ہماری ٹاپ کلاس کہانیاں پڑھنے کے لیے ہمارے فورم کو جوائن کریں

میجر صاحب۔۔( نیو ورژن ۔۔قسط 4)

ایک صبح اشرف کے جانے کے بعد حسب معمول گھر پر اکیلی تھی اور اپنا تھوڑا کام سمیٹ کر اپنے لیے چائے بنائی اور اپنے بیڈروم میں آگئی اور ٹی وی دیکھتے ہوئے چائے پینے لگی۔۔ تھوڑی ہی دیر گزری کہ اسے باہر سیٹنگ روم میں کچھ عجیب سی آواز سنائی دی۔۔ صبا نے ٹی وی چلتا ہوا چھوڑا اور دبے قدموں سے باہر کو آئی اور بیڈروم کا دروازہ تھوڑا سا کھول کر باہر جھانکا تو سب کچھ اسے بالکل ٹھیک ٹھاک لگا۔۔ صبا کی گھبراہٹ ختم ہوئی اور وہ اپنے کمرے سے باہر نکل آئی۔۔ اس کی نظر بالکونی کے دروازے کی طرف گئی جو کہ کھلا ہوا تھا۔۔ صبا حیران ہوئی کہ یہ کیسے کھلا رہ گیا۔۔ لگتا ہے کہ باہر کوئی بلی نہ آئی ہو دوسری طرف سے کہیں۔۔ یہ دیکھنے کے لیے وہ بالکونی کے دروازے کی طرف بڑھی اور ابھی باہر دیکھ ہی رہی تھی کہ کسی نے پیچھے کی طرف سے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا اور واپس پیچھے سیٹنگ روم میں کھینچ لیا۔۔

اس شخص نے پیچھے سے صبا کا منہ پکڑ کر پیچھے کھینچا اور گھسیٹتا ہوا لا کر اسے نیچے کارپٹ پر پھینک دیا اور سیدھا کر کے اس کے پیٹ کے اوپر چڑھ کر بیٹھ گیا۔۔ اب سیدھی ہونے پر صبا نے اس کا چہرہ دیکھا تو اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں خوف کی وجہ سے کیونکہ وہ کوئی اور نہیں بلکہ اس کا پڑوسی میجر صاحب تھے جو کہ دونوں فلیٹس کے درمیان کی دیوار کود کر اس کے فلیٹ میں آگئے تھے۔۔

میجر نے اپنے مضبوط ہاتھوں میں صبا کا گلہ دبایا ہوا تھا اور اس کے اوپر چڑھ کر بیٹھا ہوا تھا۔۔ اس کا گلہ دباتے ہوئے میجر غصے سے بولا۔۔

میجر۔۔ بہت بکواس کرتی تھی نہ کہ میرا پول کھول دے گی سب کے سامنے بتا اب ایک ہی جھٹکے میں تیرا گلہ دبا کر یہیں مار دوں نہ تم کو۔۔

صبا کی تو خوف اور گھبراہٹ سے سٹی ہی گم ہو گئی ہوئی تھی۔۔ ن ن ن نہیں ۔۔پلیززززز۔۔۔

میجر نے تھوڑا سا اس کا گلہ اور دبایا اور اس کے چہرے کے قریب ہو کر بولا۔۔ چھوڑ دوں گا تجھے حرامزادی لیکن پہلے بتا کہ وہ تصاویر کہاں ہیں۔۔

صبا۔۔ د د دیتی ہوں ۔۔پلیززززز مجھے چھو ڑڑڑڑ دووو۔۔

صبا کا نازک سے جسم اس میجر کے مضبوط اور بھاری بھرکم جسم کے نیچے دبا ہوا تھا۔۔ اس نے کسی قسم کی بھی کوئی غلط حرکت نہیں کی تھی اب تک صبا کے ساتھ۔۔ نہ کہیں سے اس کے جسم کو چھوا تھا اور نہ کچھ اور کرنے کی کوشش کی تھی۔۔ یہ بات صبا کے لیے عجیب لیکن خوشی کی تھی کہ اس کی عزت محفوظ ہے۔۔

میجر نے اس کا گلہ چھوڑا اور بولا۔۔ چل جلدی سے نکال کر دے موبائل اپنا۔۔ ورنہ آج تیری یہاں پر لاش ہی پڑی ہو گی تیرے اس گانڈو شوہر کے آنے تک۔۔

یہ کہہ کر میجر اس کے جسم کے اوپر سے اٹھا تو صبا کا سانس بحال ہوا اور وہ لڑکھڑاتی ہوئی آگے بڑھی اور بیڈروم کی طرف بڑھی۔۔ میجر بھی اس کے پیچھے پیچھے اندر کی طرف آیا۔۔ اندر بیڈ کے اوپر پڑا ہوا موبائل اس نے اٹھایا ہی تھا کہ میجر نے اس کے ہاتھ سے اسے جھپٹ لیا اور اسے آن کر کے اس میں سے اپنا کلپ ڈھونڈنے لگا۔۔

صبا کو اس نے اب چھوڑ دیا ہوا تھا اور صبا سہمی ہوئی لیکن غصے سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔ میجر اس کا موبائل لے کر اس کے بیڈروم سے نکلا اور باہر سیٹنگ روم میں آگیا۔۔ صبا بھی غصے سے اس کے پیچھے آئی اور بولی۔۔

صبا۔۔ حرام زادے کمینے کتے تم نے ہم لوگوں کی زندگی عذاب کر کے رکھی ہوئی ہے تیری اسی خباثت سے جان چھڑانے کے لیے یہ سب کیا تھا میں نے۔۔ اب ڈیلیٹ کر دے اسے لیکن میں پھر بھی پوری بلڈنگ کو بتاؤں گی تیری کرتوت کہ تو کیا کرتا ہے۔۔

میجر نے حقارت سے مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔۔

میجر۔۔ جا جا جو دل میں آئے کر لے۔۔ اور کہہ دینا اپنے اس ہیجڑے سے ہمت ہے تو آکے بات کر لے میرے سے۔۔ اس گانڈو کے تو ٹٹوں میں ہی پانی نہیں ہے جو میرے سامنے کھڑا ہو گا آکے۔۔

میجر۔۔ میں چاہوں تو ابھی کے ابھی تیری چوت مار کر تیری عزت کو خاک میں ملا دوں لیکن مجھے تیرے چہرے کی خوبصورتی سے یا تیرے جسم کے سیکس سے کچھ نہیں لینا دینا میں تو تھوکتا بھی نہیں ہوں تیری جیسی رنڈی پر جس کو آگے کر کے اس کا شوہر خود پیچھے چھپ جاتا ہو۔۔

صبا۔۔ کمینے مجھے تو نے رنڈی بولا۔۔ رنڈی تو وہ ہے جو تیرے ساتھ تھی۔۔ اسی لیے تیری بیوی بھی تجھے چھوڑ کر چلی گئی نہ کیونکہ تو ہے ہی رنڈیوں کے قابل۔۔ تو نے مجھے رنڈی بولا ہے نہ دیکھنا میں اب تجھے اور تیری اس رنڈی کو کیسے سب کے سامنے کھولتی ہوں۔۔

یہ کہہ کر صبا اپنے فلیٹ کے مین گیٹ کی طرف بڑھی تاکے باہر جا کر لوگوں کو اکھٹا کر سکے لیکن چالاک میجر نے اس کے ارادے کو تار لیا اور تیزی سے آگے بڑھ کر اسے پیچھے سے پکڑا اور گھسیٹتا ہوا لا کر نیچے فرش پر دوبارہ گرا دیا۔۔

میجر۔۔ کمینی باہر لوگوں کو بتائے گی تو اچھا بتا ذرا جا کے اب۔۔ تیری یہ گندی زبان بند کرنی ہی پڑے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر میں دیکھتا ہوں کہ کیسے تو باہر جا کے سب کو بتاتی ہے۔۔

میں نے سوچا تھا کہ تجھے کچھ نہیں کہوں گا لیکن تجھے اپنی عزت پیاری نہیں ہے۔۔ اب تو تو چدے گی کتیا میرے سے۔۔

تو نے بولا ہے نہ کہ میں رنڈیوں کے ہی قابل ہوں تو اب میں تجھے بھی رنڈی بناؤں گا چود کر اور پھر تو اپنا حشر دیکھنا۔۔

صبا بری طرح سے مزاحمت کر رہی تھی اور خود کو اس سے چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ لیکن میجر کے طاقتور ہاتھوں نے اس کے دونوں ہاتھوں کو اوپر لے جا کر پکڑ اور نیچے سے اس کی الاسٹک والی شلوار کو نیچے کھینچے لگا۔۔

صبا ٹانگیں چلاتے ہوئے اور بھرپور مزاحمت کرتے ہوئے۔۔ دفع ہو جاؤ ہٹ جاؤ میرے اوپر سے کمینے دو ہو جاؤ چھوڑ دو مجھے کیوں میری زندگی خراب کرنے لگے ہو۔۔

اب صبا کی کیفیت رونی والی ہو رہی تھی لیکن وہ طاقتور میجر پوری طرح سے اس پر حاوی تھا۔۔ اس نے صبا کو گھسیٹا اور کھینچتا ہوا سیٹنگ روم میں پڑے ہوئے بڑے صوفے پر لے آیا اور اس پر اسے لٹا کر اس کا پاجامہ نیچے کھینچنے لگا۔۔

میجر۔۔ چلا چلا جتنا چلا سکتی ہے چلا کوئی نہیں آئے گا یہاں پر آج تیری چوت چود کر ہی رہوں گا۔۔ ہاہاہاہاہاہاہاہا

یہ کہتے ہوئے اس نے صبا کے پاجامے کو پھاڑ دیا اور اس کی ٹانگوں سے نکال دیا۔۔

میجر۔۔ آآآآآآآآآآآآآآآآآآہ بڑی گوری ہے کتی رنڈی تو تووووووووووووو

یہ کہتے ہوئے میجر نے زور لگاتے ہوئے صبا کی دونوں ٹانگوں کو کھولا اپنا ہاتھ سیدھا اس کی ملائم خوبصورت گلابی بالوں سے پاک چوت پر رکھ دیا اور اسے اپنی مٹھی میں لے کر دبانے لگا۔۔ صبا کی چوت کو اپنی مٹھی میں لئے لئے ہی میجر نے اپنی ایک انگلی اس کی چوت کے اندر ڈال دی اور تیزی کے ساتھ اس کی تنگ چوت میں گھمانے لگا۔۔

صبا اس حملے سے تڑپ اٹھی اور خود کو صوفے سے نیچے گرانے کی کوشش کرتی ہوئی اس کا ہاتھ اپنی چوت پر سے ہٹانے کی کوشش کرنے لگی۔۔ اوپر سے وہ اپنا ہاتھ میجر کے ہاتھوں سے چھڑوانا چاہ رہی تھی لیکن اس میجر نے اپنے کمانڈو ایکشن کے ساتھ اسے بالکل بیک بس کر کے رکھ دیا ہوا تھا۔۔

جیسے جیسے میجر کی انگلی اس کی چوت میں اندر ہی اندر جا رہی تھی تو اسے اپنی چوت میں جلن سی محسوس ہو رہی تھی۔۔ پھر میجر نے اٹھ کر اس کی ٹانگوں کے درمیان میں اپنی پوزیشن بنائی اور اپنا پاجامہ نیچے کھینچنے لگا۔۔

صبا کا خوف کے مارے برا حال تھا اس نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ کبھی اس طرح اس کے ساتھ زیادتی ہو جائے گی اور اس کا ریپ کر دیا جائے گا اس نے اب اپنے دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے اس سے معافی مانگنی شروع کر دی۔۔

صبا۔۔ چھوڑ دو پلیز مجھے چھوڑ دو معاف کر دو میں کسی کو کچھ نہیں کہوں گی پلیزززززززززز میری عزت برباد نہ کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.. میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوں گی۔۔ پلیززززززززززززززززززززز نہیں ن ن ن ن ن ن ن

صبا کا جسم تھر تھر کانپنا شروع ہو گیا ہوا تھا اور اس کی مزاحمت اب جیسے بےبسی میں ڈھل چکی تھی وہ آخری کوشش کر رہی تھی کہ یہ درندہ اسے چھوڑ دے اور جس حد تک وہ ذلیل ہو چکی ہے اس سے آگے بات نہ بڑھے۔۔ آج تک کسی نے اس کے جسم کے کسی حصے کو اس کے شوہر کے سوا نہیں دیکھا تھا اور اب یہ کمینہ اور بدمعاش شخص اپنا پاجامہ اتارے اس کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھا اس کی چوت میں انگلی ڈالے ہوئے تھا۔۔

میجر۔۔ نہیں کمینی میں تجھے اب ایسی نہیں چھوڑوں گا تیری چوت چود کر تیرا منہ بند کر دوں گا ہمیشہ کے لئے پھر دیکھتا ہوں کہ تو کیسے کسی کو بتاتی ہے۔۔

میجر نے اپنا پاجامہ نیچے کر کے اپنا لنڈ باہر نکال لیا جو کہ اب تک کھڑا ہو چکا ہوا تھا۔۔ اس نے صبا کی دونوں ٹانگیں اوپر کو کیں اور اپنا موٹا لنڈ جس پر صبا کی نظر بھی نہیں پڑی تھی ۔۔مگر جیسے ہی میجر نے لن اس کی چوت کے نازک سے سوراخ پر رکھ کر دھکا مارا ۔۔اسے لگا جیسے کوئی موٹا ڈنڈا اس کی نازک چوت میں گھس گیا ہو۔۔میجر نے ایک ہی دھکے میں پورا لن اندر ڈال دیا۔۔ نہ چاہتے ہوئے بھی میجر کی انگلی سے صبا کی چوت تھوڑی گیلی ہو چکی تھی۔۔

جیسے ہی میجر کا لنڈ صبا کی چوت میں گھسا تو صبا کے منہ سے ایک تیز چیخ نکلی۔۔آآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآہ آآآآآآآآآآآآآآآآآآآہ ن ن ن نہیں ن ن ن۔۔ اور ساتھ ہی اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔۔

میجر کا لنڈ اس کی چوت کے اندر جاتے ہی جیسے صبا کی ساری مزاحمت ختم ہو گئی تھی۔۔ اس کا جسم ڈھیلا پڑ گیا تھا اب وہ صرف رو رہی تھی اور سسکی رہی تھی اسے پتا تھا کہ جو ہونا تھا وہ ہو چکا تھا۔۔ وہ میجر کے نیچے پڑی کسی زندہ لاش کی طرح تھی اور صرف سسکی رہی تھی۔۔

میجر بغیر رہے اپنا لنڈ تیزی کے ساتھ صبا کی چوت میں آگے پیچھے کر رہا تھا۔۔ وہ بھلا اسے چین سے کہاں لیٹنے رہنے دے سکتا تھا۔۔صبا اس کے تصور سے بھی زیادہ خوبصورت اور نرم و ملائم تھی ۔۔میجر کی شہوت اب عروج پر پہنچ گئی تھی ۔۔ اس نے اب صبا کی خوبصورت اور تنے ہوئے بوبز کو اس کی شرٹ کے اوپر سے اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑا اور ان کو دبانے لگا۔۔

صبا کے بوبز کو اپنے ہاتھوں میں لئے ہوئے ہی میجر جھکا اور آگے کو ہو کر اپنے ہونٹ صبا کے گالوں پر رکھ دیے۔۔

میجر۔۔ کمینی تیری چوت ہے تو بہت ٹائٹ وہ ہیجڑا تو خوب مزے لے رہا ہے تیری اس چوت کے۔۔ آج تو مزہ آگیا تجھے چودنے کا۔۔

صبا نے غصے سے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔۔

میجر نے اب صبا کی قمیض کو اوپر کرنا شروع کر دیا اور اگلے ہی لمحے صبا کی وائٹ بریزیئر میں چھپی ہوئی بریسٹس برا سمیت اس کی آنکھوں کے سامنے تھیں۔۔ اس ٹائٹ بریزیئر میں اس کا گہرا کلیویج بھی بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔۔ صبا نے دوبارہ سے مزاحمت کرتے ہوئے اپنی شرٹ کو نیچے کھینچنا چاہا تو اس کے ہاتھوں کو جھٹکتے ہوئے میجر نے اس کی بریزیئر کو نیچے کھینچ لیا اور اس کے بوبز کو ننگا کر دیا۔۔

صبا کے خوبصورت گورے گورے بوبز جن کے اوپر گلابی گلابی خوبصورت نپلز تھے بہت ہی خوبصورت لگ رہے تھے۔۔ انہیں دیکھ کر تو میجر کی آنکھیں اور بھی چمک اٹھیں اور فوراً ہی اس نے جھک کر اس کے ایک نپل کو اپنے منہ میں لے لیا اور اسے چوسنے لگا۔۔

صبا نے اس کے سر کے اوپر اپنے ہاتھ مارتے ہوئے اسے پیچھے کرنے کی کوشش کی لیکن نیچے سے تو اس کا لنڈ پوری طرح سے اس کی چوت کے اندر اتر چکا ہوا تھا جسے وہ اندر باہر کرتے ہوئے صبا کو چود رہا تھا۔۔

میجر نے اپنی شرٹ اتار کر نیچے پھینکی اور پھر اپنا لنڈ صبا کی چوت سے نکال کر صوفے سے نیچے اترا اور اپنا پاجامہ اتارنے لگا۔۔ صبا نے موقع غنیمت جانتے ہوئے جلدی سے اٹھ کر بھاگنا چاہا لیکن اتنی دیر میں میجر نے اپنا پاجامہ اتار کر اسے اس حالت میں پکڑ لیا کہ وہ اپنے گھٹنوں اور دونوں ہاتھوں کے بل کھڑی تھی۔۔

میجر نے اس کی کمر سے اسے پکڑا اور ایک زور دار تھپڑ اس کی گوری گوری گانڈ پر مار کر بولا۔۔ کتی کی بچی میں نے کہا ہے نہ کہ تو اب مجھ سے بچ کر نہیں نکل سکتی۔۔ چوت تو تیری چود چکا ہوں اب کیا کرے گی مجھ سے بچ کر۔۔

اسی حالت میں میجر نے پیچھے کھڑے ہو کر اپنا لنڈ صبا کی چوت میں ڈال دیا اور ایک ہی جھٹکے میں پورا لنڈ اندر ڈال کر اسے پھر سے چودنا شروع کر دیا۔۔ صبا نے پھسل کر نیچے کو ہوتے ہوئے خود کی چوت سے اس کا لنڈ نکالنے کی کوشش کی لیکن میجر نے اسے اس کی کمر سے پکڑ لیا اور دھنا دھن اس کی چوت چودنے لگا۔۔

میجر نے پیچھے سے اس کی قمیض کو اوپر اٹھایا اور اس کی گوری گوری کمر ننگی ہو گئی۔۔ میجر نے جھک کر اس کی گوری گوری کمر کو چوما اور پھر اس کی گردن کے پاس سے اس کی شرٹ کو پکڑ زور دار جھٹکا دیا اور اس کی قمیض دو حصوں میں پھاڑ دی نیچے تک اور اس کی کمر کو بالکل ننگی کر دیا۔۔ اب صبا کی کمر پر صرف اس کی سفید برا کی بیلٹ اور سٹریپس تھے۔۔ میجر نے فوراً ہی اس کی برا کے ہک کو بھی کھول دیا اور ہاتھ آگے لے جا کر اس کے بوبز کو پکڑ لیا اس کی برا کے کپز کو ہٹاتے ہوئے۔۔ اب میجر نے اس کے بوبز کو پکڑ دھنا دھن پیچھے سے صبا کی چوت کو چودنا شروع کر دیا۔۔ صبا جیسی بھی مزاحمت کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔.. رو رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چلا رہی تھی۔۔۔۔۔۔.. معافی مانگ رہی تھی۔۔۔۔۔۔ لیکن یہ میجر کو بھی پتا لگ رہا تھا کہ چوت اس کی ضرور گیلی ہونے لگی ہوئی تھی۔۔

میجر نے اس کی چوت سے لنڈ باہر نکالا اور اسے نیچے فرش پر گھسیٹ لیا اور اس کی کمر کو اپنے سینے سے لگا کر اس کی دونوں ٹانگوں کو کھولا اور اس کی چوت میں اپنی انگلی ڈال کر بولا۔۔۔۔۔۔۔۔. رنڈی کی اولاد اوپر سے ناٹک کر رہی ہے اور نیچے سے تیری چوت پانی چھوڑ رہی ہے۔۔

یہ کہتے ہوئے میجر نے تیزی کے ساتھ اس کی چوت میں انگلی اندر باہر کرنی شروع کر دی۔۔ اس کی چوت کے اندر ہی صبا کا کمزور نقطہ تھا اور میجر کی موٹی انگلی بری طرح سے اس کی چوت کو گرم کر رہی تھی۔۔ صبا سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اس کی چوت اس طرح اس کے دماغ کا ساتھ چھوڑ دے گی۔۔ صبا کی مزاحمت دم توڑ چکی تھی بس اب سیٹنگ روم میں ٹی وی کی تیز آواز کے علاوہ اس کی سسکیاں اور رونے کی آوازیں ہی گونج رہی تھیں۔۔

میجر نے صبا کے چوت کے پانی سے گیلی ہو رہی اپنی انگلی باہر نکالی اور اسے اس کے چہرے کے سامنے کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔۔۔.. دیکھ تیری چوت کیسے پانی چھوڑ رہی ہے۔۔۔۔. اور تو نخرے کر رہی ہے۔۔۔۔. دوسروں کو کہتی ہے لیکن تو خود پکی ایک نمبر کی رنڈی ہے۔۔۔۔۔۔..

صبا نے اپنی آنکھیں بند کیں اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے چہرے پر رکھ لئے اور اپنا چہرا چھپا لیا۔۔ میجر نے نیچے ہی اسے لٹایا اور دوبارہ سے اس کی ٹانگوں کے درمیان آگیا اور اس کی دونوں ٹانگوں کو کھول کر ایک بار پھر اپنا لنڈ اس کی چوت میں ڈال دیا۔۔ صبا کی دونوں ٹانگیں اوپر کر کے اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑیں اور اس کی چوت کو چودنے لگا اپنا موٹا لنڈ اس کی چوت میں اندر باہر کرتے ہوئے۔۔ صبا نے اپنے دونوں ہاتھوں میں اپنا چہرا چھپایا ہوا تھا اور رو رہی تھی۔۔

میجر نے اس کے چہرے پر سے دونوں ہاتھوں کو ہٹایا اور بولا۔۔۔۔۔۔۔۔.. اپنا منہ نہ چھپا ابھی سے۔۔۔۔.. یہ چہرا تو اب تجھے ہمیشہ ہی چھپانا ہے سب سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. لیکن ابھی تو میری آنکھوں میں دیکھ نا۔۔ لیکن صبا نے اپنی آنکھیں نہ کھولیں۔۔۔۔۔۔..

میجر نے دوبارہ سے اس کی دونوں ٹھائیں کو پکڑ لیا اور اپنا لنڈ اس کی چوت میں اندر باہر کرتے ہوئے چیخنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآہ اووووووووووووووووووووووووووہ نکااااااااااااااااااااااال رہا ہے ابھی کے ابھی ۔۔ میرا پانی تیری چوت میں ۔۔آہ آہ آہ۔۔

دیکھ کیسے تیری چوت میں پانی نکال کے تجھے ماں بناتا ہوں اپنے بچے کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآہ

میجر کی بات سن کر جیسے صبا دوبارہ سے ہوش میں آگئی۔۔ فوراً ہی اپنے دونوں ہاتھوں کو میجر کے ننگے سینے پر رکھتی ہوئی تڑپی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ن ن ن نہیں ۔۔۔۔۔۔ پلیزززز۔۔نہیں نہیں نہیں ۔۔۔۔۔۔ اندر نہ کرنا ۔۔۔۔۔۔. اندر نہیں ڈالنا ۔۔۔۔۔۔۔۔ پلیززززززززززززززززززززز نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اندر نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ میں مر جاؤں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔یز نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔.

میجر۔۔ ہاہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔ جو میرے دل میں آئے گا وہی کروں گا میں۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔.. ہاہاہاہاہاہاہ

صبا۔۔ میں ہاتھ جوڑتی ہوں اندر نہ کرنا پلیزززززززززز۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھو تم نے اپنی مرضی کی۔۔۔۔. جو چاہا کر لیا۔۔۔۔۔۔۔۔. میری عزت بھی خراب کر دی۔۔۔۔۔۔۔۔. پر اب ایسی نہ کرو۔۔۔۔۔۔۔۔.. صبا رونے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔.

لیکن وہ میجر تو وحشی جانور تھا۔۔۔۔۔۔ ایک نہ سنی۔۔۔۔ اور اگلے ہی لمحے اپنے لنڈ سے پانی اس کی چوت میں گرانے لگاایسے ہی میجر کو لنڈ سے پانی نکلنے لگا ویسے ہی صبا کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میجر کا لنڈ صبا کی چوت میں جھٹکے مارتے ہوئے اپنا پانی نکال رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور صبا رو رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔. اس کی چوت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. میجر کے لنڈ کے گرد سکڑ اور پھیل رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسے اسے نچوڑ رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر اس کی چوت نے بھی پانی چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روتی ہوئی صبا کی چوت نے اپنا پانی چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے)

📖 ہماری پریمیم کہانیوں کو پڑھنے کے لیے ہمارے فورم کو جوائن کریں

🔗 فورم جوائن کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *