ہماری ٹاپ کلاس کہانیاں پڑھنے کے لیے ہمارے فورم کو جوائن کریں

میجر صاحب۔۔( نیو ورژن ۔۔قسط 26)

romantic stories

پینو۔۔ صاحب جی کہیں آپ کا اپنا دل بھی تو اشرف صاحب پر نہیں آ گیا۔۔ لگتا ہے صبا میم صاحب کو چودنے کے بعد اب آپ کی نیت اُن کے شوہر پر بھی خراب ہو رہی ہے۔۔ سچی بتاؤں صاحب اپنی بلڈنگ کی کئی عورتیں چھُپ چھُپ کر اُسے دیکھتی ہیں۔۔

میجر۔۔ ارے اِسی لیے تو میرا دل اُس کی بیوی پر آیا ہے۔۔ رانڈ ہے بڑی سیکسی چیز۔۔

پینو۔۔ چھوڑو بھی صاحب آپ ہر وقت اُسی صبا میم صاحب کی باتیں ہی کرتے ہو۔۔ کہیں آپ کو اُس سے پیار تو نہیں ہو گیا۔۔ ہے تو وہ ایسی ہی پیاری اور خوبصورت۔۔

میجر۔۔ ارے نہیں نہیں پینو۔۔ میں اِس عمر میں پیار ویار کے چکروں میں نہیں پڑنے والا۔۔ مجھے تو بس رنڈیاں چاہیے ہیں چودنے کے لیے۔۔ جیسے تُو میرے لیے ایک رنڈی ہے ویسے ہی وہ صبا بھی میرے لیے ایک رنڈی ہی ہے۔۔ تم دونوں تو بس میری رکھیل ہو۔۔ جن کو جب دل کرے چود لیتا ہوں۔۔ کون گھر میں عورت کو رکھے جب باہر ہی ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت عورت مل رہی ہو چودنے کے لیے۔۔ اور وہ بھی بنا کسی پیسوں کے اپنی مرضی سے چُدواّئے۔۔

صبا کو ایک بار پھر سے اپنی تذلیل محسوس ہوئی۔۔ کہ اس کمینے کو تو پیار کی کوئی سینس ہی نہیں ہے۔۔ صرف اور صرف مجھے اپنی رنڈی اور رکھیل ہی سمجھتا ہے۔۔ لیکن یہ کون سی نئی بات ہے جو مجھے پتہ چلی ہے۔۔ یہی باتیں تو اُس نے میرے سامنے بھی کئی بار کی ہیں میرے منہ پر۔۔ ۔۔ ذلیل۔۔ کمینہ۔۔ یہ سوچتے ہوئے صبا نے ایک آخری نظر میجر کے لنڈ پر ڈالی اور پھر کرسی سے اُتر کر اندر فلیٹ میں آگئی۔۔ جتنا اُس کا دل میجر کے لنڈ کو دیکھ کر مچل اُٹھا تھا۔۔ اُتنا ہی اُس کی باتیں سُن کر خراب ہو گیا۔۔ کتنا گندا انسان ہے۔۔ ذرا بھی پردہ نہیں رکھ سکتا۔۔ کیا ضرورت ہے آخر اُسے میرے بارے میں باتیں کرنے کی اُس نیچ   گھر گھر میں کام کرنے والی عورت سے۔۔ پتہ نہیں کہاں کہاں منہ مارتی پھرتی ہو گی۔۔ اور پتہ نہیں کہاں کہاں باتیں کرتی ہو گی۔۔ اور وہ کمینہ بھی تو پتہ نہیں کہاں کہاں منہ مارتا پھرتا ہے۔۔ اور پتہ نہیں کہاں کہاں چوت مارتا پھرتا ہے۔۔ صبا کا دل ایک بار پھر سے میجر کے لیے غصے اور نفرت سے بھر چکا تھا۔۔ ہمیشہ اُس کی باتوں اور رویے کی وجہ سے ہی اُسے اُس سے نفرت ہوتی تھی۔۔ لیکن جب بھی اُس کے سامنے جاتی تھی تو اُس کی اِن سب نفرت بھری اور ذِلّت آمیز باتوں کے باوجود بھی خود کو اُس کے سامنے سُررینڈر کر دیتی تھی۔۔ اُس کے جسم کے نشے میں ڈوب جاتی تھی۔۔ کبھی کبھی تو اُسے لگتا تھا کہ جیسے اُسے میجر کے جسم کی لت لگتی جا رہی ہے۔۔ عادی ہوتی جا رہی ہے اُس کی چُدائی کی اور اُس کی۔۔

صبا نے اپنے فلیٹ میں واپس آکر پانی پیا اور اپنے بیڈ روم میں جا کر لیٹ گئی۔۔ میجر اور پینو کی چُدائی اور اُن کی باتوں کی ساری ریکارڈنگ اُس کی آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی۔۔ کمینہ کیسے چود رہا تھا اُس حرام زادی کو۔۔ اور اُسے بھی تو دیکھو کیسے ٹانگیں کھولے لے رہی تھی اُسکا لنڈ اپنے اندر۔۔ پتہ نہیں اِس میجر کو مسئلہ کیا ہے۔۔ جب خود کا دل کرتا ہے تو آ جاتا ہے۔۔ نہ کرے تو اُسے کوئی فکر نہیں کسی کی بھی۔۔ اُفففف پتہ نہیں کس جانور  کے ہتھے چڑھ گئی ہوں۔۔

اور اُس کمینے کی باتیں تو سنو اشرف کے بارے میں۔۔ اچھا خوبصورت اور گورا چِٹّا ہے تو اُس کے بارے میں ایسی باتیں کرنے لگا ہے۔۔ کبھی بھی نہیں۔۔ ایسا کبھی بھی نہیں ہو سکتا کہ اشرف نے کبھی گانڈ میں کسی کا لیا ہو۔۔ بکواس کرتا ہے وہ کُتا۔۔ جیلس ہو رہا ہے نا اشرف سے۔۔

ابھی وہ تکیے سے ٹیک لگا کر بیٹھی یہی سوچ رہی تھی کہ اُسکا سیل بج اُٹھا۔۔ صبا نے بے خیالی میں اپنا موبائل اُٹھایا تو حیران رہ گئی۔۔ ارے یہ آج کیسے یاد آ گئی اِس کمینے کو۔۔ کال میجر کی ہی تھی۔۔ دل تو نہیں چاہ رہا تھا لیکن پھر بھی صبا نے اُس کی کال اٹینڈ کر لی۔۔

میجر۔۔ ہے میری رانڈ کیا حال ہے تیرا۔۔

صبا تھوڑے غُصے سے۔۔ تُم کو اِس سے کیا۔۔ کیوں کیا ہے فون مجھے۔۔

میجر۔۔ اے اے سالی زیادہ نخرے نہیں دِکھانے کا سمجھی۔۔ میں نے تو یہ پوچھنے کے لیے فون کیا تھا کہ شو کیسا لگا آج کا۔۔

صبا تھوڑا گھبرا کر۔۔ ششششو۔۔ کیسا شو۔۔؟؟؟ کون سا شو۔۔؟؟؟؟

میجر زور سے ہنستے ہوئے۔۔ وہی شو جو اپنی بالکونی سے جھانک جھانک کے دیکھ رہی تھی۔۔ سالی ڈرامے کرتی ہے۔۔ اِتنا ہی دل کر رہا تھا تو آ جاتی اندر ہی۔۔ دونوں رنڈیوں کو ایک ساتھ ہی چود دیتا۔۔

صبا۔۔ ن۔۔ ن۔۔ نہیں۔۔ نہیں۔۔ مُجھے کیا پتہ کیا کر رہے ہو تُم اپنے فلیٹ میں۔۔ اور مُجھے کیا ضرورت پڑی ہے کہ جھانکتی پھروں ادھر اُدھر۔۔

میجر۔۔ جِتنا مرضی جھوٹ بولتی جا۔۔ دیکھ تو میں نے لیا ہی تھا تجھے۔۔ ویسے بھی دیکھتی رہ مجھے کیا فرق پڑتا ہے۔۔ ویسے یہ بتا آج بھی ریکارڈنگ کی ہے کہ نہیں۔۔ کر لیتی تو اچھا تھا۔۔ بعد میں بھی مزے لے لے کے دیکھتی رہتی اور اپنی چُوت رگڑتی رہتی۔۔ ویسے جلد ہی تیرا نمبر بھی لگاؤں گا۔۔ بلاؤں گا تجھے بھی۔۔ فکر نہ کر تُم۔۔ یہ کہتے ہوئے میجر نے ایک زور دار قہقہہ لگایا اور فون بند کر دیا۔۔ بِنا صبا کا جواب سُنے ہی۔۔

کُتا۔۔ کمینہ۔۔ صبا کے منہ سے تو بس یہی نِکل سکا۔۔ کیوں آؤں میں تیرے کہنے پر کمینے۔۔ میں کوئی رنڈی ہوں اُس پینو کی طرح۔۔ اُففففففف غلط ہو گیا۔۔ اُس کمینے نے دیکھ لیا ہے مجھے دیکھتے ہوئے۔۔ بہت ہی بُرا ہوا ہے۔۔ پتہ نہیں کیوں دیکھنے لگی میں اُوپر چڑھ کر اُس کو۔۔ اچھا چلو دفع کرو۔۔ کرنے دو جو بکواس کرتا ہے۔۔ اُس کمینے کو تو یہ بھی شرم نہیں ہے کہ کوئی دیکھ رہا ہے تو بس کر دوں یا کہیں اور چلا جاؤں۔۔ پتہ چل گیا پھر بھی لگا رہا وہیں پر بے شرمی سے۔۔ کمینہ۔۔

دو دن اور بھی گُزر گئے اُس دن کے واقعے  کو۔۔ اشرف اپنے کام پر جا چُکا تھا۔۔ قریب 11 بج رہے تھے صبح کے اور صبا ابھی کچن سمیٹ کر صفائی وغیرہ ہی کر رہی تھی کہ اُسکا فون بج اُٹھا۔۔ اپنے کام میں مصروف اپنے ہی خیالوں میں گم صبا ایک بار تو ڈر ہی گئی۔۔ پھر ہنس پڑی کہ وہ فون کی بیل سے ہی ڈر گئی تھی۔۔ لیکن جب اپنا سیل فون اُٹھا کر دیکھا تو پھر سے چونک گئی۔۔ میجر کی کال تھی۔۔ اِس کو کیا تکلیف ہو گئی ہے اب۔۔

صبا کو فون اٹینڈ کرنا ہی پڑا۔۔ ایسے ہی اٹینڈ نہ کر کے اُسے اپنے ذِمّے نہیں ڈلواانا چاہتی تھی۔۔ فون اٹینڈ ہوتے ہی۔۔

میجر۔۔ ہاں میری رانڈ چل آجا جلدی سے میرے فلیٹ میں۔۔ پیچھے بالکونی سے ہی آجا۔۔ جلدی آنا اور کوئی نخرہ نہیں سمجھی۔۔ فون کٹ

صبا۔۔ نَہیں۔۔ نَہیں میں نہیں آ رہی۔۔ لیکن دوسری طرف تو اُس کی آواز سُننے والا کوئی بھی نہیں تھا۔۔ میجر تو فون بند کر چُکا ہوا تھا۔۔

اُففففففف اب کیا کروں۔۔ اِس کمینے کو پھر سے یاد آ گئی ہے میری۔۔ پھر سے ذلیل کرے گا۔۔ نہیں جاتی میں بھی۔۔ تو کیا وہ سیدھا اِدھر نہیں آ جائے گا اگر میں نہ گئی تو۔۔ اُففففففف کیا مُصیبت ہے نا۔۔ پھر سے وہی سب کچھ۔۔ ہاں پھر سے چودے گا مُجھے۔۔ اُسی وحشی طریقے سے۔۔ وہ کمینی پینو نہیں آئی ہو گی نا آج تو اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے مُجھے بُلا لیا ہے۔۔ جانا تو پڑے گا ہی آخر اِتنے دن کے بعد جو بُلایا ہے۔۔ اپنی دوبارہ سے ہونے والی چُدائی کا سوچ کر اچانک سے صبا کی حالت عجیب ہونے لگی۔۔ صبا نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور اپنا کام چھوڑ کر کھڑی ہو گئی۔۔ میجر کے پاس جانے کے لیے۔۔ اپنی چُوت چُدوانے کو جانے کے لیے۔۔

کوئی 15 یا 20 منٹ کے بعد صبا اپنی بالکونی میں کھڑی تھی۔۔ اِدھر اُدھر نیچے دیکھا۔۔ لیکن کوئی نہیں تھا۔۔ انتہائی تیز دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ صبا نے درمیان کی دیوار کو کراس کیا اور اگلے ہی لمحے وہ میجر کی بالکونی میں کھڑی تھی۔۔ ہاتھ پیر ٹھنڈے ہو رہے تھے۔۔ اگر کسی نے دیکھ لیا تو۔۔ اِسی سوچ کے ساتھ ہی صبا نے میجر کے فلیٹ کا بالکونی والا دروازہ پش کیا۔۔ اوہ نو۔۔ یہ تو اندر سے بند ہے۔۔ کہیں دفع تو نہیں ہو گیا وہ کمینہ مُجھے آنے کا کہہ کر۔۔ ناک کرتی ہوں۔۔ یہی سوچ کر جلدی سے صبا نے دروازہ ناک کیا۔۔ ایک بار۔۔ دو بار۔۔ تیسری بار ناک کیا تو دروازہ کھل گیا۔۔ اور ساتھ ہی صبا کا دل مانو اُچھل کر حلق میں ہی آ گیا۔۔

دروازہ پینو نے کھولا تھا اور صبا کو دیکھ کر حیران ہو رہی تھی اور پھر مُسکرانے لگی۔۔ صبا کی کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا بولے۔۔ کیسے اُس نوکرانی کو بتائے کہ وہ کیوں میجر کے گھر آئی ہے اور وہ بھی پیچھے بالکونی کے دروازے سے۔۔ صبا یکدم سے اُسے دیکھ کر پریشان ہو گئی کہ یہ کہاں سے اِدھر آ گئی۔۔ اور مُجھے یہاں کھڑا دیکھ کر پتہ نہیں کیا سوچے گی۔۔ پتہ نہیں یہ میجر کیا کیا گندے کام کرتا ہے۔۔ اگر یہ کمینی آ گئی تھی تو مُجھے روک دیتا کہ نہ آؤ۔۔

پینو۔۔ صبا میم صاحب آپ۔۔؟؟؟؟

صبا۔۔ و۔۔ وووووووو۔۔ میں۔۔

صبا کو تو سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ کیا بولے۔۔

پینو مُسکرائی اور بولی۔۔ صبا بی بی آپ اندر تو آجاؤ۔۔ ایسے کوئی آپ کو یہاں کھڑے دیکھ لیا گا۔۔ اور دیکھ لیا تو پھر ایسے ہی اُلٹی سیدھی باتیں سوچے گا۔۔ پینو کے چہرے پر بڑی معنی خیز مُسکرہٹ تھی۔۔

صبا نے بھی یہی مناسب سمجھا کہ اندر چلی جائے اِس سے پہلے کہ کوئی اُسے وہاں کھڑی دیکھے۔۔ صبا اندر آ گئی۔۔ پینو نے دروازہ بند کر دیا۔۔ شرمندگی اور گھبراہٹ سے صبا کی حالت بُری ہو رہی تھی۔۔ اُسے میجر پر غُصہ بھی آ رہا تھا۔۔ اندر آئی تو دیکھا کہ سِٹنگ روم میں کوئی بھی نہیں تھا۔۔ صبا اِدھر اُدھر میجر کو دیکھنے لگی۔۔

پینو صبا کی گھبراہٹ کو انجوائے کر رہی تھی۔۔ بولی۔۔ میجر صاحب بیڈ روم میں ہیں۔۔ کوئی جلدی کا کام ہے تو اندر ہی چلی جائیں۔۔

صبا نے شرمندگی سے سر جھُکا دیا۔۔ وہ بُری طرح سے پھنس چکی تھی۔۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کرے۔۔ وہ بُری طرح سے پکڑی جا چُکی تھی۔۔ اُس معمولی سرونٹ کے سامنے اُس کی حقیقت پوری طرح سے کُھل چُکی تھی۔۔ کسی چور کی طرح اُس پینو کے سامنے کھڑی اپنی ہاتھوں کی انگلیوں کو مَسَل رہی تھی۔۔ سر جھُکائے ہوئے۔۔

صبا۔۔ میں جا رہی ہوں۔۔ صبا دروازے کی طرف بڑھی۔۔

پینو۔۔ ارے ارے میم صاحب رُک جاؤ ابھی آ رہے ہیں میجر صاحب۔۔ اچھا میں بُلا لاتی ہوں۔۔

پینو نے بیڈ روم کے قریب جا کر بیڈ روم کا دروازہ کھولا اور اندر جھانک کر بولی۔۔ صاحب جی وہ اشرف صاحب کی بیوی آئی ہیں آپ سے ملنے۔۔ شاید کوئی ضروری کام ہے۔۔

میجر بھی باہر نِکل آیا۔۔ صبا نے اُسے دیکھ کر سر جھُکا لیا۔۔ اُس نے ایک شارٹ نِکر اور سلیولیس ویسٹ پہنی ہوئی تھی۔۔ اُس کے بازؤں اور تھائیز کے سولیڈ مسلز بالکل ننگے تھے۔۔ وہ تو اِس میجر کو پورا ننگا بھی دیکھ چُکی تھی۔۔ اِس لیے اُسے حیرت نہیں ہوئی۔۔

میجر۔۔ ارے پینو ہمارے گھر میں مہمان آئے ہیں کوئی چائے پانی کا تو لاؤ اِن کے لیے۔۔

صبا۔۔ نہیں۔۔ نہیں۔۔ مُجھے کچھ نہیں۔۔ لینا۔۔

پینو ہنستے ہوئے۔۔ صبا جی لینا تو پڑے گا ہی۔۔ اور پھر ہنستی ہوئی کچن کی طرف بڑھی۔۔ صبا اُس کی بات کا مطلب سمجھ گئی اور اُسے اُس کی بات اور ہنسی پر بُہت زیادہ غُصہ بھی آیا اور شرمندگی بھی ہونے لگی۔۔

جیسے ہی پینو کچن میں گئی تو صبا جو میجر کے سامنے ایک صوفے پر بیٹھ چُکی تھی بولی۔۔ کیوں بُلایا ہے مُجھے۔۔

میجر ہنستے ہوئے۔۔ ہاہاہاہاہا۔۔ پتہ تو ہے تجھے اچھے سے کہ کیا کام ہے مجھے تُم سے۔۔

صبا تھوڑے غُصے سے کچن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔۔ یہ ہے تو سہی تو پھر۔۔

میجر ہنستے ہوئے۔۔ ارے جو بات تیری چُوت میں ہے وہ اِس میں کہاں ہے۔۔

صبا۔۔ لیکن۔۔ اِس کو تو جانے دیتے پہلے۔۔

میجر۔۔ ارے فکر نہ کر۔۔ اِس سے کیا پردہ ہے۔۔ بس تھوڑا سا کام رہتا ہے اِس کا پھر اِس نے چلی جانا ہے۔۔ اُس کے بعد بس تُو اور میں۔۔ پھر جیسے تُو کہے گی ویسے تجھے چود دوں گا۔۔

صبا کا سر شرم سے جھک گیا۔۔ کیا ابھی بھی وہ یہی سمجھ رہا ہے کہ میں اُس سے چُدوانے کے لیے آئی ہوں۔۔

صبا تھوڑا تیکھا بولتی ہوئی۔۔ کس لیے بُلایا تھا مُجھے تُم نے۔۔

میجر۔۔ ارے رنڈ زیادہ بُھولی نا بن یہ تُو بھی جانتی ہے کہ میں نے تجھے کیوں بُلایا ہے اور یہ بھی اچھے سے جانتی ہے کہ تُو یہاں کیوں آئی ہے۔۔

📖 ہماری پریمیم کہانیوں کو پڑھنے کے لیے ہمارے فورم کو جوائن کریں

🔗 فورم جوائن کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *