صبا کا چہرہ اپنی طرف موڑا تو صبا نے میجر کی آنکھوں میں دیکھ کر شرما کر اپنی آنکھیں بند کر لیں۔۔۔۔۔۔ میجر نے اپنا ہاتھ صبا کے پیٹ پر رکھا اور اپنے ہاتھ سے اپنی منی صبا کے جسم پر ملنے لگا۔۔۔۔۔۔
صبا۔۔ یہ یہ کیا کر رہے ہو
میجر ہنسنے لگا۔۔۔۔ ارے تیرے اس چکنے جسم کو اپنی منی سے اور بھی چکنا کر رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد میجر اٹھا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔۔ صبا کے تھکے ہوئے اور چُدے ہوئے جسم میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اٹھ کر اس کے پیچھے جاتی۔۔۔۔ اسی لیے وہیں بستر پر ہی پڑی رہی۔۔۔۔۔۔ اُسے وہیں لیٹے لیٹے ہی احساس ہوا کہ میجر میں دروازے سے نہیں بلکہ بالکونی سے نکلا ہے۔۔۔۔
صبا وہیں اپنے بستر پر لیٹی رہی۔۔۔۔ اُسکا ہاتھ اپنے پیٹ پر پھسل رہا تھا۔۔۔۔۔۔ اپنے جسم پر پڑی ہوئی اس میجر کی منی کو اپنے جسم پر رگڑ رہی تھی۔۔۔۔ بنا کچھ بھی سوچے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کتنی چکنی ہے اسکی منی۔۔۔۔۔۔ ایک بار پھر سے صبا کو اپنے اسی غلطی کے احساس نے گھیر لیا۔۔۔۔ اُسے خیال آنے لگا۔۔۔۔ میں نے ایک بار پھر سے اپنے شوہر کے ساتھ بے وفائی کی ہے۔۔۔۔ آج تو میجر نے میرا ریپ نہیں کیا نا۔۔ آج تو میں نے خود اپنی مرضی سے سب کچھ کروایا ہے۔۔۔۔۔۔ خود اپنی مرضی سے چدوایا ہے۔۔۔۔۔۔ لیکن اس مرضی میں بھی تو مجبوری شامل ہے نا میری۔۔۔۔ یہ بات اشرف کو سمجھنی چاہیے نا۔۔۔۔۔۔ کیا کروں میں ۔۔۔۔۔۔ نہ چاہتے ہوئے بھی سب کچھ ہو جاتا ہے جب بھی وہ سامنے آجاتا ہے۔۔۔۔ پتہ نہیں کیا وجہ ہے۔۔۔۔ شاید اس کی وجہ صرف اور صرف اس کے جسم اور اس کے لنڈ کی طاقت ہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاید۔۔۔۔
صبا نے کلاک دیکھا۔۔۔۔۔۔ اوووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووو 6-7 گھنٹے رہا ہے یہاں۔۔۔۔۔۔ کمال ہے ویسے اس کی بھی پاور اور سٹیمنا۔۔۔۔ صبا یہ سوچتی ہوئی مسکرانے لگی اور بیڈ سے اٹھ کر اپنے کپڑے اٹھا کر باتھ روم میں چلی گئی۔۔۔۔ تاکہ اشرف کے آنے سے پہلے صاف ستھری ہو کر تیار ہو جائے۔۔ بستر سے اٹھنے کا تو اسکا بھی دل نہیں چاہ رہا تھا۔۔ جسم جو پورے کا پورا ٹوٹ رہا تھا۔۔۔۔ لیکن پھر بھی اٹھ گئی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔ جو کچھ ہوا تھا۔۔۔۔ یا جو کچھ اس نے کیا تھا۔۔۔۔ وہ سب اپنے خاوند اشرف سے چھپانے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دن۔۔۔۔ دو دن۔۔۔۔ تین دن۔۔۔۔۔۔ چار دن۔۔۔۔ ایسے گنتی گنتی پورے 10 دن نکل گئے۔۔۔۔۔۔ لیکن میجر کی طرف سے کوئی رابطہ نہیں ہوا صبا سے۔۔۔۔۔۔ نہ کوئی بات چیت۔۔۔۔۔۔ نہ کوئی کال۔۔۔۔ اور نہ ہی کوئی میسج۔۔۔۔۔۔۔۔ شروع میں تو صبا نے شکر کیا کہ اُس کی جان چھوٹ گئی ہے اس کمینے سے۔۔۔۔۔۔ اور آئندہ وہ اُسے نہیں بلائے گا اور نہ ہی ایسے ذلیل کرے گا۔۔۔۔ نہ اُسے اپنا جسم اس کو اس طرح پیش کرنا پڑے گا۔۔۔۔۔۔ اس دوران اُس نے دو تین بار پینو کو میجر کے گھر سے نکلتے ہوئے بھی دیکھا لیکن اُس نے بجائے شرمندہ ہونے کے مسکرا کر اُس کی طرف دیکھا اور آگے بڑھ گئی صبا کو سلام کر کے۔۔۔۔ صبا بھی اب کوشش کرتی کہ میجر سے سامنا نہ ہو اور نہ ہی اُس کے بارے میں زیادہ کچھ سوچے۔۔۔۔ اپنے شوہر سے بھی زیادہ سے زیادہ محبت کا اظہار کرنے کی کوشش کرتی تاکہ اُس کے دماغ سے میجر کا خیال نکل سکے۔۔۔۔ کافی حد تک کامیاب بھی ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔ لیکن کبھی کبھی جب وہ تنہا ہوتی تو اُسے اپنے فلیٹ میں میجر نظر آنے لگتا۔۔ کبھی اُسی صوفے پر بیٹھا ہوا اور اُسے چودتا ہوا۔۔۔۔ اور کبھی اپنے بیڈ روم میں اُس کو اُسی کے بیڈ پر چودتا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی جب رات کو اشرف کے ساتھ سیکس کرتی تو بھی اُسے کچھ کمی کا احساس ہوتا۔۔۔۔ اُسے خیال آتا کہ کیسے میجر کے لنڈ سے اُس کی چوت پوری طرح سے فل ہو چکی ہوتی تھی۔۔۔۔ کیسے پھنس کر جاتا تھا اُسکا لنڈ اسکی چوت میں۔۔۔۔ کتنی بُری طرح سے اُس کے جسم کو دباتا تھا وہ اپنی بانہوں میں لے کر۔۔۔۔۔۔ لیکن ان خیالات کو دور کرنے کے لیے وہ اشرف سے چمٹ جاتی ۔۔۔۔۔۔ لپٹ جاتی۔۔۔۔ لیکن جو کمی تھی۔۔۔۔ وہ تو تھی ہی۔۔۔۔ وہ ایسے تو دور ہونے سے رہی نا۔۔۔۔۔۔ اور یہ صبا بھی اچھے سے جانتی تھی۔۔۔۔
ایک دوپہر وہ اپنے گھر کا کوڑا باہر رکھنے آئی تو اُس نے پینو کو میجر کے گھر کے دروازے سے اندر جاتے ہوئے دیکھا۔۔۔۔ پینو کی نظر جب صبا سے ملی تو اُس کے چہرے پر بھی ایک شرمیلی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔۔ صبا نے واپس آکر اپنا دروازہ بند کیا اور جلدی سے اپنی بالکونی میں آگئی۔۔۔۔ وہ سُننا چاہتی تھی کہ کیا ابھی بھی وہ دونوں وہی کچھ کرتے ہیں یا نہیں۔۔۔۔۔۔ اپنی بالکونی میں آکر تھوڑا سا اوپر کو اُٹھ کر دیکھا تو اُسے میجر کی بالکونی کا دروازہ کھلا ہوا نظر آیا وہ تھوڑا پیچھے ہٹ گئی۔۔۔۔ کچھ ہی دیر میں اُسے دونوں کی آوازیں آنے لگیں۔۔۔۔ پتہ نہیں کیا باتیں کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔ لیکن چند لمحوں کے بعد ہی پینو کی سِسکیاں گونجنے لگیں۔۔۔۔ آآآآآآآآہ اووووووووووووئی میجر صاااااااااحب آآآآآآہستہ ہ ہ ہ۔۔۔۔۔۔ اوووووووووووئی میں مر گئی ی ی ی ی ۔۔۔۔۔۔
پینو کی یہ آوازیں سُن کر صبا کی اپنی حالت عجیب سی ہونے لگی۔۔ وہ جو صبح تک شکر کر رہی تھی اُس کی جان چھوٹ گئی ہے اُس سے۔۔ اب اُس پینو کی آوازیں پھر سے اُسے اُس کی یاد دلا رہی تھیں۔۔ اُسے یاد آنے لگا کہ کیسے وہ بھی تکلیف کے مارے ایسی ہی آوازیں نکالتی تھی جب وہ اُسے چود رہا ہوتا تھا۔۔ اِس کمینے نے اپنی حرکتیں چھوڑی تو ہیں نہیں۔۔ پھر مجھے تنگ کرنے سے کیسے باز آ گیا۔۔ حیرت کی بات ہی ہے نا۔۔ اُن کو دیکھنے کے لیے صبا وہیں پر پڑی ہوئی کرسی پر چڑھ گئی اور اندر جھانکنے لگی۔۔ بالکل سامنے۔۔ سیٹنگ روم میں پڑے ہوئے کوچ پر ہی دونوں موجود تھے۔۔ بالکل ننگے۔۔ پینو نیچے لیٹی ہوئی تھی۔۔ ننگی۔۔ اور میجر اُس کے اوپر۔۔ وہ بھی ننگا۔۔ دونوں کے جسم ایک دوسرے سے ملے ہوئے تھے۔۔ میجر آہستہ آہستہ اپنا لنڈ پینو کی چوت کے اندر باہر کر رہا تھا۔۔ اُسی کوچ پر جہاں کچھ دن پہلے صبا چُدی تھی میجر سے۔۔ آج اُسی کوچ پر پینو لیٹی ہوئی تھی۔۔ اور اُس کی چوت کو بھی میجر کا لنڈ چود رہا تھا۔۔ وہی لنڈ جس نے صبا کی چوت کی پیاس بہت ہی اچھے سے بُجھائی تھی۔۔ ایک بار نہیں بلکہ۔۔ چار بار۔۔ لیکن اب وہی لنڈ اُس سے دور تھا۔۔ اُس کی نظروں کے سامنے تھا۔۔ لیکن اُس سے بہت دور تھا۔۔ وہ اُس لنڈ کو نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔۔ نہ ہی اب اُس کی پیاس رکھنا چاہتی تھی۔۔ لیکن اُسی لنڈ کو دوبارہ سے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ کر ایک بار پھر سے مچل اُٹھی تھی۔۔ اُس کی چوت۔۔ اور اُس کا دل۔۔ پھڑکنے لگی تھی اُس کی چوت جیسے جیسے اُسے یاد آ رہا تھا کہ کیسے میجر نے اُسے چودا تھا۔۔ اُس کے اپنے گھر میں۔۔ اپنے ہی بیڈ روم میں۔۔
پینو کا جسم صبا کی نظروں کے سامنے تھا۔۔ سانولا سا۔۔ لیکن سولیڈ۔۔ بالکل بھی موٹا یا ڈھیلا جسم نہیں تھا۔۔ اُس کے بوبز بھی سولیڈ لگ رہے تھے۔۔ بالکل بھی لٹکے ہوئے نہیں تھے۔۔ حالانکہ وہ اپنے بچے کو فیڈ بھی کرواتی تھی۔۔ میجر نے پینو کو چودتے ہوئے اُس کے بوبز کو پکڑا اور اُن کو دبانے لگا۔۔ صبا کو آواز آئی۔۔
میجر۔۔ پینو تیرے مموں میں تو بہت دودھ ہے۔۔
پینو۔۔ صاحب روز تو پیتے ہو آپ۔۔ اچھے سے پتہ تو ہے آپ کو۔۔
صبا حیران ہو گئی کہ کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے۔۔ کیا میجر جیسے اتنی عمر کا آدمی۔۔ ایک عورت کے بوبز میں سے دودھ پی سکتا ہے۔۔ اور وہ بھی اپنی بیٹی سے بھی چھوٹی عمر کی لڑکی کے بوبز سے۔۔
یقین تو صبا کو کرنا ہی پڑا کیوں کہ اگلے ہی لمحے میجر نے اپنا منہ پینو کے ڈارک براؤن نِپل پر رکھا اور اُسے اپنے منہ میں لے کر چوسنے لگا۔۔
میجر۔۔ پینو سچ میں بہت ہی میٹھا دودھ ہے تیرا۔۔ تیرے شوہر کے تو مزے ہیں۔۔ خوب پیتا ہو گا تیرا دودھ دن رات۔۔
صبا۔۔ ایسا نہیں ہے صاحب جی۔۔ وہ تو اتنی توجہ ہی نہیں دیتا۔۔ بس اپنے چرس کے نشے میں ہی رہتا ہے۔۔ اُسے چرس پینے سے فرصت ملے تو میرے دودھ کی طرف دھیان آئے نا۔۔ ویسے صاحب جی کیا صبا میم صاحب کا بھی دودھ میٹھا ہے۔۔
پینو کے منہ سے اچانک اپنا نام سُن کر میرا دل زور سے دھڑک اُٹھا اور میں اُس کی بات سُن کر کانپ سی گئی۔۔
میجر پینو کے بوبز کو دباتے ہوئے۔۔ ارے کہا یار۔۔ اُس کے مموں میں تو ابھی دودھ ہے ہی نہیں۔۔
پینو۔۔ صاحب اگر کبھی صبا میم صاحب نے اپنے شوہر کو بتا دیا کہ آپ آپ اُس کے ساتھ یہ سب کرتے ہوئے تو۔۔
میجر۔۔ جس دن بتائے گی۔۔ سمجھو وہ اُس حرامی کا آخری دن ہو گا اس دنیا میں۔۔ سالا۔۔ اوقات دیکھو اُس کی کہ کیسی صبا جیسی پری ملی ہوئی ہے اُسے دن رات چودنے کو۔۔ لیکن بہن چود کو چودنا نصیب نہیں ہے۔۔ سالا ڈھیلے لنڈ والا۔۔
پینو۔۔ ویسے صاحب صبا میم صاحب کے شوہر ہیں بہت خوبصورت۔۔ دیکھو نا کتنا گورا چِٹّا اور ہینڈسم ہے
میجر۔۔ سالی حرام زادی کہیں تیرا دل تو اُس پر نہیں آ گیا۔۔ سالا چکنی چمڑی والا چکنا ہے۔۔ پتہ ہے ایسے لڑکوں کی ہر کوئی گانڈ مارنے کے پیچھے ہوتا ہے۔۔ اپنے کالج اور سکول میں ضرور اِس گانڈو نے اپنی گانڈ مروائی ہو گی۔۔ شرط لگا لے مجھ سے تو۔۔ بہن چود خود دھندے پر لگ جائے نا تو سالے کو کئی گاہک مل جائیں گے اپنی گانڈ کے۔۔
اشرف کی خوبصورتی اور اُس کے بارے میں ایسی باتیں سُن کر میں حیران رہ گئی۔۔ اور شرم بھی آنے لگی میجر کے خیالات پر اشرف کے بارے میں۔۔
📖 ہماری پریمیم کہانیوں کو پڑھنے کے لیے ہمارے فورم کو جوائن کریں
🔗 فورم جوائن کریں