ہماری ٹاپ کلاس کہانیاں پڑھنے کے لیے ہمارے فورم کو جوائن کریں

میجر صاحب۔۔( نیو ورژن ۔۔قسط 7)

ایک دوپہر میں جب کہ اشرف اپنی ڈیوٹی پر تھا تو صبا نے ہمت کر ہی لی میجر کے پاس جا کر اس سے بات کرنے کی۔۔ اسے میجر کے فلیٹ پر جانے میں ڈر بھی محسوس ہو رہا تھا۔۔ یہ خوف بھی تھا کہ اگر اشرف نے اسے میجر کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے دیکھ لیا یا اس کے فلیٹ پر تو پھر تو اس کی زندگی اور شادی کی کوئی بھی ضمانت نہ رہ جائے گی۔۔۔۔ لیکن جو بھی ہو اسے ایک بار تو یہ رسک لینا ہی تھا۔۔ جیسے جیسے وہ خود کو تیار کر رہی تھی۔۔ اس کی دل کی دھڑکن بھی تیز ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر خوف کے اور خطرے کے باوجود اپنی زندگی اور اپنی شادی کو خطرے میں ڈالتے ہوئے بھی وہ میجر کے پاس جانا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی ویڈیو اور فوٹو حاصل کرنے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ فیصلہ وہ نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔۔ کیوں کہ دل کے کسی کونے میں اس کا یہ ڈر بھی موجود تھا کہ اگر وہی کچھ ہو گیا تو۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوا تو دیکھا جائے گا پھر ۔۔۔۔ آخر اس نے فیصلہ کر ہی لیا۔۔۔۔۔۔۔۔

صبا نے ایک دوپٹہ اپنے سر پر اچھے سے لیا اور دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ اپنے فلیٹ کا دروازہ کھولا اور باہر دیکھا۔۔ گرمیوں کی دوپہر تھی تو باہر کوئی بھی نہیں تھا سب لوگ اپنے اپنے کام پر تھے یا گھروں میں آرام کر رہے تھے۔۔ صبا نے اپنے فلیٹ کے گیٹ سے باہر پیر رکھا اور اپنے فلیٹ کو لاک کر کے اپنی بےچینی کو کنٹرول کرتے ہوئے قدم بڑھائے اور میجر کے دروازے کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئی۔۔

یہاں تک تو وہ آ چکی ہوئی تھی لیکن اب اس کی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ وہ کیسے ناک کرے دروازے پر۔۔ اس کے سانس بہت پھول رہے تھے۔۔۔۔ اور دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔ ایک طرف اسے میجر کے پاس جانے کا خوف تھا تو دوسری طرف یہ بھی ڈر تھا کہ کوئی دیکھ نہ لے اسے۔۔ جب اس کی ہمت نہ ہوئی تو واپس پلٹ آئی۔۔ لیکن دو قدم بڑھا کر ہی پھر پلٹی اور ایک بار پھر میجر کے دروازے پر تھی۔۔

اس بار کانپتے ہوئے ہاتھ اٹھے اور اس نے بیل دبا ہی دی۔۔ بیل کے دبانے کے بعد لمحے گھنٹوں کی طرح گزرنے لگے۔۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے پتا نہیں کتنی دیر ہو گئی ہے اسے بیل دیے ہوئے اور کوئی کھول ہی نہیں رہا دروازہ۔۔ دوبارہ بیل دینے کی اس میں ہمت نہیں تھی۔۔ ابھی وہ پلٹنے کا سوچ ہی رہی تھی کہ دروازہ کھل گیا اور اس کے سامنے میجر صاحب کا جوان اور طاقتور جسم کھڑا نظر آنے لگا۔۔۔۔۔۔ اور جیسے ہی صبا کی نظر میجر کے اوپری ننگے جسم پر پڑی تو اس کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔۔۔۔۔۔ اس کی نظر اب صرف اس کے جسم پر ہی تھی۔۔۔۔ سانولا رنگ لیکن بہت ہی مضبوط جسم۔۔۔۔ وہ بس اس کے جسم کو تکے جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔

جیسے ہی میجر صاحب نے صبا کو اپنے دروازے پر اور پھر اپنے ننگے جسم کو گھورتے ہوئے دیکھا تو خود با خود ہی اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔

میجر۔۔ ہاں کیا بات ہے۔۔۔۔ کیا کرنے آئی ہے۔۔۔۔ ابھی تو میں نے ٹیپ چلائی بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ پھر کیوں آگئی ہے۔۔۔۔۔۔ اب کس کام سے بھیج دیا ہے تجھے تیرے اس بھڑوے نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبا۔۔ پلیز میجر صاحب۔۔۔۔ ایسی نہ کہیں۔۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔ وہ۔۔ مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ سے کچھ بات کرنی تھی۔۔۔۔

صبا جیسے ہوش میں آتے ہوئے بولی میجر کی پہلی بات نے ہی ایک

میجر۔۔ ہاں کر جلدی میری نیند خراب نہ کر۔۔۔۔۔۔

میجر نے دوپٹے میں لپٹے ہوئے صبا کے خوبصورت تو گداز جسم کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔ صبا بڑی ہی بےچینی کے ساتھ اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کر رہی تھی اور کھول رہی تھی۔۔ اور اپنے فلیٹ کی کیز کے رنگ کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھی۔۔

صبا۔۔ نے ادھر ادھر دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بولی۔۔ ۔۔ نہیں وہ یہاں نہیں۔۔۔۔۔۔ کوئی دیکھ لے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میجر۔۔ یہاں نہیں تو پھر کیا مجھے کسی ہوٹل میں یا پارک میں ملنے کا کہنے آئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ رنڈیوں والے کام کب سے شروع کر دیے تو نے۔۔۔۔ تجھے تو تیرے اس شوہر نے بڑی کوئی شریف بنا کر پیش کیا ہوا ہے سب کے سامنے۔۔

صبا۔۔ پلیز میجر صاحب۔۔۔۔ ایسی مت بولیں۔۔۔۔ اندر جا کر بات ہو سکتی ہے کیا آپ سے صرف چند منٹ۔۔ صبا کو بہت بے عزتی محسوس ہو رہی تھی لیکن اسے پتا تھا کہ میجر اسے ذلیل کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔۔۔۔۔۔ میجر کی باتوں سے ذلیل ہونے پر وہ خود کو بہت ہی بےبس محسوس کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے خیال آ رہا تھا کہ وہ آخر کیوں دوبارہ اس کے سامنے آگئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

میجر۔۔ لیکن اگر تیرے شوہر نے تجھے میرے فلیٹ میں دیکھ لیا تو؟؟؟؟؟؟ خلاف توقع اس بار میجر کچھ نرمی سے بولا تھا۔۔

صبا گھبرا کر۔۔ نہیں پلیز بس تھوڑی دیر بات کرنی ہے آپ سے۔۔۔۔۔۔ صبا نے منت سماجت کی اس کی۔۔۔۔۔۔

میجر نے بھی ادھر ادھر دیکھا اور مسکرا دیا اور پھر تھوڑا راستہ دیتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے تو پھر آجاؤ اندر ۔۔۔۔ اندر آ کے بات کر لو۔۔ لیکن جلدی کرنا۔۔۔۔ میرے پاس ٹائم نہیں ہے۔۔



صبا نے ایک نظر پھر سے راہداری میں ڈالی۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بہت ہی تیز دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ میجر کے فلیٹ میں قدم رکھا۔۔۔۔۔۔۔۔ میجر دروازے میں ہی کھڑا رہا اور صبا کو گزرنے کے لیے تھوڑا سا راستہ دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک لمحے کے لیے تو صبا کو میجر کی یہ بات بھی بہت بری لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن پھر وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے وہ آگے بڑھ گئی۔۔۔۔۔۔ جو وہ حاصل کرنے آئی تھی اس کے لیے اسے کچھ تو برداشت کرنا ہی تھا نا۔۔۔۔۔ اور پھر وہی ہوا جو میجر چاہتا تھا۔۔۔۔۔ صبا کا جسم اس کے جسم سے چھو کر آگے گیا۔۔۔۔۔۔ اس کے اندر آنے کے بعد میجر نے بھی اپنا دروازہ بند کر لیا۔۔۔۔۔۔ صبا آگے آگے چل رہی تھی اور میجر اس کے پیچھے پیچھے آتا ہوا اس کی سڈول کمر اور خوبصورت موٹے موٹے کولہوں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔

صبا کو یہی خوف دل میں آ رہا تھا کہ ابھی یہ وحشی جانور مجھے پیچھے سے دبوچ لے گا ۔۔۔۔۔اور ایک بار پھر سے وہی کھیل شروع کر دے گا۔۔۔۔۔۔ صبا کسی بھی لمحے اس کے ہاتھوں کا لمس اپنے جسم اور گانڈ پر محسوس کرنے کے لیے خود کو تیار کر چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔ لیکن میجر نے ایسی کوئی حرکت نہ کی جس سے صبا کو تھوڑا حوصلہ ہوا۔۔۔۔ اور کہ شاید بات بن جائے۔۔

کیا مست گانڈ ہے میجر نے سوچا۔۔۔۔۔۔ اسے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ یہ اس کے فلیٹ میں آئی ہے۔۔۔۔۔۔ چاہے بات کرنے کے لیے ہی آئی ہو۔۔۔۔۔۔ سیٹنگ روم میں آکر میجر نے سوئچ بورڈ سے پنکھے کا بٹن دبایا ۔۔۔۔اور ایک دو بٹن اور بھی آن کر دیے۔۔۔۔۔ لیکن اس بات کا علم صبا کو نہیں ہوا کیوں کہ وہ آگے آگے چل رہی تھی۔۔۔۔۔۔

میجر کے فلیٹ کے سیٹنگ روم میں پہنچی ۔۔۔۔۔تو دیکھا کہ بہت ہی بےترتیب سا کمرہ ہے ہر طرف کپڑے اور سامان بکھرا پڑا ہے۔۔۔۔۔۔ فرش پر ادھر ادھر سگریٹ کے ٹکڑے اور ماچس کی تیلیاں بکھری پڑی ہوئی تھیں۔۔۔۔۔ ایک کونے میں بالکونی کی کھڑکی کے پاس ہی میجر نے اپنا ورزش کا سامان رکھا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔ کچن کا بھی برا حال لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ ایک طرف ایک کاؤچ پڑا ہوا تھا جس پر ایک گول تکیہ رکھا ہوا تھا میجر نے بیٹھنے کے لیے۔۔۔۔۔۔ فلیٹ میں اسے سگریٹ اور شراب کی بدبو بھی آ رہی تھی ملی جلی ہوئی۔۔۔۔۔۔ میجر کے ہاتھ میں اس وقت بھی سگریٹ موجود تھی۔۔۔۔۔۔۔ ایک طرف ایک صوفہ بھی پڑا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔ میجر سیدھا جا کر اس کاؤچ پر بیٹھ گیا لیکن اس نے صبا کو بیٹھنے کے لیے نہیں بولا۔۔۔۔۔ اور صبا بھی خاموشی سے سامنے کھڑی رہی اس نے بھی صوفے پر بیٹھنا پسند نہیں کیا۔۔۔۔۔۔۔

صبا دیکھ رہی تھی کہ میجر نے اس وقت ایک برمودا پہنا ہوا تھا کاٹن کا ۔۔۔۔جو کہ اس کے گھٹنوں سے جسٹ نیچے ختم ہو رہا تھا۔۔۔۔۔ اس کا اوپری جسم بالکل ننگا تھا۔۔۔۔۔۔ اس کے سینے اور پیٹ کے مسلز بہت اچھی شیپ میں تھے۔۔۔۔۔۔ اس کے بازوؤں کے بائیسپس بھی اچھے خاصے پھولے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔ نیچے اس کی ٹانگیں بھی کافی مضبوط اور سولڈ لگ رہی تھیں۔۔۔۔۔۔ گہرا سانولا رنگ تھا میجر کے جسم کا جسے کالا بھی نہیں کہا جا سکتا۔۔۔۔۔۔ باڈی بلڈرز کی طرح میجر کا سینہ بھی بالوں سے بالکل پاک تھا۔۔۔۔۔۔۔ اس کے سینے گردن اور جسم پر پسینہ بالکل صاف بہتا ہوا نظر آ رہا تھا جیسے ابھی ابھی بھی وہ ایکسرسائز کرتے ہوئے گیٹ کھولنے آیا ہو۔۔۔۔۔۔۔

صبا کی نظروں میں اس کے جسم کے پورے اتار چڑھاؤ صاف تھے۔۔۔۔۔۔ اور اس کے جسم کی طاقت کا اندازہ اسے ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ اس کے جسم کا فوراً ہی صبا نے مقابلہ اشرف کے جسم کے ساتھ کیا۔۔۔۔۔۔ تو اسے احساس ہوا کہ اشرف تو اس سے کافی کمزور ہے ۔۔۔۔۔اور وہ اس سے ہرگز بھی لڑائی نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔۔ میجر کا جسم اسے کافی طاقتور لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔میجر کے سینے اور شولڈرز پر اسے لمبے لمبے باریک سے بالکل پتلی لکیروں کی طرح کے زخموں کے نشان نظر آ رہے تھے۔۔ صبا فوراً ہی سمجھ گئی کہ یہ اس کے نیلز کے نشان ہیں جو کہ اس دن اس نے میجر کے جسم پر ڈالے تھے خود کو بچاتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔ یہ بات یاد آتے ہی اس دن کا واقعہ دوبارہ کسی ریکارڈنگ کی طرح سے اس کے دماغ میں چلنے لگا ۔۔۔۔۔۔جب میجر کا یہی مضبوط طاقتور جسم صبا کے گورے نازک جسم کے اوپر تھا۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ اسے بہت ہی بری طرح سے رگڑ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ اس دن کے ہوئے اپنے ریپ اور بہت ہی وحشیانہ انداز کی چدائی کو یاد کر کے صبا کے دل کی دھڑکن بےترتیب ہونے لگی۔۔۔۔۔۔۔ اور اسے اپنی ٹانگیں کمزور پڑتی ہوئی محسوس ہونے لگیں جیسے اس کی ٹانگوں سے جان نکل رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔ ابھی وہ میجر کے جسم کو دیکھتے ہوئے اس دن کی باتوں کو ہی یاد کر رہی تھی کہ میجر کی آواز نے اسے چونکا دیا۔۔۔۔۔۔

میجر۔۔۔۔۔۔ ہاں جلدی بول اب کیا بات کرنی ہے تجھے میرے ساتھ۔۔۔۔۔

میجر نے سگریٹ کا دھواں اڑاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔

صبا۔۔۔۔۔۔ وہ میں اس لیے آئی تھی کہ آپ پلیز میری وہ ویڈیو۔۔۔۔۔۔

میجر۔۔۔۔۔۔۔ ہاہاہاہا اچھا اچھا اپنی ننگی مووی دیکھنے کے لیے آئی ہے تو لے ابھی دکھا دیتا ہوں۔۔۔۔۔۔

صبا۔۔۔۔۔۔ جلدی سے بولی نہیں نہیں میرا یہ مطلب نہیں تھا میں یہ کہنا چاہتی تھی کہ آپ وہ ویڈیو ڈیلیٹ کر دیں۔۔۔۔۔۔۔

میجر۔۔ ہاہاہاہا ڈیلیٹ کر دوں۔۔۔۔۔۔۔ کیوں کر دوں بھی ارے اس ویڈیو میں تیری ننگی جسم کو دیکھ دیکھ کر تو میں مٹھ مارتا ہوں ہر روز ۔۔۔۔۔۔۔۔اور تو کہتی ہے کہ میں اسے ڈیلیٹ کر دوں۔۔۔۔۔ پاگل ہو گئی ہے کیا۔۔۔۔۔۔

صبا کا میجر کی بات سن کر چہرہ شرم سے سرخ ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔ اسے یہ امید نہیں تھی کہ میجر ایسی گری ہوئی بات بھی کر سکتا ہے اس سے۔۔۔۔۔۔۔ اس نے آج تک ایسی زبان میں کسی سے بات نہیں سنی تھی ۔۔۔۔۔۔اور کبھی اشرف نے بھی اس سے کوئی غلط قسم کی گفتگو نہیں کی تھی۔۔۔۔۔۔۔ جو بھی بات میجر کرتا تھا وہ صبا کے لیے نئی ہی ہوتی تھی۔۔۔۔۔۔۔ وہ جس ماحول میں بڑی ہوئی تھی جس فیملی بیک گراؤنڈ سے تعلق رکھتی تھی۔۔۔۔۔۔ وہاں پر ایسی سب باتوں کو برا سمجھا جاتا تھا۔۔۔۔۔۔ اور آگے بھی اب وہ جس فیملی میں بیاہ کر آئی تھی۔۔۔۔۔ اشرف کے ساتھ وہ فیملی بھی کافی مذہبی اور شریف تھی۔۔۔۔۔۔ وہاں بھی اسے ہمیشہ پردے اور شرم کا ہی ماحول ملا تھا۔۔۔۔۔۔۔ میجر سے ایسے غلیظ ذہن کے شخص سے کچھ بھی امید کی جا سکتی تھی۔۔۔۔۔۔۔ اسے میجر پر غصہ بھی آیا لیکن وہ اپنا غصہ اپنے چہرے پر لائے بنا اندر ہی پی گئی۔۔۔۔۔۔ پتہ نہیں کیوں اسے اپنی یہ بےعزتی اور میجر کی گندی باتیں بہت زیادہ عجیب یا بری نہیں لگ رہی تھیں۔۔۔۔۔۔ شاید اس لیے کہ اسے پتہ تھا کہ یہ شخص ایسے ہی بولتا ہے۔۔۔۔۔۔ لیکن تھوڑا عجیب یہ تھا کہ ایسی گندی باتیں پہلی بار سن کر اس کے جسم میں عجیب سی سنسناہٹ ہونے لگی تھی۔۔۔۔۔۔ جیسے کہ وہ ایک کنواری لڑکی ہو۔۔۔۔۔ اور اس کی کسی دوست نے اس سے سیکس کے بارے میں کوئی بات پہلی پہلی بار کی ہو۔۔۔۔ اس پہلے پہلے موقع پر ہر لڑکی کو اپنی سہیلی کی وہ باتیں گندی اور بری بھی لگ رہی ہوتی ہیں۔۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی لڑکی کے جسم میں ایک عجیب سا نشہ بھی پیدا کر دیتی ہیں۔۔۔۔۔ اور وہ یہ فیصلہ کرنے کے قابل نہیں رہتی کہ اس کی دوست نے جو بات کی ہے۔۔۔۔۔ وہ اس کے لیے ٹھیک بھی ہے یا نہیں۔۔۔۔۔ اس وقت اس کی وہی کیفیت تھی۔۔۔۔(جاری ہے)

📖 ہماری پریمیم کہانیوں کو پڑھنے کے لیے ہمارے فورم کو جوائن کریں

🔗 فورم جوائن کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *