ہماری ٹاپ کلاس کہانیاں پڑھنے کے لیے ہمارے فورم کو جوائن کریں

میجر صاحب۔۔( نیو ورژن ۔۔قسط 2)

صبا اور اشرف کا آمنا سامنا میجر صاحب کے ساتھ پہلے ہی دن ہو گیا تھا۔۔ جس دن وہ اس بلڈنگ میں اپنے فلیٹ میں شفٹ ہوئے تھے۔۔ اس دن جب کہ اشرف اپنا سامان نیچے سے لا کر اور کچھ دوسرے مزدوروں کے ساتھ اوپر لا کر رکھ رہا تھا تو کافی تھکا ہوا تھا۔۔ اشرف اور صبا اوپر اپنے فلیٹ میں کھڑے ہو کر سامان اندر رکھ رہے تھے اور مزدور نیچے سے سامان لا کر ان کے دروازے پر چھوڑ جاتے کوریڈور میں ہی۔۔ ایک مزدور نے ایک صوفہ لا کر اوپر رکھا تو وہ میجر صاحب کے فلیٹ کے دروازے کے سامنے آ گیا۔۔ اشرف اندر مصروف تھا۔۔ اس نے سوچا کہ ابھی دوسرا سامان اندر چھوڑ کر پھر یہ صوفہ بھی اٹھا لیتا ہوں۔۔ لیکن تبھی میجر صاحب نے اپنے فلیٹ کا دروازہ کھولا اور باہر جانے کے لیے نکلے تو سامنے ہی صوفہ پڑا ہوا تھا۔۔ اگرچہ کافی جگہ ان کے گزرنے کے لیے پڑی ہوئی تھی۔۔ لیکن ظاہر سی بات ہے کہ میجر صاحب کو تو موقع چاہیے تھا ہنگامہ کھڑا کرنے کا۔۔ بس وہ انہوں نے کر دیا۔۔

سیدھے اشرف کے فلیٹ کے دروازے پر گئے اور زور زور سے دروازہ پیٹنے لگے۔۔ اشرف گھبرا کر جلدی سے باہر نکلا کہ پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے۔۔ اسے میجر صاحب کے بارے میں کچھ بھی علم نہیں تھا۔۔ جیسے ہی اشرف باہر گیا تو میجر صاحب تو شروع ہو گئے۔۔

میجر۔۔ کوئی تمیز نہیں ہے کیا تم لوگوں کو کسی جگہ پر رہنے کی؟ کیا کسی جنگل سے اٹھ کر آئے ہو یا پھر کسی گاؤں سے؟

اشرف۔۔ معافی چاہتا ہوں جناب۔۔ میں سمجھا نہیں اور آپ کون ہیں جناب؟

میجر۔۔ چوت مارو معافی کی۔۔ ابے یہ اپنا صوفہ تو اٹھا یہاں سے۔۔ میرے فلیٹ کے دروازے کے آگے سے۔۔ سارا کا سارا راستہ ہی بند کر دیا ہوا ہے۔۔

اشرف تھوڑا غصہ کرتے ہوئے۔۔ اوہ اچھا۔۔ سوری۔۔ ویسے ابھی اٹھا ہی لینا تھا میں نے۔۔ ہم نے کون سا اسے آپ کے دروازے کے آگے ہی سیٹ کر دیا ہے۔۔

اتنے میں صبا بھی باہر دروازے پر آئی تو اسے دیکھتے ہی میجر صاحب کو جیسے اور بھی غصہ آ گیا۔۔ کیونکہ عورتوں سے تو ویسے ان کا خاص بیر تھا۔۔ نفرت سے صبا کی طرف دیکھتے ہوئے بولے۔۔

میجر۔۔ ابے اسے کہاں سے بھگا کر لایا ہے۔۔ اب یہاں اس بلڈنگ میں یہ کنجر خانہ کھولے گا کیا؟

اشرف نے مڑ کر صبا کی طرف دیکھا اور ساتھ ہی اس کا پارہ بھی چڑھ گیا۔۔

بھائی صاحب۔۔ یہ میری بیوی ہے۔۔ ذرا زبان سنبھال کر بات کریں۔۔ اپنی عمر دیکھیں اور اپنی باتیں۔۔ کیا ایسی کسی نئے ہمسائے کے ساتھ بات کرتے ہیں؟

میجر۔۔ زیادہ لیکچر نہ دے مجھے۔۔ تو اپنا صوفہ سنبھال۔۔ میں اپنی زبان خود ہی سنبھال لوں گا۔۔

اشرف کا بھی اب غصے سے برا حال ہو رہا تھا۔۔ آپ حد سے بڑھ رہے ہیں۔۔ ایسا نہ ہو کہ میں بھی کوئی بدتمیزی کر بیٹھوں۔۔ مجھے آپ کی عمر کا خیال آ رہا ہے ورنہ۔۔

میجر غصے سے۔۔ ابے جا بے جا۔۔ اپنی اس چکنی بیوی کے سامنے نمبر بنانے کی کوشش نہ کر۔۔ ورنہ ایسی ہی مفت میں پٹ جائے گا میرے ہاتھوں اور پھر تیری یہ چکنی بھی تجھے اپنے اوپر چڑھنے نہیں دے گی۔۔ ہاہاہاہاہا۔۔

یہ سن کر اشرف آگے بڑھا کہ جا کر میجر کا گریبان پکڑ لے۔۔ لیکن پیچھے سے صبا نے اس کا بازو پکڑ لیا۔۔

صبا۔۔ نہیں نہیں اشرف۔۔ چھوڑو اسے۔۔ چلو اندر۔۔ صبا نے نفرت کے ساتھ میجر کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔

اشرف بھی چپ کر کے پیچھے کو مڑ گیا۔۔ تبھی میجر دوبارہ بولا۔۔

میجر۔۔ چل شاباش بچے۔۔ چل اندر جا کے دودھ پی۔۔ تیرے دودھ کا ٹائم ہو گیا ہے۔۔

یہ کہہ کر ہنستے ہوئے میجر نیچے کی سیڑھیاں اتر گیا اور اشرف دانت بھینچتا ہوا اندر چلا گیا۔۔

اسی پہلے دن دوپہر کو ان کے سامنے والے فلیٹ سے منصور صاحب اور ان کی بیگم آئے اور اپنے گھر سے کھانا بنا کر ان کے لیے لے کر آئے۔۔ اشرف اور صبا یہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے کہ یہاں پر کوئی اچھا ہمسایہ بھی موجود ہے۔۔ منصور صاحب کوئی پینتالیس کے قریب عمر کے تھے۔۔ ان کی بیگم بھی چالیس سے اوپر کی تھیں اور دونوں ہی بہت اچھے لوگ تھے۔۔ ان کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھی۔۔ دونوں کالج میں پڑھتے تھے۔۔ سب نے ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا اور ادھر ادھر کی اور بلڈنگ کے دوسرے لوگوں کے بارے میں بات چیت کرتے رہے۔۔ انہوں نے ہی اشرف اور صبا کو میجر کے بارے میں بتایا اور ان کو کہا کہ وہ اس شخص سے دور ہی رہیں۔۔

اس طرح پہلے دن سے ہی صبا اور اشرف کو میجر صاحب سے نفرت ہو گئی۔۔ اور ہمیشہ ہی ان سے دور رہنے کی کوشش کرتے۔۔ لیکن اکثر آتے جاتے کبھی نہ کبھی اس سے سامنا ضرور ہو جاتا۔۔ لیکن وہ کوئی بھی بات نہ کرتے۔۔

ایک روز اشرف کے جانے کے بعد صبا نے گھر کی صفائی کی اور پھر سوچا کہ چلو باہر کوریڈور میں بھی اپنے گیٹ کے آگے سے جھاڑو لگا دوں۔۔ جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ اس کے گیٹ کے آگے کوڑے کا ایک بڑا سا شاپر پڑا ہوا تھا۔۔ اس نے اس میں دیکھا تو اس کے اندر شراب کی بوتلیں بھی پڑی ہوئی تھیں۔۔ صبا فوراً ہی سمجھ گئی کہ یہ کام میجر صاحب کا ہے۔۔

صبا کو بے حد غصہ آیا اور وہ خود کو نہ روک سکی اور جا کر میجر جوہر کا دروازہ ناک کر دیا۔۔ تھوڑی دیر میں میجر نے دروازہ کھولا۔۔

صبا غصے سے بولی۔۔ یہ کیا بدتمیزی ہے؟

میجر بھی غصے سے۔۔ کون سی بدتمیزی؟ گھر میں میرے تو خود آئی ہے تو میں نے کون سی بدتمیزی کر دی ہے؟

صبا۔۔ یہ آپ نے ہمارے دروازے کے آگے کوڑا کیوں پھینک دیا ہے؟

میجر نے تھوڑا سا باہر کو نکل کر ان کے دروازے کی طرف دیکھا اور پھر بولا۔۔ مجھے کیا پتہ کہ کس نے پھینکا ہے؟

صبا۔۔ یہ آپ کا ہی کوڑا ہے۔۔

میجر۔۔ ارے جا جا۔۔ کیوں میرا ٹائم خراب کر رہی ہے۔۔ میں نے باہر رکھا تھا۔۔ اب پتہ نہیں کس نے تیرے گھر کے آگے پھینک دیا ہے۔۔ اب اٹھا کر ایک طرف کر دے۔۔ کیوں شور مچا رہی ہے ایسی ہی بلڈنگ میں۔۔

صبا غصے سے لال ہوتے ہوئے۔۔ کیوں میں کیوں اٹھاؤں۔۔ تو خود اٹھا آ کر۔۔

میجر ہنستے ہوئے اور اس کے غصے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے بولا۔۔ میں تو نہیں اٹھا رہا۔۔ تیرا دل کرتا ہے تو اٹھا لے۔۔ نہیں تو اس گانڈو کو بھیج دے۔۔ وہ اٹھا لے گا۔۔ ویسے بھی وہ ہجڑا ایسی کام ہی کر سکتا ہے۔۔

صبا کا یہ سن کر خون کھولنے لگا۔۔ کیا بکواس کر رہے ہو۔۔ کسے ہجڑا بول رہے ہو تم۔۔ کچھ شرم کرو۔۔

میجر۔۔ کیوں بڑی مردانگی پسند آ گئی ہوئی ہے اس کی تجھے۔۔ جو اسے ہجڑا بولنے پر تیری چوت میں مرچیں لگنے لگی ہیں۔۔

صبا نے غصے سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے نیچے فرش پر تھوکا اور واپسی اپنے فلیٹ کی طرف مڑ گئی۔۔ جاہل۔۔ گنوار۔۔ کمینہ۔۔ دل ہی دل میں اسے کہتے ہوئے۔۔

اپنے فلیٹ میں آ کر اس نے ٹھنڈا پانی نکال کر پیا اور خود کو ریلیکس کرنے لگی۔۔ اسے پتہ تھا کہ اسے یہ سب اشرف کو بتا کر اسے پریشان نہیں کرنا۔۔ اور رات کو جب اشرف واپس گھر آیا تو صبا نے ساری پریشانی کو پی لیا اور اسے کچھ بھی نہ بتایا۔۔ لیکن اس کے اندر میجر کے لیے نفرت اور بھی بڑھ چکی تھی۔۔ وہ تو اب اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔۔

رات کو اپنے بیڈروم میں آ کر بستر پر لیٹے تو اپنی عادت کے مطابق اشرف نے صبا کو اپنی بانہوں میں کھینچا اور اسے بوسہ دینے لگا۔۔ صبا کا آج صبح کے واقعے کی وجہ سے بالکل بھی موڈ نہیں بن رہا تھا کچھ بھی کرنے کا۔۔ لیکن پھر بھی اس نے اپنے شوہر کی بوسوں کا جواب دیا۔۔ لیکن اشرف کی چھیڑ چھاڑ اس کے جسم کے ساتھ بڑھتی ہی جا رہی تھی۔۔ صبا اسے روکنا چاہتی تھی اور اسی لیے تھوڑی تھوڑی مزاحمت کر رہی تھی اور اسے کچھ نہ کرنے کو بول بھی رہی تھی۔۔ لیکن اس سب کو وہ اپنی بیوی کی ادائیں ہی سمجھ رہا تھا۔۔

صبا کے خوبصورت بوبز کو دباتے ہوئے اس نے اپنا ہاتھ صبا کے نائٹ سوٹ کے پاجامے میں ڈالا اور اس کی چوت کو سہلانے لگا۔۔ جیسے ہی اشرف نے اپنی بیوی کی چوت کو چھوا تو صبا کے جسم میں بھی جیسے بجلی دوڑنے لگی۔۔ اس کا جسم بھی سٹیمولیٹ ہونے لگا۔۔ صبا کی چوت ہی اس کا کمزور پوائنٹ تھا اور یہ اشرف کو بھی پتہ لگ چکا تھا۔۔ اسی لیے صبا کو گرم اور چدائی کے لیے تیار کرنے کے لیے وہ ہمیشہ اس کی چوت کو چھیڑتا تھا اور جیسے ہی اپنی انگلی اس کی چوت میں ڈالتا تھا تو صبا تو جیسے بالکل ہی بے بس ہو جاتی تھی اور پھر اپنے تمام ہتھیار ڈال کر خود کو اشرف کے سپرد کر دیتی تھی۔۔ اور آج بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا تھا۔۔

جیسے ہی اشرف کی انگلی صبا کی چوت کے اندر گئی اور اس نے اسے اندر سے چھیڑنا شروع کیا تو صبا کی آنکھیں بند ہونے لگیں اور اس کے منہ سے سسکاریاں نکلنے لگیں۔۔ صبا نے اپنا جسم اشرف کے ساتھ چپکا لیا اور اب خود بھی اسے بوسہ دیتے ہوئے اس کا ساتھ دینے لگی۔۔ اشرف بھی صبا کی نائٹ شرٹ کے اوپر سے ہی اس کے بوبز کو سہلانے لگا۔۔ جو کہ بریزیئر کے بغیر ہی تھے۔۔

دھیرے دھیرے اشرف نے صبا کے پاجامے کو نیچے کو سرکایا اور اس کی چوت کو ننگا کر لیا۔۔ پھر اپنے لنڈ کو اپنے پاجامے سے نکال کر تھوڑا آگے کو ہو کر اپنا لنڈ صبا کی چوت پر رگڑنے لگا۔۔ صبا نے بھی بے چین ہو کر اپنی ایک ٹانگ اٹھا کر اشرف کے اوپر رکھی اور اپنی چوت کو اور بھی اشرف کے لنڈ پر چڑھا دیا۔۔ جیسے وہ اسے اپنے اندر لینا چاہتی ہو۔۔

نیچے کو ہاتھ لے جا کر صبا نے اپنے شوہر کا لنڈ پکڑا اور پھر اسے اپنی چوت کے گیلی سوراخ پر رگڑنے لگی۔۔ زرا سا جھٹکا لگایا اشرف نے تو اس کا تھوڑا سا لنڈ صبا کی چوت میں چلا گیا۔۔

آہ آہ آہ سسس سس آہ آہ آہ کی سسکاری کی آواز کے ساتھ ہی صبا پوری طرح سے اشرف کے ساتھ چپک گئی۔۔ اشرف نے ایک جھٹکا دیا اور صبا کو اپنے اوپر کھینچ لیا اور جیسے ہی صبا اشرف کے اوپر آئی تو اس نے اشرف کا لنڈ اپنے ہاتھ میں لیا اور خود اسے اپنی چوت پر ٹیکا کر نیچے کو بیٹھتے ہوئے اس کا لنڈ اپنی چوت کے اندر لے لیا اور جھک کر اپنے ہونٹ اپنے شوہر کے ہونٹوں پر رکھ دیے۔۔ اشرف نے اپنی بیوی کی خوبصورت گانڈ کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور اسے آہستہ آہستہ سہلاتے ہوئے اپنی کمر کو اوپر کی طرف اچھالتے ہوئے اپنا لنڈ صبا کی چوت کے اندر باہر کرنے لگا۔۔

صبا کا بھی مزے سے برا حال ہو رہا تھا۔۔ چند گھسوں کے ساتھ ہی اس کی چوت نے پانی چھوڑ دیا لیکن وہ اپنے شوہر کا پانی نکلوانے کے لیے لگی رہی۔۔ صبا زور زور سے اوپر نیچے کو ہو رہی تھی تاکے اس کے شوہر کے لنڈ کا پانی بھی نکل آئے اور پھر کچھ دیر میں وہ اپنی کوشش میں کامیاب ہو گئی اور اس کے شوہر کے لنڈ سے پانی نکل کر اس کی چوت کے اندر ہی گرنے لگا۔۔ اشرف کے لنڈ کے گرم ا گرم پانی نے اس کی چوت کے اندر ایسی مزا دیا کہ اس کی چوت نے ایک بار پھر پانی چھوڑ دیا۔۔ اور وہ نڈھال ہو کر اشرف کے اوپر گر پڑی۔۔ کچھ ہی دیر میں دونوں کو ہی نہیں پتا چلا کہ کب ان کی آنکھ لگ گئی۔۔(جاری ہے)

📖 ہماری پریمیم کہانیوں کو پڑھنے کے لیے ہمارے فورم کو جوائن کریں

🔗 فورم جوائن کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *