میجر نے اپنے دونوں ہاتھ نیچے لا کر صبا کے دونوں بوبز پر رکھے تو صبا جیسے اچھل ہی پڑی اور یکدم میجر سے الگ ہو گئی
میجر۔۔ کیا ہو گیا کیوں ڈر گئی ہو ابھی تو میں نے اپنا لن باہر نہیں نکالا جس کی یاد میں ساری رات جاگتی رہی ہو تڑپتی رہی ہو ہے نا۔۔
صبا نے کوئی جواب نہ دیا بس اپنی نظریں جھکا لیں
میجر نے دوبارہ سے صبا کے بوبز کو آہستہ آہستہ سہلانا شروع کر دیا گیلی شرٹ اور برا میں صبا کے بوبز کے نپلز بھی اکڑے ہوئے محسوس ہو رہے تھے جیسے جیسے میجر اس کے بوبز کو سہلاتا جاتا تھا ویسے ویسے ہی صبا کی آنکھیں بند ہو تی جا رہی تھیں بوبز سے تھوڑا ہاتھ نیچے لے جاتے ہوئے میجر نے اپنا ہاتھ صبا کی الاسٹک والی شلوار میں ڈال دیا اس کا ہاتھ سیدھا صبا کی چوت کے اوپر کے مخملی ریشمی بالوں پر آگیا دھیرے دھیرے اس کے بالوں کو سہلانے لگا صبا نے اس کا ہاتھ ہٹانا چاہا لیکن میجر نے دوسرے ہاتھ سے صبا کا ہاتھ پکڑ لیا اور صبا کی چوت کو سہلانے لگا اس کا موٹا۔۔ کھردراہاتھ صبا کی چوت کو سہلا رہا تھا اس کی چوت کے دانے کو رگڑ رہا تھا دھیرے دھیرے اس کی چوت کے سوراخ کو چھیڑ رہا تھا صبا کی حالت خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی تھی جیسے ہی میجر نے اپنی انگلی صبا کی چوت کے اندر داخل کی تو ایک تیز سسکاری کے ساتھ صبا میجر کے مضبوط جسم کے ساتھ چپک گئی اور اپنا سر میجر کے کندھے پر رکھ دیا جیسے خود کو ایک بار پھر سے میجر کے سپرد کر دیا ہو جیسے آج پھر سے خود کو میجر کے سپرد کر دیا ہو میجر بھی بری طرح سے صبا کی چوت کو رگڑتا جا رہا تھا اس کی چوت کے دانے کو سہلاتے ہوئے اس کی چوت کے اندر باہر انگلی کر رہا تھا اور صبا کے منہ سے سسکاریاں نکل رہی تھیں آ آ آ آ آ آ آ آ آ آ پلیززززززززززززززززززززززز
لیکن میجر کہاں ماننے والا تھا اس نے صبا کو صوفے پر لٹایا اور اس کی ٹانگوں سے شلوار کھینچ کر اتار دی صبا بس اسے دیکھتی ہی رہ گئی اگلے ہی لمحے صبا کی خوبصورت سی چوت ایک بار پھر سے میجر کی آنکھوں کے سامنے تھی میجر نے صبا کی دونوں ٹانگوں کو خود سے ہی کھول کر پھیلا دیا سنگل صوفے پر پڑی ہوئی تھی صبا میجر نے اس کی دونوں ٹانگوں کو کھول کر صوفے کے دونوں بازوؤں پر رکھ دیا صبا کی چوت کا منہ پوری طرح سے کھل گیا اس کی گانڈ بھی صوفے کے بالکل کنارے پر تھی باہر کو نکلی ہوئی تھی ۔۔
میجر صوفے سے نیچے بیٹھ کر صبا کی چوت کو دیکھتا رہا اوووووووووووووووووف ظالم کیا مست چیز چھپائی ہوئی ہے تو نے اپنی ان ٹانگوں کے بیچ میں اور وہ بھی اس ہیجڑے کے لیے بہن چود چودتا بھی ہے تجھے کبھی یا اپنی بہن بنا کر رکھا ہوا ہے اس حرامی نے۔۔
صبا کو میجر کی گالیاں بہت ہی بری لگ رہی تھیں لیکن اس نے اسے روکا نہیں میجر نے جھک کر صبا کی چوت کے بالکل اوپر اس کی چوت کے دانے پر تھوک گرایا گاڑھا گاڑھا سفید تھوک جو کہ دھیرے دھیرے بہتا ہوا نیچے کو آنے لگا صبا کی چوت کے سوراخ کی طرف میجر نے ایک بار پھر سے اپنی انگلی صبا کی چوت کے اندر ڈال دی اور اسے اندر باہر کرنے لگا آ آ آ آ آ آ آ آ آ آ اوووووووووووووووووف میں گئی بس۔۔
صبا کی حالت خراب ہو رہی تھی وہ اپنے آرگزم کو پہنچنے والی تھی وہ بری طرح سے تڑپ رہی تھی صبا نے اپنی آنکھیں بند کی اور اپنی چوت کو اوپر کو اچھالتے ہوئے اپنی چوت کو خود سے ہی میجر کی انگلی سے چدوانے لگی۔۔
اچانک سے میجر نے اپنی انگلی صبا کی چوت سے نکالی اس کی چوت کے پانی نے میجر کی انگلی کو بری طرح سے گیلا کر دیا ہوا تھا میجر اپنی انگلی صبا کی آنکھوں کے سامنے لاتا ہوا بولا دیکھ کتنی گیلی ہو رہی ہے تیری چوت پھر میجر نے اپنی انگلی صبا کے دونوں ہونٹوں کے درمیان ڈال دی میجر کی انگلی بنا کسی رکاوٹ کے صبا کے منہ کے اندر چلی گئی صبا کو اپنی چوت کے پانی کا ذائقہ چکھنا پڑا لیکن اپنی چوت کی بے چینی سے اس کی ایسی حالت ہو رہی تھی کہ اس نے بنا کچھ سوچے سمجھے ہی میجر کی انگلی کو چوسنا شروع کر دیا اپنی ہی چوت کا گاڑھا پانی چوسنے لگی کچھ ہوش نہیں تھا کہ کیا کر رہی ہے بس اپنی چوت کو ہوا میں اچھالتے ہوئے میجر کی انگلی کو چوسی جا رہی تھی۔۔
میجر نے اپنے برمودے کو تھوڑا نیچے کھینچ دیا اس کا موٹا۔۔ کالا لن ایک بار پھر سے صبا کی آنکھوں کے سامنے لہرانے لگا صبا نے آنکھیں کھول کر میجر کے لن کو دیکھا تو اس کی پیاس جیسے کئی گنا بڑھ گئی وہی پیاس دوبارہ سے جاگ گئی تھی جو کل میجر نے اپنا لن یہی کالا لن اس کی گلابی چوت پر لگا کر جگا دی تھی اور پھر اسے پیاسا چھوڑ گیا تھا کہیں آج بھی ویسے ہی تو نہیں کرے گا یہ کیا آج مجھے پہلے کی طرح چود دے گا نا اپنے لن سے لیکن اشرف وہ تو کسی بھی وقت آ سکتا ہے۔۔
میجر نے دھیرے دھیرے اپنے لن کو صبا کی چوت پر رگڑنا شروع کر دیا تھا صبا کے جسم کا نچلا حصہ مچل رہا تھا تڑپ رہا تھا اس موٹے کالے لن کو اپنے اندر لینے کے لیے بے چین ہو رہا تھا اس کے اندر وہی تڑپ تھی جو کل شام سے اس کی چوت کے اندر ہو رہی تھی یہی تڑپ ساری رات اسے تڑپاتی رہی تھی۔۔
صبا آہستہ آہستہ اپنی چوت کو اوپر کو اچھال رہی تھی میجر کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اپنی خواہش بیان کرتے ہوئے اس سے التجاء کرتے ہوئے ریکوئسٹ کرتے ہوئے کہ پلیز اندر ڈال دو لیکن میجر میجر تو بس دھیرے دھیرے اس کی چوت پر اپنا لن رگڑتا جا رہا تھا انگارہ بنی ہوئی چوت کو اور تڑپا رہا تھا نیچے اس کی چوت کے سوراخ کے پاس اپنے لن کو لاتا تو اس کی چوت کا چکنا پانی اس پر لگ جاتا جس سے اس کا لن چمک رہا تھا کالا سیاہ لن چمک رہا تھا۔۔
صبا کی بے چینی میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا
آہ آآآہ آآآآہ آآآہ ڈاااااااااااال دووووووووووووو جلدی سے سسس ے ے ے پلیززززززز
میجر مسکرایا لیکن وہ تمہارا شوہر بھی تو آنے والا ہے۔۔
صبا تڑپی نہیں بس نہیں آئے گا ایسے نہ کرو پلیززززززز
صبا نے اپنا ہاتھ بڑھا کر میجر کا لن پکڑ لیا تھا اور اسے اپنے ہاتھ سے اپنی چوت پر رگڑنے لگی۔۔
میجر تمھارا شوہر ناراض ہو جائے گا کہ میں نے اس کی بیوی کو چودا ہے۔۔
صبا پلیزززززززز ایسی باتیں نہ کرو۔۔
میجر لیکن اگر اس کو پتہ چل گیا تو۔۔
صبا اپنی چوت کو اوپر کو اچھالتے ہوئے نہیں چلے گا بس جلدی کرو۔۔
میجر نے اپنا لن تھوڑا آگے کیا جو کہ پہلے سے ہی صبا کے ہاتھ میں تھا صبا نے اس کے لن کو اپنی چوت کے سوراخ پر ٹکا دیا اور اپنی دونوں ٹانگیں میجر کی کمر کے پیچھے لے جا کر اس کے ہپس پر اپنے پیر رکھے اور اسے اپنی طرف کھینچنے لگی۔۔
ایک ہی جھٹکے سے میجر کا موٹا کالا لن صبا کی ٹائٹ گلابی چوت میں چلا گیا آآآآآآآآآآآآآآآہ آآآآآآآآآآآآآآآآآآہ سسس سسس سسس ام ام ام ام آآآہ صبا کو تو جیسے جنت ہی مل گئی تھی وہ پاگل ہونے لگی میجر کو پیچھے سے اپنی طرف دباتے ہوئے اس کا پورا لن اپنے اندر لیے ہوئے تھی میجر کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اس نے اپنے دونوں بازو اوپر کیے اور میجر کی کالی گردن میں ڈال کر اس کے سر کو بھی اپنی طرف کھینچ لیا۔۔
صبا کی چوت کے اندر میجر کا لن پوری طرح سے پھنسا ہوا تھا صبا کی چوت اس کے لن کو دبا رہی تھی نچوڑ رہی تھی میجر ہنس رہا تھا اس کی حالت پر اس کی تڑپ پر اب جب بھی میں بلاؤں گا تو میرے پاس آؤ گی نا۔۔
صبا آنکھیں بند کر کے آآآآآآآآآآآآآآآآآآآہ آآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآہ آؤں گی ۔۔
میجر۔۔ رات کو تمہارے پاس آؤں میں بولو۔۔
صبا اپنی چوت کو اوپر کو اٹھا کر میجر کے لن سے چدواتی ہوئی ہاں آ جانا جو دل آئے کر لینا لیکن ابھی پلیزززززززززززززززز کچھ کر دو۔۔
صبا نے اپنا منہ کھول کر میجر کے کالے سیاہ کندھے پر رکھا میجر کے جسم کا پسینہ صبا کے منہ میں جانے لگا لیکن صبا کو کوئی احساس نہیں تھا وہ اپنی چوت میں موجود لن کے اثر سے میجر کے کندھے کو چاٹنے لگی اس کے پسینے کو چاٹنے لگی۔۔
میجر بھی دھکے لگا رہا تھا اپنے لن کو اندر باہر کرتے ہوئے آآآآآآآآآآآآآآآآآآآہ آآآآآآآآآآآآآآآہ ابھی صبا کی چوت اپنی منزل کے قریب جا ہی رہی تھی کہ کہ بیل بج اٹھی۔۔
میجر فوراً سے اٹھنے لگا اور اپنا لن صبا کی چوت سے باہر کھینچ لیا لیکن صبا تو جیسے پاگل ہو رہی تھی جھٹکے سے میجر کو دوبارہ سے اپنے اوپر گرا لیا نہیں ں ایسے نہ چھوڑ کر جاؤ پلیزززززززززززززززز ابھی پلیزززززززززززززز۔۔
میجر۔۔ پاگل نہ بنو تیرا شوہر باہر کھڑا ہے مجھے جانے دے اس کے سامنے تجھے چودنے میں مجھے تو کوئی اعتراض نہیں ہے پر میں ایک ہی بار میں ساری بات اوپن نہیں کرنا چاہتا یہ چڑیا میں ہاتھ سے نکلنے نہیں دوں گا چل جانے دے مجھے کل کو بلاؤں گا تجھے میں پھر آ کے چدوا لینا سالی۔۔
لیکن صبا ہر چیز سے بے خبر تڑپ رہی تھی مچھلی کی طرح سے کل کے بعد آج دوسری بار وہ یہ برداشت نہیں کر پا رہی تھی کہ اس طرح پیاسی رہ جائے لیکن میجر اس سے دور ہٹ کر کھڑا ہو گیا۔۔
دوبارہ سے بیل ہوئی صبا کو جیسے تھوڑا ہوش آنے لگا اس کے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار نظر آنے لگے وہ اٹھی آہستہ آہستہ خود کو سنبھالتے ہوئے اسے اس وقت اپنا پیارا اور محبت کرنے والا شوہر زہر لگ رہا تھا بس نہیں چل رہا تھا کہ میجر کی جگہ ابھی کے ابھی اسی کا خون کر دیتی لیکن پھر وہ اٹھی تبھی تیسری بار بیل بج اٹھی۔۔
میجر بالکنی کی طرف بڑھا اور صبا کو بولا جا ایسے ہی کھول دے دروازہ اب ٹائم نہیں ہے تیرے کپڑے پہننے کا۔۔
صبا نے میجر کو بالکنی میں جاتے ہوئے دیکھا اور پھر خود بھی خود کو گھسیٹتی ہوئی مین گیٹ کی طرف لے گئی ایسی حالت میں کہ بال بکھرے ہوئے تھے قمیض کی زپ پیچھے سے کھلی ہوئی تھی اور نیچے سے شلوار بھی غائب تھی جیسے جیسے اسے ہوش آ رہا تھا ویسے ہی اسے ڈر بھی لگنے لگا تھا لیکن پھر اس نے ہمت کر کے دروازہ کھولا اور اشرف اندر آگیا۔۔
صبا کی یہ حالت دیکھ کر بولا کیا ہوا یہ کیا حلیہ ہے صبا اکتاہٹ سے اس سے منہ پھیر کر اندر کو جاتی ہوئی بولی کیا حلیہ ہے کچھ بھی نہیں نہانے کے لیے کپڑے اتار رہی تھی کہ بیل بج گئی باتھ روم سے آتے آتے تم نے بیلیں دے دے کر فلیٹ سر پہ اٹھا لیا۔۔
اس کی چوت کے اندر آگ لگی ہوئی تھی اس کی چوت پیاسی تھی اور یہی آگ اس کے منہ سے نکل رہی تھی اس کا موڈ خراب ہو چکا ہوا تھا ایک بار پھر سے پیاسی رہی جانے کی وجہ سے اب وہ میجر کو کیا دوش دیتی اس کا کیا قصور تھا پھر ایک بار سارے کا سارا قصور اشرف کا ہی نکل آیا تھا۔۔
اشرف نے صبا کو ناراض ہو کر آگے کو چلتے ہوئے دیکھا تو اس کی نظر صبا کی ننگی کمر پر پڑی جہاں سے اس کی بلیک برا کے سٹریپس اور بیلٹ نظر آ رہے تھے اشرف کا بھی دل مچل گیا اس نے پیچھے سے صبا کو اپنی باہوں میں بھر لیا۔۔
اشرف ارے کیا ہو گیا میری جان کو کیوں ناراض ہو رہی ہو۔۔
پیچھے سے آگے ہاتھ لے جاتے ہوئے اشرف نے اپنا ہاتھ صبا کی شرٹ کے نیچے سے اس کی چوت پر رکھ دیا جیسے ہی اشرف کا ہاتھ صبا کی چوت کو ٹچ ہوا تو صبا کی پیاس ایک بار پھر سے جاگ اٹھی وہ تڑپ اٹھی مچل کر اپنی سائیڈ بدلی اور اشرف کی گردن میں باہیں ڈال کر اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھے اور اپنی چوت کو اس کی پینٹ کے اگلے حصے پر رگڑنے لگی اشرف کا لن بھی اکڑنے لگا تھا اسے صبا کی ایسی حالت پر حیرت ہو رہی تھی۔۔
ام ام ام ام آآآہ آآآہ آآآآآہ اشرفف فف ف ف ف ف ف
اشرف صبا کو اندر بیڈ روم میں لے جانے لگا۔۔
صبا یہیں پر۔۔
اشرف نہیں بیڈ روم میں تمھیں پتا تو ہے کہ مجھے اچھا نہیں لگتا ایسے باہر۔۔
اندر جا کر اسے بیڈ پر لٹایا اور جلدی سے اپنے کپڑے اتارے اس کا لن اکڑا ہوا تھا اشرف نے جلدی سے بیڈ کی سائیڈ ڈراور سے کنڈوم نکالا اور کھول کر اپنے لن پر چڑھا کر فوراً سے صبا کی ٹانگوں کے بیچ میں آگیا اور اپنا لن صبا کی چوت پر رکھا اور ایک ہی دھکے میں اندر کر دیا۔۔
میجر کے ننگے موٹے لن کو اپنی چوت میں لینے کے بعد صبا کو اشرف کا کنڈوم والا لن عجیب سا لگ رہا تھا اشرف کبھی بھی اسے کنڈوم کے بنا نہیں چودتا تھا جبکہ میجر نے جب بھی اسے چودا تھا تو بنا کنڈوم کے ہی چودا تھا اور اپنی منی بھی اس کی چوت میں ہی ڈالی تھی اور پھر ہر بار اسے ایمرجنسی ٹیبلٹس لینی پڑی تھیں۔۔
اشرف صبا کے اوپر جھک کر اپنا لن اس کی چوت کے اندر باہر کرتے ہوئے اسے چودنے لگا اشرف کا لن صبا کی چوت میں اندر باہر ہو رہا تھا لیکن چند لمحے پہلے ہی اس کی چوت میں جو میجر کے لن کا مزہ آیا تھا وہ اسے اشرف سے نہیں مل پا رہا تھا صبا اشرف کے ساتھ چپکتی جا رہی تھی اسے اپنی طرف کھینچتی جا رہی تھی اور اندر اور اندر تک اس کا لن لینے کی کوشش کرتے ہوئے لیکن آخر اشرف کا لن کتنی اندر تک جا سکتا تھا وہ کون سا میجر کے لن جیسا موٹا اور لمبا تھا۔۔ صبا اشرف کے جسم کو دبا رہی تھی کھینچ رہی تھی لیکن اس کے ہاتھوں کو وہ سختی اور جسم کی طاقت محسوس نہیں ہو پا رہی تھی جو کہ کچھ دیر پہلے میجر کی مضبوط باہوں میں اسے ملی تھی اپنی آنکھیں بند کر کے بس اس کے لن کو انجوائے کرنے لگی لیکن جیسے ہی آنکھیں بند کیں تو اس کی آنکھوں کے سامنے میجر کا چہرہ آگیا جو اس کے اندر لن ڈالے ہوئے تھا پتہ نہیں کیا ہو گیا صبا کو وہ چلائی سسک اٹھی آآآآآآآہ اور اندر اور زور سے اور زور سے آہاہاہاہاہاہاہاہ پلیززززززززز
اشرف کو یہ سن کر حیرت ہو رہی تھی کیونکہ آج سے پہلے اس نے کبھی بھی صبا کو اتنا ہاٹ نہیں دیکھا تھا نہ کبھی اتنی شدت سے صبا نے اسے کھینچا اور زور زور سے چودنے کو بولا تھا لیکن آج تو صبا کے اندر کوئی چداسی روح گھس چکی ہوئی تھی کسی رنڈی کی روح۔۔
آج صبا کی چوت کی گرمی سے اشرف کا بھی اپنے لن پر سے کنٹرول ختم ہو گیا تھا اور پہلے کی نسبت آج بہت ہی جلدی سے اس کے لن نے پانی چھوڑنا شروع کر دیا صبا نے جب یہ دیکھا تو اس کی حالت اور خراب ہونے لگی ن ن ن ن نہیں اشررررررررررررررف روکو اس کو اب نہیں پلیززززززززززززززز وہ پاگلوں کی طرح سے اشرف سے لپٹ گئی اور اپنی چوت کو اس کے مرجھائے ہوئے لن سے رگڑنے لگی اچھال اچھال کر گھما گھما کر اور آخر بہت زیادہ کوشش کے بعد صبا شانت ہو گئی اس کی پیاسی چوت شانت ہو گئی نڈھال ہو کر گر پڑی آنکھیں بند بس سانسیں تیز تیز چل رہی تھیں بوبز اوپر نیچے ہو رہے تھے چوت دھیرے دھیرے کانپ رہی تھی بہہ رہی تھی پانی چھوڑ رہی تھی لیکن چوت کے اندر تو کچھ بھی نہیں تھا تھوڑا ہوش آیا تو اس نے دیکھا کہ اشرف تو کب کا اس کے اوپر سے اٹھ کر باتھ روم میں جا چکا تھا جب صبا نے خود کو خالی خالی محسوس کیا جب اس کو کوئی مضبوط جسم اپنی باہوں میں دبانے کو نہ مل پایا جب اس کو اپنی چوت کا خالی پن محسوس ہوا جب اس کو اپنا بہت ہی معمولی اور ہلکا سا اور نامکمل آرگزم یاد آیا تو اس کے منہ سے خود سے ہی نکل گیا کتا کمینہ (لیکن کون) ؟۔۔(جاری ہے)
📖 ہماری پریمیم کہانیوں کو پڑھنے کے لیے ہمارے فورم کو جوائن کریں
🔗 فورم جوائن کریں