ہندو مسلم ایکتا

4
(4)

Loading

میں کہانیاں پڑھنے اور شوق رکھنے والی انٹر کی سٹوڈنٹ ھوں میں ایک ہندو برہمن فیملی سے تعلق رکھتی ھوں میرا نام پوجا شرما ھے جو میرے باپ نے بڑے پیار سےرکھا تھا ھم پاکستان کے علاقے حیدر آباد سے ہیں ھم ہندو مسلم کرسچن اور سکھ سب مل جل کر رہتے ہیں میری عمر بیس سال ھے اور میں ورجن تھی میرا فگر بتیس اٹھائیس اور تیس ھے میں اس وقت میں شرارت کر بیٹھا کہانی پڑھ چکی تھی اور پھر میں نے باقاعدگی سے ناول اور کہانیاں پڑھنا شروع کردیں جس کے لئیے میں نے ایک وٹس ایپ پیڈ گروپ میں داخلہ لے لیا۔۔۔۔کیوں کہ میں چاہتی تھی میں لگاتار کہانیاں اور ناول پڑھوں پیڈ گروپ میں داخلے پر میرے سارے شوق پورے ھو گئے تھے میں جوانی کا طوفان بڑی مشکل سے سنبھال رکھے تھی۔۔۔۔

ایک دن یہ طوفان کا بند سفید موتی بن کر بہنے لگا کیونکہ میں نے ایک مسینجر گروپ داخلہ لے لیا تھا جسمیں لڑکے لڑکیاں رول پلے کرتے تھے۔۔۔مطلب اپنے سے کوئی کہانی بنا کر اس پر سیکس کرنا۔۔۔۔جیسے ڈاکٹر اور مریض لڑکی۔۔۔۔دوست کی بہن۔۔۔۔۔ظالم باس۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔میں کچھ ہی مہینوں میں بیشمار رول پلے کر چکی تھی۔۔۔۔میں رول پلے کے دوران فنگرنگ کرتی اور اپنی چوت کو سکھ شانتی دیتی۔۔۔۔اوپر سے میں لکھاری نواب زادہ کا لکھا ھوا ایک انسیکٹ ناول بھائی یہ کیا ھے پڑھ رہی تھی۔۔۔۔میں روز فنگرنگ کرنے لگی تھی جس کی وجہ سے میں بہت کمزور ھو گئی تھی۔۔۔۔میری مما روز مجھ سے پوچھتی کہ پوجا بیٹی کیا وجہ ھے تمہاری صحت دن بدن گرتی ہی جا رہی ھے مگر میں کیا بتاتی کہ میں لنڈ کو کتنا مس کر رہی تھی۔۔۔۔کالج کے کئی لڑکے مجھ پر لائن مارتے تھے مگر میں سوچتی تھی کہ کوئی برہمن چاری ہی مجھ پر چڑھے گا اور میری سیل توڑے گا۔۔۔

میرا باپ ایک پنڈت تھا اس نے بھی پراتنا شروع کردی تھی کہ میں صحت مند ھو جاؤں مگر میں کیا کرتی روز اپنی چوت کو مسلتے ہی ڈسچارج ھونے لگی مما میرے بارے میں کافی پریشان تھیں انہوں نے ہمارے شہر کے ایک مشہور ڈاکٹر عمران سے میرا علاج شروع کروادیا۔۔۔۔ڈاکٹر نے میرا چیک اپ کیا اور مما کو کچھ میڈیسن لکھ کر دیں اور مما سے بولے آپ کی بچی کسی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار ھے ھم اسے تمام صورت حال سے نکال لیں گے مجھے بخار بھی تھا تو ڈاکٹر عمران نے مجھے سٹریچر پر الٹا لٹا دیا اور میری گانڈ پر انجیکشن لگادیا۔۔۔۔پھر اپنے ہاتھ سے میری گانڈ کو دبانے لگا۔۔۔۔یہ کسی بھی مرد کا میرے جسم پر پہلا لمس تھا جس کی وجہ سے میں جسم میں کرنٹ سا دوڑ گیا۔۔۔۔میرا ایک مسلم دوست تھا گل باز گیلانی جس کیساتھ میں روز رات کو سیکس چیٹ رول پلے کرتی تھی میں اس سے قریب پچاس کے قریب رول پلے کر چکے تھے میں نے گل باز کو بتایا کہ ڈاکٹر نے میری گانڈ پر انجیکشن لگایا ھے تو وہ بولا وہ کسی دن سچ میں نہ تجھے ٹیکہ لگا دے میں شرما سی گئی اور بولی ہائی بھگوان یہ میں کیا سن رہی ھوں۔۔۔۔مجھے میڈیسن سے بہتری محسوس ھو رہی تھی۔۔۔۔میڈیسن ختم ھونے کے بعد مما بولی پوجا بیٹی جاؤ اپنا چیک اپ کروا آؤ میں نے بولا میں کیسے جاؤں اکیلی تو مما بولی چلی جاؤ کچھ نہیں ھوتا۔۔۔۔۔میں کلینک پر گئی تو ڈاکٹر صاحب نہیں تھے۔۔۔۔کلینک کیساتھ ہی ان کا گھر تھا

میں گھر گئ تو میں نے دیکھا۔۔۔۔ڈاکٹر صاحب نیوز پیپر پڑھ رھے ہیں میں ان کو سلام کیا اور ان کے سامنے بیٹھ گئی اور میں بولی ڈاکٹر صاحب ویسے تو میں ٹھیک ھوں مگر مجھے اکثر پیٹ میں درد رہتا ھے تو ڈاکٹر نے بولا بیٹی تم میں نے تمہاری مما کو پہلے ہی بتا دیا تھا میں بولی کیا تو ڈاکٹر عمران بولے میں نے بتا دیا تھا کہ تم جنسی تسکین پانے کو بیتاب اور تمہاری وہ شادی کردیں۔۔۔۔میں بولی مگر شادی کیوں تو ڈاکٹر صاحب بولے کیونکہ تمہاری یوٹرس کی جھلی میں خون جم گیا ھے جس کی وجہ سے بلینڈنگ نہیں ھو رہی تو پیٹ میں درد رھے گا ہی۔۔۔۔ وہ میڈیکل کی زبان میں مجھے سمجھا رھے تھے جبکہ میں تو حیران رہ گئی کہ بات تو ان کی درست تھی میں بولی ڈاکٹر صاحب اب اس کا کیا حل ھے تو وہ بولے دیکھو پوجا تجھے کسی مرد سے چدوانا پڑے گا جو آپکی سیل توڑ دے۔۔۔۔

میں بولی ایسے کیسے ھو سکتا ھے تو ڈاکٹر عمران بولے آپ چاہیں تو اپنے بوائے فرینڈ سے بھی کر سکتی ہیں۔۔۔۔میں بولی نہیں ڈاکٹر صاحب۔۔۔۔۔میں ایک پنڈت کی بیٹی ھوں میرا کوئی بوائے فرینڈ نہیں ھے۔۔۔۔۔اسی دوران ڈاکٹر صاحب بولے چلیں مرضی ھے آپ کی تو وہ کسی کی کال اٹینڈ کرنے گئے تو میں نے مما کو فون کردیا۔۔۔

ہیلو مما۔۔۔۔کیسی ہیں آپ

مما۔۔۔۔میں ٹھیک ھوں پوجا

میں۔۔۔۔مما یہ ڈاکٹر صاحب کیا کہہ رھے ہیں

مما۔۔۔۔جی بیٹا میں جانتی ھوں اسی لئیے میں نے تجھے اکیلے ہی بھیجا ھے ان کے پاس

میں۔۔۔۔مما پھر میں کیا کرو

مما۔۔۔۔بیٹی میں نے ڈاکٹر صاحب پر پورا بھروسہ ھے وہ تمہارے ساتھ سیکس کرینگے تو تم ٹھیک ھو جاؤگی

میں۔۔۔۔نہیں مما وہ تو مسلم ہیں اور مجھ سے بڑے ہیں میں یہ کیسے کر سکتی ھوں۔۔۔

مما۔۔۔وہ مسلم ہیں تو کیا ھوا ہیں تو مرد ہی نہ

میں۔۔۔۔مما آپ تو کہہ رہی تھیں کہ ایک برہمن گرل کسی غیر دھرم کے مرد کے نیچے نہیں لیٹ سکتی آج آپ مجھ پر ایک مسلم مرد کو چڑھا رہی تو مما بولی پوجا میری مرچی گرل زیادہ سوال مت کرو میں ڈاکٹر صاحب کو بول دیتی ھوں کہ میری بچی چھوٹی ھے ذرا دھیرے دھیرے سے کرنا میں نے مسکرا کر اپنا فون بند کردیا تو ڈاکٹر صاحب بولے کیا کہا تمہاری مما نے تو میں شرماتے ھوئے بولی مما کہہ رہی تھیں کہ ڈاکٹر صاحب کو جسمانی طورپر علاج کرنے دیں ڈاکٹر عمران خوش ھوتے ھوئے بولے چلو پھر بیڈ روم چلیں میں ان کیساتھ بیڈ روم کی طرف چل دی ڈاکٹر عمران نے مجھے ایک کریم دی اور بولے پوجا یہ کریم اپنی چوت پر لگا لیں جبکہ میں کچھ ہی دیر میں آتا ھوں

میں نے کریم لگائی اور پھر ڈاکٹر عمران کے روم میں داخل ھوگئے وہ انڈر وئیر میں تھے ان کے انڈروئیر سے اس کے لن کا ابھار یوں واضح نظر آرہا تھا کہ جیسے ابھی انڈروئیر پھاڑ کر باہر آجائے گا ھوتا بھی کیوں نہ ایک پنڈت کی کنواری بیٹی اس کیساتھ سہاگ رات منانے والی تھی میں نے اپنا ہاتھ اس ابھار پر رکھا اور باہر سے ہی اسے نرمی سے مسلنے لگی۔کچھ دیر مسلنے کے بعد میں نے دونوں ہاتھوں سے اس کے انڈر وئیر کو پکڑا اور کھینچ کر فل نیچے کردیا ۔ انڈروئیر سرکتے ہی اس کا لمبا ، موٹا اور تنا ہوا لن میری نگاہوں کے سامنے تھا میں نے کچھ دن پہلے پاپا کو چودتے ھوئے دیکھا تھا پاپا کے لنڈ پر ماس تھا مگر عمران مسلم تھے تو ان کے لنڈ کو بڑی خوبصورتی کیساتھ تراشا گیا تھا

میں ڈاکٹر عمران کا چمک مارتے ھوئے لنڈ کو دیکھ کے مسکرا اٹھی اور اس اپنے نرم ، گورے ہاتھ میں تھام لیا۔ اور نرمی سے مٹھی میں لے کر سہلانے لگی۔ میں اسے پیار سے مسل رہی تھی۔ دائیں ہاتھ میں تھام کے بائیں ہاتھ سے اس کا مساج کررہی تھی اپنی انگلیاں اور ہتھیلی اس پر پھیرتے ہوئے۔ کہیں نرم کہیں زرا دبا کے ۔ کہیں دھیرے سے کہیں زرا تیز میرے ہاتھ عمران کے لوڑے پے گردش کررہے تھے۔

کچھ دیر یوں ہی مسلنے کے بعد میں نے اپنا چہرہ اب آگے بڑھایا ۔ یہاں تک کہ میری گرم دہکتی سانسیں لن کے ٹوپے سے ٹکرا گئیں ہائے رام لنڈ بھی کیا چیز ھے میں دل ہی دل میں بولی اور اپنی قسمت پر رشک کرنے لگی۔۔۔

اور پھر میں نے اپنے نرم و نازک، گلابی ، چمکدار لبوں کو ڈاکٹر عمران کے لن کے ٹوپے پے رکھتے ہوئے اسے چوم لیا۔۔۔ ہائے۔ جن ہونٹوں سے میں ان کو ڈاکٹر صاحب کہہ کر بلاتی تھی آج وہی ہونٹ اس کے لن سے چپکے ہوئے تھے ۔ میں بار بار اس کے لن کو چوم رہی تھی اوپر سے نیچے تک۔

پھر میں نے اپنی زبان کی نوک لن کے سوراخ پے رکھی اور لن کے سوراخ کو چاٹا ۔ اور پھر زبان کو ٹوپے پے گول گول پھیرتے ہوئی اسے چاٹنے لگی ۔۔۔ڈاکٹر عمران کے منہ سے اب لذت میں ڈوبی سسکیاں نکل رہی تھیں۔۔ااااہ۔۔۔۔۔ااااااہ۔۔۔۔پپ پوجا۔۔۔۔بہت مزہ آرہا ھے۔۔۔

پھر میں زبان کو لن پے اوپر سے نیچے تک پھیر کر لن کو چاٹنے لگی۔۔پوری محبت و لذت کے ساتھ کے جیسے آئس کریم چاٹ رہی ہوں میں نے سوچا علاج تو ھونا ہی ھے مگر دل کی حسرتیں بھی پوری کرلوں۔۔۔

آگے پیچھے اوپر نیچے دائیں بائیں لن کے ایک ایک انچ کو چاٹ رہی تھی۔۔وقفے وقفے سے چاٹتے ہوئے زرا رکتی اور لن کو محبت سے چوم لیتی ۔۔اور پھر سے چاٹنے لگتی۔۔کہیں زبان نرمی سے پھیرتی تو کہیں زبان کو لن پے دبا کے لن چٹائی کررہی۔ لن کی ایک ایک پھولی ہوئی رگ کو الگ لگ چاٹ رہی تھی۔عمران صاحب بھی مست ھو رھے تھے۔تھے۔

میں نے ان کے لن کو اچھی طرح چاٹ لینے کے بعد اسے ہاتھ میں تھاما ۔ اور اس کے ٹوپے کو اپنے ہونٹوں پے رکھا۔۔۔ پھر پکڑ کے اسے لپ سٹک کی طرح اپنے لبوں پے پھیرنے لگی ۔

کبھی دائیں تو کبھی بائیں کبھی نچلے ہونٹ پے تو کبھی اوپری ہونٹ پے۔ ایسے کہ جیسے لپ سٹک لگا رہی ہوں۔اور کبھی لن کو پکڑ کے اپنے ہونٹوں کو نرمی اور پیار سے اس پے رکھ کے آگے پیچھے کرتے ہوئے مسل رہی تھی۔

پھر میں نے اپنے ہونٹوں کا گول حلقہ ڈاکٹر عمران کے لن کے ٹوپے پر جمایا اور منہ کو آہستہ سے آگے بڑھاتے ہوئے اس تنے ہوئے لن کو منہ میں لینے لگی ۔۔آدھا لن منہ میں بھرنے کے بعد میں نے ہونٹوں کو لن پے دبا کے منہ کو پیچھے کھینچا ۔۔۔ اور منہ کو آگے پیچھے کرکے لن کے چوپے لگانے لگی۔۔اور ہر چوپے کے ساتھ منہ زرا زیادہ آگے کے کر جاتے ہوئے لن کا اور بھی زیادہ حصہ منہ میں گھسا رہی تھی ۔۔اور پورے جذبات کے ساتھ لن چوسنے میں مگن تھی۔ ہر چوپے کے ساتھ لن میرے ہونٹوں سے رگڑ کھاتا ہوا میری زبان پے پھلستا ہوا میرے حلق کے اندر جا کے لگ رہا تھا ۔۔اس لوڑا چسائی سے کمرے میں میں پچ پچ پچچچ پچک کی شہوت انگیز آوازیں ابھر رہی تھیں کیونکہ میں سنی لیون کو سکنگ کرتے دیکھ چکی تھی۔۔

میرے ہونٹوں کے گوشوں سے تھوک ٹپک ٹپک کے میرے پستانوں پے گررہی تھی اور انہیں گیلا کرتی ہوئی پیٹ پر بہتی ہوئی ناف تک جارہی تھی ۔اور میرے ہونٹوں میں موجود عمران کا لن بھی میری تھوک سے پوری طرح غسل کر چکا تھا لن کی لذت بھری سسکیاں میری سماعت سے ٹکرا رہی تھی۔

لن بوسی کرتے کرتے اچانک میں نے جذباتی ہوکے جھٹکا مار کے پورے کا پورا لوڑا اپنے منہ میں حلق تک لے لیا یہاں تک کہ میرا نچلا ہونٹ ان کے ٹٹوں کو چھو گیا اور اوپری ہونٹ اس کے زیر ناف علاقے کو ۔۔ اور چند لمحے میں اسی طرح ساکت ہوگئی۔ یہاں تک کہ میری سانسیں ساکت ہوگئیں ۔۔ پورے کا پورا لن میرے حلق تک منہ میں سمایا تھا ۔۔۔کئی سیکنڈ یوں رکھنے کے بعد میں نے سانس بند ہونے پر لن کو تیزی سے منہ سے نکالا اور بری طرح سے ہانپنے لگی۔عمران کے لن سے تھوک کی دھاریں ٹپک رہی تھیں اور میرے ہونٹوں سے بھی ۔ میری آنکھوں سے پانی رواں تھا اور چہرہ سرخ تھا۔۔۔۔

عمران کا لنڈ اپنے منہ سے لن نکالنے کے بعد میں نے بیڈشیٹ سے منہ صاف کیا۔ جس کے بعد عمران نے میرے دونوں ہاتھ پکڑ کر مجھے قالین سے اٹھایا اور میرے کھڑے ہوجانے پر مجھے ہلکا سا دھکا دے کر بیڈ پے گرا دیا میں نے بیڈ کی سائیڈ سے ایک کپڑا نکالا اور اس کو دوہرا کر کے بچھالیا اور اس پر لیٹ گئی۔۔۔۔۔آج ایک ہندو چھوری پر ایک مسلمان چڑھنے والا تھا لنڈ لینے کے لئیے میں نے دھرم کو بھی بھلا دیا تھامجھے مست دیکھ کر ڈاکٹر عمران بھی بیڈ پے چڑھ کے میری ٹانگوں کی سمت آگئے ڈاکٹر عمران کی بیوی بھی ڈاکٹر تھی جو اپنے گاؤں میں ہی ایک کلینک چلاتی تھی جبکہ ڈاکٹر عمران شہر میں اکیلے ہی رہتے تھے۔۔۔۔شاید وہ بھی ہارٹ بیٹ تیز کر بیٹھے تھے۔۔۔۔

میرے جسم پر لباس کے نام پر محض ایک پینٹی ہی موجود تھی اب عمران نے دونوں ہاتھوں سے میری پینٹی کو پکڑا اور اسے کھینچ کر اتار ڈالا ۔ آج تک پردے و حیاء کی سخت پابند لڑکی اب کسی غیر کے سامنے الف ننگی ہوچکی تھی اور بنا شادی اس کے ساتھ وہ تعلق بنانے جارہی تھی کہ جو صرف پتی پتنی کے درمیان ہی جائز ھوتا ہے۔ لیکن جوانی کے جوش میں گناہ و ثواب کی پروا کسے تھی۔ اور میں خود کو دل و جان کے ساتھ ڈاکٹر عمران کے سپرد کر چکی تھی اور کھل کر اپنی جوانی کے مزے لوٹنا چاہتی تھی ۔ میری پینٹی اتارنے کے بعد عمران نے دونوں ہاتھوں سے میری ٹانگیں کشادہ کیں ۔ میری شرمگاہ کا ہیجان انگیز نظارہ اس کے سامنے تھا ۔ ہم دونوں اورل سیکس سے اتنے ہاٹ ہوچکے تھے کہ مزید انتظار کر پانا محال تھا ہماری نظریں چار ھوئیں تو ڈاکٹر عمران بولے پوجا آپ تیار ہیں تو میں بولی جی میں تیار ھوں۔۔۔

عمران اب آگے ہوا اور خود کو اس پوزیشن پر ایڈجسٹ کیا کہ اس کا لن میری چوت کے منہ کے اوپر تھا ۔ اس نے اپنے لن کو پکڑ کے میری چوت پر رکھا اور اس کی ٹوپی کو چوت کے ہونٹوں میں نرمی سے اوپر نیچے مسلنے لگا ۔ اس نرم سی رگڑائی سے میرے پورے بدن میں لذت کی لہریں دوڑنے لگیں اور میں سسک اٹھی اااااہ۔۔۔۔۔عمرررررران جی میں مر جاؤں گی زیادہ زور مت لگانا۔۔۔۔

عمران کا لن میری تھوک سے بھیگا ہوا تھا اور میری چوت بھی کب کی گیلی ہورہی تھی جس سے چوت پر لن کی رگڑ کافی چکنی تھی۔ کچھ دیر نرمی سے رگڑنے کے بعد اب عمران ہر رگڑ کے ساتھ ساتھ میری چوت پر اپنے لن کا دباؤ ہلکا ہلکا بڑھاتا جا رہا تھا ۔ اور مجھے درد محسوس ہونے لگا تھا تو ڈاکٹر عمران بولے پوجا میری جان اب زرا ہمت سے کام لینا تھوڑا درد ھوگا پھر سب ٹھیک ہو جائے گا میں نے مست لہجے میں کہا میں سہہ لوں گی آپ میرا علاج کریں وہ مسکراتے ھوئے بولے علاج یا پھر چدائی میں نے ان کی آنکھوں میں جھانکتے ھوئے کہا پہلے علاج پھر چدائی بہت تڑپی ھوں میں لنڈ لینے کے لئیے میری چوت کی مانگ بھر دیں۔دیں۔دیں۔دیں۔ عمران نے میرے چہرے پر خوشی کے تاثرات دیکھ کر ویری گڈ کہا اور ایک ہلکا سا جھٹکا مارا ۔ اس جھٹکے کی شدت تو نارمل تھی مگر میرے منہ سے بےاختیار چیخ سی نکل گئی آؤچ۔۔۔۔۔۔۔اااااااہ۔۔۔۔۔اااااہ۔۔۔۔۔ اس جھٹکے کا مقصد شاید مجھے اصل جھٹکے کے لیے تیار کرنا تھا۔۔۔عمران نے مجھے ریلیکس کرتے ھوئے میری ٹانگوں پر تین چار کس کی اور پھر اس نے ایک زوردار جھٹکا مارا اور ان۔ کا لن میری چوت کے پردہ کو بے دردی سے پھاڑتا ہوا میری چوت کی گہرائیوں میں داخل ہوگیا ۔ درد کے مارے میں بری طرح سے تڑپ اٹھی چیخ اٹھی اور میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے ۔ مجھے یوں لگا کہ جیسے درد سے جان نکل جائے گی جیسے میرے اندر کسی نے گرم کیل ٹھوک دیا ھو۔۔۔۔

عمران نے چند سیکنڈ لن کو اندر ہی رکھا اور پھر نرمی اور آہستگی سے نکالا ۔ اس نے اپنے رومال سے میری چوت اور اپنے لن پر سے خون کوصاف کیا اور پھر مجھے پیار سے گلے لگا کر سینے سے چمٹایا اور مجھے دلاسہ دینےلگا کہ اب درد نہیں ھوگا۔ لیکن میری چوت سے خون نکل کر بیڈ پر گرنے لگا تھا میں نے عمران کو بتایا تو اس نے میرے پستان مسلنے کے ساتھ ساتھ میری چوت کے دانے کو بھی مسلنا شروع کر دیا تھا۔ کچھ دیر تک درد کی شدت کم ہوچکی تھی اور تکلیف کے اس نے مجھے خود سے الگ کیا ۔ میرے ہونٹوں پہ کِس کی اور پھر سے مجھے لٹا دیا ۔ اب میں اس سے چدنے کے لیے مکمل تیار تھی ۔ جب پھٹ ہی گئی تھی تو مزید کیا ڈرنا؟

اس نے پھر سے میری چوت کے منہ پر لن کی ٹوپی جمائی اور ایک جھٹکا مارا اور اگلے ہی لمحے عمران صاحب کا لن پھر سے میری پھدی کی سیل توڑ کر گہرائیاں ناپ رہا تھا اب عمران مجھ پر لیٹ گیا اور ہلکے ہلکے جھٹکے مار کر میرے ساتھ چودائی کا عمل کرنے لگا ۔ زندگی کی پہلی چدائی تھی اور ہر جھٹکے کے ساتھ مجھے پہلے سے زیادہ لذت مل رہی تھی ہائے رام کیسا درد ھے یہ میٹھا سا آج دو بے لباس وجود جوانی کے جوش میں اک دوجے سے لپٹے تھے اور کمرے کی فضا لذت آمیز سسکیوں ، آہوں اور کراہوں سے اور جسم کی آوازوں سےگونج رہی تھی۔ اس نے میرے دونوں ہاتھ تھام کر انگلیوں میں انگلیاں ڈال رکھی تھیں ۔ میری چوت میں اس کا لن جڑ تک سمایا ھوا تھا، میرے پستانوں سے اس کا سینہ رگڑ کھا رہا تھا اور میرے چہرے کے اوپر اس کا چہرے تھا اور وہ موقعہ با موقعہ میرے ہونٹوں کو چوم کے پھر چھوڑ دیتا ۔ پھر سے چوم لیتا اور جھٹکے مارنے میں مگن ہوجاتا اور جھٹکے مارتے مارتے پھر سے میرے ہونٹوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دیتا پوجا مست ھوگئ ھو

برہنہ جسموں کے اس ملن کا ہر لمحہ چاشنی سے لبریز تھا۔ میں نے اپنی بانہوں کے اس کی کمر کے گرد حمائل کر رکھا تھا اور اب میں بھی اس جنسی ملاپ میں بھرپور انداز میں ان کا ساتھ دے رہی تھی ۔ میں اپنے جسم کو اس کی طرف ابھار ابھار کے اس کا پورا لن اپنی چوت میں سمو رہی تھی۔

اب عمران کے جھٹکوں میں شدت آتی جارہی تھی اور میری کراہوں میں بھی۔ میری مترنم سسکیاں اسے مزید جوش دلا رہی تھیں اور وہ بھرپور انداز میں میری چودائی کے مزے لے رہا تھا۔

کچھ دیر اسی انداز میں میری چدائی کرنے کے بعد عمران رکا۔ اس نے آہستہ سے لن میری پھدی سے نکالا اور بستر سے اٹھا ۔ اب کی بار وہ بیڈ کے کنارے میری طرف رخ کرکے کھڑا ہوا اس نے میری ٹانگوں کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر مجھے اپنی طرف کھینچا اور اتنا اٹھایا کہ میری ٹانگیں اس کے کندھوں سے لگ گئیں اور اگلے ہی لمبے اس کا لن پھر سے میری پھدی کی سیر کررہا تھا ۔وہ میری ٹانگوں کو پکڑ کے میری چوت میں لن گھسا رہا تھا ۔ ہر جھٹکے پر اس کا لوڑا میری پھدی کے ہونٹوں سے ہوتا ہوا میری چوت کی دیواروں سے رگڑ کھاتا ہوا پھسل کر گہرائی تک گھس رہا تھا ۔ اور میں لن کے ٹوپے کو اپنی پھدی کے دیوار پے دب کر پھسلتے ہوئے صاف محسوس کر سکتی تھی۔ اس کی رانیں میرے کولہوں سے ٹکرا رہی تھی اور اس چدائی سے پچچ پچچ کی آوازیں الگ کمرے کے ماحول میں ہیجان پیدا کررہی تھیں۔ میں جذبات میں آکر ڈاکٹر کی کمر کےگرد اپنی ٹانگیں لپیٹنے لگی تھی اااااہ۔۔۔۔۔۔اااااہ۔۔۔۔۔

میری لذت عروج پر پہنچ رہی تھی اور مجھے یوں محسوس ہورہا تھا کہ جیسے میں جنت میں پہنچ گئی ہوں ۔ بےقابو جذبات میں میرے منہ سے ایسے فقرے نکل رہے تھے ااااہ عمران مجھےاپنی رکھیل بنا لو اااااہ اففف أؤچ عمران آئی لو یو سو مچ جان۔ اب سے میں تمہاری مریضہ نہیں بلکہ منہ بولی بیوی ہوں تمہاری بیوی آہ جان ۔ فک می عمران فک می ہارڈ۔ اور زور سے جھٹکے مارو پلیز ۔ اوہ یس میری جان یس۔۔۔۔۔ااااااہ۔۔۔۔۔ااااہ۔۔۔۔۔۔

میرے ان جذباتی جملوں نے اس کے جوش کو آسمان پر پہنچا دیا اور وہ پوری قوت سے جھٹکے مار کے اپنے لن کو جڑ تک میری پھدی میں پرونے لگا ۔ میرے دل کی دھڑکنیں بےقاںو ہو چکی تھیں اور جسم پسینے میں نہا چکا تھا ۔

اب مجھے ہر جھٹکا لذت کے نئے درجے پر پہنچا رہا تھا ۔ اور پھر مجھے یوں محسوس ہوا کہ اچانک مجھے کسی نے اٹھا کر لذت کے سمندر میں پھینک دیا ہو ۔ مجھے لگا کہ میرا جسم لذت کے مارے ٹوٹ کے بکھر جائے گا ۔ میں آرگیزم کو پہنچ رہی تھی میں فارغ ھو گئی تھی پیشاب کی شدت جیسی کیفیت کی طرح پہلی بار انتہائی لذت آمیز کچھ نکلتا ھوا محسوس ھونے لگا۔

اتنے میں عمران کے جھٹکوں میں بھی انتہائی تیزی آچکی تھی پھر اس نے اچانک آخری زوردار جھٹکا مارا اور تیزی سے لن میری پھدی سے نکال لیا ۔ اسی لمحہ میری پھدی نے پانی کا فوارہ چھوڑ دیا میری ٹانگیں اک دم سیدھی ھو کر اکڑنے لگی تھیں اور اب عمران کے لن سے منی کی پچکاری نکل کے میری چوت کے اوپری حصے سے جا ٹکرائی ۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے بستر کی چادر کو نوچ لیا۔ ہم دونوں ریلیز ہو رہے تھے

اس کے بعد عمران بےجان سا ہو کر میرے اوپر گر گیا اور میری طرح لمبی لمبی سانسیں لینے لگا ۔میں نے خود کو اس کے ساتھ لپٹا لیا اور ہم دونوں ننگی حالت میں ایک دوسرے سے سے لپٹ کر وہیں لیٹے اپنا سانس بحال کرنے لگے۔ اور میں اسے بے اختیار چومنے لگی پھر وہ مجھ پر سے اتر گیا ۔

آدھا گھنٹا یونہی لیٹے رہنے کے بعد ہم کچھ نارمل ہو پائے ۔ میں نے آنکھیں کھولیں تو عمران مجھے ہی پیار بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔ میں نے اس کے ہونٹوں پے ایک بھرپور بوسہ دیا اور اس کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے مجھے میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی سے نوازا آج۔

پھر ہم دونوں اٹھے اور غسل کرنے کے لیے باتھ روم کی طرف بڑھ گئے۔ عمران نے مجھے اپنی گود میں اٹھالیا تھا اور میرے ھاتھ میں میرے پیار کی پہلے پیار کی نشانی والا تولیہ تھا جس پر میری چوت کا خون لگا تھا۔ عمران نے مجھ سے وہ لے کر واپس بیڈ پر ڈال دیا میں نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تو اس نے بس کہا ایسی نشانیاں سمبھال کر رکھتے ھیں جان ۔ میری چوت کے اوپری حصے پر پڑی اس کے منی کی پھوار وہیں خشک ہو چکی تھی۔ میں نے وہاں پہنچ کر نیم گرم پانی کا شاور آن کیا اور شاور کی پھوار میں کھڑے ہوکے ہم دونوں نہانے لگے ایک دوسرے کے جسم کو اپنے ہاتھوں سے مَلتے ہوئے ۔ ہم پانی کی پھوار کے بیچ ایک دوسرے کے بازوؤں ، سینے ، کمر کو مَلتے ہوئے ایک دوسرے کو نہلا رہے تھے ۔

خوب مزے سے نہانے کے بعد ہم دونوں باہر نکلے اور لباس پہننے لگے ۔ اس کے بعد ڈاکٹر عمران مزید تھوڑی دیر تک میرے پاس رکا میں نے کچھ کھانے کا انتظام کیا اور اکھٹے کھایا اس کے بعد میں نے ان سے چلنے کی اجازت مانگی اور ساتھ میں وعدہ کیا ہماری اگلی چدائی اس سے بھی کہیں زیادہ زبردست اور یادگار ہوگی۔ جاتے ہوئے ہم پھر سے گلے ملے اور لب چومنے کی رسم ادا کی اور وہ مجھے الوداع کہہ کر روانہ ہوگیا۔۔۔۔دوستو پھر میں نے ڈاکٹر عمران سے شادی کرلی کیونکہ میں بھی ڈاکٹر بننا چاہتی تھی۔۔۔

ختم شد

کہانی آپ کو کتنی پسند آئی ؟

Click on a star to rate it!

Leave a Comment

Share to...