گندا خاندان قسط 1

3.3
(3)

Loading

یہ دسمبر 2002۶ کی ایک سرد رات تھی ،، جب میں کام سے واپسی پر گھر پہنچا ۔۔

اسوقت رات کے گیارہ بج رہے تھے۔

دروازہ بجانے پر میری چھوٹی بہن زرین نے گیٹ کھولا۔

میں سیڑھیوں سے چڑھ کر اوپر اپنے کمرے میں جانے لگا تو مجھے امی کے کمرے سے ہلکی ہلکی سسکیوں کی آوازیں آنے لگیں ۔

کسی کی درد سے کراہنے کی آوازیں ، میرے دماغ نے ایک دم سے جھٹکا کھایا اور سوچا کہ اسوقت امی کے کمرے میں امی ہی ہوسکتیں ہیں اور کون ہوسکتا ہے؟

میرے اندر کا تجسّس اب غصے کی صورت اختیار کر گیا تھا کیونکہ میں جانتا تھا یہ اسطرح کی آوازیں کسی کی جنسی چدائی کی آوازیں ہیں ۔

اور وہ میری ماں ؟

نہیں نہیں ابو کو وفات پائے ڈیڑھ سال ہوگیا تھا پھر یہ امی کس کے ساتھ ؟

اسی سوچ نے میرے دماغ کے پرخچے اڑا دیے اور میں اندر کمرے میں جھانکنے کی اور کوئی سوراخ تلاش کرنے کی کوشش کرنے لگا لیکن ناکام رہا ۔

میں نے ایک ترکیب سوچی اور پیچھے جاکر سیڑھیوں پر نیچے کی طرف ہو کر لیٹ گیا تاکہ کسی کو نظر نہ آسکوں ۔

تھوڑی دیر بعد مجھے فہد بھائی امی کے کمرے سے نکلتے ہوئے نظر آیا ۔

فہد بھائی کو دیکھ کر میں خوفزدہ ہوگیا اور میری سوچ کے پیمانے ایک دوسرے سے سوالات کرنے لگی؟

فہد بھائی امی کے ساتھ ۔؟

یعنی امی فہد کے ساتھ وہ سب۔۔۔؟

مجھے اب تلک یقین نہیں آرہا تھا۔

ہوسکتا ہے اندر ایسا ویسا کچھ نہ ہورہا ہو۔

لیکن اسطرح کی سسکیاں تو سیکس میں ہی ہوسکتیں ہیں ؟

فہد بھائی جب امی کی کمرے سے نکل کر اپنے کمرے میں گیا تو امی نے دروازہ بند کرلیا۔

میں سیڑھیوں سے اٹھا اور جاکر اپنے کمرے میں بیڈ پر رضائی لے کر سوچنے لگا۔

میری آنکھوں سے نیند بالکل غائب ہوچکی تھی۔۔

ابھی ابھی جو کچھ میں نے اپنے کانوں سے سنا ۔

وہ سسکیوں کی آوازیں وہ کراہنے کی آوازیں ۔

میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا امی اور فہد آپس میں اتنا گندا کھیل کھیلیں گے۔

لیکن اگلے ہی لمحے میرے ذہن کی سوچوں نے دستک دی کہ جب تک آنکھوں سے نہ دیکھ لو کانوں کے سنے ہوئے پر یقین نہ کرو۔

چناچہ میں نے جانچ پڑتال کرنے کا فیصلہ بنایا۔

یہی سوچتے سوچتے میری آنکھ لگ گئی۔

تو دوستوں یہ تھی کہانی کی شروعات !

یہ میری سچی آپ بیتی ھے ، بعض لوگ انسیسٹ یعنی گھریلو رشتوں کے مابین سیکس کو تسلیم نہیں کرتے ،، لیکن وہ نہیں جانتے ایسے کتنے ہی گھر اس مشرقی معاشرے میں اندرونِ خانہ ان ناجائز تعلقات میں گھرے ہوئےہیں جو کہ منظرعام پر ایک فیصد بھی نہیں آتے ۔۔ اسلئے لوگ اس چیز کو جھوٹ سمجھتےہیں لیکن دوستوں کسی کے جھوٹ سمجھ لینے سے حقیقت بدل نہیں جاتی،، معاشرتی حقائق بدل نہیں جاتے۔۔۔

آس پاس نظر دوڑائیں ، قریب سے دیکھیں پرکھیں ۔

کہیں نہ کہیں اسطرح کے تعلقات کی بھنک ضرور دکھے گی ، اور جب انسان خود ان چیزوں میں ملوث ہوجائے تو انکار کا پھر کوئی جواز نہیں بچتا کہ ایسا نہیں ہوتا یا ویسا نھیں ہوتا۔۔

انسیسٹ کہانیاں عموماً سچی ہی ہوتی ہیں بعض اوقات رائٹر تھوڑا مرچ مصالحہ لگا کر اسکو قارئین کی تفریح کےلئے اسکو یہ رنگ دے دیتا ہے۔

تو دوستوں آئیے اتنی لمبی تمہید باندھنے کے بعد چلتے ہیں آپ بیتی کی طرف !

میرا نام رافع ہے جسوقت سے یہ واقعہ شروع کرنے لگا ہوں اسوقت میری عمر اٹھارہ سال تھی۔

ہم ٹوٹل چھ بہن بھائی تھے۔

دو بڑی بہنیں جنکی شادی ھوچکی ہے ۔

اس سے چھوٹا ایک بھائی فہد پھر ایک اور چھوٹی بہن پھر میں اور سب سے آخر میں زرین ۔

عالیہ ( سب سے بڑی بہن ) عمر 28 سال ، شادی کو پانچ سال ہوگئے ، تین بچے ہیں ۔

زنیرہ ( دوسرے نمبر والی بہن ) عمر 26 سال ، شادی کو تین سال ہوگئے ، دو بچے ہیں ۔

فہد بھائی ( عمر 23 سال ،، پڑھائی مکمّل کرلی اب جاب کرتےہیں ۔

ماہم ( عمر 21 سال ، یونیورسٹی میں پڑھتی ھیں ، ایک اسکول میں پڑھاتی بھی ہیں ۔

میں رافع ( عمر اٹھارہ سال، کالج کے سیکنڈ ائیر میں ہوں ، کال سینٹر میں کام بھی کرتا ہوں گھر والوں کا خرچوں کا بوجھ ہلکا کرنے کےلیے ۔

زرین ( سب سے چھوٹی سب کی لاڈلی) عمر سولہ سال ، میٹرک میں پڑھ رہی ہے۔۔۔۔

نازیہ ( امی ) : عمر چھیالیس (46) سال ، ایک ہاؤس وائف ہیں ۔

میرے ابو کا نام زبیر تھا انکی عمر پچاس سال تھی ڈیڑھ سال پہلے جون 2000۶ میں ایک دن وہ گھر پر ہی تھے کہ اچانک بیٹھے بیٹھے انکو ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ اس دنیا سے کوچ کرگئے۔

ہماری زندگی بہت اچھی چل رہی تھی،، میرے ابو کی انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ میں جاب تھی اور ایک بڑا عہدہ تھا، اسلئے کراچی میں سن 80۶ کی دہائی میں میرے ابو نے گلستانِ جوہر میں ایک اچھا زمینی گھر لے لیا تھا۔۔۔

ہمارے گھر میں ٹوٹل پانچ کمرے تھے۔۔

اور دو پورشن تھے، ایک اوپر ایک نیچے ۔

اوپر والے پورشن میں تین کمرے جبکہ نیچے والے پورشن میں دو کمرے تھے،، بڑا سا صحن اور چھوٹا سا گارڈن بھی تھا۔۔۔

ابو کی اچانک موت نے ہم کو جھنجھوڑ کر رکھدیا تھا۔۔

ابو کی وفات کے بعد انکے ادارے والوں نے میرے بڑے بھائی فہد کو گھر کا بڑا چشم و چراغ گردانتے ہوئے انکو اپنے ادارے میں نوکری دے دی، میں نے بھی مجبوری میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ اپنا خرچہ سنبھالنے کےلیے نوکری شروع کردی کال سینٹر میں۔۔

اسطرح اب گھر کا گزر بسر ہونے لگا۔۔۔

ہمارا ایک اور گھر گاؤں رحیم یار خان میں تھا جو ھمارے دادا کی وراثت میں ملا تھا،، اسکا ایک پورشن ہم نے کرائے پر دے رکھا تھا،، اسکا ماہانہ کرایا آجاتا تھا،، گھر میں کسی چیز کی کمی نہیں تھی ،، بس کمی تھی تو باپ کی لیکن مجھے لگتا تھا جیسے فہد بھائی کو یہ کمی زیادہ نہیں تھی اور وہ اپنی مستی میں مست تھا۔۔۔

بعد میں آنے والے واقعات وقت کے ساتھ ساتھ بتاؤنگا ۔

میں رات کو لیٹا لیٹا سو گیا ۔ اگلے روز میری آنکھ کھلی میں کالج جانے کےلئے تیار ہونے لگا ،، کالج میں کم ہی جاتا تھا جیسے کہ کراچی میں اکثریت گورمنٹ کالجوں کا یہی حال ہےکہ وہاں روٹین میں بچے کم ہی آتےہیں شام کو کوچنگ زیادہ پڑھتے ہیں ۔

خیر میں کالج جانے کے لئے تیار ہونے لگا ، تو امی آج پہلے کی نسبتاً عموماً کھلی کھلی خوش لگ رہیں تھیں جو کہ عموماً ہی ہوتا تھا لیکن میں رات کے ہوئے واقعے کی وجہ سے چور نظروں سے غور غور سے دیکھ رہا تھا ،، اندر ہی اندر غصّہ بھی تھا۔۔

اتنے میں فہد بھائی بھی آگئے ناشتے کی ٹیبل پر وہ بھی ناشتہ کرنے لگے ، میں نے دیکھا کہ جب فہد بھائی تو امی نے انکو مسکرا کر دیکھا اور فہد بھائی کے بالوں میں ہاتھ پھیرا ۔

مجھے اندر ہی اندر یہ بات کڑھ رہی تھی ،، میں نے حقیقت کو پتہ چلانے کا فیصلہ لگا لیا تھا،، میں جانتا تھا اگر میری امی اور بھائی اس گندے رشتے میں ملوث ہیں تو یہ کام یہ لوگ اکثر ہی کرتے ہونگے، بار بار کرتے ہونگے،، اور دوبارہ مجھے یہ سین دیکھنے کو ضرور ملے گا ۔۔۔

تین چار روز معمول کے مطابق گزر گئے اور کچھ بھی ایسا ویسا دیکھنے کو نہ ملا۔۔۔

میں یہ ترکیبیں سوچ رھا تھا کہ کیسے اندر کا نظارہ کیا جائے ؟ جس سے کہ مجھے یقین ہوجائے اندر کیا چل رہا ہے؟

اوپر والے تین کمرے امی میرے اور فہد بھائی کے تھے جبکہ نیچے والوں میں ماہم اور زرین سوتی تھیں ۔

آج میں ترکیبیں سوچ رہا تھا ۔۔۔

رات کو گیارہ بجے جب چھٹی ملی تو میں بائیک نکال کر گھر کی طرف روانہ ہوا۔

میرے دل میں اشتیاق کی وجہ سے دھڑکن تیز تر ہوتی جارہی تھے۔۔۔

میں جلدی جلدی گھر پہنچ کر دروازہ بجایا ،، موٹرسائیکل باہر ہی کھڑی کی تو زرین بولی کیا ہوا بھائی اتنے گھبرائے ہوئے کیوں ہو؟

میں اس کے سوال کو اگنور کرتےہوئے سیڑھیوں پر چڑھتے چڑھتے امی کے کمرے کے باہر پہنچا ،، اتفاق سے کھڑکی تھوڑی سی کھلی تھی لیکن بیچ میں جالی کی وجہ سے نظر ٹھیک سے نہیں آرہا تھا،، لیکن یہ ضرور دیکھ کر پتہ چلایا جاسکتا تھا کہ اندر چدائی ہورہی ہے ، جہاں ایک عورت جو کہ میری ماں تھی بیڈ پر گھوڑی بنے ہوئے تھے اور میرا بھائی فہد پیچھے سے آگے پیچھے ہو کر دھکے مار رہا تھا۔

یہ دیکھ کر میرا پارہ چڑھ گیا آور دماغ گھوم گیا ۔

غصے کے عالم میں تیز تیز قدموں سے اپنے کمرے میں داخل ہوا اور دروازہ بند کرلیا۔

مجھے پتہ نہیں چلا میں کب سوگیا ۔

اگلے دن میں کالج نہیں گیا میری آنکھ تب کھلی جب امی مجھے جگا رہے تھی ،، رافع بیٹا اٹھو کالج نہیں جانا کیا ،، امی کو دیکھ کر مجھے پھر سخت غصّہ آیا ۔ اور دل ہی دل میں انکو رنڈی کنجری اور طوائف کہنے لگا ۔۔۔

امی بستر سمیٹ رہی تھی میرے اوپر سے رضائی ہٹانے لگی اور پیار سے میرے ماتھے پر ہاتھ رکھا تو یکدم انہوں نے کہا رافع بیٹا تمہیں تو بخار ہے ؟

کیا ہوا مجھے کیوں نہیں بتایا۔

میں نے امی کا ہاتھ جھٹک دیا اور غصے سے کہا ہاتھ مت لگائیے مجھے۔

امی مجھے حیرت زدہ نظروں سے دیکھنے لگی۔

امی : کیا ہوگیا رافع یہ کسطرح بات کررہے ہو؟

رافع : آپ کےلئے کچھ ہوگا بھی کیوں ؟

آپ تو بہت خوش ہونگی نا ابو کے مرنے کے بعد کیونکہ آپکی ناختم ہونے والی گندی خواہشات تو پوری ہورہی ہیں ۔

میری یہ بات سن کر امی کی آنکھیں نم ہوگئیں ، صاف ظاہر تھا کہ وہ میری باتیں سن کر چونک گئی ہیں اور کپکپاتے ہوئہ ناراضگی سے بولی : رافععع یہ تمم کسطرح بات کررہے ہو ایسا کیا کردیا ہے میں نے ؟

رافع : تم نے تو ابھے تک کچھ کیا ہی نہیں امی؟

بس سب کچھ خود بخود ہورہا ہے؟

رات کو آپ اور فہد بھائی کمرے میں جو کرتے ہو وہ سب میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔

ذرا بھی شرم نہیں آتی آپ لوگوں کو ۔

ماں بیٹے کے رشتے کو ہی داغدار کردیا آپ لوگوں نے۔

میں نے یہ بات ایک سانس میں کہی ، امی یہ بات سن اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر رونے لگی۔

رافع : اب یہ ڈرامہ میرے سامنے مت کریں چلی جائیں میرے کمرے سے ، میرا اور آپکا کوئی رشتہ نہیں اور نہ ہی مجھے آج کے بعد بیٹا بلائیے گا۔۔

یہ بات سنتے ہی امی روتے روتے نیچے بیٹھ گئیں اور میرے قریب آتے ہوئے میرے پاؤں پکڑ کر اس پر سر رکھ لیا اور دھاڑیں مار مار کر کہنے لگیں : رافعع بیٹا مجھے معاف کردو ، یہ سب میری غلطی مکمّل طور پر نہیں تھی۔

رافع : ہاں میں جانتا ہوں آدھی بھائی کی بھی ہوگی ورنہ اتنا غلیظ کام اور اتنے طریقے سے ایک طرف کی راضی سے تو نہیں ہوسکتا۔

امی نے نظریں اٹھا کر مجھے دیکھا اور میرے سامنے آکر میرا چہرا ہاتھوں میں تھاما اور کہا : رافع بیٹا اپنی ماں سے اتنی نفرت مت کر۔

میں تمہیں سب سچ سچ بتاؤنگی ،، میرا غصّہ اب بھی کم نہیں ہورہا تھا میں نے امی کے دونوں ہاتھ پکڑ کر اپنے چہرے پر سے ہٹائے اور کہا : اب کیا سچ بتانا ہے امی ؟

جو میں نے دیکھا کیا وہ جھوٹ تھا؟

امی : بیٹا دیکھے ہوئے کہ پیچھے اکثر لوگ اسکی وجوہات نہیں جانتے اسلئے طعنہ زنی کرتے ہیں ۔

تو اب سنو میں تمہیں بتاتی ہوں۔

شاید یہ سن کر تمہیں اپنے سگے رشتوں پر بہت غصّہ آئے گا اور تم کسی کے ساتھ بھی وفادار نہ رہ سکو گے لیکن حقیقت یہی ہے جو میں بتانے جارہی ہوں۔

یہ آج سے چھ سال پرانی بات ہے ۔

جب میں نے تمہاری بڑی بہن اور ابو کو یہ کام کرتے ہوئے دیکھا تھا ۔

میں یہ بات سن کر حیرت زدہ نظروں سے امی کی طرف دیکھنے لگا؟

امی : ہاں بیٹا ، تمہارے باپ اور تمہاری بڑی باجی عالیہ اس ناجائز رشتے کی شروعات میں پیش پیش تھے جب تم محض گیارہ بارہ سال کے تھے، فہد کالج میں تھا تم باقی سب اسکول میں تھے ،، عالیہ کی یونیورسٹی کے آخری دن چل رہے تھے وہ یونیورسٹی کم ہی جاتی تھی ۔

زنیرہ بھی یونیورسٹی میں گئی ہوتی تھی۔

لیکن یہ بات آخر کبھی نہ کبھی تو پتہ چلنی ہی تھی۔

اور اس دن کو بھی اتفاق ہی سجھ لو۔۔

میں پڑوس میں ایک فرحین انٹی کے گھر گئی ہوئی تھی، ہمارے گھر پر اس دن صبح صرف ابو اور عالیہ تھے ۔

تھوڑی دیر بعد جب میں واپس آئی تو میں نے جو دیکھا اسکو دیکھ کر میرے پیروں تلے زمین نکل گئی۔۔۔

تمہارا باپ اور تمہاری بڑی بہن عالیہ بالکل ننگے ہو کر کمرے میں وہی کام کررہے تھے جو کہ تنہائی میں صرف میاں بیوی ہی کرتےہیں ۔

امی کی یہ بات سن کر میرا دل زور زور سے دھڑکا ۔

میں اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرنے لگا۔

امی نے بھی میری حالت کا اندازہ لگا لیا تھا اور انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھا۔

امی : پھر میں نے یکدم یہ دیکھ کر ایک زوردار چیخ ماری اور وہ دونوں کمرے کے اندر میری یہ چیخ سن کر ڈر گئے۔

مارے ڈر کے وہ دونوں ایک دوسرے کو ڈھانپنے لگے۔

تمہاری بہن اور باپ دونوں بالکل برہنہ ایک دوسرے کو چوم چاٹ رہے تھے۔

عالیہ نے جلدی سے اپنے کپڑے اٹھائے اور میری آنکھوں کے سامنے سے نکل کر دوسرے کمرے میں بھاگ کر دروازہ بند کرلیا۔۔۔

زبیر کو جب میں نے دیکھا تو اندر جا کر انکے چہرے پر تھپڑوں کی بارش کردی۔

میں نے کبھی تمہاری باپ کے آگے زبان نہیں چلائی تھی لیکن اس دن میرے ہاتھ بھی خود بخود چلنے لگے۔

زبیر نے یکدم میرے ہاتھ روکے اور غصے سے کہا : ہوش میں تو ہو تم؟

میں نے انکو دھکا دے کر اپنا آپ چھڑایا اور غصے سے کہا : ہوش میں تو آپ نہیں ہیں ۔

شرم نہیں آئی اپنی ہی بیٹی کے ساتھ اتنی گھٹیا حرکت کرتے ہوئے اور وہ عالیہ ؟وہ بھی بے شرموں کی طرح یہ سب ؟

آخر یہ گندا کھیل میرے پیٹھ پیچھے کب سے کھیلا جارہا ہے؟

تمہارے باپ زبیر نے بجائے خوفزدہ ہونے کے روایتی مردوں کی طرح اپنا رعب و دبدبہ جمانے کےلئے میرے بال پکڑے اور کہا : پچھلے چار مہینے سے میرا اور اسکا یہ چکر چل رہا ہے،، وہ بھی راضی میں بھی راضی

تو کیا کرے گا قاضی؟

زبیر کی آنکھوں میں میں نے غصے سے دیکھا لیکن وہاں ایک۔شیطانی ہسنی تھی،، زبیر نے پھر ایک ہاتھ سے میرا منہ پکڑتے ہوئے اور ہاتھ سے میرے بال پکڑتے ہوئے مجھے شیطانی انداز میں کہا : سن کتیا ہماری بیٹی بڑی سیکسی ہے،، وہ بھی اس میں راضی ہے،، جب چاہے ہم دونوں پیار کریں گے اور اگر تو نے کسی کو بھی بتایا تو تو تجھے طلاق دے دونگا ،، تجھے ہر چیز سے بے دخل کردونگا۔ پیسہ جائیداد کچھ نہیں ملے گا تجھے،، تجھے تیرے باقی بچوں سمیت گھر سے نکال دونگا۔

پھر پھرتی رہنا اکیلے پانچ بچوں کو لے کر ماری ماری۔

تمہارے باپ زبیر کی یہ دیدہ دلیری دیکھ کر میں اندر سے ڈر گئی اور۔تمہارے باپ کی کمینگی پر اس قدر غصّہ آیا کہ لعنت ہو ایسے شخص سے شادی ہونے پر آج یہ دن دیکھنا پڑا ،، جسکو اپنے گناہ پر پشیمان ہونے کے بجائے اس پر ہٹ دھرمی دکھا رہا ہے۔۔
یر نے یہ بات کہہ کر مجھے دھکا دیا اور کپڑے پہن کر باہر نکل گیا۔

میں یہ سوچ کر بیڈ پر اوندھے منہ لیٹے سسک سسک کر روتی رہی۔

امی کی یہ باتیں سن کر میرا دماغ چکرا رہا تھا ،،میری بھی آنکھیں تھوڑی نم ہونے لگیں تھیں لیکن مجھے اپنے مرے ہوئے باپ زبیر پر سخت غصّہ آنے لگا۔

اگلے ہی لمحے دماغ نے کہا کہ باپ ہے مر گیا تو اب دل میں برائی نہیں رکھتے۔

خیر !

پھر امی چپ ہوگئیں میں نے پھر اشتیاق سے پوچھا : امی پھر کیا ہوا اس کے بعد؟

امی : اس دن کے بعد سے میں نے تمہارے باپ اور عالیہ سے بات چیت کرنا چھوڑ دیا۔

ایک زندہ لاش بن چکی تھی۔ تم لوگ جب بھی گھر پر نہ ہوتے اکثر تمہرا باپ آفس سے چھٹی کرکے میری موجودگی میں ہی عالیہ کے ساتھ یہ گندا کھیل کھیلتا رہا ،، اور تمہاری بڑی بہن بھی اس قدر بے شرم ہوچکی تھی کہ اسکو بھی نہ شرم تھی نہ کسی کا ڈر خوف، کیونکہ تمہارا باپ زبیر بھی اسکو کہہ چکا تھا کہ ماں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں اسکو میں سیدھا کردونگا۔۔۔

اسی دوران تمہاری بہن عالیہ پریگنینٹ ہوگئی ،، یہ ساری سچویشن میرے لئے سب سے زیادہ تکلیف دہ تھی،، دل کرتا تھا پھانسی پر چڑھا لوں یا خود کشی کرلوں ۔۔۔۔

لیکن تم بچوں کا سوچتے ہوئے رکنا پڑا۔

تم لوگوں کےلئے جینا پڑا۔۔

اسی اثناء میں تمہارے باپ کے اصرار پر میں تمہارا باپ اور عالیہ ہسپتال میں عالیہ کا ابورشن یعنی بچہ گروانے گئے ۔۔۔

اور خیر سے عالیہ کے پیٹ میں پل رہا تمہارے باپ زبیر کا گناہ شکر سے ضائع ہوگیا ورنہ زمانے بھر میں ہماری بہت بدنامی ہوتی۔۔۔

اب جلد سے جلد میں عالیہ کی شادی کروانا چاہتی تھی۔۔۔

زبیر ماننے کو تیار نہیں تھا۔۔۔

میں تمہارے باپ زبیر سے نفرت تو بہت کرنے لگی تھی، لیکن رشتوں کا خیال رکھتے ہوئے وقتی ضرورت کے تحت بات کرنا پڑتی تھی۔۔۔

زبیر میرے بے حد اصرار کے بعد اس شرط پر مان گئے کہ شادی کے بعد بھی وہ عالیہ کے ساتھ ناجائز جنسی تعلقات قائم رکھے گا جب کبھی وہ گھر پر آئے گی۔

چنانچہ ایک سال کے اندر اندر ہی تمہاری بہن عالیہ کا رشتہ کردیا گیا۔

اور شکر سے عالیہ کے سسرال والے اور تمہارے بہنوئی ضیغم بہت لبرل اور اوپن مائنڈڈ آدمی ثابت ہوئے ،، اگر وہ تنگ نظر دقیانوسی ہوتے تو عالیہ اور اسکا رشتہ تھوڑے عرصے بھی نہیں چلنا تھا۔۔۔

چنانچہ عالیہ شادی کے بعد ہر مہینے دو مہینے میں چکر لگاتی رہی،، لیکن میں اب دیکھتی تھی کہ تمہارے باپ کی گندی نظریں اب اپنی دوسری بیٹی زنیرہ پر تھیں ۔۔۔

مجھے یہ دیکھ کر اور بھی سخت غصّہ آیا۔۔۔

میں نے زبیر کو ایک دن غصے میں کہا : کچھ خوف کرلیں خدا کا۔

آپکو ذرا بھی خیال نہیں ، کوئی رشتوں کا لحاظ ہی نہیں ۔

زبیر نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور میرے منہ پر دو تھپڑ جڑ کر مجھے بالوں سے نوچتے ہوئے کہا : تیری اتنی ہمت ہوگئی اب مجھے بتائے گی؟

تجھ میں اب ہے ہی کیا سالی؟

بگڑے ہوئے بدن والی۔

اگر زنیرہ کے ساتھ مجھے وہ سب نہیں کرنے دیکھنا چاہتی جو سب میں نے عالیہ کے ساتھ کیا تو جا باہر جا کر میرے لئے ایک خوبصورت لڑکی کا بندوبست کردے۔

تمہارے باپ کی یہ گندی خواہش سن کر میں اپنی قسمت پر رونے لگی کہ کس غلیظ آدمی سے پالا پڑا ہے میرا۔۔۔

اسی شش و پنج میں ایک دن زنیرہ نے مجھ سے تمہارے باپ کی شکایت کی جھجھکتے جھجھکتے سب کچھ بول گئی کہ ابو مجھے یہاں وہاں ہاتھ لگاتے ہیں گندی نظروں سے دیکھتے ہیں مجھے انکو ابو کہتے ہوئے شرم آتی ہے۔

مجھے یہ بات سن کر بہت غصّہ چڑھا اور میں نے زبیر سے بدلہ لینے کا فیصلہ کرلیا ۔

اس شخص کو ایسی چوٹ پہنچاؤنگی یہ کہ اپنے پیدا ہونے پر افسوس کرے گا۔۔۔

انہی دنوں کی بات ہے تمہارا بڑا بھائی فہد یونیورسٹی جانے لگا تھ اور پارٹ ٹائم جب بھی کرتا تھا،، ایک دن وہ صبح گھر پر ہی تھا ،، تمہارا باپ آفس گیا ہوا تھا۔

باقی میں ، زنیرہ اور فہد گھر پر تھے۔

میں فہد کے کمرے میں گئی تو فہد ناشتہ کرکے کمرے میں مشت زنی کررہا تھا۔۔۔

میں نے اسکو کمرے کے باہر چپکے سے دیکھا اور پھر کمرے میں داخل ہوگئی۔

فہد ایک دم سے مجھے دیکھ کر ڈر گیا لیکن میں اسکے جسم کو دیکھنے لگی،، شاید یہ زبیر والے گناہ کا اثر تھا کہ اب میرے دل میں بھی اس شخص کو چت کرنے کےلئے اسی طرح کا گناہ کرنا تھا۔۔

فہد مجھے گھبرا کر دیکھنے لگا۔

میں نے دو چار سیکنڈ اسکو دیکھا اور کمرے سے نکل گئی۔

اپنے بیٹے کو یوں مشت زنی کرتے دییکھ کر مجھے ٹھوڑا عجیب تو لگا لیکن اسکی جوانی کو دیکھ کر میں بھی اسکی طرف مائل ہونے لگی۔

یہ وہ نہج ہوتی ہے جہاں آدمی صحیح غلط کی تمیز چھوڑ دیتا ہے۔۔۔

زبیر سے زیادہ نفرت میں نے اس دنیا میں کسی سے نہیں کی رافع۔۔۔

میں نے اب نوٹس کرنا شروع کیا کہ فہد بھی میری جانب مائل ہونے لگا ہے،، چنانچہ میں نے اسکے سامنے کھلے ڈھلے آنا شروع کردیا۔

جب کبھی کمرے میں اسکو ناشتہ دینے جاتی تو بناء دوپٹے کے جاتی ، کبھی کھلا گلا پہن کر جاتی۔

جس سے وہ میری طرف اٹریکٹ ہونے لگا۔

اور اب کچن میں کام۔کررہی ہوتی تو کبھی بہانے بہانے سے ٹچ کرکے پھر سوری بھی خود بخود بول دیتا ،۔

میں اندر ہی اندر فہد کی اس حرکت پر ہنس دیتی۔

فہد جب تمہارے جتنا ہی تھا۔۔۔

ہم دونوں کو بھی اندر ہی اندر اندازہ تھا کہ یہ سیکس کی بھوک ہی ہم دونوں کو ایک دوسرے کی جانب مائل کررہی ہے ،، پھر ایک دن جذبات میں آکر ہم دونوں یہ سب کر بیٹھے جب گھر میں کوئی نہیں تھا ،، اس بارے میں تمہیں نہیں بتا سکتی کہ یہ سب کیسے شروع ہوا۔

بس یوں سمجھ لو کے جسطرح زبیر اور تمہاری بہن عالیہ کا ہوا اسی طرح ہوگیا۔

اکثر و بیشتر پھر ہم گھر میں یہ گندا کھیل کھیلنے لگے۔

دؤسری طرف تمہارا باپ اب زنیرہ کے ساتھ ساتھ ماہم پر بھی گندی نظر رکھنے لگآ۔۔

رافعع تمہارے باپ سے زیادہ ٹھرکی انسان میں نے نہیں دیکھا ھوگا۔۔

لیکن اب سوچتی ہوں شاید زبیر اتنا بھی غلط نہیں تھا،، یہ جنسی آگ ہی ایسے ہوتی ہےکہ ہمیں کسی کی بھی بانہوں میں لے جاتی ہے۔

کسی کے بھی بستر تک پہنچادیتی ہے اور حرام حلال کی تمیز ختم کردیتی ہے۔

امی کی یہ بات سن کر میں غور غور سے انکو دیکھنے لگا،، یوں لگ رہا رھا تھا جیسے میرا دماغ پھٹ جائے گا۔۔

امی نے آگے بولنا شروع کیا۔

بس بیٹا پھر ایک دن تمہارے باپ نے فہد اور مجھے کچن میں رنگے ہاتھوں پکڑ لیآ جب ہم دونوں کسنگ کررھے تھے،، تمہارے باپ نے فہد کو بالوں سے پکڑا میرے منہ پر تھپڑ مارے اور فہد کو بری طرح مارنے لگے ،، میں نے آگے بڑھ کر فہد کو زبیر کی گرفت سے چھڑایا آور غصے سے کہا : کیوں اب کیا ہوگیا آپکو؟

یہ آپکا بدلہ ہے جو میں چکا رہی ہوں۔

جیسی کرنی ویسی بھرنی؟

خود تو آپ بہت نیک پارسا ہیں نا؟

اب کیوں غصّہ آرہا ہے ۔

خبردار جو آپنے میرے بیٹے کو ہاتھ بھی لگایا ،، پولیس میں کمپلین کردونگی اور ہر جر جگہ بدنام کردونگی کسطرح ہم پر ظلم کرتے ہو دن رات شراب پی کر ہنگامہ کرتے ہو۔

زبیر میری یہ دھمکی سن کر ڈر گئے۔

میں نے فہد کو اٹھایا اور اسکو لے کر فہد کے کمرے میں چلی گئی۔

اور دروازہ بند کردیا۔

اس دن کے بعد سے تمہارے باپ اور میرے بیچ اور بھی نفرت ہوگئی تھی،، لیکن میری دیدہ دلیری کے آگے اب وہ کوئی ایکشن لینے سے باز رہے آخر اس سب میں انکی خود کی بدنامی تھی۔۔۔

میں اور فہد پھر اکثر ہی یہ ہوس کا کھیل کھیلنے لگے جو کہ وقت کے ساتھ ساتھ پیار میں تبدیل ہوگیا۔

امی کی۔یہ بات سن کر مجھے سخت غصّہ آیا۔

لیکن میں کچھ نہیں بولا۔

امی : پھر جیسے تیسے کرکے سال ڈیڑھ کے اندر تمہارے باپ پر زور ڈال کر زنیرہ کی شادی بھی کردی گئے۔

عالیہ کو میرے اور فہد کے رشتے کے بارے میں پتہ چل چکا تھا جو کہ تمہارے باپ زبیر نے بتایا تھا اور اسکو اس بات سے کؤئی حیرانی بھی نہیں تھی اور ہوتی۔بھی کیسے ؟

وہ تو خود بری تھی۔

شادی کے بعد بھی جب بھی گھر آتی اپنے باپ کے بستر میں ضرور جاتی ۔

تمہارے باپ کی حالت پہلے جیسی نہیں رہی تھی اسلئے وہ ویاگرا کھانے لگا۔

اب تم سوچو گے کہ ویاگرا کیا ہوتا ہے۔

وہ مردانہ طاقت کی گولیاں ہوتی ہیں اسکا وقتی طور پر فائدہ ضرور ہوتا ہے لیکن وہ سیدھا ہارٹ یعنی دل پر اثر کرتی ہے اور گردے ختم کردیتی ہے،، تمہارے باپ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ،، عالیہ کا گھر قریب کراچی میں ہی ہے تو جب بھی وہ آتی تمہارا باپ ویاگرا کھا کر اس پر چڑھ جاتا ۔

تمہارے باپ کی حالت روز بروز بگڑتی جارہی تھی ،، وہ ویاگرا کھانے سے باز نہیں آتا تھا۔۔

چنانچہ اسی طرح کرتے کرتے اسے ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ اس فانی دنیا کو خیر باد کہہ گیا۔۔

امی یہ باتیں کرکے چپ ہوگئیں ۔

میرا دماغ ایسا لگ رہا رھا تھا خالی ہوچکا ہے جیسے کچھ سمجھ نہ آرہا ہو۔

دماغ پر قفل لگ گئے ہوں،، اپنے مرے ہوئے باپ پر بھی سخت غصّہ آنے لگا۔

اپنے سامنے بیٹھی یہ روداد سناتی اپنی اس ماں پر بھی غصّہ آنے لگا۔۔۔

میرے پیٹھ پیچھے میرے گھر میں میرے سگے رشتے آپس میں یہ رنگ رلیاں مناتے رہے اور میں ان سب سے انجان رہا؟

آخر کیوں ؟

امی میری حالت کو سمجھتے ہوئے بولی : رافع بیٹا مجھے امید ہے تم یہ بات کسی کو نہیں کہو گے۔

ہمارے اس رشتے کے بارے میں صرف عالیہ جانتی ہے،، تمہاری باقی کی بہنیں انجان ہیں انکو کبھی مت بتانا۔۔

اور رشتے جیسے بھی ہوں زبردستی نبھانے پڑتے ہیں خون کے گھونٹ پی پی کر۔۔

مجھے پتہ ہے بیٹا تمہیں یہ سب سن کر اب بھے غصّہ آرہا ہوگا۔

لیکن یہ سب باتیں جو میں نے کی ہیں اس پر ٹھنڈے دماغ سے سوچنا اسکے پیچھے کی وجوہات کے بارےمیں سوچنا۔

اب میں چلتی۔ہوں۔

امی کمرے کا دروازہ بند کرکے باہر چلی گئیں اور میں بیڈ پر رضائی لے کر پھر سے لیٹ گیا۔۔۔

اور دماغ پر زور نہیں دیا اور سوگیا۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

کہانی آپ کو کتنی پسند آئی ؟

Click on a star to rate it!

Leave a Comment

Share to...