اس دن سے کچھ روز بعد ہی وہ رات کا واقعہ ہوا جس میں صبا کو جا کر میجر سے اس کی ٹیپ بند کروانی پڑی اور اس نے اس رات بھی اسے خوب ذلیل کیا۔۔ ویسے تو یہ اکثر ہی میجر کا معمول تھا کہ وہ بہت ہی اونچی آواز میں اپنے کمرے میں میوزک چلاتا اور دوسروں کو تنگ کرتا تھا۔۔ دو تین بار دن کے وقت بھی صبا یا اشرف نے جا کر اس کو کہا تھا میوزک کی آواز ہلکی کرنے کے لیے جب ان سے برداشت نہ ہو پاتا تھا تو۔۔
ایک روز صبا نے اشرف کے جانے کے بعد واشنگ مشین لگا لی اور کپڑے دھونے لگی۔۔ کچھ کپڑے دھونے کے بعد وہ انہی لے کر باہر بالکونی میں گئی خشک ہونے کے لیے دھوپ میں لٹکانے کے لیے۔۔ صبا اپنے کپڑے تار پر لٹکا ہی رہی تھی کہ اسے میجر کے فلیٹ سے کچھ عجیب عجیب آوازیں سنائی دینے لگیں۔۔ جیسے ادھر ایک مرد اور ایک عورت موجود ہوں اور آپس میں چدائی کر رہے ہوں۔۔ صبا پہلے تو بہت حیران ہوئی اور پھر اسے تجسس بھی ہوا کہ میجر تو اکیلا ہی رہتا ہے تو پھر یہ عورت کی آواز کہاں سے آ رہی ہے۔۔
وہیں پر بالکونی میں پڑی ہوئی کرسی صبا نے دیوار کے ساتھ لگائی اور اس کے اوپر چڑھ کر دیوار کی دوسری طرف میجر کے فلیٹ کے اندر جھانکنے لگی۔۔ خوش قسمتی سے اس کی بالکونی کی ونڈو بھی کھلی ہوئی تھی اور سامنے ہی اس کی نظر میجر اور ایک عورت پر پڑی۔۔ جیسے ہی ان پر نظر پڑی تو ایک بار تو صبا جھٹکے سے نیچے ہو گئی۔۔ اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔۔ دوبارہ سے صبا تھوڑا تھوڑا اوپر کو ہوئی اور پھر اندر دیکھنے لگی تو اب اسے اندر کا منظر صاف نظر آنے لگا۔۔
ادھر سیٹنگ روم میں ہی صوفے پر میجر ایک عورت کو چود رہا تھا۔۔ صبا نے اس عورت کو دیکھا تو اچھل پڑی وہ تو منصور صاحب کے گھر کام کرنے کے لیے آنے والی عورت تھی۔۔ جو کہ بلڈنگ کے کچھ اور فلیٹس پر بھی کام کرتی تھی۔۔ 25-26 سال کی سانولی رنگ لیکن سیکسی بدن والی جوان عورت تھی اس کے چہرے کے نقش بھی اچھے تھے اور پرکشش تھے۔۔ اگر اچھے کپڑے پہنے تو کبھی بھی کام کرنے والی ماسی نہ لگے۔۔ اس کا شوہر اسی بلڈنگ میں چوکیدار کا کام کرتا تھا۔۔ قریب قریب سارا دن ہی اس کی ڈیوٹی ہوتی تھی اور رات کو مین گیٹ لاک کر کے گیٹ کے پاس دیے ہوئے فلیٹ میں ہی اپنی اسی بیوی اور ایک 6 ماہ کے بچے کے ساتھ رہتا تھا جو کہ اس وقت میجر صاحب سے چد رہی تھی۔۔ پینو صوفے پر جھکی ہوئی تھی اور اس کے جسم پر کوئی بھی لباس نہیں تھا اور اس کے پیچھے ننگا کھڑا میجر اس کی چوت میں اپنا لنڈ ڈال کر اسے چود رہا تھا۔۔
پینو کا شوہر دینو ایک 35 سال کا آدمی تھا جو کہ ایک مضبوط اور گھٹیلے جسم کا آدمی تھا۔۔ رنگ اس کا پینو کے مقابلے میں کافی کالا تھا۔۔ وہ ہمیشہ ادب کے ساتھ سب سے پیش آتا تھا اور اشرف کی بھی کافی عزت کرتا تھا۔۔ لیکن کبھی بھی صبا نے اس کے ساتھ بات نہیں کی تھی کیونکہ وہ ہمیشہ اس کے سامنے برقعے اور نقاب میں آئی تھی اور جب بھی اشرف اس سے کچھ بات چیت کے لیے رکتتا تو وہ خاموشی سے آگے بڑھ جاتی تھی کیونکہ اسے بھی ایسے ہی کسی پرائے مرد کے سامنے کھڑے ہونے یا بات چیت کرنے کا کوئی شوق نہیں تھا اور ویسے بھی اشرف اس بات کو برا سمجھتا تھا اسی لیے اسے برقعہ پہنا کر نقاب بھی کرواتا تھا۔۔
صبا کی طرف میجر پیٹھ تھی اس لیے اسے صرف اس کا پیچھے کا جسم کمر اور ہپس ہی نظر آ رہے تھے۔۔ ننگے جسم سے لگ رہا تھا کہ اس کا جسم ابھی بھی کافی طاقتور اور مضبوط ہے۔۔ صبا کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا اس کے لیے یہ پہلا موقع تھا کہ وہ کسی دوسرے مرد اور عورت کو اس طرح اپنی آنکھوں کے سامنے سیکس کرتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔۔ اسے ڈر بھی لگ رہا تھا اور ان پر غصہ بھی آ رہا تھا۔۔
اچانک سے اس کے دماغ میں ایک خیال آیا اور وہ جلدی سے اندر کمرے میں بھاگی اور اپنا موبائل لے کر آئی اور دوبارہ سے کرسی پر چڑھ کر اپنے موبائل کے کیمرے سے ان کی مووی بنانے لگی۔۔ تھوڑی سی ان کی مووی بنا کر وہ پیچھے ہٹ گئی اور واپس اپنے کمرے میں بیڈ پر آ کر بیٹھ گئی۔۔ اس کی سانسیں بہت ہی بے ترتیب چل رہی تھیں۔۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔۔ ٹھنڈے جوس کا گلاس پیتے ہوئے اس کے دماغ میں ایک خیال آیا کہ کیوں نہ میجر کے اس راز کو اسے ہمیشہ کے لیے چپ کرانے کے لیے استعمال کیا جائے تاکہ وہ آئندہ کوئی بھی بدتمیزی نہ کر سکے ان کے ساتھ اور وہ آرام سے اس فلیٹ میں رہ سکیں۔۔ یہ خیال آتے ہی صبا کے چہرے پر ایک مطمئن مسکراہٹ پھیل گئی اور کچھ ہی دیر کے بعد وہ اٹھی اور اپنے فلیٹ کا دروازہ تھوڑا سا کھول کر باہر دیکھنے لگی کہ کب وہ دونوں باہر آتے ہیں۔۔
تھوڑی دیر کے بعد میجر کے فلیٹ کا دروازہ کھلا اور اس نے باہر نکل کر جھانکا لیکن کسی کو بھی کوریڈور میں نہ پا کر وہ اندر گیا اور پھر اس نے پینو کو اپنے فلیٹ سے باہر نکالا اور جلدی سے دروازہ بند کر لیا۔۔ جیسے ہی پینو باہر نکلی تو ساتھ ہی صبا نے بھی اپنے فلیٹ کا دروازہ کھول دیا تاکہ وہ پینو کو رنگے ہاتھوں پکڑ سکے۔۔ ہوا بھی یہی جیسے ہی پینو نے صبا کو دیکھا تو وہ گھبرا گئی اور اس کے چہرے کا رنگ ہی اڑ گیا کہ وہ کیسے باہر آگئی اور اس نے تو اسے اس کے گھر سے نکلتے ہوئے دیکھ لیا ہے۔۔
صبا نے اس کی طرف دیکھا اور معنی خیز نظروں سے مسکرانے لگی۔۔ پینو خود ہی بول پڑی۔۔
پینو۔۔ گ گ وہ کچھ کام کے لیے بلایا تھا صاحب نے مجھے۔۔
صبا۔۔ تو اچھے سے کام کر آئی ہو نہ میجر صاحب کا۔۔ صبا مسکراتے ہوئے بولی۔۔
پینو گھبرا کر اور شرمندگی سے سر جھکاتے ہوئے۔۔ گ گ کر دیا۔۔۔۔
صبا۔۔ ارے پینو تم تو ایسے گھبرا رہی ہو جیسے کوئی غلط کام کر کے آ رہی ہو۔۔. گھبراؤ نہیں میں کسی کو نہیں بتاؤں گی کہ تم ان کے گھر کام کرنے گئی تھی۔۔.. اور نہ ہی تمہارے شوہر کو بتاؤں گی۔۔۔۔۔۔۔۔ صبا ہنسنے لگی۔۔
پینو شرمندہ شرمندہ نیچے اتر گئی اور صبا واپس فلیٹ میں آکر دوبارہ کپڑے دھونے لگی اور جلدی سے دھو کر باہر بالکونی میں ڈال دیے اور پھر کھانا بنانے لگی۔۔ کھانا بنا کر صبا نے فریش ہو کر کھانا کھایا اور پھر بیڈروم میں آکر سو گئی۔۔ کیونکہ اشرف نے تو ابھی کافی دیر سے آنا تھا۔۔
صبا سو رہی تھی کہ فلیٹ کے دروازے پر ناک سے اس کی آنکھ کھلی۔۔ اس نے اٹھ کر جلدی سے گھڑی دیکھی تو ابھی 6 ہی بجے ہوئے تھے۔۔ اشرف کے آنے میں تو ابھی کافی وقت تھا۔۔ صبا جلدی سے اٹھی اور جا کر اپنا دروازہ کھولا تو سامنے میجر کھڑا تھا۔۔
صبا اسے دیکھتے ہی حقارت سے بولی۔۔ کیا بات ہے کیوں آئے ہو یہاں پر۔۔
میجر زور زور سے ہنسنے لگا اور پھر اپنا پیچھے کو کیا ہوا ہاتھ آگے لایا اور اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی ایک ریڈ کلر کی بریزیئر صبا کے سامنے لہراتے ہوئے بولا۔۔ ایسی ہی نہیں آیا یہ تمہاری بریزیئر میری بالکونی میں گری پڑی تھی وہ دینے آیا ہوں۔۔
صبا کے چہرے کا رنگ یکدم شرمندگی سے اڑ گیا۔۔
میجر۔۔ ابھی میں تمہارے شوہر کے آنے پر دینے آتا یہ بریزیئر تو اس نے تو یہی سمجھنا تھا نہ کہ تم میرے فلیٹ پر آکر خود اتار کر آئی ہو اور آتے ہوئے وہیں بھول آئی ہو۔۔ کہو تو واپس لے جاؤں اور تمہارے اس ہیجڑے شوہر کے سامنے لا دوں۔۔
صبا نے جلدی سے اس کے ہاتھ سے اپنی بریزیئر چھیننے کی کوشش کی لیکن اس نے فوراً ہی اسے پیچھے کھینچ لیا اور گھناؤنی ہنسی ہنستے ہوئے بولا۔۔ ارے اس کا نمبر تو دیکھنے دو مجھے پھر میجر نے صبا کی برا پر لگا ہوا ٹیگ پڑھنا شروع کیا۔۔
میجر۔۔ صبا کے بوبز کی طرف دیکھتے ہوئے اونچی آواز میں۔۔ 36B تو یہ ہے تمہارے ان مموں کا سائز اچھا ہے۔۔
صبا گھبرا کر ادھر ادھر دیکھنے لگی کہ کہیں کسی اور نے تو نہیں سنی اس کمینے کی بات لیکن خوش قسمتی سے وہاں پر کوئی بھی نہیں تھا۔۔
پھر میجر نے وہ بریزیئر اپنی مٹھی میں لے کر اپنے چہرے پر ملی اور پھر صبا کی بریزیئر اس کی طرف اچھالی اور پیچھے مڑ گیا اب صبا سے بھی نہ رہا گیا اور وہ بھی غصے میں پیچھے سے پھنکاری۔۔
صبا۔۔ میں کہے دے رہی ہوں کہ اپنی گندی حرکات سے باز آجاؤ ورنہ تمہارے کالے کرتوت سب کو دکھا دوں گی۔۔
صبا کی بات سن کر میجر مڑا اور غصے سے بولا۔۔
میجر۔۔ کیا بکواس کر رہی ہو؟
صبا نفرت سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔ بکواس نہیں کر رہی سب کچھ دیکھ لیا ہے میں نے جو تم اور پینو کر رہے تھے صبح کو۔۔
میجر کا رنگ اڑ گیا اب تھوڑی آہستہ آواز میں بولا۔۔ ک.. کک کیا ثبوت ہے تمہارے پاس اپنی اس بات کا۔۔
صبا نے بھی محسوس کر لیا کہ اس کا تیر ٹھیک نشانے پر لگا ہے اور اس کی ترکیب کامیاب ہو رہی ہے تو نفرت سے اس کی طرف دیکھتی ہوئی بولی۔۔ سب کچھ ریکارڈ کر لیا ہے میں نے اپنے موبائل میں۔۔
صبا نے یہ کہہ کر اپنا موبائل کھولا اور اس میں ریکارڈ کلپ چلا دی۔۔ جیسے ہی میجر نے وہ کلپ دیکھی تو وہ پریشان ہو گیا اور جلدی سے اس سے موبائل چھیننے کی کوشش کی لیکن صبا نے پیچھے چھپا لیا اور بولی۔۔ خبردار جو میرے پاس آیا تو۔۔ اور آئندہ اپنی حدود میں رہنا میرے ساتھ یا میرے شوہر کے ساتھ آئندہ کوئی ایسی ویسی بات کی تو پھر دیکھنا میں تمہارا کیا حشر کرتی ہوں۔۔
اس سے پہلے کہ میجر کچھ اور کہتا یا کرتا کہ سامنے کے فلیٹ سے منصور صاحب کی بیگم نکل آئی تو میجر نے تماشا نہ لگانے کا ٹھیک فیصلہ کرتے ہوئے نیچے کی سیڑھیوں کی طرف اپنے قدم بڑھا دیے۔۔ صبا بھی مسکراتی ہوئی اندر آ گئی اور اپنی بریزیئر کو جا کر دوبار گندے کپڑوں کی ٹوکری میں ڈال دیا دھونے کے لیے۔۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ جس شخص سے وہ نفرت کرتی ہے اس کے ہاتھوں سے چھوا ہوا کوئی بھی لباس بھی اپنے جسم پر پہنے اور یہ تو پھر اس کی بریزیئر تھی جو اس کے بوبز کے اوپر لپٹنا تھا۔۔ اسے اس بات پر بھی بہت غصہ آ رہا تھا کہ کیوں اس کی برا ہوا سے اڑ کر اس کمینے کے فلیٹ میں چلی گئی تھی۔۔
اب صبا بیحد خوش تھی کیونکہ کافی دن سے میجر نے ان لوگوں کے ساتھ کوئی بھی بدتمیزی نہیں کی تھی۔۔ ایک روز ایسا ہوا کہ صبح اشرف کو سی آف کہنے کے لیے صبا اپنے فلیٹ کے دروازے پر کھڑی تھی تو ساتھ ہی نیچے سے جاگنگ کر کے میجر واپس آیا تو اس کی نظر جب صبا پر پڑی تو اس نے خاموشی سے چہرہ دوسری طرف کر لیا۔۔ اشرف نیچے کو نکل گیا اور ابھی صبا گیٹ پر ہی کھڑی تھی تو میجر اپنے فلیٹ کا تالا کھولنے لگا۔۔ صبا کی طرف اس نے دوبارہ دیکھا تو صبا نے بھی اس کی طرف ایک بیحد حقارت آمیز مسکراہٹ سے دیکھا جیسے اسے اس کی حیثیت جتلا رہی ہو اور پھر اپنے ہاتھ میں موجود اپنے موبائل فون کو اس کو دکھاتے ہوئے ہلایا اور پھر نیچے فرش پر تھوک کر اندر چلی گئی۔۔ دل ہی دل میں وہ بہت خوش تھی کہ آخر اس کمینے شخص سے جان چھوٹ گئی ہے اس کی۔۔
دوسری طرف میجر صاحب بھی کچھ آرام میں نہیں تھے۔۔اس نے پوری بلڈنگ میں رعب ڈالا ہوا تھا۔۔سب اس سے ڈرتے تھے ۔۔اس کا دبدبہ خطرے میں پڑگیاتھا۔۔میجر کو اپنے لن کا پانی نکالنے کے لیے پینو کی ضرورت تھی ۔۔اس لیے اس نے پینو کے ساتھ تعلقات رکھے ہوئے تھے اور اب یہ تعلقات کی خبر بھی لیک ہونے کے قریب تھی تو وہ چاہتا تھا کہ کسی بھی طرح وہ اس کلپ کو حاصل کر کے ضائع کر دے اور ایک بار پھر خود کو محفوظ کر لے۔۔ اسی کے لیے وہ مسلسل پلاننگ کر رہا تھا۔۔(جاری ہے)
📖 ہماری پریمیم کہانیوں کو پڑھنے کے لیے ہمارے فورم کو جوائن کریں
🔗 فورم جوائن کریں