جیسے ہی میجر کو محسوس ہوا اس نے فوراً سے پہلے اپنا لن اس کی چوت سے نکال لیا صبا تو جیسے جل اٹھی تڑپ اٹھی اپنی بے چینی پر اپنی تذلیل پر فوراً سے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور میجر کے لن کو پکڑنا چاہا لیکن اس کا ہاتھ میجر کے لن پر لگے ہوئے اپنی ہی چوت کے چکنے پانی سے پھسل گیا اور میجر کا لن پھسل کر اس کی گرفت سے نکل گیا میجر اس کی چوت سے لن ہٹا کر صوفے سے نیچے کھڑا ہو چکا تھا صبا اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی جیسے پوچھ رہی ہو کیا ہوا کیوں مجھے ادھورا چھوڑ کر جا رہے ہو دونوں بار پہلے اس نے میری مرضی کے بغیر ہی مجھے چودا میں نہیں چاہتی تھی لیکن اس نے چود دیا مجھے آج جب میں خود اس سے چدوانا چاہ رہی تھی جب خود میری چوت اس کا لن مانگ رہی تھی تو اس طرح مجھے ادھورا اور پیاسا چھوڑ جا رہا ہے کمینہ۔۔
میجر اس کی حالت دیکھ کر مسکرا رہا تھا خاموشی سے اس نے اپنی پینٹ پہنی اور صبا کو تڑپتا ہوا چھوڑ کر بالکنی کی طرف بڑھا رات کو بالکنی کا دروازہ کھلا رکھنا اور موبائل بھی پھر آؤں گا تیری پیاس بجھانے تیری چوت چودنے اتنی آگ تو رنڈیوں کی چوت میں نہیں ہوتی جتنی تیرے اندر لگی رہتی ہے ہر وقت میجر نے اسے ذلیل کرتے ہوئے کہا صبا وہیں صوفے پر لیٹی ہوئی بے بسی سے میجر کی طرف دیکھ رہی تھی اور اپنے ہاتھ کو اپنی چوت پر رکھے اسے دبا رہی تھی بھینچ رہی تھی باہر اندھیرا ہو چکا تھا میجر بالکنی سے اپنے فلیٹ میں چلا گیا اور اس کے جاتے ہی صبا اپنی چوت کو خود ہی اپنے ہاتھوں سے رگڑنے لگی آج بھی اپنی انگلی اپنی چوت میں ڈال لی کیوں چھوڑ گیا ہے ایسے مجھے سمجھتا کیا ہے یہ کمینہ خود کو مجھے رنڈی بنا دیا ہوا ہے کہ جب دل کرے مجھے اس طرح گرم کر دے اور پھر بیچ میں چھوڑ دے کیا کروں اوووووووووووووووووف آآآآآآآآآہ کیا کروں آ آ آ آ آ آ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ گ گ گ گ گ گ گ گ گ م م م م م م م م م م اور پھر میجر کو یاد کرتے کرتے ہی اپنی انگلی سے ہی آخر اس نے اپنا پانی نکال لیا چوت کی آگ تھوڑی دیر کے لیے ٹھنڈی ہو گئی تو جسم بھی ٹھنڈا پڑ گیا لمبے لمبے سانس لیتی ہوئی وہیں لیٹ گئی صوفے پر ہی ننگی ہی پورے جسم کی جان نکل چکی ہوئی تھی بے جان ہو رہا تھا جسم بالکل ڈھیلا۔۔
کیوں اس کمینے کو اتنی آزادی دے دی ہے میں نے کیوں خود کو اتنا کمزور کر دیا ہے اس کے سامنے کیا ہے آخر اس میں ایسا جو میری ساری ہمت ختم کر دیتا ہے اس کا غصہ یا اس کا لن۔۔
ہاں شاید دوسری بات ہی ٹھیک ہے لیکن نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ایسا ہونا بھی نہیں چاہیے کیسے مجھے رات کو آنے کا بول گیا ہے جیسے جیسے میں اس کی کوئی زر خرید ہوں اس کی غلام ہوں جیسے کوئی رنڈی ہوں جس نے اس سے پیسے لیے ہیں اور اس نے اب رات کو آنا ہو کیا حق ہے اسے مجھ پر ایسا حکم چلانے کا کہیں بھی نہیں جاؤں گی میں رات کو چاہے جتنا بھی بلائے نہیں جاؤں گی میں کوئی رنڈی ہوں جو رات کو اس کے کہنے پر اٹھ کر اس کے پاس چلی جاؤں نہیں ہوں میں رنڈی اتنا ہی شوق ہے میرے پاس آنے کا دوبارہ سے تو اس وقت کیوں چھوڑ گیا تھا مجھے تڑپتا ہوا سسکتا ہوا سب تو نظر آ رہا تھا کہ میری کیا حالت تھی اب کیا میں اس کی منتیں کرتی کہ مجھے چود دو۔۔
اب نہیں جاؤں گی بس اشرف کے پاس ہی رہوں گی صرف اپنے اشرف کے پاس اس کا چھوٹا ہے تو کیا ہوا اب صرف اس سے ہی پیاس بجھاؤں گی اپنی صبا فیصلہ کر رہی تھی پکا فیصلہ۔۔
ایک بار پھر اپنے اندر میجر کے لیے نفرت اور اپنے شوہر اشرف کے لیے محبت پیدا کر کے صبا نے خود کو سنبھالا اور سٹنگ روم میں بکھرے ہوئے اپنے کپڑے اٹھانے لگی جلدی سے اپنی شلوار برا اور قمیض پہنی اور اپنے بال ٹھیک کرنے لگی حلیہ درست کرنے لگی آئینے میں خود کو دیکھا تو خود سے بولی صاف لگ رہا ہے جیسے تو بری طرح سے چد گئی ہو آج بھی حالانکہ آج تو اس نے مجھے چودا بھی نہیں ہے کمینہ ادھورا ہی چھوڑ گیا ہے جانور ہے پورا کسی کے جذبات کا کوئی احساس ہی نہیں ہے اس کمینے کو بڑا غرور ہے نا جیسے اپنے لن پر صبا غصے اور حسرت کے ملے جلے جذبات کے ساتھ پھر سے میجر کو یاد کرنے لگی تھی بنا کسی ارادے کے۔۔
حلیہ ٹھیک کر کے باہر آئی فرج سے پانی نکال کر پیا اور پھر سٹنگ روم کا حلیہ ٹھیک کرنے لگی سب چیزیں اپنی اپنی جگہ پر رکھنے اور سمیٹنے لگی یہ کیا یہ انڈرویئر کس کا ہے اشرف کا تو ہے نہیں اوہ یہ تو اسی کتے کا ہے کمینہ ویسے ہی پینٹ پہن گیا ہے۔۔
صبا نے میجر کے اتارے ہوئے انڈرویئر کو اٹھا لیا اسے دیکھنے لگی کتنا گندا ہو رہا ہے پتہ نہیں دھوتا کیوں نہیں ہے اندر کو دیکھا تو اس پر پیلے پیلے نشان بھی نظر آ رہے تھے شاید میجر کے پسینے کے اور شاید اس کے پیشاب کے کتنی سمیل آ رہی ہے صبا نے تھوڑا سا اوپر لا کر میجر کے گندے انڈرویئر کو سونگھا کتنی گندی سمیل ہے بدبو ہے جیسے میل اور پیشاب اور پتہ نہیں کیا کیا لگا ہو اس پر ڈسٹ بن میں پھینک دیتی ہوں اس کمینے کے گندے انڈرویئر کو صبا ڈسٹ بن کی طرف بڑھی پھینکنے ہی لگی تھی کہ خیال آیا اگر اس کمینے نے واپس مانگ لیا تو کیا کروں گی اس ذلیل آدمی سے کچھ بھی امید کی جا سکتی ہے پھر کیا کروں ہاں اس کی بالکنی میں پھینک دیتی ہوں یہ ٹھیک ہے۔۔
باہر بالکنی میں گئی ہوا چل رہی تھی نہیں اگر پھینکتے ہوئے ہوا سے نیچے چلا گیا تو تو پھر سے وہی مصیبت ہو جائے گی پھر میرے سر ہو جائیں گے وہ اپنی گندی حرکتیں لے کر وہ واپس آ گئی کیا کروں اب اس کا بیڈ روم میں آئی ہاتھ میں وہی گندا انڈرویئر پکڑے ہوئے اس کے فلیٹ پر جا کے دے آتی لیکن اب تو اشرف کسی وقت بھی آ سکتا ہے کہاں چھپاؤں اس کو جہاں اشرف کی نظر نہ پڑے اس پر اچانک اسے ایک خیال آیا ہاں یہ جگہ ٹھیک ہے وہ جلدی سے اپنی کپڑوں کی الماری کی طرف بڑھی ایک ڈراور کھولا اس میں صرف اور صرف صبا کے انڈراگارمنٹس تھے اس کی برا پینٹیز اور اس کے وسپر ہاں اس کے وسپر پیڈز کا پورا پیکٹ اس کے پیریڈز کے لئے صبا نے اس کھلے ہوئے وسپر پیڈز کے پیکٹ کو کھولا اور میجر کا انڈرویئر گندا انڈرویئر میل گندگی پیشاب اور شاید منی سے خراب ہو رہا ہوا میجر کا انڈرویئر اپنے انیوزڈ مینسس پیڈز کے پیکٹ میں ٹھونس دیا سکون کا سانس لیتی ہوئی سوچنے لگی ہاں یہی سیف جگہ ہے کیونکہ اسے پتہ تھا کہ اشرف کبھی بھی اس کے انڈراگارمنٹس والے ڈراور کو نہیں کھولتا اور اس کے وسپر پیڈز کو دیکھنا اور چھونا تو بہت دور کی بات تھی۔۔
باہر سیٹنگ روم میں آئی تو دیکھا کہ کافی وقت ہو چکا ہے اور اشرف ابھی تک نہیں آیا اسے فکر ہونے لگی صبا نے اپنا فون اٹھایا اور اشرف کا نمبر ملایا۔۔
صبا۔۔ ہیلو کہاں رہ گئے ہو ابھی تک واپس کیوں نہیں آئے کیا کام بہت زیادہ ہے۔۔
اشرف۔۔ نہیں بس پہنچ ہی رہا ہوں 5 منٹ میں اشرف نے جواب دیا۔۔
تھوڑی دیر میں بیل ہوئی جلدی سے صبا دروازے کی طرف دوڑی گیٹ کھولا تو اشرف ہی تھا سر جھکائے ہوئے اندر آ گیا اس کا چہرہ ابھی بھی پریشان لگ رہا تھا غصہ اور شرم کی کیفیت اس کے چہرے پر صاف نظر آ رہی تھی اسی پریشانی اور شرمندگی کی وجہ سے تو وہ جلدی جلدی گھر سے نکل گیا تھا ہمت نہیں کر پا رہا تھا صبا کے سامنے بیٹھا رہنے کی حالانکہ اس کا بالکل بھی دل نہیں کر رہا تھا ڈیوٹی پر جانے کو لیکن گھر بیٹھ کر وہ خود کو اور بھی شرمسار ہی محسوس کرتا اسے محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے ایک مکا مار کر میجر نے اسے صبا اپنی ہی بیوی کی نظروں میں گرا دیا ہو اسے اس کے سامنے حقیر ثابت کر دیا ہو اپنی ڈیوٹی پر بھی وہ پریشان ہی رہا تھا جو کچھ بھی میجر نے آج اس کے ساتھ کیا تھا وہ ایکسٹریم تھی اس کو اس کی بیوی کے سامنے ہی مکا مار دیا تھا اسے بے بس کر دیا تھا اشرف کو اس بات پر غصہ آ رہا تھا اور شرمندگی اس بات کی تھی کہ وہ اس کو جواب نہیں دے پایا تھا اپنی بیوی کے سامنے وہ میجر کا کچھ نہ بگاڑ سکا تھا اس کی اپنی جسمانی طاقت اتنی نہیں تھی میجر کے مقابلے میں کہ وہ اس کا بدلہ لے سکتا میجر نے اس کی بیوی کی تذلیل کی تھی بے عزتی کی تھی لیکن وہ اس کا کچھ نہ کر سکا یہ بات اس کو پریشان کر رہی تھی کیا میں اپنی بیوی کی حفاظت بھی نہیں کر سکتا اس کمینے نے اتنی بے عزتی کی میری بیوی کی اور میں اس سے مکا کھا کر گر پڑا لعنت ہے مجھ پر اپنی اسی شرمندگی کی وجہ سے ہی وہ کافی دیر تک گھر نہیں آیا تھا حالانکہ اپنے کام سے تو وہ ایک ایک گھنٹے میں ہی فارغ ہو گیا تھا لیکن گھر آنے کی بجائے ایک پارک میں ٹہلتا رہا تھا سوچتا رہا تھا اپنے اندر حوصلہ پیدا کرنے کی کوشش کرتا رہا تھا کہ کیسے سامنا کرے وہ صبا کا پارک میں کافی وقت ضائع کیا تھا اس نے حالانکہ اگر وہ پہلے ہی گھر آجاتا تو اسے گھر پر ایک اور ہی منظر نظر آتا جس میں ایک بار پھر سے اس کی بیوی کی تذلیل ہو رہی ہوتی اور اس کی بھی اور اس منظر کو دیکھ کر وہ تو ڈوب ہی مرتا اور یا پھر کسی نہ کسی کو مار ہی دیتا لیکن شکر ہے کہ وہ نہیں گھر آیا سیدھا اپنی بیوی کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی کیا سوچتی ہو گی وہ کہ میں اس کی حفاظت بھی نہیں کر سکتا کیا سوچتی ہو گی کہ میں کتنا کمزور ہوں اور بے بس ہوں اس ذلیل شخص کے سامنے کیا مجھے یہ فلیٹ چھوڑ دینا چاہیے کیا کروں آخر میں یہی وقت تھا جب صبا کی کال آئی تھی اور اسے واپس اپنے گھر جانا پڑا تھا گھر پہنچ کر بھی اس نے حقارت سے اور شاید بے بسی سے میجر کے فلیٹ کے دروازے کی طرف دیکھا میرا بس چلے تو آگ لگا دوں اس کے فلیٹ کو زندہ ہی جلا دوں گا کمینہ۔۔
گھر کے اندر آتے ہی ایک اچھی بیوی کی طرح صبا نے پہلی ہی نظر میں جان لیا کہ ابھی بھی اشرف کا موڈ ٹھیک نہیں ہے اور وہ بے حد شرمندہ لگ رہا ہے لیکن صبا اسے مزید شرمندہ نہیں کرنا چاہتی تھی اسے پتہ تھا کہ اس میں اشرف کا کوئی قصور نہیں ہے میجر جیسے گندے اور بدمعاش کے ساتھ اس جیسا شریف آدمی کیسے الجھ سکتا ہے پھر میجر ہٹا کٹا اور باڈی بلڈر آدمی تھا اور اشرف نازک سے جسم والا ایک عام شریف آدمی جو کہ صرف اپنے گھر میں اپنی بیوی پر ہی اپنا حکم چلاتا ہے اور غصہ دکھاتا ہے لیکن باہر جس کی کوئی خاص حیثیت نہیں ہوتی باہر کسی سے لڑنے کی ہمت نہیں ہوتی صبا اشرف سے بہت زیادہ ایکسپیکٹ بھی نہیں کر رہی تھی صبا نے تھوڑی سی کام کے بارے میں باتیں کیں اور پھر کھانا لگانے کا پوچھا لیکن اشرف نے منع کر دیا کہ مجھے بھوک نہیں ہے۔۔
صبا۔۔ کیا بات ہے اشرف لگتا ہے کہ تم ابھی تک اسی بات کو لے کر بیٹھے ہو چھوڑو اب اس بدمعاش کے بارے میں سوچنا۔۔
اشرف چپ رہا سر جھکا کر بیٹھا رہا شرمندہ سا بے بس سا۔۔
صبا۔۔ دیکھو اشرف اس بات کو دل پر لینے کی ضرورت نہیں ہے وہ ایک کمینہ اور گھٹیا آدمی ہے ہم اس سے پنگا نہیں لے سکتے وہ جو بھی بات کرتا ہے اور جو کچھ بھی اس نے کیا وہ اپنی گندی ذہنیت اور گھٹیا پن کو شو کرنے کے لئے کیا تم کیوں پریشان ہوتے ہو۔۔
اشرف۔۔ لیکن اس نے تم کو بھی گندی گندی گالیاں دیں لیکن میں کچھ نہیں کر سکا۔۔
صبا اشرف کو اپنی باہوں میں بھرتے ہوئے بولی ارے یار کہہ دیا تو کیا ہوا میرا کیا بگڑ گیا ہے ریلیکس کرو یار ڈونٹ فیل ووریڈ۔۔
اشرف۔۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں یہ فلیٹ چھوڑ کر کہیں اور چلے جانا چاہیے۔۔
صبا۔۔ ہاں تم ٹھیک کہہ رہے ہو تم دیکھو چھوڑو کوئی اور جگہ پھر ہم وہاں شفٹ ہو جائیں گے چلو اٹھو ہاتھ دھو کر آؤ اور کھانا کھاتے ہیں اور اس معاملے کو میں خود ہی ہینڈل کر لوں گی منصور انکل کی وائف سے کہوں گی کہ وہ بات کریں منصور صاحب سے اور میجر کو کچھ سمجھائیں۔۔
صبا نے بات کو ختم کرنے کے لیے کہا حالانکہ یہ اسے ہی پتہ تھا کہ وہ معاملہ ختم کر چکی ہے اور کیسے اور اس معاملے کو ختم کرنے کی کیا قیمت اسے ادا کرنی پڑی ہے اور ابھی آگے کیا قیمت چکانی پڑے گی۔۔
اشرف کو کچھ حوصلہ ہوا وہ اٹھا اور پھر دونوں نے ایک ساتھ کھانا کھایا کھانا کھاتے ہوئے بھی سوچ رہی تھی اب اسے کیسے بتاؤں کہ کیسے معاملہ ختم ہوا ہے کیا کچھ بھگتنا پڑا ہے اسے اس معاملے کو ختم کرنے کے لئے اور جاتے ہوئے کتنا برا کر کے گیا ہے وہ کمینہ اس کے ساتھ کیسے بتاتی کہ وہ اس کی چوت کی پیاس بڑھا کر اسے پیاسا چھوڑ کر دفع ہوا ہے اور رات کو دوبارہ آنے کا کہہ گیا ہے اور یہ سب صرف اسی کی وجہ سے ہوا ہے۔۔
رات کا کھانا کھانے کے بعد اشرف کیبل پر ایک مووی دیکھنے لگا اگلے دن کی چھٹی جو تھی اس لئے اسے کوئی جلدی نہیں تھی سونے کی کیونکہ صبح جلدی اٹھنا کوئی ضروری نہیں تھا صبا بھی اس کے پاس ہی بیٹھی ہوئی تھی سیٹنگ روم میں ٹی وی دیکھنے صبا کو خیال آیا کہ اشرف اسی صوفے پر بیٹھا ہوا ہے جس پر کچھ دیر پہلے میجر بیٹھا ہوا تھا اور اسی صوفے پر میجر نے اسے ننگی کر کے بے شرمی سے اپنی دونوں ٹانگیں کھول کر لیٹنے پر مجبور کیا تھا اور اسی صوفے پر وہ کمینہ اس کے جسم میں آگ لگا کر اسے پیاسا چھوڑ کر چلا گیا تھا بنا اس کے جذبات اور پیاس کی پرواہ کیے ہوئے۔۔
مووی صبا نے کیا دیکھنی تھی جیسے جیسے ٹائم گزر رہا تھا ویسے ویسے اس کی بے چینی میں اضافہ ہو رہا تھا رات کے قریب بارہ بج رہے تھے اور اشرف کا سونے کا کوئی موڈ نہیں بن رہا تھا پریشانی صبا کو تھی تو صرف میجر صاحب کی کہ اگر ابھی کسی وقت میں اشرف کے جاگتے ہوئے ہی وہ آگیا تو کیا ہو گا صبا کا اپنا سارا پول کھل جائے گا وہ صوفے پر بیٹھی ہوئی بار بار بالکنی کے دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی کہ کہیں وہ آ تو نہیں گیا اور آیا تو اسے وہیں سے روک دے گی منت کر کے لیکن کیا وہ مان جائے گا مانے گا تو دوبارہ آنے کی شرط پر ٹھیک ہے بعد میں آجائے آتا ہے تو لیکن اس وقت نہیں اب کوئی اور جھگڑا شروع نہیں کروانا چاہتی میں پٹنا تو اشرف نے ہی ہے دوبارہ سے لیکن اس بار بدنامی بہت زیادہ ہو گی اور سب سے زیادہ میری اپنی آگے کا سب کچھ سوچ کر صبا کانپ اٹھی نہیں نہیں اسے روکنا ہو گا کسی بھی قیمت پر اس کی اپنی پسند کی قیمت پر کسی بھی شرط پر اس کی ہر شرط ماننی پڑے گی جیسے وہ پہلے منوا کر گیا ہے لیکن پہلے تو وہ مجھے عجیب پیاسی حالت میں چھوڑ گیا ہے اسی وقت سب کچھ کر جاتا تو اچھا تھا نا کیسی آگ لگا دی تھی میری چوت میں یہ خیال آتے ہی صبا کو ایک بار پھر سے اپنی چوت میں تھوڑی سنسناہٹ سی محسوس ہونے لگی جیسے اندر گیلا پن شروع ہو رہا ہے نہیں نہیں یہ میرا وہم ہے ایسا کچھ نہیں ہو رہا ہے نیچے وہاں صبا نے خود سے ہی شرمندہ ہو کر خود سے ہی جھوٹ بولنا شروع کر دیا۔۔
ایک بار تو جب اس کی بے چینی بہت بڑھ گئی تو وہ اٹھ کر باہر بالکنی میں ہی چلی گئی دیکھنے کی کہیں وہ آ تو نہیں رہا لیکن باہر بالکل اندھیرا تھا بالکنی کے پیچھے نیچے کے گراؤنڈ میں اس وقت بالکل خاموشی اور اندھیرا تھا کہیں کہیں سے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں بھی آ رہی تھیں صبا نے دیوار کے اوپر سے میجر کے فلیٹ میں جھانکا تو اس کے سیٹنگ روم کی لائٹ جل رہی تھی لیکن ونڈو کے آگے پردہ ہونے کی وجہ سے کچھ بھی نظر نہیں آرہا تھا ابھی بھی جاگ رہا ہے کمینہ آئے گا تو ضرور اپنی ہوس پوری کرنے مجھے ذلیل کرنے صبا نے سوچا یہ سوچتے ہوئے اس کا ہاتھ اپنی جانے کیسے اپنی چوت پر چلا گیا اور اپنے پاجامے کے اوپر سے ہی اس نے اپنی چوت کو سہلانا شروع کر دیا میجر کے فلیٹ کے اندر جھانکنے کی کوشش کرتے ہوئے پھر وہ واپس مڑی اشرف پر اس کی نظر پڑی کیسی عجیب بات ہے نا کہ جس شخص کے لئے میرے شوہر کا خون کھول رہا ہے اسی دشمن کے لئے میری چوت گیلی ہو رہی ہے۔۔
قریب ایک بجے مووی ختم ہوئی تو صبا اور اشرف دونوں بیڈ روم میں آگئے اشرف اپنی سائیڈ پر دوسری طرف منہ کر کے لیٹ گیا صبا کو حیرانی ہوئی کہ اس نے کچھ بھی نہیں کیا اور کیوں خاموشی سے لیٹ گیا ہے خود صبا کی حالت بھی خراب ہو رہی تھی وہ پیچھے سے ہی اشرف کی کمر سے لپٹ گئی اپنے بوبز اس کی کمر سے پریس کر دیے اور اپنی ٹانگ اس کی کمر پر رکھ کر اپنی چوت کو آہستہ آہستہ اس کے ہپس سے رگڑنے لگی اس کی چوت تو پہلے ہی گیلی ہو رہی تھی لیکن اشرف نے کوئی رسپانس نہیں دیا شاید یہ ابھی بھی پریشان تھا۔۔
صبا نے اشرف کی کروٹ اپنی طرف کی اور اسے اپنی باہوں میں لینا چاہا وہ اب میجر سے نہیں ملنا چاہتی تھی لیکن اس کے جسم کی آگ ابھی تک ٹھنڈی نہیں ہوئی تھی صبا نے اپنے ہونٹ اشرف کے ہونٹوں پر رکھے اور اشرف کے بے جان سے جسم کو چومنے لگی م م م م م کتنےنرم ہونٹ ہیں اشرف کے کتنا مزہ آتا ہے اس کے ہونٹوں کو چومنے اور چوسنے کا اور ایک وہ میجر ہے کتنے موٹے اور کھردرے ہیں اس کے ہونٹ موٹے اور کالے بدبو دار سخت ہیں ہونٹ اس کے شاید مردوں کے بھرپور مردوں کے ہونٹ ایسے ہی ہوتے ہوں اشرف بھی تو مرد ہی ہے لیکن اس کے ہونٹ کتنے نرم ہیں لڑکیوں کی طرح سوفٹ لیکن اس میں اشرف کا کیا قصور ہے ہونٹ اس کے بھی تو اس کے باقی جسم کی طرح ہی ہوں گے نا جیسے باقی جسم نرم ہے ویسے ہی ہونٹ بھی ویسے بھی یہ کون سا باڈی بلڈنگ اور ایکسرسائز کرتا ہے جو اس کا جسم بھی مضبوط اور سولڈ ہو سخت ہو میجر کی طرح جو میرے نازک بدن کو اپنی باہوں میں لیتا ہے تو توڑ کے رکھ دیتا ہے جیسے جسم کی ہڈیاں ہی توڑے گا کمینہ۔۔
اشرف کو کس کرتے ہوئے وہ میجر کو یاد کر رہی تھی اس کی بند آنکھوں کے آگے غیر ارادی طور پر میجر کا ہی چہرہ آگیا تھا جب وہ اس کے ہونٹوں کو چوم رہا تھا چوس رہا تھا اسے یاد کرتے ہوئے صبا کی گیلی چوت اب تو جیسے پوری طرح سے پانی بہانے لگی وہ اپنے خیالوں سے میجر کا چہرہ ہٹانا چاہتی تھی سوچنے لگی سوچنے کی کوشش کرنے لگی اشرف نے بھی اب اس کی کسنگ کا جواب دینا شروع کر دیا تھا اپنے ہاتھوں کو اس کی کمر پر پھیرنے لگا آنکھیں کھول کر اشرف کو دیکھتے ہوئے سوچنے لگی اشرف کتنا پیار سے چوم رہا ہے کتنا پیار کرتا ہے مجھے اور وہ کمینہ پیار تو جیسے جانتا ہی نہیں وحشی کیسے مارتا ہے میرے ہپس پر اپنی سٹک سے جانوروں کی طرح کتنا ظالم ہے وہ پتہ نہیں کیا سمجھتا ہے خود کو اور کیسے لال لال نشان ڈال دیے ہیں اس نے میرے ہپس پر اوہ نو نہیں نہیں اشرف کو روکنا پڑے گا آج اپنی پیاس کو دبانا پڑے گا ورنہ اشرف کو سب پتہ چل جائے گا ان نشانات کے بارے میں جو میرے ہپس پر ہیں اتنی سی دیر کی کسنگ اور یا پھر میجر کو یاد کرنے کی وجہ سے صبا کی پیاس جاگ گئی تھی اس کی چوت گیلی ہونے لگی تھی لیکن اس نے آہستہ سے اشرف کو پیچھے ہٹایا اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے اور اسے بولا کہ آج نہیں کل کر لینا پلیز آج میں تھک گئی ہوں۔۔
اشرف نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا اور ہمیشہ کی طرح آج بھی مان گیا اور تھوڑی ہی دیر میں سو گیا صبا کے لیے خوشی کی بات تھی کہ اس نے آج بھی اس کی بات مان لی تھی اور اس کا راز راز ہی رہا تھا حالانکہ میجر کے اس طرح اسے پیاسا چھوڑنے کے بعد اس نے یہی سوچا تھا کہ وہ اشرف سے ہی اپنی چوت کی پیاس بجھائے گی لیکن اپنی گوری گوری گانڈ پر پڑے ہوئے سرخ نشانات کی وجہ سے وہ چپ رہی۔۔
ابھی اسی بات پر خوش ہو رہی تھی کہ اس کے دماغ میں خیال آیا آخر کیوں ہر بار اشرف اتنی آسانی سے مان جاتا ہے کیوں رک جاتا ہے جب بھی میں اسے روکتی ہوں تو کیوں زبردستی نہیں کرتا میرے ساتھ میجر تو کبھی بھی میرے روکنے سے نہیں رکتا وہ تو وہی کرتا ہے جو اس کا دل چاہتا ہے زبردستی چود دیتا ہے مجھے روند دیتا ہے میرے جسم کو توڑ دیتا ہے میرے بدن کو اور اگر چاہتا ہے تو پوری طرح سے گرم کر کے پیاسا بھی چھوڑ جاتا ہے پورا جانور ہے وہ میجر تو انسان نہیں ہے لیکن اشرف میں تھوڑی سی بھی حیوانیت کیوں نہیں ہے یہ سب سوچتے ہوئے بھی صبا کا ہاتھ خود سے اپنی گرم ہوتی ہوئی پگھلتی ہوئی چوت پر تھا۔۔(جاری ہے)
📖 ہماری پریمیم کہانیوں کو پڑھنے کے لیے ہمارے فورم کو جوائن کریں
🔗 فورم جوائن کریں