یہ کہانی رات کے دس بجے کے وقت شروع ہوتی ہے جب صبا اور اس کا شوہر اشرف اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ کر اپنے بیڈروم میں بیٹھے ہوئے تھے۔۔ کبھی اشرف اپنا سر بستر پر رکھے ہوئے تکیے کے نیچے گھساتا۔۔ اور کبھی بے چین ہو کر اٹھ بیٹھتا اور اپنی انگلیوں کو اپنے کانوں میں گھساتا۔۔ صبا کا حال بھی کچھ مختلف نہ تھا۔۔ لیکن ان تمام کوششوں کے باوجود وہ دونوں اس چیز سے نجات نہ پا سکے جو ان کی اس حالت کا باعث تھی۔۔ غصے سے اشرف کا برا حال تھا۔۔ لیکن وہ بڑی مشکل سے خود پر قابو پا رہا تھا۔۔
ان دونوں نوجواں اور نئی شادی شدہ جوڑے کی پریشانی کی وجہ ایک بہت بلند اور بھدی موسیقی کی آواز تھی جو ایک پرانی سی کیسٹ سے آ رہی تھی۔۔ اور یہ ٹیپ ریکارڈر ان کے بالکل ساتھ والے فلیٹ میں رہنے والے ریٹائرڈ میجر جوہر کے گھر میں چل رہا تھا۔۔ لیکن میجر صاحب کو نہ تو اپنے ہمسائے کی پریشانی کا علم تھا اور نہ ہی اپنے گھر میں چلنے والے ٹیپ ریکارڈر کا۔۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ موسیقی یا ٹی وی چلاتے ہوئے سو چکے تھے۔۔ یا شاید اپنی عادت کے مطابق شراب پیتے ہوئے بے ہوش ہو گئے تھے۔۔ کچھ پتہ نہیں تھا۔۔ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہو رہا تھا۔۔ بلکہ ہر ہفتے میں دو تین بار ایسا ضرور ہوتا تھا۔۔ جس کی وجہ سے تمام ہمسائے ان سے تنگ آ چکے تھے۔۔ لیکن میجر جوہر کی غصیل طبیعت اور انتہائی نامناسب رویے کی وجہ سے کوئی بھی ان کے سامنے آنے کی جرات نہ کرتا تھا۔۔
جب اشرف سے برداشت نہ ہو پایا تو اس نے اپنے سر پر رکھا ہوا تکیہ اٹھایا اور زور سے اسے دور پڑے ہوئے صوفے پر پھینکتے ہوئے اٹھا اور بولا۔۔ اس بڈھے گنوار جانور کو آج کچھ سکھا کر ہی آنا پڑے گا۔۔ اس کمینے کو تو انسانوں کے بیچ رہنے کا کوئی سلیقہ ہی نہیں ہے۔۔
جیسے ہی صبا نے اپنے شوہر کو غصے میں دیکھا تو جلدی سے اٹھی اور اسے روکتے ہوئے بولی۔۔ نہیں نہیں۔۔ آپ نہ جائیں۔۔ آپ غصے میں ہیں۔۔ آپ رکیں۔۔ میں ان کو کہہ کر آتی ہوں۔۔ اس طرح آپ کے جانے سے بات بڑھ جائے گی۔۔
اپنی بیوی کے بار بار کہنے پر اشرف وہیں بیڈروم میں رکا۔۔ اور پھر صبا نے بستر پر پڑا ہوا گاؤن اپنے نائٹ سوٹ پر ڈالا اور اس کی ڈوری باندھتی ہوئی بیڈروم سے باہر نکل آئی۔۔ اپنے فلیٹ کا مین گیٹ ان لاک کر کے وہ باہر کوریڈور میں نکلی تو پانچویں منزل کا کوریڈور بالکل خالی تھا۔۔ صبا اپنے فلیٹ کے دروازے سے نکلی اور بالکل ساتھ والے دروازے کی طرف بڑھی۔۔ اس کے چہرے پر بھی نہ چاہتے ہوئے بھی غصہ اور انتہائی نفرت تھی۔۔ کیونکہ وہ بھی اس بدھے ریٹائرڈ میجر کی طبیعت سے اچھی طرح واقف تھی۔۔
صبا نے میجر جوہر کے دروازے پر جا کر اپنی نازک نازک گوری گوری اور پتلی انگلیوں کو موڑتے ہوئے آہستہ آہستہ دستک دی۔۔ ایک بار۔۔ دوسری بار۔۔ تیسری بار۔۔ لیکن ہر بار کی دستک کا نتیجہ ایک ہی نکل رہا تھا کہ دروازہ نہیں کھلنا تھا۔۔ نہ کھلا۔۔ اور کھلتا بھی تب نہ جب کوئی اندر سن رہا ہوتا۔۔ جیسے جیسے صبا دستک دیتی جا رہی تھی۔۔ ویسے ویسے ہی اس کا غصہ بھی بڑھتا جا رہا تھا۔۔
صبا کو اپنی انگلیوں میں تھوڑا درد محسوس ہوا تو اس نے اپنا ہاتھ پورا کھولا اور اس بار غصے کے ساتھ پورے ہاتھ کی مدد سے لکڑی کے دروازے کو پیٹنا شروع کر دیا۔۔ اتنی زور سے دروازہ پیٹنے کے بعد صبا نے ادھر ادھر دیکھا۔۔ کیونکہ اسے یقین تھا کہ وہ کمینہ میجر نکلے یا نہ نکلے۔۔ لیکن باقی کے چار فلیٹس میں سے کوئی نہ کوئی ضرور باہر نکل آئے گا۔۔ لیکن خدا کا شکر تھا کہ ابھی تک کوئی نہیں نکلا تھا۔۔ ویسے کوئی نکل بھی آتا تو اسے کوئی پروا نہ تھی۔۔
جب بہت زور زور سے دو تین بار دروازہ پیٹا گیا تو اندر شراب پی کر سوئے ہوئے میجر صاحب کو شاید کچھ کچھ ہوش آنے لگا۔۔ انہوں نے پہلے اپنے کان کھولے اور جب انہیں یقین ہو گیا کہ کوئی باہر ان کا دروازہ توڑنے کے درپے ہے تو بڑی مشکل سے انہوں نے اپنی آنکھیں کھولیں۔۔ جو کہ نشے کی وجہ سے دوبارہ بند ہوئی جا رہی تھیں۔۔ اپنی آنکھوں کو جگانے کے بعد اب باری تھی سب سے مشکل کام کی۔۔ یعنی اپنے سوئے ہوئے وجود کو جگانے کی تاکہ وہ اپنے دروازے تک پہنچ سکیں۔۔
کسی نہ کسی طرح خود کو ہوش میں لا کر میجر جوہر اپنے دروازے کی طرف بڑھے۔۔ لیکن اس دوران بھی تین بار دروازہ پیٹ دیا گیا تھا۔۔ جیسے ہی میجر نے دروازہ کھولا تو اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے ہمسائے کی انتہائی خوبصورت اور جوان گوری چٹی بیوی کو دیکھ کر تھوڑا نشہ اور ہَوا ہو گیا اور آنکھیں پوری طرح کھل گئیں۔۔ وہ شراب اور نیند کے اثر سے سرخ ہو رہی اپنی آنکھوں کو کھول کر اپنے سامنے کھڑی خوبصورت صبا کو دیکھ کر بولے۔۔
ہاں کیا بات ہے؟ کیوں میرے گھر کا دروازہ توڑنے کو آئی کھڑی ہو؟
صبا کے چہرے پر اسے انتہائی نفرت اور غصہ تو صاف نظر آ رہا تھا۔۔ لیکن وہ بھلا کسی کے غصے یا نفرت کی پروا کیوں کرنے لگا۔۔
صبا۔۔ کوئی شوق نہیں ہے مجھے یوں آدھی رات کو تمہارے گھر کا دروازہ پیٹنے کا۔۔ یہ جو شور مچا رکھا ہے تم نے اپنے گھر میں۔۔ اسے بند کر کے مر جاؤ تاکہ کوئی اور بھی سکون سے سو سکے یہاں پر۔۔
میجر۔۔ ہاہاہاہاہاہاہا۔۔ اچھا اچھا کر دیتا ہوں بند اسے بھی۔۔ لگتا ہے اس شور میں تیرے اس ٹھوکو کا کھڑا نہیں ہوتا جو اس نے تجھے اس وقت میرے پاس بھیجا ہے اسے بند کرواوانے۔۔
صبا کا چہرہ یہ بات سن کر غصے سے سرخ ہو گیا اور اس کی آنکھوں سے جیسے آگ نکل رہی ہو۔۔ لیکن وہ صرف اپنے ہاتھوں کی مٹھی بھینچ کر رہ گئی۔۔ اس خبیث انسان سے ایسی ہی باتوں کی امید تھی اسے۔۔ لیکن وہ کوئی تماشہ کھڑا نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔
صبا۔۔ بند کرو اپنی بکواس اور اس شور کو بھی۔۔ تم سے زیادہ گھٹیا انسان تو میں نے آج تک نہیں دیکھا۔۔ جسے اوروں سے بات کرنے کی بھی تمیز نہیں ہے۔۔
یہ کہہ کر صبا اپنے فلیٹ کی طرف مڑ گئی۔۔ وہ کوئی اور بات نہ کرنا چاہتی تھی اور نہ سننا چاہتی تھی۔۔
میجر۔۔ ہاہاہاہاہاہاہا۔۔ اور میں نے بھی تیرے شوہر جیسا گھٹیا آدمی نہیں دیکھا کبھی۔۔ جو آدھی رات کو اپنی بیوی کو دوسرے مرد کے گھر بھیجتا ہے۔۔ ہاہاہاہاہاہا۔۔
اس بات نے ایک بار پھر صبا کے تن بدن میں آگ لگا دی تھی۔۔ اس نے فوراً مڑ کر پیچھے دیکھا تو میجر نے ہنستے ہوئے اسے ایک آنکھ ماری اور زور سے اپنا دروازہ بند کر لیا۔۔
صبا کی نظر اپنے فلیٹ کے سامنے والے فلیٹ کے دروازے پر پڑی تو دیکھا کہ وہاں پر منصور صاحب کھڑے ہیں۔۔ وہ بھی بہت ہی بے چارگی والی نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔۔ ادھر عمر کے منصور صاحب انتہائی شریف آدمی تھے اور اپنی فیملی کے ساتھ بالکل سامنے رہتے تھے اور ان کے ساتھ اشرف اور صبا کے اچھے مراسم تھے۔۔
صبا نے منصور صاحب کو دیکھا تو شرمندہ ہو کر اپنی نظریں جھکا لیں۔۔
منصور۔۔ بیٹی۔۔ تم اس گندے انسان کے منہ نہ لگا کرو۔۔ کتنی بار تم لوگوں کو منع کیا ہے۔۔
صبا نے شرمندگی سے سر جھکا لیا اور جیسے اس کی آنکھوں سے آنسو نکلنے کو ہی تھے۔۔ لیکن ساتھ ہی نفرت بھی اندر ہی اندر اور بڑھ گئی تھی۔۔ لیکن ایک بات تھی کہ اپنے گھر کا دروازہ بند کرنے تک اس بھیانک موسیقی کی آواز بھی بند ہو چکی تھی۔۔ اپنے گھر کا دروازہ اندر سے لاک کر کے صبا اپنے بیڈروم کی طرف بڑھی۔۔ یہ اسے ہی معلوم تھا کہ اس اتنی سی کام کے لیے وہ کس قدر ذلیل ہو کر آئی ہے اس بے شرم بدھے کے ہاتھوں۔۔ لیکن اسے پتہ تھا کہ اسے یہ بات اپنے شوہر اشرف کو نہیں بتانی ہے۔۔ بلکہ اس سے چھپانی ہے۔۔ جیسے وہ اب تک چھپاتی آئی ہے۔۔ اپنی تذلیل اور بے عزتی کو۔۔ کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کا شوہر اس سے لڑ پڑے جا کر اور پھر وہ کمینہ شخص اس کے شوہر کو کوئی نقصان پہنچائے۔۔
اسی لیے صبا نے فریج سے ٹھنڈا پانی نکال کر پیا اور پھر بیڈروم میں جا کر خاموشی سے بستر پر اپنے شوہر کے ساتھ لیٹ گئی۔۔
اشرف۔۔ کوئی بدتمیزی تو نہیں کر رہا تھا وہ کمینہ؟
صبا۔۔ نہیں۔۔ معذرت کر رہا تھا کہ آنکھ لگ گئی تھی اس لیے ایسا ہو گیا۔۔
اشرف نے بھی اب کروٹ لی اور سونے لگا۔۔ صبا بھی کروٹ لے کر اشرف کی پیٹھ سے چپک کر لیٹ گئی اور اس کمینے انسان کی باتوں کو اپنے دماغ سے نکالتے ہوئے خود کو نیند کی وادیوں میں لے جانے کی کوشش کرنے لگی۔۔
صبا اور اشرف کی شادی کو ابھی کوئی چھ سات مہینے ہوئے تھے۔۔ دونوں اپنی شادی سے بے حد خوش تھے اور اپنی شادی کے ابتدائی دنوں کو خوب خوب انجوائے کر رہے تھے۔۔ اسی لیے اشرف۔۔ جو پہلے اپنے بڑے بھائی کے ساتھ رہتا تھا۔۔ نے اب اپنے لیے رہنے کا الگ بندوبست کر لیا تھا۔۔ یہ بندوبست یہی تھا کہ اب اشرف نے اس بلڈنگ میں ایک فلیٹ لے لیا تھا اور اب انہیں قریب ایک مہینہ ہو گیا تھا یہاں شفٹ ہوئے۔۔ یہ ایک پانچ منزلہ بلڈنگ تھی۔۔ جس کی ہر منزل پر چھ فلیٹ تھے۔۔ انہیں آخری منزل پر ہی جگہ مل سکی تھی۔۔ اس سے اوپر خالی چھت تھی۔۔ جس کی سیڑھیاں بھی ایک کونے سے جاتی تھیں۔۔ تمام فلیٹس کے کمروں کی سیٹنگ ایک جیسی ہی تھی۔۔ مین ڈور سے داخل ہونے کے بعد ایک سٹنگ روم تھا جو مہمانوں کے بیٹھنے اور ٹی وی لاؤنج کے لیے استعمال ہوتا تھا۔۔ اسی سٹنگ روم کے ایک حصے میں چھوٹا سا کچن تھا۔۔ پھر ایک بیڈروم تھا۔۔ جس کے ساتھ ہی اٹیچڈ باتھ روم تھا اندر ہی۔۔ سٹنگ روم سے ایک کھڑکی باہر کی طرف کھلتی تھی ایک چھوٹی سی بالکونی میں۔۔ یہ بالکونی کپڑے وغیرہ سکھانے کے لیے اور بیٹھنے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔۔ صبا کے فلیٹ کی بالکونی میجر صاحب کے فلیٹ کی بالکونی سے ملی ہوئی تھی۔۔ درمیان میں ایک چھوٹی سی دیوار تھی جو قریب چار فٹ تک ہو گی۔۔
میجر جوہر اشرف اور صبا کا نیکسٹ ڈور ہمسایہ تھا۔۔ وہ ایک ایکس ملٹری آفیسر تھا۔۔ آفیسر تھا۔۔ یعنی کہ کچھ سال پہلے اسے آرمی سے نکال دیا گیا تھا اس کے برے رویے اور ایٹی ٹیوڈ کی وجہ سے۔۔ اپنے سے نچلے درجے کے آفیسرز اور عام سپاہیوں کے ساتھ اس کا رویہ بہت ہی برا تھا۔۔ جس کے لیے اسے کئی بار وارننگ بھی دی گئی تھی۔۔ لیکن اس پر کوئی اثر نہ ہوا تھا۔۔ اور آخر کار اسے آرمی سے نکال دیا گیا۔۔ لیکن تب تک وہ میجر کے رینک تک پہنچ ہی چکا تھا۔۔
میجر جوہر اب چالیس کی دہائی میں تھا۔۔ لیکن دوسرے آرمی آفیسرز کی طرح ہی بہت فٹ اور چست تھا۔۔ سر کے بال کافی حد تک اڑ چکے تھے۔۔ رنگ بھی سانولا تھا۔۔ قد 5.8 تھا۔۔ چہرہ گول موٹول تھا اور صرف ٹھوڑی پر تھوڑی تھوڑی داڑھی رکھی ہوئی تھی۔۔ جو اس کے سفاک چہرے پر اور بھی گھناؤنی لگتی تھی۔۔ روزانہ جاگنگ اور ایکسر سائز اس کی عادت تھی۔۔ باڈی ابھی بھی کافی مضبوط اور طاقتور تھی۔۔ اب اس کا گذر ادھر ادھر انویسٹ کیے ہوئے پیسوں پر ہی چل رہا تھا اور کافی اچھا گذر ہو رہا تھا۔۔ کیونکہ صرف اکیلا ہی تو تھا وہ کھانے والا۔۔ اس کی بیوی بھی کافی عرصہ پہلے اسے چھوڑ کر چلی گئی تھی۔۔ جس کی وجہ سے بھی اس کے مزاج میں بہت زیادہ سختی آ گئی تھی۔۔ صبح صبح اٹھ کر جاگنگ اور ایکسر سائز۔۔ پھر اپنے گھر میں ہی بیٹھنا یا کبھی کبھار کہیں نہ کہیں اپنی انویسٹمنٹ چیک کرنے چلے جانا۔۔ اور شام کو اکثر گھر پر ہی شراب کی محفل سجاتا تھا۔۔ جس میں اکثر اکیلا ہی ہوتا یا کبھی کبھار اس کے دوست بھی اس کے پاس آ جاتے تھے اور پھر وہاں خوب مستی کرتے تھے۔۔
بات بات پر گالی دینا اور بلڈنگ والوں سے لڑنا اس کا معمول تھا۔۔ جس کی وجہ سے اسے کوئی بھی اچھا نہیں سمجھتا تھا اور پوری بلڈنگ میں کوئی بھی اس کا دوست نہیں تھا۔۔ ہر کوئی اس سے دور ہی رہنا پسند کرتا تھا۔۔ بلڈنگ کے مالک کے ساتھ اس کے اچھے تعلقات تھے۔۔ جس کی وجہ سے اسے آج تک یہاں سے نکالا نہیں گیا تھا۔۔ ان کی اپنی منزل پر رہنے والے لوگ بھی ان سے کافی ڈر کر رہتے تھے۔۔ ان تمام بری عادات کے باوجود بھی میجر صاحب میں چھچھورا پن نہیں تھا کہ کبھی کسی نے انہیں کسی لڑکی یا بلڈنگ کی کسی عورت کو ایسی ہی چھیڑتے ہوئے دیکھا ہو یا تنگ کیا ہو۔۔ لیکن اگر کوئی ان سے بات چیت کرتا تو ان کی شرارتوں سے محفوظ نہ رہ پاتا تھا۔۔ صرف اسی لحاظ سے سب لوگ انہیں برداشت کر رہے تھے کہ اگر اسے کچھ نہ کہا جائے تو یہ کسی کو تنگ نہیں کرتا اور صرف اپنی ہی دنیا میں مگن رہتا ہے۔۔
اشرف اٹھائیس سال کا ایک خوبصورت جوان لڑکا تھا۔۔ وہ ایک پرائیویٹ فرم میں سپروائزر کے طور پر کام کرتا تھا۔۔ جہاں اس کی جاب صبح آٹھ سے رات آٹھ بجے تک ہوتی تھی۔۔ کبھی کبھار اگر ڈیوٹی چینج ہوتی تھی تو پھر اسے نائٹ پر جانا پڑتا تھا۔۔ جو کہ رات آٹھ بجے سے صبح آٹھ بجے تک ہوتی تھی۔۔ لیکن کچھ دور ہونے کی وجہ سے اسے سات بجے نکلنا پڑتا اور پھر وہ نو بجے صبح ہی واپس پہنچتا تھا۔۔ اسی طرح رات کو بھی صبح کی ڈیوٹی کر کے وہ نو بجے ہی پہنچتا تھا اور اسی لیے اسے رات کو مکمل سکون کی ضرورت ہوتی تھی تاکہ وہ صبح جاب پر جانے کے لیے مکمل آرام کر سکے۔۔ اشرف ایک بہت ہی ہنس مکھ اور خوبصورت نوجواں تھا۔۔ صبا اس سے بہت ہی خوش رہتی تھی۔۔ وہ بہت ہی محنتی شخص تھا۔۔ کام پوری ایمانداری اور محنت سے کرتا اور جب گھر پر ہوتا تو اپنی بیوی کو مکمل ٹائم دیتا تھا۔۔ بلکہ اس قدر اس کے پیچھے رہتا کہ کبھی کبھار تو وہ بھی تنگ ہو جاتی تھی۔۔ گھر میں ہوتے ہوئے وہ ہر وقت صبا کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتا رہتا تھا۔۔ جسے دونوں ہی انجوائے کرتے تھے۔۔ گھر کے اندر اشرف بہت آزاد تھا اور خوب انجوائے کرتا تھا۔۔
صبا کی عمر چوبیس سال تھی۔۔ مگر چوبیس سال کی عمر میں ہی اس کا جسم بہت خوبصورت اور بھرا ہوا تھا۔۔ پتلی لڑکیوں کی طرح نہیں۔۔ بلکہ اچھی ہیلتھی لڑکی تھی۔۔ لیکن اسے موٹی ہرگز نہیں کہا جا سکتا تھا۔۔ بہت خوبصورت اور اچھے نین نقش کی لڑکی تھی۔۔ جس کا رنگ بھی بہت گورا چٹا تھا۔۔ بوبز بھی اپنی عمر کی لڑکیوں کی نسبت بڑے لیکن خوبصورت تھے۔۔ اس کی بریزیئر کا سائز 36B تھا۔۔ قد بھی اونچا لمبا تھا۔۔ بس یہ کہہ لیں کہ دونوں کی جوڑی انتہائی خوبصورت کہی جا سکتی ہے۔۔ جسے جو بھی دیکھتا تھا۔۔ رشک یا حسد کی نظر سے ہی دیکھتا تھا۔۔ صبا بھی اپنے شوہر سے پوری طرح سے خوش تھی اور اپنی میریڈ لائف کا آغاز بہت ہی اچھے طریقے سے ہونے پر وہ بہت خوش تھی۔۔ گھر میں تو وہ اپنے شوہر کی فرمائش کے مطابق ہر قسم کے ڈریس پہن لیتی تھی۔۔ جس میں ٹائٹس اور لو اینڈ ڈیپ نیک شرٹس بھی شامل تھیں۔۔ لیکن جب بھی اشرف اسے باہر لے کر جاتا تو اسے ایک فیشن کے مطابق برقع یا نقاب ضرور پہناتا تھا۔۔ جس میں سے صرف اس کے گورے گورے ہاتھ اور خوبصورت ہلکی سبز رنگ کی آنکھیں ہی نظر آتی تھیں۔۔ یہاں تک کہ گھر میں تو وہ اشرف کی فرمائش پر شارٹ اسکرٹ تک پہن لیتی تھی شرٹس کے ساتھ۔۔ اور اسے خود بھی گھر میں اس قسم کی آزادی کے ساتھ رہنا بہت اچھا لگتا تھا۔۔(جاری ہے)
📖 ہماری پریمیم کہانیوں کو پڑھنے کے لیے ہمارے فورم کو جوائن کریں
🔗 فورم جوائن کریں