میجر۔۔ اس وقت تو تیری گانڈ بہت ہی اچھل رہی تھی کہ تو میری ویڈیو سب کو دکھا کر مجھے ذلیل کرے گی تو اب جاتی کیوں نہیں ہو دکھانے کے لیے۔۔
صبا۔۔ میجر صاحب وہ میری غلطی تھی میں آپ سے معافی مانگتی ہوں میں آپ کی ویڈیو آپ کو دے دوں گی لیکن پلیز آپ وہ ویڈیو مجھے دے دیں۔۔ اگر وہ کسی نے دیکھ لی تو میری شادی شدہ زندگی تباہ ہو جائے گی پلیز۔۔
میجر۔۔ ارے رنڈی اگر میں نے وہ ویڈیو تجھے دے دی اور پھر وہ تیرے اس ٹھوکُو نے دیکھ لی تو پھر تو تیری موت پکی یا پھر وہ تجھے گھر سے نکال دے گا اور گھر سے نکال دیا تجھے تو کیا کرے گی پھر سوائے اس کے کہ تو ایک رنڈی بن جائے اسی لیے کہتا ہوں کہ وہ ویڈیو میرے پاس حفاظت سے پڑی رہنے دے اسی میں ہم دونوں کی بھلائی ہے چل شاباش اب نکل یہاں سے اور اپنے گھر جا میرا ٹائم کھوتی نہ کر۔۔
صبا نے کچھ دیر اور میجر کی منت سماجت کی لیکن میجر اسی طرح سے اس کا مذاق اڑاتا رہا اسے ذلیل کرتا رہا۔۔ صبا پہلے تو برداشت کرتی رہی لیکن آہستہ آہستہ اس کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہونے لگا اس کے اندر غصہ انتہا کو پہنچ رہا تھا۔۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کسی چیز سے اس کمینے پر حملہ کر دے۔۔ اس وقت اب اس کے دماغ میں سوائے اپنی ہیوملیئشن کے کچھ نہیں تھا۔۔ وہ اپنی آواز کو تھوڑا اونچی کرتی ہوئی غصے سے بولی۔۔
صبا۔۔ میجر صاحب میرے صبر کا امتحان نہ لیں تم کو تو کوئی بھی تمیز نہیں ہے کمینے آدمی ہو تم سیدھی طرح سے وہ ویڈیو مجھے دے دو۔۔
میجر تکیے کے ساتھ ٹیک لگا کر ہنستے ہوئے۔۔ کیا کر لے گی تو میرا اتنے دن ہو گئے ہیں تجھے چودے ہوئے اگر تیری میں کوئی غیرت ہوتی یا تیرے اس ڈلی شوہر میں کچھ غیرت اور ہمت ہوتی تو میرا گلا گھونٹ دیتے آکر لیکن تو تو ہے ہی رنڈی اور وہ تیرا شوہر تیرا پمپ ہے اسی لیے اس دن سے دونوں چپ ہو
صبا سے اب برداشت کرنا مشکل ہو گیا تھا اس نے غصے سے ادھر ادھر دیکھا تو اس کی نظر ٹیبل پر پڑے ہوئے پانی کے جگ پر پڑی۔۔ صبا نے اسے اٹھایا اور زور سے میجر کو دے مارا اور بولی کمینے تو ہے ہی گھٹیا اور ذلیل آج تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گی۔۔
اب جو بھی چیز صبا کے ہاتھ میں آتی وہ اسے اٹھاتی اور میجر پر کھینچ مارتی۔۔ ایک طرف اسے میجر کی ہی پڑی ہوئی آرمی والی پتلی سٹک پڑی نظر آئی۔۔ صبا نے لپک کر اسے اٹھایا اور غصے سے بھاڑتی ہوئی میجر پر ٹوٹ پڑی وہ بھول چکی تھی کہ وہ ایک عورت ہے اور میجر کے ایک مضبوط مرد اس کا نازک جسم اس کا کوئی بھی مقابلہ نہیں کر سکتا لیکن غصے سے وہ پاگل ہو رہی تھی۔۔ دوسری طرف ابھی بھی میجر زور زور سے ہنس رہا تھا اسے صبا کی ان حرکتوں سے جیسے مزہ آ رہا ہو جیسے وہ صبا کی بے بسی پر ہنس رہا ہو۔۔ اس کی یہی گھنونی ہنسی ہی تو صبا کا غصہ اور بڑھا رہی تھی۔۔ جیسے ہی صبا سٹک لے کر میجر کی طرف بڑھی تو میجر بھی کاؤچ پر سے اٹھ گیا اور خود کو صبا کے زور دار وار سے بچانے کی کوشش کرنے لگا۔۔
میجر نے کاؤچ سے اٹھ کر صبا کو دبوچنا چاہا اور اپنی طرف بڑھی ہوئی صبا کے ہاتھ کو یکدم سے پکڑ لیا اور ہاتھ مروڑنے لگا لیکن یکدم سے ہی صبا اس کی اس حرکت کے مطلب کو سمجھ گئی اور اچانک سے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور دروازے کی طرف بھاگی۔۔ ابھی مین گیٹ پر پہنچی وہ دروازے کو کھول بھی نہیں پائی تھی کہ میجر جو اس کے پیچھے ہی لپکا تھا اس نے صبا کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے پیچھے ہی پکڑ لیا اور زور سے پیچھے کی طرف کھینچنے لگا۔۔
صبا۔۔ نہیں۔۔ آج پھر سے نہیں۔۔ ایسا نہیں ہونے دوں گی میں۔۔ نہیں پلیز نہیں جانے دو مجھے۔۔
بات چیت کرنے تک کی بات تو ٹھیک تھی لیکن میجر پر حملہ کر کے صبا نے بہت بڑی غلطی کر لی تھی اور میجر کو جیسے غصہ دلا دیا تھا اور صبا کا اس وحشی کے ہاتھوں بچ پانا آسان نہیں لگ رہا تھا۔۔
صبا کے اندر کا خوف پوری طرح سے سامنے آ چکا ہوا تھا اور اسے پتہ لگ گیا تھا کہ وہ ایک بار پھر سے میجر کی گرفت میں ہے وہ بری طرح سے تڑپ رہی تھی ہاتھ پیر مار رہی تھی لیکن میجر کی مضبوط گرفت اسے کہاں نکلنے دینے والی تھی۔۔ صبا کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا کہ اس نے اس کے فلیٹ میں آکر غلطی کی ہے بہت بڑی غلطی جس کا جرمانہ اسے پتہ نہیں کتنا بھرنا پڑے گا۔۔ کسی ڈول کی طرح سے میجر نے صبا کے مچلتے اور مزاحمت کرتے ہوئے جسم کو اپنی مضبوط بازوؤں میں اٹھا لیا اور واپس کاؤچ کی طرف بڑھنے لگا۔۔ صبا نے اپنے ہاتھوں کے تیز ناخنوں سے میجر کے جسم کو زخمی کرنا چاہا لیکن اس کا میجر کے لوہے جیسے جسم پر کیا اثر ہونا تھا۔۔ جاتے جاتے صبا نے میجر کے کندھے پر اپنا منہ رکھا اور اپنے دانت اس کے شولڈر میں گاڑھ دیے۔۔ میجر کے جسم سے نکل رہا ہوا اس کا پسینہ صبا کے منہ میں نمکین سا ذائقہ چھوڑنے لگا لیکن اس وقت صبا کو کچھ پرواہ نہیں تھی سوائے اس بات کے کہ وہ خود کو اور اپنی عزت کو اس بار میجر کے ہاتھوں لٹنے سے بچا لے لیکن فی الحال تو میجر کا ہی پلہ بھاری تھا اس نے لا کر کاؤچ پر پٹخ دیا۔۔
میجر۔۔ پکی رنڈی ہے اس دن جو سبق تجھے پڑھایا تھا وہ سمجھ نہیں آیا تجھے کہا بھی تھا کہ میرے ساتھ پنگا نہیں لینے کا لیکن نہیں آئی باز راڈ ہے تو پوری کی پوری اتنے دن چپ رہا ہوں تیری عزت نہیں کھولی سب کے سامنے تو نے مجھے کمزور ہی سمجھ لیا کیا آج پھر اپنی چوت چدوانے چلی آئی ہے میرے سے لے پھر آج پھر تجھے وہی مزہ دیتا ہوں۔۔
میجر نے جیسے ہی صبا کو کاؤچ پر پٹخا تھا تو ساتھ ہی اس کے اوپر سوار ہو گیا اور اس کے دونوں بازو اوپر کر کے پکڑ لیے پھر ایک ہاتھ سے اس کے مموں کو دبانے لگا۔۔
صبا۔۔ نہیں پلیز مجھے جانے دو میری زندگی تباہ نہ کرو پلیز۔۔
لیکن میجر نے اس کے مموں کو اس کی شرٹ کے اوپر سے ہی زور زور سے اپنی مٹھی میں لے کر دبانا شروع کر دیا۔۔ سس سس آ آ آ آ آ آ آ آ آ آ صبا کے منہ سے درد کے مارے سسکیاں نکلنے لگیں اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔۔
اتنی زور سے میجر نے صبا کے مموں کو دبایا کہ صبا کی چیخ ہی نکل گئی اس کے مموں دکھنے لگے اسے یقین ہو گیا کہ اندر اس کے نازک مموں کی گوری گوری سکن پر ضرور میجر کی انگلیوں کے نشان پڑ گئے ہوں گے۔۔ اپنے مموں میں اٹھنے والی تکلیف کی طرف دھیان لگایا تو وہ ٹانگیں مارنا ہی بھول گئی۔۔ جیسے ہی صبا کا جسم ڈھیلا پڑا تو میجر نے جلدی سے اس کا پاجامہ نیچے کھینچ دیا جس میں الیسٹک تھی۔۔ اس کا پاجامہ نیچے کھینچ کر اس کے پیروں سے نکال دیا۔۔ صبا کی گوری گوری ٹانگیں اور تھائیز اور ملائم چوت ایک بار پھر سے میجر کی آنکھوں کے سامنے ننگی تھی۔۔ میجر کی آنکھیں چمک پڑیں جیسے ہی صبا کی شلوار اتری تو صبا کو جیسے ہوش آ گیا وہ پھر چیخی اور میجر کو پیچھے کرنے کی کوشش کرنے لگی۔۔ وہ بے حد پریشان ہو رہی تھی کہ آج پھر سے وہی کچھ ہونے جا رہا تھا ایک بار پھر سے اس کا جسم میجر نے ننگا کر دیا تھا اور پھر سے وہی گھناؤنا کھیل کھیلنے جا رہا تھا وہ۔۔
صبا۔۔ پلیز چھوڑ دو مجھے ایسا نہیں کرو جانے دو مجھے آئندہ میں کبھی آپ کو کچھ نہیں کہوں گی پلیز میری عزت تباہ نہ کرو۔۔ صبا اس کے سامنے گڑگڑا رہی تھی اس کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے لیکن۔۔
لیکن تب تک میجر کی موٹی انگلی ایک بار پھر سے صبا کی چوت کے اندر داخل ہو چکی تھی۔۔ تھوڑی سی دیر کے لیے مچلتے ہوئے جسم کو قابو کرتے ہوئے اس کی چوت کے اندر میجر نے اپنی انگلی اندر باہر کرنا شروع کر دی۔۔ صبا کی چوت یکدم سے جیسے مچلنے لگی اس کے لیے یہ اچانک کا حملہ بہت زیادہ تھا برداشت سے باہر تھا اس نے اپنے نچلے جسم کو ادھر ادھر ہلانا شروع کر دیا لیکن یہ ہلنا اس کے لیے اور بھی کام کو خراب کر رہا تھا جتنا وہ ہلتی میجر کی انگلی اور بھی اس کی چوت میں مستی پیدا کرتی جاتی اور پھر اچانک سے اس سے پہلے کہ وہ خود کو چھڑانے میں کامیاب ہوتی ایک بار پھر آج میجر نے اپنا برمودا نیچے کیا اور اپنا لن باہر نکال کر یکدم سے صبا کی چوت کے اندر ڈال دیا۔۔
صبا۔۔ آ آ آ آ آ آ آ آ آ آ آ آ آ آ آ آ آ آ آ نووووووووووووووووووو
صبا کے منہ سے تکلیف سے آ نکلی۔۔ میجر کا وہی موٹا لن جو پہلے بھی اس کی چوت میں جا چکا تھا ایک بار پھر سے اس کی چوت کی گہرائیوں میں اتر چکا تھا اس کی ساری مزاحمت اس کا سارا غصہ اس کی ساری ہمت ختم ہو رہی تھی تھی تو بس اب بے بسی اور سرینڈر۔۔
یہی تو تھا وہی لن جس کے بارے میں اس کے دل میں خیال آتا تھا جب وہ اشرف سے چدوا رہی ہوتی تھی اس کی ٹانگ اور ٹائٹ چوت میں پھنسا ہوا لن اس کی چوت کی دیواروں کو چھیل رہا تھا صبا کی آنکھیں بند ہو گئیں تھیں جسم ڈھیلا ہو گیا تھا ساری مزاحمت ختم ہو گئی تھی بس وہ اپنی چوت میں اندر باہر ہوتے ہوئے لن کو محسوس کر رہی تھی۔۔ کیا آج پھر وہی ہو گا کیا آج بھی میرا جسم میرے اپنے ساتھ ہی بے وفائی کر جائے گا اور خود کو آج بھی میجر کے سپرد کر دے گا نہیں پتہ نہیں۔۔ لیکن ایک بات ضرور تھی کہ چند ہی لمحوں میں اسے اپنی چوت میں میجر کے لن کے ساتھ ساتھ تھوڑا گیلا پن بھی محسوس ہونے لگا تھا کیا میجر فارغ ہو رہا ہے اتنی جلدی یا یہ میری اپنی چوت کا پانی ہے اس خیال نے اس کے دل کو زور سے دھڑکا دیا۔۔ اس کے جسم کی اس کی چوت کی اس سے بے وفائی شروع ہو چکی تھی۔۔
میجر کا موٹا لن اس دن کے بعد آج پھر اس کی چوت میں داخل ہو چکا تھا۔۔ اس دن کے آرگیزم کو یاد کر کے صبا کا جسم ڈھیلا ہونے لگا۔۔ اس کی مزاحمت ختم ہونے لگی تھی۔۔ لیکن آج اس کی مزاحمت کچھ بھی زیادہ دیر نہیں چلی تھی۔۔ میجر کے جسم کی طاقت یا اپنے ہی جسم کی بے وفائی کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ ہاتھ پیر چھوڑ رہی تھی۔۔ اپنی اس شکست کی لاجک بھی وہ خود ہی اپنے آپ کو دے رہی تھی۔۔ خود کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی کہ میں کیسے اس وحشی جانور کی طاقت کا مقابلہ کر سکتی ہوں وہ اتنا طاقتور ہے اور میں ایک نازک سی عورت ہوں وہ میرا ریپ کر رہا ہے وہی ناپسندیدہ کام جو پہلے اس نے کیا تھا۔۔ یہ سب باتیں وہ اپنے دماغ کی تسلی کے لیے کر رہی تھی لیکن اسے یہ نہیں احساس تھا کہ آج تو اس نے اپنی شکست تسلیم کرنے اور خود کو میجر کے آگے سرینڈر کرنے میں کوئی بہت زیادہ دیر بھی نہیں لگائی تھی۔۔
جیسے ہی میجر نے اپنا موٹا لن صبا کی چوت میں اندر باہر کرنا شروع کیا تو صبا کی آنکھیں بند ہو گئیں۔۔ اس کے چہرے پر درد اور تکلیف کے احساسات تھے۔۔ انہی پین کے ایکسپریشنز میں ہی کچھ لذت کی نشانات بھی چہرے پر ظاہر ہو رہے تھے۔۔ آہستہ آہستہ میجر کے لن نے اس کے دماغ کو سلا دیا تھا بس اب اس کا جسم صرف اور صرف اس کے اپنے دل کے کنٹرول میں تھا۔۔
میجر نے صبا کے دونوں بازو اوپر کیے اور اس کے سر کے اوپر لے جا کر پکڑ کر خود صبا کے چہرے پر جھک گیا۔۔ مجھے مار رہی تھی نا تو میری جان لینا چاہتی تھی نا دیکھ اب میں کیسے تیری مار رہا ہوں اور دیکھنا کیسے تجھے چود چود کر تیری چوت کی جان نکالتا ہوں۔۔ صبا نے آنکھیں کھولیں تو میجر نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے زور زور سے گھسے مارنے شروع کر دیے۔۔ میجر کا لن صبا کی چوت میں اندر باہر ہو رہا تھا اور صبا کی چوت بھی گیلی ہوتی جا رہی تھی اور اس بات کا بہت اچھے سے میجر کو پتہ چل رہا تھا۔۔ صبا اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی اس کی آنکھوں میں نفرت ہی نفرت تھی لیکن اس کی چوت میجر کے لن سے جیسے لپٹی جا رہی تھی گیلی ہوتی جا رہی تھی پانی چھوڑے جا رہی تھی۔۔
میجر۔۔ پوری کی پوری رنڈی ہے تو دیکھ کتنی جلدی سے تیری چوت گیلی ہو گئی ہے حرمازدگی تو آئی ہی مجھ سے چدوانے کے لیے تھی بس ناطق کر رہی تھی مجھے غصہ دلانے کا کہ میں غصے میں آکر آج پھر تیرا ریپ کر دوں۔۔
جس ارادے سے وہ آئی تھی اور اس کی ساری کی ساری کوشش کو غلط نام دے کر میجر نے ایک بار پھر سے اسے ذلیل کر دیا تھا۔۔ اسے بہت زیادہ شرم آ رہی تھی میجر کی باتیں سن کر اپنی تذلیل پر اب اس کی ان باتوں پر غصہ کرنے کا کیا فائدہ اب اس سے زیادہ میری تذلیل کیا ہو سکتی ہے کہ یہ میری چوت چود رہا ہے میری عزت لوٹ رہا ہے اور اور سب سے غلط بات یہ ہے کہ میرا جسم اس کا ساتھ دے رہا ہے۔۔ صبا نے سوچا۔۔
صبا کی چوت میں اپنا لن ڈالے ڈالے ہی میجر نے اس کے ہاتھ چھوڑے اور پھر صبا کی شرٹ کو اوپر کو اٹھانے لگا اور اگلے ہی لمحے صبا کی وائٹ برا میں لپٹی ہوئی بریسٹس میجر کی آنکھوں کے سامنے تھیں۔۔ میجر نے اس کی قمیض پھاڑے بغیر ہی اس کے گلے سے نکالنا چاہی تو اس بار صبا نے کوئی بھی مزاحمت نہیں کی پتہ نہیں کیوں میجر نے اس کی شرٹ اتار دی اور اب صبا کے ممے سفید برا میں لپٹے ہوئے چھپے ہوئے درمیان میں سے جھانکتے ہوئے اور خوبصورت سا کلیویج بناتے ہوئے میجر کی نظروں کے سامنے تھے۔۔(جاری ہے)
📖 ہماری پریمیم کہانیوں کو پڑھنے کے لیے ہمارے فورم کو جوائن کریں
🔗 فورم جوائن کریں