ہماری ٹاپ کلاس کہانیاں پڑھنے کے لیے ہمارے فورم کو جوائن کریں

گھر کا اکلوتا راجہ

میرا نام حمزہ ہے اور میں راولپنڈی میں رہتا ہوں ۔۔میں ایک پرائیوٹ فرم میں جاب کرتا ہوں ۔۔۔میں کیونکہ باقاعدگی سے جم جاتا ہوں ۔۔اس لیے  میری باڈی بہت اچھی بنی ہوئی ہے۔۔۔ اور میرا لنڈ 7انچ کا ہے اور مجھے سیکس کرنے کا بہت شوق ہے۔۔۔ میرے گھر میں 3فیملیز رہتی ہیں۔۔۔ہمارے علاوہ ایک دو چچا  کی فیملیز بھی ہیں ۔۔۔ ہمارے فرسٹ فلور پر میری دو کزن رہتی ہیں جو بہت ہی خوبصورت اور  سیکسی ہیں ایک کا نام عائشہ اور دوسری اسی کی بہن ایشا ہے ا۔۔۔ور دوسرے فلور پر میری ایک اور کزن روزینہ رہتی ہے۔۔۔روزینہ بھی بہت کیوٹ اور سیکسی ہے ۔۔۔ اور ہم تین فیملیز میں ایک لڑکا میں ہی ہوں اور اکلوتا ہی ہوں۔۔۔ مجھے ان سب کے ساتھ سیکس کرنے کو بہت دل چاہتا تھا۔۔۔ لیکن مجھے کبھی موقع نہیں ملا ایک  دن ایشا کی فیملی والے شادی میں گئے تھے ۔۔۔اور میں نے اپنی امی سے پوچھا کے کون کون گیا ہے شادی میں؟؟؟؟؟

تو امی نے جواب دیاسب گئے  ہیں بس ایشا نہیں گئی اور وہ  گھر پر اکیلی ہے تو میں خوشی سے جیسے اچھل ہی پر اور سوچا کے یہ موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا ہے چاہے کچھ بھی ہو جائے……………

پھر میں نے پلان بنایا اور اس کے تحت ١ یو. ایس.بی. اپنی جیب میں ڈالی اور اپنے گھر کے باہر آ کے بیٹھ گیا اور ایشا کے موبائل پر میسج کیا کہ ایشا مجھے اپنے کمپیوٹر میں سے گانے کاپی کر دو!!!!!!!!!!!!!

اسکا رپلائی آیا کہ ابھی نہیں جب میری مما آئیں گی تب کر دوں گی…………

میں نے پھر میسج کیا نہیں مجھے ابھی کاپی کروانے ہیں……….

پھر اسکا رپلائی آیا کے آجاؤ دروازہ کھلا ہے. میں بہت خوش خوش فرسٹ فلور پر چلا گیا اور سیدھا اندر ہی چلا گیا میں کیا دیکھتا ہوں کے ایشا نے بہت ٹایٹ ٹراؤزر اور ٹی شرٹ پہنی تھی اور وہ اپنے بال بنا رہی تھی اور وہ بہت ہی خوبصورت اور  بہت بہت سیکسی لگ رہی تھی…….

میں نے ایشا کو کہا کے اپنا کمپوٹر آن کرو تو اس نے اپنا کمپوٹر آن کیا اور میں اس میں یو. ایس.بی لگانے کی کوشش کرنے لگا لہکن وہ پیچھے تھی اور مجھے پتا نہیں تھا کہاں لگانی ہے اس لیے مجھ سے یو. ایس.بی نہیں لگی…………

وہ میرے قریب آئی اور مجھ سے یو. ایس.بی لے کر کہا ہٹو میں خود لگاتی ہوں……

وہ یو. ایس.بی لگانے کے لیے جیسے ہی جھکی تو اسکی گانڈ بہت ٹائٹ ہو گئی……….. اور میرا لن بھی قابو سے باہر ہونے لگا اور اوپر سے اسکی ٹی-شرٹ کے اوپر کے بٹن کھلے تھے جس میں سے اسکے گورے  سڈول ممے باہر آنے کو بیتاب تھے……

مجھ سے اب صبر نہیں ہو رہا تھا………. میں نے سوچا اب حملہ کر دینا بہتر ہوگا..


اب میں نے دھیرے سے اسکی گانڈ پر ہاتھ رکھ دیا وہ کچھ نہیں بولی اور یو. ایس.بی لگانے میں مگن رہی جاب اس نے یو. ایس.بی لگا لی اور کھڑی ہوئی تو میں نے اسکو گلے سے لگا لیا….. تو وہ غصے سے بولی…………… یہ کیا کر رے ہو چھوڑو مجھے………… جب اسنے مجھے یہ کہا تو میں اسکے ہونٹو ں پر کس کرنے لگا اب وہ کچھ نہیں بول سکتی تھی لیکن اس نے ہاتھوں سے اپنی مزاحمت جاری رہی لیکن میں اب فل خوار ہو چکا تھا اور اسے چھوڑنے والا نہیں تھا………….. میں کافی دیر ویسے ہی کھڑا اسے کس کرتا رہا اب اس کی مزاحمت بھی کم ہوتی جا رہی تھی میں سمجھ گیا کہ اب اسے بھی مزہ آنے لگ گیا ہے……………. اب میں نے اسکے ہاتھ چھوڑ دیئے تھے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اسکی کمر اور گانڈ پر پھیرنے لگا تھا………..

اچانک مرے دل میں خیال آیاکے دروازہ تو کھلا ہے………… میں نے اسکو پیچھے ہٹایا اور کہا رکو میں دروازہ بند کر لوں اور جب میں واپس آیا تو دیکھا وہ ابی تک ویسے ہی کھڑی کسی سوچ میں گم تھی…….. میں نے پوچھا کیا ہوا؟؟؟؟؟؟؟ تو وہ بولی: کچھ نہیں ایسے ہی……. میں نے دوبارہ اس کو کس کرنا شروع کر دیااور جب میں نے دیکھا کے وہ اب مدہوش ہو گئی ہے تو میں نے اسکو اٹھایا اور اسی کے بیڈ پر لے آیا اور اسے بیڈ پر لٹا اکر اسکے مموں کو قمیض کے اوپر ہی سے چوسنا شروع کر دیا……. اور پھر جب میں نے اسکی قمیض اتاری تو میں اسکے گول گول  گورے ممے  دیکھ کر حیران رہ گیا……………. اور بچوں کی طرح اسکے پیارے پیارے ممے  چوسنے لگا……….. اسکے نپل بہت گلابی تھے یار میں بتا نہیں سکتا اس وقت میری کیا حالت تھی……. اب میں نے آہستہ آہستہ اسکی شلوار میں ہاتھ ڈالنا شروع کیا……. وہ اب پوری طرح مدہوش ہو چکی تھی…… میں نے اپنا ہاتھ جیسے ہی اسکو چوت پر لگایا تو اس نے ایک سسکاری لی…………………….

اور بولی آآآآھ ھ ھ میری ی ی ی جاا ا ا ا ان ن ن ن ن ن …………. اور اسکی چوت اب گیلی ہو رہی تھی……. وہ بہت مست ہو گئی تھی…… میں نے آہستہ آہستہ اب اس کی شلوار اتارنا شروع کی اور وہ  اب سسکاریاں بھر رہی  تھی اور میں اسکی آوازیں سن کر پاگل ہوا جا رہا تھا…………………

اب میں نے اسے پورا ننگا کر دیا تھا اور اسکا  انتہائی خوبصورت  جسم میرے سامنے تھا…….. مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کے جس جسم کو سوچ کر میں اکثر مٹھ لگاتا تھا آج وہ میرے سامنے ہے.

میں نے اب اپنے کپڑے بھی اتارنا شروع کر دئیے……. اب ہم دونو ں پورے ننگے تھے اور جب اسنے میرا لنڈ دیکھا تو اچانک بولی…… ہائے حمزہ ….. اتنا بڑا؟؟؟؟؟؟؟؟؟ میں نہیں کرواؤں گی اور بیڈ سے اٹھنے لگی… میں نے اسے واپس لٹایا اور کہا: جان کچھ نہیں ہوگا.. وھ بولی نہیں بہت درد ہوگا۔۔۔میں نے کہا نہیں ہوگا بہت آرام سے کروں گا…… لیکن وہ مان نہیں رہی تھی میں نے زبردستی کر نے کا سوچا اور اسکے ہاتھ پکڑ لیے… اور اسکو ہونٹوں پر کس کرنے لگا……… وہ بھی میرا ساتھ دینے لگی اب میں نے اپنا لنڈ اسکو گلابی  اور کنواری چوت پر رگڑنا شروع کر دیا تھا……….. وہ بھی مزےمیں تھی میں نے سوچا موقع اچھا ہے اور…………… اپنا لنڈ اسکی چوت میں پورا ہی ڈال دیا.

اسکی آنکھیں با ہر آ گئی تھی اور اس نے چیخنا چاہا لیکن میں نے اپنے ہونٹ اسکے ہونٹوں پر رکھے ہوۓ تھے اور میں نے اسکو چیخنے نہیں دیا لیکن وھ بہت زور زور سے رونے لگی تھی….. لہکن اس وقت میں اس کو چھوڑنے کے موڈ میں نہیں تھا اور میں نے اسکے رونے کا باوجود اسے کی چوت میں اپنا لنڈ ڈالے رکھا………… یار کیا ٹائٹ اور گرم چوت تھی اسکی میں بتا نہیں سکتا………. پھر میں نے آہستہ آہستہ جھٹکے مارنا شروع کیا اور اس نے مجھے روکنا چاہا لیکن میں جھٹکے مارتا رہا اور تھوڑی دیر بعد اسے بھی مزا آنے لگا اور وہ  بھی میرا ساتھ دینے لگی…….. اب اسکا درد کم ہو گیا تھا اور اسکی جگہ مزے نے لے لی تھی اب وہ میرے ہر جھٹکے پر اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر میرا ساتھ دینے لگی اور قریب ١٥ منٹ کی چدائی کے بعد وہ کسی رنڈی کی طرح آوازیں نکالنے لگی اور کہنے لگی ہائے  حمزہ میری ی ی جان میں گئی………. کہتی ہوئی فارغ ہو گئی لیکن میں ابھی فارغ نہیں ہوا تھا میں نے جھٹکے مارنا جاری رکھا ہوا تھا لیکن اسکی چوت اب بہت گیلی ہو گئی تھی اور مجھے مزہ نہیں آ رہا تھا……….. اب میں نے سوچا کے اسکی گانڈ مارتا ہوں اور میں نے اپنا لنڈ نکال کر جیسے ہی اسکی گانڈ میں ڈالنا چاہا اس نے مجھے روک دیا……… اور بولی نہیں پیچھے سے نہیں میں نے اسکو کہا ٹھیک ہے اگر گانڈ نہیں مارنے دو گی تو میرا لنڈ چوسنا پڑے گا وہ  اس پر بھی تیار نہیں ہو رہی تھی……. کافی وقت گزر گیا تھا اور اب مجھے ڈر لگنے لگا تھا کے کہیں کوئی آ نا جائے  تو میں نے زبردستی اسکو پھر لیٹا لیا اور کسنگ کرنے میں لگ گیا اب وہ میرا پورا پورا ساتھ دے رہی تھی ۔۔۔میں نے اپنا لنڈ جو ابھی تک فل موڈ میں تھا دوبارہ اسکی چوت میں ڈال دیا اور جھٹکے مارنے لگ گیا……….

لیکن میرے دماغ میں ابھی تک بس ایک ہی بات چل رہی تھی کہ میں نے اسکی گانڈ مارنی ہے……. اسے اب بہت مزہ آ رہا تھا اور اسکی سیکسی آوازیں سن سن کر میں بھی پاگل ہوا جارہا تھا………

اب مجھے لگا کے میں فارغ ہونے لگا ہوں تو میں نے اسکی چوت سے اپنا لنڈ نکالا اور اسکے کچھ سمجھنے سے پہلے ہی اسکی گانڈ میں اپنا پورا لنڈ ایک ہی جھٹکے میں ڈال دیا……………… وو چیخی…….آہ آہ آہ آہ  ………کتےحرامی  ……….. باہر نکالو اسے…….. ہائے میں مر گئی امی………. میری گانڈ پھٹ گئی ہے حرامی باہر نکال اسے……….. اسکی آوازوں نے مجھے اور مزہ دیا اور میں اسکی گانڈ میں کچھ جھٹکے مارنے کے بعد فارغ ہو گیا اور وہ روتی رہی وہیں لیٹ کر….. میں اب اسکی سائیڈ پر لیٹ گیا تھا لمبے لمبے سانس لے رہا تھا…… کچھ دیر ہم ایسے ہی لیٹے وہ مسلسل روتی جا رہی تھی………. میں نے اسے اب چپ کرانا شروع کر دیا اور کہا…….. چلو اٹھو فرش ہو جاتے ہیں میں کھڑا ہوا تو وہ بھی میرا ہاتھ پکڑ کر کھڑی ہوئی لیکن ایک دم گر گئی اور پھر رونا شروع کر دیا………. میں اب واقعی میں پریشان ہونے لگ گیا تھا…… میں نے اس سے پوچھا اب کیا ہوا؟؟؟؟؟؟؟

وہ بولی مجھ سے کھڑا نہیں ہوا جا رہا ہے میں نے کہا یار………. اور اسکو اٹھایا اور باتھ روم کی طرف آ گیا اور کہا چلو اب فریش ہو جاؤ………. اس نے کہا……….. مجھے پیشاب آ رہا ہے تم باہر جاؤ. میں نے کہا……….. تم کر لو تب تک میں اپنے لنڈ کی صفائی کر لوں اور وہ  پیشاب کرنے لگی…………. اور میں سنک پر اپنا لنڈ دھونے لگا……….. تب ہی اسکے پیشاب گرنے کی آواز مجھے سنائی دی……….. مجھے پھر خواری چڑھنا شروع ہو گئی اور میرا لنڈ پھر سے تن گیا……….. وہ جیسے ہی پیشاب کر کے اٹھی…… اور اسکی نظر میرے لنڈ پر پڑی تو تھوڑا مسکرائی اور بولی ………… یہ کیا یہ تو پھر کھڑا ہو گیا ہے لیکن میں اب کچھ نہیں کرنے دوں گی مجھے آگے پیچھے بہت درد ہو رہا ہے……………………………

میں نے  ہنس کر کہا ٹھیک ہے ابھی  کچھ نہیں کروں گا اور باتھ روم سے  باہر  آ کر کپڑے پہننے لگا…. تب تک وہ بھی کپڑے پہن چکی تھی میں نے اسکو ایک لمبی سی کس کی اور کہا…… اب میں چلتا ہوں اور جیسے ہی میں باہر نکلا تو کیا دیکھتا ہوں کے دوسرے فلور والے روشندان میں کوئی تھا جو ایشا کے گھر میں جھانک رہا تھا اور دروازہ کھلنے کی آواز سن کر بھاگا ہے………… میں بھی اوپر کی طرف بھاگا تو دیکھا کے روزینہ بھاگتی ہوئی اپنا گھر میں داخل ہوئی۔۔۔

میں نے جب دیکھا کہ روزینہ تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بھاگی ہے، تو میرا دل زور سے دھڑکنے لگا۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ اس نے سب کچھ دیکھ لیا ہے، لیکن ڈرنے کے بجائے میرے اندر ایک عجیب سی لہر دوڑی۔ میں جانتا تھا کہ روزینہ بھی جوان ہے اور اب تک جو کچھ اس نے دیکھا ہوگا، اس نے اسے اندر سے آگ لگا دی ہوگی۔

میں نے سیڑھیاں چڑھیں اور سیدھا اس کے کمرے کے دروازے پر پہنچ گیا۔ دروازہ کھلا تھا، وہ بیڈ پر بیٹھی ہانپ رہی تھی اور اس کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔

میں اندر داخل ہوا اور کنڈی لگا دی۔ روزینہ مجھے دیکھ کر ہڑبڑا گئی اور کہنے لگی، “تم۔۔۔ تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ جاؤ یہاں سے، میں نے سب دیکھ لیا ہے، میں سب کو بتا دوں گی!”

میں مسکرایا اور اس کے قریب جا کر بیٹھ گیا۔ “روزینہ، تم کچھ نہیں بتاؤ گی، کیونکہ جو تم نے دیکھا ہے، وہی تم خود بھی چاہتی ہو۔” میں نے اس کا ہاتھ پکڑا تو وہ کانپنے لگی۔ اس کا جسم گرم ہو رہا تھا۔ میں نے اسے دیوار کے ساتھ لگایا اور اس کے کان میں سرگوشی کی، “بتاؤ، کیا تم تڑپ نہیں رہیں؟”

اس نے کوئی مزاحمت نہیں کی بلکہ اس کی آنکھیں بند ہو گئیں۔ میں نے اس کی قمیض کے اوپر سے ہی اس کے بڑے مموں کو دبانا شروع کیا تو اس کے منہ سے ایک سسکی نکلی۔ روزینہ، ایشا سے بھی زیادہ گرم نکلی۔ میں نے اسے بیڈ پر پٹخ دیا اور اس کے کپڑے اتارنے لگا۔ وہ بس ہانپ رہی تھی اور “حمزہ۔۔۔ حمزہ۔۔۔” پکار رہی تھی۔ جب وہ ننگی ہوئی تو اس کا جسم دیکھ کر میری رال ٹپکنے لگی۔ وہ واقعی ایک قیامت تھی۔

میں نے بغیر دیر کیے اپنا 7 انچ کا لنڈ اس کی چوت پر رکھا۔ وہ تڑپ اٹھی، لیکن جیسے ہی میں نے پورا اندر اتارا، اس نے میری پیٹھ میں اپنے ناخن گاڑ دیے۔ “آہ حمزہ۔۔۔ مار ڈالو مجھے!” وہ پاگلوں کی طرح اپنی گانڈ اوپر اٹھانے لگی۔ میں نے اسے آدھے گھنٹے تک ایسی بے رحمی سے چودا کہ وہ تین بار فارغ ہوئی اور آخر میں نڈھال ہو کر گر گئی۔

کچھ دن گزرے تھے کہ ایک رات جب گھر کے باقی لوگ پھر سے ایک تقریب میں گئے ہوئے تھے، میں نے دیکھا کہ عائشہ (ایشا کی بڑی بہن) میرے کمرے میں آئی۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ تھی۔ “حمزہ، مجھے پتہ ہے تم ایشا اور روزینہ کے ساتھ کیا کر رہے ہو۔”

میں نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنے قریب کیا، “تو کیا تم بھی وہی چاہتی ہو؟”

ابھی ہم بات ہی کر رہے تھے کہ روزینہ بھی وہاں آ گئی۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرانے لگیں۔ معلوم ہوا کہ ان دونوں نے آپس میں سب شیئر کر لیا تھا۔ عائشہ اپنی شرٹ اتارنے لگی  اور روزینہ نے اپنی قمیض اتار دی۔ میرے سامنے دو بے حد خوبصورت  اور ننگی کزنز کھڑی تھیں۔

عائشہ۔۔جس کے جسم کی بناوٹ کسی ماڈل جیسی تھی اور ممے بہت ہی ٹائٹ تھے۔روزینہ۔۔ جو پہلے ہی میری چدائی کی عادی ہو چکی تھی اور اب مزید کے لیے بے تاب تھی۔

میں نے عائشہ کو بیڈ پر لٹایا اور روزینہ کو کہا کہ میرا لنڈ چوسے۔ روزینہ نے جب میرا لنڈ اپنے منہ میں لیا تو عائشہ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ “اوہ ، یہ تو واقعی بہت بڑا ہے!”

میں عائشہ کے ممے چوس رہا تھا اور روزینہ میرا لنڈ چوس رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد میں نے روزینہ کو ہٹایا اور عائشہ کی ٹانگیں اٹھا کر اپنا لنڈ اس کی کنواری چوت کے سوراخ پر رکھا۔ عائشہ نے چیخ ماری کیونکہ وہ پہلی بار کروا رہی تھی۔ روزینہ اس کے اوپر لیٹ گئی اور اسے کس (kiss) کرنے لگی تاکہ اس کا دھیان بٹ سکے۔

میں نے زور کا دھکا مارا اور عائشہ کی سیل ٹوٹ گئی۔ خون کے چند قطرے نکلے لیکن میں رکا نہیں۔ روزینہ اب عائشہ کے مموں کو چوس رہی تھی اور میں نیچے سے جھٹکے مار رہا تھا۔ یہ ایک زبردست تھری سم (Threesome) تھا۔تھوڑی دیر بعد میں نے عائشہ کو چھوڑا اور روزینہ کو (Doggy style) بنایا۔ عائشہ میرے پیچھے بیٹھ کر میری پیٹھ سہلا رہی تھی اور میں روزینہ کی گانڈ مار رہا تھا۔ کمرہ سسکیوں اور تھپ تھپ کی آوازوں سے گونج رہا تھا۔

کافی دیر تک ان دونوں کی باری باری چدائی کرنے کے بعد، میں نے ان دونوں کے چہروں کے درمیان اپنا لنڈ رکھا اور اپنا گرم مادہ ان کے چہروں اور مموں پر نکال دیا۔ وہ دونوں ہانپتی ہوئی ایک دوسرے کے ساتھ لپٹ کر بیڈ پر لیٹ گئیں اور میں ان کے درمیان فاتح کی طرح لیٹ گیا، یہ سوچ کر کہ اب یہ پورا گھر میرا ہے اور یہ تینوں فیملیز کی لڑکیاں میری پیاس بجھانے کے لیے تیار ہیں۔

چند ہی دن گزرے تھے کہ گھر کا ماحول پوری طرح بدل چکا تھا۔ ایشا، عائشہ اور روزینہ اب آپس میں یہ راز بانٹ چکی تھیں اور ان کے درمیان سے شرم و حیا کا پردہ اٹھ چکا تھا۔ ایک رات جب سب بڑے کسی خاندانی تقریب میں گئے ہوئے تھے، مجھے عائشہ کا میسج آیا: “حمزہ، اوپر آ جاؤ، ہم سب تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔”

میں جب اوپر پہنچا تو کمرے کا منظر دیکھ کر میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ عائشہ، ایشا اور روزینہ تینوں بیڈ پر نیم برہنہ حالت میں بیٹھی تھیں۔ ایشا نے نائٹ گاؤن پہنا ہوا تھا، روزینہ صرف ٹراؤزر میں تھی اور عائشہ نے باریک قمیض پہنی ہوئی تھی جس کے نیچے اس نے کچھ نہیں پہنا تھا۔

میں نے کمرے میں داخل ہوتے ہی کنڈی لگائی اور اپنے کپڑے اتارنے شروع کیے۔ میرا 7 انچ کا لنڈ تڑپ کر باہر نکلا تو تینوں کی نظریں اس پر جم گئیں۔ عائشہ نے مسکرا کر کہا، “آج ہم تینوں نے فیصلہ کیا ہے کہ تمہیں تڑپائیں گی۔”

میں بیڈ پر لیٹ گیا اور ان تینوں نے مجھے گھیر لیا۔

ایشا نے میرے ہونٹوں پر کس (kiss) کرنا شروع کیا۔۔عائشہ میرے سینے  کو اپنی زبان سے چاٹنے لگی۔روزینہ نیچے جھکی اور میرے تپے ہوئے لنڈ کو اپنے ہاتھ میں لے کر سہلانے لگی۔

کمرہ سسکیوں سے بھر گیا۔ روزینہ نے جب میرا لنڈ اپنے منہ میں لیا تو مجھے جنت کا مزہ آنے لگا۔ ایشا اور عائشہ ایک دوسرے کو چومنے لگیں اور اپنے مموں کو ایک دوسرے سے رگڑنے لگیں۔ میں نے عائشہ کو کھینچ کر اپنے اوپر لٹایا اور اس کی قمیض اتار دی۔ اس کے گورے ممے میرے سامنے اچھل رہے تھے۔

میں نے ایشا کو کہا کہ وہ روزینہ کے ساتھ ہو جائے اور میں نے عائشہ کی ٹانگیں پھیلا دیں۔ عائشہ پہلے ہی بہت گرم ہو رہی تھی، میں نے اپنا لنڈ اس کی گیلی چوت پر رکھا اور ایک ہی جھٹکے میں پورا اندر اتار دیا۔ عائشہ کی چیخ نکلی، “آہ حمزہ۔۔۔ جان نکال دی تم نے!”

دوسری طرف ایشا اور روزینہ ایک دوسرے کی چوت چاٹ رہی تھیں۔ میں عائشہ کو جھٹکے مار رہا تھا اور ساتھ ہی ایشا کے مموں کو اپنے ہاتھوں سے مسل رہا تھا۔ جب عائشہ فارغ ہونے کے قریب آئی تو میں نے اپنا لنڈ باہر نکالا اور اسے روزینہ کی گانڈ پر رکھ دیا۔

روزینہ نے گھٹنوں کے بل ہو کر اپنی گانڈ پیچھے کی، “حمزہ، آج مجھے بخشنا مت!” میں نے تھوک لگایا اور اپنا لنڈ اس کی تنگ گانڈ میں اتارا۔ روزینہ تڑپ اٹھی لیکن ایشا نے اس کے منہ میں اپنا ممہ دے دیا تاکہ وہ چیخ نہ سکے۔اب منظر یہ تھا کہ میں روزینہ کی گانڈ مار رہا تھا، روزینہ ایشا  کے ممے چوس رہی تھی، اور عائشہ میری  گانڈ کی موری چاٹ رہی تھی ۔ ہم چاروں ایک دوسرے کے جسموں میں گم ہو چکے تھے۔ 15 منٹ کی مسلسل چدائی کے بعد جب میں فارغ ہونے والا تھا، تو میں نے ان تینوں کو لائن میں لٹایا۔

میں نے اپنا لنڈ باہر نکالا اور ان تینوں کے چہروں کے قریب لے گیا۔ باری باری ان تینوں نے میرا لنڈ چوسنا شروع کیا تاکہ میرا مادہ نکل سکے۔ جیسے ہی میں فارغ ہوا، میرا گرم گاڑھا مادہ عائشہ کے گالوں، ایشا کے ہونٹوں اور روزینہ کے مموں پر بکھر گیا۔

وہ تینوں نڈھال ہو کر بیڈ پر گر گئیں، ان کے جسم پسینے سے شرابور تھے اور کمرے میں سیکس کی بو رچی ہوئی تھی۔ اس رات میں نے ثابت کر دیا کہ میں ان تینوں فیملیز کا اکلوتا راجہ ہوں اور یہ سب میری ملکہ ہیں۔(ختم شد)

📖 ہماری پریمیم کہانیوں کو پڑھنے کے لیے ہمارے فورم کو جوائن کریں

🔗 فورم جوائن کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *