کچھ دیر تک ایسے ہی چودنے کے بعد میجر نے صبا کی چوت سے اپنا لن باہر نکال لیا۔۔
صبا تڑپ اٹھی۔۔۔نہیں ۔۔۔۔۔۔۔پلیزززززززززززز۔۔۔۔۔مت نکالو۔۔۔۔۔۔۔۔
میجر مسکرایا کہیں نہیں جا رہا آج نہیں جاؤں گا تیری پیاس بجھائے بنا فکر نہ کر بس جلدی سے کُتیا بن جا یہیں صوفے پر ہی۔۔
صبا زیادہ دیر تک میجر کے لن کو اپنی چوت سے باہر نہیں رہنے دینا چاہتی تھی بنا سوچے سمجھے اور بنا کسی اعتراض کے جلدی سے الٹی ہو کر صوفے پر کُتیا کی طرح جھک گئی میجر نے اس کی چوت کے اندر اپنی انگلی ڈالی اور پورے زور سے اس کی چوت کو اوپر کھینچ دیا جس سے صبا درد کے مارے کرا اٹھیں لیکن اس کی گانڈ تھوڑی اوپر کو اٹھ گئی کمینہ منہ سے بھی تو بول سکتا ہے نا کہ اوپر کو اٹھ جاؤ ذرا میں بھلا انکار کرتی کیا لیکن یہ تو ہے ہی جنگلی اور وحشی کتنی بری طرح سے کھینچ دیا ہے اندر سے میری چوت کو صبا سوچنے لگی لیکن میجر کا سوچنے سے کیا کام اس نے تو پیچھے سے اپنا لن اس کی چوت میں ڈال دیا اور اس کی کمر کو پکڑ کر آہستہ آہستہ دھکے لگانے لگا ساتھ ہی اس کی گانڈ کو اپنی طرف بھی کھینچ رہا تھا۔۔
صبا کی گوری گوری گانڈ کا تنگ گلابی سوراخ میجر کی آنکھوں کے سامنے تھا میجر نے اپنے ایک ہاتھ کی ایک انگلی سے صبا کی گانڈ کے سوراخ کو سہلانا شروع کر دیا جیسے ہی صبا کو اپنی گانڈ کے سوراخ پر میجر کی انگلی کا لملس محسوس ہوا تو وہ لذت سے کانپ اٹھی میجر نے تھوڑا بھی اس کی گانڈ کی تھرتھراہٹ کو محسوس کر لیا تھا مسکرایا اور تھوڑا جھک کر اس کی گانڈ کے سوراخ پر اپنے منہ سے تھوک گرا دیا جو کہ اس کی گانڈ کی لکیر میں گرا میجر نے اپنی انگلی سے تھوک کو نیچے لا کر اس کے گانڈ کے گلابی سوراخ پر ملنا شروع کر دیا اور اس پر انگلی پھیرتے پھیرتے آہستہ سے اپنی انگلی اس کی گانڈ کے سوراخ کے اندر پش کر دی اووووووئی آآآآآآآآآآہ صبا چلا اٹھی لیکن میجر نے اس کی چوت سے اپنی توجہ ہٹائے بنا ہی دھنا دھن اس کی چوت کو چودتے ہوئے آہستہ آہستہ اس کی گانڈ کے اندر اپنی انگلی کو گھمانا شروع کر دیا اس ڈبل مزے اور لذت سے صبا پاگل ہونے لگی تڑپنے لگی اور بھی بے قرار ہونے لگی اس ڈبل لذت کو برداشت نہ کر سکی اپنا سر صوفے کی بیک پر رکھا اور آنکھیں بند کر کے اپنی منزل کے قریب پہنچنے لگی اس پوزیشن میں ہونے کی وجہ سے میجر کا لمبا لن بہت ہی اندر تک جا رہا تھا جیسے اس کی بچہ دانی میں گھسنا چاہ رہا ہو۔۔
صبا کی چوت میجر کے لن کے گرد بری طرح سے سکڑ رہی تھی اس کے لن کو کھینچ رہی تھی میجر کو بھی اپنی منزل قریب آتی ہوئی محسوس ہونے لگی اس نے دونوں ہاتھوں کو اپنے آگے جھکی ہو صبا کے کندھوں پر رکھا اور ان کو مضبوطی سے پکڑ کر اس کے جسم کو اپنی طرف کھینچنے لگا اور خود زور زور سے آگے کو دھکے لگانے لگا اتنی بری طرح سے چودے جانے سے صبا کا پورا جسم کانپ رہا تھا اپنے اندر تک لن کو محسوس کر کے اسے اور بھی تکلیف کا احساس ہو رہا تھا لیکن اس تکلیف میں بھی ایک الگ ہی مزہ تھا میجر کے لن نے اچانک ہی اس کی چوت کے اندر پانی چھوڑنا شروع کر دیا میجر کے لن سے اس کی منی نکل نکل صبا کی چوت کے اندر گر رہی تھی اور اس کی بچہ دانی میں بھی جا رہی تھی اتنی شدت کے ساتھ اپنی چوت میں گرنے والی منی نے صبا کو مدہوش کر دیا اس کی آنکھیں بند ہو گئیں اور اس کی چوت ایک بار پھر سے پانی چھوڑنے لگی ایک ہی چودائی میں دوسری بار صبا اپنی منزل کو پہنچ چکی تھی۔۔
صبا نڈھال ہو کر وہیں صوفے پر الٹی گر گئی میجر بھی اپنے کالے جسم کو اس کے گورے بدن کے اوپر لٹا کر لیٹ گیا دونوں ہانپ رہے تھے اپنے ہوش و حواس کو ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے تھے میجر دھیرے دھیرے صبا کی گردن کو چوم رہا تھا اور صبا اپنی آنکھیں بند کیے ہوئے پڑی اس کے جسم کو محسوس کر رہی تھی دھیرے دھیرے جیسے بے ہوش ہوتی جا رہی تھی۔۔
کچھ دیر کے لیے ریسٹ کرنے کے بعد میجر اٹھا اور اس کے پاس ہی صوفے پر بیٹھ گیا صبا کی گانڈ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا چل اٹھ میرے لیے کچھ پینے کو لا پیاس لگ رہی ہے۔۔
صبا نے مڑ کر میجر کی طرف دیکھا میجر کو اپنی طرف دیکھتے ہوئے پا کر شرما گئی اور پھر صوفے سے اٹھ پڑی صوفے کے پاس ہی پڑی ہوئی اپنی شرٹ کو اٹھایا پہننے کے لیے لیکن میجر نے اس سے وہ شرٹ چھین لی۔۔
صبا نے تھوڑا شرما کر صرف اپنی آنکھوں کو تھوڑا مٹکا کر اپنی آنکھوں کے اشارے سے ہی اس سے پوچھا کہ کیوں۔۔
میجر کیوں کیا دوبارہ نہیں چدوانا کیا
صبا کیا ابھی اور صبا گھبرا کر بول پڑی۔۔
پھر خود ہی اپنی بات پر شرما کر مڑی اور کچن کی طرف چل دی اپنے ہی فلیٹ میں ایک غیر مرد کے سامنے ننگی پھرتی ہوئی اسے بہت ہی عجیب لگ رہا تھا غیر مرد کیا ابھی بھی وہ میرے لیے غیر مرد ہی ہے اتنی بار میرے جسم کو ننگا دیکھنے اور مجھے چود لینے کے بعد بھی پھر اپنے اس خیال کو جھٹک دیا اب وہ کہاں غیر ہے میرا میرے انگ انگ سے تو واقف ہے میرے جسم کا ہر راز تو اس پر کھل چکا ہے ٹھیک ہی تو ہے پھر کیا اس سے چھپانا ہے۔۔
کچن میں جا کر صبا نے فریج کھولا اور دیکھنے لگی کہ میجر کے لیے کیا لے جائے پینے کے لیے پانی یا جوس۔۔
پھر اچانک اس کی نظر دودھ کے جگ پر پڑی تھوڑا مسکرائی اور پھر ایک گلاس میں میجر کے لیے دودھ ڈال لیا اور پھر دودھ کا گلاس لے کر باہر آگئی۔۔
میجر نے صبا کے ہاتھ میں دودھ کا گلاس دیکھا تو مسکرا اٹھا اور بولا دودھ کیوں لے آئی میرے لیے۔۔
صبا اس کی بات سن کر صرف شرما دی
میجر اس کی اس معصومیت اور شرمانے پر کھل اٹھا اور ہنستے ہوئے اسے کھینچ کر اپنی تھائیز پر اپنی گود میں بٹھا لیا۔۔
میجر ارے میری جان تیری جیسی نازک اور خوبصورت پریوں کو تو سارا دن بھی چودوں تو بھی نہیں تھکوں گا یہ میرا جسم ہے تیرے اس ہجڑے اشرف کا نہیں کہ ایک بار چود لے تو ہفتہ ہفتہ اس کا لن ہی کھڑا نہ ہو۔۔
میجر کی بات سن کر صبا تھوڑا شرما گئی میجر نے پھر سے اس کے شوہر کی بے عزتی کر دی تھی لیکن صبا چپ رہی میجر کا کالا ہاتھ اس کی گوری گوری تھائی پر آہستہ آہستہ پھسل رہا تھا میجر نے ایک گھونٹ دودھ کا پیا اور پھر گلاس صبا کے ہونٹوں سے لگا دیا اور اس نے بھی ایک گھونٹ لے لیا میجر کا جھوٹا دودھ لیکن اب صبا کو کوئی اعتراض نہیں تھا سب کچھ قبول تھا کیونکہ اس نے میجر کو جو قبول کر لیا تھا۔۔
صبا میجر کی گود میں بیٹھی ہوئی میجر کے چہرے کو دیکھ رہی تھی اور سوچ رہی تھی کسی بھی طرح یہ اس کے باپ کی عمر سے کم نہیں ہے لیکن کتنی آسانی سے اس کے جسم کی پیاس کو شانت کر دیا تھا اس نے ایسے کہ ایسے تو کبھی اس کے جوان اور خوبصورت شوہر اشرف نے بھی نہیں کیا تھا باپ کی عمر کا ہے تو کیا ہوا ہے تو بھرپور مرد نا بھرپور اور مکمل مرد یہ سوچتے ہوئے صبا نے اپنا سر میجر کے کندھے پر رکھ دیا۔۔
اچانک میجر اس کے بوب کے نپل کو چھو کر بولا دودھ ہی پلانا تھا تو اپنے ان دودھ کے پیالوں کا پلا دیتی۔۔
صبا نے شرما کر اس کے ہاتھ پر ہلکی سی چپیڑ مار دی ابھی دل نہیں بھرا کیا۔۔
میجر گلاس نیچے رکھ کر صبا کے گال کو چوم کر بولا دل تو کبھی نہیں بھرتا تیرے سے سالی تو ہے ہی اتنی پیاری اور سیکسی۔۔
صبا شرما گئی اور میجر نے جھک کر صبا کے ایک نپل کو اپنے ہونٹوں میں لیا اور اسے چوسنا شروع کر دیا
صبا بس بھی کرو اب پورے انکل بن گئے ہو اور مستیاں دیکھو تو کسی جوان لڑکوں کی طرح کرنے کا شوق ہے۔۔
میجر ارے میری رانڈ اب تو مجھے چاہے انکل بول یا اپنا باپ چوت تو تیری چود ہی لی ہے میں نے تو بھی تو اتنے نخرے کرتی ہے اور جب چدواتی ہے تو کسی رنڈی کی طرح چدواتی ہے۔۔
صبا میجر کے سر کے پیچھے ہاتھ رکھ کر اس کے سر کے بالوں کو اپنی مٹھی میں لا کر تھوڑا کھینچتی ہوئی نخرے سے بولی یہ کیا آپ مجھے ہر وقت گندے گندے ناموں سے بلاتے رہتے ہو مجھے نہیں لگتا یہ اچھا۔۔
میجر یکدم سے تھوڑا غصہ ہوتے ہوئے سالی میں کوئی تیرا عاشق نہیں ہوں اور نہ ہی تو میری محبوبہ ہے تو صرف میری ایک رکھیل ہے رکھیل بن کے ہی رہنا ہے میرے ساتھ تو ٹھیک ہے نہیں تو آئندہ نہیں آؤں گا تجھے چودنے یہ پیار ویار جو کرنا ہے نا اپنے اسی ہجڑے سے کر لیا کر مجھ کو تو بس تیری چوت چاہیے چوت سمجھی میں کوئی تجھے پیار ویار نہیں دوں گا میں تو بس تجھے اپنا لن ہی دے سکتا ہوں نہیں چاہیے تو بول دے ابھی۔۔
میجر کو دوبارہ غصے میں آتے ہوئے دیکھ کر صبا تھوڑا گھبرا گئی میجر کی باتیں اسے لگی تو بہت بری تھیں لیکن پھر بھی بات کو ٹائم کو سنبھالتے ہوئے بولی اچھا اچھا آپ غصہ نہ ہو چھوڑو اس بات کو اب جاؤ ۔۔جانا نہیں ہے کیا صبا نے اب پیار سے میجر کے سر کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔۔
📖 ہماری پریمیم کہانیوں کو پڑھنے کے لیے ہمارے فورم کو جوائن کریں
🔗 فورم جوائن کریں