ہماری ٹاپ کلاس کہانیاں پڑھنے کے لیے ہمارے فورم کو جوائن کریں

میجر صاحب۔۔( نیو ورژن ۔۔قسط 19)

اشرف باتھ روم میں نہا رہا تھا اور صبا بیڈ پر لیٹی ہوئی یہی باتیں سوچ رہی تھی کتنا فرق ہے اس کمینے اور اشرف میں اس کا کتنا موٹا اور لمبا ہے کتنا مضبوط ہے اس کا جسم سولڈ پتھر کے جیسا اتنی عمر میں بھی اشرف کی جوانی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی صبا میجر کو یاد کر رہی تھی اس کا جسم بھی اسے یاد کر رہا تھا اور شاید اس کی چوت بھی میجر کو یاد کرنے لگی تھی۔۔

اشرف نہا کر باہر آیا تولیے سے اپنا جسم صاف کرتے ہوئے اور صبا سے بولا کہ اٹھو نہا لو جا کے۔۔

صبا بس خالی خالی نظروں سے اشرف کو دیکھتی رہی جیسے کوئی اجنبی اس کے سامنے کھڑا ہو پھر آہستہ سے اٹھی اور اپنے جسم کو گھسیٹتی ہوئی واش روم میں آگئی اشرف اور میجر کا مقابلہ کرتے ہوئے نہانے لگی نہا کر باہر آئی اور جسم صاف کر کے اپنی ڈراور میں سے اپنے انڈرویئرز نکالنے لگی ڈراور کھولی تو نظر اپنے سینیٹری پیڈز کے پیکٹ پر پڑی اور ساتھ ہی اسے میجر کا انڈرویئر یاد آگیا کہ اس میں پڑا ہے برا اور پینٹی اٹھاتے اٹھاتے اس کا ہاتھ اس پیکٹ پر چلا گیا اور دھیرے دھیرے وہ اس پر ہاتھ پھیرنے لگی بنا کچھ سوچے بنا کچھ یاد کیے بنا کسی وجہ کے۔۔

اشرف کی آواز آئی جلدی کرو یار۔۔

اشرف کی آواز نے صبا کو چونکا دیا اور وہ جلدی سے ایک برا اور پینٹی لے کر بیڈ کے قریب آگئی اور پھر کپڑے پہن تیار ہو گئی اشرف نے آج کھانا بھی باہر ہی کھانے کا پلان کر لیا تھا۔۔

دونوں باہر گھومنے چلے گئے ایک ریسٹورنٹ میں کھانا کھایا اور پھر پارک میں اور شاپنگ مال میں جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا صبا کی پیاس سوتی جا رہی تھی اور اسے واپس اپنے شوہر کی محبت کا خیال آتا جا رہا تھا کیسے میرا خیال رکھ رہا ہے کتنی محبت سے پیش آرہا ہے کتنا پیار کر رہا ہے اور میں ایسے انسان کو چھوڑ کر اس جانور کے خیالوں میں کھوتی چلی جا رہی ہوں جو کہ صرف اور صرف شاید میرے جسم کا بھوکا ہے بھوکے بھیڑیے کی طرح کیسے میں اشرف سے دور ہو سکتی ہوں میں کیوں اس کتے کے سامنے ننگی ہو کر لیٹ جاتی ہوں کیوں تڑپتی ہوں اس کے سامنے کیوں مجھے اس کی پیاس ہوتی ہے نہیں نہیں میں خود سے ایسا کب کرتی ہوں یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے وہ سب میری مرضی کے بغیر ہی تو ہو رہا ہے سب کچھ اپنی پیاری سی زندگی کو بچانے کے لیے ہی کر رہی ہوں نا اشرف کو بچانے کے لیے ہی تو مجھے اس کمینے کی وہ گندی شرائط ماننی پڑی ہیں میں خود بھی تو مجبور ہوں نا صبا اپنے آپ کو سمجھانے لگی اپنے اندر سر اٹھاتی ہوئی ندامت کو کم کرنے کے لیے خود ہی دلائل دینے لگی اور اس کے یہ دلائل تھے بھی سولڈ کوئی غلط بات تو نہیں تھی ان میں بس مجھے خود سے اس کا سامنا کرنے سے بچنا ہے لیکن اگر وہ خود آگیا میں نے چابی بھی تو دے دی ہے اسے نا نہیں ایسے کیسے آجائے گا اتنی ہمت کیسے کر سکتا ہے کہ دروازہ چابی سے کھولے اور اندر آجائے نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا بس اب نہیں جاؤں گی اس کے پاس صرف اور صرف اپنے اشرف کو خوش رکھوں گی صبا نے پارک میں ٹہلتے ہوئے سوچا اور اس کا بازو پکڑ کر اپنا سر اس کے کندھے پر رکھ دیا۔۔

رات کو قریب 9 بجے دونوں واپس آئے تو صبا بولی دودھ کا ایک پیکٹ لیتے چلو چائے بنانے کے لیے اشرف اور صبا بلڈنگ کے پاس والی ہی دکان پر رک گئے صبا اشرف کی سائیڈ پر کھڑی تھی۔۔

اشرف۔۔ فضل چاچا دودھ کا ایک پیکٹ تو دینا۔۔

فضل چاچا (دکان کا مالک)۔۔ اچھا بیٹا ابھی لو ارے ہاشو ایک پیکٹ دودھ کا دو اشرف بابو کو۔۔

فضل چاچا نے اپنی دکان پر کام کرنے والے لڑکے کو کہا اس نے اٹھ کر دیکھا اور بولا چاچا پیکٹ تو ختم ہیں۔۔

فضلو۔۔ ابے کتنی بار کہا ہے کہ مال چیک کر کے رکھا کر پہلے سے چل جا اب اوپر گودام سے اٹھا کر لا ایک پیٹی دفع ہو اور جلدی مرنا واپسی۔۔

ہاشو۔۔ جی چاچا ابھی آیا۔۔

ہاشو اندر کی طرف بنی ہوئی سیڑھیوں کی طرف بڑھا جو کہ اوپر موجود گودام میں جاتی تھی صبا اور اشرف دونوں ہی اسے اوپر جاتے ہوئے دیکھنے لگے 17-18 سال کا لڑکا تھا ایک گندی سی بنیان اور گھٹنوں تک کا ایک بڑا سا اور ڈھیلا سا برمودا پہنا ہوا تھا اور وہ بھی گندا ہو رہا تھا ہاشو کا جسم تھوڑا موٹا تھا جیسے پھولا ہوا ہو لیکن تھا ایک نمبر کا ناکارہ انسان۔۔

فضلو۔۔ بس بیٹا تھوڑی سی دیر انتظار کرنا پڑے گا اور کچھ چاہیے ہے تو بولو۔۔

اشرف۔۔ نہیں چاچا بس آپ سناؤ چاچا کیا حال ہے۔۔

فضل چاچا۔۔ سب ٹھیک ہے تم سناؤ نوکری ٹھیک جا رہی ہے نا اور بیٹی تمھارا کیا حال ہے۔۔

فضل چاچا نے اشرف کے پاس نقاب میں کھڑی ہوئی صبا کو دیکھ کر پوچھا جس کی صرف آنکھیں ہی نظر آ رہی تھیں

صبا۔۔ سب ٹھیک ہے چاچا۔۔

فضل چاچا۔۔ کوئی پریشانی تو نہیں ہے نا یہاں نئی بلڈنگ میں اشرف سے اس نے پوچھا۔۔

اشرف نے ایک نظر صبا کی طرف دیکھا اور بولا باقی سب تو ٹھیک ہے بس چاچا ایک ہی ٹینشن ہے اور وہ ہے میجر کی بہت ہی بدتمیز آدمی ہے۔۔

صبا فوراً بولی چھوڑو بھی اس کی بات کتنی بار تو کہا ہے میں نے کہ اس کی باتوں پر دھیان نہ دیا کرو آپ۔۔

فضل چاچا۔۔ ہاں بیٹی میری بیٹی بالکل ٹھیک کہہ رہی ہے بس اپنا وقت پاس کرو اس سے نپٹنے کا تو یہی طریقہ ہے کہ بس اس سے پنگا نہ لو بہت خطرناک آدمی ہے وہ۔۔

اشرف۔۔ کیا مطلب چاچا۔۔

فضل چاچا۔۔ ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بتانا نا کسی کو اور نہ ہی کبھی یہ بات اپنی زبان پر لانا ورنہ بہت برا ہو گا اصل میں اس میجر کے جرائم پیشہ لوگوں سے کافی تعلقات ہیں بلکہ میں نے تو سنا ہے کہ اس کا اپنا کوئی چھوٹا موٹا گینگ ہے جس کا یہ لیڈر ہے اور یہ لوگ کچھ چرس اور ڈرگز وغیرہ سپلائی کرتے ہیں اورغنڈہ گردی بھی۔۔

اشرف حیران ہو کر منہ کھولے کھڑا تھا صبا کی آنکھیں بھی حیرانی سے پھیل چکی تھیں وہ دونوں حیرت سے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اپنے سامنے اس چھوٹی سی گندی سی دکان کے کاؤنٹر پر بیٹھے ہوئے بوڑھے کمزور سے جسم والے فضلو چاچا کو دیکھ رہے تھے گندا سا ڈریس پہنا ہوا تھا اس نے بہت ہی کمزور جسم بغیر داڑھی کے پتلا سا چہرہ جیسے کوئی چوسی ہوئی آم کی گٹھلی چہرے کی کھال بھی تھوڑی تھوڑی لٹک رہی تھی ہاتھوں کی ہڈیاں صاف دکھ رہی تھیں سر کے بال سفید تھے بہت چھوٹے چھوٹے ایک گول عینک لگائی ہوئی تھی چہرے پر چھوٹی سی داڑھی تھی جو کہ صرف اس کی چن سے نیچے کو جا رہی تھی اور دونوں گال داڑھی کے بغیر تھے قریب 4-5 انچ لمبی ہو گی داڑھی اس کی پتلی سی لمبی سی سفید اور کچھ کچھ کالے بالوں والی داڑھی جو کہ اس کے پتلے سے چہرے سے مطابقت رکھتی تھی اور اس کی شکل کو اور بھی عجیب بناتی تھی جیسے جیسے پرانی بچوں کی کہانیوں کا عمرو عیار تھا تو یہ فضلو چاچا بھی بہت عیار اور چالاک۔۔

اشرف۔۔ تو چاچا اس کو پولیس پکڑتی کیوں نہیں ہے۔۔

فضلو۔۔ ارے اس کے بہت اوپر تک تعلقات ہیں فوج میں تھا تب بھی ایسا ہی کچھ کام کرتا تھا اس کا کورٹ مارشل بھی ہوا لیکن کوئی بات ثابت نہیں ہوئی اور سزا بھی نہ ہو سکی لیکن پھر بھی فوج سے نکال دیا گیا بس تب سے کھل کر کھیل رہا ہے کسی ڈر کے بغیر ہی۔۔

صبا بہت ہی سہم گئی ہوئی تھی یہ سب سن کر بہت ڈر گئی تھی کیا اتنا خطرناک آدمی ہے یہ میجر اور اور اور اور میں اتنی بار اس کے سامنے ننگی ہو چکی ہوں اس سے چدوا چکی ہوں اووووووووووووووو اب میں کیا کروں گی کیسے بچ سکتی ہوں اس سے اتنے خطرناک بندے کے ہتھے چڑھ چکی ہوں اب پتہ نہیں میرا کیا بنے گا اب کیسے میں فضلو چاچا اور اشرف کو بتاؤں کہ اس سب بدمعاشی اور اپنے دھندوں کے علاوہ ایک ریپسٹ بھی ہے جس نے اس کا ہی ریپ کیا ہے اووووووووووووو کیا کروں کیسے خود کو اور اپنی شادی اور اپنے شوہر کو بچاؤں اس بدمعاش سے۔۔

فضلو۔۔ بس بیٹا خاموشی سے وقت پاس کرو اور اپنے کام سے کام رکھو ویسے ایک بات اور بتاؤں تم کو یہ سب باتیں صرف باتیں ہی ہیں اس کے بارے میں کوئی بھی کبھی بھی اس کے بارے میں کنفرم بات کہہ سکتا بس وہ جو کہتے ہیں نا کہ جتنے منہ اتنی باتیں بس ایسا ہی ہے اسی لیے ہر کوئی چپ رہتا ہے۔۔

دونوں وہیں کھڑے تھے کہ اچانک ہی بلڈنگ سے میجر نکلا اور فضلو کی دکان کی طرف بڑھا اسے دیکھ کر اشرف اور فضلو دونوں ہی خاموش ہو گئے میجر دکان کے پاس آیا تو اشرف اور صبا کو دیکھ کر سیٹی ماری۔۔

میجر۔۔ ارے فضلو سگریٹ تو دینا۔۔

فضلو۔۔ آؤ آؤ میجر بابو جتنی دل آئے سگریٹ لو آپ کی اپنی دکان ہے کولڈ ڈرنک کھولوں کیا تمھارے لیے۔۔

اور فضلو کی دکان میں اندر چڑھتے ہوئے صبا کی طرف دیکھ کر اونچی آواز میں گانا گانے لگا چھکنی چمیلی چُھپ کے اکیلی پوا چڑھا کر آئی ہئے کسم کملیا سالی ایک جھٹکے سے لاکھ ماری۔۔

بھونڈی آواز میں اس کا بیہودہ سا گانا صبا اور اشرف دونوں کو ہی بہت برا لگا صاف صاف نظر آرہا تھا کہ میجر یہ گانا صبا کے لئے گا رہا ہے فضلو نے بھی گانا سن لیا تھا لیکن وہ بھی چپ کر کے اپنے کام میں لگا رہا اشرف کا چہرہ غصے سے یکدم لال ہو گیا لیکن صبا نے فوراً ہی اس کا ہاتھ پکڑ کر دبا دیا اور وہ چپ کر کے ہاشو کے آنے کا انتظار کرنے لگے

فضلو نے ایک ٹھنڈی کولڈ ڈرنک کھول کر میجر کو دی اور بولا لو میجر بابو ٹھنڈی ٹھنڈی بوتل پی کے من ٹھنڈا کرو۔۔

میجر۔۔ ارے فضلو تمھیں تو پتہ ہی ہے کہ ہمارا من اس ٹھنڈی بوتل سے نہیں کسی گرم چیز سے ہی ٹھنڈا ہوتا ہے یہ کہتے ہوئے میجر نے بڑی ہی گھناؤنی مسکراہٹ کے ساتھ صبا کی طرف دیکھا۔۔

صبا کو اس پر بہت غصہ آرہا تھا کمینہ ہے پورا چلو جو کچھ بھی ہوا جو کچھ بھی اس نے کیا میرے ساتھ لیکن ایسے سب کے سامنے اور وہ بھی میرے شوہر کے سامنے تو ایسی باتیں نہیں کرنی چاہیے نا کتنا بازاری پن ہے اس کی باتوں میں گھٹیا آدمی آخر اپنی اوقات تو دکھائے گا ہی نا جیسا نیچا ہے ویسی ہی نیچ حرکتیں بھی کرے گا نا دل تو اس کا چاہ رہا تھا کہ اس کا شوہر اشرف اس بدمعاش کو بری طرح سے پیٹے اور اس سے سبق سکھائے لیکن اسے پتہ تھا کہ اس کا اشرف اس کا کچھ نہیں کر سکتا الٹا مار ہی کھا لے گا اس لئے اس نے اسے روک دیا تھا بلکہ بچا لیا تھا۔۔

وہ تو شکر ہوا کہ ہاشو اوپر سے دودھ کا پیکٹ لے آیا اور دونوں نے جلدی سے پیسے دیے اور بلڈنگ کی طرف بائیک مڑھا دی دوبارہ پیچھے سے آواز آئی یہ پردہ ہٹا دو ذرا مکھڑا دکھا دو ہم ہیں پیار کرنے والے کوئی غیر تو نہیں ہے سالی۔۔

بڑی ہی بھونڈی آواز میں میجر گانا گا رہا تھا اور صبا کو تو اب اس پر غصہ آنے کی بجائے اس سے ایک بار پھر سے خوف آرہا تھا صبا نے ایک بار پیچھے کو مڑ کر اس کی طرف دیکھا وہی چوڑا جسم خطرناک سا چہرہ اور چہرے پر گھناؤنی سی مسکراہٹ جیسے ہی دونوں کی نظریں ٹکرائیں ایک لمحے کے لیے تو میجر نے اپنے ہونٹوں کو سکیڑ دیا صبا کو دور سے ہی جیسے ایک کس کر لیا اس کس کی اتنی آواز تو ضرور پیدا ہوئی تھی جو کہ فضلو نے سن لی تھی لیکن اس نے بھی اس کو نظر انداز کر دیا۔۔

اشرف اور صبا دونوں اپنی بلڈنگ میں داخل ہوئے تو اندر کرسی پر بیٹھے ہوئے موٹے دینو نے فوراً سے کھڑے ہو کر سلام کیا دونوں کو صبا وہیں اتر گئی اور اشرف بائیک بلڈنگ کی بیسمنٹ میں بنی ہوئی پارکنگ میں لے گیا صبا وہیں کھڑی اشرف کے آنے کا انتظار کرنے لگی صبا نے اپنے نقاب میں سے جھانکتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ دینو کی طرف دیکھا ایک ہٹا کٹا موٹے جسم کا شخص تھا نیلے رنگ کی گارڈ کی یونیفارم پہنے ہوئے تھا جس کی پینٹ اس کے موٹے پیٹ سے پھسلتی جا رہی تھی اس کی پوری کی پوری توند بیلٹ سے باہر تھی چہرے پر بڑی بڑی مونچھیں کالے لمبے بال گول مٹول چہرہ بالکل کالا سیاہ رنگ ہلکی ہلکی بڑھی ہوئی شیو موٹی ناک اور بالکل کالی نظر آتی ہوئی گردن شرٹ کے کھلے ہوئے گریبان سے سینے کے بال صاف نظر آ رہے تھے بہت ہی بدصورت سا بندہ تھا جس کی آنکھیں ہر وقت لال سرخ رہتی تھیں جب بھی اس کے پاس سے گزرتے تو سگریٹ پی رہا ہوتا اور عجیب سی سمیل آ رہی ہوتی تھی اس کے پاس سے اس شخص کے چہرے پر سے عجیب بے وقوفی سی ٹپکتی رہتی تھی بھونڈو سا لگتا تھا دیکھنے میں صبا نے اسے دیکھا اور سوچنے لگی کتنا طاقتور اور ہٹا کٹا آدمی ہے لیکن کتنا بیوقوف ہے یہ دینو بھی یا پھر بھولا ہے اس بیچارے کو پتہ بھی نہیں ہے اور اس کی بیوی اس بدمعاش میجر کی رکھیل بنی ہوئی ہے کیسے بے شرمی سے اس سے چددوانے جاتی ہے اس کو پتہ چلے تو مار ہی ڈالے اس کمینی کو پھر اسے پینو کا خیال آیا وہ بھی بیچاری کیا کرے کہ وہ اتنی جوان ہے اور اس موٹے بدصورت سانڈھ کے پلے پڑی ہوئی ہے اسی لیے شاید وہ اس میجر کے ساتھ منہ کالا کر رہی ہے لیکن جو بھی ہو چاہے وہ کتنا بھی گندا موٹا اور بدصورت ہے لیکن پھر بھی ہے تو اس کا شوہر ہی نا ایسے اس کو چھوڑ کر دوسرے مرد کے پیچھے تو نہیں لگنا چاہیے نا۔۔

دوسرے ہی لمحے اس کی نظر اشرف پر آگئی جو بیسمنٹ سے اس کی طرف آرہا تھا اپنے ہی خیالوں میں گم تو صبا کو فوراً سے شرمندگی کا احساس ہوا میں بھی تو یہی کر رہی ہوں نا اپنے پیارے شوہر کو بیوقوف بنا رہی ہوں اس سے بے وفائی کر رہی ہوں اس کی غیر موجودگی میں اس غیر آدمی سے چدواتی ہوں اپنے اتنے خوبصورت شوہر کو چھوڑ کر اس کمینے کے ساتھ اپنا منہ کالا کر رہی ہوں کتنی بار اپنا جسم میں اس بدمعاش کو سونپ چکی ہوں مجھ میں اور اس کمینی پینو میں کیا فرق رہ گیا ہے نہیں میں بھلا کیسے اس پینو کے جیسی ہو سکتی ہوں مجھے تو اس نے پھنسایا ہوا ہے ٹریپ کیا ہوا ہے بلیک میل کرتا ہے اور وہ تو صرف اور صرف اپنے مزے کے لیے کر رہی ہے ٹھیک ہے کہ اس کا شوہر بہت بدصورت اور کالا ہے میجر کے مقابلے میں لیکن پھر بھی پینو کو یہ تو نہیں کرنا چاہیے نا اپنے شوہر کی وفادار رہنا چاہیے کسی رنڈی کی طرح سے ادھر ادھر منہ مارتی پھرتی ہے ابھی اور پتہ نہیں کس کس سے اپنی چوت چدواتی پھرتی ہو گی ویسے ہو سکتا ہے کہ اس بیچاری کو بھی اس کمینے نے ایسے ہی کسی طریقے سے پھنسایا ہو لیکن وہ اس کے پاس جانا چھوڑ بھی تو سکتی ہے نا اس کمینی کو بھی تو مزہ آتا ہو گا نا اس سے چدوا کر چودتا بھی تو کمینہ اتنے اچھے سے ہے کہ کوئی بھی عورت بے بس ہو جائے اس کے آگے میں بھی تو ایسے ہی بے بس ہو جاتی ہوں نا اس کے سامنے ذلیل سے ڈر بھی لگتا ہے کچھ تو کرنا ہی پڑے گا خود کو بچانے کے لیے کیسے اپنے آپ کو اس کے چنگل سے چھڑاؤں بس یہی حل ہے کہ خاموشی سے اس کی بات مانی جائے جب تک اس سے بدلہ لینے کا موقع نہیں ملتا اور جان نہیں چھوٹ جاتی تب تک۔۔

یہی سوچتے ہوئے دونوں اپنے فلیٹ میں آگئے اشرف بولا یار یہ کمینہ تو بہت ہی خطرناک آدمی ہے۔۔

صبا ہاں اسی لیے تو میں کہتی ہوں کہ بس خاموش رہنا چاہیے اور اس کا سامنا ہی نہ کریں۔۔

اشرف کہتی تو تم ٹھیک ہو جتنی جلدی ہو میں کوئی اور فلیٹ دیکھتا ہوں تاکہ یہاں سے نکل سکیں لیکن کوئی اور جگہ بھی تو اتنی آسانی سے نہیں ملتی نا۔۔

صبا کوئی بات نہیں آرام سے کرو تلاش اتنا بھی کوئی اندھیر نہیں مچا ہوا کہ ہمیں ایسے ہی کچھ کہے گا بنا کسی بات کے دونوں کے دل و دماغ پر اب بھی میجر کا خوف چھایا ہوا تھا دونوں ہی اس سے خوفزدہ تھے صبا کو یہ بھی خوف تھا کہ اسے میجر کو ابھی اور بھی برداشت کرنا پڑے گا اس کی زیادتیوں کو بھی اس کے ریپ کو بھی اور اس کی زبردستی کی زبردست چودائی کو بھی۔۔

رات کو دونوں سونے کے لیے لیٹے تو پھر سے صبا کو میجر کا خیال آیا کہ کہیں رات کو نہ آجائے نہیں وہ نہیں آئے گا لیکن اس نے تو مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ میں کل خود اس کے پاس آؤں گی نہیں نہیں میں اب اس کے پاس نہیں جاؤں گی بہت خطرناک آدمی ہے بدمعاش ہے خطرناک بدمعاش اور غنڈہ ہے اسی لیے تو جانا پڑے گا نا اووووووووو کیا کروں میں بری طرح سے پھنس چکی ہوں صبا خوف کے مارے اشرف سے لپٹ گئی اور سونے کی کوشش کرنے لگی پتہ نہیں کتنی دیر کے بعد اس کی آنکھ لگ گئی۔۔

صبح آنکھ کھلی تو صبا نے شکر کیا کہ رات خیر خیریت سے گزر گئی ہے اور کوئی انہونی نہیں ہوئی کل تک میجر کے جانے کے بعد سے اس کے جو جذبات میجر کے لیے ہو رہے تھے وہ اب دم توڑ جاتے اور کبھی پھر سے اس کو گرم کرنے لگتے کبھی اس کو اس میجر سے خوف آنے لگتا اور کبھی وہ پھر سے اسی کے سپنے دیکھنے لگتی اسے یقین تھا کہ آج بھی کچھ نہ کچھ ضرور ہو گا پچھلے دو دن سے میجر کو پورا موقع نہیں مل سکا تو آج وہ ضرور آئے گا یا مجھے بلائے گا اسے موقع نہیں ملا تو مجھے بھی تو دونوں دن پیاسا چھوڑا ہے نا پتہ نہیں کیا چیز ہے یہ ظالم کیسی آگ لگاتا ہے یہ جسم میں کہ بس کیا کروں میں اگر اشرف رہ جائے آج گھر پر تو تو شاید میں بچ سکوں جب اشرف تیار ہو کر فیکٹری کے لیے نکلنے لگا تو ایک بار تو صبا نے کہہ دیا

صبا۔۔ اشرف کیا تم آج بھی چھٹی نہیں کر سکتے۔۔

اشرف۔۔ نہیں یار اب اگر آج چھٹی کی تو پے کٹ جائے گی اس لیے جانا ہی پڑے گا لیکن ایسا کیوں کہہ رہی ہو کیا اس میجر سے ڈر رہی ہو۔۔

صبا چپ رہی اسے کیا بتاتی یہ میجر کا خوف ہے یا اپنے ہی جسم کی بے قابو ہو جانے والی پیاس کا ڈر وہی پیاس جسے تم خود تو بجھا نہیں سکتی ٹھیک سے۔۔

اشرف اسے اپنی باہوں میں سمیٹتے ہوئے بولا ارے کوئی ڈرنے کی بات نہیں ہے کچھ نہیں کہہ سکتا وہ میجر تم کو۔۔

صبا اپنا سر اشرف کے سینے پر رکھتے ہوئے بولی پتہ نہیں کیوں مجھے اس سے بہت زیادہ خوف آنے لگا ہے مجھے لگتا ہے کہ میں تم سے بہت دور ہو رہی ہوں۔۔

صبا اشرف کے سینے پر ہاتھ پھیر رہی تھی اور اس کے سینے کو ویسا ہی فیل کرنا چاہ رہی تھی جیسا کہ میجر کے سینے پر ہاتھ پھیر کر اسے فیل ہوا تھا لیکن ایسی فیلنگ اسے نہیں آئی لیکن فوراً ہی اس خیال کو اس نے اپنے دماغ سے جھٹک دیا اووووووووووو کیا کیا سوچنے لگتی ہوں میں بنا کسی بات کے ہی اشرف فیکٹری چلا گیا تو صبا اپنے کام میں لگ گئی خود کو مصروف رکھنے کے لیے۔۔

12 بجے کے قریب صبا کھانا وغیرہ بنا کر فارغ ہوئی اور پھر اپنے بیڈ روم میں بیٹھ کر چائے پینے لگی اچانک ہی اس کا فون بج اٹھا جس سے صبا اچھل پڑی سیل اٹھایا تو خوف سے آنکھیں پھیل گئیں ہاتھ کانپنے لگے دل بیٹھنے لگا منہ خشک ہونے لگا ہاں میجر کی ہی کال تھی اس کا نمبر صبا کے سیل پر بلنک کر رہا تھا صبا کی انگلیوں میں جیسے جان ہی نہیں تھی کہ وہ کال کو ایکسیپٹ یا ریجیکٹ کر پائے اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے۔۔

جیسے جیسے سیل بجتا جا رہا تھا ویسے ویسے ہی صبا کی حالت خراب ہوتی جا رہی تھی اسے یہ بھی پتہ تھا کہ اس کے دیر کرنے سے میجر کو غصہ بھی آرہا ہو گا تبھی خود ہی کال اینڈ ہو گئی۔۔

لیکن ٹھیک ایک منٹ کے بعد دوبارہ سے سیل بج اٹھا اب تو کال اٹینڈ کرنے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں تھا آخر ہمت کر کے گرین بٹن دبا ہی دیا اور گرین بٹن دباتے ہی اس کے کانوں میں گالیوں کا طوفان پھٹ پڑا۔۔

میجر۔۔ ارے کُتیا رنڈی بہن کی لوڑی حرامزادی کمینی عورت کب سے فون کر رہا ہوں اور تو اٹھا نہیں رہی کس بھڑوے سے چوت مروا رہی تھی تیرا وہ خاوند تو صبح کا دفع ہو چکا ہوا ہے سالی کتنی بار بکواس کی ہے میں نے کہ میرا فون پہلی گھنٹی پر اٹھایا کر۔۔

تھوڑا پوُز آیا تو۔۔

صبا گھبرائی ہوئی سی سہمی ہوئی سی وووووووووووووووہ ٹوائلٹ میں تھی تو تو تو اس لیے پتہ نہیں چلا۔۔

میجر۔۔ بہن چود مجھے الو سمجھتی ہے کیا موتنے گئی ہوئی تھی کہ چوت میں انگلی کر رہی تھی جو اتنی دیر کر دی سالی تیرے سے جتنا بھی میں شریف بن کے پیش آؤں نا تو اتنی ہی رنڈی بن کے دکھاتی ہے اتنے ہی نخرے کرتی ہے بہن کی لوڑی ابھی آ کے تیرا موبائل تیری گانڈ میں دیتا ہوں پھر دیکھوں گا کیسے نہیں پتہ چلتا تجھے موبائل بجنے کا۔۔

میجر۔۔ چل اب جلدی سے آج میرے فلیٹ پر اور اگر دیر کی نا تو باہر برآمدے میں تجھے ننگی کر کے چودوں گا کتی نہ ہو تو تجھے عزت راس ہی نہیں ہے جلدی آ 10 منٹ کے اندر اور ہاں بالکنی کا دروازہ بھی کھلا ہے اور مین ڈور بھی جدھر سے آنا ہے آجالیکن جلدی سن لیا نا اور ہاں تھوڑا ڈھنگ سے آنا اپنی چدی ہوئی روونی صورت لے کے نا آ جانا میرے پاس۔۔

فون کٹ ہو گیا صبا اتنی بھی ہمت نہ کر پائی کہ وہ میجر کو انکار کر سکے فضلو چاچا کی کہی ہوئی باتیں اس کے کانوں میں دوبارہ سے گونجنے لگیں اسے پتہ تھا کہ وہ انکار نہیں کر سکتی میجر کو جیسا اس نے کہا ہے ویسا کرنا ہی پڑے گا اس کے پاس جانا ہی پڑے گا اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے کمینہ کوئی موقع جانے نہیں دیتا ذلیل کرنے کا ہر وقت گالیاں دیتا ہے مجھے میں کیا کوئی رنڈی کال گرل ہوں یا جو یوں کال کر کے آرڈر دے رہا ہے کہ تیار ہو کے اس کے فلیٹ پہ آ جاؤں صبا باتھ روم کی طرف بڑھتے ہوئے سوچنے لگی۔۔(جاری ہے)

📖 ہماری پریمیم کہانیوں کو پڑھنے کے لیے ہمارے فورم کو جوائن کریں

🔗 فورم جوائن کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *