس وہ میرے حسن کی تعریف کرتا میرے انگ انگ پر اپنے ہونٹوں کے نشان ثبت کرتا اور میں مستقبل کے سہانے خواب دیکھتی رہتی . مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا . مجھے افسوس صرف یہ تھا کہ جانے سے پہلے عاطف مل کے تو جاتا یا اک چٹھی لکھ دیتا میرا ایڈریس تو اس کے پاس تھا – صرف اس وجہ سے مجھے عاطف پر غصہ آ جاتا . ورنہ میرے دل میں اب بھی اس کی محبت براجمان تھی . وہ صرف میرا محبوب ہی نہیں تھا بلکہ میرے جسم کی طلب بھی تھا . آہستہ آہستہ میں تعلیم میں دلچسپی لینے لگی اور آخری سمسٹر کے بعد میں اپنے گھر آئ تو میری شادی کی تیاریاں ہو رہی تھیں . نہ میں نے پھر امی سے اس بارے کوئی بات کی نہ امی نے عاطف کے بارے کچھ پوچھا . میں نے اپنے اپ کو حالات کے دھارے کے سپرد کر دیا احساس غم و خوشی سے بے نیاز ہو چکی تھی میری شادی ہوتی ہے یا پھانسی لگتی ہے مجھے کوئی فرق نہیں پڑنے والا اس سوچ کے ساتھ میں خاموش رہی . ٢٩ نومبر کو ارمان حیات کی برات بزریعہ پلین حیدرآباد سے راولپنڈی آئ . ہم نے اسلام آباد میں ان کے لئے انتظام کیا تھا اسی دن نکاح ہوا اور دوسرے دن میں ایک اجنبی کے ساتھ فلایٹ سے حیدرآباد پہنچی وہاں کسی وڈیرے نے برات کے لئے ظہرانہ رکھا تھا وہاں سے گاؤں جو کہ سکھر کے مضافات میں تھا آتے آتے رات کے ١٠ بج گئے . پروگرام کے مطابق ایک میٹنگ رکھی گئی جس میں میرا تعارف اہل خاندان سے کروایا جانا تھا ؛ سب سے پہلے تو میری ساس نے مجھے خوش آمدید کہنے کے لئے اور استقبالیہ جملے کہنے کے لئے لمبی تمہید باندھی اور سب خاندان والوں کو بتایا کہ ارمان کے مرحوم والد سردار کامران اور نوشین ملک کے والد ملک نوازش علی دونوں جگری دوست تھے . ارمان کے ابو اسکی پیدایش سے بہت پہلے ہی ریٹائرمنت لے لی تھی کیونکہ ان کے والد ارمان حیات کا انتقال ہو گیا تھا . مگر نوشین کے والد اور ارمان حیات کے والد کی دوستی میں کوئی فرق نہ آیا , ارمان حیات ہماری شادی سے ١٠ سال بعد پیدا ہوے اس کے ٢ سال بعد نوشین پیدا ہوئی تو دونوں دوستوں نے دوستی کو رشتہ داری میں بدلنے کا فیصلہ کیا – اس فیصلے کا خاندان میں مجھے علم تھا یا پھر نوشین ملک کے والدین جانتے تھے . ہم رابطے میں تو تھے ہی – جب مجھے معلوم ہوا نوشیں بیٹی گریجویٹ ہونے والی ہے تو میں پچھلے سال ان کے ہاں گئی اور بیٹے کی امانت مانگی تو اس طرح میں آج میں اپنے مرحوم سردار کی نظر میں سرخرو ہو گئی ہوں اور آج میں بہت زیادہ خوش ہوں پہلے میں بیٹے کی ماں تھی آج ایک بیٹی کی ماں بھی بن گئی ہوں . یہ کہتے ہوے وہ میری طرف بڑھیں تو میں اٹھ کر کھڑی ہوگئی اور آگے بڑھ کر ان کے پاؤں چھوئے تو انہوں نے مجھے بازو پکڑ کر سیدھا کیا اور میری پیشانی چوم کر ڈھیر ساری دعائیں دیں اور مجھے پھر ارمان کے پہلو میں صوفہ پر بیٹھا دیا . انکی تقریر سے میری معلومات میں کافی اضافہ ہوا . اس کے بعد ایک ٢ بزرگوں نے تہنیتی الفاظ کے ساتھ موہے خوش آمدید کہا اور پورے خاندان کو شادی کی مبارک دی – اخیر میں میرے خاوند سردار ارمان حیات نے سب کا شکریہ ادا کیا اور اپنی امی کی علاقے اور خاندان کے لئے خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور میرے لئے استقبالیہ جملوں کے بعد مجھے مخاطب ہو کر کہا کہ نوشین ملک حقیقت یہی ہے کہ ہم والدین کی خوآہش کی بدولت ایک ہوے ہیں اب اس کو ہمیں نبھانا ہے . میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے خاندان کی اور خصوصاً امی کی عزت اور مقام کا خیال رکھیں . آج سے اپ بھی اسی خاندان کا حصہ ہیں – گر کوئی شکایت ہو تو مجھ سے کہیں . میری طرف سے کوئی قدغن نہیں ہوگی . مگر امی جان کسی بات کو کرنے یا نہ کرنے کا کہیں تو ویسا ہی کرنا ہوگا . آج آپ میری بیوی اور عزت ہو . کل تک ہم ناواقف تھے آپ کون تھیں یا کیا کرتی تھیں اس سے مجھے کوئی غرض نہیں . میں کوئی روایتی وڈیرہ نہیں ہوں اور تعلیم یافتہ اوپن مائینڈ آزاد خیال ہوں . امید ہے ہم دونوں اس گھر خاندان اور علاقہ کو امی جان کے زیر سایہ مزید سنواریں گے – اس کے بعد محفل برخواست ہوئی اور مجھے میری ساس ٢ لڑکیوں کے ہمراہ ایک سجے سجاۓ کمرے میں لے گئیں اور میری پیشانی چوم کر کہا بیٹی آج ہم سب ہی تھک گئے ہیں اس لئے آرام کریں . پرسوں ولیمہ رکھا ہے . یہ کہ کر وہ چلی گئیں مگر میرے ساتھ میری ہم عمر ٢ لڑکیاں رہیں . جن سے مجھے کافی معلومات ملیں کہ میرے سسر علاقے کے بڑے زمیندار تھے مگر وہ بھی ارمان کے بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے اس وقت ارمان حیات ٥ سال کے تھے , اب سردار ارمان حیات علاقے کے سردار ہیں مگر وہ روا یتی وڈیروں سے ہٹ کر ہیں نہ وہ سیاست میں حصہ لیتے ہیں نہ ہی زمینداری میں ان کو کوئی دلچسپی ہے . نہ ہی انکو کچا گوشت کھانے کا شوق ہے وہ بزنس مائینڈ رکھتے ہیں اور پاکستان امارت یورپ ؛ افریقہ میں ان کا بزنس پھیلا ہوا ہے . جس کی بدولت انکو زیادہ تر باہر ہی رہنا پڑتا ہے . اصل میں زمینوں اور علاقے کو ان کی والدہ سردارنی خورشید بیگم سنبھالتی ہے اور علاقے میں ان کا ہی نام چلتا ہے . سردارنی خورشید بہت رعب داب والی خاتون ہیں جوانی ہی میں بیوہ ہو گئیں مگر اپنے اکلوتے بیٹے سردار ارمان حیات کی وجیہ سے دوسری شادی نہ کی اور یہی وجہ ہے کہ سردار ارمان حیات کے رشتہ داروں سے نہ صرف اسکی زمین جایئداد بچ گئی بلکہ سردار ارمان حیات کا وقار بھی قائم رہا . جس کے لئے بیٹا اپنی ماں کا ممنون بھی ہے اور احسان مند بھی اور اپنی ماں کی ہر بات کو حکم کا درجہ دیتا ہے . یہ سب مجھے ان لڑکیوں سے ہی معلوم ہوا جن کے نام زلیخا اور سمیرا ہیں . ورنہ میرے سسرال کے بارے ہمارے گھر میں کبھی کوئی ذکر نہیں کرتا انہی باتوں میں صبح ہوگئی – رات کو دیر سے سونے کی بدولت ناشتہ اور لنچ اکٹھا ہی ہوا انہی باتوں میں صبح ہوگئی – رات کو دیر سے سونے کی بدولت ناشتہ اور لنچ اکٹھا ہی ہوا اتنے میں امی ابو بھی آگۓ جس سے مجھے کافی حوصلہ ملا پھر کافی سے زیادہ ملنے والے آتے جاتے رہے . میری ساس سردارنی خورشید بیگم صاحبہ سب سے میرا تعارف کرواتی رہیں یوں شام ہو گئی – شام کے بعد مجھے پھر دلہن بنایا گیا , آج کی رات سہاگ رات تھی اور میں ڈر رہی تھی . نہ جانے سردار ارمان حیات مجھ میں کچھ نہ پا کر کیا قدم اٹھا بیٹھیں مجھے اپنے والدین کی عزت کا خیال تھا کہ ان سے کوئی ایسی ویسی بات نہ کر بیٹھے . جس طرح ارمان نے کل رات کو باتیں کی تھیں ان سے انکی شخصیت بڑی میچور بردبار اور مہربان ٹائپ کی لگی تھی – اس سے میں حوصلہ میں تھی – مجھے تھوڑی دیر بعد حجلہ عروسی میں لایا گیا – جس کو دیکھ کر میں ششدر رہ گئی . میرے ساتھ رات والی دونوں لڑکیاں کمرے میں رہ گئیں . میری امی اور ساس بھی کمرے سے چلی گئیں تھیں . کمرے کو دیکھ کے مجھے احساس ستانے لگا کاش میں اپنے آپ کو اس آنے والی گھڑی کے لئے بچا کر رکھتی . کاش ( کاش میں میرا جسم میری مرضی ) پر عمل کرنے کی بجاۓ میرا جسم جس کی امانت ہے اس کے حکم کے مطابق حقدار کے لئے بچا رکھتی . مجھے آج احساس ہو رہا تھا جسے میں اپنا سمجھ کر کسی اور کو لطف اندوز ہونے کا موقعہ دیتی رہی وہ کسی کی امانت تھی جس میں خیانت کی میں مرتکب ہوئی جس کا حساب مجھے آج دینا ہے – کاش میں نے آج کے لئے کچھ بچایا ہوتا تو میں غرور اور فخر سے بیٹھی ان گھڑیوں کا انتظار کرتی جن کے آج آنے سے میں خوفزدہ تھی . ” مگر اب کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت ” آنے والا وقت مجھے ڈرا رہا تھا اور میں کافی سٹریس میں تھی
وہ دونو لڑکیاں میرا دل بہلانے کے لئے جوک سناتی ؛ سہاگ رات کے بارے لطیفے سنا رہی تھیں اور خود ہی ہنس رہی تھیں . مگر صرف پھیکی مسکراہٹ ہی دے پاتی – رات کے ١١ بجے دروازہ نوک کیا گیا تو لڑکیاں دروازہ کھول کے باہر نکل گئیں . پھر تھوڑی دیر بعد ایک لڑکی دودھ کا جگ گلاس مٹھائی کا ڈبہ میز پر رکھ کر چلی گئیں . میرے دل کی دھڑکنیں تیز ہونے لگیں میں سوچنے لگی اس سے پہلے کہ مجھ سے پوچھا جاۓ یہ کیا ہے کاش اس سے پہلے مجھے موت آ جاۓ . میرا دل فیل ہو جاۓ – میں رو ئی تو نہیں میرا دل آنسو بہا رہا تھا – ہر لڑکی کو اس وقت کے لئے اپنے آپ کو بچا کے رکھنا چاہیے مگر جذبات کے ہاتھوں مجبور جھوٹھی تعریفوں کے آگے ہم لڑکیان بے بس ہو جاتی ہیں – سہاگ رات تو دل میں لڈو پھوٹتے ہیں نئی نئی امنگیں جسم میں جاگتی ہیں – مگر یہ ان دلہنوں کے لئے ہوتا ہے جنہوں نے اپنے ارمان پورے کرنے کے لئے اس وقت کا انتظار کیا ہوتا ہے اور اپنے ہونے والوں کی امانت کی حفاظت کی ہوتی ہے – کاش میں بھی ان میں شامل ہوتی تو آج میں اپنے خاوند سردار ارمان کو بڑے فخر سے شادی کا گفٹ دیتی . ان ہی سوچوں میں تھی سردار ارمان نے سلام کہا اور میرے ساتھ مسہری پر بیٹھ گئے . میں نے جب لڑکیاں گئی تھیں گھونگھٹ اتار دیا تھا . ویسے بھی کل رات سردار ارمان مجھے دیکھ چکے تھے اور باتیں بھی کر چکے تھے . میں تھوڑا سکڑ گئی تو انہوں نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا اور میری ٹھوڑی اٹھا کر حال احوال پوچھنے لگے ان کی مسکراہٹ بہت خوبصرت تھی , میں نے آنکھیں جھکا لیں . وہ بولے . ارے نوشین ملک صاحبہ سب ہی بول رہے تھے دلہن بہت خوبصورت ہے مگر آپ تو …….. اتنا کہہ کر وہ رک سے گئے اور پھر کہنے لگے آپ خوبصورت نہیں چشم بد دور بہت خوبصورت ہو اس کے ساتھ ہی میرے ہاتھ کی پشت پر انہوں نے بوسہ دیا جس کی حرارت مجھے سارے جسم میں محسوس ہوئی . میری پیشانی کو بوسہ دینے کے لئے وہ میرے قریب کھسک آئے اور میرے رخسار چومنے لگے . تمہاری آنکھیں بہت پیاری ہیں یہ کہہ کر میری دونوں آنکھوں پر انہوں نے بوسہ دیا اور انگھوٹے سے میرے نچلے ہونٹ کو کھجانے لگے پھر ” بولے آپ اتنی حسین ہونگی کبھی سوچا نہ تھا ” کہتے ہوئے انہوں نے اپنے دہکتے لب میرے ہونٹوں پر رکھ دئے ان کی گرم سانسیں میرے چہرے کو چھو رہی تھیں انہوں نے میرے ہونٹوں کو چومنا جاری رکھا اور میرے شانوں پر ہاتھ پھیرنے لگے . میں اپنی ہی سوچ میں تھی ڈر رہی تھی کہ آگے دیکھیں کیا ہوگا . سردار صاحب بہت رومانٹک لگتے تھے آج تو خیر انکی رات تھی ان کا حق بنتا تھا – کاش میں انکا ساتھ دے سکتی مگر میری کم مائیگی اور میرے دل کا چور مجھے آگے بڑھنے سے روک رہا تھا . میرے کانوں کے جھمکوں سے کھیلتے ہوئے انہوں نے میرا دوپٹہ میرے شانوں پر ڈال دیا اور میرے پراندے کو میرے اک ابھار پر ڈال دیا ؛ اور میری گردن کی پشت پکڑ کے میری گردن چومنے لگے مجھے اچھا تو بہت لگ رہا تھا مگر میرے اندر کا چور بے چین کر رہا تھا – میری ٹھوڑی اٹھا کر بولے ” میری جان چپ کیوں ہو کوئی بات تو کرو” , میں نے ان کی طرف دیکھا تو انکی آنکھوں میں طلب کا سندیسہ پایا . میں نے شرما کر نظریں جھکا لیں اور ان کا ہاتھ ہاتھ میں لے کر بولی . آپ باتیں کر جو رہے ہیں : میں باتیں کر رہا ہوں , کب کونسی باتیں! جان وہ حیر انگی سے بولے” . تو میں بولی . یہ جو کچھ بھی آپ کر رہے ہیں باتیں ہی تو ہیں ” ا وہ تو کیا خیال ہے یونہی بولتا رہوں آپ روکیں گی تو نہیں “. نہیں جی آپ کو میں روکون یہ کیونکر ممکن ہے – بس آپ یونہی باتیں کرتے رہیں ” اب وہ مسہری پر پوری طرح بیٹھ گئے اور میرے ہاتھ کو ہاتھ میں لے کر بولے “میری طرف دیکھیں ؛ نوشی جی” میں نے نظریں اٹھا کر انہیں دیکھا تو سٹپٹا کر رہ گئی اف انکی نظروں کی تپش مجھے ریڑھ کی ہڈی تک محسوس ہوئی میں نے نظر وں کو جھکا لیا تو انہوں نے میری ٹھوڑی کو پکڑ کر اوپر اٹھایا اور میرے ہونٹوں کو چوم کر بولے . نوشی جان میری آنکھوں میں دیکھو . انکی آنکھیں مجھ سے کچھ چاہا رہی تھیں ان کی طلب اتنی شدید تھی کہ میں شرما گئی اور اپنے آپ کو انکے بازوؤں میں گرا دیا وہ مجھے اپنے سینہ کے ساتھ لگا کر بھینچنے لگے مجھ پر جھک کر مجھے چومتے چومتے انہوں نے میرا دوپٹہ کھینچ کے الگ کر دیا اور گردن پر اپنے ہونٹ رکھ دئے اُف ان کے گرم ہونٹ مجھے خوار کرنے پر تلے ہوے تھے . وہ آہستہ آہستہ مجھے زیورات سے آزاد کرنے لگے جو زیور اتارتے اس جگہ کو چومتے پھر دوسرا اتارتے میں یونہی ان سے چمٹی ہوئی لطف اندوز ہوتی رہی انکا پیار کرنے کا انداز اچھا لگا – آہستہ آہستہ انہوں نے سب زیور اتار کر ایک طرف رکھا اور مجھے بولے فریش ہو کرآتا ہوں یہ کہہ کر وہ اٹھے اور اٹیچد باتھروم میں چلے گۓ . میں نے بھی باتھروم میں جانا تھا اس لئے دوپٹہ لے کر بیٹھ گئی وہ واپس آئے تو پاجامہ اور بنیان میں تھے مجھے دیکھ کر وہ سمجھ گئے میں فریش ہونے کے لئے بیٹھی ہوں تو باتھ روم کی طرف اشارہ کر کے بولے آل فار یو مائی سویٹ لیڈی اور میں تھینک یو کہہ کر باتھروم میں داخل ہوگئی . نوشی بانو اب بھگتو ؛ وقت آ پہنچا ہے جب سائیں حساب لیں گے . تو کیا جواب دوگی میں اندر ہی اندر خود سے سوال جواب میں لگی ہوئی تھی . میرے پاس مسئلے کا کوئی حل نہ تھا . جو چیز میں گنوا چکی تھی اسے کہاں سے لے کے آتی – میں نے دل ہی دل میں فیصلہ کیا کہ میری کوشش ہوگی نارمل رہوں کوئی اوور اکٹنگ نہ کروں – گر کچھ محسوس ہو تو تکلیف کا اظہار کروں میرا خیال تھا ہو سکتا ہے ارمان کا مال اسباب کچھ زیادہ بڑا ہوا تو ہو سکتا ہے کچھ درد تکلیف کا اظہار کر سکوں ورنہ میں ارمان کو بے وقوف بنانے کے لئے تکلیف یا درد وغیرہ کا تاثر نہ دونگی . باتھروم میں نائیٹی لٹکی ہوئی تھی میں نے پہن لی اور کمرے میں آگئی . سامنے ارمان باہیں پھیلاۓ کھڑے تھے سامنے ارمان باہیں پھیلاۓ کھڑے تھے میں مسکراتی شرماتی ان کے بازوؤں میں جا سمائی ارمان نے مجھے اپنے بازوؤں میں بھینچ لیا اور جھٹ سے مجھے اپنی گود میں اٹھا کر مسہری پر لٹا کر میرے ساتھ ہی خود بھی لیٹ گئے . مجھے اپنی جانب کھینچتے ہوے ارمان نے مجھ پر بوسوں کی بارش کر دی – آس پاس پھول ہی پھول بکھرے پڑے کمرے میں بھینی بھینی خوشبو سے فضا معطر تھی سماں بڑا رومانٹک تھا ارمان کا موڈ ارمان نکالنے کا دکھ رہا تھا میں اپنے انجام سے ڈری سہمی ارمان کا ساتھ دینے کا فریضہ ادا کر رہی تھی . ارمان نے میری نائیٹی کو کھولنا شروع کیا تو میں کسمسائی ارمان مسکرا کے بولے پلیز ؛ میں نے آنکھیں موند لیں میری نائیٹی اتار کے انہوں نے نیچے ڈال دی اب میں ایک باریک سی تھرو شمیض برہ اور پینٹی میں ارمان کی دسترس میں تھی . ارمان کی نظریں میرے سراپے پر اٹک کر رہ گئیں . میں نے انکی نظروں کو پڑھنے کی کوشش کی تو مجھے ان کی نظروں میں اپنے لئے چاہت پسندیدگی نظر آئی . ارمان مجھ پر جھکے اور میرے لبوں پر بوسے دینے لگے ان کے ہاتھ اب میرے جسم کو چھیڑنے لگے تھے اور میرے لب کو اپنے ہونٹوں میں لے کر چوسنے لگے ان کا ایک ہاتھ مری گردن پر اپنی انگلیوں سے کھجاتا میرے ابھاروں کو چھونے لگا اور ہولے ہولے انہیں دبانے لگا وہ کبھی میرے ایک ابھار کو دباتے تو کبھی دوسرے کو پھر انکا ہاتھ آہستہ آہستہ نیچے سرکنے لگا انہوں نے مری شمیض کو اوپر میرے پیٹ کی جانب اٹھانا شروع کیا تو میں نے اپنے بٹس اوپر اٹھاۓ تو قمیض اوپر کھنچ گئی اور ارمان میری ناف کو چومنے لگے وہ ناف کے ارد گرد میری بیلی پیٹ کو چومتے اور پھر اپنی زبان سے میری ناف کو کھجانا شروع کر دیتے مجھے یہ سب کچھ بہت اچھا لگ رہا تھا ؛ انکا ایک ہاتھ میرے مموں سے کھیل رہا تھا – انہوں نے میری ناف سے اوپر چومنا شروع کیا اور پھر شمیض اوپر کی جانب اٹھائی تو میں نے شمیض کو اپنے شانے اور تھوڑا سا سر اٹھا کر کھینچ کے اتار دیا میں اب صرف برہ اور پینٹی میں تھی . ارمان کی نظریں اپنے بووبز پر جمے دیکھ کر میں شرما گئی اور ان سے چمٹ گئی اس طرح انکو میری برہ اتارنے کا جواز مل گیا . وہ میرے مموں کو دیکھ رہے تھے اور ان کے ہونٹ انہیں چومنے کے لئے لرز رہے تھے . انہوں میرے ایک نپل کو چوما پھر دوسرے کو چوم کر اسے چوسنے لگے ان کا دوسرا ہاتھ میرے دوسرے ممے کو مسلنے لگا وہ کبھی ایک مما دباتے کبھی دوسرا انہیں چومتے چاٹتے . میں بے خود ہونے لگی مجھے بہت مزہ آ رہا تھا ان کا ہاتھ اب نیچے سرکنے لگا اور میری پینٹی کے اوپر ٹانگوں کے سنگم میں مساج کرنے لگا . میں نے ان سے سرگوشی کی کہ لائٹ آف کر دیں پلیز مجھے شرم آ رہی ہے ؛ ارمان فوراً اٹھے اور لائٹ آف کر دی واپس بیڈ پر آئے تو وہ اپنے پاجامے اور بنیان سے آزاد تھے کمرے میں کھڑکیوں کی درزوں سے آتی روشنی نے مکمل اندھیرا نہیں ہونے دیا تھا . ارمان آئے تو مجھے چومنے لگے میرے ہونٹوں کو چوستے انکا ایک ہاتھ میری پینٹی کے اندر گیا تو مجھے ایک جھٹکا سا لگا تو ارمان ہنس دئے ؛ پوچھنے لگے نوشی جان کیا ہوا ؛ میں خاموش رہی تو اپنے ہاتھ سے میری پینٹی کو نیچے کی طرف کرنے لگے جبکہ ان کے ہونٹ میرے ہونٹوں کو چوسنے میں مگن تھے , میں نے انکی مدد کی اور پینٹی کو کھینچ کر پاؤں کی مدد سے اتار پھینکا ان کا ہاتھ میری چوت پر گیا میں بے خودی سے ان سے چمٹ گئی انکی چھاتی کے بال میرے بووبز کو لگے تو مجھے بہت مزیدار جلول سی ہونے لگی میں اور شدت سے ارمان کے سینہ سے لپٹ گئی ان کا لن میری ران سے ٹکرا رہا تھا میں چاہ رہی تھی کہ اسے ہاتھ لگا کے دیکھوں انہوں نے شاید میری مراد جان لی تھی انہوں نے دھیرے سے میرے ہاتھ میں اپنا لن پکڑا دیا میری خواہیش کے برعکس وہ نارمل سا تھا میں چاہتی تھی کہ گر بڑا تگڑا اور موٹا ہوا تو میرا بھرم رہ جائیگا اسکی ٹوپی بھی اتنی موٹی نہ تھی کہ اندر لیتے کوئی تکلیف ہوتی ؛ میرے ارمانوں پر اوس پڑ گئی مگر کیا ہوسکتا تھا یہی میرا نصیب تھا . میری اس وقت ایک ہی خواہیش تھی کہ یہ وقت گزر جاۓ اور کسی طرح میرا بھرم رہ جاۓ . ارمان کی انگلیاں میری چوت سے چھیڑ جاری رکھی ہوئی تھیں شاید ارمان کو نازک اور مُلائم سی گڑیا کچھ زیادہ ہی اچھی لگی تھی تبھی تو جب سے اسے چھوا اس کے بعد ایک ہاتھ مسلسل اس پر ٹکا ہوا تھا کبھی اسکی مساج کرتا کبھی اس کی انگلیاں اس لکیر کو تھپتھپاتیں اس کا ایک ہاتھ میرے مموں کو مسل رہا تھا اور اسکے ہونٹ میری گردن گالوں ہونٹوں اور آنکھوں کو چومنے میں لگے ہوئے تھے اس کے والہانہ پیار کرنے کے انداز نے میری رہی سہی امیدوں پر بھی پانی پھیر دیا کیونکہ میں چاہتی تھی میں گیلی نہ ہوں تو کچھ بچت ہو سکتی ہے مگر اس کے ہاتھوں اور ہونٹوں نے مجھے صرف گیلا ہی نہ کیا بلکہ مجھے ایسا لگنے لگا جیسے میں ٹپکنے لگی ہوں – ارمان نے میرا ہاتھ پکڑ کے دوبارہ اپنے لن پر رکھ دیا . اسس بار میں نے لن کو ہاتھ میں لے کر ہولے دبایا تو ارمان کے منہ سے لذت بھری اف سی نکلی میں لن کو ہولے ہولے دباتی اس کی ٹوپی کو انگھوٹھے مسلنے لگی لیس دار مادہ میرے انگھوٹے سے چپک سا گیا میں نے انگھو ٹھے اور ساتھ والی انگلی سے اسے پونچھ ڈالا . اندھیرا ہونے کی وجہ سے لن کا رنگ تو نظر آیا مگر اسکی گرمی اور سختی سے ظاھر ہوتا کہ لن انگارے کی طرح سرخ ہو گا . چھوٹا تو تھا پر کھوٹا نہیں لگتا تھا . ارمان پہلو کے بل لیٹے ہوئے تھے انہوں نے مجھے اپنے سینہ سے لگا کر بھینچا اور میرے ہونٹوں کو چومنے کو ان کا لن میری رانوں میں جا ٹکا میرے چوت کے دانے سے مستی کرنے لگا ابھی تک میں نے ارمان کو خود سے نہ چوما تھا مگر لن جا چوت کے دانے سے ٹکڑایا تو مجھے مدہوش کر گیا میں بے اختیار ارمان کے بوسوں کا جواب دینے لگی . ارمان کے ہاتھ میری گانڈ کے ابھاروں پر پھر رہے تھے بہت محسووس ہو رہا تھا ارمان نے سر اٹھایا میرے آنکھوں میں دیکھتے ہو ئے شرارت سے مسکراۓ میں نے انکا پیغام دیکھ کر شرماتے ہوئے آنکھیں موند لیں انہوں نے میری پیشانی پر اپنے جلتے ہوے لبوں سے پیار کی ُمہر ثبت کی اور میری آنکھوں پر بوسے دیتے رخساروں کو گلنار کرنے لگے ان کا ایک ھاتھ میری چوت کے دانے کو مسلنے لگا میرا بدن مچلنے لگا وہ میری گردن کو چومتے ہوئے میرے مموں کو چومتے اور دباتے میری ناف کی جانب بوسے دیتے بڑھے پھر اپنی زبان کو میری ناف کے اندر گھمانے کے ساتھ چومنا شروع کر دیا . اب تک میں یہ نوٹ کیا تھا شاید ناف میں ارمان کو زیادہ دلچسپی ہے یا ناف ان کی کمزوری ہے – وہ ناف میں انگلی ڈالتے پھر پیار کرتے . ان کا دوسرا ہاتھ جو میری چوت کے دانے سے کھیل رہا تھا اب چوت کی لکیر سے کھیلنے لگا ارمان میری ناف کو چوم رہا تھا اب ساتھ ساتھ میری چوت کی لکیر کو دبانے لگا چوت کی لکیر تو کب سے رس رہی تھی اس کی انگلی اندر دھنس گئی ؛ ارمان نے آہستہ آہستہ انگلی کو چوت میں ڈال دیا اور آگے پپچھے کرنے جس سے میں بے قابو ہو کر مچلنے لگی میری برداشت کی قوت جواب دینے لگی . ارمان میں کافی صبر دکھتا تھا ابھی تک اس نے کوئی جلدی نہ دکھائی تھی – جس نے میری حالت پتلی کر دی تھی اب میں چاہتی تھی جو کچھ ہونا ہے جلد ہو جو آگ میرے بدن اور تن من لگ چکی تھی وہ جلدی سے کسی طرح ٹھنڈی ہو جاۓ ارمان اٹھ کر بیٹھے اور ساتھ ٹیبل پر رکھے دودھ سے بھرے جگ سے ایک گلاس میں دودھ ڈال کر مجھے دیا . میں نے کہا اپ لیں تو بولے نہیں آپ لو . اس طرح آپ حوصلہ میں رہین گی ., میں سمجھ گئی کہ ارمان کا خیال ہے کہ پہلی بار چدائی میں عورت کو درد ہوتا ہے اس لئے دودھ میرے لئے اچھا رہے گا – ہمارے معاشرے میں مختلف طرح کی سوچ اور خیالات ہیں سہاگ رات کے لئے . ارمان نے میرے سر کے نیچے سے ہاتھ ڈال کے مجھے اوپر اٹھا یا اور دودھ میرے منہ سے لگا دیا میں نے تھوڑا سا پیا مگر انہوں نے تھوڑا اور لینے کو کہا میں نے آدھا گلاس پیا اور گلاس ان کے ہاتھ سے لے کر ان کے منہ سے لگا دیا جو کہ ارمان نے بڑے شوق پی لیا . انہوں نے گلاس میز پر رکھا مجھے گلے سے لگا کر چومنے لگے اب وہ اپنے اپ کو روکنے سے قاصر لگ رہے تھے میں لیٹ گئی اور وہ میرے اوپر ہی آ گئے . بولے نوشی جان کیا خیال ہے اب کریں ؟. میں انجان بنتے ہوئے بولی کیا ؟ تو مسکرا کے بولے ” وہی جو میاں بیوی کرتے ہیں ” تو میں نے کہا کہ جب ہم میاں بیوی ہیں اس میں حرج ہی کیا ہے اور یہ کہہ کر میں نے اپنا بازو اپنی آنکھوں پر رکھ دیا . وہ مجھ پر لیٹے تھے مگر انہوں نے مجھ پر اپنا وزن نہیں ڈالا ہوا تھا . میرا بازو آنکھوں پر سے اٹھاتے ہوئے بولے ” نوشی جان ؛ گھبرانا نہیں مجھے بتا دینا میں جب رک جاونگا میں نہیں چاہتا تم درد برداشت کرتی رہو ؛ اس کے ساتھ مجھے چومنے لگے . میں نے کہا میں نے سہیلیوں سے سنا ہے درد تھوڑی دیر ہی ہوتا ہے اور اتنا زیادہ بھی نہیں ہوتا اس لئے میں اپ کو نہیں روکوں گی یہ کہتے ہوئے میں نے انہیں جپھی ڈال کر انہیں چومنے لگی
اس لئے میں اپ کو نہیں روکوں گی یہ کہتے ہوئے میں نے انہیں جپھی ڈال کر انہیں چومنے لگی ان کا لن میری رانوں میں ہی تھا انہوں نے میری ٹانگوں کو کھولا اور ان کے درمیان بیٹھ گئے . اور لن میری پھدی پر رکھ دیا مجھے یقین سا ہو گیا گرچہ وہ یورپ تک ہو آے ہیں مگر ابھی تک وہ اناڑی ہیں ممکن ہے پہلی بار کرنے لگے ہیں . وہ نروس سے لگ رہے تھے ؛ ان کے دل کی دھڑکن سنائی رہی تھی ان کی سانسیں الجھی ہوئی اور بے ترتیب تھیں . ان کا لن چوت کے دھانے پر تھا مگر وہ اسے اندر نہ کر پا رہے تھے – میں تھوڑا سا اوپر دباؤ ڈال کے لن اندر لے سکتی تھی ؛ میں نے اسے مناسب نہ سمجھا گرچہ میری چوت اسے اندر لینے کو بے تاب تھی – مگر میں کوئی ایسی حرکت کر کے اپنے لئے مزید مشکلات کھڑا کرنا نہ چاہتی تھی . وہ میرے ہونٹوں کو چبا رہے تھے اور میرے بازو ان کے شانوں پر تھے انہوں نے اٹھ کر اپنے لن کو ہاتھ میں لیا اور چوت پر پھسلانے لگے چوت کی رس نے لن کو بھی گیلا کر دیا انہوں نے لن کو چوت ا منہ رکھ کر دبایا تو لن کی ٹوپی اندر ہو گئی میں نروس سی ہو گئی انہوں نے میری جانب دیکھا تو مجھے گھبرایا ہوا پا کر لن چوت سے باہر نکال لئے اور مجھ پر جھک کر مجھے چومنے لگے میں بھی انہیں چومنے لگی لن اب بھی چوت پر ہی دھرا تھا انہوں نے یہ سمجھا تھا کہ میں اس لئے گھبر گئی تھی ٹوپی کے اندر جانے سے مجھے درد ہوا تھا .. مجھے خوشی کا احساس ہوا کہ مجھے اتنا کئیرنگ خاوند ملا ہے مگر اس احساس نے میری خوشی ملیا میٹ کر دی اس بیچارے کو کیسی بیوی ملی – ارمان نے تھوڑی دیر بعد پھر لن کو چوت پر رکھ کر دبایا مگر اس بار بڑے تحمل اور آہستگی سے اور لن کی ٹوپی اندر ہو گئی . میں نے ان کے ناف کے قریب ہاتھ رکھ کر روکا تو رک گئے – تھوڑی دیر بعد انہوں نے ہولے سے اور اندر کر لیا اور میں نے پھر ان کو رکنے کا اشارہ کیا تو انہوں نے لن تھوڑا پیچھے کھینچ لیا اور میرے ممے منہ میں لے کر چوسنے لگے – میری چوت میں لن نے ایک آگ سی لگا دی تھی ؛ کھجلی اسکی شدید رگڑ کی متمنی تھی – مگر میں بے بس تھی . ارمان بہت محتاط لگ رہے تھے . اور میں اسے اپنے حق میں بہتر سمجھ رہی تھی . اسی طرح وہ تھوڑا آگے کرتے اور میں انکی ناف کے پاس ہاتھ رکھ کے ان کو رکنے کا اشارہ دیتی اور رک جاتے . ان کا لن ٥ ساڑھے ٥ انچ کا ہی تو تھا کتنی دیر لگنا تھی . آخر کار پورا لن اندر کرنے میں وہ کامیاب ہو گئے اور مجھے چومنے لگے – میں انہیں چومنے لگی انہوں نے لن کو ہلانا چاہا تو میں نے سرگوشی کی تھوڑی دیر رک جایئں . وہ مسکراتے ہوے مجھے چومنے لگے وہ کبھی میرے ہونٹ چوستے کبھی میرے مموں کو ہاتھ میں لے کر نیپلز چوستے . تھری دیر کے بعد میں نے محسوس کیا مجھے لن کی ہلچل کی شدید ضرورت ہے کیونکہ چوت کی کھجلی نے مجھے خوار کر رکھا تھا میں نے ارمان کے بٹس گانڈ کو تھوڑا سا اپنے ہاتھوں سے دبایا تو ارمان نے لن کو ہولے ہولے پیچھے کھینچا لن کی ٹوپی جب رہ گئی تو میں نے پھر ہاتھوں سے ارمان کی گانڈ کو اپنی طرف کینچھا تو ارمان وہیں رک گئے اور پھر لن آہستہ آہستہ آگے کرنے لگے پھر تھوڑا رک کر ارمان نے لن کو ریورس کیا اور چوت کے دھانے پر آ روکا . مجھے مزہ تو آ رہا تھا مگر اب مجھے اچھے گہرے اور زور کے دھکوں کی ضرورت تھی میں چاہتی تھی ارمان کا لن میری چوت کو چیرتا پھاڑتا رگڑتا ہوا تیزی سے آگے پیچھے ہو کر چوت کو کھجآئے کیونکہ میری اب بس ہونے والی تھی . میں نے ارمان کی کمر کے گرد اپنی ٹانگیں جکڑ لیں اور اسکے بالوں میں ہاتھ پھیر کر اسے دیکھتے ہوے مسکرا دی . یہ ارمان کو بتانے کی کوشش تھی کہ درد کا دور گزر گیا اب کچھ کر گزر . ارمان نے بڑی تیزی لن کو اندر کیا اور پیچھے ہٹا تو میں نے اسکی کمر پر اپنی ٹانگوں سے دباؤ ڈالا . تو اس نے بڑی تیزی سے اگے دھکا لگا دیا یہ پہلا دھکا تھا جس نے میرے مزے کو دوبالا کر دیا میں چاہتی تھی ایسے چند ایک دھکے اور لگیں تو مجھے منزل پر پہنچا دیں گے . میں ارمان کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی جب بھی وہ دھکا لگا کر پیچھے جاتا تو میری ٹانگیں اس پر اگے دھکا لگانے کے دباؤ ڈالتین . اب ارمان نے چدائی سیکھ لی تھی اس لئے اس کے دھکے اور جھٹکے مجھے مزہ دینے لگے – ان کی سانسوں کی بے ترتیبی سے معلوم ہونے لگا کہ اب وہ آنے والے ہیں میں بھی قریب ہی تھی ان کے آنے کا سوچ کر میں بھی فارغ ہو گئی میری لذت بھری آوازوں نے ارمان کو مست کر دیا جس کی وجہ سے ان کی سپیڈ کافی سے زیادہ تیز ہو گئی آخر انہوں نے چند ایک جاندار جھٹکوں کے ساتھ ہتھیار پھینک دئے اور ان کا گرم لاوا میرے اندر گرا اور گرتا ہی گیا اس گرما گرم چھڑکاؤ نے میرے اندر جیسے ٹھنڈ ڈال دی ہو پہلی بار یہ تجرنہ بھی ہوا – عاطف ہمیشہ کنڈوم لگاتے تھے اس لئے پہلی بار اس گرم مواد کا مزہ ہی انوکھا لگا . عاطف پہلے تو مجھے دیکھتے رہے پھر میرے پہلو میں آ گرے انکی سانسیں میرے مموں کو ٹچ کر رہی تھیں اور آنکھیں موندے میں سوچ رہی تھی کہ نہ جانے ارمان میری خیانت جان پاۓ ہیں کہ نہیں . ارمان کے ہاتھ تھوڑی در بعد میرے مموں پر رینگنے لگے میں آنکھیں کھولیں تو ان کو مسکراتے ہوئے اپنی طرف دیکھتے پایا “جان اپ ٹھیک تو ہو ناں انہوں نے مجھ سے بڑے ہمدرد لہجے میں پوچھا ” تو مجھے ان پر بے ساختہ پیار آگیا . جی شکریہ ” میں نے تشکر آمیز لہجے میں جواب دیا . وہ مجھے گلے سے بھینچ کر پیار کرنے لگے میرے لب گال آنکھیں ٹھوڑی گردن پر بوسوں کی بارش کرتے ہوے انہوں نے پوچھا جان خوش تو ہو ناں ” . جی جانی بہت خوش بہت بہت خوش . ” اپ اتنے مہربان رہے ؛ ٹن اف تھینکس فار یور کائنڈ نس ” میں نے دل کی اتھاہ گہرایوں سے کہا تو بہت خوش ہوئے . مجھے کچھ کچھ تسلی ہونے لگی میں ان سے لپٹ کر اپنے پیار کا اظہار کرنے لگی وہ بھی میرا ساتھ دینے لگے . میرا خیال تھا دوسری بار تھوڑا کھل کر مزہ لونگی میں اٹھی اور ایک کپڑے سے جو بیڈ کی پائنتی پڑا ہوا تھا سے ارمان کا صاف کرنے لگی ان کا پہلی بار دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ گر عاطف کا نہ دیکھا ہوتا تو میرے لئے یہ بھی مونسٹر ہی هوتا . اچھا لگا ناٹ بیڈ ا ٹ آل . ان کا مواد چادر کو گلا کر چکا تھا میں نے اسی کپڑے سے اپنی چوت کو صاف کیا اور نائنٹی کو خود پر لے کر اسے اٹھاۓ باتھ روم گئی اور وہ کپڑا لونڈری کے کپڑوں میں ڈال دیا . پیشاب کر کے باھر نکلی تو الارم ہو رہا تھا ارمان نے اپنے پر چادر لی ہوئی تھی الارم ہوتے ہی وہ اٹھنے لگے تو ان کو اپنے برھنہ ہونے کا احساس ہوا وہ وہیں رک گئے رات کو انہوں نے اپنا پاجامہ نیچے ہی گرا دیا تھا مجھے دیکھ کر انہوں نے پاجامے کی جانب دیکھا تو میں سمجھ گئی اور پاجامہ اٹھا کر ان کو دیا . انہوں نے پاجامہ پکڑتے ہوئے میرا ہاتھ بھی پکڑ لیا اور کھینچ کر اپنے اپ پر گرا دیا میں ان کی گود میں جا پڑی وہ بیٹھ چکے تھے مجھے دیکھ کر انہوں نے میری پیشانی چوم کر کہا یو آر سو سویٹ اور میرا ہونٹ اپنے لبوں میں لے کر چوسنے لگے . میں نے بھی بھرپور ساتھ دیا دھیرے سے اپنی زبان میرے منہ میں ڈال کے میری زبان کو ڈھونڈنے لگے میں انکی زبان کو چوسنے لگی اچانک انہوں نے جھرجھری سی لی اور زبان میرے منہ سے نکال لی مجھے بوسہ دیتے ہوئے بولے اس سے پہلے کہ ہم بہک جایئں . الارم ہو چکا نماز کا ٹائم ہونے والا ہے میں فجر مسجد میں ادا کرتا ہوں یہ کہہ کر مجھے حیران چھوڑ کر وہ باتھ روم میں جا گُھسے – میں 100% تو مطمین نہ تھی پھر بھی مجھے یقین تھا کہ ارمان نے یا تو پردہ بکارت کو اگنور کیا ہے یا وہ سمجھ نہیں سکے یا ممکن ہے ان کو اس کی کوئی پرواہ ہی نہ ہو . بہر حال مجھے کچھ تسلی ہوئی تھی میں قدرت کی شکر گزار ہوئی جس نے پردہ پوشی کی اور میری لاج رکھ لی سوچا کہ ارمان کے مسجد جانے کے بعد میں بھی غسل کر کے سجدہ شکر بجا لاؤنگی . ارمان غسل کر کے نکلے اپنے کپڑوں کی الماری سے کپڑے نکال کے بدل کر مجھے دوسری الماری کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ اس میں آپ کے ڈریس ہونگے اور مجھے لپٹا لیا میں تو اب بہت خوش تھی .. بہت بڑا درد سر جو ختم ہوا تھا . ار ماں بولے آج ولیمہ ہے سارا دن مہمانوں اور دوستوں یاروں میں گزرے گا ار ماں بولے آج ولیمہ ہے سارا دن مہمانوں اور دوستوں یاروں میں گزرے گا دن میں بھی ملاقات تو ہوگی مگر رات کو ہم اکیلے مل سکیں گے – ارمان مسجد سے واپس آئے ان کو اسی روم میں بلا لیا گیا کیونکہ آج کا ناشتہ ہم دونوں کے لئے امی جان نے بنایا تھا . ناشتہ پر ارمان بڑے خوش گوار موڈ میں تھے خوشی ان کی باتوں سے باڈی لینگویج سے عیاں تھی – انکی باتیں کرنے کا انداز اور طبیعت بہت اچھی لگی انکی مسکراہٹ بڑی ظالم اور دل موہ لینے والی تھی .. ولیمہ کے دوران سارے خاندان کی پارٹی میں انکی ملنساری اور دوسروں کی آؤ بھگت کا انداز دل کو بہت بھایا – ولیمہ پارٹی کے درمیان ایک آدمی کا تعارف شیر خان سومرو کہ کر کروایا گیا – ارمان نے مجھے بتایا کہ ان کو اپ میرا گارڈین انکل یا رہبر سمجھیں ان کے ہوتے ہوئے ہمیں کسی قسم کی کبھی فکر لاحق نہیں ہوئی – وہ چالیس کے پیٹے میں ایک مضبوط کسرتی جسم کا مالک گندمی رنگت کے ساتھ ساتھ بڑی بڑی مونچھوں کے سندھ کا نمایندہ نظر اتا تھا – اس کے چہرے پر اس کی مونچھیں اور سرخ آنکھیں قابل ذکر تھیں اس نے ایک بزرگ کی طرح میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور ارمان سے اجازت لے کر چلا گیا . بعد میں ٢ ماہ میں نوٹ کیا کہ شیر خان ہمارے گھر میں اچھی پوزیشن رکھتا ہے ایک طرح سے زمیندارہ کا انچارج وہی تھا , ڈیرہ داری اسی کے ذمہ ہے . سردارنی اور ارمان کے بعد اسی کی چلتی ہے اسی لئے علاقے میں بھی اس کی مانی جاتی ہے اور اسکی واہ واہ ہے . ولیمہ ہو گیا .
دوسرے دن میرے ابو اور امی نے ارمان اور سردارنی صاحبہ سے پوچھا کہ نوشین کو ہم کب لینے آئیں تو ارمان ایک لسٹ اٹھا کر لے آے اور ابو کو تھماتے ہوئے بولے ” ابو جان مجھے یورپ جانا تھا کچھ دنوں تک مگر میں نہیں جا پاؤں گا . آپ یہ شیڈول دیکھ لیں یہ ایسی دعوتیں ہیں جو بہت ضروری ہیں . ان کو ہم انکار نہیں کر سکے اور یہ کوئی ٣٥ کے قریب ہیں ان کو بھگتاتے ٢ ماہ تو لگ جایئں گے . کیونکہ آخری دعوت پچاسویں دن بنتی ہے – ان دعوتوں میں نوشین کا موجود ہونا لازم ہے یہ ہمارا کلچر ہے مجبوری ہے . سردارنی نے کہا کہ ارمان کی پیدایش کے بعد یہ ہمارے گھر کی پہلی خوشی ہے . جن لوگوں نے ہماری دعوتیں کھائی ہوئی ہیں وہ اب کھلانا چاہتے ہیں . ان کو انکار کرنا نا ممکن تھا , جن کو ہم انکار کر سکتے تھے ان سے معذرت کر چکے ہیں – اس کے بعد ارمان کا پروگرام یہی ہے کہ نوشین کے ساتھ آپ کے ہاں آے اور وہاں سے یورپ چلا جاۓ نوشین ایک ٢ ماہ رہ کر واپس آ جاۓ . امی ابو نے کہا کوئی بات نہیں نوشین کا یہاں رہنا ضروری بنتا ہے – امی ابو دوسری صبح واپس چلے گئے میرے لئے سب کچھ نیا تھا مگر ارمان کا ساتھ اور ساس کی دلجوئی نے میرے لیے کچھ آسان کر دیا . نئی تہذیب رسم و رواج ملنے ملانے والے یہ سب کچھ ہی تو نیا تھا . پہلی رات جن ٢ لڑکیوں نے کمپنی دی تھی وہ گھر کے کام کاج نبٹاتی ہیں ان سے بھی وہاں کے لوگوں کو سمجھنے میں کافی مدد ملی – میری ساس سردارنی کی غیر حاضری میں انکو سردارنی کہا جاتا مگر ان کے سامنے بیگم صاحبہ کہتے تھے سب . بیگم صاحبہ دکھنے میں سردارنی بہت رعب داب والی نظر آتیں مگر انکی طبیعت بڑی نرم ملنسار اور ہمدرد ٹائیپ تھی – غریب پرور ہر ایک کی مدد کرنے کو تیار رہتیں – اسی لئے گھر میں ہر وقت کوئی نہ کوئی سوالی آیا هوتا – ارمان بھی د کھنے میں بڑے رعب داب والی پرسنالٹی ہیں دل کے بہت صاف , نرم اور سادہ مزاج ہیں – ٢ ماہ میں ایک بار بھی غصہ میں انہیں نہیں . دیکھا سیکس میں اتنی دلچسپی نہیں رکھتے نہ ہی اپنے آپ کو ماچو سمجھتے ہیں – شادی کرنے کے بعد جس طرح نئے جوڑے دن رات لگے رہتے ہیں وہ اس طرح کے نہیں ہیں . ہم لوگ ہر رات ہی سیکس کرتے تھے مگر وہ ہر رات پہلے میری رضا جانتے اور 5- ٧ بار ہم نے 2-٢ بار ایک رات میں کیا اس کے علاوہ صرف ایک بار تک ہی رہتے – دن میں میری ترغیب پر ٣ بار ٢ ماہ میں کیا – ہنی مون کے لئے ٹائم ہی نہیں مل سکا ایک رات ہم نے اپنی ہی زمینوں میں کمپنگ کی تھی – ایک بار سیکس کر کے بھی مجھے پورا مزہ ملتا ارگسم بھی کافی بار ہوا . میں محظوظ ہوتی رہی انکی کمپنی کا لطف ہی الگ تھا میں خوش رہی مگر کسی کمی کا احساس رہتا جیسے کوئی تشنگی پیاس سی ہو یا یہ میرا اپنا احساس جرم مجے ستاتا ہے مجھے کچھ سمجھ نہیں . خیر ٢ ماہ کے قیام بہت مصروفیت میں جلد ہی گزر گیا ارمان کو یورپ جانا تھا انہوں نے مجھے کہا کہ ہم وڈیرے اپنی پہلی اور من باپ کی من پسند بیوی کو اپنے ساتھ پھرانے نہیں لے جاتے اور آؤ میری پہلی بیوی ہو اس لئے میں چاہتے ہوے بھی آپکو ساتھ نہیں لے جاسکتا اس لئے دل میں کوئی خیال نہ رکھیں یہ بھی ہماری تہذیب کا ہی حصہ ہے . ہمارے ہاں پہلی بیوی کی پورا خاندان عزت بھی کرتا ہے اور ووہی اصل مالکن ہوتی ہے امی کے بعد اب آپ ہی اس گھر بار زمین جایئداد کی ملک ہو – میں انکی بات سمجھ گئی تھی اس لئے آمنا و صدقنا کہا – مری ساس نے مجھے کہا جتنا چاہو اپنے میکے رہ لینا یا جب ارمان آئیں تب آجانا ویسے جب بھی دل کرے یہ آپ کا اپنا گھر ہے گھر آجانا – ارمان مجھے میرے میکے چھوڑ گئے وہ ٢ دن اور ایک رات وہاں رہے – میرے والدین کے سامنے مجھے انہوں نے کہا نوشین میری امی ساری عمر تنہا رہیں ہیں , اب آپ ہی ان کو کمپنی بھی دے سکتی ہیں ان کی ہیلپ بھی کر سکتی ہو . اس لئے میں چاہتا ہوں آپ ایک ماہ سے زیادہ نہ رہیں اور واپس گھر چلی جایئں . مجھے واپسی میں ٦ ماہ بھی لگ سکتے ہیں اس سے پہلے بھی آسکتا ہوں اس لئے امی کو آپکی ضرورت رہے گی – میں نے اور میرے والدین نے ارمان سے کہا آپ فکر نہ کریں آج سے ایک ماہ بعد میں وہاں ہونگی ………………. اور آج ماہ پورا ہونے میں ٢ دن رہ گئے ہیں , مجھے کل جانا ہے – ابو کے ساتھ ٹرین پر جا رہی ہوں گھر پہنچتے پہنچتے ٢٤ گھنٹے تو لگیں گے ہی . جرنی بذریعہ ٹرین میرا ایک اور خواب پورا ہونے جا رہا ہے ” نوشین ؛ نوشین ؛ نوشی , کدھر ہو , امی مجھے بلا رہی تھیں ؛ مگر ان کی بات سننے کے لئے ان کے پاس جانے سے معذور تھی . کیونکہ میں غسل خانے میں ہیئر ریموور ( بال صفا کریم ) لگا کر بیٹھی تھی . ابھی ہی تو ان کو بتا کر آئ تھی کے میں غسل کے لئے باتھ روم جا رہی ہوں . شاید وہ بھول گئی ہوں . میں اپنی ہر طرح سے صفائی اور غسل کرنے کے بعد امی کی جانب جانے لگی تو میری طرف ہی آ رہی تھیں . کیوں امی کیا بات ہے ؟ اپ مجھے بلا رہی تھیں میں نے اپنے بھیگے بالوں کو تولئے سے خشک کرتے ہوئے پوچھا . نوشین ؛ تمھارے ابو کا فون آیا تھا . بات کرنا چاہ تھے .
جب میں نے بتایا کہ تم غسل خانے میں ہو تو انہوں نے بتایا کہ گاؤں میں کوئی فوتیدگی ہو گئی ہے اس لئے وہ کراچی نہ جا پائیں گے ؛ ان کو گاؤں جانا ہوگا میں بڑی خوش ہوئی کہ اب میں اکیلے سفر کر سکوں گی مگر امی نے یہ کہہ کر میری ساری خوشی غارت کر دی کہ انہوں نے تمہارے لئے پیغام چھوڑا ہے کہ یا تو پلین سے چلی جاؤ اگر ٹرین سے ہی جانا ہے تو پھر بابا دینو تمھیں چھوڑ ائیگا , میں بہت سٹپٹائی اور میں نے امی سے شدید احتجاج کیا کہ یہ بلکل نا انصافی ہے ؛ میں نے لاکھ پاؤں پٹخے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا – مگر ابا جان کے حکم کے سامنے میرا احتجاج بے سود تھا , مجھے چار و ناچار ان کی ہدایت کے مطابق ہی جانا تھا یا پلین پر جاتی یا اگر ٹرین پر جانا ہے تو پھر اپنے خاندانی ملازم بابا دینو کو ہمراہ لے جانا ہوگا – میں نے بھی اپنی ضد نباہی اور ٹرین پر جانے کا ہی فیصلہ کیا . اور بابا دینو کا ساتھ میں جانا برداشت کر لیا . دینو با با ہمارا آبائی تعلق علاقہ پوٹھوہار میں چکوال کے مضافات سے ہے – یہاں کی اکثریت آرمی میں سروس کرتی ہے . ہمارے آباؤ اجداد بھی آرمی سے منسلک رہے مرے والد آرمی افیسر ہی ریٹائر ہوئے تھے اسی طرح ان کے والد اور دادا بھی آرمی میں اچھی پوسٹس سے ریٹریڈ ہوئے اور انہیں ان کی خدمات کے پیش نظر جنوبی پنجاب میں کچھ اراضی زمینیں ملیں ہونگی . آج کل تو پلاٹ بھی ملتے ہیں ابا جانی کو جو ٢ پلاٹ ملے انہوں نے ایک بیچ کر دوسرے پر اسلام ابا د میں رہایش کے لئے ٹھکانہ تعمیر کر لیا جس میں آج کل ہماری رہایش ہے . چونکہ ہماری رہایش آبائی علاقے چکوال میں تھی . اس لئے جنوبی پنجاب میں اراضی ملی اس کی دیکھ بھال کے لئے وہاں کے ایک لوکل شریف با اعتماد خاندان کی خدمات لی گئیں جو کہ سہو کہلاتا ہے دینو بابا کے باپ دادا نے یہ ذمہ داری لی تھی اور ابھی تک وہی فیملی یعنی سہو فیملی ہمارے ہمارے لئے کام کر رہی ہے . دینو بابا بھی اسی فیملی سے ہے . ابا جانی سال میں ایک ٢ بار وہان جاتے رہتے ہیں – پانچ سال قبل جب ہماری رہایش اسلام آباد میں ہوئی تو گھر کے کام کاج کے لئے ایسے آدمی کی ضرورت محسوس کی گئی جو پکی عمر کا اور شریف النفس آدمی ہو ابا جانی گئے اور دینو کو لے آئے جس کی بیوی فوت ہو چکی تھی وہ ٦٠ سال سے اوپر ہے – محنت مزدوری بھی نہیں کر سکتا تھا – اس لئے ابو جانی نے دینو کا انتخاب کیا اپنے گیراج کے بازو میں اس کے لئے ایک کمرہ ود اٹیچڈ باتھ کے بنایا گیا کھانا وغیرہ اس ہمارے ساتھ ہی تھا . یہاں اکے وہ بہت خوش رہا کیونکہ وہاں اس کی بھابھیاں اس کا خیال نہ رکھتی تھیں – میں دنوں ہوسٹل میں رہ رہی تھی اس لئے میں ذاتی طور پر اسے بلکل نہیں جانتی ہماری اپس میں کوئی بات نہیں ہوئی ہوگی . اور آج اس کے ساتھ جانا ہے . ٹرین کا سفر میں نے نہ چاہتے ہوے بھی دینو بابا کے ساتھ جانے کا والدین کا فیصلہ مانتے ہوے اس کے لئے ا یک بیگ میں اس کے استمعال کے لیے کپڑے وغیرہ رکھواۓ اور سب کچھ تیار ہونے کا امی کو بتا دیا اب گھر سے نکلنے میں ٢ گھنٹہ رہ گئے تھے اور ابو کا انتظار تھا تاکہ ریلوے سٹیشن کی طرف نکلیں شام ٥ بجے ایکسپریس ٹرین کا وقت تھا . تھوڑی دیر بعد ابو آ گئے . دینو بابا نے سامان گاڑی میں رکھا . ابو نے ساتھ نہ جا سکنے کی مجبوری بتائی اور دینو بابا کو میرا خیال رکھنے کی ہدایت کی . اور امی ابو بھی ریلوے سٹیشن تک مجھے چھوڑنے آئے – راولپنڈی سٹیشن پر ٹرین کھڑی تھی دینو بابا نے قلیوں کی مد د سے سامان کمپارٹمنٹ میں رکھا . ہم سب کچھ دیر پلیٹ فارم پر ویٹنگ روم میں بیٹھے گپ شپ لگاتے رہے . امی ابو میں ہم سب ہی اداس تھے مگر اس کا اظہار نہ ہونے دے رہے تھے – امی تو بمشکل اپنے آنسو روکے ہوئے تھیں – ٹرین کی روانگی سے پندرہ منٹس پہلے ہم کمپارٹمنٹ میں آ گئے , ٢ برتھ سلیپر بڑا آرامدہ لگا , امی نے باتھ روم استمعال کرنے کے بعد بتایا کہ بہت صاف ستھرا اور اچھا بڑا ہے . اور لمبے سفر کے لئے انتہائی مناسب ہے . ١٠ منٹس کے بعد ٹرین نے تیاری پکڑی تو امی ابو مجھے مل کر روتے ہوئے ٹرین سے اتر گئے اور ٹرین رینگنے لگی میں کھڑکی میں بیٹھ گئی اور امی ابو دور تک ٹرین کے ساتھ ساتھ چلتے رہے . ٹرین نے سپیڈ پکڑی اور میں دور تک دھندلائی نظروں سے انکے ہلتے ہاتھ دیکھتی رہی ٹرین پلیٹ فارم چھوڑتے ہی تیز گام بن گئی – کافی دیر تک یونہی میں باہر خلاؤں میں گھورتی رہی اندھیرا پھیل چکا تھا – ٹھنڈی ہوا کے جھونکے نے مجھے اپنے گالوں پر نمی کا احساس دلایا تو آنکھوں سے آنسو اک بار بہہ نکلے . میں نے کمپارٹمنٹ میں نظر دوڑائی تو دینو بابا کو دیکھ کر چونکی , میں تو بھول ہی گئی تھی کہ کمپارٹمنٹ میں کوئی اور بھی ہے – دینو بابا سامنے والی برتھ کی بجاۓ دور ایک بکسے پر بیٹھا ہوا تھا . . میں نے کہا ” بابا دینو ادھر برتھ پر آ کر بیٹھ جاؤ ” مگر اس نے جواب دیا ” نہیں جی میں یہیں ٹھیک ہوں ” بی بی جی .؛ میں نے بھی اصرار نہیں کیا اور اک میگزین لے کر اسے دیکھنے لگی . اپنے ساتھ مطالعے کے لئے کافی میگزینز لے آئ تھی تاکہ راستے میں بور نہ ہوتی رہوں ٹرین سے انے کا مقصد تو خود کو ٹائم دینا اور تنہا رہنا تھا مگر ابو نے اپنا ساتھ پروگرام بنا ڈالا پھر بابا دینو کو ساتھ بھیج کر میرے پروگرام کو یکسر بدل دیا . میں تقریبن ایک گھنٹہ کے بعد اٹھی اور باتھ روم میں داخل ہو گئی تاکہ کچھ فریش ہو جاؤں . دینو بابا باتھروم کے سامنے ہی بیٹھے تھے – میں نے اسے کہا ” بابا چاہے لینی ہے تو لے لو ” اور میں باتھ روم میں داخل ہوگئی . دروازے کے سامنے ہی ایک ہاتھ منہ دھونے کے لئے سنک اور اس کے اوپر بڑا سا آئینہ لگا ہوا تھا اور ساتھ ہی ٹایلیٹ اور اسکے ساتھ ہی ایک باتھ روم تھا سب کچھ صاف ستھرا دیکھ کر مجھے بہت اچھا فیل ہوا . میں باھر نکل کے روزمرہ شام کا لباس ( جو کہ پاجامہ اور ٹی شرٹ پر مشتمل تھا ) لے کر باتھروم میں آگئی اور فریش اپ ہو کر پنٹ اور شرٹ اتار کے برہ اور پینٹی رہنے دی اور اوپر پاجامہ اور ٹی شرٹ پہن لی کپڑے چینج کر کے میں باہر نکلی اور بیگ سے کومب کنگھا لے کر آئینہ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی زلفیں سنوارنے لگی آئینہ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی زلفیں سنوارنے لگی – زلفیں سنوارتے سنوارتے یونہی آئینہ میں دیکھنے لگی کہ اچانک میرا دھیان آئینہ میں اپنے پیچھے کی طرف گیا جہاں بابا دینو ایک باکس کو کرسی بنا کر بیٹھ ہوا تھا . مجھے کچھ حیرت سی ہوئی کہ بابا میری ہی طرف دیکھ رہا تھا اور اسکی نظروں کا نشانہ میری پیٹھ اور گانڈ کی گولائیآں تھیں . میں نے سوچا دروازہ بند کر دوں مگر اس کی اشتیاق بھری نظروں کو دیکھ کر سوچا کچھ دیر دیکھوں تو سہی حضرت کس سوچ میں ہیں . . میں آئینے میں چوری انکھیوں اسے دیکھ رہی تھی مگر وہ نظارے میں گم تھا اسی لئے اس کو احساس ہی نہ ہوا کہ میں اس کی چوری پکڑ چکی ہوں میں اس کی طرف پیٹھ کر کے کھڑی تھی مگر آئینہ میں اسے ہی جانچ رہی تھی . وہ اپنی دھن میں مگن میرے کولہوں کے نشیب و فراز میں پلک جھپکے بنا گم تھا – چائے کا کپ اس کے ہاتھ میں تھا مگر وہ سپ لینا بھی بھول چکا تھا کبھی ایسا سوچا بھی نہ تھا بابا دینو ایسی حرکت کر سکتا ہے مگر اب میں خود دیکھ رہی تھی کہ بابا کس حرکت کا مرتکب ہو رہا ہے . خیر میں اسے الزام نہ دونگی کیونکہ مجھے علم ہے کہ میرے بٹس جان لیوا ہیں کالج یونیورسٹی میں بہت کچھ ان کے بارے سنا تھا اور کمپلمنٹس وصول کئے ہر لڑکا میرے کولہوں کا شیدائی تھا . عاطف تو خیر دیوانہ تھا ان کا مگر دینو سے ایسی کوئی امید نہ تھی – میرے والدین نے اس پر اعتماد کر کے میرے ہمراہ کیا تھا . میں آئینے میں ہی بابا دینو کا جائزہ لینے لگی سچ تو یہ ہے آج تک میں نے کبھی دھیان ہی نہ دیا تھا کیونکہ ان سے کوئی واسطہ تھا نہ کوئی غرض . میں وہیں آئینہ کے سامنے کھڑے بابا کو غور سے دیکھنے لگی – ٦٠ -٦٥ کے لپیٹے میں گندمی رنگت مضبوط شانے اور کشادہ پیشانی کسرتی تقریبا ٦ فٹ قد سفید مونچھوں اور ٹریمڈ داڑھی لمبا ناک اور قدرے موٹے ہونٹ کے ساتھ اک نئی شخصیت میرے سامنے تھی اپنے عاجزانہ اور مؤدبانہ رویہ کی بدولت اس نے میرے والد کا اعتماد حاصل کیا ہوگا – میں سوچوں میں ڈوب گئی – سیانے کہتے ہیں اک کمرے میں عورت مرد اکیلے ہوں تو شیطانی گمانوں اور نفسانی تراغیب سے اپنے اپ کو مشکل سے بچا پاتے ہیں – اب کافی دیر ہو گئی تھی ٹرین کسی جنکشن پر رکی تو میں نے بابا دینو کو بولا کہ نیچے جا کر کھانا گرم کرا لاے . امی نے بہت کچھ بنا کر ساتھ دے دیا تھا کہیں پلیٹ فارم سے جنک فوڈ ہی نہ کھاتی رہوں . کھانے کے بعد ہم نے چائے لی – چا ہے پی کر میں ٹیبل پر کپ رکھا تو دینو نے اپنا اور میرے والا کپ اٹھایا اور باتھروم میں لے جا کر انکو صاف کر کے واپس بیگ میں رکھا تو میں نے دینو کو بولا کہ ” بابا پانی بہت اچھا نیم گرم ہے آپ نہا لو اور سو جاؤ ” تو وہ بولے کہ ” بی بی جی میں گھر سے نہا کر ہی چلا تھا ” تو میں بولی اچھا میں تو نہانے لگی ہوں تاکہ نیند اچھی آئے . اور باتھ روم میں چلی گئی , ویسے تو کھانے کے بعد میں شاور نہیں لیتی مگر آج یونہی موڈ بن گیا تھا اک نامعلوم سی الجھن سی تھی جسے میں سلجھا نہیں پا رہی تھی – یوں شاور کے نیچے کھڑی میں ٹائم پاس کرنے لگی – مجھے کوئی بھی الجھن پریشانی ہوتی ہے تو میں شاور لینے لگتی ہوں تو کوئی نا کوئی حل نکل آتا , مگر آج بیچینی کا سبب ہی سمجھ نہیں آ رہا تھا تو حل کیا نکلتا – میں نے خیال کیا کہ کہیں دینو ہی میری پریشانی کا سبب تو نہیں – آج شام کے بعد بابا دینو کو اپنی جانب دیکھنا ہی غضب ڈھا گیا تھا شاید . عورت توجہ کی بھوکھی ہوتی ہے ایک ٢ کمپلیمنٹس عورت کے دل میں گھر کر جاتے ہیں , عورت چاہے جانے کی محتاج ہوتی ہے اور اگر کوئی توجہ دینے والا نہ ہو تو عورت دلبرداشتہ ہو جاتی ہے اور دنیا اور زندگی میں اسکی دلچسپی براۓ نام رہ جاتی ہے . جیسے ارمان کے ساتھ ٢ ماہ رہنے کے دوران ہر دوسرے تیسرے دن جسم کے غیر ضروری بال میں ضرور صاف کرتی رہی کیونکہ کسی کی توجہ درکار تھی . مگر ارمان کے دور جانے کے بعد ایک مہینہ کے بعد مجھے انہیں صاف کرنے کا خیال آیا اور آج ہی لنچ سے پہلے میں انکو ریموو کر سکی . بابا دینو کا اپنی طرف غور سے اور بڑی دلچسپی سے دیکھنا اور اسکی ستائشی نگاہوں نے میرے اندر کی عورت کو نادانستگی میں جگا دیا تھا اور اب میری تمنا تھی کہ وہ مجھے توجہ دیے رکھے . اب شاور کی بدولت الجھن کا سبب تو جان چکی تھی اب آگے کیا کرنا ہے کہ دینو مجھ میں دلچسپی لیتا رہے یہ سوچنے کی بات تھی – میں کوئی غلط حرکت کی مرتکب نہیں ہونا چاہتی تھی کہ ارمان کے جذبات کو ٹھیس لگے , میرے دل میں اسکا احترام تھا اور رہے گا . – عاطف سے مجھے محبت تھی اس کے ساتھ گزرا وقت مجھے اکثر بچیں کر دیتا ہے مگر ارمان کے ساتھ گزرے وقت کو میں کبھی مس نہ کر سکی . پہلے پہلے مجھے لگا کہ ارمان سے محبت کرنے لگی ہوں مگر وہ محبت نہیں احترام ہے جو کہ میرے دل میں اس کے لئے ہے اور یہ تو ہمیشہ رہے گا . انہی سوچوں نے مجھے اک دوراہے پر لا کھڑا کیا دل چاہتا کہ کچھ دل لگی ہو جاۓ اور کچھ نہیں تو تھوڑا بہت فن ہی سہی مگر میرا ضمیر اس قسم کے فن کے لئے اجازت دینے پر بلکل تیار نہ تھا . ہزاروں اخلاقی دلائل اس نے دے ڈالے اس سے پہلے کہ میں اس کی مان لیتی مرے دل نے اپنے دلائل کے ساتھ میرے خیلوں پر حملہ کر دیا – دل کی مان لیںنے کا سوچنے لگی کہ ضمیر صاحب پھر آ وارد ہوئے میں کنفیوز سی ہو گئی کہ کیا کروں کیا نہ کروں – میں نے شاور بند کیا اور سوچنا بند کر دیا میں نے پینٹی برا کو رہنے دیا اور بھیگے بدن پر پاجامہ اور ٹی شرٹ پہنی اور باتھروم کا دروازہ کھول کے آئینہ کے سامنے کھڑے تولئے سے بال خشک کرنے لگی آئینہ میں دینو بابا نظر آ رہا تھا اور اسکی نظریں پھر میرے بٹس پر ٹکی تھیں اب کے اک تو پینٹی نہیں تھی دوسرا پاجامہ ہلکا ہلکا گیلا اور جسم کے ساتھ چمٹا ہوا تھا اس لئے اسکی آنکھیں کچھ زیادہ ہی پھیلی ہوئی تھیں میں دل ہی دل میں محظوظ ہونے لگی اور اسوچنے لگی اس عمر میں یہ دیکھ کے خوش ہو لیتے ہونگے کیونکہ کچھ کر سکنا تو ان کے بس کا روگ نہیں . مگر سنا ہے کہ مرد اور گھوڑا کبھی بوڑھا نہیں ہوتے

بابا ڈینو کچھ بچین سا لگنے لگا – میں جب ایک جانب جھک کر بالوں کو جھٹکتی تو وہ بھی اسی جانب شاید نادانستگی میں جھک جاتا اب کے میں نے اپنی زلفیں اپنے شانوں پر ڈالیں تو میں نے دیکھا اس نے ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھ دی ہے – میرے ذہن میں فورا اک سوال کیا اس کا کھڑا ہو گیا ہے جسے یہ چھپانے کی کوشش کر رہا ہے اس شیطانی سوچ کے آتے ہی میرے دل میں اسے دیکھنے کی امنگ اٹھی کہ کیسا ہوگا اس کا سائز کیا ہوگا سخت ہو گا یا ڈھیلا ؟ – کچھ خیال آتے ہی میں خود کو ملامت کرنے لگی کہ میں کیا سوچ رہی ہوں کچھ مان مریادہ ہوتی ہے . میں تھوڑا سا شرمندہ ہوئی اور باھر اکر اپنی برتھ پر بیٹھ گئی میں نے دینو کی طرف دیکھنے کی بجاۓ مگزیں اٹھایا اور اوراق پلٹنے لگی میں نے خود سے کہا بس بہت فن ہو گیا اب سونا چاہیے ؛ میں نے بابا دینو سے کہا ” بابا اپنی برتھ پر آجاؤ اور سو جاؤ – وہ اٹھ کر باتھ روم چلا گیا اور میں پیٹ کے بل لیٹ کر مگزین پڑھنے لگی الٹا لیٹ کر مطالعہ کرنا میری عادت ہے کچھ دیر بعد دروازہ کھلنے کی آواز آئی – دینو کی انتظار کرنے لگی . کچھ دیر دینو برتھ پر نہ آیا تو اٹھ کے دیکھا تو مجھے ہی تا ڑ رہا تھا میں نے اس کو بولا ” بابا دینو ادھر برتھ پر آ کے سو جاؤ اور خود پہلو کے بل لیٹ گئی جس سے میرا بٹ زیادہ نمایاں ہو گیا – میں نے کنکھیوں سے دیکھا تو دینو کی نظروں کو اپنے بووبز پر مرتکز پایا میں بنا برا ؛ بریزیر کے تھی ٹی شرٹ کے اوپر کا بٹن کھلا تھا اس لئے مرے ابھار کافی حد تک دیکھ رہے تھے جو کہ دودھیا کلر کے ہیں – اس کا یوں بے باکی سے دیکھنا مجھے حیران کر گیا . سوچنے لگی کوئی جوان ہوتا تو اب تک اس اکیلی لڑکی سے فیضیاب بھی ہو چکا ہوتا . میں نے دینو کی طرف دیکھا تو اس نے نظریں چُرا لیں اور اپنی برتھ پر بیٹھ گیا جو کہ میری برتھ سے بمشکل ٢ فٹ دور ہوگی – ہماری برتھز آمنے سامنے تھیں اور ان کا درمیانی فاصلہ ٢ فٹ ہوگا میں میگزین دیکھنے لگی اور میرا اک ہاتھ دانستہ یا نادانستہ میرے گریبان کے کھلے بٹن سے کھیلنے لگا . میں کبھی بٹن بند کر دیتی کبھی کھول دیتی جس سے میرے ابھار ہلتے میں نے دیکھا کہ دینو چور نظروں سے کبھی میرے بووبز کی طرف دکھتا کبھی میرے کولہے دیکھتا . میرا ہاتھ بٹن کو چھوڑ کر میرے کولہے پر رینگنے لگا . میں یہ ایسا کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ بے ساختہ لگے خود ساختہ نہیں یونہی ہاتھ پھیرتے پھیرتے میرا ہاتھ رانوں کی اندرونی طرف بھی پھر جاتا – میں نے بابا دینو کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں سمجھی کیونکہ اس کی سانسوں کی ہلچل مجھے سنائی دے رہی تھی . میں نے ٹانگیں ذرا کھول دیں انڈرویر یا پینٹی نہ ہونے کی وجہ سے دیکھنے والا کچھ نہ کچھ کر دیکھ کر اندازہ لگا سکتا تھا اور شاید دینو بابا کو کوئی اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ فورا اٹھ کر کھڑا ہوگیا اور میری نظر اس کے ابھار جا ٹکی . وہ جلدی سے باتھروم کی جانب بڑھا اور میں اسکی بے بسی پر مسکرا دی . پھر اپنے اپ کو سمجھانے لگی اب بہت ہوگیا لائٹ اف کر کے سو جاؤ اور کوئی شرارت نہیں ہوگی .ok بوس میں نے خود سے کہا اور مگزین ٹیبل پر رکھی اور چادر اپنے اوپر لے کر سونے کی تیاری کرنے لگی – اتنے میں دینو بابا باھر نکل آیا تو میں نے اسے کہا ” دینو کمپارٹمنٹ کے دروازے کے باھر جو تختی لگی ہوئی ہے اسے الٹا کر کے دروازہ لاک کر آؤ . نہیں رہنے دو میں خود دیکھ لیتی ہوں .. سوچا کہیں ایسا نہ ہو ڈونٹ ڈسٹرب کو ہی الٹا آئے – شام کو ہمارے ٹکٹ چیک ہو چکے تھے – میں نے دروازہ کھولا اور ڈونٹ ڈسٹرب کا سائن سیدھا کر کے لائٹ آف کی اور اپنی برتھ پر لیٹ گئی – دینو بھی اپنی برتھ پر لیٹ گیا اور پیٹھ میری طرف کر کے سونے لگا . میں خود کو سمجھانے لگی اچھا کیا ہے بُرا کیا ہے ؛ ہر دلیل کے بعد میں ایک کروٹ لے لیتی آخر میں نے ہار مان لی اور خود سے وعدہ کر لیا اب سو جاؤنگی اور نو ہینکی پھینکی . میں نے کروٹ لی سونے کی try کرنے لگی مگر نیند آنکھوں میں ہوتی تو اتی ویسے بھی ٹرین کی کھٹ کھٹ کہاں سونے دیتی میں کروٹ پے کروٹ لیتی رہی رات کے گیارہ بج چکے تھے – میں اٹھ کر بیٹھ گئی دینو بابا پیٹھ کئیے ھوے لیٹا تھا . سویا ہوا وہ بھی نہیں لگتا تھا . میں اٹھ کر باتھ روم گئی مجھے پی لگا تھا – کرنے کے میں نے ٹشو سے صفا کیا تو نجھ ہونی پھدکنے لگی میں نے سوچوں کے دروازے بند کر دئے اور کچھ کر گزرنے کی ٹھان لی – سچ تو یہ ہے کہ میں خود کو دھوکھا دے رہی تھی ورنہ اندر اندر سے میں جسم کی بھوکھ اور پیاس بجھانے کا پختہ ارادہ کر چکی تھی . میں باھر نکلی تو دینو نے کروٹ لی ہوئی تھی اب اس کی پیٹھ دیوار کی جانب تھی اسکی آنکھیں بند تھیں مگر وہ سویا ہوا نہ تھا – میں اگے بڑھنے لگی پھر رک گئی “نوشی سوچ لو غلط قدم اٹھ جاۓ تو اسکی منزل نا معلوم ہی رہتی ہے ” میں نے جیسے سنا ہی نہ ہو – کندھے اچکا کر آگے بڑھی اور میں اب دونو برتھز کے درمیان کھڑی فیصلہ کر رہی تھی کہ اپنی برتھ پر جاؤں یا دینو کے اگے جا کر لیٹ جاؤں میں اسی ادھیڑ پن اور شش و پنچ میں الجھی ہوئی کسی بھی فیصلے تک پہنچنے نہیں پا رہی تھی . میں یہ جانتے ہوے بھی کہ یہ ایک غلط قدم ہے جو ایک بار اٹھ گیا تو پھر رکنا مشکل ہوگا مگر میں ایسا کرنے پر مجبور ہوی کیونکہ میرا اپنا نفس مجھے میرے بدن کی ضرورت کا احساس دلا رہا تھا – میرے جذبات مرے قابو سے باھر ہو رہے تھے . میری ٹانگیں کانپ رہی تھیں دل کی دھڑکنیں دور تک سنائی دے رہیں تھیں . میں نے اک نظر بابا دینو کی طرف ڈالی تو اسے اپنی جانب دیکھتے ہوے میں نے خجالت سی محسوس کی اور اپنے برتھ کی طرف بڑھی مگر دینو نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ؛ میں حیرت سے اس کی طرف دیکھنے لگی وہ مجھے ہی دیکھ رہا رہا تھا میں نے ہاتھ چھڑانے کی براۓ نام کوشش کی مگر اس نے ہاتھ نہ چھوڑا دینو ” یہ کیا بدتمیزی ہے ” میرے غصہ میں بناوٹ جھلک رہی تھی دینو خاموش رہا اس نے کوئی جواب نہ دیا میں اپنے برتھ کی جانب بڑھی تو اس نے مجھے ایک جھٹکے سے اپنی طرف کھینچ لیا اور میں دیکھتے ہی دیکھتے اس کے اوپر جا گری مجھے ایسی حرکت کی دینو سے بلکل امید نہ تھی . ٢ چار پل یونہی گزر گئے میں دینو کے سینہ سے لگی ہوئی تھی میں نے اپنے آپ کو چھڑاتے ہوے سرگوشی میں دینو سے بولی ” یہ کیا کر رہے ہو تم دینو بابا ” مجھے چھوڑ دو ” بیبی جی ” چھوڑنے کے لئے تو نہیں پکڑا ؛ اور وہی تو کر رہا ہوں جو اپ چاہتی ہیں ” میں کیا چاہتی ہوں ؟ میں ماتھے پر تیوڑی چڑھا کر بولی بببی جی ” در اصل مجھے ٹھنڈ لگ رہی تھی سوچا آپ گر ساتھ سوئیں گی تو ہم دونوں ٹھنڈ سے بچ جایئں گے ” دینو بات بناتے ہوے بولا ایسی بات تھی تو مجھ سے بولتے تمھیں کمبل نکال کے دے دیتی . تم نے تو گنواروں کی طرح مجھے اپنے پر گرا دیا ” ” جی بیبی جی “دینو ممنایا تو میں نے کہا ہاں دینو ٹھنڈ تو ہے مجھے بھی لگ رہی ہے “جی بیبی جی” یہی تو میں کہہ رہا ہوں دینو نے خوش ہو کے کہا ” تو کمبل نکال دوں بابا دینو” میں نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا . ” جی ٹھیک ہے مگر ٹھنڈ تو اپ کو بھی لگی ہے اور کمبل ایک ہے ” دینو بولا ہاں دینو تم ٹھیک کہہ رہے ہو کمبل تو ایک ہی ہے . میں نے اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا . اچھا دینو تھوڑا پڑے ہو میں بھی لیٹ جاؤں تمہارے ساتھ اسے بابا نہ کہتے ہوے میں بولی تو تھوڑا سا پیچھے کھسک گیا مگر برتھ اتنی زیادہ وائڈ ہوتی نہیں کہ دو جی آسانی سے ٹک جائیں . وہ پہلو کے بل لیٹا ہوا تھا اور میں بھی اسکی جانب پیٹھ کر کے لیٹ گئی . اس طرح میرے کولہے اسکی گود کے ساتھ جا لگے – میں نے دینو کو بولا اب آرام سے سو جاؤ رات کے بارہ بجنے والے ہیں . اور مجھے نیند آ رہی ہے “جی بیبی جی ” – تھوڑی دیر کے بعد مجھے کولہوں پر کوئی چیز سرکتی ہوئی محسوس ہوئی . میں نے ایک گھٹنا موڑ کر آگے کی طرف کر دیا اور دینو بھی تھوڑا آگے سرکا شاید اس کا کھڑا ہو چکا تھا کیونکہ دینو کے آگے ہونے سے راڈ میری رانوں کے سنگم میں آن ٹکا – میں خاموش انجانے لطف کو ویلکم کہنے کے لئے تیار ہونے لگی . تھوڑی دیر بعد دینو نے ایک ہاتھ مرے کولہے پر رکھ دیا اور ہولے ہولے مساج سا کرنے لگا . میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روک دیا اور اپنی ٹانگ ذرا زیادہ آگے کر لی تاکہ اس کا راڈ اور آگے بڑھے تو کچھ اندازہ ہو صاحب کتنے پانی میں ہیں – دینو تھوڑا اگے ہو کر اپنے ہتھیار کو میری ران پر رگڑنے لگا اسکی حرکت اور رگڑ سے اسکی اکڑ اور نارمل لمبائی کا اندازہ تو میں نے کر لیا دینو کے اطیمنان سے ظاھر ہوتا تھا کہ کھلاڑی ہے اناڑی نہیں – کیونکہ ٥ سال قبل رنڈوا ہونے کی بدولت اس کو اب تک میری ٹانگوں میں ہونا چاہیے تھا . میں چاہتی تھی وہ آگے قدم بڑھاۓ مگر وہ شطرنج کی بساط بچھا کر بیٹھ گیا تھا – ” دینو یہ مجھے کیا لگ رہا ہے ؟ ” یہ کہتے ہوئے میں نے اس کا لن ہاتھ میں لے لیا اس نے ایک جھرجھری سی لی اور میں اُف کر کے رہ گئی اسے تو فورا چھوڑ دیا مگر یہ جان کر کہ شئے ہے بڑی جاندار ؛ ہو سکتا ہے رنگ جما دے آج کی رات ؛ یہ سوچ کر میں د ل ہی دل میں مسکرانے لگی ادھر میری چوت کے لب کھلنے لگے . دینو ” تم نے بتایا نہیں یہ کیا ہے ” میں رمانٹک ہوتے ہوئے بولی ” کیا بیبی جی ” دینو نے بھی چیزا لیتے ہوئے پوچھا ؛ میں نے لن کو دبارہ ہاتھ میں لیا اور اچھی طرح دبا کر بولی یہ ؛ میں نے لن پر چٹکی لینے کی ٹرائی کی مگر وہ اتنا سخت تھا کہ مجھے ناکامی ہوئی . ” اوہو یہ تو کھلونا ہے بیبی جی ” دینو یہ کہہ کر تھوڑا سا ہنسا ؛ میں نے بھی ہنستے ہوئے پوچھا ؛ ” دینو یہ کیا بات ہوئی کھلونے سے تو بچے کھیلتے ہیں ” ” بیبی جی یہ گڑیا رانی کے لئے ہے ” وہ ترنت بولا ” اچھا تو وہ گڑیا رانی ہے کہاں ؟ میں نے چسکا لیتے ہوئے پوچھا “جی وہ کھلونے کے سامنے ہی تو ہے ” دینو بولا ارے کیوں مذاق کرتے ہو یہاں تو نہ کوئی گڑیا ہے نہ کوئی رانی . یہی تو ہے گڑیا بھی اور رانی بھی اس نے میری چوت کو ٹچ کرتے ہوئے کہا اور میرے منہ سے ایک لذت بھری سسکاری سی نکلی . میں نے ٹانگ سیدھی کر کے اس کے ہاتھ کو وہیں دبا لیا ظالم نے ہاتھ سے میری پھدی پر مساج شروع کر دی میں نے ٹانگوں کو مزید کھول دیا . اور پاجامے کو پاؤں کی طرف کھینچا تو دینو نے میری ہیلپ کرتے ہوئے پاجامہ اتار ہی دیا . اور اپنی انگلی سے چوت کی لکیر کو چھیڑنے لگا جو کہ مجھے بہت اچھا لگا میں اس کے لن کو ہاتھ میں لے کر اپنی چوت پر رگڑنے لگی لن اتنا بڑا تو نہ تھا مگر اچھا خاصا موٹا تھا وہ اپنے لن کو چوت پر پھسلانے لگا اور میں نے ٹانگیں بھینچ لیں . ” بیبی جی ” گڑیا رو رہی ہے ” دینو نے میرے کان میں سرگوشی کی . “ارے وہ کاہے کو رونے لگی ” میں نے فکر مند لہجے میں استفسار کیا ” ” بیبی جی ” “گر آپکو اعتبار نہیں تو یہ دیکھ لیں ” دینو نے میرے رس سے گیلی انگلی مجھے دکھاتے ہوئے کہا ” اور پھر شاید اس نے وہ انگلی اپنے منہ میں لی اور مجھ سے کہا ” بیبی جی” ” اس کا تو سواد بھی آنسوؤں جیسا ہے ” ” یہ کیسے ہو سکتا میں کیسے مان لوں کہ گڑیا کے آنسو نکلے ہیں ” میں بولی دینو نے فورا بڑی انگلی میری چوت میں ڈال دی اور میرے سامنے کر دی ابھی تک میری پیٹھ دینو کی طرف تھی – میں نے گیلی انگلی کو منہ میں لے لیا اور اس کی انگلی چوسنے لگی . اسکی انگلی موٹی اور لمبی تھی اپنا ہی رس انگلی سے چوستے مجھے خمار سا انے لگا . اس نے میری گردن پر بوسہ دیا تو میں نے بیقرار ہو کر اسکی طرف رخ کیا اور اسکی چھاتی سے لپٹ گئی اس کی چھاتی کے بال مرے بووبز کو لگنے لگنے تو میں نے اس کے ہونٹوں کو چوم لیا اس نے میرے ہونٹ ہونٹوں میں لے لئے اور چوسنے لگا اور مجھے بھینچ لیا , اس کے بازو اتنے مضبوط تھے کہ مجھے سانس لینا مشکل ہو گیا اس کا لن میری رانوں میں میری چوت کو سہلا رہا تھا رہا . مجھ سے اب رہا نہیں جا رہا تھا میں چاہتی تھی لن یونہی اندر پھسل جاۓ . میں دینو سے بولی . ” تم تو کہتے تھے کہ گڑیا رو رہی ہے تو اس کو کھلونا کیوں نہیں دیتے ” کھلونا تو اسی کا ہے ضرور دیں گے اس کو تھوڑا بھیگ جاۓ تو دینو نے مجھے چومتے ہوئے کہا میرے بووبز ہولے ہولے دبانے لگا . جب پاجامہ اتر چکا تھا میں بیٹھ گئی اور شرٹ بھی اتار کر اپنے برتھ پر پھینک دی .. اب میں ننگی دینو کے روبرو تھی اور وہ مجھے ہوسناک نظروں سے تا ڑ رہا تھا . میری زلفوں میں انگلیاں پھرتے ہوئے وہ میرے مموں کو چومنے اور مسلنے لگا کبھی میرے نیپلز کو انگلیوں سے مسلتا کبھی ان کو باری باری چوسنے لگتا . اس کے کھردرے ہاتھ جب جسم پر پھرتے تو میں لطف و انسباط کی وادیوں میں کھونے لگتی اس نے دوبارہ برتھ پر لٹا دیا میری پیشانی چوم کر مر ے گال سرخ کرنے لگا اور میری گردن پر بوسوں کی بارش کر دی ؛ میں اس سے چمٹ گئی وہ پھر میرے مموں کو چومنے چوسنے اور چاٹنے لگا مجھ سے اب برداشت نہیں ہو رہا تھا چوت کی کھجلی نے خوار کر رکھا تھا . دینو میرے مموں سے کھیلتا ہوا میری ناف تک پہنچ گیا زبان کو نوک سے مری ناف کو کھجانے لگا . اس کی انگلیاں میری چوت کے دانے کو مسل رہی تھیں اور میں چوتڑ کبھی اِدھر کبھی اُدھر کرتی – اس سے پہلے میں دینو کی منت کرتی مجھے چودو
دینو برتھ سے نیچے اتر گیا اور شلوار اتار کر ایک طرف پھینکی اور مجھے دیکھنے لگا میں اس کے لہراتے ہوے لن میں مگن تھی بہت پیارا اور خوبصورت لگ رہا تھا مچلتا کھیلتا لہراتا لن اسے دیکھ میری چوت پُھدکنے لگی اس کے لب ِکھل کے اس کو اندر لینے کو بے تاب تھے . دینو برتھ کی پائنتی کی طرف بڑھا میں نے اپنی ٹانگیں اور پھیلا لیں کہ وہ ان کے بیچ بیٹھ کر کاروائی ڈالے مگر اس نے مجھے ٹانگوں سے پکڑ کر برتھ کی پائنتی کے کونے پر میرے بٹ پہنچا دئے میرے گھٹنے کھڑے تھے – دینو برتھ کے نیچے بیٹھ گیا – میں سمجھ نہ سکی دینو چاہتا کیا ہے . اس نے میرے گھٹنے کھولے اور میری مُلائم رانوں پر اپنے کھردرے ہاتھ پھیرنے لگا اور پھر رانوں کو چومنا شروع کر دیا وہ اپنے ایک ہاتھ سے میری چوت سہلاتے ہوئے کبھی دانے کو مسلتا کبھی لکیر کو چھیڑتا رانوں کو چومتے چومتے اس نے میری چوت کا بوسہ لے لیا اسکی سانسوں اور ہونٹوں کے ٹچ نے مجھے بے خود کر دیا – پہلی دفعہ کسی نے میری اس جگه کو چوما تھا . اس نے ایک دو بوسے لئے اور میری طرف دیکھا – میری آمادگی پا کر اس نے ہونٹ میری چوت پر رکھ دئے اور اسے زبان کی ٹپ سے کھجانے لگا – میں تڑپنے لگی سر کو بیخودی میں کبھی ادھر کبھی ادھر پھٹکتی – جب اس نے میری چوت کے دانے کو زبان کی نوک سے کھجایا تو میں سمجھی میرا سانس رک جایئگا . میں بیان نہیں کر سکتی اس سنسنی انگیز لطف مزے کا سواد . ایک تو مجھے دینو سے ایسی دلربائی کی توقع نہ تھی مگر اس نے مجھے نئی دنیا کی سیر کروا دی اف نہ جانے ظالم نے یوں ستانا کہاں سے سیکھا تھا جسے میں گنوار سمجھی تھی وہ تو آج کل کے لونڈوں کا استاد نکلا . عاطف اور ارمان نے مزے کی یہ کھڑکی تو کبھی کھولنے کی ٹرائی ہی نہ کی تھی وہ مجھے چاٹ رہا تھا میرا ہاتھ اسکے بالوں سے کھیل رہا تھا میرا دوسرا ہاتھ میرے نیپلز مسل رہا تھا , اور میں بے حال ہوتی جا رہی تھی میں چھوٹنے والی تھی دینو کی زبان اپنا کام کر رہی تھی اور اسکی دو انگلیاں میری چوت کے اندر کھجلی کرنے میں لگی ہوئی تھیں میں نے بے خودی میں ایک چیخ ماری اور اپنا رس دینو کے منہ میں انڈیلتے ہوئے میں نے اپنی ٹانگوں کو بھینچ لیا . دینو میرا رس سرکیاں لگا کر پینے لگا جس کی آواز مجھ تک پہنچ رہی تھی – اپنا تن من بدن سب کچھ دینو پر قربان کرنے کو من چاہنے لگا میں نے دینو کو سر کے بالوں پکڑ کے اپنے اوپر کھینچ لیا اور اس کے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لے کر چوسنے لگی . { ہر عورت کو چاہیے جو اس کی خوشی کے لئے اسکی چوت کو چاٹے کم از کم اسکے ہونٹوں سے جوس چوس لیں تاکہ چاٹنے والا بعد میں خجالت نہ محسوس کرے } دینو کے ہونٹ میرے لبوں میں تھے وہ مجھ پر بچھ سا گیا تھا اسکا لن میری چوت کے دھانے پر دستک دے رہا تھا میں نے ہاتھ نیچے لے جا کر اسے پکڑا اور چوت کے منہ پر رکھ کر رگڑنے لگی . دینو میری گردن کے نیچے ایک ہاتھ ڈال کے اسے کھجانے لگا – ادھر اس کا لن اندر جانے کو بچیں ہونے لگا دینو اٹھ کر بیٹھ گیا اور لّن کو میری چوت پر رگڑنے لگا اس نے میری ٹانگوں کو اپنی ٹانگوں سے باہر کی سمت کیا تو میرا سب کچھ اس کے سامنے آگیا اس نے میری گردن میں ہاتھ ڈالا اور خود اپنے لن پر دباؤ ڈالنے لگا . میں نے ہاتھ بڑھا کر لن اندر جانے میں مدد کی – چوت میں تو آبشار آیا ہوا تھا لن پھسلتا گیا ادھر دینو نے ایک جھٹکا لگا یا تو وہ چوت چیرتا ہوا جہاں تک جا سکتا تھا گیا دینو میرے دونو ممے اپنے ہاتھوں سے دبانے لگا میں دینو کو بے ساختہ چومنے لگی میں پیار سے اسے دیکھتی اور چومتی جاتی سواد آج جو دینو دے رہا تھا پہلے ایسا مزہ نہ آیا تھا دینو نے میری ٹانگیں اٹھا کر اپنے شانوں پر رکھ لیں اور لن مزید پھنس پھنس کر جانے لگا جس سے مجھے مستی آنے لگی دینو زور زور سے دھکے مارنے لگا ہر جھٹکے پر یوں لگتا اس کا لن آگے جا کر کسی دیوار سے ٹکراتا ہے اور مجھے بہت زیادہ مزہ اتا . دینو کی سپیڈ بڑھنے لگی اور اسکی ضربوں میں شدت آنے لگی اس سے مجھے بھی محسوس ہونے کہ جھرنے لگی ہوں – دینو نے میری ٹانگیں کندھوں سے اتاریں تو میں نے اسکی کمر کے گرد لپیٹ لیں اب دینو دھکا لگاتا تو میں چوتڑ اٹھا کر دھکے کا جواب دیتی اسی طرح آخری دھکوں کا مقابلہ کرتے ہوے میری بس ہو گئی اور دینو بھی ڈکارتا ہوا اپنا سارا مواد میری چوت میں ڈالنے لگا گرم پرنالے سے گرم شیرہ نے میری گڑوی کو بھر دیا میں نہال ہو گئی . میں نے ایک سکھ کی سانس لی یوں لگا جو کمی محسوس ہوتی تھی اور تشنگی لگتی تھی نہ وہ کمی رہی نہ تشنگی جس کے لئے میں دینو کی ابھارن ہوں . میں دینو کو چومنے لگی جو کہ اب میرے پہلو میں لیٹا تھا – تھوڑی دیر بعد میں باتھروم گئی ٹرین رکی ہوئی تھی شاید روہڑی سٹیشن آگیا تھا – یہاں سے ہمارا گاؤں زیادہ نزدیک تھا مگر ابا جانی نے نہ جانے کیوں کراچی تک بکنگ کروائی تھی ہو سکتا ہے وہاں ان کو کوئی کام ہو . خیر اب تو آگے ہی جانا تھا میں پی کرنے لگی تو آج کی رات جو کچھ ہوا کے بارے سوچنے لگی , سچی اج بہت ہی زیادہ اینجوآئے کیا تھا پہلی بار کسی نے چوت چاٹ کر میرے چودہ طبق روشن کر دئے – سنا ہوا تو تھا کہ چٹوانے کا اپنا ہی مزہ ہے مگر کبھی چٹوائی نہ تھی . ارمان تو خیر کبھی ایسا نہ کریں گے اور عاطف نے کبھی ایسی ٹرائی نہیں کی . ویسے کالج میں جب کبھی لڑکوں کے گروپ کے پاس سے گزرتی تو دبے لفظوں میں ان کے ریمارکس تو سنائی دیتے . ” یار کیا پٹاخہ ہے . اس کی تو میں چاٹ بھی لوں ” ” ارے میں تو سالی کی گانڈ بھی چاٹ سکتا ہوں دے تو سہی ” ” ارے جو بھی چودے گا وہ خوش قسمت ہوگا ” ” سالی کا تو پیشاب بھی لوں ” اس قسم کے ریمارک تو سنتے ہی تھے ہم مگر ٢ لڑکیاں پیغام لیں لڑکوں کا مگر اپنی طرف شفارش کے طور کہنے لگیں ایک ” نوشی فلاں لڑکا چوت چاٹنے میں بڑا ماھر ہے ” دوسری ” نوشین باجی ” ” فلاں لڑکا کے پاس جانے سے کسی قسم کا کوئی خطرہ ہی نہیں مال بھی بڑا دیتا اور چوت بھی مارتا چوت چاٹ کر گانڈ مارتا ہے مزے کا مزہ اور کنوار پن بھی نہیں جاتا .” یہ تو کالج کی باتیں تھیں . مگر میں تو اس سوچ میں پڑ گئی ایک چٹا انپڑھ دیہاتی نے جس طرح مجھے چآٹا اور چودہ , کیسے ممکن ہے میں نے اپنے اپ کو دھویا اور اٹھ کھڑی ہوئی میں ننگی آئ تھی واپسی پر تھوڑی شرمائ لجائی سی ایک ہاتھ چوت پر دوسرا ہاتھ مموں پر رکھے دینو کے ساتھ جا کر لیٹی اور لپٹ گئی وہ آنکھیں موندے لیٹا ہوا تھا . اس نے بھی بازؤں میں بھر لیا , میں نے چور آنکھوں سے لن کو دیکھا تو لیٹا ہوا تھا مگر ابھی جاگ رہا تھا .. میں دینو کا چما لیتے ہوئے بولی ” دینو ایک بات پوچھوں ” ناراض تو نہ ہو گے ” پوچھو بیبی جی میں ناراض کیوں ہونے لگا ” دینو نے کہا . ” تم نے جس طرح میرے نیچے اپنی زبان سے پیار کیا تھا کیا ایسا اپنی بیوی سے بھی کرتے تھے . ” ” نہیں بیبی جی ہم نے تو کبھی ایسا سوچا بھی نہ تھا ” دینو بولا “تو کیا تم نے آج رات پہلی بار میرے ساتھ ایسا کیا ” میں نے پوچھا ” نہیں بیبی جی ؛ ایک اور ہے جس نے مجھ کو چاٹنا سکھایا ” ” وہ کون ہے ؟
کیا مجھے نہ بتاؤ گے ” میں نے جاننے کی ٹرائی کی ” بیبی جی ” آپ سے تو کچھ چھپا نہیں سکتا مگر ایک بات کہوں ” وہ بولا ” ہاں ہاں دینو کہو کیا بات ہے ” میں نے اسے کہا تو وہ کہنے لگا ” بیبی جی مجھے آپ پر اعتماد ہے پھر بھی آپ بول دیں کہ آپ کسی سے نہ کہیں گی . ” ” تم فکر نہ کرو میں تمہاری کوئی بات بھی کسی کو نہ بتاونگی ” میں نے اسے تسّلی دیتے ہوئے کہا تو دینو بولا ” جی اپ سلمیٰ آپا کو تو جانتی ہیں ” “ہاں دینو انہیں کون نہیں جانتا ” وہی جن کا گھر ہماری پیچھے والے وارڈ میں ہے “. میں نے استفسار کیا ” جی بیبی جی وہی والی ” دینو بولا تو میں بولی تو ” سلمیٰ آپا کو کیا ہوا ” ” بیبی جی سلمیٰ آپا نے ہی چاٹنا سکھایا ہے ” یوں سمجھو دینو نے ایک بم پھینک دیا ہو مجھ پر . ” دینو کیا تم سچ بول رہے ہو جانتے ہو کون ہے وہ بہت بڑا نام ہے ” “جی جانتا ہوں مگر سچ بول رہا ہوں اور وہی مجھ سے چٹوایا کرتی ہے ” سلمیٰ آپا ایک بری مشور سماجی رہنما تھی بڑی نیک نام اور غریب پرور ٤٥ کے قریب یا ٥٠ کی عمر ہوگی اس کا کوئی سکینڈل کبھی نہیں سنا تھا اب دینو سے سن کر تو ہکّا بکّا رہ گئی دینو کو جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی اس کے بارے میں . دینو تم اس سے ملے کیسے ؟ میں نے اک اور سوال کر دیا جی وہ کبھی کبھار بیگم صاحبہ سے ملنے آتی تھیں میں ہی ان کی کار کے لئے گیٹ کھولتا تھا کبھی بیگم صاحبہ اس کے لئے کچھ بھجواتی میرے ہاتھوں . اس طرح سے ملاقات ہوئی . ” تو تم کہتے ہو تم نے صرف سلمیٰ آپا کی چوت چاٹی ہے ” میں نے پوچھا تو دینو کہنے لگا ” جی میں نے یہ تو نہیں کہا ایک اور لیڈی بھی ہیں ” میں نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا ” وہ کون ہے ؟ ” : ” جی وہ لیڈی عذرا ہیں سلمیٰ آپا کے ساتھ ہی ہوتی ہیں دینو نے بتا کر حیران کر دیا عذرا بھی سماجی کارکن اور اچھی شہرت رکھنے والی ٤٠ سالہ خاتون ہیں . جو کہ سلمیٰ آپا کو اسسٹ کرتی ہیں . عذرا کی شادی نہیں ہوئی مگر سلمیٰ آپا تو جوان بچوں کی ماں ہیں پکا تو معلوم نہیں سنا تھا کہ شوھر سے علیحدگی ہو گئی تھی . ” تم تو چھپے رستم نکلے دینو ” میں نے مزاحا کہا اور پھر سوال داغ دیا ” کیا وہ جانتی ہیں کہ تم دونوں کو لگا رہے ہو . ” جی اصل بات یہ ہے کہ سلمیٰ آپا کرواتے ہوئے چاہتی ہے کہ کوئی اسے دیکھے – عذرا کو وہی لائیں تھیں ؛ عذرا کو چوپا لگانے کا شوق ہے اور چٹوا بھی لیتی ہے مگر کرواتی نہیں ؛ گانڈ مروانے کو تیار رہتی ہے سلمیٰ آپا چٹوانا اور کرواتے ہوئے کسی کا دیکھنے کے لئے موجود ہونا اچھا لگتا ہے ” واہ ” بڑی انٹرسٹنگ بات ہے “تو عذرا کرواتی کیوں نہیں .؟ میں نے پوچھا تو دینو بولا ” اسکی اس جگه ” کوئی پرابلم ہے وہ لے نہیں سکتی اندر مگر چٹوا کے مزے لیتی ہے .. میرے کہنے پر دینو سلمیٰ آپا اور عذرا کے ساتھ تعلقات کی تفصیل بتانے لگا ( ٹائم ملا تو آپ لوگوں سے الگ سٹوری میں شئیر کرونگی) مگر دینو نے جو کچھ بتایا وہ مجھے خوار کر گیا میں مست سی ہونے لگی دل چاہتا تھا کہ دینو کو بولوں کہ : ” کنڈی نہ کھڑکا سوہنیا سیدھا اندر لنگ آ ” یہ شاید نصیبو لال کے گانے کے بول ہیں دینو لیٹا ہوا تھا میں اٹھ بیٹھی اور اس کے لن سے کھیلنے لگی اس میں حرکت ہونے لگی تو اس کی ٹوپی پر اپنی زبان پھیرنے لگی میں سمجھی تھی بوڑھا ہے کچھ وقت لگے گا اٹھنے میں مگر وہ ” ابھی تو میں جوان ہوں کہتا ہوا تن کر اور ڈٹ کر کھڑا ہوگیا میں نے جھٹ سے اسے منہ میں لیا اور چوپا لگانے لگی دینو نے اپنے آپ کو ڈھیلا چھوڑ دیا . اس کا ایک ہاتھ میری ران پر دھرا تھا اس ہاتھ سے دینو میری چوت کو سہلانے لگا جو کہ اس کی سٹوری سن کر پہلے سے ہی گیلی تھی – میں نے ٹانگیں چوڑی کر دیں تو دینو نے میری ٹانگوں کو اپنی طرف کھینچا اس طرح اس کا منہ میری ٹانگوں کے بیچ آ گیا اس نے مجھے چاٹنا شروع کر دیا میں مستی میں لن کو ہولے ہولے دندیاں مارنے لگی من کرتا تھا اس کو کاٹ کاٹ کر کھا جاؤں ٦ انچز ہوگا مگر کام کا تھا – دینو کی – میں اگے ہو کت= زبان مجھے چود رہی تھی میں نے لن کو منہ سے نکالا دینو کی طرف مڑی اور اس کے اوپر جا کر میں چوت کو اس کے لن پر رکھا اور چوت کو لن پر مسلنے لگی جب لن گیلا ہو گیا میں نے زور لگایا اور ایک جھٹکے کے پورا لن اندر لے لیا میں نے اگے ہو کے جھک کر دینو کا بوسہ لیا اور پھر لن کے اوپر اچھلنے لگی لن سیدھا تن کر کھڑا تھا اس لئے بہت مزہ آنے لگا میں دینو کے سینہ کے نیپلز کو پیار کرنے لگی انکو بآئیٹ کرتی چوستی تو دینو مستی میں تڑپتا تو اس کا لن بھی چوٹ لگاتا . دینو میرے مموں سے کھیلنے لگا اور پھر شرارت کرتے ہوے مجھے گدگدانے لگا تو میں تڑپ اٹھی میں جو مچلی تو ایک بار تو لن بھی باھر نکل گیا مگر میں نے جلدی اسے پھر اندر لے لیا مجھے کچھ ہونے لگا ایک تشنج سی کیفیت چھانے لگی میرے ہاتھ اور پاؤں اینٹھ گئے اور میں جھڑ گئی – مجھے دیکھ کر دینو کے لن نے بھی میری صراحی بھر دی ہم دونوں اکٹھے ہی فارغ ہوئے ایک د وسرے کو چومنے لگے . کراچی کے آنے میں ٹائم نہ لگا – ابو نے کراچی سے ٢ سیٹس پلین کی کروائی ہوئی تھیں جو کہ ایک بجے کی تھیں , ہم نے ناشتہ وغیرہ کیا اور پھر کراچی میں ٹورسٹ کمپنی کے ساتھ کراچی گھومنے میں تین گھنٹے لگے پھر ایئر پورٹ سے سکھر گئے اپنے گاؤں تک پہنچتے شام ہو گئی – ساس ماں نے اچھا استقبال کیا کھانا وغیرہ کھا کر میں اپنے کمرے میں آ گئی – اسی پر سونے لگی جس پر سہاگ رات منائی تھی .,.. دل میں آئ کاش دینو کو آج بلا سکتی مگر نا ممکنات میں سے تھا ؛ بیتی رات کو یاد کرتے کرتے نہ جانے کب انکھ لگ گئی اور صبح جب اٹھی تو سورج سر کھڑا تھا . تھوڑی دیر بعد دینو کی واپسی ہوئی دل اداس سا ہوگیا – ٢ چار دن کے بعد میں نے بوریت محسوس کرنا شروع کر دی – کیونکہ شادی کے بعد بڑی گہما گہمی تھی اب وہ نہیں رہی تھی – بیگم صاحبہ میری ساس اکثر اوقات دوسرے سماجی کاموں میں باھر رہتی زلیخا اور سمیرا میرے ساتھ ہوتیں گھر کے سارے کام وہی کرتیں – رات کو میں اکیلے کمرے میں ہوتی اب موسم اچھا ہو گیا تھا میں نے مسہری کھڑکی کے ساتھ رکھ لی تاکہ رات کو کھڑکی کھول کر سویا کروں تاکہ تازہ ہوا ملتی رہے
کھڑکی میں جالی لگی ہوئی تھی اس لئے مچھر وغیرہ کا بھی کوئی ڈر نہ تھا – ایک ہفتہ کے بعد رات کو سوتے ہوئے میری انکھ کھل گئی مجھے یوں محسوس ہوا جیسے کھڑکی کے سامنے سے کوئی گزرا ہو – اس لائن میں ٥ بیڈ روم تھے آگے برآمدہ تھا جو سب بیڈ رومز کو کور کرتا ہے . اور برآمدے کے دونوں کونوں میں ٢ کمرے جو سٹور روم تھے . میں کونے والے سٹور روم کے ساتھ بیڈ روم میں ہوتی اور میری ساس دوسرے کونے والے سٹور روم کے ساتھ والے بیڈ روم میں ہوتی . گر کوئی گیا تھا میری ساس کے بیڈ روم کی طرف گیا تھا . میں نے دروازہ آرام سے کھولا اور برآمدے میں جھانک کر دیکھا تو کوئی نظر نہ آیا – میں ہولے سے باہر نکلی اور ساس کے بیڈ روم کی طرف جانے لگی . قریب پہنچی تو مجھے آوازیں سنائی دیں ایک تو میری ساس تھی دوسرا کون تھا کوئی اندازہ نہ ہو سکا . خوشقسمتی سے ساس کی کھڑکی کی درز سے میں دیکھنے میں کامیاب ہو گئی کہ وہ شیرو تھا جو کہ بیگم صاحبہ کے بعد دوسرے نمبر پر تھا یعنی کار مختار مگر یہ اس وقت بیگم صاحبہ کے کمرے میں کیا کر رہا ہے میرے ذہن میں یہ سوال اٹھا . میں تھوڑا اور نزدیک ہوئی مہلوم ہوا دونو جھگڑ رہے ہیں . بیگم صاحبہ = شیرو میں تم کو پہلے کہہ رکھا ہے کہ جب تک میں نہ کہوں تم رات کو ادھر مت آنا = میری بہو نوشیں نے دیکھ لیا تو قیامت آ جایئگی . شیرو . ٹھیک ہے مگر ایک ہفتہ ہو گیا میں ہاتھ میں لئے پھر رہا ہوں . تم جانتی ہو مجھ برداشت نہیں ہوتا . بیگم صاحبہ اس کا ایک ہی حل ہے بیگم صاحبہ وہ کیا ھل ہے میں بھی سنوں شیرو ” میں تمہاری لاڈلی کو زبردستی چود دوں اس کے بعد کسی سے ڈرنے کی ضرورت ہی نہیں یہ سنتے ہی میں پیچھے پلٹی ….. ابھی میں پلٹی ہی تھی کہ مجھے عجیب سی آواز سنائی دی جیسے طمانچہ مارا گیا ہو – میں پھر پلٹی میں سمجھی کہ بیگم صاحبہ نے شیرو کو طمانچہ مارا ہوگا – میں کھڑکی کے نزدیک جا کر درز سے جو دیکھا تو بیگم صاحبہ کا ہاتھ انکے چہرے پر تھا اور ڈبڈبائی نظروں سے شیرو کو غصے سے دیکھ رہی تھیں . بیگم صاحبہ : ” شیرو تم کو کئی بار کہہ چکی ہوں چہرے پر مت مارا کر تمہارا ہاتھ بھاری ہے اب نشان رہ گیا تو صبح کیا وضاحت کرتی پھروں گی ” شیرو : ” بیگم صاحبہ غصہ آ جاۓ تو مجھ پتا نہیں چلتا کہ کیا کر رہا ہوں ” کہتے هوئے شیرو نے آگے بڑھ کر بیگم صاحبہ کو اپنے گلے سے لگا لیا . بیگم صاحبہ گلے لگتی ہی رونے لگی . میں حیران پریشان سوچنے لگی یہ ماجرا کیا ہے ! بیگم صاحبہ کا طوطی علاقے میں بجتا ہے ایک رعب اور دبدبہ ہے انکا ؛ سب ان کا احترام کرتے ہیں ؛ شیرو منشی منیم ایک کارندہ یا نوکر ہے انکا . اور اس سے تھپڑ کھا کر بیگم صاحبہ اسی کے سینہ سے لگی کھڑی ہے – ان کے آپس میں تعلقات کا تو اندازہ ہو گیا مگر طمانچہ کھا کر برداشت کرنے کی سمجھ نہیں آئ . میں کھڑکی کے ذرا اور نزدیک ہوگئی تاکہ انکی باتیں سن سکوں ؛ شیرو بیگم صاحبہ کو لپٹآئے کھڑا تھا اور انکی تھوڑی اٹھا کر ان کی آنکھوں کو چومنے لگا بیگم صاحبہ کے آنسوؤں نے انکے گال بھگو دئیے تھے شیرو نے انکے گالوں پر بوسوں کی بارش کر دی . بیگم صاحبہ نے اپنی باہیں شیرو کے گلّے میں ڈال دیں اور اس سے لپٹ گئی . شیرو نے انکی کمر کو بازوؤں میں جکڑ لیا اور اسے اٹھا کر بیڈ پر لٹانے لگا ” ٹہر میں نوشین کو دیکھ آؤں ” یہ کہتے ہوئے وہ اٹھنے لگیں تو میں ڈر سی گئی ؛ مگر شیرو نے کہا ” وہ سو رہی ہے میں اسے سوتا دیکھ کر آ رہا ہوں .” تو بیگم صاحبہ نے اسے کہا شیرو کبھی اس طرف مت جانا ؛ نہیں تو میری طرف سے کسی اچھائی کی امید نہ رکھنا ” بیگم صاحبہ سخت لہجے میں کہتے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گئی . بیگم صاحبہ ” مجھ پر رحم کر ؛ ایسی پابندی نہ لگا – سچ یہی ہے اس کے ہوتے ہم آزادی سے نہ مل سکیں گے ؛ اسے کانا کرنا بہت ضروری ہے – ایک بار ہی سہی ” شیرو ایک ہی سانس میں سب کچھ کہہ گزرا . “کچھ شرم کر وہ تمہاری بہو ہے اپنی بہو کے بارے ایسا سوچنا بھی نہیں چاہیے اور تم ارادہ بناۓ بیٹھے ہو ” بیگم صاحبہ نے چچ چچ کرتے کہا . ” وہ آپکی بہو ہے میری نہیں نہ ہی ارمان میرا بیٹا ہے ؛ وہ مرحوم سردار کامران کا بیٹا ہے . کئی بار میں کہہ چکا ہوں . ارمان میرا بیٹا ہو ہی نہیں سکتا “. شیرو نے بڑے یقین سے کہا , مگر مجھے یقین ہے ارمان تمہارا ہی بیٹا ہے . کامران اور میری شادی کو ٩ سال ہو چکے تھے ہم بے اولاد رہے ؛ مگر پھر جب تمہارے ساتھ سونے کا مجھے موقع ملا تو دوسرے ماہ میں حاملہ ہو گئی تھی . بیگم نے اسے یاد کراتے ہوے کہا شیرو کہنے لگا ” ارمان کی پیدایش کے بعد سردار کامران پانچ سال حیات رہے تھے اس عرصہ کے دوران ہم ملتے رہے پھر مجھ سے کوئی مزید اولاد کیوں نہ ہوئی تم تو اس دوران کوئی گولی یا دوائی پر بھی نہ تھیں ” ” ارے تم جانتے تو ہو کیس خراب ہو گیا تھا اور ڈاکٹر نے بتا دیا اس کے بعد میں ماں نہ بن سکون گی . بیگم نے افسردہ لہجے میں کہا . ” شیرو کہنے لگا ” کچھ بھی کہو ارمان میرا بیٹا نہیں نہ ہو سکتا ہے اس کی شکل صورت اپنے والد سے ملتی جلتی ہے وہ مجھ سے مشابہ نہیں ؛ پھر ہمارے خاندان میں جنم لینے والے لڑکے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے لن پر کالا تل ہوتا ہے . تم نے میرا تو دیکھا ہوا ہے تل ؛ ارمان کے بچپن میں میں نے چیک کیا تھا کوئی تل نہیں اس کے نفس پر ؛ ہاں خصیوں پر تل تھا مگر ہمارے ہاں ٹوپے پر ہوتا ہے جیسے یہ ” ؛ کہتے ہوئے اس نے اپنی دھوتی سے اپنا لن نکال بیگم صاحبہ کو دکھایا . بیگم صاحبہ کہنے لگیں . ” دیکھ شیرو , نوشین میری بہو ہے اس ناطے وہ تمھاری بھی بہو لگی , اس لئے اس کے بارے غلط ملط نہ سوچا کر یہ کہتے ہوئے بیگم صاحبہ شیرو کا لن ہاتھ میں لے لیا اور اسے بڑے اشتیاق سے دیکھنے لگیں . کمرے میں ایک لالٹین کی دھیمی روشنی میں میں لن کو نہ دیکھ سکی . مگر جس طرح بیگم صاحبہ نے اسے ہاتھ میں تھا ما ہوا تھا اس سے معلوم ہوتا تھا خاصے کی چیز ہوگی . شیرو ” بیگم صاحبہ آپ سمجھ نہیں رہی ہو ؛ میں غلط نہیں سوچ رہا نوشین کو ساتھ ملا کر ہی ہم ایک دوسرے کو مل سکتے ہیں ورنہ ہر وقت پکڑے جانے کا خطرہ رہے گا . ویسے بھی نوشین , ارمان کے بس کی بات نہیں وہ بابو ٹائپ لڑکا اس جٹی کڑی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا مجھے کچھ کرنے کی اجازت دو وہ تمہارے تلوے چاٹتی رہے گی اور ہمارے راستے میں آنے کا سوچے گی بھی نہیں “. یہ کہتے ہوے شیرو بیگم صاحبہ کو چومنے لگا ” نہیں کبھی نہیں ایسا کبھی سوچنا بھی نہیں ” بیگم صاحبہ ترش لہجے میں بولیں . ” ٹھیک ہے بیگم صاحبہ اس پر بات بعد میں کریں گے ” . شیرو نے بیگم صاحبہ کو اپنی جانب کھینچتے ہوئے کہا ؛ بیگم صاحبہ : “شیرو جلدی جلدی کر لو کہیں نوشین اٹھ گئی تو کہیں کے نہ رہیں گے ” یہ کہتے ہوئے وہ اپنے کپڑے اتارنے لگیں . ” بیگم صاحبہ ابھی تو شروع بھی نہیں ہوئے اور آپ کو جلدی کی پڑ گئی ہے . ایک وقت تھا آپ کو دسمبر کی رات چھوٹی لگتی تھی ساری رات نہ سونے دیتیں نہ خود سوتیں ” شیرو بیگم صاحبہ کی کپڑے اتارنے میں مدد کرتے ہوئے بولا اور بیگم صاحبہ کی شلوار بھی اتار دی . ” ہاں شیرو اب وہ جذبات نہیں رہے عمر کے ساتھ ساتھ بہت کچھ بدلتا جا رہا ہے مجھے بھی یہی محسوس ہوتا ہے جیسے میں ٹھنڈی ہوتی جا رہی ہوں ورنہ اپنے جسم کے تقاضوں کی خاطر میں ساری زندگی خطرات سے کھیلتی رہی ہوں “, بیگم صاحبہ ایک ٹھنڈی آه بھرتے بولیں اور شیرو کی دھوتی کی طرف ہاتھ بڑھایا تو شیرو کھڑا ہو گیا اور اپنی قمیض اتار کر اس نے دھوتی بھی نیچے پاؤں میں گرا دی میں نے سوچا مجھے اب جانا چاہیے کہ یہ اب اپنا پرائیویٹ پروگرام شروع کرنے لگے ہیں اور اخلاقا مجھے یہاں سے ہٹ جانا چاہیے اس سے پہلے کہ میں قدم اٹھائی دفعتا مجھے لن کا سایہ دیوار پر نظر آیا اور میں وہیں ٹھٹھک کر کھڑی رہ گئی شیرو جب کھڑا ہوا تو وہ مجھے نظر نہیں آیا تھا لالٹین کی روشنی اس پر پڑی تو اس کے لن کا سایہ دیوار پر نظر آنے لگا . میں ڈائریکٹ اسے دیکھنا چاہتی تھی اس لئے مزید نزدیک ہو کر میں نے کھڑکی کی درز پر آنکھ ٹکا دی تو دیکھ کر میری چوت میں بھی گدگدی سی ہونے لگی شیرو کا ہتھیار ان سب سے بڑا لمبا اور موٹا دکھ رہا تھا جو اب تک برت چکی ہوں تقریبا ٧ انچ لمبا اور اسکی ٹوپی نہیں نہیں ٹوپا بہت موٹا لگا ٠ اسکی اٹھان اور اکڑ دیکھ کر میرے منہ بھی پانی آ گیا . مجھے اپنی ساس پر رشک انے لگا جو اب اسے ہاتھ میں لے کر دبانے اور چومنے میں لگی ہوئی تھی . وہ چارپائی بیڈ پر بیٹھی ہوئی اور شیرو اس کے سامنے کھڑا تھا . بیگم صاحبہ کے ہاتھ میں اس کا لن تھا جس کے ٹوپے پر بیگم صاحبہ کبھی زبان سے ٹکلنگ کرتی کبھی اسے منہ میں لے لیتی . شیرو نے بیگم صاحبہ کے سر کے پیچھے ہاتھ سے دباؤ دیا تو بیگم صاحبہ نے پورا لن منہ میں لے کر چوپا لگانا شروع کر دیا . شیرو کے منہ سے لذت آمیز آوازیں بیگم صاحبہ کے چوپا لگانے میں اکسپرٹ ہونے کا عندیہ دے رہی تھیں . شیرو نے بیگم صاحبہ کو بازؤں سے پکڑ کر اٹھا لیا اور اس کے ہونٹ اپنے لبوں میں لے کر چوسنے لگا بیگم صاحبہ نے اپنے بازو شیرو کے گلے میں ڈال دئیے اور شیرو نے اسے بھینچ لیا – شیرو کا لن بیگم صاحبہ کی رانوں میں ٹکریں مار رہا تھا اور بیگم صاحبہ ایک ہاتھ سے اسے پکڑ کر اپنی چوت پر مسلنے لگی . بیگم صاحبہ کی بولڈنس نے مجھے بہت متاثر کیا . وہ اس مقولے پر عمل پیرا تھیں کہ ” جس نے کیا شرم ؛ پھوٹے اس کے کرم ” بیگم صاحبہ اپنے بھاگ جگانے میں لگی ہوئی بہت مسرور لگ رہی تھی – شیرو بیڈ پر بیٹھ گیا اور بیگم صاحبہ اس کی گود میں بیٹھ گئی شیرو نے ایک بازو اس کے گلے میں ڈالا اپنے ہونٹ انکے لبوں پر رکھ کر انہیں چوم لیا بیگم صاحبہ شیرو کا نچلا ہونٹ لبوں میں لے کر چوسنے لگ گئی شیرو رانوں سے لے کر مموں تک بیگم صاحبہ کے جسم پر ہاتھ پھیرنے لگا بیگم صاحبہ شیرو کی گود میں بیٹھی شیرو کے ہتھیار پر اپنی چوت کو مسلنے لگی جس سے لن مزید برانگیختہ ہوا اور شیرو نے بیگم صاحبہ کو بیڈ ( چارپائی ) پر لٹانے کی کوشش کی مگر بیگم صاحبہ اٹھ کر کھڑی ہوئی اور چارپائی کو پکڑ کر گھوڑی بن کر کھڑی ہو گئی – شیرو لہراتے لن کے ساتھ اس کے پیچھے آ گیا اور اسکی پیٹھ چومنے لگا ساتھ ساتھ بیگم صاحبہ کے مموں کو مسلتا رہا پھر شیرو نے کھرے ہو کر بیگم صاحبہ کی چوت پر لن کو مسلا تو بیگم صاحبہ نے اپنی ٹانگیں چوڑی کر لیں اچانک شیرو نے ایک چماٹا تھپڑ بیگم صاحبہ کے دائیں بٹ پر جڑھ دیا بیگم صاحبہ نے اوئی کی اور اس کی بُنڈ اوپر اٹھی اور اسکی کمر میں ایک سیکسی خم سا پڑ گیا . شیرو ہاتھ سے مساج کرتا اور کبھی چومتا اور پھر چوت پر لن کو مسلنے لگا پھر اس نے دوسرا تھپڑ بائیں بٹ پر مارا بیگم صاحبہ کے منہ سے لذت بھری سسکی اف کی صورت نکلی اور شیرو بٹ کو چومنے لگا اور ہاتھ سے مساج کرتا رہا بیگم صاحبہ نے ٹانگیں مزید پھیلا دیں . شیرو نے اس بار چوت پر تھپڑ جمایا تو بیگم صاحبہ کھڑی ہوئی اور پلٹ کر شیرو سے لپٹ کر اسے چومنے لگی . میں سمجھ نہیں سکی بظاہر تو یہی لگتا تھا کہ بیگم صاحبہ کو ہاتھ کی ضربوں سے مزہ آ رہا ہے , میں حیران ہوئی کہ شیرو کے اتنے شدید تھپڑ وہ برداشت کیسے کر رہی ہیں . وہ الٹا اس پر واری نیاری ہو رہی تھیں . شیرو نے ان کو دوبارہ گھوڑی بنایا اک تھپڑ پھر انکی چوت پر مارا بیگم صاحبہ نے ٹانگیں کھول دیں اور شیرو نے اپنا لن چوت پر ٹکایا اور دھیرے دھیرے اندر اترنے لگا . بیگم صاحبہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور اپنی کمر کو لچکاتی ہوئی دہری سی ہوگئی جس سے شیرو کو ڈھیکا مارنے میں آسانی ہو گئی شیرو نے اسکے دونوں کولہوں کو پکڑ لیا اور زور زور سے بیگم کو چودنے لگا بیگم صاحبہ اپنے ہاتھ سے چوت کے دانے کو مسلنے لگی شیرو 5- ٧ جھٹکے لگا کر ایک ٢ تھپڑ بیگم صاحبہ کی بُنڈ ایک چپت رسید کر دیتا جس سے بیگم صاحبہ آہ کرتے ہوئے لچکتی تڑپتی اور پیچھے شیرو کو دیکھتے ہوئے کہتی اور زور سے جانو زور سے مار . شیرو ایک ہاتھ سے بیگم کے ممے ٹٹولنے لگا اور بیگم صاحبہ نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر دبایا اور سر اٹھا کر شیرو کو چومنے کی کوشش کی تو شیرو نے آگے ہو کر اسکے ہونٹ اپنے لبوں میں لئے اور چوسنے لگا بیگم صاحبہ نے ایک جُھر جُھری سی لی اور کانپ سی گئی – بیگم صاحبہ جھڑ چکی تھی . اور کھڑی ہو کر شیرو کو چمٹ کر اسے چومنے لگیں مجھے بھی ایک کپکپی سی محسوس ہوئی میں نے غور کیا تو اپنے ہاتھ ہاتھ کو اپنی چوت کو مسلتے ہوئے پایا مجھے خبر ہی نہ ہوئی کب میں بھی انکی کشتی میں سوار ہو چکی تھی –

بیگم صاحبہ شیرو کو چومتے چومتے اس کے لن کو ہاتھ میں لئے چارپائی پر دراز ہو گئیں . شیرو ان کے اوپر ہی لیٹ گیا اور اس نے بیگم صاحبہ کی پیشانی گال گردن پر بوسوں کی بارش کر دی . بیگم صاحبہ نے شیرو کو ایک طرف کرتے ہوے اُٹھ کر بیٹھ گئی اور ایک کپڑے سے پہلے اپنی چوت صاف اور خشک کی پھر شیرو کے لن کو پونچھ کر صاف کیا اور شیرو کا لن دیکھتے ہوئے اسے چومنے لگی اور اسکے ٹوپے پر سوراخ کو جیبھ سے ٹکلنگ کرنے لگی جس سے شیرو مستی میں سر دائیں بائیں پٹخنے لگا اور بیگم صاحبہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر لن کو پورا منہ میں لینے کا اشارہ کیا تو بیگم صاحبہ ہولے ہولے پورا لن کو اپنے حلق تک لے گئی اور پھر دھیرے دھیرے لن کو چوپنے لگی شیرو جھرنے لگا تھا وہ بیچینی سے اُٹھا اور بیگم صاحبہ کو نیچے لٹا کر اس کے اوپر لیٹ گیا بیگم صاحبہ نے ٹانگوں کو کھولا اور لن کو پکڑ کر اپنی چوت پر مسلنے لگی . شیرو نے بیگم صاحبہ کی لن کے لئے بے تابی کو دیکھتے ہوئے اٹھ کر اسکی ٹانگوں میں بیٹھ گیا ؛ بیگم صاحبہ نے اپنی ٹانگیں کھول دیں اور شیرو چوت پر لن کو مسلنے لگا جس سے بیگم صاحبہ مچلنے لگی . میری جانب بیگم صاحبہ کے پاؤں اور شیرو کی پیٹھ تھی لالٹین کی مدھم روشنی میں جتنا نظر آنا ممکن تھا میں تجسس لئے غور سے دیکھ رہی تھی – شیرو نے چوت پر لن مسلتے ہوئے ایک زور کے دھکے سے پورا لن اندر کرتے ہوے بیگم صاحبہ کو دہرا کر دیا . ( مجھے ایسے لگا کہ شیرو کا لن میری چوت کو چیرتا ہوا اندر دور تک داخل ہو گیا ہو ) بیگم صاحبہ نے بوسہ لیتے ہوئے شیرو کے گلے میں باہیں ڈال دیں اور اپنی ٹانگیں شیرو کی کمر کے گرد جکڑلیں – شیرو بیگم صاحبہ کی گردن پر ہونٹ رکھے چومتے ہوئے ہولے ہولے لن کے دھکے لگا نے لگا مجھے اس کے جھومتے ہوئے خصیے نظر آ رہے تھے جو بہت بھلے لگ رہے تھے شیرو کے ہر دھکے سے وہ آگے اور پیچھے جھول رہے تھے لن پورا اندر جاتا تو وہ بیگم صاحبہ کی بنڈ پر جا لگتے آواز ضرور نکلتی ہوگی ؛ دور ہونے کی وجہ سے مجھے سنائی نہیں دے رہی تھی ورنہ میرے لاشعور میں کمرے کے اندر بھاری سانسوں کے ساتھ پچک پچک اور چپک چپک آوازیں گونج رہی تھیں . میرا ایک ہاتھ میری چوت کو جو کہ ٹپکنے لگی تھی سہلاتا تو درمیانی انگلی اندر چلی جاتی دوسرے ہاتھ سے میں اپنے نپل کو مسلنے لگی شیرو کی سپیڈ بڑھتی جا رہی تھی .. بیگم صاحبہ سر اٹھا کر کبھی اس کا بوسہ لیتی اور کبھی اس کے سینہ پر دانت گاڑ دیتی . . شیرو زور سے کر اور زور سے لگا . رگڑ کر رکھ دے چوت کو اسکی پیاس بجھا دے جانو . وہ شیرو کے بازؤں کے مسلز کو پکڑے شیرو کے ہر دھکے کا اپنی گاند اٹھا کر جواب دیتی . بیگم صاحبہ کی موننگ لذت بھری آہوں اور آوازوں سے ظاھر ہو رہا تھا کہ وہ پھر منزل ہونے والی ہیں . شیرو نے بیگم صاحبہ کی ٹانگوں کو اپنے شانوں پر رکھ لیا ا ور تابڑ توڑ ڈھیکے لگانے لگا اسکی سانسوں کی تیزی کمرے میں گونجنے لگی لگ رہا تھا کہ وہ کسی وقت بھی آ سکتا ہے . بیگم صاحبہ کے چہرے کے تاثرات لذت کی انتہا چھونے کی بدولت عجیب تاثر دے رہے تھے مجھ میں بھی مزے کی لہر اٹھی میں نے آنکھیں بند کر لیں اور اپنے اپ سے کھیلنے لگی میں مدہوش ہو کر اپنے آپ میں مگن تھی کہ دفعتاً ایسے لگا جیسے شیرو نے مجھے پکارا ہو نوشی . نوشی نوشی ؛ اس کے ساتھ ہی کمرے میں ایک تھپڑ کی آواز گونجی میں نے آنکھیں کھول دیں اور بے خودی میں میرا ہاتھ کھڑکی سے جا لگا اور وہ تھوڑا سا کھل گئی دیکھا تو شیرو اپنے گال پر ہاتھ رکھے بیگم صاحبہ کو دیکھ جا رہا ہے ” میں تجھے نوشی لگتی ہوں ” بیگم صاحبہ نے بڑے غصہ سے شیرو سے پوچھا . ” نہیں بیگم صاحبہ میں نے ایسے کب کہا ” شیرو بولا تو مجھے سمجھ ائی کہ جب شیرو چھوٹنے لگا ہوگا تو لذت سے مغلوب ہو کر اس نے میرا نام لیا ہوگا ہو سکتا ہے وہ خیالوں میں مجھے چود رہا ہو , میں یہ سوچ کر دل ہی دل میں مسکرانے لگی مگر مجھے خیال ہی نہیں رہا تھا کہ کھڑکی تھوڑی سی کھل گئی تھی , میں نے جب اندر دیکھا تو بیگم صاحبہ کو اپنی طرف دیکھتے پا کر میں حواس باختہ ہو گئی اور پچھلے پاؤں پیچھے ہٹنے لگی پھر جلدی سے اپنے کمرے میں جا کر دروازہ کو چٹخنی لگائی اور کھڑکی بھی بند کر دی . میرے سانس تیز چل رہے تھے اور میرا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا میرے ہاتھ اپنی ٹانگوں پر ٹکے تو پاجامہ گیلا سا لگا ؛ میری رانیں اپنے ہی شیرے سے بھیگی ہوئی تھیں میں غسل خانے میں گئی اور پاجامہ اتار کر میں نے بدن پر پانی ڈالا .اپنی ناف سے لے کر نیچے ٹانگوں میں اور ٹانگوں کو اچھی طرح صا ف کیا اور بیڈ روم آ گئی چارپائی پر بیٹھ کر سوچنے لگی اب کیا ہوگا ؟- سوچوں اور گمانوں میں نیند کی دیوی مجھ پر غالب آ گئی . میری آنکھ دروازہ پر ہلکی ہلکی دستک پر کھلی . سوچنے لگی کون ہو سکتا ہے ؛ بیتی رات کا اک اک پل یاد انے لگا دروازہ کھولوں کہ نہیں ؛ کہیں شیرو ہی نہ ہو . ان ہی گمانوں میں مبتلا میں ڈری سہمی یوں ہی بیٹھی رہی . تھوڑی دیر بعد پھر ذرا زور سے دروازہ کھٹکھٹایا گیا اور میں دھڑکتے دل سے دروازہ کھولنے کے لئے اٹھی میں دھڑکتے دل سے دروازہ کھولنے کے لئے اٹھی اور کانپتے ہاتھوں سے چٹخنی کھول دی . سامنے بیگم صاحبہ کھڑی تھیں “سلام بیگم صاحبہ ” ان کو دیکھتے ہی میں بے اختیار بول اٹھی ” جیتی رہو بیٹی ؛ میں نے سوچا آج ناشتہ یہیں تمہارے کمرے میں کریں ” یہ کہتے ہوئے بیگم صاحبہ کمرے کے اندر داخل ہوئیں تو زلیخا بھی ناشتہ کی ٹرالی لئے ہوئے ان کے پیچھے تھیں میں نے جلدی جلدی صاف کرسی کو کپڑے سے جھاڑا اور بیگم صاحبہ کو بیٹھنے دعوت دی .. میں اسی وقت سو کر اٹھی تھی مجھے اندازہ نہیں تھا ٹائم کیا ہوگا . میں بیگم صاحبہ سے معذرت چاہتے ہوئے فریش اپ ہونے کے لیۓ غسل خانہ کی طرف بڑھی اور جلدی جلدی اپنے آپ کو سیٹ کرنے لگی ” زلیخا اب تم جاؤ میں ناشتہ لگا لونگی ” بیگم صاحبہ کو زلیخا سے کہتے ہوئے میں نے سنا ” جی بیگم صاحبہ ” زلیخا یہ کہتے ہوئے کمرے سے نکل گئی – دروازہ کے بند ہونے کی آواز سے میں نے یہی اندازہ لگایا میں فریش اپ ہو کر غسل خانے سے نکلی تو بیگم صاحبہ میز پر ناشتہ چُن رہی تھیں میں نے اگے بڑھ کر ان کا ہاتھ بٹایا . اور پھر میز کے مختلف سائیڈز پر یعنی آمنے سامنے . میں نے بٹر ٹوسٹ کے ساتھ چاہے لی اور بیگم صاحبہ نے دلیہ پر اکتفا کیا . ہم آہستہ آہستہ ناشتہ کرنے میں مشغول تھیں . ہم دونوں ایک دوسرے سے آنکھیں چراتی خاموش سی کوئی بات کرنے کی بجاۓ اپنے اپنے خیالات میں کھوئی ہوئیں تھیں . صاف ظاھر ہے ہم دونوں بہت کچھ کہنے کے باوجود ہمت نہ یا رہی تھیں یا الفاظ ہمارا ساتھ نہ دے پا رہے تھے . مختلف قسم کے اندیشوں میں گھری اندر ہی اندر میں ایک خوف کی کیفیت محسوس کر رہی تھی . آخر کار ناشتہ ہو گیا تو بیگم صاحبہ اٹھ کر غسل خانہ میں گیں ؛ میں نے اتنے میں برتن ٹرے میں رکھ کر ٹرالی پر رکھ دئیے . بیگم صاحبہ باھر نکلیں اور کرسی پر بیٹھ گئیں ؛ میں بھی سامنے کرسی بیٹھی . ” بیٹی ؛ بیگم صاحبہ نظریں جھکاۓ گویا ہوئیں “جی بیگم صاحبہ ” میں نے انہیں دیکھتے ہوے کہا ” میں جانتی ہوں کل رات تم مرے کمرے کے باھر تھیں ” بیگم صاحبہ دھیمی آواز میں بولیں ” سوری بیگم صاحبہ میں نے شور سنا تھا تو باھر آئ تھی ؛ آپ اطمینان رکھیں یہ سب کچھ مجھ تک محدود رہے گا ” میں نے کہا بیگم صاحبہ کہنے لگیں ” تم نہ بھی کہتی تو بھی مجھے تم پر اعتبار ہے تم میری بیٹی جیسی ہو اور ماں بیٹی ایک دوسرے کی دوست اور رازدار ہوتی ہیں . ” ” مجھے معلوم نہیں کہ تم میری مجبوری سمجھ سکو گی یا نہیں مگر یقین جانو میں مجبور تھی اور مجبور ہوں . بیگم صاحبہ روہانسی ہو کر بولی تو میرا دل بہت دکھا . میں نے ان کا ہاتھ جو کہ میز پر تھا اسے پکڑ لیا اور ان سے کہا کہ ” مجھے آپکی مجبوریوں کا بخوبی احساس ہے بیگم صاحبہ اور میں آپکو کوئی دوش نہیں دیتی . میرے دل میں اپ کے لئے جو عزت کل تھی وہی مقام آج بھی ہے . “جیتی رہو بیٹی مجھے تم سے یہی امید تھی سدا سہاگن رہو تم نے میرے سر سے بہت سا بوجھ ہٹا دیا ہے – ورنہ کل رات سے میں بہت زیادہ پریشان تھی ” بیگم صاحبه سکوں کا سانس لیتی ہوئی بولیں ” آپ بے فکر رہیں بس یہی سمجھیں میں کچھ نہیں جانتی ” میں بولی ” مجھے تم پر اعتبار ہے مگر فکر مند تو ہوں . شیرو کے لئے یقین مانو اس نے آج تک مجھ سے بے وفائی نہیں کی مگر تمہارے بارے اس کی نیت مجھے اچھی نہیں لگ رہی اس لئے میں فکر مند ہوں . وہ دل کا بہت اچھا ہے مگر ضدی بھی بہت ہے . مجھے بیٹی تم سے یہ کہتے ہوے بہت سُبکی محسوس ہو رہی ہے مگر عورت ہوتے هوئے مجھے جسم کے تقاضوں کا اچھی طرح سے اندازہ ہے . مرد سے دوری ناقابل برداشت ہوتی ہے پھر جوانی میں تو یہ ایک ظلم ہی ہے . بیٹی ارمان تم سے دور ہے اور کب آ پاۓ گا کچھ نہیں کہ سکتے میں تو یہی کہونگی جب بھی بدن کے ارمان جاگیں اور تم ان کے اگے ہارنے لگو تو شیرو کو ارمان کا نعم البدل سمجھنا میری طرف سے تم کو اجازت ہے . گر تم اس کے ساتھ بنا کر نہ رکھنا چاہو اور پسند نہ کرو تو یقین جانو میں ہر حالت میں تمہارا ساتھ دونگی اور میری انتہائی کوشش ہو گی شیرو تمھارے نزدیک نہ پھٹک سکے . میری ساس ایک نآئیکہ کی مانند شیرو کے لئے ورغلا رہی تھی – میں خود بھی شیرو سے چدوانا چاہتی تھی اس کو بیگم صاحبہ کو چودتے ہوئے میں دیکھ چکی تھی – ابھی تک اسکا اکڑا ہوا لن میری نظروں کے سامنے تنا کھڑا تھا اس کے دھیکے جھٹکے مارنا اس کے چودنے کا انداز سب کچھ ہی تو مثالی تھا . میں تو شیرو کو اپنی ٹانگوں میں جکڑنے کے لئے پچھلی رات ہی سے تیار تھی . اب بھی اس سے چدوانے کے تصور سے ہی میری چوت پھدکنے لگی ہے . مگر اس طرح سے نہیں کہ میری ساس مجھے اتنی آسانی سے لے . ” کیسی بات کر رہی ہیں آپ بیگم صاحبہ . ایسا سوچیں بھی نہیں میں ارمان کی امانت ہوں جب تک وہ و اپس آ کے اپنی چراگاہ میں نہ چر لے . اس کی حفاظت اپنی جان دے کر بھی کرونگی – مگر اگر شیرو مجھ پر حاوی ہو گیا تو پھر الگ بات ہو گی . بہر حال اپ اسکو تلقین کر دیں اس کی بہتری اسی میں ہے کہ وہ میرا خیال دل سے نکال دے . ” میں نے وارننگ دیتے ہوے کہا “میں اسے ضرور سمجھاونگی بیٹی مجھے امید ہے وہ سمجھ جایئگا ” بیگم صاحبہ کے لہجے میں بے یقینی عیاں تھی . ” بیگم صاحبہ مجھے تو شیرو کوئی اچھا آدمی نظر نہیں آتا آپ اس کے چنگل میں کیسے پھنس گئیں . ” میں نے ان سے اپنائیت سے پوچھا یہ ایک لمبی داستان ہے مگر اب وقت نہیں مجھے اب باہر اک میٹنگ میں جانا ہے مگر آج رات کو میں خود یہاں آؤنگی اور اس داستان کا ایک ایک ورق پڑھ کر سناونگی . میں خود کب سے کسی سے سب کچھ بتا دینے کو بے چین ہوں . بیگم صاحبہ نے اٹھتے ہوے کہا . میں نے بیگم صاحبہ کو سی آف کیا بیگم صاحبہ میری پیشانی چومتے ہوئے مجھے اپنا خیال رکھنے کا کہہ کر کمرے سے نکل گئیں – میں اپنے آپ کو کچھ ہلکا پھلکا سا محسوس کرنے لگی . یوں ہی بیڈ پر لیٹی تو آنکھ لگ گئی , پھر دروازے پر ناک ہوئی تو آنکھ کھل گئی ؛ ” اندر آ جاؤ دروازہ کھلا ہے ” میں نے اونچی آواز میں کہا , سوچا زلیخا ہوگی مگر دروازہ سے اندر آنے والا کوئی اور نہیں شیرو تھا . میں چارپائی پر لیٹی ہوئی تھی . اسے اپنے کمرے میں دیکھ کر میں حواس باختہ سی ہو گئی اور اٹھ کر چارپائی پر بیٹھ گئی . “سلام نوشی جان ” ؛ کہتے ہوے شیرو کرسی پر بیٹھ گیا اس کی بیباکی نے متاثر کیا ؛ مگر میں نے سنجیدہ ہوتے ہوئے اس سے کہا ” کہئے کیسے آنا ہوا شیر خان ” وہ پہلی بار میرے کمرے میں آیا تھا ” بس یونہی یہاں سے گزرا تو سوچا آپ کو دیکھتا جاؤں ” وہ بولا تھنکس لیکن میں بیمار تو نہیں کہ آپ دیکھنے آئے . ارے بیمار ہوں آپ کے دشمن گر خُداناخواستہ آپ بیمار ہوتیں تو میں پھول بھجوا دیتا خود نہ آتا ” شیرو نے عجیب سی بات کی “تیمار داری تو کار ثواب ہے اور آپ تیمار داری سے پرہیز کرتے ہیں ” میں نے ذرا طنزا کہا . تو شیرو نے کہا . ” ایسی بات نہیں مجھے ہشاش بشاش چہرے اچھے لگتے ہیں جن کو دیکھ کر دل باغ باغ ہو جاۓ . جیسے کہ آپ ہیں ترو تازہ . معذرت چاہتا ہوں گر معلوم ہوتا اپ آرام فرما رہی ہیں تو کبھی مخل نہ ہوتا ” یہ کہتے ہوے شیرو اٹھ کر کھڑا ہو گیا ” ارے کیا اپ بلا وجہ آۓ تھے کوئی کام نہیں تھا .” میں نے حیرانگی سے پوچھا ” محترمہ میں نے عرض کی نا آپکو دیکھنے کے لئے دل چاہا تو چلا آیا ” شیرو نے بیباکی سے کہا . او کے ؛ ” شیر خان” میں نے اسے رخصت کرنے کے انداز میں کہا ” نوشی جان مجھے سب شیرو کہتے ہیں آپ بھی شیرو کہا کریں ” شیرو بولا ٹھیک ہے شیرو میں اپنے نام سے بلایا جانا پسند کرتی ہوں اور میرا نام نوشین ہے کہتے هوئے میں دروازے کی طرف بڑھی ؛ میں چونکہ نیند سے اٹھی تھی تو میرے بال بکھرے ہوئے تھے شیرو میرے پیچھے تھا ڈھیلے سا پاجامہ اور کھلی شرٹ کے علاوہ میں نے کچھ نہ اوڑھ رکھا تھا . دروازے سے نکل کے ہم برآمدے میں آ گئے تو میں رک گئی تاکہ وہ نکل جاۓ شیرو کہنے لگا . ” ارمان کتنا خوش نصیب ہے جس کی آپ شریک حیات ہیں . ” ” اچھا جی ” میں نے یوں ہی اپنی دلچسپی چھپاتے هوئے کہا جی وہ کیا کہتے ہیں ” نیند اُس کی ہے، دماغ اُس کا ہے ، راتیں اُس کی تیری زلفیں جس کے بازو پر پریشاں ہو گئیں “
شیرو کے منہ سے غالب کا شعر سن کر میں حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی اس سے پہلے کہ میں کوئی جواب دیتی وہ مجھے رب راکھا کہتا ہوا تیز قدموں سے چلتا ہوا باھر کی جانب نکل گیا . میں اسے جاتے دیکھتی رہی . اس کے فلرٹنگ کا انداز اچھا لگا تھا . صاف ظاھر ہے اس کے آنے کا کوئی مقصد تو ہوگا ہی . ہو سکتا ہے میرے ساتھ پی آر او بڑھانے کا ہو ؛ شیرو ادبی ذوق رکھنے والا فرد لگا ؛ اسکی بات چیت کا انداز اس کے تعلیم یافتہ ہونے کی چُغلی کھا رہا تھا ؛ ایسے ہی خیالوں کے دھارے کے ساتھ ساتھ بہتے ہوئے میں نے شاور لیا – دوپہر ڈھلنے والی تھی . میں برآمدے میں نکل کے دیکھنے لگی کہ بیگم صاحبہ آ گئیں ہیں کہ نہیں سامنے سے زلیخا کو اپنی جانب آتے ہوئے دیکھ کر میں سمجھ گئی وہ کھانے کے لیے بلانے آ رہی ہوگی . مجھے کوئی خاص بھوک نہ تھی پھر بھی میں نے سلاد اور رآئتہ لیا . اس کے بعد اپنے کمرے میں آ کر نکو لاس سپارکس کے ناول ” د ا نوٹ بُک ” کا مطالعہ کرنے لگی . ساۓ ڈھلنے ہی چآہے لینے کے بعد زلیخا کے ساتھ میں چہل قدمی کو نکلی . واپسی پر اصطبل کے پاس سے گزرتے هوئے گھوڑوں کو دیکھنے کے لئے رک گئی . مجھے گھوڑے بہت پسند ہیں پہلے تو میں ان کے قریب جانے سے بھی ڈرتی تھی . مگر ارمان نے ان کے قریب جانے ان پر ہاتھ پھیرنے کا حوصلہ دیا . اب میں شام کو چہل قدمی کے بعد ضرور گھوڑوں کے پاس رکتی انکو کھجاتی . آج بھی مجھے قریب آتے دیکھ کر گھوڑے ہنہناے . ایک مشکی گھوڑے نے اپنا سر میرے سامنے نگوں کیا تو میں اسکے سر ماتھے کو کھجانے لگی زلیخا بھی دوسرے گھوڑے کو کھجا رہی تھی . . اتنے میں شیرو کے کوارٹر کی طرف سے شیرو اور بیگم صاحبہ کو آتے دیکھا تو نہ جانے مجھے کیوں جلن سی ہونے لگی . رات کو مل چکے تو اس وقت ملنا ضروری تھا کیا ؛ . اتنے میں وہ دونوں قریب آگئے . میں ان کی طرف پلٹی اور بیگم صاحبہ کو سلام کیا “جیتی رہو بیٹی خوش رہو کہتے ہوئے بیگم صاحبہ نے میری پیشانی چوم لی . ” واہ کسی کے ہاتھ کا ٹچ بھی میجک ہوتا ہے ” شیرو بولا ” کیا مطلب ” بیگم صاحبہ نے اس سے پوچھا . میری نظروں میں بھی سوال تھا . شیرو کہنے لگا ” دیکھیں ناں کسی کے چُھو لینے جو غائب تھا وہ مستعد ہو کر حاضری لگوا رہا ہے ” یہ کہتے ہوئے وہ جس گھوڑے کو میں کھجا رہی تھی کی پچھلی ٹانگوں میں دیکھنے لگا ہم سب بھی اسی طرف دیکھنے لگے میں نے شرما کر نظریں جھکا لیں اصل میں گھوڑا مست تھا اور اسکا ہتھیار اکڑ کر سلامی دے رہا تھا . بیگم صاحبہ جھینپتے ہوئے شیرو کو غصہ سے بولیں . ” کئی بار ایسی بیہودگی سے تم کو منع کر چکی ہوں تم باز نہیں آتے ہو .” “میں تو مذاق کر رہا تھا جی ” شیرو نے کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے کہا . ؛ ” مذاق کا بھی کوئی موقع محل ہوتا ہے شیرو ” بیگم صاحبہ اسے ڈانٹنے کے انداز میں کہا . میرا خجالت سے برا حال تھا . . زلیخا دوپٹہ دانتوں میں دباۓ دبی دبی ہنسی رہی تھی . اسکی نظریں گھوڑے کے راڈ پر ٹکی ہوئی تھیں جو کبھی ڈھیلا ہو کر لٹک جاتا اور اچانک زور سے گھوڑے کے پیٹ سے جا لگتا . میں ادھر ادھر دیکھ کر اسے بھی دیکھ لیتی میرا من بہت کچھ کرنے کو کر رہا تھا ٹانگوں کے سنگم میں ٹکلنگ ہونے لگی اتنا لمبا موٹا پھر لوہے کے راڈ جیسا سخت ؛ اس سے آگے میں سوچنا ہی نہیں چاہتی تھی . شیرو ایک نوکر کو گھوڑوں اور دوسرے مویشیوں کو چارہ ڈالنے کے لئے بلانے لگا . واپس آ کر فریش اپ ہونے کے بعد بیگم صاحبہ اور میں نے ڈنر کیا اور بیگم صاحبہ دن بھر کی کروائی بتاتی رہیں . وہ اچھا خاصا بزی رہی تھیں . میں نے ان کو بتایا کہ شیرو دن کو میرے کمرے میں آیا تھا تو چونکیں اور پوچھا اس نے کوئی غلط بات یا حرکت تو نہیں کی تھی اگر تم نہ چاہو تو اسے کمرے میں آنے سے روک سکتی ہو” “جی نہیں تھوڑی دیر بیٹھ کر چلا گیا تھا ” . میں نے ان کو بتاتے ہوئے پوچھا شیرو لکھا پڑھا دکھتا ہے ؛ تو وہ بولیں ” اس نے انٹرمیڈیٹ کالج میں کیا تھا اور گریجویشن پرائیویٹ کی ؛ ویسے پڑھنے لکھنے کا شوق رکھتا ہے . اس کے کمرے میں کافی کتابیں ہیں پوری الماری بھر رکھی ہے اس نے ” بیگم صاحبہ نے میری معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے بتایا پھر بولیں ” بیٹی میں نے آج . رات کو اپنے ماضی کے بارے بات کرنی تھی مگر اتنا تھک چکی ہوں کہ کچھ کہہ نہ پاؤنگی اور یہ پورا ویک ہی بہت مصروف رہونگی لہٰذا اپنی پہلی فرصت میں تفصیل سے سب کچھ کہونگی . کوئی بات نہیں جب بھی دل چاہے یا وقت ملے نو پرابلم یہ کہتے ہوے میں اٹھی اور انکے ہاتھ پر بوسہ دیتے ہوے گڈ نائٹ کہہ کر اپنے روم میں آگئی
باتھ روم میں فرش اپ ہوئی اور باھر نکل کے سلیپنگ ڈریس جو کہ بغیر آستینوں کی شرٹ اور ڈھیلا ڈھالا پاجامہ پہنا اور سعادت حسن کا ایک افسانہ پڑھا مگر کچھ سمجھ نہیں ائی کہ کیا پڑھ رہی ہوں یوں لگا جیسے ذہن کہیں الجھا ہوا ہے . میں اٹھ کر کوئی اور کتاب دیکھنے لگی تو عصمت چغتائی کا لحاف ہاتھ لگا . تھوڑی دیر اسے الٹ پلٹ کرتی رہی مگر کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی . نیند بھی کوسوں دور نظر اتی , میں نے لیٹ جانا ہی مناسب سمجھا . میں نے کتاب کو رکھا اور لیٹ گئی . پھر کچھ خیال آتے ہی اٹھ کر دروازہ چیک کیا اسکی اندر سے چٹخنی لگی ہوئی تھی . بیڈ کے ساتھ والی کھڑکی کے پٹ کھول دئے – کھڑکی میں مضبوط جالی لگی ہوئی ہے ویسے تو برآمدہ کی وجہ سے اندھیرا رہتا ہے مگر پورے چاند کی چاندنی کھڑکی کے اندر مجھ تک پہنچ رہی تھی . – پورے کمرے میں ہلکی ہلکی روشنی سے ماحول رومانٹک سا لگ رہا تھا مجھے بہت ا چھا لگ رہا تھا , میں نے چادر اوڑھی اور آنکھیں بند کر لیں . میں لمبے لمبے سانس لینے لگی تاکہ نیند جلدی سے آجاۓ . اچانک اصطبل سے گھوڑے کے ہنہنانے کی آواز سنائی دی . مجھے فورا احساس ہوا میری الجھن کا سبب آج شام کا وہ حادثہ تھا جس کی بدولت کافی خجل ہوئی تھی میں . , سر سے جیسے بوجھ اتر گیا ہو . سارا واقعہ آنکھوں کے سامنے گھومنے لگا . گھوڑے کا سر کو میرے سامنے جھکانا میرا اس کے سر اور پیشانی پر پیار سے ہاتھ پھیرنا اسکا تھوڑی تھوڑی دیر بعد اپنے منہ کو میری ٹانگوں میں گھسیڑنا اور پھر اس کا مست ہو جانا سب کچھ سوچ کر میں خود گرم ہونے لگی . گر شیرو توجہ نہ دلاتا تو ہم وہ نظارہ کیے بنا ہی واپس آ جاتے اور اس وقت میں آرام سے سو چکی ہوتی . مگر گھوڑے کا ہتھیار آنکھوں کے آگے سے ہٹتا تو آنکھوں میں نیند آتی – اس کا تصور ہی جان لیوا تھا گھوڑی کا ہی حوصلہ ہے یہ اتنا سخت لمبا اور موٹا ڈنڈا لیتی ہوگی . ہمارے بس کی تو بات نہیں . ویسے لگتا خوبصورت تھا دل کو لبھانے والا . دل چاہتا تھا اسے ایک بار چُھو کر دیکھے . میری ٹانگوں کے بیچ خیزش سی محسوس ہونے لگی میرا ہاتھ وہاں پاجامہ سے اوپر ہی سے مسلنے لگا میری آنکھیں بند ہونے لگیں اور دوسرا ہاتھ شرٹ کے نیچے سے میرے مموں کو دبانے لگا . میں مزہ لینے لگی تھی گھوڑے کے بڑے لن کا خیال نے مجھے گیلا کر دیا تھا میرا ہاتھ پاجامہ کے اندر میری چوت کو مساج کرنے لگا دوسرا ہاتھ کبھی ایک نپل اور کبھی دوسرے نپل کی نبلنگ میں لگا تھا . میں سکوں سے مزہ لینے لگی میں کبھی کبھار ہی ماسٹر بیٹنگ کرتی ہوں مگر جب بھی کروں تو پھر خاصا طویل لے جاتی ہوں تاکہ خوب انجواۓ کر سکوں . یہی خیال لئے میں اپنے آپ میں مگن تھی . میری آنکھیں بند تھیں . اچانک محسوس ہوا جیسے چاند کے سامنے بادل آگیا ہو . میں نے آنکھیں کھولیں تو کوئی سایہ سا کھڑکی کے سامنے نظر آیا . میرے ذہن میں فورا شیرو کا خیال گیا اور میں نے جلدی سے اپنا ہاتھ پاجامہ سے نکال لیا اور مموں کو بھی چھوڑ دیا . میں سوتی بن گئی مگر کنکھیوں سے شیرو کی حرکات کا جائزہ لینے لگی . وہ خود تو سامنے نہیں تھا مگر اس کا سایہ نظر آ رہا تھا . وہ مجھے چھپ کر دیکھ رہا تھا کل رات کو بھی وہی دیکھ رہا تھا , پھر وہاں سے بیگم صاحبہ کے کمرے میں گیا تھا . میں مزے لے رہی تھی مگر اب شیرو کے سایے نے مجھے ڈسٹرب کر دیا تھا کیا کروں میری چوت میں کھجلی بڑھتی جا رہی تھی اسے اور کچھ نہ ملے تو کم از کم انگلی کی شدید ضرورت تھی . اب کیا کروں ؛ دفعتا میرے دماغ میں شیرو کو ستانے کا خیال در آیا . کیوں نہ میں اسے ٹیز کروں ؛ یہ بھی یاد رکھے گا کس سے پالا پڑا ہے اسکا . ویسے یہ تو میں جان چکی تھی وہ مجھے چودنے کے لئے مر رہا ہے اور میں خود بھی اسکا لوڑا لینے کے لئے بے چین تھی مگر میں اپنی طلب کے مطابق ہی اس سے استفادہ کرونگی نہ کہ جب وہ چاہے مجھے اپنے مزے کے لئے استمعال کرے ؛ میں چاہتی تھی اسے ٹیز کر کے اپنا دیوانہ بنا دوں تاکہ مجھے چودنے کے لئے یہ پاگل ہو جاۓ یہ سوچتے ہوئے میں نے ایک بھرپور انگڑائی لی جس سے میرے ابھار اوپر ہو کر نظارہ دینے لگے چاند کی چاندنی نے کمرے میں زیرو بلب کی سی روشنی کی ہوئی تھی ؛ سب کچھ تو نہیں مگر بہت کچھ نظر آ رہا تھا , میں سوتے وقت برا پینٹی سے پرہیز کرتی ہوں . بس لوز سے ہلکے پھلکے ٢ کپڑے کافی ہوتے ہیں . میں نے اپنا گیم شروع کر دیا . میں ایسے پوز کرنے لگی جیسے سو رہی ہوں اور خواب میں خود سے کھیل رہی ہوں . میں نے دوبارہ انگڑائی لی اور چارپائی پر ڈھیلی سی ہو گئی . میں نے کنکھیوں سے ساۓ کی طرف دیکھا تو وہ وہیں موجود تھا میں ہولے ہولے اپنے ہاتھ جسم پر پھیرنے لگی . ابھی تک چادر میرے بدن پر تھی . میں نے چادر کے اندر ہاتھ ڈال کر مموں کو سہلانا شروع کر دیا شیرو میرے ہاتھ کی حرکات و سکنات دیکھ کر اندازہ لگا سکتا تھا کہ چادر کے نیچے کیا ہو رہا ہے . ایک ہاتھ کو میں نے مموں پر چھوڑا اور دوسرے سے اپنی بیلی سے ہوتے ہوئے ٹانگوں کے سنگم پر لے آئ اور مساج کرنے لگی میں نے کنکھیوں سے ساۓ کو آگے ہوتے ہوئے دیکھا جیسے وہ میری ٹانگوں کے درمیان کچھ دیکھنا چاہا رہا ہو . میں دل ہی دل مسکرائی شیرو یونہی فکرمند ہو رہا ہے اسکو تو نظارے کرادونگی بہت کچھ اسے دیکھنے کو ملے گا ؛ میں نے آہستہ آہستہ اپنی بیلی تک چادر اتار دی . پیٹ پر ہاتھ پھیرتے پھیرتے میں نے شرٹ کے درمیانی ٢ بٹن کھول دئے اور ہاتھ اندر کر کے اپنی بیلی پر پھیرتے پھیرتے اپنے مموں کو دبانے لگی . یہ سوچ کے کہ کوئی مجھے خود سے کھیلتے ہوئے دیکھ رہا ہے مجھے عجیب سا سرور انے لگا ایسا کبھی پہلے محسوس نہ ہوا تھا نہ کبھی ایسا کچھ کرنے کا خیال آیا تھا . . یہ سوچ کر کہ کوئی مجھے چوری چھپے دیکھ رہا ہے اور وہ یہ سمجھ رہا ہے کہ میں بے خبر ہوں میرے جسم میں ایک سنسنی کی لہر سی دوڑ گئی . میں نے چادر ٹانگوں پر سے بھی اتار دی اور پاجامے کے اوپر سے ٹانگوں کے سنگم میں مساج کرنے لگی . ساۓ کی حرکت سے میں سمجھ گئی کہ وہ بے چینی محسوس کرنے لگا ہے ؛ میں نے شرٹ کے ٢ بٹن مزید کھول دئے جس سے میرے ممے آدھے سے زیادہ دکھنے لگے مگر نپلز اب بھی پردے میں تھے . میں اپنا ہاتھ پاجامے سے اندر کیا اور اپنی چوت کو مساج کرنے لگی . سایہ آگے پیچھے ہونے لگا اسی اثناء میں میں نے شرٹ کا اوپر کا بٹن بھی کھول دیا جس سے میرے ممے آزاد ہو گئے اور اپنے مموں پر ہاتھ پھیرنے لگی اور نپلز کو مسلنا شروع کر دیا . شیرو پریڈ سی کرنے لگا کیونکہ اسکے جوتوں کی آواز سے محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے کبھی ایک پاؤں پر دباؤ ڈالتا ہے کبھی دوسرے پاؤں پر . یہی تو میں چاہتی تھی وہ تڑپے کچھ کرنا چاہے تب بھی کچھ نہ کر پاۓ . میں نے چوتڑ اوپر اٹھاۓ اور پاجامہ اپنے گھٹنوں تک کر دیا . میں نے گھٹنے کھڑے کر لئے وہ چوت نہ دیکھ سکے اور چوت کو مساج کرنے لگی دوسرا ہاتھ مموں سے کھیل رہا تھا . میں اپنے منہ میں انگلی ڈالتی اور پھر نیپلز کو اپنے لعاب سے گیلا کرتی اور انہیں مسلتی . مجھ پر ایک مستی سی چھاتی جا رہی تھی میں نے ٹانگیں سیدھی کیں اور چوت کے دانے پر انگلی کو رگڑنے لگی – اب سایہ سامنے آ کر کھڑا ہو گیا تھا وہ کھڑا تھا اور چونکہ میں لیٹی ہوئی تھی میں اس کو چھاتی تک دیکھ سکتی تھی . اس کا سر کھڑکی سے اوپر تھا مگر وہ مجھے نیچے لیٹے دیکھ رہا تھا . اس کے خیال میں ؛ میں سب کچھ سوتے میں کر رہی تھی . میں اسے کنکھیوں سے ہی دیکھ رہی تھی . اس کا ہاتھ اسکی شلوار میں تھا اور حرکت میں تھا . میں چوت میں انگلی ڈالی اور آگے پیچھے ہلانے لگی ادھر انگھوٹھے سے چوت دانے کو مسلتے ہوئے میری سسکیاں نکلنا شروع ہو گئیں . میں لذت سے دہری ہو جاتی اور ہاۓ میں مر گئی ا ور زور سے چودو ارمان پلیز ؛ اب رکنا نہیں ؛ جانو بہت مزہ آ رہا ہے ؛ شیرو کے لئے میں سوتے میں بڑ بڑا رہی تھی . شیرو نے اپنا لن شلوار سے باھر نکال رکھا تھا . اب اس نے قمیض لن کے اوپر سے ہٹا دی اور زور زور سے لن کی مٹھ مارنے لگا
اسکا لن دیکھ کر میری تو جان پر بن ائی اکڑا ہوا لن اور اسے مٹھاتے ھوے دیکھ کر میرے بدن میں شہوت کی اک لہر اٹھی اور میں ٣ انگلیاں چوت میں ڈال کر ہلانے لگی اور تھوڑی ہی دیر میں جھڑ گئی . میرے منہ سے ایک لذت بھری چیخ نکلی اور میں لگی گئی . میں ایسے چونکی کہ جیسے اب جاگی ہوں نیند سے . شیرو کا سایہ پیچھے ہٹنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے برآمدے کی دوسری طرف گیا ؛ میرے خیال میں وہ بیگم صاحبہ کے پاس گیا ہوگا . میں شیرو کو ٹیز کر کے بڑی خوش تھی اور جلد ہی سو گئی . صبح زلیخا نے اٹھایا اور بتایا کہ بیگم صاحبہ اور شیرو آج جلد نکل گئے تھے کوئی کورٹ کچہری کا معاملہ تھا . آپ کے لئے ناشتہ کب تیار کریں میں نے اسے بتایا کہ میں شاور لے کر آتی ہوں ناشتہ کے لئے. . میز پر عصمت چغتائی کی کتاب ” لحاف ” دیکھ کر چونکی اور جاتے جاتے رک گئی کتاب اٹھا کر میری طرف اس نے کچھ عجیب سی نظروں سے دیکھا اور مجھ سے پوچھنے لگی ” بیبی جی آپ کو یہ کتاب کیسی لگی ” ” کیا تم نے پڑھ رکھی ہے یہ کتاب ؟” میں نے الٹا اس کو سوال ڈال دیا “جی بیبی جی کئی سال پہلے پڑھی تھی جب میٹرک میں تھی تو میری اک ٹیچر نے دی تھی پڑھنے کے لئے . ” وہ بولی ” میں نے اسے بتایا کہ عصمت چغتائی میری پسندیدہ رایٹر ہے . میں نے پڑھی ہے لحاف . اچھی اور بہت دلچسپ کتاب ہے میں نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیکھا . وہ شرما سی گئی اس کی بلشنگ . کل شام بھی بہت اچھی لگی اور اس وقت تو بہت پیاری لگی خیر میں شاور لینے غسل خانے میں گئی اور خوب مزے سے نہائی میں شاور لے کر نکلی تو زلیخا بڑی اشتیاق بھری نظروں سے مجھے دیکھنے لگی , میں سادہ سے شلوار قمیض پہنے ہوے تھی اور میک اپ سے مجھے ویسے ہی الرجی ہے تو میں حیران ہوئی وہ اس طرح مجھے کیوں دیکھ رہی ہے . وہ کچن میں گئی اور انگلی پر توے کی کالک لگا کر میرے پاس آ کر میرے ماتھے پر کالک سے ایک بندیا سی بنا دی میں نے پوچھا یہ کیا ہے تو زلیخا کہنے لگی مجھے ڈر لگا کہ آپکو نظر نہ لگ جاۓ اس لئے کالک لگا دی . میں ہنس پڑی . ” پگلی کچھ نہیں ہوتا اور پھر مجھ میں کیا رکھا ہے کہ مجھے کسی کی نظر لگے گی ” تو زلیخا نے کہا ” بیبی جی کسی اور کا تو معلوم نہیں مجھے ہمیشہ اپنی نظر کا ڈر رہتا ہے کہ کہیں آپکو لگ نہ جاۓ ” . میں مسکرا دی . اب اس سے کیا بحث کرتی . چونکہ بیگم صاحبہ شیرو کے ساتھ باھر گئی ہوئی تھیں اس لئے ناشتہ زلیخا کے ساتھ کیا . ناشتہ کے دوران کتابوں کا ذکر آیا تو زلیخا سے پوچھا شیرو آج گھر نہیں ہے کیا اسکے کمرے تک رسائی ہو سکتی ہے ؟ ” جی گر باھر والا ڈور لاک نہ ہو تو کمرے کے ڈور کی چابی جہاں شیرو رکھتا ہے وہ جگہ جانتی ہوں “. زلیخا نے انکشاف کیا ؛ تو میں نے دریافت “کہ تم کیسے جانتی ہو ” ایک بار بیگم صاحبہ کو کو شیرو کے کمرے سے کچھ لینا تھا مگر شیرو گھر نہ تھا . تو بیگم صحبہ مجھے ساتھ لے کر گیں تھیں , کمرے کی چابی گلدان کے کے نیچے رکھی ہوئی تھی . زلیخا نے بتایا زلیخا ؛ “آپ کیوں جانا چاہتی ہیں شیرو کے گھر ” اس نے پوچھا ؛ تو میں نے کہا کل بیگم صاحبہ نے بتایا تھا کہ شیرو نے کمرے میں بہت سی کتابیں اکٹھی کر رکھی ہیں ” میں وہ دیکھنا چاہتی ہوں . تو ٹھیک ہے چلے چلتے ہیں اور زلیخا اور میں شیرو کے گھر کی طرف چل پڑیں جو اتنا دور نہ تھا باھر والا کو باھر سے کنڈا لگا تھا جو اتار کر ہم اندر داخل ہوئیں صحن سے گزر کر شیرو کے کمرے کے باھر ایک گملے کے نیچے دروازے کی چابی بھی مل گئی , اور زلیخا نے اس سے دروازہ کھولا اور ہم کمرے میں داخل ہوئیں . شیرو نے کمرہ بہت صاف ستھرا رکھا ہوا تھا اور واجبی سے سامان ضروریات کے مطابق کے علاوہ ایک دیوار کے کے ساتھ بہت بڑی الماری جو کہ ساری دیوار کو کور کرتی ہے ؛ میں ہر قسم کی کتابیں بڑی ترتیب کے ساتھ رکھی ہوئی ہیں دیکھ کر دل خوش ہو گیا مگر میرا پروبلم یہ ہے جب بہت سی کتابیں ہوں تو سب کو پڑھنا چاہتی ہوں اور پڑھ ایک بھی نہیں سکتی ؛ میں ایک کتاب لیتی اور پھر دوسری لے لیتی . زلیخا ایک طرف کرسی پر بیٹھ کر کوئی میگزین دیکھنے لگی . کچھ دیر کے بعد میں نے سوچا کسی کتاب کا انتخاب کرنا میرے مشکل ہے بعد میں شیرو سے ایک ایک منگوا لونگی . تو اٹھنے لگی مگر اچانک الماری کے دوسرے کنارے ایک کتاب باھر نکلی دیکھی تو خیال آیا کہ ہو سکتا ہے آج کل شیرو وہ کتاب پڑھ رہا ہو تو میں تیزی سے اس طرف مگر بےدھیانی میں زلیخا کے پاؤں سے الجھ کر گھٹنوں کے بل زمین آ رہی . درد کی ایک شدید لہر میری تانگ میں سرایت کر گئی . زلیخا نے مجھے اٹھنے میں مدد دی اور کرسی پر بیٹھ گئی . تھوڑی دیر بعد میں پھر اس کتاب کی جناب بڑھی اور اسے اٹھا کر وہیں سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ کر اسے دیکھنے لگی یہ کتاب نہیں ڈائیری تھی میں نے یونہی ورق گردانی کی اور سوچا کسی کی ڈائیری دیکھنا اچھی بات نہیں ؛ میں رکھنا ہی چاہتی تھی کہ میری نظر اپنے نام پر پڑی – ڈائیری میں میرے نام ” نوشین ارمان حیات ” کے ٹائٹل کے ساتھ ایک باب بنایا گیا تھا . بعد میں بہت سے ناموں کے باب بنے ہوئے دیکھے . زلیخا میری ٹانگوں اور گھٹنوں پر مساج کر رہی تھی اور بار بار مجھ سے پوچھ رہی تھی ” بیبی جی درد تو نہیں ہو رہا ” اس کا چھونا اچھا لگ رہا تھا مگر اب میں چاہتی تھی کہ میں اپنے بارے شیرو نے جو لکھا ہے وہ پڑھوں ؛ اس لئے زلیخا سے کہا میں بلکل ٹھیک ہوں فکر نہ کرے اور مساج کی بھی ضرورت نہیں . ” اچھی بات ہے بیبی جی جیسا اپ کہیں ” زلیخا نے کہا اور اٹھ کر کرسی پر بیٹھ کر میگزین دیکھنے لگی . ڈائری پر ہماری شادی کی تاریخ تھی . لکھا تھا خوش ہوں کہ ارمان کی شادی ہو گئی ہے میں اسکو بچپن سے جانتا ہوں . وہ چاندی کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہوا ہر اشایش مُيَسّر رہی سب کچھ بجا مگر آج اس کی دلہن دیکھ کر اسکی خوش قسمتی پر رشک آ رہا ہے کیا قسمت پائی ہے ارمان نے . ولیمہ پر ارمان نے اپنی دلہن نوشین کا تعارف کروایا تو دیکھ کر میں تو سمجھا کوئی جیتی جاگتی مورتی ہے . میں اسے دیکھتا رہ گیا . نوشین اک اچٹتی ہوئی نظر مجھ پر ڈالتے مسکرائی . تو میرے دل کی دھڑکن تک رک گئی اسکی تعارفی نظر مجھے گھایل کر گئی “کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا ” پھر نئی نویلی دلہن آس پاس بیٹھی خواتین سے محو گفتگو ہو گئیں کچھ دیر وہاں بیٹھ کر گاہے بگاہے اسے دیکھتا اور اس کے حسن سے محظوظ ہوتا رہا وہ جب مسکراتی یا کھلکھلا کر ہنستی تو بے ساختہ عدم کا یہ شعر یاد آ جاتا اس کے ہنسنے کی کیفیت، توبہ! جیسے بجلی چمک چمک جائے ” . میں جلد ہی اٹھ آیا کیونکہ میرا لن قابو سے باھر ہوتا جا رہا تھا ؛ اور اپنے کمرے میں آ کر بڑی مدت کے بعد نوشین کے تصور میں مٹھ ماری . “تصور میں تیرے مٹھ مارا کرتا ہوں میرا عشق ہے کم خرچ اور بالا نشیں . ” پھر ایک ہفتہ کی بعد کی تاریخ ہے {جب میں اور ارمان فارم پر ایک ہفتہ رہنے گئے تھے . تب کی بات ہے .} ڈائری میں لکھا ہے . مجھے خوشی ہے ارمان کے کہنے پر ایک ہفتہ کے لئے فارم پر دلہن اور دولہا کے قیام کا بندوبست کیا . جوڑا بڑا خوش رہا اور ہر قسم کی مستی کرتا رہا کئی بار احتیاط بھی نہ کر سکے اور بنا دیکھے کہ اور دیکھ بھی سکتا ہے شروع ہو گئے . ارمان کی خوش قسمتی کے کیا کہنے ؛ بیوی خوبصورت اور گرم بھی ہو ہر قسم کا تعاون بھی کرے تو مرد کو اور کیا چاہیے . فارم پر نوشین کے برہنہ بدن کی زیارت بھی ہوئی ” ایسے بھر پور ہے بدن اس کا جیسے ساون کا آم پک جائے ” واہ کیا مموں کی جوڑی ہے اور کھڑے گلابی نپلز کو دیکھ کر ان کو دانتوں سے چبانے کو جی چاہتا . وہ چلتی تو دل مچل اٹھتا اس کی پائل اگر چھنک جائے گردشِ آسماں ٹھٹھک جائے اس کے بھرے بھرے چُوتڑ دیکھ کر تو ہاتھوں میں کھجلی ہونے لگتی . ان کے قیام کے دوران نہ جانے کتنی بار مٹھ مارنی پڑی . ایک بات نوٹس میں آئ کہ ارمان حیات ٹھنڈا ہے بنسبت نوشین وہ شوق سے چدواتی مگر اسے وہ رسپونس نہ ملتا جتنا کہ ملنا چاہیے تھا کاش اس کی میرے ساتھ شادی ہوتی تو اس ایک ہفتہ میں ہی نوشی جان کو وہ کچھ دے دیتا جو زندگی بھر کے لئے اسے کافی ہوتا اگرچہ وہ مجھ سے 15-٢٠ سال چھوٹی ہوگی ؛ نہ جانے مجھے کیوں یقین ہے کہ ایک روز میں اسے وہ کچھ دے سکونگا جس کی وہ حقدار ہے . ارمان اسکی منزل نہیں ہو سکتا وہ نوشی کو ہینڈل کرنے کے قابل ہی نہیں ؛ ارمان کے جانے کے بعد نوشی پکے پهل کی طرح میری جھولی میں آ گرے گی پھر میں اسکے ارمان پورے کرونگا میں بنوں گا اسکی زندگی کا ارمان میں اس کے اپنے متعلق خیالات پڑھ کر گرم ہوتی جا رہی تھی میں نے زلیخا کی طرف دیکھا وہ بدستور میگزین پڑھنے میں مشغول تھی شیرو کے خیالات جان کر میں گیلی ہونے لگی تھی کچھ اور بھی واقعات لکھے تھے جو کوئی زیادہ اہم نہ تھے . پھر ٢ رات قبل کا ذکر تھا جس رات میں نے اسکو بیگم صاحبہ کو چودتے دیکھا تھا . تاریخ کے ساتھ ٹائم لکھ کر شیرو نے لکھا ” آج پھر میں دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر دل کی رانی نوشی جان کو دیکھنے کے لئے رات کے اندھیرے میں نکلا اور حسب توقع اسکی کھڑکی کھلی تھی اور وہ خواب استراحت میں مسکراتی ہوئی پری نظر آرہی تھی . اس کے سینہ کے زیرو بم سے دل کی دھڑکن تیز ہونے لگی اس کے سینے کا زیرو بم ، توبہ! دیوتاؤں کا دل دھڑک دھڑک جائے ” کافی دیر اس کے حسن دل پزیر سے آنکھوں کو سینکتا رہا پھر وہ شاید بیدار ہونے والی تھی اس نے ایک انگڑائی لی . “لے اگر جھوم کر وہ انگڑائی زندگی دار پر اٹک جائے ” اس سے پہلے کہ وہ بیدار ہوتی میں نے بیگم صاحبہ کے آستانے پر حاضری دی اور ابلتا ہوا لاوا اسے نوشی سمجھتے هوئے اسکی چمنی میں ڈال آیا . اف میری دھڑکنیں تیز ہو گئی تھیں اس کا مطلب ہے بیگم صاحبہ نے اسے میرے نہیں بتایا کہ میں انکو واچ کر رہی تھی اور یہ بہت اچھا ہوا زلیخا نے میری پیشانی پر پسینے کے قطرے دیکھ مجھ سے پوچھا ؛ آپ کی طبیت تو ٹھیک ہے بیبی جی “ہاں ٹھیک ہوں لٹس گو ” . میں بولی اور اٹھنے لگی تو ایک گھٹنے میں شدید درد ہوا . میں دبارہ بیٹھ گئی تو زلیخا نے گھبرا کے پوچھا ” کیوں بیبی جی کیا ہوا ؟ دوبارہ اٹھتے ہوے میں نے کہا ” کچھ نہیں معمولی سا درد ہے ٹھیک ہو جایئگا ” . اور اٹھ کھڑی ہوئی . میں نے ڈائری اسی جگه رکھی جہاں سے لی تھی اور زلیخا کے ساتھ شیرو کے کوارٹر سے باھر نکل آئ . سوچا پھر کبھی آ کر ڈائری پوری پڑھونگی . مجھے تھوڑا تھوڑا درد تو ہو رہا تھا مگر میں نے زلیخا سے نہیں کہا اور ہم باتیں کرتے ہوے اپنے گھر آ گئیں . لنچ کا ٹائم ہو چکا تھا لہٰذا سوچا لنچ کر کے اپنے کمرے میں جاؤں . زلیخا نے لنچ لگوایا اور زلیخا اور میں نے مل کر لنچ کیا . لنچ کر کے اٹھنے لگی تو پھر شدید درد ہوا اور زلیخا کو کیفیت بتائی تو وہ بولی ” بیبی جی ایسا نہ ہو کہیں میری نظر ہی نہ لگ گئی ہو آپ کو . ذرا ٹہریں اس کا توڑ کرتی ہوں اور یہ کہہ کر کچن میں چلی گئی تھوڑی دیر بعد ائی ایک توے پر اس نے سات سرخ مرچیں جلائی ہوئی تھیں اور میرے سر پر توا گھمانے لگی . بیبی جی اب بھی ٹھیک نہ ہوں تو ہو سکتا کوئی مسل دب گیا ہو ایک تو آپ درد کے لئے ٹیبلٹ لیں اور ساتھ میں مالش کروائیں ” میں نے پوچھا ” کوئی ہے جو مالش کرتی ہو تو بلا لو ” . ارے بیبی جی کسی کو بلانے کی کیا ضرورت ہے میں ہوں نا ؛ مالش کر لیتی ہوں امید ہے آپ کو آرام آجائیگا ” . زلیخا جلدی سے بولی . . یہ تو اور بھی اچھا ہے کہ تم گر مالش کر لیتی ہو تو کسی اور کو بلانے کی کیا ضرورت ہے ” میں نے کہا اور اٹھ کر کھڑی ہوئی زلیخا نے میرا بازو پکڑ لیا اور میرے ساتھ چلنے لگی . کمرے میں جا کر چارپائی پر لیٹ گئی . ” آپ کو دباتی ہوں گر آرام نہ آیا تو پھر تیل سے مالش کرونگی ” زلیخا بولی . ٹھیک ہے جیسا تمہاری مرضی کرو یہ سنتے ہی وہ چارپائی کی پائنتی کی طرف بیٹھ گئی . جس ٹانگ میں درد تھا اسے اپنی رانوں پر رکھ کے دبانے لگی . ٹخنے سے لے کر گھٹنے تک وہ پوری پنڈلی کو دباتی رہی . مجھے آرام سا آنے لگا . زلیخا تمہارے ہاتھوں میں میجک ہے ران کو بھی دبا دو . “جی بیبی جی ” کہتے ہویے وہ میری ران کو بھی دبانے لگی اس کا دبانا مجھے بہت اچھا لگ رہا تھا . پھر اس نے دوسری ٹانگ کو بھی اپنی ران پر رکھ کر دبایا . اس کے ہاتھوں کی لمس مجھے بہت ہی اچھی لگ رہی تھی . میں نے سوچا گر دبانے سے مجھے اتنا اچھا لگ رہا ہے تو مالش سے ہو سکتا ہے اور زیادہ اچھا لگنے لگے ویسے بھی میں نے کبھی مالش نہیں کروائی تھی . زلیخا “جیسے تم مجھے دبا رہی ہو ایسا لگتا ہے تم ایکسپرٹ ہو ” . کیا مالش بھی اتنی اچھی کر لیتی ہو میں نے اس سے پوچھا . ” جی بیبی جی مالش میں ہی ایکسپرٹ ہوں ” وہ بڑے فخریہ انداز میں بولی . ” پھر کیا خیال ہے ؛ مالش کروا لوں ممکن ہے جلدی آرام آ جاۓ ” یہ تو ہے تیل کی مالش تو ویسے بھی پنڈے کے لئے بہت اچھی ہوتی ہے . بیبی جی ” زلیخا نے بتایا ” تو پھر ٹھیک ہے تیل کی مالش ہی کردو تیل کہاں سے لو گی ” میں نے پوچھا . گھر میں تیل بہت ہے بیبی جی وہ لے آتی ہوں اور فریدہ سے کہہ آتی ہوں کہ مالش میں کچھ دیر لگ جایئگی یہ کہتے ہوئے وہ چارپائی سے اتر کر یہ جا وہ جا ؛ میں نے چارپائی سے اٹھ کر دیکھا تو اب درد نہیں ہوا ؛ شاید زلیخا نے ٹھیک اندازہ لگایا تھا کہ کوئی مسل دب گیا ہوگا . گھٹنے میں بھی درد نہیں تھا . . اتنے میں تیل کی بوتل اور تولیہ لئے زلیخا آ گئی . اور مجھے کہا کہ ایک بار چارپائی سے اتریں ؛ میں اتری تو اس نے تولیہ کو کھولا وہ ٢ تولئے تھے اور بڑے بڑے تھے ایک اس نے چارپائی پر بچھا دیا . دوسرا اس نے سائیڈ پر رکھ دیا اور مجھے بولی اپ کو ڈریس چینج کرنا ہوگا میں سمجھ گئی اور باتھ روم جا کر میں نے نیچے نائیلون کی نیکر اور اوپر سوتی بنیان پہنی اور آ کر چارپائی پر لیٹ گئی . زلیخا دروازہ اور کھڑکی بند کر چکی تھی اس نے ہاتھوں میں تیل لیا اور میرے پاؤں پر مالش کرنے لگی وہ واقعی ایکسپرٹ تھی انگلیوں سے لے کر ایڑیوں تک انگوٹھے انگلیوں کی مدد سے گوندھ کر رکھ دئے میرے پاؤں . ایسا لگا جیسے میری ساری تھکاوٹ اسکی انگلیوں میں منتقل ہوتی جا رہی ہے . اس نے بڑی خوبی سے تیل کو دھنسا دیا تو مزید تیل ہاتھوں میں لے کر اس نے پنڈلی پر مالش کی زور لگا کر اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر پنڈلی کے مسلز پر مالش کی پھر اسی طرح دوسری پنڈلی پر بھی زور آزمایا میں شانت ہوتی گئی پھر اس نے اٹھ کر دوسرا تولیہ اٹھایا اور مجھے اوڑھا دیا . اور مجھ سے پوچھ کر اس نے نیکر بھی اتار دی اب میں صرف پینٹی اور برا میں تھی . زلیخا نے مجھے الٹا لٹا دیا تیل لے کے میری پیٹھ پر مالش کرنے لگی اس نے برا کی ہک کھولی تو سٹرپس نیچے گر گئیں اب وہ میرے چوتڑوں پر بیٹھ کر میری پیٹھ سے لے کر شانوں پر تیل دھنسانے لگی اس کے نرم گرم ہاتھوں سے سکوں کی لہر میرے سارے بدن میں سرایت کرنے لگی . میں نے اپنے آپ کو ڈھیلا چھوڑ دیا اور مزہ لینے لگی – مجھے سیدھا کر کے وہ میری ٹانگوں میں بیٹھ گئی اور میری رانوں پر مالش کرنے لگی وہ بہت زور سے میری رانوں اندرونی اور بیرونی اطراف میں مالش کرتی رہی مگر میری پینٹی سے دور دور . زلیخا تم نے سب کہاں سے سیکھا میرے پوچھنے اس نے بتایا کہ ٹیچر سے . ؛ اچھا کون سی ٹیچر وہی تو نہیں جس نے تمھیں ” لحاف ” پڑھنے کو دی تھی . میں نے کہا “جی جی بیبی جی ” وہی کلاس دہم کی ٹیچر نے . “اچھا زلیخا پھر تو اس نے تمھیں اور بھی بہت کچھ سکھایا ہوگا ” میں نے اسے دیکھتے ہوے کہا تو وہ جھینپ سی گئی شرما کر اس نے نظریں چراتے ہوے کہا . “جی بیبی جی ” یہ کہتے ہوے اسکے ہاتھ کانپے اور میری چوت کو جا لگے ہوئی تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا وہ چونک کر میری جانب دیکھنے لگی چند لمحوں تک میں اسے اور وہ مجھے دیکھتی رہی . میں نے اسکا ہاتھ پھر اپنی چوت پر رکھ دیا . اس کی بلشنگ مجھے بہت پیاری لگی . میں نے اسکی ران پر ہاتھ رکھا . اس نے مجھے دیکھا میں نے مسکرا کر آنکھیں بند کر لیں . پھر میں نے تب آنکھیں کھولیں جب زلیخا میری پینٹی اتارنے لگی میں نے چوتڑ اٹھا کر اسے پینٹی نکالنے میں مدد دی وہ پینٹی پھینک کر میری چوت کو چھوتے ہوئے اس پر جھکی . اف اس کے سانسوں کی گرم ہوا لگتے ہی ایک کرنٹ سا مجھے لگا اس کے ہونٹوں نے میری چوت کا بوسہ لیا
– .
ور میں تڑپ کر رہ گئی وہ بوسہ دے کر رکی نہیں اس نے چوت پر بوسوں کی بارش کر دی , اور زبان سے لکیر میں چھیڑ چھاڑ کرنے لگی مجھے گُدگُدی سی ہونے لگی . میں نے اسکی ران پر ہاتھ پھیرا اسکی شلوار کا آزار بند کو ہاتھ ڈالا تو وہ لاسٹک نکلا میں نے اس کے اندر ہاتھ ڈال کر زلیخا کی چوت کے دانے کو ٹچ کیا تو زلیخا اچھل پڑی میں نے اسے پکڑ کے اپنے اوپر لٹا لیا اور چہرے پیشانی گردن پر بوسے دے کر اسکے ہونٹوں کو چوما اور اسکے ہونٹ چوسنے لگی میں نے اسکی قمیض کھینچی اور اس نے اٹھ کر اتار پھینکی پھر اس نے شلوار بھی اتار دی اب وہ پینٹی اور بر یزیر میں تھی – کھینچ کے اسے اپنے ساتھ ہی لٹا لیا وہ مجھے چومے جا رہی تھی اس کا ایک ہاتھ میرے مما اور دوسرا میری چوت کو سہلاتا . بیبی جی آپ کا جسم بہت ملائم ہے زلیخا نے سرگوشی کی تو میں نے اسے چوم لیا سچی بیبی جی کریم کی طرح ملائم ہے ہاتھ پھسلتا جاتا ہے اپ کے بدن پر پگلی وہ تو تم نے تیل جو لگایا اس لئے میں نے ہنستے ہوے کہا نہیں جی . سچی . میری تو نظر پھسلنے لگتی ہے اپ پر ڈالتے ہوئے اس پھر سرگوشی کی اسکی ایک انگلی میرے دانے سے کھیلنے لگی میرے منہ سے سسکاری نکل گئی . ” بیبی جی ا چھا لگا آپکو ” اس نے ہولے سے میرے لب چومتے ہوئے پوچھا . “بہت اچھا تمہارے ہاتھوں میں جادو ہے ” میں اس کے لب چومتے ھوۓ بولی اور اسے اپنے سے چمٹا لیا . سچ بتا زلیخا تو اب تک کتنی عورتوں کے پاس سوئی ہو میں نے چبھتا سا سوال کیا . جی ٣ کے ساتھ اس نے برا مناۓ بغیر کہا ” اچھا کون کون تھیں ” میں نے مزید کریدا . جی ایک تو ٹیچر یاسمین تھیں وہ بزم ادب کی انچارج میں اسکی پسندیدہ سٹوڈنٹ تھی . کیونکہ میں اچھی مقرر تھی شام کو تیاری کے لئے اسکول رکنا ہوتا تھا پھر ٹیچر نے کتابیں پڑھنے کے لئے دینا شروع کر دیں – جن میں ایک لحاف بھی تھی . پھر کتابوں میں کوئی ایک یا دو چھوٹے چھوٹے پیپر ہوتے جن پر ہمیشہ مختلف عبارت ہوتی . بعد میں معلوم ہوا وہ مجھے ورغلانے کے لئے پیغامات ہوتے تھے. ان میں کیا لکھا ہوتا تھا زلیخا میں نے بے تابی سے پوچھا . وہ کہنے لگی مثلا . ” کاش تمھیں کوئی بتاۓ تم کتنی خوبصورت ہو ” کبھی ” تم قدم میرے دل پر رکھتی ہو زمین پر نہیں ؛ دھیرے دھیرے چلا کرو جانم تاکہ میں تمہارے مٹکتے کولہے دیر تک دیکھتی رہوں .” وہ اکیلے میں مجھے ہمیشہ جانم کہہ کر ہی بلاتی تھی . اکثر مجھے لپٹا کر چومنے لگتی . جب کچھ فیرینکنس بڑھی تو پیغامات کی نوعیت بدل گئی ” اچھا وہ کیسے میں نے اس کے لب چومتے ہوۓ پوچھا وہ مسکراتے ہوے بولی ؛ لکھا تھا جب کبھی نچلی سٹوری پر جاؤ تو میرا ہیلو بولنا . مجھے اسکی سمجھ نہیں ائی . کیونکہ پہلی بار ایسا میسج تھا میں نے دوسرے دن مس سے پوچھ لیا اس کا کیا مطلب ہوگا . مس نے مجھے ایک طرف لے جا کر میرا ہاتھ پکڑا اور اپنے بوبز پر رکھ کر بتایا سمجھ لو یہ اوپر والی سٹوری ہے ؛ اب بولو نیچے والی سٹوری کونسی ہوگی . میں پھر بھی نہ سمجھی تو اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور اپنی ٹانگوں کے درمیان لے گئی اور وہاں پر دبا دیا میرا ہاتھ . شلوار کے نیچے اس نے کچھ نہیں پہنا تھا . مجھے عجیب سا احساس ہونے لگا . میرے ہاتھ پر جیسے کچھ ہونے لگا ہو . میں مس کی اسی جگه کو دیکھے جا رہی تھی . اگرچہ وہ شلوار کے نیچے تھی . میری توجہ دیکھ کر مس بولی ” پھر ٹچ کروگی جانم ” میں جھینپ سی گئی ؛ مس نے میرا ہاتھ پکڑ کر اس بار شلوار کے اندر اپنی پھدی پر رکھ کر دبایا اور مساج کرنے لگی مجھے اچھا لگنے لگا اس نے میرا ہاتھ باھر نکالا اور میری انگلی چوسنے لگی اور جب گیلی ہوگئی تو پھر میرا ہاتھ اندر لے کر اپنی چوت پر رکھا اور انگلی چوت کے اندر کرنے کو کہا میں نے ایسے ہی کیا اسکی چوت اندر سے بڑی سخت گرم تھی . اپنی انگلی کو ہلاؤ بیبی اور اپنے ہاتھ سے میرے ہاتھ کو اوپر نیچے ہلانے لگی میں جب خود ہی انگلی کرنے لگی تو اس نے مجھے زور سے بھینچ لیا . زور سے بیبی اور زور سے پھر ایک چیخ سی مار کر کانپنے لگی . میں نے ڈر کر ہاتھ باھر نکالا تو پورا بھیگا ہوا تھا مس نے جلدی سے میرا ہاتھ چاٹنا شروع کر دیا اور انگلی چوسنے لگی میں حیرت سے اسے دیکھتی رہی ہم بزم ادب آفس میں جہاں کوئی مشکل ہی سے آتا تھا . مس نے دبارہ گلے لگا کر مجھے چوما اور اپنا ایک ہاتھ میری شلوار میں ڈالنے کی کوشش کی تو میں نے اسے روکا مگر اس نے اور زور سے بھینچ لیا اور اپنا ہاتھ میری پھدی پر رکھ کے ہولے ہولے مساج کرنے لگی مجھے مزہ انے لگا اس نے ایک انگلی اندر کی اور کھجانے لگی میں تو پاگل ہو گئی وہ مجھے ایک الماری کے پیچھے لے گئی جہاں ایک ٹیبل پڑی تھی اس نے مجھے اٹھا کر اس پر بٹھایا اور میری شلوار ٹانگوں تک کھینچ لی . پھر میری چوت کو دیکھتے ھوۓ کہنے لگی مجھے معلوم تھا بہت cute اور سندر ہوگی تمہاری گڑیا ؛ مجھے بہت شرم آ رہی تھی . اس نے چوت کو چومنا شروع کر دیا اف میں کیا بتاؤں مجھے کچھ کچھ ہونے لگا تھا جب اس نے اپنی زبان میری چوت میں ڈالی تو میں لذت میں تڑپنے لگی میں اسے رکنے کو بولتی رہی مگر وہ زبان کو اندر باھر کرتی اور میرے چھوٹے سے دانے سے کھیلتی رہی . پھر میری ٹانگیں کانپنے لگیں ایسا لگا جان نکلنے لگی ہے اور میں نے اس کے سر کو ہٹانے کی کوشش کرنے لگی میری امر اس وقت ١٧ سال ہوگی میں شاید جھڑ چکی تھی . مس میرے رس کی چسکیاں لینے میں لگی ہوئی تھی میں نیم مدہوش سی یونہی ٹیبل پر لیٹ گئی . سارا رس پینے کے بعد miss نے مجھے اٹھایا اور اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں میں دے دئے وہ ذائقہ آج تک یاد ہے . اسکی ہوشربا داستان مجھے مزید گرما گئی – میں اٹھ کر اسکی ٹانگوں میں آ بیٹھی اور اس کے چوت کے درشن کرنے لگی . بہت خوبصورت لگی اسکی چوت مجھے . ؛ میں نے پہلے کسی عورت یا لڑکی کے ساتھ نہ کیا تھا مگر اب اچھا لگ رہا تھا کرنا . میں نے کسی کی چوت کا پہلا بوسہ لیا اس پر انگلی پھیرنے لگی چوت گیلی تھی اور پھدک رہی تھی . میں اپنی زبان چوت کے اوپر رگڑی اور پھر اندر اتار دی . زلیخا نے میرے بال پکڑ لئے اور میرے سر کو چوت پر دبانے لگی . میں نے اپنی ٹانگیں اس کے سر کی طرف کیں اور اس نے منہ میری چوت پر ٹکا دیا اور اسے چاٹنے لگی . مجھے دینو یاد آگیا اس نے ٹرین میں میری چوت پہلی بار چاٹی تھی . اس کی زبان اچھی خاصی لمبی موٹی اور کھردری تھی . زلیخا کا چوت چاٹنے کا انداز اپنا مگر یونیک ہے مجھے سواد انے لگا میں نے زبان کے ساتھ ساتھ ٢ انگلیاں اسکی چوت میں ڈال دیں زلیخا بھی یہی کچھ کر رہی تھی . تھوڑی دیر بعد زلیخا اٹھی اور میری ٹانگوں میں آ کر میری ایک ٹانگ اٹھا کر اپنی ٹانگ کو میری ٹانگ پر رکھا اور اپنی چوت کو میری چوت پر ٹکا کر رگڑنے لگی یہ ایک نیا تجربہ تھا میرے لئے چوت سے چوت رگڑ کھاتی تو مزے پر مزہ آنے لگتا . زلیخا اس معاملہ میں اچھی خاصی ایکسپرٹ نکلی اور اس نے مجھے مزے کی ایک نئی دنیا دکھا دی . ہم دونو کے سانس بھاری ہو چکے تھے موننگ میں ایک دوسرے سے بڑھ رہی تھیں . پھر میں خود پر کنٹرول نہ رکھ سکی اور لذت کی دنیا میں گم ہوتی گئی میں جھڑنے لگی تھی جس کا زلیخا کو احساس ہوا تو اس نے مجھے اپنی باہوں میں لے لیا ہم ایک دوجے سے لپٹ گیں . زلیخا بھی میرے ساتھ ہی منزل ہوئی ہم مسکراتے ہوۓ ایک دوسرے کو چومنے لگیں اور نڈھال ہو کر ایک دوسرے کی باہوں میں چارپائی پر ڈھیر ہو گئیں . آج ایک انوکھا تجربہ ہوا جس کو میں نے خوب انجوآئے کیا . ابھی ہماری سانسیں درست نہ ہوئی تھیں کہ دروازے پر دستک ہوئی . ہم دونوں چونک پڑیں اور جلدی جلدی اپنے اپنے ڈریس پہننے لگیں . میں جلدی سے اپنے کپڑے لے کر باتھ روم میں گھس گئی . تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلنے کی آواز ائی فریدہ کیا ہوا تمھیں بتا کر تو ائی تھی کہ بیبی جی کی مالش کرنی ہے کچھ وقت لگ جایئگا . زلیخا نے فریدہ ( خادمہ ) سے کہا اور پھر فریدہ نے آہستہ سے کچھ کہا جو میں سن نہ سکی اور زلیخا نے کہا . “اچھا تم چلو میں آتی ہوں “. اسے بھیج کر زلیخا سیدھا باتھ روم میں ائی جہاں میں کپڑے پہننے کی ٹرائی کر رہی تھی . ” فریدہ تھی اسے گھر جلدی جانا تھا اس لئے پوچھنے ائی تھی” زلیخا نے کہتے ہوے مجھے باہوں میں لے کر مجھ پر بوسوں کی بارش کر دی اور بولی ” بیبی جی اپ صرف خوبصورت ہی نہیں آپ کا انگ انگ سے مستی پھوٹتی ہے اور چوچی کو ہونٹوں میں لے کر چباتے ہوے اس کا ایک ہاتھ میری ٹانگوں کے بیچ پہنچ گیا اور وہاں کھجانے لگا . یہ کیا رہی ہو تم میں نے بھاری ہوتے سانسوں میں زلیخا سے پوچھا .. . زلیخا نے کپڑے پہن کر دروازہ کھولا تھا . میں تو ابھی ننگی ہی تھی . میں نے لبوں کو ہونٹوں میں لیتے ہلکا سا کاٹ لیا اور اسے بولی جانم اب ” مجھے نہانے دو تیل سارے پنڈے پر لگا ہوا ہے اور ہاں تم مجھے اکیلے میں بیبی جی نہیں نوشی بولو گی اور میں تمھیں جانم” میں نے اسکی گال چومتے ہویے کہا میں آپکو نہلاتی ہوں نوشی جان زلیخا بولی تو میں نے کہا ” نہیں بیگم صاحبہ آنے والی ہونگی شام ہو چکی ہے ، اب تم نکل چلو جانم . میں نے اسے سمجھاتے ہویے کہا . تو اس نے میری چوت پر ہاتھ دھر کر کہا ایک بوسہ یہاں لے لوں تو نکلتی ہوں . اور وہ میرے قدموں میں اپنے گھٹنوں پر بیٹھ گئی میں نے ٹانگیں کھول دیں اور اس کے ہونٹ میری چوت پر آ ٹکے . اف ہونٹوں کے ٹچ نے مجھے مدہوش کر دیا طلب کی لہر پورے بدن میں د وڑ گئی اسکی جیبھ نے لکیر کراس کی اور میرے رس کا ذائقہ لینے لگی اس سے پہلے کہ میں بے بس ہو کر کچھ نہ کر پاتی میں نے اسکو بالوں سے پکڑ کر اوپر اٹھایا اور اسکے ہونٹوں پر اپنے لب رکھ دئے اور اسے اپنے ساتھ بھینچ کر دروازے تک لے گئی اور بولا کہ جانم اب نہیں ” وہ میرے نپل پر چٹکی لیتے ہوے ہنستے ہنستے باتھ روم سے نکل گئی . واہ کیا مست چیز ہے زلیخا بھی . میں نے جسم پر گرم پانی گراتے ہویے سوچا ؛ تقریبن ٢٧ سال کی مست مٹیار شادی شدہ جس کا خاوند کراچی میں بسلسلہ روزگار مقیم ہے . خوبصورت اور گداز بدن رکھتے ہویے وہ کسی اپسرا سے کم نہ تھی . پہلی بار میں ہم جنسی سے لطف اندوز ہوئی اور اس کا کارن زلیخا بنی ہو سکتا ہے کافی دن گزر گئے تھے سکن کے ساتھ سکن ٹکراۓ اس لئے مجھے بہت لطف آیا اور میں آسودہ سی ہوگئی . دینو کے بعد یہ پہلا چانس تھا کہ میرے جسم کو جسم کی گرمائش ملی اور میرا جسم جسم سے ملا ورنہ خود سے تو ہر دوسرے تیسرے دن میں کھیلتی رہتی ہوں . بس انہی اُوُل فُول خیالات کے ساتھ خود کو مل مل کر دھوتی رہی اور شاور کو انجوائے کرتی رہی ؛ ترو تازہ ہو کر باھر نکلی تو شام ہونے والی تھی . ابھی تک بیگم صاحبہ نہ ائی تھیں ؛ شام کی چاہے پی کر میں زلیخا کو لے کر چہل قدمی کے لئے گھر سے باھر آ گئی . اصطبل کے قریب پہنچیں تو سامنے شیرو کے گھر سے بیگم صاحبہ کو نکلتے دیکھا . گھوڑے ہمیں دیکھ کر ہنہناے اور اپنے سر چوکھٹوں سے باھر نکال لئے . اتنے میں بیگم صاحبہ بھی پہنچ گیں . نہ جانے کب کی ائی ہوئی ہوگی بدن کی بولی اور چہرے کی بشاشت تو یہی بتا رہی تھی . سلام بیگم صاحبہ زلیخا اور میں نے ایک ساتھ ہی کہا اور بیگم صاحبہ نے دعائیں دیں . بیگم صاحبہ “نوشین ؛ تم نے ابھی تک گھڑ سواری نہیں سیکھی . ارمان بول بھی گئے تھے ” . “جی بیگم صاحبہ گھڑ سواری کا دل تو چاہتا ہے مگر ڈر بھی لگتا ہے ” میں نے کہا . ” نہیں بیٹی ایسا نہیں جب میں نے سیکھی تھی مجھے بھی بہت ڈر لگتا تھا مگر کچھ ہی دنوں میں ڈر وغیرہ ختم گیا ” انہوں نے مجھے حوصلہ دیتے ہوے کہا ” ٹھیک ہے بیگم صاحبہ آپ مجھے بھی سکھا دیں گھڑ سواری ” میں بولی : ٹھیک ہے میں سکھا دونگی مگر شیرو جیکی ہے اس سے بہتر گھڑ سواری کوئی نہیں جانتا ؛ لو وہ بھی آگیا ہے ” دیکھا تو شیرو ہماری طرف ہی آ رہا تھا ، شیرو نے سب کو آداب و سلام کہا بیگم صاحبہ : شیرو نوشین کو گھڑ سواری کا شوق ہے ، گھڑ سواری سیکھنے میں اسی مڈ کرو . شیرو . نے میری طرف دیکھتے ہوے کہا ” جی بیگم صاحبہ جب بھی بیبی جی تیار ہوں میں حاضر ہوں ” ” تم آپس میں کوئی ٹائم مقڑ کر لو اور خیال رکھنا نوشین کا “. جی بیگم صاحبہ ایسا ہی ہوگا ؛ بے فکر رہیں میں پورا پورا خیال رکھوں گا ان کا . شیرو نے میری طرف مسکرا کر دیکھتے ہوے کہا . ” کس گھوڑے پر سکھاؤ گے نوشین کو بیگم صاحبہ نے پوچھا تو شیرو بولا میرے خیال میں مشکی اچھا رہیگا یا بیبی جی جس گھوڑے کو پسند کریں اسی پر سیکھ سکتی ہیں .” شیرو نے ذو معنی بات کرتے ہوے میری طرف دیکھا. میں دوسری طرف دیکھنے لگی . “ہاں مشکی اچھا رہیگا ویسے بھی لیڈیز کا گھوڑا ہے “. بیگم صاحبہ نے منظوری دیتے ہوے کہا ؛ تو میں نے پوچھا ” لیڈیز کا گھوڑا ” سے کیا مراد ہے آپکی . بیگم صاحبہ . ” تو بیگم صاحبہ نے کہا ، جب اس پر لیڈی سوار ہو تو بڑا بھلا مانس بنا رہتا ہے مگر مرد کو کافی ہارڈ ٹائم دیتا ہے ” مجھے کچھ تسلی ہو گئی اور خوش ہو کر بولی ” کہ پھر تو مشکی پر ہی سیکھوں گی میں . ” بیگم صاحبہ گهر چلی گئیں شیرو گھوڑوں کو دیکھنے لگا اور چہل قدمی کے لئے میں ا ور زلیخا آگے چل پڑیں اصطبل سے تھوڑا اگے جا کر حویلی کے خاتمے پر کھیت شروع ہو جاتے ہیں ہم دونوں ایک پگڈنڈی پر چلنے لگیں . جانم ایک بات پوچھوں میں نے زلیخا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پوچھا تو اس نے کہا ” آپ بھی پوچھ کر پوچھیں گی جان جانم ؛ ایک نہیں ایک سو بار پوچھیں “. شیرو کے بارے کیا کہوگی ؛ کیسا بندہ ہے اس سے گھڑ سواری سیکھوں کیا ؟ اچھا بندہ ہے سیدھا سادہ اپنے کام سے کام رکھنے والا . میرے خیال میں اس سے سیکھ لینے میں کوئی حرج نہیں . ” اچھا سنا ہے اس نے شادی نہیں کی کبھی کسی کام کرنے والی کو ہراساں کیا ھو یا کوئی اور شکا یت میں نے اسے کریدا . نہیں جان جانم اسکی اتنی ہمت نہیں بیگم صاحبہ اس معاملے میں بہت سخت ہیں . کسی کی مجال نہیں نہیں کوئی ایسی حرکت کرے . یہاں ایک لڑکی کام کرتی تھی . اس کا حویلی میں کام کرنے والے ایک لڑکے کے ساتھ آنکھ مٹکا ہو گیا . ایسی بات چھپتی نہیں . بات پھیل گئی . بیگم صاحبہ کو پتا چلا انہوں نے ان دونوں کو کام سے ہی نکال دیا . پھر تو کوئی خطرے والی بات نہیں میں نے یونہی کہا اور کھیت کے کونے سے دوسری جانب مڑی جوار اور مکئی اچھی خاصی اونچی تھی ہم دونوں دو کھیتوں کے درمیان ایک پگڈنڈی پر جانے لگیں . اچانک زلیخا نے پیچھے سے پکڑ لیا اور مجھ سے لپٹ گئی . ارے یہ کیا کر رہی ہو تم . میں نے ہنستے ہوے پوچھا تو اس نے الٹا مجھے پر ہی سوال کر دیا یہ تو آپ کو اپنی دنبی سے پوچھنا چاہیے . آپ چلتی ہیں تو آپ کے چوتڑ ہلتے ہوے دعوت دیتے ہیں آؤ ہمیں چھیڑو
اچھا یوں راستے میں تم نے جو حرکت کی ہے کوئی دیکھ لے تو بیگم صاحبہ ہمیں بھی گهر بھیج دیں . نہیں جی ، سب کو معلوم ہے چھوٹی بیبی جی سیر کو نکلی ہوئی ہیں اس طرف کوئی نہیں ائیگا پھر فصل اونچی ہے ہم کس کو نظر نہیں آسکتے اس نے مجھے ہاتھ سے پکڑا اور مجھ سے لپٹ گئی اور مجھے چومنے لگی میں نے بھی اس کے گرم ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے اور اس کا نچلا ہونٹ چوسنے لگی . کافی دیر تک ہم بوس و کنار میں لگی رہیں . جب زلیخا کا ہاتھ میری شلوار کے اندر جانے لگا تو میں نے روک دیا نہیں جانم یہ اچھی بات نہیں . کسی فارغ ٹائم پر کریں گے . ” ٹھیک ہے جیسا آپکی مرضی نوشی جان ” زلیخا نے میرا ہاتھ چومتے ہوئے کہا اور ہم آگے بڑھنے لگیں کھیت کے خاتمے پر ہم پھر حویلی کے سامنے تھیں اور حویلی کے اندر داخل ہو کر گهر آ گئیں میں اپنے کمرے جا کر فریش ہونے کے بعد باہر نکلی اور بیگم صاحبہ کے پہنچ گئی . انہیں سلام کیا ان کا موڈ بہت اچھا لگ رہا تھا شاید شیرو نے اچھی طرح لگایا ہوگا . پھر ڈنر کیا اور میں اٹھنے لگی تاکہ اپنے کمرے میں جاؤں مگر بیگم صاحبہ نے روک لیا اور اپنے کمرے میں آنے کا کہا بیگم صاحبہ سے اجازت لے کر اپنے کمرے میں جا کے حوائج ضروریہ سے فارغ ہو کر بیگم صاحبہ کے کمرے میں ائی . بیگم صاحبہ حقہ سے شغل فرما رہی تھیں . وہ ڈنر کے بعد اور سونے سے سے پہلے حقہ پیتی ہیں . میں سلام کہنے کے بعد ان کے قریب ہی بیٹھ گئی سلام و دعا کے بعد خاموشی کا دور شروع ہو گیا کمرے میں سواے حقے کی گُڑ گُڑ کے کوئی آواز نہیں آرہی تھی بیگم صاحبہ کسی گہری سوچ میں غرق حقہ گرگراتی رہی ماحول میں ایک پراسراریت سی سرایت کر گئی . کوئی اندازہ نہیں تھا کہ بیگم صاحبہ کیا کہنا چاہتی ہیں . کچھ دیر بعد بیگم صاحبہ حقہ کی نَے منہ سے نکالتے ہوئے مجھ سے مخاطب ہوئیں ؛ بیٹی نوشین چند دن پہلے وعدہ کیا تھا کہ شیرو کے ساتھ اپنے تعلقات کی وضاحت کرونگی “. جی بیگم صاحبہ میں چوکس ہو کر بیٹھتے ہوے بولی . اور انہوں نے حقے کی نَے ایک بار پھر منہ میں لے . میں ہمہ تن بگوش تھی . آخر انہوں نے پائی کے چند گھونٹ لئے اور مجھ سے بولیں . بیٹی ؛ میری ایک عمر سے خواہش تھی کہ کسی سے میں آپ بیتی کہہ سکوں اور میں مطمین ہوں میں اپنے راز کسی غیر نہیں بلکہ اپنی بہو کے سامنے کھول رہی ہوں . اس سے میرے دل پر جو بوجھ ہے وہ بھی اتر جائیگا . اور ممکن ہے تم مجھے بہتر طور پر جاننے لگو . یہ کہہ کر بیگم صاحبہ پھر پانی دو چار گھونٹ لئے اور حقے کے کش لینے لگیں . میرے خیال میں یہ ایک طویل داستان کا پیش خیمہ کے مترادف ایک وقفہ کی مثل تھا . . انہوں نے جو کچھ مجھے بتایا وہ میں ان کی زبانی ان کا بیانیہ ان کے اپنے الفاظ میں آپ کے لئے سپرد قلم کرنے لگی ہوں . سردارنی خورشید بیگم “عرف بیگم صاحبہ ” کی کہانی انکی ہی زبانی ” . ٦ ماہ قبل میں نے اپنی پانچ اوپر پچاسویں سالگرہ منائی تھی میری پیدایش پیشاور کی ہے اور ہائی ا سکول بھی وہیں سے پاس کیا اور بیس کی ہوئی تو میری شادی ہوگئی سردار کامران حیات سے جو آرمی میں کیپٹن تھے . میرے شوہر کامران خان والدہ پٹھان تھیں اور ہماری دور پار کی رشتہ داری بھی تھی .شادی کے بعد میں اپنے شوہر کی جہاں بھی پوسٹنگ ہوتی ساتھ ہی رہی . کامران بہت ہی محبت اور کئیرنگ کرنے والے تھے , ہماری ازدواجی زندگی کو مثالی قرار دیا جاتا تھا . وہ خوبرو جوان اور میرا شمار بھی پرکشش خوبصورت اور سیکسی لیڈیز میں ہوتا تھا . سب کچھ ہوتے ہوئے میں مطمین نہ تھی کسی کمی کا احساس رہتا . ٩ سال بیت گئے تھے شادی کو مگر میری گود ہری نہ ہو نے پائی . میں خوش قسمت تھی کہ سسرال سے دور رہی ورنہ میرا جینا دوبھر ہو چکا ہوتا . کامران کو کوئی پرواہ نہ تھی وہ یہی کہتے جب ہونا ہوا ہو جایئگا . ورنہ میری ساس کے اکثر خطوط میں دادی بننے کی خوایش کا اظہار ہوتا . اور میں خود کو مجرم سمجھنے لگتی . زندگی اسی ڈگر پر چل رہی تھی کہ کامران کے والد یعنی میرے سسر کی اچانک رحلت کی خبر ملی . میرے شوہر کامران کیونکہ اکلوتی اولاد تھے اور ان کے والد علاقے کے بڑے زمیندار . تیسرے دن کا مران کو اپنے والد کی جانشیںی کی پگ باندھی گئی . اور مختلف وڈیروں نے کامران کو اپنا بڑا قرار دیا . کامران کے سر پر ذمہ داریوں کا بوجھ لاد دیا گیا کامران چاہنے کے باوجود آرمی کی سروس برقرار نہ رکھ سکے اور قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر اپنے علاقے میں ہی رھنے لگے . وہاں کی عوام کے مسائل حل کرانے میں انکی مدد کرنے لگے . وہ ہر وقت بزی رہنے لگے . ہمیں آپس میں ملنے کا بھی بہت کم وقت ملتا . میرے مرحوم سسر کا منشی ( آپ اسے ہیلپر کہہ سکتے ہیں ) جو کہ بہت قآبل اعتماد تھا کے فوت ہونے کے بعد اسکے بیٹے شیر دل کو جو کہ انٹرمیڈیٹ کے بعد گھر میں ہی گریجویشن کر رہا تھا کو کامران نے منشی بنا دیا . میں نے اور میری ساس نے کہا بھی کہ ابھی یہ کم عمر ہے اتنی بڑی ذمہ داری اس پر نہ ڈالی جاۓ . مگر کامران کہنے لگے اب وقت تبدیل ہوتا جا رہا ہے اب بوڑھے بابے زمانے کا ساتھ دینے سے قاصر ہیں لہذا وقت کا تقاضا ہے کہ نیا خون شامل ہو جوان جذبے ہی وقت کے مواقف چل سکتے ہیں . پرانی روایات اچھی سہی مگر ان میں بہتری کی ضرورت سے ہم انکار نہیں کر سکتے اور بہتری شیر دل جیسے جوان ہی لا سکتے ہیں . کامران جوانوں پر کافی بھروسہ اور اعتماد کرتے ہیں . خیر شیر دل کے متعلق سب متعلقہ حلقوں کو آگاہ کر دیا گیا کہ اب وہی ڈیرا اور جاگیر کی دیکھ بھال کریں گے . میں شیر دل کے والد کا بھی ہاتھ بٹاتی تھی اور کامران نے مجھے شیر دل کی نگرانی اور مدد کے لئے بولا . کہ وہ ابھی ںا تجربہ ہے اس لئے جہاں ضرورت ہو اسکو گائیڈ کیا جاۓ . کامران تو صبح ہوتے ہی گھر سے نکل جاتے . شیر دل جس کو بعد میں شیرو کہا جانے لگا سے میں ناشتے کے بعد اصطبل میں ملتی وہ گھوڑوں کی مالش کر رہا ہوتا . حالانکہ یہ اسکا کام نہ تھا . ” شیر دل کسی نوکر کو کیوں نہیں کہہ دیتے مالش کرنے کو ” ایک دن میں نے اس سے پوچھا . “بیگم صاحبہ اس سے میری اپنی بھی اکسرسآئز ہو جاتی ہے ویسے بھی مجھے ان سے بہت لگاؤ ہے جی ” اس نے بتایا “میں نے سنا ہے تم جیکی بھی ہو اور با قاعدہ تربیت لے رکھی ہے ” “جی بیگم صاحبه میں گھڑ دوڑ اور نیزہ بازی میں کئی بار پرائز لے چکا ہوں . گھوڑوں کو ڈانس کی تربیت بھی دے سکتا ہوں .” اس نے بڑے فخر سے بتایا واؤ یہ تو بہت اچھی بات ہے . میں یہ کہتے ہویے اگے کھیتوں کی جناب بڑھ گئی یوں روز ہمارا مکالمہ ہوتا اور گر شیرو کو مسلہ ہوتا اور کامران نہ ہوتے تو وہ مجھ سے پوچھ لیتا . دو چار مہینے میں ہماری ملاقات اور بات چیت وقتا فوقتا ہوتی رہی مگر فطری بات ہے جب ایک دوسرے سے جان پہچان ہو جاۓ تو پھر آہستہ آہستہ فرینکنس ہو ہی جاتی ہے . ویسے بھی عورت جوان مضبوط مرد سے بات کرتے ہویے اچھا محسوس کرتی ہے میں ٢٩ سال کی اور شیرو کی عمر انیس یا بیس کی ہوگی . وہ مالش کر رہا ہوتا تو میں وہیں قریب کھڑی ہو جاتی اسکے بازؤں کے ڈولہے ( مسل) مالش کرتے ہوئے حرکت کرتے تو دل کو کچھ کچھ ہونے لگتا . اسکے ڈولہے کے مسل مچھلی کی تیزی سے ہلتے . پھر اسکے پسینہ کے قطرے اس کے سموتھ جسم پر تلکتے ہوئے دکھتے . وہ باتیں بھی ساتھ ساتھ کرتا رہتا . شروع میں مجھے دیکھتا تو ذرا مہذب ہو جاتا . میری طرف دیکھنے سے گریز کرتا . اس کا رویہ مؤدبانہ ہوتا جیسے باس کے سامنے مگر آہستہ آہستہ وہ نارمل ہوتا گیا جیسے کہ ایک نوجوان کو ہونا چاہئے . مجھے دیکھ کر اسکی آنکھوں کی چمک بڑھ جاتی اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل جاتی . اب اس سے کوئی بات کرتی تو آنکھیں ملا کر بات کرنے کی کوشش کرتا . اس کی آنکھوں میں ہر وقت شوخی کھیلتی رہتی جس سے میں ڈرنے لگی . کسی کسی وقت وہ فلرٹنگ بھی کرنے لگتا یہ سب کچھ مجھے اچھا لگتا . لاشعورا مگر فطرتی طریقے سے ہم ایک دوسرے کی جانب کھیچنے لگے . روز بروز اسکی بولڈنس میں اضافہ ہوتا گیا اور میں نادانستگی میں اسکی حوصلہ افزائی کی مرتکب ہوتی گئی کیونکہ میں نے برا منایا نہ حوصلہ شکنی کی . پہلے وہ فل آستیں شرٹ اور خاکی نیکر( کامران نے اسے دی تھی ) پہنتا اب وہ اکثر سلیو لس بنیان کے ساتھ مالش کرتا اسکی چوڑی اور کشادہ چھاتی کے گھنے بال نظر آ رہے ہوتے تو بے ساختہ انگلیوں میں خیزش سے ہونے لگتی . اس نے شاید میری نظروں میں پسندیدگی کی لہر دوڑتے دیکھی یا جانچ لی . کہ جب گهر سے باھر نکلتی تو وہ مجھے آتے دیکھ کر اپنی بنیان بھی اتارنے لگا , اسکے ٦ پیک ایبز دیکھ کر دل مچانے لگتا . میں جانتی تھی وہ مجھے دانستہ سڈیوس کرنے کی کوشش میں ہے اور میں بے خبری میں سڈیوس ہوتی جا رہی تھی . میں اسے ٹائم پاسنگ دل لگی سمجھ رہی تھی مگر شیرو کافی آگے کی سوچ رہا تھا . پہلے اس نے نیکر ناف سے سے نیچے رکھنا شروع کر دی . اس کی سموتھ جگه دیکھ کر ایک کرنٹ سا سارے جسم میں دوڑ گیا . میں بار بار اسی جگه کو دیکھتی اور اس نے میری پیشانی پر پسینے کو دیکھتے ہوئے سمجھ لیا ہوگا کہ وہ صحیح سمت رواں دواں ہے . دو تین دن کے بعد میں یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ نیکر کے اوپر والے ٢ بٹن کھلے ہیں اسکے سیاہ بالوں میں عُضوِ مخصوص کی جڑھ نظر آرہی تھی جسے دیکھ کر میری ٹانگیں کانپنے لگیں . میں پاگلوں کی طرح وہاں ٹک ٹکی باندھے دیکھنے لگی بہت سیکسی منظر تھا جس سے نظریں چرانا ںا ممکن تھا , میں نے شیرو کو دیکھا تو وہ اپنے کام میں مصروف تھا . جیسے اسے خبر تک نہ ہو . ایک شام کامران کو آنے میں دیر ہو گئی . میری گھڑ سواری کا ٹائم تھا پہلے ہمیشہ کامران ساتھ ہوتے تھے . میں ایک خادمہ کے ساتھ اصطبل گئی اور گھوڑے پر زین ڈالی اسے لگام دیا اور اصطبل سے باھر لے ائی . اب سوار ہونے کا مرحلہ تھا خادمہ نے گھوڑے کی لگام پکڑی اور میں زین کو پکڑ کر ایک پاؤں رکاب میں ڈالا اور دوسری ٹانگ گھوڑے کے اوپر لے جانے کی ٹرائی کی , پہلی بار خود سوار ہونے کی بدولت میں نروس تھی تھوڑی سی جھجھکی تو گھوڑے نے میرا اناڑی پن بھانپ لیا اور اس نے جمپ لگائی اور میں گانڈ کے بل نیچے آ گری اور زور سے چیخی اوہ میں مر گئی . خادمہ نے وہیں سے شیرو کو آواز لگائی اور وہ دوڑتا ہوا آیا خادمہ نے اسے بتایا کہ بیگم صاحبہ سوار ہوتے گر گئی ہیں . اس نے مجھ سے پوچھا آپ چل سکیں گی میں نے اٹھنے کی کوشش کی مگر کولہے میں شدید درد ہوا میں دوبارہ وہیں لیٹ گئی شیرو نے مجھے اپنے بازوؤں میں اٹھایا اور ہمارے گهر آ کر بستر پر مجھے الٹا لٹا کر میری پیٹھ اور کولہے دبانے لگا کولہے پر ہاتھ لگتے ہی مجھے شدید درد ہوا اور میرے منہ سے دبی سی چیخ نکلی . مرے کولہے پر مساج کرنے لگا ہولے ہولے دھیرے دھیرے میرے درد میں کمی آنے لگی . میں نے اس کی طرف دیکھا وہ بے خبر میری گانڈ پر ہاتھ پھیر رہا تھا . میں الٹا لیٹی ہوئی تھی اور وہ چارپائی کے ساتھ کھڑا تھا . میں اپنا ہاتھ سیدھا کرنے لگی تو وہ کسی سخت چیز سے جا لگا میں نے چونک کر ادھر دیکھا تو میری نظر تنبو پر پڑی جو کہ اسکی قمیض نے تان رکھا تھا . وہ ایستادگی کی حالت میں تھا تنبو کی اٹھان اچھی خاصی اونچی تھی کوئی بھی اسے دیکھ سکتا تھا . مگر نوجوان آدمی کے لئے کنٹرول کرنا مشکل ہوتا ہے میں نے شلوار بھی ایسی پہنی ہوئی تھی کہ جس سے بہت کچھ دکھتا تھا میری گوری رانیں اور بھرے بھرے کولہے دیکھ کر بوڑھے کا بھی کھڑا ہو جاتا شیرو تو جوان تھا . اور پھر بغیر پینٹی کے تھی . اس کے ہاتھ بہت کچھ محسوس کر چکے ہونگے اسنے میری وہی ٹانگ پاؤں پکڑ کر اوپر اٹھائی اور پھر میری ران کے اندرونی طرف مساج کی صورت میں ہاتھ پھیرا . میری ران اس نے پیٹ کے ساتھ لگائی تو میں نے اسکا راڈ اپنی ران سے لگتے ہویے محسوس کیا اور ایک کرنٹ سا میرے سارے بدن میں دوڑ گیا . مجھے عجیب سا محسوس ہونے لگا اس نے ٹانگ نیچے ٹکا دی اور مجھے سیدھا لیٹنے کو کہا . میں سیدھی لیٹی تو اس نے پوچھا سینہ یا سر میں درد تو نہیں اور میرے ممے دبا کر دیکھنے لگا اس کے دبانے کا انداز بڑا پیارا لگا مگر جلد ہی اس نے ان کو چھوڑ دیا وہ کافی محتاط لگ رہا تھا , اب اسکا تنبو میرے سامنے تھا میں اس کے تناؤ کو نہ دیکھنے کی نا کام سی کوشش کرتی رہی پھر دل مچلتا تو کن انکھیوں سے اسے دیکھنے لگتی . شیرو بھی جان چکا تھا کہ کُڑی لگی گئی ہے . وہ تنبو کو کھجانے لگا میری آنکھیں پلک جھپکے بنا وہیں دیکھنے لگیں . . اس نے خادمہ سے کہا کہ تیل گرم کر کے لے آئے . خادمہ جو ایک طرف ہو کر کھڑی تھی باھر نکل گئی . شیرو میری رانوں کو دبانے لگا . وہ گھٹنے سے لے کر میری کمر تک ہاتھ پھیر کر مالش کرتا رہا تھوڑی دیر بعد اسکے ہاتھ میری ران کے اندرونی طرف پھیرنے لگے میں نے ٹانگیں کھول دیں اس کے ہاتھ جب سنگم میں جا لگتے تو میں کسمسا سی جاتی ” آپ فکر نہ کریں بیگم صاحبہ . ایک ادھ دن میں آپ ٹھیک ہو جایئں گی معمولی سی چوٹ لگی ہے بچت ہو گئی ہے ” وہ مجھے تسلی دیتے ہوئے بولا . میں اس کا شکریہ ادا کرتے بولی ” کہ تم نہ ہوتے تو بہت مشکل ہو جاتی اس وقت تو کسی حکیم کا ملنا بھی مشکل ہوتا . میں نے دبارہ ہاتھ کو اس طرح اٹھایا کہ وہ جا کر تنبو سے جا کر لگا میں اس ٹوہ میں تھی کہ تنبو کے پیچھے کیا ہے . ہاتھ لگتے ہی مجھے اسکی تنومندی اور سختی کا اندازا ہو چکا تھا . دل تو چاہا ایک بار ہاتھ میں لوں اور دبا کر دیکھوں مگر موقع محل نہ تھا . خادمہ گرم تیل لے ائی تو شیرو نے اسے بولا کہ کولہوں پر اور کمر پر تیل کی مالش کرے اور سونے سے پہلے گرم دودھ میں ہلدی ملا کر پلائی جاۓ . وہ ڈاکٹرز کی طرح ہدایت دے رہا تھا . میں نے دیکھا خادمہ کی موجودگی کی بدولت اسکا تنبو کافی کم ہو گیا تھا . وہ مجھے تسلی دیتے ہوئے کمرے سے نکل گیا میں چاہتی تھی کہ شیرو خود مالش کرتا میرے گورے گورے گول گول کولہوں پر اپنے ہاتھوں سے تیل لگاتا اور پھر ہاتھوں سے رگڑتا اور اس کے ہاتھ پھسل پھسل جاتے میں ٹانگیں کھولتی اور وہ مری رانوں کے بیچ مالش کرنے لگتا اور انجان بن کر وہ میری ٹانگوں کے سنگم کو چھو آتا . بے خودی میں اپنے انگھوٹھے سے وہ میرا چور سوئچ دبا دیتا اور میں نہال نہال ہو جاتی . شاید وہ محتاط تھا یا ابھی کچا ناداں سمجھ نہ سکا . ” یہ بزم مے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی جو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے” خیر کہاں تک بچ پائیگا اب تو اسکا ہتھیار چھو بیٹھی میں اب تو اسکی سختی کو آزمانا ہے اسکی اکڑ کو ڈھیلا کر کے چھوڑنا ہے مجھے . خادمہ نے تیل سے مالش کی تو کافی آرام محسوس ہوا . اتنے میں کامران بھی آ گئے ؛ میرے گرنے کی وجہ سے کافی پریشان ہوئے . میں نے کہا اتنا زیادہ پریشان نہ ہوں چوٹ معمولی ہے ایک ٢ روز میں ٹھیک ہو جایئگی . انتخابات کی گہما گہمی تھی اور کامران حیات کی پارٹی اس حصہ لے رہی تھی . علاقے کا ایک معروف اور بااثر زمیندار ہونے کی وجہ سے کامران پر کافی ذمہ داری آتی تھی , پارٹی کی طرف سے جو قومی اسمبلی کے لئے امیدوار تھا وہ کامران کا بہت اچھا دوست بھی تھا . اور کامران اسکے لئے کافی ٹائم دے رہا . انتخابی جلسوں اور جلوسوں کی وجہ سے وہ اب گھر کو بھی ٹائم نہ دے پا رہے تھے , اس لئے وہ پریشان بھی تھے ؛
میں نے ان کو بولا کہ گھر اور ڈیرا داری کے متعلق فکر نہ کریں . میں ہوں ناں ؛ ویسے بھی اپنی ساس کی وفات کے بعد میں ہی گھر بار کی نگرانی کرتی تھی . اس لئے میں نے ان کو بے فکر رہنے کی یقین دہانی کرائی . کامران فریش اپ ہو کر آ ئے تو خادمہ نے ڈنر چارپائی کے ساتھ ہی لگا دیا تھا . ڈنر کے بعد کے بعد میں نے ہلدی ملا دودھ لیا . خادمہ برتن سمیٹ کر لے گئی تو کامران چینج کر آئے تو تو مجھ سے بولے دیکھوں تو کہاں چوٹ لگی ہے میں نے شلوار نیچے سرکائی اور اپنے کولہے پر ہاتھ رکھ کر بتایا یہ جگه درد کرتی ہے . انہوں نے دھیرے دھیرے ہاتھ سے مالش کی اور اسی جگه ایک بوسہ بھی ثبت کر دیا میں خوش ہو گئی کہ مدت کے آج شاید اس چوٹ کی بدولت میری کشتی کنارے لگ جاۓ وہ تھوڑی دیر مالش کرتے رہے میں گرم ہونے لگی . میں نے پاؤں کی مدد سے اپنی شلوار اتار دی اور اپنی ٹانگیں کھول دیں . میں نے ان کا ہاتھ پکڑ کر ٹانگوں کے بیچ میں رکھا اور اسے رانوں میں دبا لیا . انہوں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور کہ مجھے نیند آ رہی رہی ہے . شیرو کے ابھار نے میرے جذبات کو بھی ابھار دیا تھا . اب کامران کے ٹچ نے مجھے خوار کر دیا تھا , میں چُدوانے کے لئے مری جا رہی تھی میری حالت ماہی ءِ بے آب جیسی تھی میں نے کامران کا ہاتھ پکڑ کر اپنی چوت پر رکھتے ہوئے کہا دیکھو تو سیلاب آیا ہوا ہے اس میں کیوں نہ چپو ڈال کے کشتی رانی کریں . کامران نے پہلو بدل کے منہ دوسری طرف کر لیا اور بولے بیگم تم جانتی ہو میں تھکا ہوا ہوں . میں نے انکی پیٹھ سے ممے لگا کر ہاتھ بڑھا کر ان کا لن پکڑ کر مٹھانے لگی جو کہ سو رہا تھا وہ کھڑا بھی ٥ انچ کا ہوتا ہے یا زیادہ سے زیادہ ساڑھے ٥ انچ کا کہہ لیں . مگر اس وقت وہ ایک چھیچھڑے کی طرح بے جان سا پڑا ہوا تھا , میرے ہاتھ میں لینے سے بھی اس میں کوئی حرکت نہ ہوئی شاید مرد کا موڈ نہ ہو تو یہ سویا رہتا ہوگا . کامران نے مجھے نیند آ رہی ہے اور تھکا ہوا ہوں کہتے ہوئے میرا ہاتھ جھٹک دیا . کامی تم کب تھکے ہوئے نہیں ہوتے یاد کرو لاسٹ ٹائم کب ہم نے کیا تھا پورے تین ماہ اور ٢٦ دن ہو گئے ہیں . میں نے تلخ لہجے میں کہا ہیں تین ماہ ہوگئے کل کی بات لگتی ہے اس نے حیرانگی سے کہا تین ماہ نہیں تین ماہ اور ٢٦ دن . یاد ہے وہ ہماری انیورسری تھی تم نے شرط رکھی تھی کہ لیپ ٹاپ ڈانس کرونگی تب تم میری گڑوی بھرو گے بیگم میں سونے لگا ہوں صبح جلدی جانے ہے مجھے یہ کہتے وہ پرے کھسک گیا . میں ٹھنڈی آہ بھر کے اپنی حسرتوں پر آنسو بہانے لگی . شادی کے پہلے ٢ سال بہت اچھے گزرے تھے ہماری جنسی زندگی بہت کی آسودہ اور پرسکون تھی . جوں جوں وقت گزرتا گیا . کامران کی دلچسپی کم ہوتی گئی اور میری طلب بڑھتی گئی . ہر دوسرے تیسرے دن سے ہر ہفتے پھر دو چار ہفتے ایک بار اور اب تو مہینوں کامران کو خیال ہی نہیں اتا تھا کہ کوئی بے زبان چارے کو ترس گئی ہے یا اسکی پیاس نہی بجھانا فرض ہے . میں ٣٠ سال کی ہوں ابھی تک اولاد سے محروم ہوں . ملنے جلنے والے تو اولاد نہ ہونے کی وجہ پوچھتے ہیں . منہ پر نہ بھی کہیں تو بھی عورت ہی کو بانجھ کہہ دیتے ہیں یا سمجھتے ہیں . یہ کوئی نہیں سجھتا کھیتی باڑی ہی نہ ہو کوئی بیج ہی نہ بوئے تو فصل کیسے ہو . حسب معمول کامران کے غراٹوں کی گونج میں میرا ہاتھ رانی کے آنسو پُونچھنے لگا صبح بیدار ہوئی تو جسم ٹوٹ رہا تھا بدن میں درد تھا اور ایک کولہے میں درد کی ٹیس سی اٹھتی . کامران اٹھ گئے تھے اور غسل کے بعد انہوں نے ناشتہ میرے ساتھ ہی کیا اور بتایا کہ آج سکھر جلسہ اٹنڈ کر کے حیدرآباد بھی جانا ہے اس لئے ممکن ہے نہ آ سکوں ؛ گر آیا بھی تو بہت لیٹ آؤنگا اس لئے انتظار نہ کرنا اور سو جانا . دیر سے آیا تو تمھیں ڈسٹرب کئے بنا ساتھ والے کمرے میں ہی لیٹ جاؤنگا . اور مجھے اپنا خیال رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے مجھے بوسہ دے کر نکل گئے . میں نے چارپائی سے اترنے کی کوشش کی تھوڑی سی تکلیف کے ساتھ میں باتھ روم جانے میں کامیاب ہو گئی . غسل سے فارغ ہو کر میں بدن کو تولیہ میں لپیٹے اور دوسرے تولئے سے اپنے بال خشک ہوئے کمرے میں داخل ہوئی چونکہ سر کے بالوں کو خشک کرنے کے لئے تولیہ نے میرا چہرہ چھپایا ہوا تھا اس لئے میں کمرے میں کسی اور کی موجودگی کو محسوس نہ کر سکی اور نہ ایسا کوئی امکان ہی تھا . غسل سے میری طبیعت ہشاش بشاش ہو گئی تھی . اس لئے اپنی ہی ترنگ میں زیر لب گنگنا رہی تھی . “اگر تم مل جاؤ تو زمانہ چھوڑ دیں گے ہم تمھیں پا کر زمانے بھر سے رشتہ توڑ دیں گے ہم” میں آہستہ آہستہ بالوں کو تولئے سے رگڑتی ڈریسنگ ٹیبل جو کہ کمرے کے ایک کونے میں تھا کی طرف بڑھتی گئی . میری گنگناہٹ اب اونچے سروں میں بدلنے لگی تھی . آواز سریلی تو نہیں پھر بھی اتنی بھونڈی بھی نہیں اس لئے کبھی کبھار گا بھی لیتی ہوں “اگر تم مل جاؤ تو زمانہ چھوڑ دیں گے ہم تمھیں پا کر زمانے بھر سے رشتہ توڑ دیں گے ہم” ” تیری صورت نہ ہو جس میں وہ شیشہ توڑ دیں گے ہم ” بے اختیار میرا ہاتھ شیشہ کی طرف بڑھا تو میں ششدر رہ گئی میرا ہاتھ اٹھے کا اٹھا رہ گیا اور میں بے یقینی کے ساتھ سکتے کے عالم میں اسے دیکھتی رہی پھر خیال آیا کے شاید یہ میرا گمان ہو بھلا شیرو اس وقت میرے کمرے میں ؛ مزید تسلی کے لئے میں نے مڑ کر دیکھا تو صوفے پر شیرو کو بیٹھا پایا . میں بے اختیار کرسی سے اٹھ گئی میں نے تولئے سے اپنے شانے ڈھانپے . دوسرا تولیہ میری چھاتیوں سے لے کر چوتڑوں سے ذرا نیچے تک مجھے ڈھانپے ہوئے تھا . “شیرو اس وقت تم یہاں ” بمشکل میری آواز نکل سکی شیرو بھی کھڑا ہو گیا تھا اور بولا ” جی میں آپکی تیمارداری کے لئے آیا تھا مگر آپ موجود نہ تھیں سوچا انتظار کر لوں اپنی گستاخی کے لئے معذرت خواہ ہوں . یہ کہتے ہوئے اس نے میرے سراپے پر ایک بھرپور نظر ڈالی اور تاب نہ لاتے ہوئے شیشہ میں دیکھنے لگا میں نے اسے بیٹھنے کے لئے کہا اور تیمارداری کے لئے شکریہ ادا کرتے ہوئے کرسی پر اسکی جانب پیٹھ اور شیشہ کی طرف منہ کر کے بیٹھ گئی . کیونکہ میں صرف تولیہ لپیٹے ہوئے تھی اگر اسکے سامنے بیٹھتی تو میرا بہت کچھ دکھ سکتا تھا . اب میرے پیچھے صوفے پر شیرو بیٹھا تھا مگر شیشے میں اسے دیکھ سکتی تھی . مجھے اتنی جلدی آپکے ٹھیک ہونے کی امید نہ تھی میں نے سمجھا ایک ٢ دن تو آپ کو ریسٹ کرنا ہوگا تب جا کر آرام آنا شروع ہوگا . اس نے کہا تو میں مسکرا دی . دل ہی دل میں کہا , “ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے ” ” میں آپ کے لئے ٢ کتب لایا ہوں کہ بیڈ ریسٹ کے کے دوران ٹائم پاس کرنے لئے مطالعہ بہترین حربہ ہے ” یہ کہتے ہوئے شیرو اٹھ کر میرے پاس آیا اور ٢ کتابیں میرے ہاتھ میں دے دیں . میں نے ہاتھ بڑھایا تو میرے ایک شانے سے تولیہ کھسک کے نیچے پیٹھ کے پیچھے ہو گیا میں نے اسے دوبارہ شانے پر لینے کی بجاۓ شیرو کے ہاتھ سے کتابیں پکڑ لیں ایک تھی ا ے آر خاتون کی لکھی ہوئے ” شمع ” اور اختر شیرانی کی رومانی غزلوں کی کتاب ” کلیات اختر شیرانی آپ کا ذوق تو بہت اچھا ہے شیر دل جی , یہ شمع تو میں ہائی سکول میں پڑھی تھی اختر شیرانی کی بھی میں فین ہوں میں نے اس کے اچھے ذوق کی داد دی اور پوچھا اور بھی کتابیں ہونگی آپ کے پاس ؟ . “جی ہاں میری کولیکشن کافی ہے . آپکو کس قسم کی کتابین چاہییں مل سکتی ہیں . شیرو نے شیشہ میں مجھے دیکھتے ہوئے کہا ” مجھے رضیہ بٹ کی ” صاعقہ ” کی تلاش ہے . میں نے مووی تو دیکھ رکھی ہے مگر ابھی تک ناول نہیں پڑھ سکی ” میں نے بھی شیشہ میں ہی اس کو دیکھتے ہوئے کہا ” امید ہے مل جایئگی ؛ ویسے کیوں نہیں آپ میرے غریب خانے آ کر میری لائبریری دیکھتیں اور اپنی پسند کی کتابیں لے آتیں . آپ میری غیر حاضری میں بھی آ سکتی ہیں ” ” کیوں تم تالا نہیں لگاتے کیا ؟ میں نے پوچھا تالا تو لگا ہوتا ہے مگر تالے کی چابی دروازے کے ساتھ گملے کے نیچے رکھی ہوتی ہے . اپنے پاس نہیں رکھتا کہیں گم نہ ہو آپ کسی وقت بھی آ سکتی ہیں چابی لیں دروازہ کھول کے لائبریری سے مستفید ہوں وہاں آپکو ہر قسم کی کتاب مل جایئگی .” ہر قسم کی کتاب سے تمہارا مطلب ” میں نے اس کی آنکھوں میں دیکتے ہوئے پوچھا اور مسکرا دی . ” جی میرا مطلب ہے ہر کوئی اپنے ذوق کے مطابق کتاب ڈھونڈھ سکتا ہے ” اس نے بھی مسکراتے ہوئے کہا . اچھا پھر تو ضرور آؤنگی ہو سکتا ہے میرے ذوق کی بھی کوئی چیز مل جاۓ . ضرور ملے گی جی ضرور آئیں . یا لسٹ بنا کر دیں میں ڈھونڈھ کر لا دونگا شیرو نے آفر کی تو میں نے کہا نہیں نہیں میں خود ہی آؤنگی اور وہ بھی جب تم گھر نہ ہوئے اچھا جی میرے ہوتے ہوئے آپ کو ڈر لگے گا کیا ؟ نہیں شیرو یہ بات نہیں , در اصل میں نہیں چاہونگی کہ کوئی میرا ذوق جان سکے میں نے ہنستے ہوئے کہا اچھا تو یہ بات ہے گر کوئی خاص کتاب آپکے ذوق کے مطابق نہ ملے تو ہنٹس لکھ کر چھوڑ آئیے گا میں وہ لا کر لائبریری میں رکھ دونگا . ” اچھا ” کہتے ہوئے میں نے پیٹھ پیچھے گرے تولیے کو شانے پر لانے کی کوشش کی مگر اس کوشش میں دوسرا شانہ بھی ننگا ہو گیا شیرو نے میرے بکھرے ہوئے بال اٹھاۓ اور ان کے نیچے میرے شانوں پر تولیہ ڈال دیا . ایک بار میری زلفیں ہاتھ میں لینے سے اسکا حوصلہ بڑھ گیا اور شانوں سے میری زلفوں کو سمیٹ کر سلجھانے لگ گیا . میں روک سکتی تھی اسے مگر مجھے بہت اچھا لگ رہا تھا . “سردار صاحب بہت خوش قسمت ہیں جی ” وہ شیشہ میں مجھے دیکھتے ہوئے بولا ” اچھا وہ کیسے ” ؟ ” نیند اُس کی ہے، دماغ اُس کا ہے ، راتیں اُس کی تیری زلفیں جس کے بازو پر پریشاں ہو گئیں کہتے ہوئے اس نے میری زلفوں کو شانوں پر بکھیر دیا ” ارے یہ ضروری بھی تو نہیں کہ وہ بھی ایسا سمجھتے ہوں جیسا تمہارا خیال ہے ” ہو ہی نہیں سکتا اتنی خوبصورت جوڑی ہے آپ دونوں کی . وہ بھی کسی سے کم نہیں اور آپ کا تو جواب نہیں اچھا تم ایسا خیال کرتے ہو ؛ تمہارا خیال غلط بھی ہو سکتا ہے ؛ میں ایک ٹھنڈھی آہ بھرتے ہوئے کہا . “تو کیا آپ ان سے خوش نہیں ہیں ” اس نے پوچھا اگر میں کہوں کہ وہ مجھے خوش نہیں رکھتے تو ؛ میں شیشہ میں اسکی آنکھوں میں دیکھا . وہ تھوڑا اداس اور غمگین سا نظر آیا مگر وہ خاموش رہا . وہ کرسی کے پیچھے کھڑے میری زلفوں سے کھیل رہا تھا میرے بال گیلے تھے . اس نے میرے شانوں پر ہاتھ رکھ دئیے اور مجھے دیکھنے لگا . اسکی آنکھیں بھوری ہیں ان میں ایک کشش ہے جو اپنی طرف کھینچنے لگتی ہے میں نے نظریں کرا لیں . دھیرے دھیرے وہ میرے شانے دبانے لگا . اور مجھے بڑا سکوں سا محسوس ہوا میں پیچھے کی طرف کرسی پر لیین ہوئی تو اس نے میری گردن کو اپنے ہاتھ کی گرفت میں لے لیا اور ہولے ہولے اسے دبانے لگا وہ گردن کو دباتے دباتے شانوں کو دباتا پھر کمر تک وہ دبانے لگا ایسا لگ رہا تھا جیسے اپنی انگلیوں سے ساری تھکاوٹ کھینچ رہا ہو میں نے سر پیچھے کی طرف کرسی کے ایڈج پر رکھ دیا اور میری آنکھیں بند ہونے لگیں . یوں لگا جیسے کچھ دیر کے لئے میری آنکھ گئی ہو . وہ میرے پپوٹوں کو دبا رہا تھا . میں نے اس کے ہاتھوں کو پکڑ لایا اور بولی تمہارے ہاتھوں میں جادو ہے . تمہارے چھونے سے مجھے بہت سکوں ملا . من کرتا ہے کسی دن تم سے سب کچھ دبواؤں میں نے اسکا ہاتھ دباتے ہویے کہا . کسی بھی وقت جب بھی آپ کو میری ضرورت محسوس ہو ؛ میں حاضر ہونگا . چاہے پیو گے میں نے اس سے پوچھا نہیں جی میں ناشتہ کر کے آیا تھا شکریہ میں اپنا پروگرام سوچ چکی تھی . کہ میں کیسے شیرو کو گھیروں گی کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی بچ جاۓ . شیرو تم سے دبوانا تو ہے ایک دن دبوا کے رہونگی مجھے امید ہے تم مجھے خوش کر دوگے . اب میں تھوڑا آرام کرتی ہوں جی بیگم صاحبہ آپ کو خوش کر کے مجھے خوشی ملے گی آپ آرام کریں میں چلتا ہوں یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گیا شیرو کے بعد میں نے خادمہ جس کا نام کنیز تھا کو آواز دی اور اسے اپنے کولہے پر تیل سے مالش کرنے کو کہا . اس کے بعد لیٹے لیٹے میری آنکھ لگ گئی اور لنچ کے وقت میں اٹھی تو ہشاش بشاش تھی . خادمہ نے بتایا کہ کافی خواتین تیمار داری کے لئے ائی تھیں مگر آپ سو رہی تھیں . ٹھیک ہے جو آئی تھیں ان کی لسٹ بنا لینا اور مجھے دے دینا . ٹھیک ہے بیگم صاحبہ کنیز کاغذ قلم اٹھاتے ہوئے کہا . شام تک میرے کولہے میں کافی آرام تھا میں اصطبل تک گئی تھی تھوڑا پھر کر واپس آ گئی . رات کو کامران دیر سے آئے اور ساتھ والے روم میں ہی سو گئے . صبح بھی دیر سے اٹھے اور ناشتہ کر کے پھر چلے گئے انہوں نے کراچی جانا تھا اور وہاں سے رات کو آنا مشکل تھا اس لئے انہوں کل رات تک آنے کا بتایا تھا , ان کے جانے کے بعد میں نے لوز شرٹ اور پاجامہ بدون برا پینٹی یہ سوچ کر پہنا کہ شیرو کو ٹیز کر کے ستاونگی . اگر کوئی غور سے دیکھے تو شرٹ سے نیپلز اور پاجامہ سے پھدی کی پھانکیں صاف نظر آتی تھیں . اصطبل گئی کیونکہ اس وقت گھوڑے کو مالش کرتا ہے , مگر وہ وہاں نہیں ملا . ایک لڑکا چارہ بنا رہا تھا اس سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ شیرو کچہری گیا ہوا ہے . اچھا ٹھیک ہے . میرے ذہن میں فورا ایک خیال گیا کہ کیوں نہ شیرو کی لائبریری چیک کروں وہ تو گھر نہیں اسکی کولیکشن بھی دیکھ لوں . باھر والا دروازہ کھلا ہوا تھا میں اندر گئی اور گملے کے نیچے سے چابی نکالی اور اندر داخل ہو گئی . چھوٹا سا کمرہ تھا ایک دیوار کے ساتھ شیلف بنایے گئے تھے جن پر کتابیں رکھی تھیں کافی کتابیں تھیں اور ہر قسم کی تھیں . میں کوئی خاص قسم کی کتاب ڈھونڈنے لگی اخیر تھوڑی سٹرگل کے بعد ایم اے زائد کی ” بنکاک کے شعلے ” جو کہ ایک سفر نامے کی طرز پر لکھی گئی ہے مگر در اصل اس میں جنسیات کے تجربات کا ذکر کیا گیا ہے . مل گئی میں نے ادھر ادھر دیکھا ایک ہی کرسی تھی جس پر شیرو کے اترے ہوئے کپڑے تھے ساتھ میں ایک دروازہ تھا شاید پچھلی طرف کوئی صحن ہوگا . خیر میں نے کوئی توجہ نہ دی اور بیڈ کے اوپر بیٹھ کر ناول پڑھنے لگی . ایک جاسوسہ فریق مخالف کے کسی بڑے جاسوس سے کچھ راز اگلوانا چاہتی ہے اور اسے سڈیوس کرنے کی کوشش کرتی ہے مگر جب اسکا ہتھیار دیکھتی ہے تو دنگ رہ جاتی ہے خود ہی شکار ہو جاتی ہے ہتھیار اسے اتنا پیارا لگتا ہے کہ اسے لینے کو بے تاب ہو جاتی ہے اور اپنے مشن سے اسے اگاہ کر بیٹھتی ہے وہ جاسوس بڑا کایاں ہوتا ہے اندر ڈال کر ٢ تین جھٹکوں کے بعد اس نے کہا اگر اور جھٹکے لینا چاہو تو ہر جھٹکے کے لیے ایک سوال کا جواب دینا ہوگا . یہ ایک تھرل تھا میرے لئے اتنے بڑے ہتھیار کا سوچ کر میں خود گیلی ہو گئی اور میرا ہاتھ پاجامے میں میری گڑیا سے کھیلنے لگا . میں بڑی توجہ سے پڑھنے میں مصروف تھی ; خبر ہی نہ ہوئی کب بازو والا دروازہ کھلا اور شیرو اندر داخل ہوا مجھے تب خبر ہوئی جب وہ کرسی سے کپڑے اٹھانے لگا . اس نے بھی تب ہی دیکھا جب میرے سے بے ساختہ تم نکلا وہ چونک کر میری تف دیکھنے لگا میں سٹل ہو چکی تھی میرا ایک ہاتھ پاجامے کے اندر سٹک تھا اور دوسرے ہاتھ میں کتاب جس پر ایک ورق پر ہاتھ سے لن کے سکچ بنا ہوا تھا . بیگم صاحبہ آپ . شیرو نے حیرت سے پوچھا اور بیڈ کی طرف بڑھا اس نے صرف انڈرویر پہنا ہوا تھا اور اس کا مال انڈرویر کے اندر پھنسا ہوا تھا . وہ میری طرف بڑھا تو میں نے اسے وہیں رکنے کو کو کہا . مگر وہ رکا نہیں . بیڈ کے قریب آ کر کھڑا ہو گیا اسکا پرندہ ہمکنے لگا . تم تو کچہری گئے ہویے تھے میں نے اس کے مال پر نظریں جماتے ہویے پوچھا . تحصیلدار نہیں آیا اور جلدی گھر آگیا پچھلی دیوار میں کھڑکی سے اندر آیا اور کپڑے یہاں اتار کے باھر ورزش کرنے لگا مجھے نہیں معلوم آپ کب آئیں . . آپ پسند کریں تو آپ کے لئے چاہے بناؤں آپ کے لئے . ” نہیں نہیں میں ابھی ائی تھی تمہاری لائبریری دیکھنے کے لئے میں سمجھی تم گھر نہیں ہو تو دیکھ لوں . اب میں چلتی ہوں ” میں بیڈ سے اترنے لگی تھوڑا رک جایئں بیگم صاحبہ . اس نے مجھے دبارہ بیڈ پر بٹھاتے ہویے کہا اور خود بھی ساتھ ہی بیٹھ گیا نہیں شیرو مجھے جانے دو کوئی آ جایئگا تو بدنامی ہوگی میرے ہاں کوئی بھی نہیں اتا آپ بے فکر رہیں بس تھوڑی دیر اور رک جایئں . وہ میرے سے لگ کر بیٹھا ہوا تھا وہ بھی صرف ٹائٹ انڈرویر میں . اس کا پنچھی آزاد ہونے کے لئے تھوڑی تھوڑی دیر بعد سر اٹھاتا . میری نظریں اسی کی حرکات پر لگی ہوئی تھیں . . اپ کے کولہے کا کیا حال ہے اس نے میرے کولہے کو ہاتھ لگاتے ہویے پوچھا

کیسے ہے اپکا کولہو کا درد ؛ اب تو تکلیف نہیں “کافی سے زیادہ آرام ہے ” میں نے اسے بتایا وہ میرے متاثرہ چوتڑ پر ہولے ہولے ہاتھ پھیرنے لگا ہاتھ لگنے سے درد ہوا تو میرے منہ سے اف سی نکلی بیگم صاحبه گر آپ لیٹ جایئں تو میں اچھی طرح مساج کر سکوں گا اس نے کہا تو میں پہلو کے بل لیٹ گئی . اس نے پاجامہ نیچے کھینچ لیا اور میرے کولہے پر ہاتھ سے مساج کرنے لگا . “یہ کیا کیا تم نے شیرو ” میں پاجامہ اوپر کو کھنکجتے ہوئے میں بولی, بیگم صاحبہ مجھے دیکھنا ہے کہیں سوجن تو نہیں یا جگه سرخ تو نہیں یہ کہتے ہوئے اس نے پاجامہ پھر نیچے کھسکا دیا . میں ہولے سے بولی . کوئی شرارت نہیں پلیز . آپ بے فکر رہیں بیگم صاحبہ یہ کہتے ہوئے وہ بڑے غور سے متاثرہ جگه دیکھنے لگا . سوجن تو نہیں ہے مگر کولہا سرخی مائل ہے جو کہ ایک آدھ دن میں ٹھیک ہو جائیگی اور پھر اٹھ کر وہ سرسوں کے تیل کی بوتل اٹھا کر لے آیا اور بنا پوچھے اس نے پاجامہ پورا ہی اتار دیا میں نے جھینپتے ہوئے اسے کہا شیرو مجھے تمہاری نیت ٹھیک نہیں لگ رہی اس لئے وارننگ دیتی ہوں گر مجھے چوٹ نہ لگی ہوتی تو میں کبھی یوں نہ پڑی ہوتی . آپ بے فکر رہیں بیگم صاحبہ میں مساج کرونگا جو آپ کے لئے ضروری ہے آج کی مساج سے آپ کو مکمل آرام مل جاے گا . اور مجھے الٹا لیٹنے کو کہا . میں اس کے کہنے کے مطابق پیٹ کے بل لیٹ گئی ؛ اس نے ہاتھوں میں تیل لیا اور میرے چوتڑوں پر ڈالا اور پھر ہاتھ سے مساج کرنے لگا . تیل کچھ زیادہ ہی تھا جو ادھر ادھر ٹانگوں پر بھی اور رانوں کے بیچ بھی پھیل گیا تھا . اسے سمیٹنے کے لئے شیرو جلدی جلدی ہاتھ ادھر سے ادھر پھیرنے لگا اسکے ہاتھ میرے چوتڑوں سے پھسلتے ہوئے ٹانگوں پر چلے جاتے پھر وہ وہاں سے چوتڑوں تک ہاتھ پھسلاتے ہوئے لے اتا . مجھے اب درد بھی نہیں ہو رہا تھا اور مساج کروانا اچھا لگنے لگا تھا ؛ میں چارپائی پر اوندھی لیٹی ہوئی تھی . اور کھڑا تھا میں نے اپنا چہرہ اسی کی طرف کیا ہوا . وہ صرف ایک ٹائٹ جانگیے میں تھا , اور میری نظریں بار بار اسکے انڈرویر کی اٹھ جاتیں کیونکہ وہاں قید پنچھی پل پل اڑنے کی کوشش کرتا اسکی بیچینی سے مجھے کچھ کچھ ہونے لگا تھا . شیرو کے ہاتھ کچھ زیادہ ہی پھسلنے لگے تھے تیل رانوں کے اندر پہنچ گیا تھا تو شیرو وہاں بھی ہاتھ پھیر لیتا . میں نے دھیرے دھیرے ٹانگیں کھولیں تو شیرو کے ہاتھ آزادی سے رانوں میں بھی مساج کرنے لگے . شیرو بوندڑی کا خیال رکھنا میں نے کہا تو شیرو بولا بے فکر رہیں بیگم صاحبہ رانوں میں مساج کرتے شیرو کا پنچھی جانگیا پھاڑنے کی کوشش کرنے لگا . شیرو نے اچھا خاصا مل چھپا رکھا تھا . میں اسے تو بول رہی تھی بوندڑی کو کراس نہ کرے مگر خود میرا من چاہتا تھا پنچھی کو آزاد کرا کے ہاتھ میں لے لوں . چاہتی تو میں بہت کچھ تھی مگر میں نے سوچا شیرو میری طلب کو میری کمزوری نہ سمجھے . اس لئے میں بن رہی تھی . شیرو نے تیل خشک ہونے کے بعد اور تیل میری پنڈلیوں ٹانگوں اور چوتڑوں پر ڈالا اور زور زور سے مالش کرنے لگا . کسی کسی وقت اس کا ہاتھ بوںڈری کو لگا جاتا تو میرے منہ سے بے اختیار افففف اوئی نکل جاتی . میں اپنے ہاتھ قیدی کو آزاد کرانے سے بمشکل روک پا رہی تھی . میں اسے دیکھنا چاہتی تھی اسے ہاتھ میں لینے کے لئے میرے ہاتھوں میں کھجلی ہونے لگی تھی , آپ کا بدن ملائی کی مانند ہے بیگم صاحبہ ؛ شیرو میری رانوں میں ہاتھ پھسلاتے ہوئے بولا تو میں نے سرگوشی میں شکریہ کہا . میں نے شرٹ تھوڑا اوپر کھینچتے ہوئے اسے پیٹھ پر بھی مالش کے لئے کہا تو اس نے بولا کہ اس طرح تو آپکی شرٹ تیل سے خراب ہو جائیگی . آپ شرٹ اتار کیوں نہیں دیتیں تو میں نے کہا خود ہی اتار دو مجھ سے اوپر نہ ہوا جایئگا . اس نے تولیے سے ہاتھ پونچھے اور میری شرٹ اتار دی . اب میں الف ننگی شیرو کے سامنے پیٹ کے بل لیٹی ہوئی تھی شیرو نے تیل میرے شانوں پر گرایا اور پھر پیٹھ اور کمر پر بھی ڈالا اور کمر سے لے کر شانوں تک مالش کرنے لگا میری پنڈلیوں سے لے کر ہاتھ میری پیٹھ تک لے جاتا اور پھر میرے کولہوں کو دبانے لگتا . اس کے ہاتھ میری رانوں کے اندر جانے لگتے تو میں اپنی ٹانگیں تھوڑا کھول دیتی . اسے اس نے کوئی اشارہ سمجھا شاید . شانوں پر مالش کرتے پیٹھ اور سائیڈ ز کو بھی مالش کرتے اس کے ہاتھ تیزی سے میرے کولہوں کی طرف آئے تو میں نے اختیار اپنی ٹانگیں کھولیں اسکے ہاتھ ٹانگوں پر جانے کے بجاۓ رانوں کے بیچ میری فاختہ سے جا ٹکراے , میرے منہ سے اف اوئی نکلی اور میں تڑپ سی گئی ایسا نہ کرو پلیز . جانو یوں نہ تو نہ تڑپاؤ شیرو پھر رانوں پر مالش کرتے هوئے فاختہ کے پروں کو چھو بیٹھا . میں لذت سے اچھل پڑی شیرو ایسا نہیں کرو ناں میں نے ایسے کہا جیسے اسے کہ رہی ہوں کرتے رہو . اس نے میرے من کی مرضی جان لی ہو جیسے ؛ اس نے اپنا ہاتھ فاختہ پر رکھا اور اسکے پروں کو مسلنے لگا اس نے میرے دانے کو چھوا تو میں برادشت نہ کرسکی اور پہلو بدل کے میں سیدھی لیٹ گئی . شیرو کی نظریں میرے گول گول مموں اور میرے اکڑے نپلز کو دیکھ کر وہیں ٹک کر رہ گئیں اس کے ہاتھ مموں کو ہاتھ میں لینے کے لئے بڑھے مگر رک گئے شیرو میری طرف دیکھنے لگا جیسے اجازت چاہا رہا ہو میں نے شرماتے نظریں چرا لیں اور وہ مموں پر جھک گیا ممے ہاتھ میں لے کر دبانے لگا . شیرو ہولے ہولے پلیز وہ ہولے ہولے مسلتے ہوئے انہیں چومنے لگا . میں نے اسکے جانگئے کو دیکھا جس میں اکڑ کر کھڑا اسکا پنچھی پھڑ پھڑ ا رہا تھا . اب تو اس پر مجھے اس پر ترس آنے لگا اور دل اسے دیکھنے کو بھی مانگ رہا تھا . شیرو میرے نپل کو چوسنے لگا اس کا ایک ہاتھ ممے کو لئے ہوئے تھا دوسرا ہاتھ میری ٹانگوں کے سنگم میں رینگنے لگا . میں نے ایک سسکاری لی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر چوت پر رکھ کے دبایا اور اس سے کہا ” شیرو ایسا نہ کرو ناں پلیز . شیرو مجھے دیکھنے لگا . اس کی نظروں کی تاب نہ لاسکی اسکی آنکھوں میں دیکھنا مشکل تھا ایسا لگتا مجھے کچھ ہو نہ جاۓ , بہت خوبصورت ہو آپ بیگم صاحبہ . یہ کہتے هوئے وہ اپنی انگلی میرے لبوں پر پھیرنے لگا وہ جس محویت اور لگن سے مجھے دیکھ رہا تھا . میں بس اسی کی ہوتی جا رہی تھی .
میں نے اسکی انگلی کو دانتوں میں ہولے سے دبا دیا تو مسکرا دیا میں نے اس نے اپنے ہونٹ میرے لبوں پر رکھ دیئے اسکے گرم گرم ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لے کر میں چوسنے لگی . ایسا سواد پہلے نہ تھا چکھا . اس کے ہونٹ بھرے بھرے اور گداز ہیں , اس نے اپنی زبان میرے لبوں پر پھیری اور میں نے ہونٹوں کو کھول دیا اسکی زبان اندر آئ اور میں جھٹ سے اسے چوسنے لگی . اسکا ہاتھ میری چوت کے دانے کو مسلنے لگا میں نے اپنی ٹانگیں مزید کھول دیں . اسکی اک انگلی میری لکیر کو کھوجاتی راستہ بناتی اور نرم گوشوں کو کھجانے لگی . اسکا انگھوٹھا چوت کے دانے کو مسل رہا تھا . میں لطف کی گہرایوں کی طرف بڑھتی گئی میرا ایک ہاتھ اسکے جانگئے کی طرف بڑھا اور اسکے پنچھی کو پکڑنے کی کوشش کرنے لگا شیرو مجھ پر جھکا ہوا تھا اس نے سیدھا کھڑا ہو کے اپنا جانگیا نیچے گرایا تو میں اٹھ کر بیٹھ گئی . وہ اچھا خاصا لمبا سات انچ سے زیادہ نہ بھی ہوا تو سات انچ سے کم نہ تھا . اسکا ٹوپا دیکھنے کی چیز تھی موٹا اور لمبا اور اسکی گانی بڑی پیاری لگ رہی تھی سیدھا اکڑ کے کھڑا میرا دل اسک لئے ہمکنے لگا اسکے بھورے ٹوپے پر سوراخ کے نزدیک ایک کالا سیاہ تل اسے مزید خوبصورت بنانے کا سبب بنا . میں نے اسے ہاتھ میں لیا مچھلی کی طرح مچلنے لگا میرے ہاتھ سے پھسل پھسل جاتا میں خوش تھی ایسے لن سے چدوانے میں کتنا سرور کتنا مزہ ائیگا اس کا انداز مجھے چوت کے پھدکنے سے ہو رہا تھا . اتنا تنو مند مضبوط لن لینے کے لئے میں بے چین ہونے لگی میری چوت گیلی تو پہلے ہی تھی اب رسنے لگی تھی . , شیرو تمہارا مال تو بہت خوبصورت ہے وہ ہنس دیا . شیرو مجھ سے وعدہ کرو مجھے کبھی اس سے محروم نہ رکھو گے . آج سے یہ میرا ہے یہ کہتے ہوئے میں نے لن کی ٹوپی پر اپنی زبان پھیری اسکی سوراخ پر ایک سترہ سا چمک رہا تھا اسے انگلی سے پوری ٹوپی پر پھیلا دیا . پھر اسے چاٹ لیا اسکی مذی کا بھی جواب نہیں تھا یعنی موجاں ہی موجاں . میں نے ٹوپی کو منہ میں لے کر چوسا اور دل نے مانگا ہور . میں نے لن منہ میں لے لیا مگر آدھا لے سکی وہ صرف لمبا ہی نہیں موٹا بھی , میں نے چوپا لگایا اب شیرو نے مجھے چارپائی پر لٹا دیا اور خود میرے ساتھ بیڈ پر لیٹ گیا اور مجھے اپنے سینے سے لگا لیا میں لپٹ گئی اس سے میرے مموں سے اسکی چھاتی کے بال لگے تم میرے سارے جسم میں سنسناہٹ سی ہوئی , میری ایک فنٹاسی مرد کی چھاتی کے بال تھے جو آج پوری ہو رہی تھی . میں اسکی نپلز کو چومنے لگی ساتھ ساتھ چھاتی کے بالوں میں انگلیاں پھیرتی لطف اٹھا رہی تھی . اسکا لن میری رانوں میں آیا تو میں نے اسے رانوں میں جکڑ اور ہاتھ سے اسے اپنی چوت کے ساتھ ٹکا کر ہلنے لگی . شیرو نے میرے چوتڑ ہاتھوں میں لے کر اپنی طرف کے اور لن کو ہلانے لگا . لن رانوں میں کوٹ کے دانے کو رگڑتا ہوا بہت مزہ دینے لگا . میں نے شیرو کے کانوں میں سرگوشی کی کہ کچھ کرو مجھے کچھ ہو رہا ہے . وہ مجھ چومنے لگا اسکے میرے مموں سے کھیلنے لگے . “شیرو چودو مجھے ؛ میں نے اس کے لن کو ہاتھ میں لیتے هوئے کہا مری چوت اسے مانگ رہی ہے ترس رہی ہے وہ اس کے لئے . شیرو اٹھ کر مری ٹانگوں کے بیچ آ کے بیٹھ گیا میں نے ٹانگوں کو کھول دیا اور شیرو نے اپنا لن میری چوت پر رکھا تو میں نے اسکی ٹوپی چوت کی لکیر پر مسلی گیلی چوت نے ٹوپی بھی بھگو دی شیرو نے لن چوت میں دبانے کے لئے اس پر رکھا تو میں نے سرگوشی کی ذرا دھیرے سے ارام سے شیرو . میں نے اپنے آپ کو ڈھیلا چھوڑ دیا شیرو دھیرے دھیرے اندر کرنے لگا اور جب ٹوپی چوت میں گئی تو ایسا لگا جیسے پھنس کے جا رہی ہے ٹوپا ہی مشکل تھا میرا ڈر دور ہو گیا تو میں شیرو سے بولی شیرو ایک ہی جھٹکے سے اندر کرو اسے . شیرو نے یہ سنتے زور کا دھکا لگایا اور لن جڑھ تک میرے اندر تھا ؛ اف ایسا لگا جیسے اج پہلی بار میں بھر پائی میں نے شیرو کو جکڑ لیا تاکہ وہ حرکت نہ کرے میں چاہتی تھی چوت اس قابل ہو جاۓ کہ شیرو اپنے دھکے جھٹکے مرضی کے لگا سکے , تھوڑی دیر بعد چوت تیار تھی شیرو کے طوفانی جھٹکوں کے لئے . شیرو اب دھکے مار کے مجھے چودو میں نے سرگوشی کی تو اس نے دھکا مارا اف پہلا دھکا ہی سواد دے گیا اب شیرو دھکے مارنے لگا اور میں بھی دھکوں کا جواب دینے لگی . شیرو ہٹ ہٹ کے چوٹیں لگاتا اور میں ہر چوٹ پر عش عش کر اٹھتی . مجھے بڑا سواد آ رہا تھا . میں شیرو کو چومنے لگی وہ مرے نچلے ہونٹ کو چوسنے لگا . اور میرے ممے ہاتھوں میں دبانے لگا . شیرو جانو زور سے دھکا لگاو میرا انجر پنجر ایک کردو , شیرو نے میری ٹانگیں اٹھا کر اپنے کندھوں پر رکھیں اور ایک زور دار دھکا لگایا جو میرے اندر جا لگا , واہ یہ تھا مردوں کا دھکا . شیرو اور جھٹکے دے مجھے میری ساری حسرتیں مٹا دے آج جانی . میں تیری ہوں شیرو تیری مجھے اپنی سمجھ اور زور سے مار دھکا . آج پہلی بار کوئی سواد کا دھکا لگ رہا ہے . کوئی مرد کا بچا ملا ہے کاش ہم پہلے ملے ہوتے . اور اس کے ساتھ ہی میں اپنا پانی چھوڑ بیٹھی . مجھے سواد نے آ لیا شیرو کے پسینے کی مدھر خوشبو مجھے پاگل بنا نے لگی میں اس کے سر کے بالوں میں انگلیاب پھیرتی رہی وہ مجھے چودتا رہا , اس نے زور سے جھٹکا دیا تو مجھے کولہو پر درد ہونے لگی . اس سے پہلے کہ وہ دوسرا دھکا لگاتا میں نے اسے روک دیا اس نے دھیرے دھیرے میری ٹانگیں کندھوں سے اتاری میں نے ٹانگیں سیدھی کیں . اتنی زیادہ درد نہ ہوا . میں نے شیرو کو لیٹنے کو کہا وہ چارپائی پر لیٹ گیا جہاں پہلے میں لیٹی تھی اسکا لن اکڑ کے کھڑا تھا , مرد میدان کو دیکھ کر میرا من باغ باغ ہوا اور چوت پھدکنے لگی , میں شیرو کے اوپر آگئی اور لن کو پکڑ کر اپنی چوت کو اس کے اوپر رکھ کر آہستہ آہستہ نیچے اترتی گئی . اف کیا بتاؤں میں سکون کی ایک وادی میں پہنچ گئی میں شیرو کی چھاتی کے بال پکڑ کے خود دھکے مارنے لگی میں پورا اندر لے کر رک جاتی پھر چوت کے مسلز سے لن کو دبتی تو شیرو کے منہ سے لذت بھری سسکاریاں نکلتیں تو مجھے بھی تسکین ملتی میں کچھ د یر اوپر رہی اور ایک بار پھر جھڑ گئی میرا منہ لذت سے بنتے بگڑتے دیکھ کر شیرو بھی مستی میں آنے لگا , میں سمجھ گئی وہ انے کے قریب ہے تو میں نیچے اتر آئ اور پہلو کے بل لیٹ گئی شیرو میرے پیچھے تھا میں نے اسکا لن پکڑ کر چوت پر رکھا اور اس نے پیچھے زور کا دھکا لگا کر لن کو اندر تک پہنچا دیا میں گانڈ اور پیچھے کی طرف لے گئی اور شیرو کو بولا زور لگاؤ جانی وہ زور زور کے جھٹکے مارنے لگا اسکی سانسیں بھاری ہونے لگیں اور لذت بھری آوازیں مجھے بھی مزہ دینے لگیں . اس نے کچھ مزید زور دار دھکے کھیلے اور پھر ڈکراتا ہوا اپنا سارا مواد میرے اندر ہی ڈال دیا . اتنا گرم لاوا میرے اندر پہلی بار کسی نے ڈال کر مجھے مالا مال کر دیا . اسکے جھٹکے اور گرم فوارے سے میں ایک بار پھر جھڑ گئی . شیرو کافی دیر یوں ہی لیٹا رہا اسکا لن ہولے ہولے نرم پڑتا گیا , میری چوت کے مسلز اسکو بھینچ کر اپنا پیار جتاتے رہے آخر وہ میری چوت سے نکل گیا اسکے ساتھ کافی رس چوت سے نکل کر بہنے لگا , شیرو مجھے چومنے لگا . شیرو تم مرد ہو تم نے مجھے آج لطف و سرور کے وہ جہاں دکھاۓ جو آج سے پہلے میں نہ دیکھ سکی تھی . کافی دیر ہو چکی تھی کوئی مجھے دیکھنے آ سکتا تھا . ہم نے اپنے اپنے کپڑے پہنے اور ٢ کتابیں اٹھا کر میں گھر آگئی میں تھک چکی تھی . شاور لے کر لنچ کیا اور سو گئی اور شام کی چاہے لے کر میں اصطبل کی طرف نکلنے لگی تو وہاں شیرو کو کھڑے دیکھا , میں شرما گئی اور دروازے سے ہی واپس آگئی آج میری دنیا ہی بدل گئی تھی ایسی چدائی جس کے خواب دیکھتی تھی میں آج انکی تعبیر مل گئی تھی . میں نے شام کو جلد ہی کھانا کھایا مجھ پر تو لذت کا خمار چڑھا ہوا تھا . میرے انگ انگ میں میٹھا درد ہو رہا اور اور جلد ہی سہانے سپنوں میں کھو گئی . رات کا نہ جانے کونسا پہر تھا کہ میری آنکھ گئی . کوئی مجھ پر جھکا ہوا تھا مجھے ڈر لگنے لگا تھا . کیسی ہو بیگم ؛ کامران کی آواز سن کر اطمینان کا سانس لیا میں ٹھیک ہوں ؛ آپ کب آئے ؟ ابھی آیا ہوں ، تمہارا کولہو کے درد کا کیا حال ہے . پہلے سے کافی بہتر ہے ؛ کیا ٹائم ہوا ہوگا کلاک کی طرف دیکھتے هوئے میں نے پوچھا . کلاک میں ٢ بج کر ١٧ منٹس ہو رہے تھے . کامران مجھے بوسہ دیتے هوئے باتھ روم میں فریش اپ ہونے اور چینج کرنے گئے اور میرے ساتھ ہی دراز ہو گئے میں اکثر رات کو سلیپنگ ڈریس کے لئے پاجامہ اور اوپن شرٹ ہی لیتی ہوں مگر آج رات میں پینٹی اور برا ہی میں سو گئی تھی . کامی جب چادر کے نیچے میرے قریب ہوا تو اسکا ہاتھ میرے ننگے بدن سے لگا تو انہیں احساس ہوا کہ آج میں کچھ بھی پہنے هوئے نہیں ہوں . وہ مجھے اپنی طرف کھینچتے هوئے میرے شانوں پر بوسہ دیتے هوئے بولے ” آج کوئی تبدیلی لگ رہی ہے ” اب میں انہیں کیا بتاتی کہ آج کے دن بہت کچھ تبدیل ہو چکا . شیرو کے ساتھ بیتے وقت کو یاد کر کے میں مسکرانے لگی ” ہاں کامی میں نے سوچا آپکو سرپرائز دوں ” ریلی آئی لائیک اٹ مچ ؛ انہوں نے مجھے بھینچتے هوئے کہا اور میرے چوتڑوں ( بٹس) پر ہاتھ پھیرنے لگے . آج دن میں شیرو نے مجھے سیراب کیا تھا اور میرے جسم کی طلب مٹ گئی تھی ؛ سوچا کامران سے کوئی بہانہ بنا لوں کیونکہ وہ بھی تو مجھے مہینوں ترساتا ہے . پھر سوچا مدّت بعد گر اس کو طلب ہوئی ہے تو تو اس کی پیش قدمی کا جواب مشبت ہی ہونا چاہیے ؛ میں نے کامی کی رانوں پر ہاتھ رکھتے هوئے پوچھا ” موڈ ہے کیا ” “ہاں تھوڑا تھوڑا بن تو رہا ہے . کل کہیں جانا بھی نہیں”؛ گر تھکے هوئے ہو تو کل پر رکھ لو ؛ میں نے اس کے لن کو دباتے هوئے کہا لن نیم ایستادہ سا تھا میرا ہاتھ لگنے سے مزید ہوشیار ہو گیا . شیرو کا لن لینے کے بعد اب اس کو برتنے کی کوئی خاص خوآہش تو نہ تھی پر جیسا بھی تھا میرے میاں کا تھا ؛ میں نے اسے دبایا تو کامران نے میری طرف رخ کر کے میری گڑیا پر اپنا ہاتھ رکھ دیا . میں نے اپنی پینٹی ہی اتار پھینکی . کل شیرو نے چودتے هوئے میری چوت کو مسل دیا تھا کامی نے چوت کو ہاتھ سے چھوا تو میرے منہ سے سسکاری سی نکل گئی . کیوں کیا ہوا بیگم کامران نے پوچھا مدت کی ترسی ہوئی پھدی کو جو تم نے چھو لیا تمہاری اس مہربانی سے ایسی مست ہوئی کہ میں سسک پڑی . اس میں انگلی ڈال کے دیکھیں یہ ابھی سے رسنے لگی ہے صاحب ؛ میں اسے گرمانے کے لئے جو منہ میں آتا اوول فول بک رہی تھی وہ بھی حیران تو ہو رہا ہوگا کہ میں آج اتنا زیادہ بولڈ کیسے ہو گئی ہوں . میں اسے کیسے بتاتی آج شیرو نے میری تمام شرم و حیا اتار کر ایک طرف رکھ دی ہے . جہاں شرم و حیا کرنا ہو کرو ورنہ بے حیا بن جاؤ آج میں سمجھی بیوی کو بستر میں رنڈی بن جانا چاہیے . میں نے ٹھان لی کہ کامران کو مزے کرا دونگی جیسے شیرو نے آج مجھے مزے کرواۓ تھے . میں نے اس کے پاجامہ میں ہاتھ ڈال کے اسکے لن کو ہاتھ میں لے لیا جو کہ میری ہاتھ کی حرارت اور حرکت سے خود بھی حرکت کرنے لگا تھا . شیرو کا نہ دیکھا ہوتا تو یہ بھی میرے لئے شیر ہی تھا . خیر کامران نے میرے برا کی ہک کھول کے میرے مموں کو آزاد کروا لیا تھا . اور میرے نیپل چوسنے لگا میں نے اف ظالم کہتے هوئے اسکے دوسرے ہاتھ کو اپنی پُھدی پر رکھا اور اس کے لن سے کھیلنے لگی تقریبا چار ماہ بعد لن اٹھا تھا اور کافی گرمی اور سختی لئے اکڑ کر کھڑا تھا . میں اپنی ران لن پر رکھ کر مسلنے لگی وہ اور بھی اکڑ گیا
.
کامران باری باری میرا مما دباتا اور نیپلز چوستا اور دوسرے ہاتھ سے میری چوت کی مساج کرنے میں مشغول تھا . میں نے اسکا ہاتھ پکڑا اور اسکی انگلی چوسنے لگی . جب انگلی خوب گیلی ہوگئی تو وہ انگلی اپنی چوت کی لکیر پر رکھی تو انگلی گیلی چوت میں پھسل گئی . کامران مری چوت کے گیلے پن کو محسوس کرتے هوئے اپنی انگلی کو زور زور سے چوت میں آگے پیچھے کرنے لگا میں مزے میں تڑپنے لگی . میرے چوتڑ کبھی اوپر اٹھتے کبھی نیچے گرتے ؛ مجھ سے رہا نہ گیا میں نے کامران کو نیچے گرایا اور اسکے اوپر بیٹھ گئی . میری چوت اسکے لن کو ہڑپ کر گئی اور میں اوپر نیچے اچھل کر کامران کو چودنے لگی . کل شیرو نے چدائی کی تھی ابھی تک چوت کے اندرونی مسلز پر خراشیں تھیں اب میرے اوپر نیچے ہونے سے ان خارشوں سے ہلکا ہلکا مگر میٹھا میٹھا درد کے ساتھ سواد بھی آ رہا تھا اس لذت کے لئے بھی میں شیرو کی مرہون منت تھی . مرے ہاتھ کامران کی بالوں سے آزاد چھاتی پر ٹکے تھے مگر میں تصور میں شیرو کی بالوں بھری چھاتی سے کھیل رہی تھی . کامران میرے چوتڑوں پر ہاتھ رکھے اپنی طرف دبانے میں لگا تھا . میں کامران کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے کر چوسنے لگی . اور زور زور سے دھکے لگانے لگی . اک لذت بھری لہر اٹھی اور میں کانپتے هوئے چوت کو بھینچنے لگی میری ٹانگیں اینٹھنے لگیں اور میں لگی گئی . میں نے ٹانگیں سیدھی کیں اور کامران پر ہی اوندھی لیٹ گئی کامران کا لن چوت سے پھسلتا باہر آ گرا مری سانسیں بحال ہوئیں تو میں کامران کو چومتے هوئے اسکے پہلو میں جا گری کامران مجھے بھینچ کے چومنے لگا اس کا لن ابھی کھڑا تھا میں ہاتھ میں لے کر اس کی مساج کرنے لگی . تھوڑی دیر بعد میں پھر ڈوبا لگوانے کو تیار تھی . کامران کو اشارے سے ٹانگوں کے بیچ آنے کو کہا . وہ میری ٹانگوں کے بیچ آ کر بیٹھ گیا اور میرے چوتڑوں کو اپنی طرف کھینچ کر میری چوت کو اپنے لن کے نشانے پر رکھا اور ایک ہی دھکا لگا کر لن کو اندر کر دیا . میں نے اپنی ٹانگیں اسکی کمر کے گرد جکڑ لیں . اس طرح اس کا لن میری چوت میں اچھی طرح سے چوٹیں لگا سکتا تھا . اس نے کامی نے دھکے لگانے شروع کئے . مجھے مزہ آنے لگا اور زور سے کامی اور زور سے . میری چوت کو دبا کے چود اور زور سے جھٹکے لگا کامی ڈرو مت میری چوت کو کچھ نہیں ہوگا اپنا پورا زور لگا کر اسے چود . آج دل لگا کر چود مجھے . آج کی رات یادگار بنا دے میرے لئے میں ہیجانی کیفیت میں نہ جانے کیا کچھ بکے جا رہی تھی ؛ شکر ہے یہ نہیں کہہ بیٹھی ایسے دھکے لگاؤ جیسے شیرو نے لگاۓ تھے . مجھے شیرو کے دھکے یاد آ رہے تھے کامی پلیز اور اندر جانے دو اسے پورا اندر ڈالو روکو مت اسے جانے دو اندر سارے کا سارا . اس نے تو اتنا ہی جانا تھا جتنا تھا مگر مجھے شیرو کی چدائی یاد آ رہی آج صوبہ جس جس جگه شیرو کے لن نے ٹچ کیا تھا وہ مس کرنے لگی . کامران اپنی پوری کوشش کر رہا تھا میری ٹانگیں اس نے شانوں پر رکھ لیں اور زور دار جھٹکے لگانے لگا . میں ہر جھٹکے کے ساتھ اسکے چوتڑ دباتی . کامران کا پسینہ پھوٹنے لگا تھا اور سانسیں بے ترتیب ہونے لگیں اس کے جھڑنے کا خیال آیا . میں اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی اور دوسرے ہاتھ سے اسکی پیٹھ پر مساج کرنے لگی . کامی نے اپنی طرف سے 2 ۔3 دھکے زور سے لگاۓ اور فارغ ہو گیا ، اس کا گرم گرم لاوا میرے اندر گرا تو مزے سے میں جھوم اٹھی . میں نے اپنی ٹانگیں اسکے شانوں سے اتار اسکا گرم مواد نکل کے چادر کو بھگونے لگا . کامران میرے پہلو ہی میں گر گیا . میں اسکے سینے پر ہاتھ پھیرنے لگی اسکی سانسیں معمول پر آنے لگیں . اس کی پیشانی سے پسینہ پوونچشہ کر میں کامی کے گلے سے لپٹ گئی . شکریہ کامی ڈارلنگ یو ار ویلکم . کامران بولا بہت مزہ آیا ؛ کامی تم کو بھی مزہ آیا واہ یس جان آج تم نے کمال کر دیا اررے میں نے کونسا کمال کیا چودہ تو تم نے ہے مجھے کمال تو تم نے کیا ایک مدت کے بعد مجھے اتنا سود دے کر لیکن چدواتے هوئے تم بھی کم نہ تھیں جس طرح تم نے مجھے جوش دلاۓ رکھا اس سے مزہ دوبالا ہوگیا اس طرح ہم باتیں کرتےاور ایک دوسرے کو چھوتے چھیڑتے رہے بہت مدت کے بعد کامران اچھے موڈ میں تھے میں نے انکے لن کو ہاتھ میں لیتے هوئے کہا آؤ کامران ایک بازی اور ہو جاۓ اور اسکے لن کو دبایا جو کہ سو چکا تھا . نہیں جان میں تھک گیا ہوں سارا دن مصروف بھی رہا . کل دو بار کریں گے اور مجھے بوسہ دے کر میری طرف پیٹھ کر لی یہ ایک معمول تھا جب کبھی کامران کا کھڑا ہوتا اور وہ مجھے چودتا اور گر میں دوبارہ کرنے کو کہتی تو اسے نیند آجاتی . شادی کے شروع میں وہ دوسری بار کر لیتے تھے وہ بھی کبھی کبھار اب تو یاد بھی نہیں کب ہم دوسری بار لطف اٹھایا تھا بس نوشی یوں زندگی رواں دوں رہی جب بھی چانس ملتا شیرو سے میں چدوا لیتی . اس کے بنا تو رہنا ہی مشکل لگتا تھا . کامران کبھی کبھار ہی سیکس کرتے . ایک سال بعد نو سال کے بعد ارما ن حیات پیدا هوئے . پورے دس جشن منایا جاتا رہا . نوشی تمہارے والدین بھی شریک رہے بس خوشی کے موقع پر . تم تو اس وقت پیدا بھی نہ ہوئیں تھیں . اسکے پانیچ سال بعد کامران گھوڑوں کی ریس میں گھوڑے سے گر پڑے اور سر میں چوٹ لگنے سے فوت ہو گئے . جس کے بعد زندگی پھر ویسی نہ رہ گئی . مری دنیا ہی اندھیر ہو گئی تھی اس وقت میں تیس کی تھی اور بھرپور جوانی میں بیوہ ہو گئی تھی دوسری شادی کرتی تو رشتہ دار ارمان حیات کی جایئداد ہتھیا لیتے . میں نے خاندان والوں سے کہ دیا کہ میں مرحوم کامران حیات کے وارث ارمان حیات کے بالغ ہونے تک شادی نہیں کرونگی اور اس کی جایئداد کی نگرانی کرونگی . خاندان والوں نے میری حوصلہ افزائی کی اور ساتھ دینے کا وعدہ بھی کیا . بعد میں شازشیں بھی ہوتی رہیں وہ الگ ٹوپک ہے . ارمان اس وقت پانچ سال کا تھا اس کے سر پر پگڑی باندھی گئی . اور مجھے چادر اڑھائی گئی . میں نے شیرو کو اپنا مددگار چنا , کامران کی وفات کے بعد میرا انحصار شیرو پر بہت بڑھ گیا , نہ صرف زمینداری جاگیرداری اور دیگر معاملات کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ میں نے اپنے جنسی ضروریات کا بھی اسے انچارج بنا دیا . شیرو سے جتنا چدواتی اتنا ہی چھدوانے کا شوق بڑھتا گیا . اسکے چودنے کا ڈھنگ ہی ایسا ہے میں اسکی اور اسکے لوڑے کی دیوانی بن گئی . وہ بھی میرے لئے پاگل تھا . جوان تھا ؛ اسے کی بار کہا کہ شادی کر لو مگر یہی کہتا کہ میری شادی تو تم سے ہو چکی کئی بار ہم نے اپس میں بھی شادی کا سوچا . پھر ارمان کے مستقبل کا سوال اٹھ کھڑا ہوتا جس کی وجیہ سے ہم یونہی چوری چھپے ہی چدائی کا کھیل کھیلتے رہے .شیرو کو ہر طرح کے مطالعہ کا شوق ہے اب بھی اس کی لائبریری میں سیکڑوں کتابیں ہیں جن میں جنسی کتابوں کی بھی کوئی کمی نہیں مجھے جنسیات سے بہت دلچسپی ہے اس لئے میں زیادہ تر جنسی کتابیں لے اتی . مجھے چدائی میں مختلف طریقے اور رویے پڑھنے کا ٹھرک ہے , اب بھی اس ٹوپک پر کوئی کتاب ملے تو پڑھے بنا نہیں چھوڑتی . سب سے پہلے مجھے لن چوسنے اور چوت چٹوانے میں دلچسپی محسوس ہوئی . اور میں نے شیرو سے اس پر بات چیت کی مگر شیرو کو چوت چاٹنے پر اعتراض رہا ؛ ہم دونوں سیکس پر مختلف زاویوں سے ڈسکس کرتے تھے اور ایک دوسرے کو قائل کرنے کی کوشش کرتے مگر ایک فریق مطمین نہ ہوتا تو دوسرا فریق اس پر اصرار نہیں کرتا . شیرو نے آج تک میری چوت کو اپنی جیبھ نہیں لگائی جس کی وجہ سے یہ میری حسرت بن کر رہ گئی ہے . میں اسکا لن شوق سے چومتی بھی ہوں چوستی بھی ہوں اور چوپا بھی لگاتی ہوں . صرف اس کا منہ میں خارج ہونا پسند نہیں کرتی . ایک بار میں اس کا چوس رہی تھی اور مستی میں مگن رہی اور خیال ہی نہ رہا کہ وہ فارغ ہونے والا ہے . میں اس وقت چونکی جب پچکاری حلق میں جا لگی ؛ مجھے ابکائی سی آگئی . ذائقہ تو اتنا برا نہ تھا اسی لئے مذی بڑے شوق سے چاٹتی اور سواد لیتی ہوں مگر اسکی سمیل اچھی نہ تھی جس کی وجہ سے جب بھی میں چوسا لگاؤں تو شیرو کے انزل کا خیال رکھتی ہوں . اس کے بعد مجھے سپیکنگ کے بارے مجھے تجسس ہوا تو شیرو سے بات کی کیونکہ سپینکنگ تھپڑ بازی تو اس نے ہی کرنی تھی وہ نیم دلی سے مان گیا میں روز بروز شیرو کی طرف کھنچتی چلی گئی ارمان کے بعد اگر کوئی میرے لئے اہم تھا تو وہ شیرو تھا . وہ بھی میرے لئے ایسے ہی جذبات رکھتا . ہم جب بھی چانس ملتا بھرپور فائدہ اٹھاتے تھے . میں تیس سال سے زیادہ اور بیوہ ہونے کے باوجود خود کو ٹین ایجر سمجھنے لگی شیرو کی کوشش ہوتی کہ وہ مجھے چھیڑتا رہے , چلتے چلتے چٹکی لے لینا گانڈ پر ہولے سے چپت لگا دینا کسی بھی کونے میں پکڑ کر مجھے چومنے لگ جانا اسکی عادات میں شامل تھا اور مجھے یہ سب کچھ کرنا اچھا بھی بہت لگتا تھا مگر مجھے ڈر بھی رہتا کہیں کسی کی نظر پڑ گئی تو کہیں کی نہ رہونگی . جب کوئی آس پاس نہ ہوتا تو میں خود اپنی اداؤں سے شیرو کو ترغیب دلاتی کہ وہ مجھے چھیڑے . مجھے اسکی توجہ پا کر یقین ہو جاتا کہ میں مکمل ہو گئی ہوں . عورت اپنے مرد کی توجہ پانے کے لئے جان تک ہار سکتی ہے . اور جس طرح شیرو میری زندگی کے ہر یہلو کا احاطہ کئے ہوئے تھا میری زندگی اسکی مرہون منت ہو کر رہ گی تھی . اسکی ذرا سی بھی بے رخی میں برداشت نہ کر پاتی اور ذرا سی توجہ سے میرے من کی کلی کھل اٹھتی تھی . اسکی نگاہیں جب مجھے اپنے گھیرے میں لیتیں تو میں نہ اسکی آنکھوں میں دیکھ پاتی نہ نظریں چرا سکتی . کوئی عجیب کشش ہے اسکی آنکھوں میں کہ اسکی میں بے دام باندی بن جاتی . اف جب شیرو کا ذکر چھڑے تو جی چاہتا ہے اسی کی باتیں کرتی رہوں میں زیادہ تر سماجی کاموں میں مشغول رہتی تھی ارمان سکول جانے لگ گیا تھا . مطالعہ کا شوق تھا مگر کم ہی وقت ملتا جب بھی موقع ملتا شیرو کی لائبریری سے پڑھنے کے لئے کتابیں لے آتی . ایک دن شیرو کو کہیں جانا تھا , میں بھی فارغ تھی سوچا آج آرام سے لائبریری میں بیٹھ کر پڑھونگی . میں نے ٢ چار کتابیں اٹھائیں اور پڑھنے لگیں . دلچسپ اور رنگین کہانی میں ایسے کھوئی کہ وقت کا کوئی اندازہ نہ رہا کہ کتنا بیت چکا دروازہ پر ناک ہوئی تو چونکی . سامنے شیرو کھڑا تھا . سلام بیگم صاحبہ وہ اندر داخل ہوتے بولا وسلام تم جلد ہی آگئے میں نے پوچھا شیرو : تحصیلدار آیا ہی نہیں تھا , اس لئے جلد ہی آ گیا ہوں اس نے میرے چوتڑ پر چپت لگاتے ہوئے کہا تو میں بھی کی چٹکی لے لی . تھکے ہوے آے ہو کچھ پیو گے میں نے پوچھا . اگرچہ اسکا کمرہ تھا مگر مجھے کلی اختیار تھا کمرے پر . ہاں تمہارے ہونٹوں کا رس ؛ اور یہ کہتے ہوئے میرے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لے کر چوسنے لگا . میں جو کہانی پڑھ رہی تھی وہ بھی بہت بولڈ قسم کی رومانٹک سٹوری تھی اور میرا موڈ بھی رومانٹک ہو رہا تھا سو میرے لبوں نے اسکے ہونٹوں کی پذیرائی کی . اس نے دروازہ بینڈ کیا اور مجھے بازوؤں میں کمرے کے وسط میں لے آیا . ہم ایک دوسرے کو والہانہ چوم رہے تھے میرے ہاتھ اسکی پیٹھ سہلا نے لگے اور اسکے شریر ہاتھ میرے چوتڑوں کو دبا رہے تھے . کمرے کی فضا میں رومان پھیلتا دکھائی دے رہا تھا . اور ہم دونوں بہکے جا رہے تھے وہ میرے چوتڑوں کو اپنی طرف دباتا تو اس کا ابھار میری ناف کو کبانے لگتا میں اور اسکے ساتھ چمٹ جاتی . وہ میری آنکھوں میں دیکھتا تو میں شرما کے آنکھیں چرا لیتی . اسکی آنکھوں میں شرارت سی جھلکتی تھی جو مجھے آنے والے وقت کی مست کر دینے والی لذت کا سندیسہ دے رہی تھی . میں ان سے لپٹی جا رہی تھی ان کے اس ابھار کو دبا کر مزہ لے رہی تھی شیرو بھی میری بیقراری محسوس کر رہا تھا . تھوڑا سا نیچے ہو کر اسنے اپنا میری رانوں میں دے دیا جو کہ مری بنو کو نیچے سے ٹکرانے لگا . شلوار کے اوپر سے بھی اسکی سختی اور گرمی محسوس کر کے میں گیلی ہوگئی . میں نے اسکے گلے میں اپنے بازو ڈال دیے اور میرے بوبس اسکے شانوں پر دبنے لگے . میں مزے میں کھونے لگی شروع میں میرے چوتڑوں پر ایک زور کی چٹکی لی میں تڑپ کر اس سے الگ ہوئی اور اس کے سینے پر مکوں کی بارش کر دی . کمینے اتنی زور سے تھوڑی چٹکی کاٹتے ہیں . میں روہانسی ہو کر بولی , وہ ہنسے جا رہا تھا کی بار مجھے ستا کر محظوظ ہوتا تھا . میں بھی اسکی عمر کا تقاضہ سمجھ کر نہ صرف در گزر کرتی بلکہ خود بھی انجواۓ کرتی . میں نے اسے پکڑ کر چارپائی پر گرا لیا اور اسکے اوپر لیٹ گئی میں اسے چومتے اسکی قمیض کے بٹن کھولے اور اسکی چھاتی کے گھنے سیاہ بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی اسکے نیپلز کو انگلیوں مسلتے ہوئے بہت اچھا لگا . میں نے ایک چٹکی زور سے اسکے نپل پر کاٹی اور چلا پڑا اور اٹھ کر مجھے اس نے الٹا گود میں لٹا لیا اور میرے چوتڑوں پر ہاتھ پھیرتے پھیرتے ایک زور تھپڑ وہاں جڑھ دیا . میں درد سے دہری ہو گئی اس نے دوسرے چوتڑ پر بھی ایک دھر دیا میں درد سے چلا اٹھی . میں اٹھنا چاہتی تھی مگر شیرو مجھے اٹھنے نہیں دے رہا تھا اس نے میری شلوار چوتڑوں سے سے نیچے میرے گھٹنوں تک کر دی شلوار میں لاسٹک تھا جس کی وجہ سے وہ آسانی سے نیچے کھسک گئی شیرو بڑے پیار سے ہاتھ پھیرتا اور اچانک زور کا تھپڑ لگا دیتا . درد تو ہو رہا تھا مگر سپینکنگ کے بارے تجسس مجھے مجبور کر رہا تھا کہ شیرو کو میں نہ روکوں . لہٰذا شیرو کر ہر تھپڑ براۓ نام احتجاج کرتی رہی اب چوتڑوں پر درد کی شدت اتنی نہیں تھی جتنی پہلے چند تھپڑوں پر محسوس ہوئی مجھے معلوم ہو جاتا جب وہ ہاتھ اٹھاتا تھپڑ مارنے کے لئے تو چوتڑ ڈھیلے چھوڑ دیتی . ایک بار اس نے ہاتھ اٹھایا تو میں نے ٹانگیں کھول دیں تو آدھا تھپڑ میری گیلی چوت پر جا لگا میں اف کر کے رہ گئی بہت درد ہوا تھا مگر شیرو کو شاید وہ جگه زیادہ نرم لگی . اب تو اس نے میری چوت کو تھپڑوں کا نشانہ بنا لیا . کبھی آہستہ کبھی زور سے وہ چوت اور چوتڑوں پر تھپڑ لگاتا رہا تھوڑی در بعد میرا درد بہت کم ہو گیا یوں لگا جیسے چوتڑ اور چوت نم ہو گئے ہوں . مجھے اچھا لگنے لگا شیرو اور مر مگر آہستہ آہستہ . چوت پر بھی انگلیوں سے مار وہ چوت پر پنجے سے مارتا تو میرے رس کی چھیٹیں میری رانوں پر آ لگتیں . نیچے سے اسکا اکڑا ہوا لن میری رانوں سے ٹکرا رہا تھا . میں شیرو کی گود سے اٹھ کر چھپائی پر لیٹ گئی مگر میری گانڈ جلنے لگی پیٹھ کے بل لیٹنا مشکل لگ رہا رہا اس سے پہلے کہ میں بستر چھوڑتی شیرو مجھ پر جھک گیا اور اس نے میرے چہرے پر بوسوں کی بارش کر دی میں بھی اسکی گردن پر بوسے دیتی اور اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتی رہی پھر اسکی قمیض کو اتارنے لگی تو وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اور قمیض اتار کر پھینک دی پھر کھرے ہو کر اسنے اپنی شلوار بھی اتار دی . اف اسکا لن اکڑ کر لہرا رہا تھا , جسے دیکھ کر میرے منہ میں پانی بھر آیا ؛ اس سے پہلے کہ میں اسے ہاتھ میں لیتی. اس نے میری پوری شلوار اتار دی میں نے بھی اٹھ کر اپنی قمیض اتاری اور ساتھ رکھی کرسی پر رکھ دی اور لیٹ گئی . اب ہم دونوں ہی الف ننگے تھے وہ میرے ساتھ لیٹ گیا . اور میرے مموں سے کھیلنے لگا میں نے اسکا لن ہاتھ میں لیا جو کہ لوہے کی طرح سخت لگ رہا تھا . اور اسے دبانے لگی میں نے منہ شیرو کی طرف کیا اور اسکا لن رانوں میں لے کر دبانے لگی شیرو میرے نپلز منہ لے کر چونے لگا اور اس کے ہاتھ مموں کو ہولے ہولے دباتے مزہ دے رہے تھے . اسکا لن کو پکڑ کر اپنی چوت کے دانے پر رگڑنے لگی تو شیرو بھی اٹھ کر میری ٹانگوں کے بیچ بیٹھ گیا اور اپنا لن میری چوت پر مسلنے لگا اف چوت تو پہلے سی ہی اسکے تھپڑوں کی وجہ سے دُکھ رہی تھی اسکے لن کی رگڑ سے اسے عجیب سا سواد آنے لگا . وہ اپنے لن کو پکڑ کر چوت پر مارنے لگا چوت گیلی تھی اور جب وہ لن کو چوت پر پٹختا تو بہت پیاری سی آواز آتی ساتھ ہی لن کو چوت پر تلکا بھی دیتا جس سے مزہ چوکھا آنے لگا . اب مجھ سے مزید برداشت نہیں ہو رہا تھا چوت لن کو اندر لینے کے لئے بچین تھی . میں نے لن اسکے ہاتھ سے لیا اور چوت کے منہ پر رکھ کر اسکی طرف دیکھا تو وہ میری دونوں ٹانگیں مزید کھول کے لن کو ہولے ہولے اندر کرنے لگا . جب ٹوپا اندر چلا گیا تو پھر ایک ہی دھکے سے سارا لن اندر کر دیا . میں نے نیچے سے ہل جُل کر لن کو اچھی طرح ایڈجسٹ کیا اور شیرو کے نپل پر چٹکی لیتے ہوے کہا ” گُرو ہو جا شروع ” شیرو نہ جانے کیسے موڈ میں تھا کہ اس نے دھکے پر دھکے مارنے شروع کر دئے اسکا ایک ایک جھٹکا مجھے ہلا کر رکھ دیتا میں نیچے سے اسکا ساتھ نہیں دے پا رہی تھی اس لئے میں اسے کہتی رہی آرام آرام سے شیرو ہولے ہولے سے مگر وہ سر پٹ اپنا گھوڑا دوڑاتا رہا اور کمرا اسکی ٹاپوں کی آوازوں ٹپ ٹپ سے گونجنے لگا کچھ در بعد میں اس قابل ہو گئی کہ اسکے ہر جھٹکے کا جواب دے سکوں اب میں بھی نیچے سے دھکے کا جواب چوتڑ اٹھا کر دیتی تو مجھے مزہ آنے لگا اسکی چوٹ اندر لگتی تو لذت کی لہر سی اٹھتی اور منہ سے بے ساختہ لذت بھری سسکی نکلتی تو شیرو اگلا دھکا اور اور زور سے لگاتا . میں تڑپ اٹھتی . شیرو بڑے موڈ میں ہولے ہولے لگا تو مجھے لن کے ایک ایک انچ جاتا محسوس ہوتا تو میں بے خود ہو شیرو کو چومنے لگتی لذت کی ایک لہر اٹھی اور مجھے اپنے ساتھ منجدھار میں لے گئی اور میں شیرو سے لپٹ گئی میری ٹانگیں اکڑ گئیں شیرو کا لن اور رگڑ لگاتے ہوئے محسوس ہونے لگا میں شیرو کی انگلی منہ میں لے کر چوسنے لگی میں چھوٹنے لگی تھی میرے ساتھ شیرو نے بھی اپنا سارا گرم گرم لاوا مرے اندر ہی ڈالدیا اور مجھ پر ہی لیٹ گیا ہماری بے ترتیب سانسیں جب کچھ بہتر چلنے لگیں ہم ایک دوجے کو چومنے لگے . شیرو کا لن دھیرے سے باھر آ گیا تھا اور اسکا ٹوپا میری چوت کے دہانے پر ہی تھا . چوت سے اسکا ڈالا ہوا رس اب قطرہ قطرہ گر کر مرے چوتڑوں سے ہوتا ہوا بستر کی چادر گیلی کر رہا تھا میری پُھدی ابھی تک تھرک رہی تھی اس نے شیرو کی مار بھی کھائی تھی اور اس کے لن نے بھی کسریں نکالی تھیں . پھر بھی مسکراۓ جا رہی تھی میں کسمسائی تو شیرو میرے پہلو میں آ گرا میں اس سے لپٹ کر اسے بے تحاشا پیار کرنے لگی وہ بھی مجھے چومنے لگا . کافی دیر تک ہم ایک دوسرے کو بھینچتے اور پیار کرتے رہے . ایک دوسرے کو چٹکیاں کاٹتے رہے . شیرو میرے مموں کو ہاتھ میں لے کر میرے ہونٹوں کو چوسنے لگا میں اس کے لن کو ہاتھ میں لے کر ہولے ہولے دبانے لگی وہ گیلا تھا میں شیرو کی ٹانگوں میں بیٹھ گئی اور لن کو کپڑے سے خشک کیا اسے چومتے چومتے منہ میں لے لیا اور چوپا لگانے لگی وہ پہلے ہی ہوشیار تھا پھر تو اکڑ دکھانے لگا سیدھا کڑک ؛ اسے ایسے بھڑکتے دیکھ کر میری چوت اس کو پھر لینے کے لئے پھڑکنے لگی میں وہیں سے پلٹ کر شیرو کے پاؤں کی طرف رخ کر کے گھوڑی بن گئی
شیرو اٹھ کر میرے پیچھے آ گیا اور میرے چوتڑ پر ایک چپت لگا دی اف بڑا درد ہوا مگر میں نے شیرو سے کہا کہ ایک دوسرے پر بھی لگاؤ اس نے وہاں بھی زور سے تھپڑ مارا جس سے میں تڑپ گئی شیرو تم ذرا ہاتھ ہولا نہیں رکھ سکتے میں نے سر پیچھے موڑ کر اسے دیکھتے ہویے کہا , تو شیرو مسکرانے لگا مجھے اسکی مسکراہٹ زہر لگی مگر اس کے بعد اس نے جتنے بھی تھپڑ مارے ذرا آہستہ مارے . تھوڑی دیر بعد میرے چوتڑوں نے انہیں سہنا شروع کر دیا . میں نے محسوس کیا جس جگه تھپڑ پڑتے ہیں وہ جگه بے حس یا سن ہو جاتی ہے اور پھر اس پر تھپڑ لگنے سے عجیب سی سنسناہٹ محسوس ہوتی ہے . شیرو نے میری چوت پر لن مسلتے مسلتے ایک ہی دھکے اندر کر دیا چوت پہلے ہی گیلی اور چکنی تھی وہ آرام سے میرے اندر جا لگا . شیرو نے دھکے مارنے شروع کئے اور میں مزے کی وادیوں میں پانچ گئی گھوڑی بن کر چدوانا مجھے ویسے بھی بہت پسند ہے پھر شیرو کا لن تو میرے اندر کی خبر جا پوچھتا ہے جس سے مزہ دوبالا ہو جاتا ہے میں اس کے ایک ایک جھٹکے کو انجواۓ کرنے لگی . تیز سانسوں کے دوران میں نے شیرو کو کہا کہ اور زور سے مار دھکا وہ دھکے پی دھکا مارنے لگا . میں نے کہنیاں نیچے ٹیک لیں جس سے میرے چوتڑ اوپر کو ہو گئے تو شیرو آسانی سے مجھے مجھے چودنے لگا اور اس کا لن اپنے ٹارگٹ پر چوٹ پر چوٹ لگاتا شرشاری سے اپنا کام انجام دینے لگا , میں شیرو سے بولی تم نے بہت چود لیا اب مجھے چودنے دے وہ نیچے لیٹ گیا میں نے کپڑے سے اپنی پُھدی اور اسکا لن دونوں کو صاف اور خشک کیا اور اس کے اوپر آگئی . اسکا لن ڈنڈے کی طرح سیدھا کھڑا تھا میں نے پُھدی کو اس کے ٹوپے پر رکھا اور آہستہ آہستہ دباؤ دینے لگی جب ٹوپا اندر چلا گیا میں زور سے بیٹھی تو سارے کا سارا لن میرے اندر تھا . میں نے تھوڑا ہل جل کے لن کو سٹ کیا اور شیرو کے ہونٹوں پر اپنے لب رکھ دئیے جنہیں شیرو چوسنے لگا میں چوتڑوں کو ہولے ہولے اوپر نیچے کرنے لگی کبھی کبی آگے پیچھے بھی ہوتی لن کو بھئنچتی اور مزہ لیتی رہی آہستہ آہستہ لذت کی لہر آنے لگی میں نے شیرو کے سینے پر ہاتھ ٹیکے اور زور زور سے اوپر نیچے ہونے لگی ساتھ ساتھہ آگے پیچھے ہو کر اسے دھکے لگانے لگی جیسے جیسے میں زور اور تیز رفتاری سے دھکے لگاتی ایسے ایسے لذتی لہر مجھے بے بس کرتی گئی . میرے سانسوں کی رفتار تیز ہو گئی اور زور زور سے اوپر نیچے جھٹکے لگاتے شیرو پر گر گئی . شیرو نے مجھے لپٹا لیا اور چومنے لگا میں مخمور ہو کر کچھ دیر وہیں پڑی رہی . ابھی شیرو کے لن نے اپنا گرم مواد نکال کے میرے اندر ٹکور کرنی تھی میں اسکے ساتھ لیٹ گئی اور شیرو سے کہا جانی آ مجھے چود وہ اٹھا اور میری ٹانگوں میں بیٹھ گیا اس نے لن چوت پر رکھا ہی تھا کہ ایک خیال کے تحت میں نے اسے روک دیا . وہ میری طرف حیرانگی سے دیکھنے لگا تو میں نے اسے کہا اپنے لن کو میری چوت پر مار . اس نے لن کو جڑھ سے اور میری چوت پر مارا اف اچھا خاصا سمخت لگا ؛ شیرو بار بار مارنے لگا اور مجھے اچھا لگنے لگا مگر سخت تھا اس لئے اسکی مار زیادہ محسوس نہیں ہوئی اس لئے شیرو کو کہا جب یہ تھوڑا ڈھیلا ہو جاۓ تو پھر مارنا ابھی ایک زور کا لگا اور میری چوت چیر کر رکھ دے . اور شیرو نے ایسا ہی کیا اور پھر تابڑ توڑ حملے شروع کر دئے پھر میری ٹانگیں اپنے شانوں پر رکھ کر میری دھلائی شروع کر دی . کچھ ہی جھٹکوں کے بعد اسکے سانس پھولنے لگ گئے اور آخری چند جھٹکے لگا کر میرے اندر ہی چھوٹ گیا مری چوت نے اسکے لن کو جکڑ لیا اور اسے بھئنچنے لگی جس سے اسکا آخری قطرہ چوت نے اپنے اندر ہی نچوڑ لیا . شیرو کے کندھوں سے میری ٹانگیں اسکی کمر پر آ گریں تو وہ میرے اوپر ہی لیٹ گیا . تھوڑی دیر بعد جب اٹھا تو میں نے دیکھا اس کا لن ڈھیلا ہو کر بھر آیا تھا . میں جلدی سے اٹھ کر اسے صاف اور خشک کیا اور پھر شیرو کے سامنے لیٹ گئی اور شیرو کو بولا اب اپنے ڈھیلے لن سے میری چوت کو مارے . وہ اپنا لن ہاتھ میں لے میری چوت پر مارنے لگا . اف کیا بتاؤں کتنا مزہ آیا اس کی مار سے . جیسے ڈھیلے ہاتھ کا تھپڑ بہت زبردست لگتا ہے اسی طرح چوت پر ڈھیلے لن کی چپت بھی زبردست لگ رہی تھی . لن کی ہر چپیڑ پر میرے منہ سے لذت بھری سسکاری نکلتی . میں مزے سے شر شار شیرو کو شاباشی دینے لگی اتنے میں پھر میری بوتل ابلنے لگی اور میں پھر لگی گئی . شیرو میرے ساتھ ہی لیٹ گیا اور تھوڑی دیر بعد ارمان کا اسکول سے آنے کا ٹائم ہونے والا تھا میں کپڑے پہنے اور شیرو کا چما لے کر گھر آ گئی یوں دن رات گزرتے گئے مجھے شیرو کو خوش کر کے سکون ملتا اور وہ بھی مجھے خوش کرنے میں مگن رہتا . ہم ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو گئے . ایک دوسرے پر تکیہ کرنے کا نتیجہ یہ نکلا ہمارے درمیان مالکن اور ورکر کا پردہ نہ رہا اور فرینکنس بہت ہوگئی ہلکی ہلکی سپینکنگ مجھے پسند ہے جس سے شیرو کو ہلا شیری ملی اور مجھ پر حاوی ہوتا گیا – ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اس نے مجھ پر ہاتھ اٹھا لیا تھا مگر میں در گزر کر گئی – جن سے پیار کیا جاۓ ان کی غلطیوں کو نظر انداز کرنا پڑتا ہے صرف وارننگ دے کر اسے قبول کئے رکھا کبھی وہ ناز اٹھاتا تھا اب میں اس سے زیادہ اسکے ناز اٹھاتی ہوں . ارمان ہائی اسکول میں گیا تو سمجھدار ہو گیا تھا اسے کراچی ایک کالج میں داخلہ دلوا کے اچھی تعلیم کی بنیاد رکھی اور اس طرح شیرو کے ساتھ رشتہ قائم رکھا . یہ تھا تمہارے سوال کا جواب جو کہ تم نے شیرو اور میرے تعلقات کے بارے کیا تھا – اب ان تعلقات کو جیسے بھی لو تمھیں اختیار ہے پھر ارمان کی شادی تمہارے ساتھ ہوئی اس کے بعد کے حالات تم جانتی ہو دوستو یہاں تک داستان گو میری ساس بیگم صاحبہ تھیں ماضی سے پردے اٹھا کر بیگم صاحبہ نے اپنے بارے جو کچھ بتایا میں اس سے کافی متاثر ہوئی اور ان کے لئے دل میں عزت تھی اس میں کئی گنا اضافہ ہو گیا . میں تھوڑی دیر انہیں دیکھتی رہی پھر انکی عظمت کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اٹھ کر انکی طرف بڑھی . میں انکے پاؤں چھونے کے لئے جھکی تو وہ اٹھ کھڑی ہوئیں اور مجھے شانوں سے پکڑ کر اپنے سینہ سے لگا لیا . مجھے یوں لگا جیسے ایک مہربان ماں نے مجھے اپنی آغوش میں لے لیا ہوا . میں کافی دیر تک ان کے سینہ کے ساتھ چمٹی رہی . انہوں نے میری پیشانی چومی تو میں نے ان کے ہاتھ پر بوسہ دیا اور کمرے سے باھر نکل ائی رات ڈھل چکی تھی فجر ہونے کو تھی . میں اپنے کمرے میں جا کر بنا چینج کئے سیدھی اپنی چارپائی پر جا لیٹی . اور بیگم صاحبہ کے بارے سوچتے میری آنکھ لگ گئی . میرے ہونٹوں پر ہونٹ رکھے کوئی انہیں چومے جا رہا تھا . اور اس کے ہاتھ میرے مموں کو ہولے ہولے دبانے اور ٹٹولنے میں مصروف تھے . میری آنکھ تو کھل گئی تھی مگر مجھ پر پیار کون لُٹا رہا تھا اسکی خبر نہ تھی اسی لئے سوتی بنی رہی کچھ دیر بعد میں جان سکی کہ ہونٹ اور ہاتھ نسوانی تھے اور یہ زلیخا ہی ہو سکتی تھی , میں نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں وہی دشمن ایمان تھی میں نے اسے باہوں میں لے کے کہا جانم یہ کیا صبح سویرے میرا ریپ کرنے کا موڈ ہے کیا . میرے ہونٹوں کو ہولے سے کاٹتے ہوئے میری باہوں میں سمٹ گئی اور بولی جان جانم لنچ کے لئے بلانے ائی ہوں . صبح سے کی بار آ کر دیکھ چکی ؛ اتنی گہری اور میٹھی نیند سو رہی تھیں آپ کہ اٹھانے کو دل نہ مانا . ناشتے پر بیگم صاحبہ بھی منتظر رہیں . اب آ کر دیکھا تو آپ کے مموں کے مد و جزر دیکھ کر خود پر قابو نہ پاسکی اور آپکی نیند اچاٹ کر بیٹھی وہ مجھے چومے جا رہی تھی اور باتیں کئے جا رہی تھی . ارے اٹھنے دے مجھے اب اتنی دیر کے بعد اٹھا رہی ہو تم اور دیکھو دروازہ بھی نہیں بند کیا کوئی آ جاتا تو ؟ میں نے اسے پرے کرتے ہوئے کہا اور اٹھ بیٹھی . زلیخا دروازہ بند کرنے لگی تو میں نے اسے روک دیا جانم اب رہنے دو میں غسل لے آتی ہوں لنچ کے لئے اور باتھ روم کی طرف بڑھی . غسل سے فارغ ہوئی تو لنچ کے لئے باہر آ گئی پیٹ چوہے دوڑ رہے تھے , آج ناشتہ بھی رہ گیا تھا . زلیخا نے کھانا میری پسند کا بنوا رکھا تھا . تڑکا لگی ماش کی دال اور بھنڈی گوشت . واو مزہ ا گیا . میں نے کچھ زیادہ ہی کھا لیا. میں نے محسوس کیا زلیخا کچھ زیادہ ہی چہک رہی ہے اور بہت خوش نظر آ رہی ہے . ” کیوں چندا کیا بات ہے آج بڑے موڈ میں لگ رہی ہو . کوئی رات کو چاند تو نہیں چڑھا بیٹھی تم” میں نے اسے چھیڑتے ہوئے کہا تو کرسی نزدیک لاتے ہوئے وہ بولی , رات کو نہین صبح سویرے آج بدلی برسی اور برس برس کر برسی ” اچھا تو بہت اچھا کچھ گرمی نکلی جانم مگر بدلی برسی . ارے وہی بڑی بی بتایا تو تھا کہ کبھی کبھی اسکا چھالا پک جاۓ تو بلا بھیجتی ہے مالش کے لئے . آج صبح ہی اس کا سندیسہ آیا تھا کہ بڑی بی بلا رہی ہیں مالش کے لئے . جانے کو من نہیں چاہ رہا تھا مگر چلی گئی . جب من نہیں تھا تو گئی کیوں میں نے پوچھا تو کہنے لگی اس کی ٤ انچ کی زبان کے لئے .
جب بھی بلاتی ہے بڑی بی بس ٤ انچ کی جیبھ مجھے کھینچ لیتی ہے چندا بجھارتیں نہ بجھوا صاف صاف بات کر میرے پلے بھی کچھ پڑے کہ کہہ کیا رہی ہو تم . جی وہ کوئی ستر سال کی ہیں منہ دانت ایک نہیں مگر ابھی شوق رکھتی ہے اور چٹوانے سے زیادہ چاٹ کر اسکو تسسکین ملتی ہے وہ خود انگلی سے بھی فارغ ہو جاتی ہے مگر رس پینے کا چسکا ایسا لگا ہے اسکو منہ لگاتی ہے صراحی کو جب تک آخری قطرہ تک نہ پی لے منہ نہیں ہٹاتی . اور اسکی جیبھ زبان ٤ انچ سے کم نہیں گر زیادہ نہ ہوئی تو پھر اسکی واردات کا طریقہ بھی جان لیوا ہے ظالم ایسے گھماتی ہے جیبھ اور چوت کی دیواروں کو ٹٹولتی ہے کہ بے بس کر دیتی ہے بس یہی کچھ مجھے ورغلا لیتا ہے اور میں چلی جاتی ہوں . جانم جیبھ تو تمھاری بھی کم نہیں جس طرح تم کھنگالتی ہو وہ بڑی بی تمہاری پاسکو بھی نہیں ہوگی …. میں نے اسکے چاٹنے کا انداز یاد کرتے ہوے کہا . ارے میں اسی بڑی سے ہی تو سیکھ رہی ہوں کچھ تو اثر ہوگا اسکا . وہ ہنس کے بولی . کچھ دیر ہم یوں ہی باتیں کرتی رہیں . اور تھوڑی دیر بعد شیرو آ گیا . سلام بیبی جی اس نے ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا . واسلام شیرو کیسے ہو ؛ میں نے پوچھا تو شیرو نے کہا کہ بیگم صاحبہ کہہ گئی ہیں آج سے آپکو گھڑ سواری کی تربیت دوں . آپ جس وقت تیار ہوںگی ؛ بتا دیجئے گا تاکہ میں حاضر ہو جاؤں . میرا خیال ہے عصر کے وقت ٹھیک رہے گا . میں نے کہا تو اس نے بولا کہ ٹھیک ہے . میں حاضر ہو جاؤنگا میں تیار ہو کر اصطبل پہنچی تو شیرو گھوڑے پر زین کس رہا تھا مجھے دیکھ کر اسکی نظروں میں ستآئیشی چمک مجھ سے چھپی نہ رہ سکی . زین ڈال کر شیرو گھوڑے کو اصطبل سے باھر لے آیا اور ساتھ پڑی ہوئی چھوٹی سی لکڑی کی سٹول نما سیڑھی اٹھا کر اس نے گھوڑے کے پاس رکھ دی . “بیبی جی سب سے پہلے آپ گھوڑے کی گردن پر اس طرح ہاتھ پھیریں اس کے ماتھے اور منہ پر بھی ہاتھ لگائیں اور پھر پچھلے کولہے پر ایک دو پیار سے تھپکیاں دیں . یہ بتاتے ہوے شیرو خود گھوڑے پر ہاتھ پھیرتا جا رہا تھا . تاکہ میں سمجھ سکوں کہ کیسے کیسے ٹچ کرنا ہے میرا چونکہ یہ پہلا موقع تھا اس لئے میں تھوڑی نروس تھی اور میں نے گھوڑے کے قریب ہو کر اس کی گردن پر ہاتھ پھیرا اور گھوڑے نے گردن گھما کر میری طرف دیکھا تو میں نے اسکی پیشانی اور پورے منہ پر بھی ہاتھ پھیرا . گھوڑے کے منہ ماتھے کو پہلے بھی ٹچ تو کرتی رہتی ہوں مگر جب وہ اصطبل کے اندر ہوتا ہے یوں باہر کھلے میں گھوڑے سے یہ میرا پہلے تعارف تھا . میں اسکی گردن پر ہاتھ پھیرتی رہی اسکا مشکی رنگ اور گردن کے مسلز کو ٹچ کر کے مجھے اچھا محسوس ہو رہا تھا . “بیبی جی سوار ہونے سے پہلے گھوڑے سے تعلق جوڑنا ہوتا ہے اور اس کے لئے اسے ٹچ کرنا اسکو مساج کرنا پڑتا ہے اس طرح گھوڑا اپنائیت محسوس کرنے لگتا ہے اور پھر اس پرسواری کرنا آسان ہوتا ہے اور گھوڑا سوار کے ساتھ پورا پورا تعاون کرتا ہے ” . شیرو نے مجھے سمجھاتے ہوئے کہا . گھوڑے کی پیٹھ پر تو زین تھی اسکے پچھلے حصے اور کولہوں پر میں نے ہاتھ پھیرے اور گھوڑے نے اپنے آپ کو ڈھیلا چھوڑ دیا . اب یہ سواری کے لئے تیار ہے , یہ کہتے ہوئے شیرو نے مجھے دکھاتے ہوئے سیڑھی پر قدم رکھا اور دوسرا پاؤں رکاب میں رکھتے ہوئے زین کو پکڑا اوپر ہو کر ٹانگ گھما کر گھوڑے کے اوپر سوار ہو گیا . . پھر وہ اسی طرح اتر آیا اور اس نے مجھے کہا کہ میں ٹرائی کروں . اس کے کہنے کے مطابق میں سیڑھی پر کھڑی ہوئی . پھر زین کو اچھی طرح پکڑا اور رکاب میں پاؤں رکھا اور کوشش کی کہ میں بھی شیرو کی طرح سوار ہو جاؤں مگر میں بار بار ناکام ہو جاتی تھی میرا قد شیرو سے کافی چھوٹا تھا یہ وجہ بھی تھی . پھر شیرو نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور کہا کہ رکاب میں رکھنے کی بجاۓ پاؤں اسکے ہاتھ پر رکھوں میں کچھ جھجھکی مگر کچھ تو کرنا ہی تھا تو میں نے اپنا پاؤں شیرو کے ہاتھ پر اور دوسری ٹانگ گھوڑے کی پیٹھ کے اوپر سے گھمائ اور میں گھوڑے پر سوار ہو چکی تھی شیرو کے ہاتھ پر جو پاؤں تھا اس نے پکڑ کر رکاب میں رکھا اور جلدی سے دوسرا پاؤں بھی رکاب میں ڈالنے میں ہیلپ کی . میرا دل زور سے دھڑک رہا تھا اور نروس ہونے کی بدولت میرا جسم کانپ رہا تھا . اور میں کافی ڈری ہوئی تھی . مگر نہیں چاہتی تھی کہ شیرو مجھے کمزور سمجھے اس لئے میری کوشش تھی کہ میں نارمل لگوں . شیرو نے لگام پکڑا اور گھوڑے کے ساتھ ساتھ چلنے لگا ٢ چکر اصطبل کے گرد لگا کے شیرو بولا اب آپ نیچے اتریں تو میں رکاب والے پاؤں پر زور دے کر دوسری ٹانگ اٹھا کر گھمائی تو اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی . اس سے پہلے کے میں زمین پر گر پڑتی شیرو نے مجھے اپنے بازوں پر رکھ لیا . چند لمحوں کے بعد میں زمین پر کھڑی شیرو سے نظریں چرا رہی تھی اور وہ گھوڑے کو تھپکیاں دیتے گاہے بگاہے مجھے بھی دیکھ لیتا . . تھوڑی دیر بعد ؛ اس نے پوچھا . آپ ٹھیک تو ہیں بیبی جی . تو میں نے اسے بتایا کہ میں ٹھیک ہوں . چلو پھر ٹرائی کرتے ہیں وہ بولا, تو میں بولی کیا کل نہ کریں تو وہ بولا دیکھیں بیبی جی . آپ ڈریں نہیں اور نہ گھبرائیں . جب تک سوار گرے نہیں وہ سواری کرنا سیکھ ہی نہیں سکتا . آج گر ہمت ہار گئیں تو کل آپ نہیں آ سکیں گی اس لئے میں تو یہی کہوں گا . ایک ٢ بار آج آپ ٹرائی کریں تاکہ آپ کا حوصلہ بڑھے اور کل آپ بہتر طریقہ سے سواری کر سکیں . ٹھیک ہے . میں نے اپنے آپ کو تیار کیا اور گھوڑے کو تھپکی دی ؛ اور شیرو نے اپنا ہاتھ آگے کیا اور میں نے اس پر پاؤں رکھا اور گھوڑے پر سوار ہونے لگی تو گھوڑا تھوڑا سا پرے کھسک گیا اور میرے ہاتھ زین پر سے ہٹ گئے میں پھر گرنے لگی تھی کہ شیرو نے مجھے دبوچ لیا / دانستہ یا نہ دانستہ اسکی گرفت بڑی ٹائٹ اور میرے بوبس اس کی چھاتی پر دب سے گئے تھے . چند لمحوں تک وہ مجھے دیکھتا رہا . مجھے بھی اس سے علیحدہ ہونے کا خیال نہ آیا . جب اس نے اپنے بازؤں کی گرفت ڈھیلی کی تو پھر شرما کر میں اسکی باہوں کے حصار سے نکل ائی .میرے دل کی دھڑکن تیز ہو چکی تھی . اسکی گرفت اتنی سخت اور مضبوط تھی میری پسلیاں تک میٹھا میٹھا درد محسوس کر رہی تھیں . مجھے کچھ کچھ ہونے لگا تھا . شیرو ؛ شیرو کل پھر اسی ٹائم پر پریکٹس کرونگی اب مجھے جانے دو . میرا کمزور لہجہ اس بات کی چغلی کھا رہا کہ دل تو نہیں چاہتا کہ جاؤں مگر ڈرتی ہوں کہیں اتنی جلدی کمزور نہ پڑ جاؤں . بیبی جی ایک بار اور سہی پھر چلی جانا میں اسکے ذومعنی الفاظ سن کر دل ہی دل میں مسکرائی . اور گھوڑے کی طرف بڑھی . مجھے نہ جانے کیسے اعتماد سا محسوس ہوا . کہ میں گھوڑے پر سوار ہو کر دکھاؤں گی . شیرو کو . میں سیڑھی پر کھڑی ہوئی اور رکاب میں پاؤں رکھا اور اس سے پہلے شیرو نزدیک ہوتا میں نے زین کو پکڑتے ہوئے اوپر ہو کر گھوڑے پر سوار ہونے لگی اور میں سوار ہونے میں کامیاب ہو گئی . شیرو نے تالیاں بجا کر مجھے داد دی اور ویل ڈن ویل ڈن کہتے ہوئے میری طرف بڑھا . میں خوشی سے پھولی نہ سما رہی تھی . میرے نزدیک آ کر اس نے رکاب میں میرے پاؤں کو پکڑ کے سیدھا کیا اور بولا دیکھا بیبی جی میں نے کہا تھا نا . یہ کہتے ہوئے اس کا ہاتھ میرے پاؤں کو چھوڑ کر میری پنڈلی تک آگیا اور وہ دھیرے دھیرے میری پنڈلی پر پھیرنے لگا . مجھے اچھا لگ رہا تھا وہ میری طرف دیکھے بنا سوار کے لئے مزید ہدایت دینے گا اور اسکا ہاتھ میرے گھٹنوں سے ہوتا میری رانوں تک پہنچ گیا تو میں نے انجان بنتے ہوئے اس سے کہا کہ میں اب اترتی ہوں اور میں نے اسی طرف اترنے کی کوشش کی مگر خود کو سنبھال نہ سکی اور شیرو کی باہوں میں جھول گئی . اس نے مجھے سنبھالا اور مجھے اپنے سینہ کے ساتھ بھینچ لیا اسکی مضبوط باہوں کے حصار میں خود کو محفوظ محسوس کرتے بلا ارادہ کچھ دیر اسکے سینہ کے ساتھ چمٹ کے کھڑی رہی اور اپنا سر اسکے شانے پر ٹیک دیا . شیرو کے ہاتھ میری کمر سہلانے لگے . میں مدہوش سی یونہی کھڑی رہی مگر جب شیرو کے ہاتھوں نے میرے چوتڑوں کو دبایا تو میں بدک کر شیرو سے الگ ہو گئی . یہ کیا بدتمیزی ہے شیرو . میں نے بناوٹی غصّہ دکھاتے ہوے کہا تو شیرو نے لپک کر میرا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا میں ٹھاہ کر کے اس کے سینہ سے جا لگی اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتی اس نے اپنے ہونٹوں میں میرے لب جکڑ لئے اور ایک طویل بوسہ دیا میں تلملاتی رہی مگر نہ جانے کس مٹی کا بنا ہے یہ شیرو کہ اس کے بوسہ نے مجھے پاگل بنا دیا ایسا بوسہ پہلے کسی نے نہ لیا تھا تھا کہ میری ٹانگوں تک میں جان نہ رہی . مجھے خبر ہی نہ ہوئی کب میری زبان اسکے منہ میں گئی اور وہ اسے چوسنے لگا . اس نے مجھے بے بس کر دیا تھا اور میں یہی چاہ رہی تھی کاش وقت تھم جاۓ اور میری زبان کو وہ ایسے ہی چوستا رہے اور مجھے نچوڑتا رہے بلا شبہ میں گیلی ہو چکی تھی اور رس میری رانوں کو بھگو رہا تھا . اس کے ہاتھ میرے چوتڑوں کو دبانے لگے تو میں کسمسائی تو شیرو نے میری زبان کو آزاد کیا اور مجھے چومنے لگا اس نے جب میری گردن پر بوسہ دیا تو میں نے اسے پیچھے دھکیلا اور اسے کہا . شیرو کچھ ہوش کرو یہ کیا کر رہے ہو تم ؟ میری آواز میں غصہ کی بجاے نرمی اور پیار کی چاشنی محسوس کرتے ہوئے اس نے دوبارہ مجھے اپنی چوڑی چکلی چھاتی کے ساتھ لگا لیا . میں تھوڑی دیر اور اس سے لپٹ کر مزہ لینا چاہتی تھی اس لئے اس سے الگ ہونے کی کوشش نہ کی شیرو میرے کولہوں پر ہاتھ پھیرنے لگا اور جب اس نے انہیں اپنی طرف کھینچا تو اسکا ہتھیار میری رانوں سے آ ٹکرایا بلا شبہ وہ بہت بگڑا ہوا لگ رہا تھا اسکی اکڑ اور اٹھان نے مجھے حیران کر دیا من نے چاہا ہاتھ میں لے کر جانچوں مگر شرم آڑے آگئی . میں اپنے آپکو کمزور لمحات کے حوالے کرنے سے پہلے ہی شیرو کے سحر سے نکل ائی اور اپنے آپ کو اسکے باہوں سے نہ چاہتے ہوئے بھی آزاد کرا کر اسے بولا کہ شیرو آگے پیچھے دیکھ تو لیا کرو
کوئی دیکھ لے تو میں اس سے نظریں چراتے ہوئے کہا تو اس نے پھر میرا ہاتھ پکڑ لیا . شیرو پلیز اب جانے دو . بیگم صاحبہ بھی آنے والی ہونگی . میں نے لجاجت سے کہا ؛ آپ جانا چاہتی ہیں تو ایک شرط پر شیرو بولا تو میں نے حیران ہو کر پوچھا کیسی شرط ؛ ایک بوسہ دو میرے ہونٹوں پر پھر آپ چلی جائیں . شیرو کی شرط میرے من کی مراد تھی مگر موقع ٹھیک نہیں تھا . شرط منظور ہے مگر میری بھی شرط ہے میں نے اسے کہا . وہ کیا بولو شیرو شتابی سے بولا تو میں نے کہا بوسہ ہونٹوں کے اوپر اوپر منہ میں زبان نہ دونگی . ٹھیک ہے آپ ایسا چاہتی ہو ایسا ہی سہی . میں نے ادھر ادھر دیکھا . شام کے سرمئی اندھیرے میں کوئی اس پاس نہ تھا . میں اگے بڑھی شیرو کے گلے میں باہیں ڈال کے اپنے مموں کو اس کے سینہ پر دباتے ہوئے اس کے ہونٹوں سے اپنے لب ملاۓ اور پانچ سات بار اسکے ہونٹوں کی پپیاں لے لیں . شیرو نے اپنی زبان کی نوک نکال کر میرے لبوں کے ساتھ ٹچ کی اور میرے ہونٹوں پر پھیرنے لگا . میں نے مدہوش سی ہو کر اپنے ہونٹ تھوڑے سے کھولے تو اس نے اپنی زبان میرے ہونٹوں کے حوالے کردی . پہلے اس نے میری زبان چوسی تھی اب میں نے اسکی زبان کا رس پینا شروع کر دیا مجھے اپنی شرط بھول چکی تھی شیرو کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا . میں نے بڑی مشکل سے اپنے آپ کو واپس لوٹنے کے لئے آمادہ کیا . اور شیرو کو پیچھے ہٹا کر واپس گھر آ گئی . میں ہانپتی کانپتی شیرو کے باہوں کے حصار سے نکل تو ائی تھی مگر ابھی تک مجھے اپنے بدن کے ارد گرد اسکی باہوں کا گھیرا محسوس ہو رہا تھا . میرا بدن اسکا لمس چرا لایا تھا . میں باتھ روم میں فریش اپ ہونے کے لئے گئی تو اپنی پینٹی کو مکمل گیلا پایا میں نے پاجامہ اتارا تو اپنی رانوں پر اپنا رس ملا . جو رانوں پر چپک گیا تھا . میں نے غسل کرنے کا ارادہ کیا اور باتھ ٹب میں پانی بھر کر اس میں ٹانگیں لمبی کر بیٹھ گئی . کچھ دیر سستانے کے بعد مجھے اچھا محسوس ہونے لگا تو میں نے شاور لیا اور کپڑے چینج کر باھر نکلی تو بیگم صاحبہ آئ ہوئی تھیں کھانا لگانے کی تیاری ہو رہی تھی سلام بیگم صاحبہ ” کیسی ہیں آپ ” ٹھیک ہوں . زلیخا نے بتایا آج گھڑ سواری سیکھی . کیسی رہی ؟ “جی ٹھیک ہی تھی . شروع میں تو ڈر لگتا رہا . پھر آہستہ آہستہ کچھ جھجھک ختم ہوئی دو چار دنوں میں سواری کرنے لگوں گی . ” میں نے بیگم صاحبہ کو بتایا تو وہ بولیں , آرام سے سیکھنا ڈرنے کی ضرورت نہیں مشکی گھوڑا بلکل خطرناک نہیں ہے شیرو بھی اچھا ٹرینی ہے . تم اچھی گھڑ سوار بن جاؤگی مگر شیرو تو 2- دنوں کے لئے کہیں جا رہا ہے . میں نے شیرو کا ذکر آنے پر کہا . ہاں اسے ایک ضروری کام سے میں ہی بھیج رہی ہوں زیادہ سے زیادہ ٣ دن تک واپس لوٹ ائیگا تم اتنے تک زین وغیرہ ڈالنا سیکھ لو . ” جی ایسا ہی کرونگی ” میں بولی . اتنے میں کھانا لگ گیا اور کھانے کے بعد تھوڑی سی گپ شپ لگا کر میں اپنے کمرے میں آ گئی . میرے دل میں ایک خدثہ تھا کہ ممکن ہے شیرو آج رات آئے یا آنے کی کوشش کرے . گرچہ میں اس کا لینے کے لئے بیتاب تھی مگر اتنا جلدی اسے دینے کا کوئی پروگرام نہیں تھا . اس لئے میں دروازہ اندر سے لاک کیا اور سونے کی تیاری کرنے لگی . ایک کتاب کی ورق گردانی کرتے کرتے اچانک میری نظر اپنے صحن میں پڑی تو بیگم صاحبہ کو چادر لپیٹے مین گیٹ سے باھر جاتے دیکھا . تو میں سمجھ گئی کہ وہ شیرو کے پاس جا رہی ہیں . میں شیرو کی طرف سے مطمین ہو گئی . اور تھوڑی دیر بعد میری آنکھ لگ گئی . تھکی ہوئی تھی اس لئے اچھی نیند سے بیدار ہوئی تو اپنے آپ کو فریش پایا . نہا دھو کر باھر نکلی تو بیگم صاحبہ کو ناشتے پر اپنا منتظر پایا . علیک سلیک کے بعد ناشتہ سے انصاف کرتے ہوئے گپ شپ بھی چلتی رہی . منڈیر پر کوا بولنے لگا تو بیگم صاحبہ کہنے لگیں کہ کوا صبح سے بول رہا ہے . لگتا ہے آج کوئی سپیشل مہمان آنے والا ہے . آج کوئی جانے والا تو ہے آنے والے کا کسے پتا . میں نے کہا تو بیگم صاحبہ بولیں ہاں شیرو چند دن کے لیا جانے والا ہے . پھر مختلف ٹوپک پر بات چلتی رہی . اور ہم حویلی سے باھر اصطبل کی طرف نکل آئیں . شیرو جلدی ہی نکل گیا تھا , گھوڑوں کو تھپکی دیتے وہیں کھڑی باتیں کرنی لگیں کہ ڈیرے میں بابا دینو کے آنے کا معلوم ہوا . میرے دل میں تو لڈو پھوٹنے لگے اور میں بے خودی میں دینو کے گلے جا لگی . شکر ہے میں اسے بوسہ نہیں دے بیٹھی . دینو ہچکچایا تو میں بھی سنبھل گئی مگر بیگم صاحبہ میرا والہانہ اشتیاق دیکھ چکی تھی . ایک جہاندیدہ عورت ہونے کے ناطے اسکا مشکوک ہونا ممکن تھا اور میں یہی چاہتی تھی . مجھے یقین ہے کہ وہ اس معاملے میں مجھ سے کسی قسم کی باز پرش کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے . “دینو تم حویلی ہی میں آجاؤ وہیں بیٹھ کر نوشین سے باتیں بھی کرنا اور اسکے والدین کے سندیسے بھی دے لینا ” یہ کہتے ہوئے بیگم صاحبہ حویلی کی جانب چلی تو میں بھی ان کے ساتھ حویلی میں آ گئی . نوشی اپنے مہمان کا خیال رکھنا اور ہاں شیرو تو ہے نہیں , اسی کے کمرے میں دینو بھی رہ لے گا جب تک شیرو نہیں اتا . میں نے انکی ہاں میں ہاں ملائی . اتنے میں دینو ٢ بریف کیس لے کر حویلی میں آ گیا اور مجھے کہا یہ آپکی امی نے کچھ سامان اور تحآئف بھیجے ہیں . میں نے زلیخا سے کہا انہیں میرے کمرے میں چھوڑ آے . دینو نے ناشتہ کیا تو میں نے زلیخا سے بولا کہ اسے شیرو کے کمرے تک چھوڑ اۓ اور دینو سے کہا کہ جب تک شیرو نہیں اتا تم اسی کے کمرے میں رہ سکتے ہو . . میں تو کل چلا جاونگا بیبی جی . دینو بولا تو مجھے شاک ہوا صرف ایک رات دینو کے ساتھ ملنے کا امکان نے میرا دل توڑ دیا مگر دل پر ضبط کرتے ہوے میں نے کہا چلو کل تک تو وہاں ہی رہو . اور وہ زلیخا کے ساتھ شیرو کے کمرے کی طرف بڑھ گیا . بیگم صاحبہ معنی خیز نظروں سے مجھے جانچتی رہیں . مگر میں انجان بنی رہی اور پھر کمرے میں آکر اپنے والدین کے بھیجے ہوئے تحآئف دیکھنے لگی . دینو کے آنے سے میرے اداس من کی کلی کھل اٹھی . میں بہت خوش تھی کہ دینو آگیا ہے . مگر وہ صرف ایک دن کے لئے آیا یہ بات مجھے اچھی نہیں لگی مگر کیا کیا جا سکتا ہے . میں دبارہ باتھ روم میں جا کر اپنے غیر ضروری بالوں کو صاف کیا اور اپنے آپ کو دینو کے لئے تیار کرنے لگی .اسکی کھردری ذبان اب تک یاد تھی . مجھے . اب تک ایک دینو اور زلیخا نے مجھے چاٹا تھا مگر دینو چاٹنے میں کہیں آگے تھا . میں اسی وقت ڈینو کے پاس جانے کو تیار تھی مگر بیگم صاحبہ کی آج بیرونی مصروفیات نہ تھیں اس لئے وہ گھر پر ہی آرام کر رہیں تھیں . اور مجھے کسی مناسب موقع وقت کا انتظار تھا تاکہ میں اپنی چٹوا سکوں . اس کے لئے میرے خیال میں رات کا وقت ہی مناسب رہے گا . لنچ کے بعد میں سو گئی اور پھر عصر کے بعد ہی اٹھی . شام کو میں زلیخا کے ساتھ چہل قدمی کو نکلی تو اصطبل کے پاس دینو مل گیا . اس سے حال احوال لیا اور امی ابو کا حال حال پوچھنے لگی میں نے اسکا ہاتھ پکڑا اور دور لے گئی تاکہ زلیخا نہ سنے . دینو آج رات ہو سکتا ہے تم سے ملنے آؤں اس لئے بیرونی دروازہ بند نہ کرنا . یہ سن کر دینو خوش ہوگیا , ٹھیک ہے بیبی جی میں اپکا انتظار کرونگا . پھر زلیخا کے قریب آ کے اسے کہا کسی چیز کی ضرورت ہو یا کوئی مشکل ہو تو تم زلیخا سے کہہ سکتے ہو شیرو کی غیر موجودگی میں زلیخا ہی انچارج ہے . جی بیبی جی . اور وہ سلام کر کے شیرو کے کوارٹر کی طرف بڑھ گیا . میں اور زلیخا کھیتوں کی طرف گئیں اور تھوڑا سا چل پھر کر واپس آگئیں شام ڈھل چکی تھی . اور ڈنر کے بعد تھوڑی گپ شپ کے بعد بیگم صاحبہ سے اجازت لے کر میں کمرے میں آ گئی . اب 2-٣ گھنٹے انتظار مشکل لگ رہا تھا میں نے کتاب اٹھائی اور پڑھنے کی کوشش کرنے لگی مگر میرے خیالات مجھے مطالعہ کی اجازت نہیں دے رہے تھے . میں نے ٹی وی آن کر لیا اور مختلف چینل بدلتی رہی مگر دل کہیں اور اٹکا ہوا تھا . میں کمرے میں چہل قدمی کرتی کبھی بیٹھ جاتی ؛ خود سے باتیں کرنے لگ جاتی . میں جانتی تھی دینو جب تک میری صراحی کو منہ نہ لگا لے گا میری بیچینی مجھے خوار ہی رکھے گی . ١١ بجے تو خیال آیا بیگم صاحبہ سو گئی ہوگی دوسرے لوگ تو اس سے پہلے ہی سو جایا کرتے ہیں . بیگم صحبہ شیرو کے پاس جانے کے لئے جاگتی رہتی ہیں اور آج تو شیرو بھی یہاں نہیں تو ممکن ہے اب تک سو گئی ہوں . . میں نے اپنا لباس بدلہ تو پینٹی اور برا اتار کر پھینک دیا اور بنا برا پینٹی کے ٹائٹ پاجامہ اور ٹی شرٹ پہنی اور ایک چادر لپیٹ لی . اور آہستہ آہستہ برآمدے میں چلتے ہوئے بیگم صاحبہ کے کمرے کے سامنے سے گزری ان کی لائٹ آف تھی مگر وہ سو رہی ہیں یا نہیں یہ معلوم نہ کر پائی اور واپس کمرے میں آ کر تھوڑا انتظار کر کے میں نے دروازہ باہر سے بند کیا اور حویلی سے نکلتے ہوئے پیچھے دیکھا تو میرے پاؤں کے نیچے سے زمیں سرک گئی . بیگم صاحبہ کھڑکی کھول چکی تھیں کمرے میں اندھیرا ہونے کی بدولت وہ نظر تو نہ آئیں مگر لگ ایسا ہی رہا تھا کہ وہ مجھ پر نظر رکھے ہوئے تھیں . اب واپسی کا تو سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا نہ ایسے کرنا مناسب تھا ؛ مجھے ڈینو سے چٹوانا تھا جس کے لئے میں کچھ بھی کرنے کو آمادہ تھی پھر شیرو کے ساتھ میں خود بیگم صاحبہ کو رنگے ہاتھوں پکڑ چکی تھی . اب اگر وہ میرے اور دینو کے بارے جان جائیں تو مجھے اس کی پرواہ کرنے کی ضرورت نہ تھی . پھر اچانک میرے ذہن میں ایک خیا ل ابھرا . بیگم صاحبہ نے اس رات خود بتایا تھا کہ چوت چٹوانا اسکی فنٹاشی ہے مگر آج تک وہ اس لذت کو ترس رہی ہیں . تو کیوں نہ اسے آج چوت چٹوانے کا نظارہ ہی کروا دوں . سو میں شیرو کے دروازے میں داخل ہونے سے پہلے ادھر ادھر دیکھا تو بیگم صاحبہ کو حویلی کے دروازے اوٹ لیتے ہوئے دیکھا . وہ چھپنے کی ٹرائی کر رہی تھیں مگر میں نے انہیں دیکھ لیا تھا . میں نے دروازہ اندر سے بند نہ کیا اور کمرے کی ایک کھڑکی کھلی دیکھ کر مطمین ہوگئی کہ بیگم صاحبہ چاہے گی تو وہاں سے مجھے چٹواتے اور چدواتے ہوئے دیکھ سکے گی . شیرو کے دروازے کو دھکیلا تو وہ کھل گیا میں جلدی سے اندر کمرے میں داخل ہوئی تو دینو میرا منتظر تھا , اسکی کھلی باہیں دیکھ کر میں ان میں جا کر سمٹ گئی . . اس نے میری تھوڑی کے نیچے انگلی رکھ کے اوپر اٹھایا اور میرے لبوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے اور چومنے لگا ؛ . دینو چٹا ان پڑھ تھا مگر محبّت کرنا محبت کے انداز اور طریقے بڑی اچھی طرح جانتا تھا . اس نے بتایا تھا کہ سلمیٰ اور عذرا نے اسے سکھایا تھا ؛ یہی وجہ تھی کہ وہ بڑے سلجھے ہوئے انداز میں کاروائی ڈالتا تھا . اس نے میرے چہرے آنکھوں اور گردن پر بوسوں کی بارش کر دی میں نے دروازے کی درزوں سے کسی سایا کو حرکت کرتے دیکھا . تو سمجھ گئی بیگم صاحبہ آ چکی تھیں اور میرے خیال میں وہ یہی سمجھ رہی تھی کہ مجھے اس کے اس طرح آنے کا اور جاسوسی کرنے کا علم نہ تھا . اچھا ہے جس طرح اس رات میں اسے دیکھتے ہوے خوار ہوتی رہی آج رات بیگم صاحبہ بھی ہوتی رہیں خوار . میں دینو کے گلے میں اپنی باہیں ڈال کر اسکو چومنے لگی . ڈینو نے میرے چوتڑوں پر ہاتھ رکھا اور اپنی طرف کھینچا اسکا کڑکدار لن سیدھا میری ٹانگوں سے جا ٹکرایا میں نے اس کے لئے ٹانگیں کھول دیں ڈینو تھوڑا سا نیچے ہوا اور لن کو میری رانوں کے بیچ رگڑنے لگا لن میری چوت کو ٹچ کرتا ہوا ٹانگوں میں آگے پیچھے ہو رہا تھا . ابھی تک میں نے پاجامہ پہنا ہوا تھا . میں نے دینو کی شلوار کا ازار بند کھولا اور شلوار کو نیچے اسکے پاؤں میں گرا دیا اور اسکا لن ہاتھ میں لے کر چومنے لگی میں چاہتی تھی بیگم صاحبہ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں کہ ڈینو ٦٠ سال کا ہے تو وہ کچھ نہ کر پائے گا . اسکا شیرو جتنا نہ سہی مگر سختی اور اکڑ میں اس سے کم نہ تھا . میں اسے منہ میں لے لے کر چوپا لگانے لگی , دینو نے مجھے شانوں سے پکڑ کر اوپر کھینچا اور میرے ہونٹوں کو چومتا ہوا مجھے چارپائی پر لا کر لٹا دیا . اور اپنی قمیض بھی اتار دی . اب دینو ننگ دھڑنگ کمرے میں کھڑا تھا اور اس کا لن بڑی شان سے لہرا رہا تھا . میں نے چور آنکھوں سے کھڑکی کی جناب دیکھا تو ایک سائے کی جھلک دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ بیگم صاحبہ دینو کے لن کا نظارہ میں میں لگی ہوئی ہوگی . ہو سکتا ہے چوت کو ہاتھ سے سہلا رہی ہو . میں نے اپنا پاجامہ اور شرٹ اتار پھینکی اور میں نے جمپ لگائی اور دینو کی کمر کے گرد اپنی ٹانگیں جکڑ لیں میری باہیں اسکے گلے میں حآئل تھیں اور اسکے ہونٹوں میں میرے لب تھے جنہیں وہ چوم رہا تھا میرے ممے اسکی بالوں بھری چھاتی کے ساتھ چمٹ کر رہ گئے تھے . میری ٹانگیں اسکی کمر کے گرد تھیں اور اسکا لن مجھے نیچے سے سہارا دیئے ہوئے تھا . میری چوت لن سے ٹچ ہو کر پھدک رہی تھی اسکا منہ کھلتا اور بند ہو کر لن سے کچھ کر گزرنے کا متمنی تھا میں بھی لن لینا چاہتی تھی مگر پہلے دینو کی زبان سے چٹوانے کی آرزو پوری کرنا چاہتی تھی ابھی تک اسکی کُھردری زبان میں بھول نہ پائی تھی . یہ دینو ہی تھا جس چٹوانے کی لت لگائی تھی . پھر زلیخا سے بھی چٹوا کے دیکھا مگر جو سواد دینو کی جیبھ نے دیا تھا وہ زلیخا نہ دے پائی تھی . دینو کے ملنے کی دعائیں مانگ رہی تھی کہ وہ آگیا . بھیجا تو اسکو میری ماں نے تھا کہ بیٹی کی خیر خیریت کا پتا کر آئے . وہ نہیں جانتی کہ اس نے دینو کو بھیج کر مجھ پر بڑا احسان کر دیا تھا ,. دینو میرا نچلا ہونٹ چومتے ہوئے میرے چوتڑوں کے نیچے ہاتھ رکھے اور مجھے چارپائی پر لٹا دیا . میں نے اپنے بازو اسکی گردن سے نکالے اور اسے بھی اپنے ساتھ کھینچ لیا . وہ مجھے چومنے لگا میری پیشانی آنکھیں مری گردن اور گالوں پر اس نے بوسوں کی بارش کر دی . وہ میرے مموں سے کھیلنے لگا ساتھ ساتھ وہ انہیں دباتا اور چومتا نیپلز کو مسلتا اور چوستا مجھے مزہ دے رہا تھا . میں لذت سے شرشار اسکے بالوں میں انگلیاں پھیرتی رہی . وہ بوسے دیتے نیچے جانے لگا تو میری سانسیں تیز ہونے لگیں وہ میری ناف کو چومنے لگا اور زبان کو میری ناف کے اندر اور اسکے ارد گرد پھیرتے اسکا ایک ہاتھ مری چوت کو ٹچ کرنے لگا میرے منہ سے افففففف نکلا تو اس نے چوت کے دانے کو انگلی اور انگھوٹھے کے درمیان لے کر مسلہ تو میں تڑپ گئی اور میرے چوتڑ اوپر اٹھ گئے میں نے اسکے بال پکڑ کر اسکا منہ اپنی چوت پر ٹکا دیا . اف اسکے ہونٹوں کے ٹچ نے میری جان ہی نکال لی . وہ میری چوت کو سونگھ کر اسپر انگلی پھیرتا پھر بوسہ دیتا میری لکیر لیک ہو رہی تھی اسنے انگلی کو رس سے گیلا کیا سونگھ کر اس نے انگلی منہ میں ڈال لی اور اسے چوپنے لگا اسکی آنکھیں بند تھیں اور وہ اپنی جیبھ پر میری چوت کے رس کا مزہ لینے لگا . پھر اسے نے اپنی زبان میری چوت کے دانے پر جو پھیری تو میری لذت سے حالت پتلی ہوگی . میں نے کھڑکی کی طرف دیکھا تو ابھی تک سایہ موجود تھا . بیگم صاحبہ شاید پورا شو دیکھنا چاہتی تھی . میں بھی اسے مایوس نہیں کرنا چاہتی تھی . اس لئے اونچا بول کر دینو کو جوش دلانے لگی اور ساتھ بیگم صاحبہ کو بھی سنانے لگی . دینو چوس میرے دانے کو اتنا چوس کہ یہ اکڑا رہے ؛ اپنی انگلی میری چوت میں ڈال اور مجھے اپنی لمبی انگلی سے چود ڈال . اور زور سے دینو اپنی جیبھ ڈال چوت میں ا وہ یس جیبھ کو آگے پیچھے اوپر نیچے گھما دینو گھما اور پی لے میرا سارا جوس . میں تو مر رہی تھی تیری جیبھ کے لئے چاٹ میری جان اسے چاٹ اف تیری زبان کتنی تیکھی ہے رے سواد ہی سواد ؛ وہ سلمیٰ گشتی کتنی خوشقسمت ہے جو تجھ سے روز چٹواتی ہوگی . اب کے جب میں آؤنگی تو دن رات تجھ سے چٹوایا کرونگی . ظالم اور چاٹ . میں بیگم صاحبہ کو سنا رہی تھی تاکہ وہ بیقرار ہو اٹھے . اور دینو سے وہ بھی چٹوا لے تاکہ وہ کبھی اعتراض نہ کر سکے یا کوئی سناوتی نہ مار سکے . دینو چاٹ رہا تھا اور میں اپنے چوتڑ کبھی اوپر اٹھاتی کبھی نیچے گراتی لذت بھری سسکاریوں سے کمرہ گونج رہا تھا میری سانسیں بھاری ہو رہی تھیں اور کچھ ہی دیر بعد میں نے اپنا رس چھوڑنا شروع کر دیا . میرا جسم اینٹھا اور اکڑا اور دینو نے مجھے چوتڑوں سے پکڑ کر سارا جوس پی ڈالا . میں ڈھیلی ہو گئی اور اسے اپنے ساتھ ہی لٹا لیا . اس نے میری چوت کی رس سے لبریز ہونٹ میرے لبوں پر رکھے تو میں انہیں چاٹنے لگی اپنی چوت کا رس کا ذائقہ اچھا لگا . میں ہاتھ بڑھا کر دینو کا لن ہاتھ میں لے لیا وہ لوہے کی راڈ کی طرح سخت اور گرم تھا . میں اس سے کھیلنے لگی . اور دینو سے باتیں بھی کر رہی تھی تاکہ بیگم صاحبہ بھی سن سکے میں اس سے کھیلنے لگی . اور دینو سے باتیں بھی کر رہی تھی تاکہ بیگم صاحبہ بھی سن سکے دینو تمہارا پھدی چاٹنے کا انداز بہت زبردست ہے . مجھے تو تم سے چٹوا کے ایسا مزہ ایا کہ بیان کرنے سے قاصر ہوں کیا تمھیں بھی چاٹنے میں مزہ آتا ہے . بیبی جی کچھ نہیں پوچھو مجھے تو چودنے سے زیادہ چاٹنے میں مزہ اتا ہے . ابھی تھوڑی دیر پہلے جب میری زبان آپکی پھدی میں تھی اور آپ میرے ہاتھوں میں ایسی مچل رہی تھیں جیسے مچھلی ہاتھوں سے پھسل جاتی ہے . آپ لذت سے مچل مچل کے اٹھ رہی تھیں اور میرے ہاتھوں سے نکل نکل جاتی تھیں آپ کو ایسی کیفیت میں دیکھ کر مجھے نشہ سا ہونے لگا تھا . پھر آپکی چوت کا ذائقہ نے میرے نشہ کو دو چند کر دیا میرا تو من چاہتا ہے میں ہر روز آپکو اسی طرح چاٹوں تاکہ لذت میں ڈوب کر آپ کا مچلنا لچکنا اپکا دیوانگی میں سر کا ادھر ادھر پٹخنا بار بار کیا ہزار بار دیکھوں . اس کی باتوں سے مجھ پر پھر شہوانی خیالات کی یلغار ہونے لگی ادھر میری چوت میں کھجلی ہونے لگی . میں دینو کی چھاتی پر ہاتھ رکھ کر اٹھ بیٹھی اور اسے پیٹھ کے بل لٹا کر اسکے اوپر آگئی . اور اپنی پھدی کو اسکے لن پر رکھا اور ایک ہی جھٹکے سے سارا نگل گئی . جیسے عادی شرابی نیٹ شراب پیتا ہے کہ شراب اسکے حلق کو کاٹتی ہوئی سینے کو جلاتی ہوئی معدے تک جا پہنچے . اسی طرح میں بھی یہی پسند کرتی ہوں لن کی پہلی انٹری دبنگ ہو تاکہ میرا اندر باھر ہل کر رہ جاۓ . اور لن پھدی چیرتا ہوا اپنی منزل سے جا ٹکراۓ ؛ ایک ہی ہلے میں لن لے کر میں نے تھوڑا توقف کیا پھر آہستہ آہستہ اوپر نیچے ہونے لگی دینو میرے مموں کو مسلنے لگا اور بار بار انہیں چوم بھی لیتا
.
میں اس کی چھاتی کے بالوں میں انگلیوں کو پھیرتی . مجھے لگا جیسے اس کا لن پھولنے لگا ہے تو میں نیچے آ گئی اور ٹانگیں کھول کے دینو کو اشارہ کیا وہ میری ٹانگوں میں آ کر دو زانو بیٹھتے ہوئے لن کو میری چوت پر رکھا تو میں نے اپنی ٹانگیں اٹھا کے کندھوں پر رکھ دیں . اب میری پھدی لن کے بلکل مقابل تھی . میں چاہتی تھی دینو ایک ہی دھکے سے اپنا لن پھدی میں اتار دے . اور اس نے واقعی ایسا دھکا لگایا کہ میرے چاروں طبق روشن ہو گیے میں عش عش کر اٹھی . اور دینو ہولے ہولے دھکے لگاتا مزے لینے دینے لگا . مجھے سلو موشن میں بھی بڑا سواد آنے .لگا تھا چوت میں لذت کی لہر اٹھی تو میرے سانس بھاری ہو گئے دینو میری حالت دیکھ کر زور زور سے دھکے مارنے لگا جس کا میں بھی جواب دینے لگی میرا جسم اینٹھنے لگا میرے ہاتھ دینو کی پیٹھ کھرچنے لگے اور میں نے جذبات سے مغلوب ہوتے ہوئے دینو کے شانہ میں اپنے دانت گاڑ دیئے اور لذت بھری سسکاریاں لیتے میں ڈینو سے چمٹ گئی ؛ دینو بھی آخری جھٹکا لگا کر اپنا گرما گرم لاوا میرے اندر ڈال کے ہانپتے ہوئے مجھ پر ہی گر گیا . میں بمشکل اپنی ٹانگیں اسکے شانوں سے اتار سکی اور اسے چومنے لگی .ا و دینو تم نہ صرف چاٹتے اچھا ہو تم چودتے بھی زبردست ہو . آج تم نے مجھے ایسا سواد دیا جو کبھی نہ بھول پاونگی .یہ لذت تو ٹرین میں بھی نہ لے سکی تھی . جب تم سے آتے ہویے پہلی بار چدوایا تھا , تمھاری جیبھ تو لذتوں کا خزانہ ہے . میں دینو کو چومتے ہویے جو منہ میں آرہا تھا کہتی جا رہی میں بیگم صاحبہ کو بھی سنا رہی تھی تاکہ اسے علم ہو کہ میرا اور دینو کا افئیر کوئی پرانا نہیں . بلکہ جب پچھلی بار وہ مجھے چھوڑنے آیا تھا تو راستہ میں ٹرین میں یہ سلسلہ شروع ہوا . اور شاید زندگی بھر چلتا رہے گا . سچ تو یہی ہے دینو کی زبان کسی بھی عورت کو اپنا دیوانہ بنا سکتی ہے جو ایک بار دینو سے چٹوا کے چدوا لے پھر وہ اس کو کبھی بھی بھول نہیں سکتی . اسکی جیبھ کا پھدی میں کھیل کھیلنے کا تصور ہی چوت گیلا دینے کے لئے کافی ہے . دینو کا لن ہاتھ میں لیا تو وہ سر اٹھا کر کھڑا ہو گیا . اس سے پہلے کہ میں پھر لن کو لیتی . میں نے مناسب سمجھا کہ باتھ روم میں جا کر فریش اپ ہو کر پھر سے شروع کروں اصل میں میں اپنی چوت کو اچھی طرح سے صاف کر کے دبارہ ڈی نو سے چٹوانے کے موڈ میں تھی . اور پھر باتھ روم میں جانے کے لئے مجھے اس کھڑکی کے سامنے سے بھی گزرنا تھا . جہاں بیگم صاحبہ کھڑے ہو کر مجھے چٹواتے اور چدواتے ہوئے دیکھ رہی تھی . میں شرطیہ کہہ سکتی ہوں کہ بیگم صاحبہ جیسی گرم عورت اب تک دو بار تو اپنی انگلیوں کے زریعہ فارغ ہو چکی ہوگی . یہ سوچتے ہویے مجھے وہ رات یاد آ گئی جس رات میں کھڑکی سے بیگم صاحبہ کا شیرو سے چدوآنے کا نظارہ کر کے لیک ہو تی رہی تھی اور میری چوت کا رس میری رانوں تک بہہ نکلا تھا . یہ خیال آتے ہی میرے چہرے پر ایک معنی خیز مسکراہٹ آئ اور میں مسکراتی ہوئے ننگے بدن ہی باتھ روم کی طرف بڑھی اور میں نے بیگم صاحبہ کے سایے کو کھڑکی سے ہٹتے ہوئے دیکھا . میں کولہو مٹکاتی کیٹ واک جیسی چال چلتے ہوئے باتھ روم میں داخل ہوئی . میری کمر پتلی اور کولہو باھر کو نکلے ہوئے ہیں جو بہت خوبصورت دکھائی دیتے ہیں میری مست چال دیکھ کر دینو کے تو ہوش اڑ گئے ہونگے . نہ جانے کیا سوچ کر میں نے دینو کو وہیں بلانے کا ارادہ کیا . “دینو , دینو ” “جی بیبی جی ” “ذرا یہاں اؤ جانی ” میں اسے دیکھ رہی تھی دینو نے شلوار اٹھائی تو میں نے اسے کہا نہیں جانی یوں ہی آ جاؤ . دینو نے اپنے دون و ہاتھ اپنے کھڑے لن پر رکھے اورشرماتے شرماتے میری طرف آنے لگا دینو جانی ہاتھ ہٹا کر اس کو آزاد چھوڑ دو . مجھے اپنے لوڑے کے نظارے لینے دو پلیز اس نے ہاتھ اٹھاۓ تو چلتے ہوئے لن کبھی دائیں کبھی بائیں لہراتے ہوئے بہت پیارا لگنے لگا ظالم کی اٹھان اور شان چوت میں نئی جوت جگانے لگی . پھدی تو سمجھو گنگنانے لگی . جب وہ باتھ روم میں داخل ہوا تو میں نے اسے ہاتھ میں لے لیا اور اس کی بلائیں لینی لگی . میں اسے مسلتی اور پاگلوں کی طرح چومتی رہی . پھر اس پر پانی ڈالا اور خوب دھو کر صاف کیا اور دینو کی رانوں ٹانگوں کو بھی دھو ڈالا . اور دینو کو میں نے بولا کہ میری چوت صاف کرے . اس نے صابن سے میرے کولہوں سے لے کر پاؤں تک خوب صفائی کی اور پھدی کو اندر باھر سے خوب دھویا . پھر اس نے میری ٹانگوں گھٹنوں کے پیچھے سے ہاتھ ڈال کر دوسرا ہاتھ میری گردن کے پیچھے سے ڈال کر مجھے اٹھا لیا اور مجھے آ کر چارپائی پر لا چھوڑا وہ سامنے کھڑا تھا ؛ میں نے اسکے لہراتے لن کو اپنے منہ میں ڈالا اور چوپا لگانے لگی دینو جھکا اور میری چوت پر ہاتھ پھیرنے لگا میں نے جھٹ ٹانگیں کھول دیں . وہ میرا مطلب سمجھ گیا مجھے اس نے کندھوں سے پکڑ کر بیڈ پر لٹایا میں نے اسکا لن منہ میں لئے رکھا اور تکئے پر سر رکھا تو وہ میرے اوپر آ گیا اور میری چوت کو کھانے لگا . اب ہم ٦٩ پوزیشن میں ایک دوسرے سے مزہ لینے لگے . میں جانتی تھی کہ بیگم صاحبہ کی تو حالت پتلی ہو چکی ہوگی . نہ جانے وہ اپنے آپ کو کیسے روکے ہوئے تھی اور یقین تھا کہ کبھی ہمارے ساتھ شریک نہیں ہوگی . اسی لئے میں اسے خجل کرنے میں لطف اٹھا رہی تھی میں جانتی تھی چوت چٹوانا بیگم صاحبہ کی خوایش ہے . اور میرے لا شعور میں کہیں دبی ہوئی خوایش تھی کہ بیگم صاحبہ بھی دینو کے یہاں ہونے کا فائدہ اٹھا لے . وہ اب کیسے اپنی پھدی چٹوانے کا شوق پورا کرے گی یہ اس پر منحصر ہے . دینو کی زبان چوت سے ٹچ ہوتی گئی تو میں کانپ کر رہ گئی ؛ “پوری جیبھ اندر ڈال دینو ” میں نے بیچینی سے کہا تو دینو نے میرے چوتڑوں کے نیچے ہاتھ ڈال کے انہیں اوپر اٹھا لیا اور اپنا منہ میری پھدی کے اوپر رکھ کر لکیر کے اس پاس چاٹنے گا , اس کے لن کو میں لولی پاپ کی طرح چوپا لگانے لگی . دینو نے لکیر کو اپنی زبان سے کھولنے کی کوشش کی . پھدی اپنے لب ڈھیلے چھوڑ دئیے دینو نے زبان اندر کی تو میں لذت سے تڑپنے لگی میں کمر لچکاتی تو دینو کی زبان پھسل پھسل جاتی اور مجھے سواد چوکھا آنے لگتا . دینو اس کام میں ماسٹر تھا میں تو اس کو چوت چاٹنے میں گرو کہونگی . وہ اپنی کھدری زبان سے پھدی کو کھنگالنے لگا اور میں مزے سے بے خود ہو کر سر پٹخنے لگی میرے منہ سے اسکا لن نکل گیا جسے میں ہاتھ میں لے کر مٹھانے لگی . جیسے جیسے دینو کی جیبھ چوت کے بھید کھولتی گئی تُوں تُوں میری حالت پتلی ہوتی گئی . آخر میں ہار گئی اور گرو کی جیبھ جیت گئی میں اپنا رس دینو کی زبان کو پلاتے پلاتے نڈھال ہو گئی اور دینو کے سر کے بالوں کو پکڑ کر چوت سے ہٹایا تو دینو بھی میرے ساتھ ہی لیٹ گیا , اور مجھے اپنی باہوں میں لے کر بھینچ لیا . میں نے اسکے ہونٹوں کو بوسہ دیا اور اسکے منہ میں زبان ڈالی تو اسکی زبان اور میری زبان تبادلہ خیال کرنے لگیں . دینو کی زبان اور منہ میں پھدی کا رس تھا میں نے اپنی چوت کا ذائقہ چکھا تو مست ہو کر دینو سے چمٹ گی اور اسکی زبان کو چوسنے لگی . دینو کا لوڑا میری رانوں اور چوت سے ٹکرا رہا تھا میں اسے ہاتھ میں لے لیا .دینو میرے مموں کو ہاتھ میں لے انکو دباتا اور نیپلز کو انگلی اور انگھوٹے سے مسلتا تو میرے منہ سے بے اختیار لذت بھری سسکی نکل جاتی , دینو میری رانوں اور کولہوں پر ہاتھ پھیرتا مجھے پھر تیار کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور میں جانتی تھی ایک شہوت کی لہر پہلے ہی اٹھ چکی ہے جو مجھے لن پھدی میں لینے کے لئے مجبور کرنے کے لئے کافی ہوگی . دینو میرے نیپلز منہ میں لئے اپنی انگلی میری چوت میں اور اپنے انگھوٹے کو چوت کے دانے پر مسلنے لگا . میری کمزوری وہ جان چکا تھا اب کسی وقت بھی میری چوت لن سے چدوانے کے لئے بیقرار ہونے والی تھی اور میں کوشش کے باوجود اسے روکنے سے قاصر تھی . دینو نے چوت میں انگلی ڈالی اور مجھے تڑپانے لگا . میں اس کے ہونٹ چوسنے لگی اور اور اسکے نپلز کو مسلنے لگی . دینو . تم بہت اچھے ہو . تمہارے لئے میں بچھی جا رہی ہوں . پلیز اب مزید مت ترساؤ مجھے تسکین دو مجھے تم جم کر چود ڈالو میں مخمور آواز میں بولی . جی جان بتاؤ کیسے چدوانا پسند کرو گی میں اسی طرح چودوں گا . دینو بڑے پیار سے بولا تو میں نے چومتے ہوئے کہا ایسے سٹائل مین چود جس میں تمہارا لن میری پھدی کے اندر آخری حد تک جا کر چوٹ لگاۓ تاکہ میری چوت مزے سے عش عش کر اٹھے میں نے اسے بتایا . ” وہ تو یہی سادہ طریقہ ہے کہ آپ اپنی پشت کے بل لیٹی ہوں میں آپکی ٹانگوں میں بیٹھا ہوں اور آپکی ٹانگیں میرے شانوں پر ہوں اور میں پھدی پر لن کو اوپر نیچے مسلوں پھسلاؤں اور جب چوت میں سیلاب انے لگے تو میں ایک دبنگ دھکا لگا کر چوت کو کچلتے ہوئے اندر لن کو آخر تک رگڑتا ہوا لے جاؤں . دینو بڑی تفصیل سے بتا رہا اور میں ملنے والی لذت سے شر شار مدہوش ہونے لگی . دینو کیا تم ایسا کر سکتے ہو . میں بے ترتیب سانس لیتے ہوتے بولی تو دینو نے بڑے اعتماد سے کہا ” کیوں نہیں بیبی جی ” پھر کرتے کیوں نہیں ہو ؛ کرو نان میں چدوانے کے لئے مری جا رہی ہوں , مجھے چود ڈال آج میری حسرتیں مٹا ڈال . دینو میری ٹانگوں کے بیچ آ گیا اس کے ہونٹوں پر ایک لُچی سی مسکراہٹ دیکھ کر پھدی کے لب کھلنے اور بند ہونے لگے . میں نے اپنی ٹانگیں دینو کے کندھوں پر رکھ دیں . دینو اپنے لن کو چوت پر مسلنے لگا . وہ اسے لکیر پر پھیرتا اور دانے کو چھیڑتا تو میری پھدی کے تمام مسلز میں ساز کی تاروں جیسا ارتعاش پیدا ہوتا اور میں عجیب سی لذت انگیز سنسناہٹ محسوس کرتی .
میں اسکی چھاتی کے بالوں میں انگلیاں پھیرتی مزے کی وادی میں بھٹکنے لگی . دینو نے اچانک کہا سنبھل کے بیبی جی اور لن کو ایک ہی جھٹکے سے اندر کرتے ہوئے نہ جانے کس جگه جا چوٹ لگائی کے آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گیں اور مزے کا ایک اور در کھلتے ہوئے میں محسوس کرنے لگی . اس کی اس چوٹ پر میں مچل مچل اٹھی . دینو نے دھکوں اور جھٹکوں کی بارش کر دی اور وہ لگا تار بنا رکے جم کر مجھے چودنے لگا جہاں تک ممکن ہوتا میں بھی دھکوں کا جواب دیتی . دینو میری آنکھوں میں دیکھتے دھکا مارتا اور رک کے مجھے آنکھ مارتا اور میں نظریں چرا لیتی وہ بدمعاشی پر اترا اور شرارتی موڈ میں مجھے بہت پیارا لگا . میں بھی اسے کبھی انگوٹھا اپ کر کے داد دیتی کبھی زبان باہر نکال کے اسے چڑاتی . کچھ ہی دیر بعد مجھ پر لذت اترنے لگی اور میرے سانس بے ترتیب ہونے لگے . دینو اور زور سے لگا دھکے . اپنے آخری جھٹکے کاری اور سوادی سے لگا کر مجھے لذتوں کے سمندروں میں ڈبو دے آواز کا خمار میں خود محسوس کرنے لگی اور اس کا اثر دینو پر بھی ہوا اور وہ برجوش ہو کر ظلمی دھکے مارتے ہوے خود بھی ہانپنے لگا . میری اور اسکی سانسوں اور لذت سے بھری سسکیوں نے کمرے کو عجیب طلسماتی سا بنا دیا . چوت اب مزید سواد کے شاور کو روک نہ پائی اور میں نے دینو کے ساتھ ہی منزل ہو کر اپنا رس بھی دینو کے گرم لاوے میں مکس کر دیا . میں نے ٹانگیں دینو کی کمر کے گرد کس لیں اور دینو کے لن کو چوت کے مسلز سے دبانے لگی اسکا لن آہستہ آہستہ ڈھیلا ہونے لگا اور میں چوت کے مسلز دبا دبا کر اس کا رس نچوڑنے لگی . آخر دینو کا لن پھدی سے نکل آیا اور دینو میرے پہلو میں دراز ہو گیا اسکے سانس ابھی تک تیز چل رہے تھے اور میں اسے باہوں میں لے کر دبانے لگی اور اسے چومنے لگی . میں بہت خوش اور مطمین تھی میرے انگ انگ میں سرور دوڑ رہا تھا . دینو میری جان تم جوانوں سے بھی زیادہ جوان ہو میں نے دینو کے کان میں سر گوشی کی تو مسکرا دیا . تم دو چار دن اور رہ کیوں نہیں جاتے دینو . آپکے ابو نے کہا تھا کہ زیادہ نہیں رہنا . ہو سکتا ہے اپک سسرال والے پسند نہ کریں . دینو ایک تو اب آپ کہنا چھوڑو میں ویسے بھی تم سے چھوٹی ہوں . مجھے اچھا نہیں تم مجھے آپ بولو . دوسرا میری سسرال میں صرف ساس ہی تو ہے بیگم صاحبہ وہ تو بہت اچھی ہیں وہ کبھی بھی مہمان کے چند دن رہنے کا برا نہیں منا سکتی . اگر تم چاہو تو بیگم صاحبہ سے کہلوا دوں کہ دینو جب تک شیرو نہیں اتا یہیں رہ لے . میں جانتی تھی کہ بیگم صاحبہ سن رہی ہوگی . دینو کہنے لگا جیسے آپ چاہو ؛ پھر وہی آپ . جی جیسے تم چاہو کرو . وہ تو خیر میں صبح بیگم صاحبہ سے بات کر لونگی امید ہے ان کو کوئی اعتراض نہ ہوگا فجر کا ٹائم ہونے والا تھا اور میں چاہتی تھی کہ اندھیرے اندھیرے ہی شیرو کے گھر سے نکل جاؤں تاکہ گھر جاتے ہوے کوئی دیکھ نہ پاۓ . میں نے دینو کی باہوں سے نکل کر پاجامہ پہنا اور شرٹ ڈھونڈنے لگی ادھر ادھر دیکھتے میری نظر کھڑکی کی طرف گئی تو وہاں بیگم صاحبہ کا سایہ غائب تھا , چارپائی کی دوسری شرٹ پر تھی اسے اٹھا کر پہنتے ہوے میں دینو کے پاس آئ اور اسے ہونٹوں پر بوسہ دے کر کمرے سے نکل ائی . میں جلدی جلدی جوگنگ کرتے ہوئے گھر آ گئی . اور سیدھا کمرے میں جا کر اپنے بیڈ پر اپنے آپ کو گرا دیا . میں تھکی ہوئی تھی مگر اس تھکن میں مٹھا س تھی بدن درد کر رہا تھا مگر آسودہ بھی تھا کافی عرصہ بعد دینو نے جم کر میری چدائی کی تھی اور میرے انگ انگ میں ایک میٹھا میٹھا سرور دور رہا تھا . پرسوں شام شیرو نے جو آگ لگائی تھی رات کو دینو نے اسے سرد کر دیا تھا . میں چاہتی تھی ایک ٢ بار دینو سے پھر چٹوا اور چدوا لوں اور بیگم صاحبہ بھی اگر دینو سے چٹوا لے تو کیا کہنے مگر بیگم صاحبہ کا صبح موڈ کیسا ہوگا کون جانے . کیونکہ ساری رات کھڑے ہو کر مجھے چدواتے اور چٹواتے دیکھتی رہی تھی . میں جلد ہی نیند کی وادی کی سیر کرنے لگی اس وقت آنکھ کھلی جب زلیخا نے میرا دروازہ ناک کیا . لنچ کا وقت ہو چکا تھا . میں جلدی سے باتھ روم میں جا کر غسل سے فارغ ہو کر باھر نکلی تو لنچ ٹیبل پر بیگم صاحبہ کو بھی موجود پایا . میں تھوڑی نروس سی ہو گئی . اور تھوڑا آہستہ آہستہ چلتے ہوئے لنچ ٹیبل کے نزدیک پہنچ کر بیگم صاحبہ کو ماتھے پر ہاتھ کر سلام کیا ” آداب بیگم صاحبہ ” میں انکی تیکھی مسکراتی کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا . جیتی رہو بیٹی جیتی رہو . خوش رہو , او ادھر میرے پاس بیگم صاحبہ نے پاس والی کرسی کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا . اور میں ان کے پاس کرسی پر جا کر بیٹھ گئی . میں تھوڑا تھوڑا شرمندہ تو تھی مگر پچھتاوا محسوس نہیں کر رہی تھی اس لئے پر اعتماد تھی . اور ہر قسم کی صورت حال سے نمٹنے کو تیار تھی . ” نوشی بیٹی رات کو دیر سے سوئی تھی کہ آج ناشتہ بھی نہیں کر سکی ہو . طبیعت تو ٹھیک ہے آپکی ” جی بیگم صاحبہ رات کو دیر سے سوئی اس لئے صبح جلد بیدار نہ ہو سکی . میں بولی تو انہوں نے کہا . دینو آج ہی جانے کو تیار تھا مگر میں نے اسے آج کے لئے روک لیا ہے کیونکہ کل تو شیرو واپس آ جایئگا تو دینو کو دوسرے کوارٹر میں جانا پڑتا تو یہ مناسب نہیں لگتا کہ مہمان کو کبھی ادھر کبھی ادھر ٹہرایا جاۓ . کیا خیال ہے بیٹی . میں نے کہا جی جیسا اپ مناسب سمجھیں . وہی بہتر ہے اور دل میں سوچا ایک رات اور دینو کے ساتھ مل رہی ہے اور مسکرانے لگی . بیٹی آپ خوش تو ہو نا بیگم صاحبہ مے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے پوچھا تو میں نے نظریں چراتے ہوئے کہا جی بیگم صاحبہ میں بہت خوش ہوں . بس میں یہی تو چاہتی ہوں میری بیٹی ہمیشہ خوش رہے بیگم صاحبہ نے میری پیشانی اپر بوسہ ثبت کرتے ہوئے کہا تو میرے دماغ میں جو خدثات پل رہے تھے وہ دور ہو گئے اور میں مطمین ہو گئی . اور میرے دل میں بیگم صاحبہ کی عزت مزید بڑھ گئی . بیٹی دینو کتنے عرصہ سے آپ لوگوں کے ہاں ہے “جی یہی کوئی پانچ ٦ سال سے پہلے یہ ہماری زمینوں پر کام کرتا تھا پھر ابو اسے اپنے ساتھ لے آئے تب سے یہ وہیں ہے” . ” اس کا مطلب ہے قابل بھروسہ آدمی ہے ” بیگم صاحبہ نے کہا ” جی جی آپ اس پر بھروسہ کر سکتی ہیں . یقین رکھیں آپ مایوس نہ ہونگی . میں نے زو معنی بات کی اور بیگم صاحبہ کی طرف دیکھا تو وہ زیر لب مسکرا رہی تھیں . مدیرے خیال می ان کے دماغ میں کوئی کھچڑی پک رہی تھی . ہو سکتا ہے شیرو کے وہاں نہ ہونے کا فائدہ اٹھانے کا سوچ رہی ہوں . اگر ایسا ہو بھی تو میں ان کو بلیم نہ دونگی . بیگم صاحبہ : بیٹی کافی عرصہ ہوا پنجاب نہیں گئی ؛ مصروفیات نے ایسا جکڑا کہ اب تو کبھی کبھار ہی خیال اتا ہے ویسے بھی میرے میکے میں اب صرف ایک بھائی ہی ہے جو گاہے بگاہے چکر لگا جاتا ہے . یہ کہتے هوئے انہوں نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور رنجیدہ سی نظر آنے لگی . میں انکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اس پر ہاتھ پھیرنے لگی . میری آنکھیں بھی نم ہو گیں تھیں . کہ ہم بیٹیوں کے نصیب میں جنم دینے والوں سے دوری ہی لکھی ہوتی ہے . بیٹی میں سوچ رہی ہوں میں پنجاب کا چر لگا ہی ہوں اور ہمیشہ پلین سے جاتی ہوں . جیسا کہ ا تم نے بتایا تھا کہ ٹرین میں سفر کا مزہ ہی اور ہے . ٹرین چل رہی ہو بھی تو آپ ہر طرح کے مناظر سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں . تو تمہارا کیا خیا ل ہے میں بھی کیوں نہ دینو کے ساتھ چلی جاؤں تمہارے والدین کے پاس ایک ٢ دن رہ کر سرگودھا اپنے بھائی کے ہاں ایک ہفتہ رہ کر آ جاؤن اور واپسی میں اگر ٹرین پر ہی ائی تو دینو مجھے چھوڑ جایئگا ان کے پروگرام سے میں کافی متاثر ہوئی . دل ہی دل میں انکی ذہانت کا اعتراف کرتے ہوئے میں نے ان سے کہا . یہ تو بہت ہی اچھا ہوگا . اس طرح کافی اچھا محسوس کریں گی یکسانیت سے ہٹ کر چینجنگ سے طبیعت ہشاش بشاش ہو جاتی ہے , آپ ضرور جائیں اور سفر انجوائے کرنے کے لیے ٹرین بہترین ذریعہ ہے . دینو ایک ا اچھا ہم سفر ثابت ہوگا اور آپ سارا سفر انجواے کریں گی . جب میں دینو کے ساتھ ائی تھی پنجاب سے تو اس سے پہلے میں دینو کا نام جانتی تھی اور اتنا معلوم تھا کہ ہمارے ہاں کام کرتا ہے . مگر بیگم صاحبہ ٹرین میں اسکی صلاحیتیں مجھ پر آشکار ہوئیں تب سے میں اسکی کارکردگی کی معترف ہوں . آپ گر چاہیں تو میں اسے بول دینگی کہ وہ آپ کا خاص خیال رکھے . ویسے وہ طبیعت کا مسکین ہے آپکو خوش کر دے گا اور آپکو کو شکایت کا موقع نہ دے گا . میری ذومعنی باتیں بیگم صاحبہ سمجھ رہی تھیں اور ان کا چہرہ شرم سے گلنار ہو رہا تھا . ہم دونو ایک دوسرے کو دیکھنے سے اجتناب برت رہی تھیں . ٹھیک ہے نوشی بیٹے اگر تم مطمین ہو تو ریلوے سٹیشن فون کر کے بکنگ کروا دو . اور پھر دینو کو بھی بتا دینا کہ آج نہیں وہ میرے ساتھ جاۓ گا . بیگم صاحبہ کے کہنے کے مطابق میں نے ٹرین میں بکنگ کروا دی اور زلیخا سے کہا کہ جا کر دینو کو بلا لاۓ تو بیگم صاحبہ نے کہا نہیں بیٹی دینو مہمان ہے تم خود جا کر اس سے بات کرو اور اسے سمجھا دینا ہو سکتا ہے تھوڑی دیر بعد میں بھی چکر لگاؤں . ٹھیک ہے بیگم صاحبہ میں خود ہی چکر لگا اتی ہوں اور شیرو کے مکان کی طرف چل پڑی . راستے میں میں نے دینو کو اصطبل میں گھوڑے کے پاس کھڑا پایا مگر میں وہاں رکے بنا سیدھا شیرو کے کمرے میں آگئی تھوڑی دیر بعد دینو بھی آگیا . اس نے دروازہ لاک کرنا چاہا تو میں نے اسے روکتے ہوئے کہا ” نہیں دینو صرف کواڑ بھیڑ دو لاک نہ کرو ” اور اس کے پاس پہنچی تو اس نے مجھے باہوں میں گھیر لیا اور میرے ہونٹوں پڑ اپنے ہونٹ رکھ دے جنہیں میں سوغات سمجھ کر چوسنے لگی . اس نے میرے چوتڑوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کے اپنی طرف کھینچا تو اس کا لن شریف میری ناف کے کچھ نیچے ٹکرایا
میں چاہنے کے باوجود اس وقت اسے اپنے اندر سمو لینے کی پوزیشن میں ہر گز نہ تھی کیونکہ بیگم صاحبہ کے آنے کا پروگرام بھی تھا . میں نے دینو کو کرسی پر بیٹھا دیا اور خود اس کے گلے میں باہیں ڈال کے اسکی آغوش میں بیٹھ گئی اسکی گردن پر بوسہ دیتے ہوئے کہا دینو تم آج نہیں کل واپس جا رہے ہو . دینو : “نہیں نوشی جی میری تو ٹرین پر آج شام کو سیٹ بک ہے” میں : دینو ہم نے تمھارے لئے کل شام کی سیٹ بک کرا دی ہے . دینو : مگر کیوں بیبی جی . میں تو یہی بتا کر آیا تھا . میں : وہ میں نے فون کر دیا ہے ابو امی سے بات ہو گئی ہے . دینو : ٹھیک ہے بیبی جی اگر اسی میں آپ خوش ہیں تو میں بھی خوش . میں : خوش تو میں رات سے ہوں اور آنے والی رات بھی ہونگی . یہ سنتے ہی دینو کے لن نے انگڑائی لی تو مجھے بہت اچھا لگا . میں دینو کی آغوش میں بیٹھی تھی اور لن پر ہولے ہولے گانڈ سے دباؤ بھی ڈال رہی تھی . میں نے دینو کو چوم کر کہا : ” دینو اس بار نہ تم اکیلے سفر کرو گے نہ میں تمہاری ہم سفر ہونگی . بلکہ تم کسی اور کے ساتھ جاؤگے . دینو : بیبی جی اگر آپ نہیں تو اور کون جائیگا پنجاب. میں : دینو ؛ بیگم صاحبہ نے جانا ہے اور وہ بھی ٹرین میں تمہارے ساتھ جائیں گی . میں یہی تمھیں کہنے ائی ہوں کہ راستے میں بیگم صاحبہ کا پورا پورا خیال رکھنا وہ میری ساس ہیں مجھے امید ہے تم شکایت کا کوئی موقع نہ دوگے . یہ سنتے ہی ڈینو کے لن نے اتنی شدت سے سر اٹھایا کہ مجھے اپنی گانڈ کو اوپر اٹھا کر اس کے لئے راستہ بنانا پڑا . اتنے میں دروازے پر ناک ہوئی میں جلدی سے ڈینو کی آغوش سے اٹھی مگر بیگم صاحبہ اندر آ چکی تھیں اور مجھے دینو کی آغوش چھوڑتے ہویے انہوں نے دیکھ لیا تھا . مگر وہ اگنور کر کے انجان سی بن گئیں . دینو بھی اٹھ کر کھڑا ہو گیا تھا , بیگم صاحبہ کی نظریں دینو کی تنبو بنی قمیض پر جم کر رہ گئیں , میں شرمندہ سی ہو گئی کیونکہ دینو کے تنبو کی وجہ تو میں ہی تھی . بیگم صاحبہ نے سر کو جھٹکا جیسے وہ کسی خیال سے چوکیں ہوں . اور مجھ سے بولیں بیگم صاحبہ : نوشی جان تم نے دینو کو پروگرام بتا دیا , اسے میرے ساتھ جانے پر کوئی اعتراض تو نہیں . میں : نہیں بیگم صاحبہ ؛ بھلا دینو کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے کیوں دینو تمھیں بیگم صاحبہ کے ساتھ ٹرین میں سفر کرنے میں کوئی مشکل تو نہیں . دینو : نہیں جی مجھے تو خوشی ہوگی ان کی خدمت کر کے . بیگم صاحبہ نے ڈینو کے تنبو پر اچٹتی نظر ڈالتے ہوئے مسکرا دی , بیگم صاحبہ : ٹھیک ہے دینو کل شام کی ٹرین میں ہم دونوں پنجاب جاینگے . آج تم آرام کرو . مجھ سے مخاطب ہو کر ؛ نوشی تم اگر چاہو تو دینو سے گپ شپ کے لئے رک جاؤ میں تھوڑا قیلولہ کرتی ہوں . میں : نہیں بیگم صاحبہ میں بھی آپکے ساتھ چلتی ہوں . دینو سے جو کچھ کہنا تھا وہ اچھی طرح سمجھ گیا ہے . . یہ کہتے ہوئے میں بھی بیگم صاحبہ کے ساتھ ہو لی . گھوڑوں کے اصطبل کے پاس سے گزرتے ہوے بیگم صاحبہ نے کہا کل شام تک شیرو آ جائیگا اور مجھے امید ہے جب میں پنجاب سے واپس آؤنگی تم اچھی گھڑ سوار بن چکی ہوگی ؛ میں : جی بیگم صاحبہ میری پوری کوشش ہوگی کہ گھوڑے کی سواری سیکھ جاؤں اور آپکے آنے تک خوب سواری کر چکی ہوں . بیگم صاحبہ : نوشی مشکی گھوڑا بہت اچھا گھوڑا ہے اس پر سواری تم ہمیشہ یاد رکھوگی جی بیگم صاحبہ میری بھی یہی خواہیش ہے . میں نے دل میں خوش ہوتے ہوئے کہا بیگم صاحبہ : نوشی دینو ہمارا مہمان ہے مگر وہ تمہارے میکے سے آیا ہے اس لئے اسکی مہمانداری پر تمہارا زیادہ حق بنتا ہے . اس لئے اسکا خاص خیال رکھنا میں : جی بیگم صاحبہ شکریہ . میں انکا مطلب سمجھتے ہوئے شرم سے جھینپ گئی . باتیں کرتے کرتے ہم گهر آ گئیں . اور بیگم صاحبہ آرام کرنے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیں . میں برآمدے میں زلیخا کو دیکھ کر اسکی طرف پلٹی تو بیگم صاحبہ نے اپنے کمرے کے دروازے پر پہنچ کر مجھے آواز دی تو میں جلدی سے ان کے پاس گئی , بیگم صاحبہ : نوشی گپ شپ کے لئے رات کو شیرو کے کمرے میں جانے کی بجاۓ دینو کو اپنے کمرے میں ہی بلا لینا . اسس سے پہلے کہ وہ میرے شرم سے گکنار ہوتے رخسار وہ کمرے میں داخل ہو چکی تھیں . میں کچھ دیر یونہی شرمندہ سی کھڑی رہی پھر واپس زلیخا کی طرف ائی . میرا پروگرام تو یہی تھا کہ د بیگم صاحبہ کو گهر چھوڑ پھر دینو کے پاس آ جاؤنگی . مگر اب یہ جان کر کہ پوری رات دینو سے گپ شپ چلے گی میں نے زلیخا سے آرام کا کہ کر اپنے بیڈ پر آ کر دراز ہوگی . اور آنے والی رات ہونے والی کاروائی کے لئے خود کو تیار کرنے لئے میں جلد ہی سو گئی . شام گئے اٹھی اور غسل سے فارغ ہو کر می اصطبل کی طرف نکلی تو وہاں دینو کو کھرے دیکھا اس کے قریب جا کر میں نے اس سے کہا کہ رات گیارہ بجے کے بعد میرے کمرے میں آجانا اتنے میں زلیخا آ گئی اور ہم دونوں کھیتوں کی طرف چہل قدمی کے لئے نکل گئیں . کچھ دیر بعد آ کر فریش اپ ہونے کے بعد بیگم صاحبہ کے ساتھ ڈنر میں شرکت کی . کافی دیر تک بیگم صاحبہ کے ساتھ گپ شپ لگائی . آج انکے سفر اور پنجاب میں مصروفیات پر ہی بات چیت ہوئی . بیگم صاحبہ بہت خوش تھیں . میں انکو خوش دیکھ کر خوش ہو رہی تھی . دس بجے میں اپنے کمرے میں آ گئی اور ساڑھے گیارہ کے قریب دینو کو حویلی میں آتے دیکھ کر اس کے استقبال کے لئے میں دروازہ کھول کھڑی ہوگئی . اس کے دروازے میں قدم رکھتے ہی دروازہ بند کیا اور پلٹ کر اس کے گلے سے لپٹ گئی . اس رات ہم دونوں نہ سوئے نہ ایک دودرے کو سونے دیا وہ رات یادگار بن کر رہے گی ہماری یادوں میں ہمیشہ . اگلے دن دینو اور بیگم صاحبہ دوپہر کا کھانا کھا کر سکھر چلے گئے جہاں سے انہوں نے ایکسپریس ٹرین لے کر پنجاب جانا تھا پورے ١٦ گھنٹہ کا سفر ان دونو نے تنہا ہی طے کرنا تھا اور اس دوران کونسی کونسی منزلیں طے کرنی تھیں اس کا اندازہ تو سب ہی کر سکتے ہیں . مجھے خوشی تھی بیگم صاحبہ کی تمنا پوری ہو جایئگی اور دینو اسکی کی ایک ایک حسرت نکال دے گا . کیونکہ میں نے دینو کو بیگم صاحبہ کے متعلق جو ہدایات دی تھیں ان کے مطابق دینو کوئی کسر نہ چھوڑے گا . شیرو نے آج شام آنا تھا وہ نہیں ایا میں بھی پچھلی رات کی تھکی ہوئی تھی چارپائی پر لیٹتے ہی ایسی آنکھ لگی کہ دوسرے دن سورج نکلنے کے بعد ہی کھلی . دوپہر کے وقت اصطبل میں مشکی کے ساتھ تھی کہ زلیخا نے کہا لندن سے فون ہے . میں حیران ہو گئی کیونکہ ارمان حیات فون رات کو کرتے تھے میں جلدی جلدی گھر آئ اور فون پر ہیلو کہا تو آگے سے کسی نے پوچھا کیا میں مسز ارمان سے مخاطب ہوں جی میں مسز ارمان ہی بول رہی ہوں آپ کون ؟ میں ارمان صاھب کا دوست نوید خان بول رہا ہوں . جی جی وہ آپ کا ذکر کیا کرتے تھے . مسز ارمان مجھے افسوس ہے کہ میرے پاس آپ کو بتانے کے لئے کوئی اچھی خبر نہیں ہے مگر میں مجبور ہوں کہ یہ فریضہ مجھے ہی ادا کرنا ہے . وہ یہ کہ کر خاموش ہو گیا ؛ میرا دل ڈوبنے لگا تو میں ساتھ پر تپائی پر ہی بیٹھ گئی نوید صاحب کیا ہوا ارمان خریت سے تو ہیں نان ؛ جی سوری ارمان صاحب نہیں رہے ان کا چند گھنٹے پہلے اکسیڈنٹ ہوا جس میں وہ زندگی کی بازی ہار گئے . اب کوشش ہے کہ جلد سے جلد انکی باڈی پاکستان پہنچائی جے اور میں بھی ساتھ ہی آ رہا ہوں . مجھ سے بولا ہی نہ گیا کہ اس سے پوچھ سکوں یا کچھ کہہ سکوں زلیخا سے کہ بیگم صحبہ راولپنڈی پہنچ ہونگی انہیں خبر کر دو وہ میرے میکے میں ہی گئی ہونگی . پھر جیسے جیسے لوگوںکو معلوم ہوتا گیا وہ ڈیرہ پر اکٹھا ہوتے گئے اور خواتین ہمارے گھر رونے پیٹنے لگیں . مجھے ابھی تک اعتبار ہی نہیں آ رہا تھا . کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے مگر وہ ہو چکا تھا میں اب ارمان کی بیوہ تھی میں نے زلیخا کے کہنے پر رسم کے مطابق کانچ کی چوڑیاں توڑ ڈالیں اور بال کھول کے مانگ میں راکھ بھر لی اور رونے والوں کے گلے لگے کے رونے لگی . یہ ایک بہت کٹھن گھڑی تھی . بیگم صاحبہ ہوتیں تو وہ اس اچھی طرح سے ڈیل کرتیں . ارمان اپنے قبیلہ کے سردار تھے . مجھے ایسے موقع کا کوئی تجربہ نہ تھا خدا خدا کر کے ٦ گھنٹہ میں بیگم صاحبہ بھی پہنچ گیں وہ پلائیں سے آئ تھیں . مگر انکا حال مجھے سے خراب تھا . اکلوتے جوان بیٹے کی موت کا سننا اور وہ بھی اچانک ایسے حالات میں والدین جان سے گزر جاتے ہیں . وہ مجھے کیا سنبھالتیں مجھے انکو سنبھالنا پڑ گیا شکر ہے میرے والدین اسکے ساتھ ہی آے تھے جس کی بدلوت مجھے سہارا مل گیا , بیگم صاحبہ حواس باختہ تھیں کبھی کچھ کہتیں کبھی کچھ کئی بار تو ایسا لگا کہ ان کو حادثے کا علم ہی نہیں , خاندانی ڈاکٹر ان کو ہر گھنٹہ دیکھ رہا تھا اور چیک کر رہا تھا . ڈاکٹر کو ڈر تھا انکے دماغ پر کوئی اثر نہ ہو گیا ہو کیونکہ انکی بہکی بہکی باتیں کسی کے پلے نہ پڑ رہی تھیں . دوسرے دن میت پہنچ گئی تو پورا علاقہ ہی اکٹھا ہو گیا . بیگم صاحبہ کو کچھ ہوش آیا تو ان سے جنازہ کے بعد دفنانے کی اجازت ملتے ہی ارمان کو سپرد خاک کر دیا گیا . پورا علاقہ اک سوگ کی لپیٹ میں آیا ہوا تھا . بیگم صاحبہ کی طبیعات سنبھل نہیں پا رہی تھی تو سیاسی پارٹی جس میں ارمان اور انکے والد اور بیگم صاحبه تھیں نے مجھ سے رابطہ کیا اور مجھ سے پارٹی میں شمولیت کے لئے کہا . کیونکہ سیاسی حمایت کے بغیر ارمان کی جایئداد اور علاقے کی قیادت مجھے نہیں مل سکتی تھی بیگم صاحبہ کی علالت کی وجہ سے خاندان میں پارٹی بازی کا خطرہ تھا . اس لئے سیاسی پارٹی کے چیئرمین کے کہنے پر میں پارٹی میں شمولیت کر کے علاقے کی قیادت سنبھال لی اور کچھ دنوں کے بعد بیگم صاحبہ کی طبیعت بھی سنبھال گئی تو انہوں نے بھی میری مدد کی جس کی بدولت ہر چیز میرے نام ہونا آسان ہو گیا . مگر بد قسمتی سے بیگم صاحبہ اپنے بیٹے سے زیادہ وقت دور نہ رہ سکیں اور ٢ ماہ بعد وہ بھی ہمیں داغ مفارقت دے گئیں . ٤ ماہ بعد میں نے شیرو سے نکاح پڑھا لیا اور زندگی پھر سے رواں دواں ہوگئی .
ختم شد

کہانی آپ کو کتنی پسند آئی ؟

Click on a star to rate it!

Leave a Comment

Share to...