کلاس فیلو

5
(1)

Loading

آج جو میں آپکو اپنی یورنیورسٹی کلاس فیلو رباب کی چدائی کی کہانی سنانے جا رہا ہوں۔

یہ بات کافی سال پہلے کی ہے جب میں لاہور یورنیورسٹی میں پڑھتا تھا وہاں میرے ساتھ ایک لڑکی جسکا نام رباب تھا جو یو ای ٹی میرے ساتھ پڑھا کرتی تھی ۔

رباب کا باپ بھی اسی یورنیورسٹی میں کام کرتا تھا ۔رباب چوبیس سال کی سانولی اور سیکسی جسم کی مالک تھی ۔یورنیورسٹی میں کافی لڑکے رباب کے پیچھے پڑے ہوئے تھے کیونکہ رباب کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ پھدی چدوانے کی شوقین لڑکی ہے ۔

میری رباب سے اچھی دوستی تھی اور ہم راتوں کو سیکس چیٹ کرنے لگے تھے۔رباب بہت اوپن اور کھل کر سیکس چیٹ کرتی تھی۔ایک دن میں نے رباب کو کہا مجھے رئیل میں تیری پھدی چودنی ہے تو رباب بولی یاسر مجھے دو اچھے سے سوٹ لے کر دو تو میں تم سے چوت چدواؤ گی۔

میں فوراً مان گیا اور اگلے دن رباب کو شاپنگ کروائی اور اسکو لاہور میں ریلوے اسٹیشن کے پاس لاہور ہوٹل میں لے کر چلا گیا۔ لاہور ہوٹل میں اکثر اپنی یورنیورسٹی فیلوز کی پھدی مارنے لے جایا کرتا تھا۔

رباب نے مجھے کہا یاسر تیرے پاس چھ گھنٹے ہیں اور چھ گھنٹے تمہارا لن میری پھدی میں ڈال کر جی بھر کر چودو میری پھدی بہت گرم اور ترسی ہوئی ہے۔

یہ کہتے ہوئے رباب نے میرے پاجامہ کے اوپر سے میرے لن کو پکڑ کر سہلانا شروع کر دیا اور بولی یاسر تمہارا لن صحیح موٹا اور لمبا ہے اور رباب میرے لن کو سہلانے لگی۔

رباب بہت سیکسی لگ رہی تھی اور رباب ایک چڈکر لڑکی تھی جسکی پھدی کافی لڑکے چود چکے تھے لہذا رباب کو چدائی کروانے کا بڑا تجربہ تھا۔

میں کمرے میں موجود صوفے پر بیٹھا تھا اور رباب نے میرا پاجامہ نیچے کر دیا اور میرے لن کو باہر نکال دیا اور لن سہلاتے بولی یاسر مزا آرہا ہے؟ میں نے کہا ہاں رباب بہت مزا آرہا ہے بہت گرم ہوں تیری پھدی چودنے کے لئے

رباب اب کھڑی ہو گئی اور اس نے اپنی شلوار اتار دی اور قمیض اتارنے لگی۔اب رباب صرف کالے برا میں تھی اور رچسب کی بالوں سے پاک پھدی میرے سامنے تھی رباب میری گود میں آکر بیٹھ گئی اور بولی یاسر میرا برا تم اتارو اور میرے ممے آزاد کر دو۔میں نے رباب کا برا اتار دیا اور رباب کے 34 سائز ممے میرے سامنے تھے جنکے براؤن نپلز پیار مانگ رہے تھے۔

رباب فرش پر بیٹھ گئ اور رباب نے میرے لن پر زبان پھیرنی شروع کر دی اور میرے لن کو زبان سے چاٹنے لگی اور پھر لن کا موٹا ٹوپا اپنے منہ میں لے لیا اور لن چوسنے لگی۔

اف رباب کیا مزے سے لن چوس رہی تھی اور میں رباب کے سر کو لن پر دبا رہا تھا اور رباب میرے لن مزے لے لے کر چوپے لگا رہی تھی۔

میں نے رباب کو کہا مجھے تیری پھدی چاٹنی ہے

تو رباب بولی چاٹ نا بہنچود کس نے روکا ہے اور رباب میرے منہ پر بیٹھ گئ اور پھدی چٹوانے لگی اور دوسری طرف سے میرا لن رباب نے منہ میں لے لیا اور چوسنے لگی۔

رباب کی پھدی کا پھدا بنا ہوا تھا میں رباب کی پھدی چوس رہا تھا اور اس کی پھدی سے بہت زیادہ نمکین پانی نکل رہا تھا جسے میں زبان سے چاٹ رہا تھا۔

کچھ دیر کے بعد رباب کی پھدی نے زور سے جھٹکا لیا اسکی پھدی فارغ ہو گئ تھی اور میرے منہ رباب کی پھدی کا سفید گاڑھا پانی سے بھر گیا تھا جسے میں چاٹ کر پی گیا۔

رباب کی پھدی کو میں چاٹ کر صاف کر رہا تھا اور رباب میرے لن کو مسلسل چوس رہی تھی کچھ سیکنڈ کے بعد مجھے لگا کہ میری منی نکلنے والی ہے اور میں نے رباب کو کہا میری منی نکلنے والی ہے تو رباب نے میری بات کو ان سنی کر دیا اور مزید زور سے لن چوسنے لگی اور میری منی رباب کے منہ میں نکل گئی اور رباب نے میرے لن سے منی کو اچھی طرح اپنے منہ میں نچوڑا اور میری منی کھا گئی۔

رباب میری منی کھانے کے بعد اٹھی اور میرے ساتھ فرنچ کسنگ شروع کردی اور میں اور رباب کافی دیر تک فرنچ کسنگ کرتے رہے اور میں رباب کے چوتڑ اور مموں کو کسنگ کے دوران سہلا رہا تھا۔

رباب نے میرا سر اپنے مموں کے قریب کیا اور بولی یاسر بہنچود یہ ممے تیری بہن کے نہیں ہیں جو انکو پیار نہیں کر رہا زور زور سے میرے ممے چوس اور میں نے رباب کے مموں کو باری باری منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا۔

رباب :- اف آہ چوسو میرے ممے آہ یاسر بہنچود چوس میرے ممے آہ تو ممے اور پھدی اچھی طرح چوسنا جانتا ہے چوس آہ اف آہ چوس

میں:- گشتی تیری چوت بہت چود چکے ہیں نیچے تیری پھدی کا پھدا بن چکا ہے گشتی تیری چدی ہوئی پھدی میں بھی بہت نشہ اور مزا ہے

رباب:- یاسر چل میری ٹانگیں اٹھا کر میری اچھی طرح سے پھدی چود اور ٹاٹم لگا کر چودنا مجھے صحیح سے مزا دو۔

میں نے رباب کی دونوں ٹانگیں اٹھا کر ایک بار پھر رباب کی پھدی کو منہ میں لے کر چاٹنا شروع کر دیا اور اپنے تھوک سے رباب کی پھدی کو مکمل گیلا کر دیا اور رباب نے میرے لن کو اپنی پھدی کے سوراخ پر رکھ دیا اور بولی بہنچود آب چود ڈال میری پھدی اور گھسا دے پورا لوڑا میری دیسی پھدی میں

میں نے کہا یہ لے بہن کی لوڑی اور زور سے جھٹکا لگا کر اپنا لن رباب کی گرم چدی ہوئی پھدی میں ڈال دیا اور پھر اس کی پھدی میں مزید جھٹکے مارے اور اب میرا پورا لن جڑ تک رباب کی پھدی میں گھسا ہوا تھا۔

رباب:- چل بہنچود چود اب زور زور سے میری پھدی مار جھٹکے پوری طاقت سے مار آہ آہ اوہ اوہ اف چود ڈالو میری گرم چوت آہ آہ اوہ اف آہ پھاڑ دو میری چُوت آہ آہ اوہ اف تیرا لن کتنا سخت ہے آہ آہ اوہ زور زور سے چودو

میں زور زور سے رباب کی پھدی چود رہا تھا اور رباب سسکیاں لیتے ہوئے مجھے نیچے سے پھدی اٹھا کر میرے ہر گھسے کا جواب دے رہی تھی اور میرے زور زور سے جھٹکوں سے رباب کی پھدی دو بار فارغ ہو چکی تھی۔

رباب:- یاسر مجھے گھوڑی بنا کر چود اور میری پھدی بےرحمی سے چود آہ آہ اوہ اوہ اف بہنچود طاقت نہیں ہے زور زور سے چودو پلیز میری پھدی میں ڈال کر رکھو لن آہ یاسر پلیز آہ آہ اوہ اوہ میری پھدی کو بےرحمی سے چودو پھاڑ دو میری پھدی

میں نے رباب کو گھوڑی بنایا اور کمر سے پکڑ کر زور زور سے پھدی چودنے لگا رباب فل مزے میں سسکیاں لے رہی تھی آہ آہ آف یاسر چودو مجھے کھل کر چود میری پھدی

آہ بہنچود یہ تیری بہن عروج کی پھدی نہیں ہے میری پھدی ہے رباب کی پھدی ہے اسکو جم کر چودو میری پھدی کو اپنے لوڑے سے چود چود کر پھاڑ دے

میں زور زور سے رباب کی پھدی چودنے لگا اور پوری طاقت سے رباب کی پھدی چودنے لگا

میں:- رباب گشتی کس کس سے چدواتی ہے بہن کی لوڑی تیری پھدی کھلی ہوئی ہے بہت زیادہ گشتی أہ آف بہت گرم ہے تیری چوت

رباب:- میرے ابو کا دوست ہے ڈاکٹر اس نے مجھے بہت چودا ہے اور کل آس سے چدوانے گئی تھی۔میری پھدی کو اسی نے پہلی بار چودا تھا اف کیا لن ہے ڈاکٹر کا میری چوت کو پھاڑ کر رکھ دیا تھا۔بلکل تیری طرح زور زور سے چودتا ہے اور بہت مزے کے لے چکا ہے میری پھدی میں آہ آہ اف چود زور زور سے گھسے مارو

میں نے کہا گشتی تیری ماں کی پھدی بھی چودتا ہو گا تیرے باپ کا یار ہے تو سب سے پہلے تیری ماں نے پھدی پیش کی ہو گی اور میں رباب کے ممے دباتے ہوئے اسکی پھدی میں اپنا لن اندر باہر کررہا تھا۔

رباب:- ہاں بہنچود میری ماں چدواتی تھی ڈاکٹر سے ایک دن میں گھر گھسی تو ڈاکٹر نے میری ماں کی ٹانگیں کندھے پر رکھیں ہوئی تھی اور میری ماں کی پھدی چودنے میں مصروف تھا۔

اپنی ماں کو پرائے مرد سے پھدی چدواتا دیکھ کر میں نے بھی پھدی چدوانا شروع کر دیا ہے اور لن کے مزے لیتی ہوں۔

میں زور زور سے رباب گشتی کی باتیں سنتے چوت مار رہا تھا رباب بولی میری پھدی تین بار فارغ ہو چکی ہے میں رباب کی باتیں سن کر مزید زور سے رباب کی پھدی چودنے لگا اور کچھ ہی سیکنڈ بعد میرے لن سے منی کی پچکاریاں رباب کی پھدی میں نکلنے لگی اور میں رباب کی پھدی میں لن ڈلے لیٹ گیا اور اپنی منی کا آخری قطرہ نکلنے تک لن رباب کی پھدی میں رکھا۔

میں نے لن رباب کی پھدی سے نکالا اور رباب کو کہا لن چوس کر صاف کرو اور رباب نے میرے لن کو چوسنا شروع کر دیا اور میرے لن کا پانی اور اسکی پھدی کا پانی میرے لن پر لگا تھا اسکو چاٹ کر صاف کر دیا۔رباب کو میں اب واش روم میں لے گیا اور رباب کو فرش پر بیٹھنے کو کہا اور اس کا منہ کھلوا کر پیشاب کرنا شروع کر دیا رباب کا منہ پیشاب سے بھر رہا تھا اور ساتھ رباب کے چہرے پر پیشاب کر رہا تھاوہ ساتھ ساتھ میرا پیشاب پی رہی تھی ۔پیشاب پینے کے بعد رباب بولی یاسر میرا پیشاب بھی ٹیسٹ کرو۔

میں زمین پر بیٹھ گیا اور رباب نے میرے منہ کے عین اوپر پھدی رکھ کر پیشاب کی دھار ماری جو میری چڈکر گرل فرینڈ رباب کی پھدی سے نکل کر میرے منہ میں گلے میں جارہی تھی اور بنا پیشاب کا ایک قطرہ ضائع ہوئے رباب نے پورا پیشاب میرے منہ میں کیا اور آخری قطرہ تک میرے منہ میں نکال کر پھدی مجھ سے چٹوا کر صاف کروائی۔

اس کے بعد ہم دونوں روم میں واپس آگئے اور اس دن رباب نے مجھ سےچھ بار پھدی مروائی ۔

جب میں ہوٹل سے جانے لگا تو ہوٹل کا ملازم بولا صاحب مزا آیا اس بار بہت نمکین پھدی ہوٹل میں چودنے لائے ہیں کہاں کا مآل ہے ؟

میں مسکرا دیا اور کہا میرے ساتھ پڑھتی ہے یورنیورسٹی میں اور یورنیورسٹی کا مال ہے۔

کہانی آپ کو کتنی پسند آئی ؟

Click on a star to rate it!

Leave a Comment

Share to...