ہماری ٹاپ کلاس کہانیاں پڑھنے کے لیے ہمارے فورم کو جوائن کریں

میرا نام صائمہ ہے اور میں لاہور میں رہتی ہوں ۔۔ میں 25 سال کی ہو چکی ہوں اور آج میں آپ کو اپنی زندگی کی وہ سچی کہانی سنا رہی ہوں کہ میں نے اپنے بڑے بھائی سے پہلی بار کیسے سیکس کیاتھا۔۔ میرے بڑے بھائی کا نام جاوید ہے، جس کی عمر 27 سال ہے۔ جاوید کی ایک گرل فرینڈ بھی ہے جس کا نام شائستہ ہے۔ شائستہ میرے ساتھ پڑھ چکی ہے اور ہمارے گھر کے قریب ہی رہتی ہے۔ وہ جاوید کو بہت پسند کرتی ہے، لیکن شائستہ کے اور بھی کئی دوست ہیں اور وہ کافی آزاد خیال لڑکی ہے۔ اس کے باوجود جاوید کو شائستہ سے اکیلے میں ملنے کا کوئی موقع نہیں مل پا رہا تھا۔

ایک دن میرے امی اور پاپا دو دن کے لیے ایک شادی میں شرکت کرنے گجرانوالہ جانے والے تھے۔ ہم نے پڑھائی کا بہانہ کیا اور گھر پر ہی رک گئے۔ ویسے تو جاوید میرا بڑا بھائی ہے، لیکن ہم دونوں دوستوں کی طرح رہتے ہیں۔ ہم ایک دوسرے سے کوئی بات نہیں چھپاتے اور ہر موضوع پر کھل کر بات کرتے ہیں، یہاں تک کہ ہمیں سیکس  پر بات کرتے ہوئے بھی کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی۔ اس دن جاوید نے مجھ سے کہا، “صائمہ! دو دن تک ہم گھر میں اکیلے ہوں گے۔ اگر تم کسی طرح شائستہ کو دو دن کے لیے ہمارے گھر رکنے پر راضی کر لو، تو میں تمہاری ہر شرط مان لوں گا۔” میں نے بھی اپنی شرط رکھ دی کہ میں شائستہ کو کسی بھی بہانے گھر بلا لوں گی، لیکن شرط یہ ہے کہ تم شائستہ کے ساتھ جو بھی کرو گے، وہ میرے سامنے کرنا ہوگا۔

جاوید فوراً مان گیا اور بولا، “لیکن اس کے لیے تمہیں میرا پورا ساتھ دینا پڑے گا۔” اس طرح ہم دونوں کے درمیان شرائط طے پا گئیں۔ شام کو میں نے شائستہ کو فون کیا اور کہا کہ مجھے ایک پروجیکٹ مکمل کرنے کے لیے اس کی مدد چاہیے اور یہ کام دو دن میں ختم کرنا ہے۔ میں نے اسے لالچ دیا کہ گھر میں کوئی نہیں ہے، ہم مل کر پڑھائی بھی کریں گے اور مستی بھی، اور جاوید بھی ہماری مدد کرے گا۔ شائستہ کافی چالاک تھی، وہ سارا معاملہ سمجھ گئی اور ایک گھنٹے کے اندر ہی خوب بن ٹھن کر ہمارے گھر پہنچ گئی۔

دروازے پر جاوید نے اس کا استقبال کیا۔ شائستہ آرام سے صوفے پر بیٹھ گئی اور ادھر ادھر کی باتوں کے بعد جاوید تین وہسکی کے پیگ بنا کر لے آیا۔ ہم دھیرے دھیرے وہسکی کی چسکیاں لینے لگے اور جاوید کھڑے ہو کر ہماری باتیں سنتا رہا۔ اچانک جاوید نے جھک کر شائستہ کو چوم لیا۔ شائستہ کھڑی ہو گئی اور جاوید کی پینٹ کی زپ کھول کر اس کا لن  نکال کر چوسنے لگی۔ جاوید کا لن تقریباً سات انچ لمبا اور موٹا تھا، جسے دیکھ کر میں دنگ رہ گئی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ جوش میں بالکل تیار ہو اور اب کسی بھی وقت حملہ کرنے والا ہو۔

شائستہ بڑے پیار سے اسے چوس رہی تھی اور پورا حلق میں اتار لینا چاہتی تھی۔ یہ دیکھ کر میری چوت بھی گیلی ہونے لگی۔ شائستہ کے منہ میں اندر باہر ہونے سے جاوید کا لن  مزید سخت اور لمبا ہو رہا تھا اور اس کے تھوک سے پوری طرح بھیگ چکا تھا۔ تبھی شائستہ نے جاوید کو بیڈ پر لٹا دیا اور اس کے باقی کپڑے بھی اتار دیے۔ جاوید کا لن کسی مینار کی طرح سیدھا کھڑا تھا۔ پھر ایک ایک کر کے شائستہ نے اپنے کپڑے بھی اتار دیے۔ جب اس نے اپنی پینٹی اتاری تو اس کی صاف شفاف چوت  دیکھ کر میں مبہوت رہ گئی۔ اس نے اپنی چوت کے بال اچھی طرح صاف کیے ہوئے تھے اور وہاں سے ایک ہیجان خیز خوشبو آ رہی تھی۔ میں نے آگے بڑھ کر اسے چوم لیا کیونکہ وہ میرے بھائی کا اتنا بڑا لن لینے جا رہی تھی، کوئی اور لڑکی ہوتی تو شاید برداشت نہ کر پاتی۔

پھر شائستہ اٹھی اور جاوید کے اوپر بیٹھ کر اس کا لن اپنی چوت میں اتار لیا۔ جاوید کا لن چیرتا ہوا اندر داخل ہونے لگا۔ مجھے یہ سب دیکھ کر بہت مزہ آ رہا تھا اور میں مسلسل شائستہ کی ہمت بندھاتی رہی۔ کبھی میں اسے چومتی اور کبھی اس کے سینے کو سہلاتی۔ جیسے ہی پورا لن اندر سما گیا، میں نے تالی بجا کر اسے مبارکباد دی۔ شائستہ دیوانہ وار اوپر نیچے ہونے لگی جیسے وہ جاوید کو پوری طرح تسکین دینا چاہتی ہو۔ کچھ دیر بعد جاوید اس کے اوپر آ گیا اور زوردار جھٹکے لگانے لگا۔ شائستہ مستی میں چلا رہی تھی، “جاوید! اور زور سے ڈالو، میری چوت پھاڑ دو، بہت مزہ آ رہا ہے، آہ ، آہ ، اور چود و مجھے ، آہ ہ ہ ہ زور زور سے ، آہ ہ ہ ہ ۔۔

تقریباً آدھے گھنٹے بعد جاوید نے شائستہ کو “گھوڑی” بنا دیا اور پیچھے سے اس کی چوت  میں داخل ہو گیا۔ اس زبردست ملاپ سے شائستہ ہائے ہائے کرنے لگی۔ اس کی چوت  سے پانی رس رہا تھا لیکن وہ مسلسل لطف اندوز ہو رہی تھی۔ یہ سب دیکھ کر میرا دل بھی چاہنے لگا کہ میں بھی اسی طرح لطف اٹھاؤں اور میں خود کو چھونے لگی۔ پھر جاوید نے مجھے بلا کر کہا، “شائستہ کی چوت کافی سکون پا چکی ہے، اب میں اس گانڈ  ماروں گا۔ تم پاس آ کر اسے مضبوطی سے پکڑو اور اس کے مموں  کو مسلتی رہو، اگر اسے درد ہو تو اس کی چوت  کو چاٹنا تاکہ درد کم ہو سکے۔”

جاوید نے تھوڑا سا تیل لگایا اور اپنا لن شائستہ کی گانڈ  کی  ٹائٹ موری  پر رکھ کر دباؤ ڈالا۔ شائستہ درد سے چلائی، “اوہ! یہ بہت موٹا ہے، میں برداشت نہیں کر پاؤں گی۔” لیکن جاوید نے تسلی دی اور آہستہ آہستہ اسے اندر داخل کیا۔ جب آدھا لن اندر چلا گیا تو میں نے کہا کہ اب رکنا نہیں، پورا ڈال دو۔ جاوید نے ایک زوردار دھکا مارا اور پورا لن اندر سما گیا۔ شائستہ نے زور دار چیخ ماری تو مجھے اس کا منہ بند کرنا پڑا تاکہ آواز باہر نہ جائے۔ تھوڑی دیر بعد جب راستہ بن گیا تو جاوید نے تیزی سے حرکت شروع کر دی۔ شائستہ کا درد اب لذت میں بدل چکا تھا اور وہ مزے لے رہی تھی۔

میں شائستہ کی ہمت کی داد دینے لگی۔ آدھے گھنٹے تک زبردست گانڈ چدائی  کے بعد جاوید نے اپنا گرم مادہ شائستہ کے اندر ہی چھوڑ دیا۔ فارغ ہونے کے بعد جاوید کا لن باہر نکلا تو وہاں ایک گہرا نشان واضح تھا۔ شائستہ نے پیار سے جاوید کے لن کو چاٹ کر صاف کیا اور ہانپنے لگی۔ میں نے پوچھا، “کیسا لگا؟” تو اس نے جاوید کے لن کو چوم لیا۔

اس سب سے جاوید کا لن پھر سے کھڑا ہو گیا۔ تبھی شائستہ نے مجھے اپنے پاس بیڈ پر گرا لیا اور میرے منع کرنے کے باوجود میرے کپڑے اتار دیے۔ اس نے جاوید کا لن میری کنواری چوت  پر رکھ دیا اور مجھ سے کہا، “صائمہ! یہ قدرت کا ایک تحفہ ہے۔ جب یہ اندر جاتا ہے تو سارے رشتے ختم ہو جاتے ہیں اور صرف لذت کا رشتہ باقی رہتا ہے۔ تو خوش قسمت ہے کہ تیرے گھر میں ہی اتنا شاندار مرد موجود ہے۔ دیکھ، میں نے تیرے سامنے اس سے ہر طرح کا مزہ لیا۔ اب تو بھی ہمت کر اور اس لذت کو محسوس کر، پھر تو روز اس کی فرمائش کرے گی۔

شائستہ نے مجھے بیڈ پر لٹا دیا اور میری ٹانگیں پھیلا دیں۔ میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ جاوید کا وہ موٹا، سخت لن جو ابھی شائستہ کی گانڈ میں گھسا تھا، اب میری کنواری چوت پر رکھا ہوا تھا۔ اس کی گرمی میری جلد تک محسوس ہو رہی تھی۔

“صائمہ… مت ڈرو،” شائستہ نے میرے کان میں کہا  اور میرے مموں  کو نچوڑنے لگی۔ “یہ درد صرف ایک بار کا ہے، پھر تو جنت کا مزہ ملے گا۔”

جاوید نے میرے چہرے کو دیکھا، اس کی آنکھوں میں   ہوس کی فل بھوک تھی۔ “صائمہ، تم میری پیاری بہن ہو، لیکن آج سے ہمارا رشتہ کچھ اور ہو گا۔” کہتے ہوئے اس نے آہستہ آہستہ دباؤ ڈالنا شروع کیا۔

میری چوت تنگ تھی، بالکل کنواری۔ جاوید کا سرا اندر داخل ہوتے ہی مجھے تیز درد ہوا۔ “آہ آہ آہ آہ … بھائی… بہت موٹا ہے… رکنا…!” میں نے کراہتے ہوئے کہا۔

شائستہ نے میرے ہونٹوں کو چوم لیا اور کہا، “آہستہ آہستہ لے لو، سانس لو۔” جاوید رک گیا، صرف ٹوپا اندر تھا۔ پھر آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگا۔ ہر انچ کے ساتھ مجھے لگ رہا تھا جیسے میری چوت پھٹ جائے گی۔ درد کے ساتھ ساتھ ایک عجیب سی لذت بھی ہونے لگی۔

جب پورا سات انچ لمبا لن میری چوت میں سماتا چلا گیا تو میں نے زور سے چیخ ماری۔ شائستہ نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ جاوید نے مجھے چوم لیا اور بولا، “اب درد ختم ہو جائے گا بہن… اب مزہ لو۔”

اس نے آہستہ آہستہ جھٹکے لگانا شروع کر دیے۔ پہلے سست، پھر تیزی سے۔ میری چوت اب اس کے لن کے گرد سکڑ رہی تھی۔ درد اب مکمل طور پر لذت میں بدل چکا تھا۔ “آہ… بھائی… اور زور سے… ہاں… چودو مجھے… آپ کی بہن کی چوت پھاڑ دو… آہ آہ آہ آہ

جاوید نے میری ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ لیں اور گہرے، زوردار جھٹکے لگانے لگا۔ ہر جھٹکے کے ساتھ اس کا لن میری چوت کی تہہ تک جا رہا تھا۔ “صائمہ… تم تمہاری چوت بہت ہی تنگ اور گرم ہے … آہ آہ آہ آہ … آہ… لے لو پورا!”

شائستہ میرے ممے  چوس رہی تھی اور کبھی کبھی جاوید کے لن کے انڈوں کو ہاتھ سے سہلا رہی تھی۔ میں دیوانہ ہو چکی تھی۔ اپنے بھائی کا لن اپنی چوت میں… یہ سوچ کر ہی مجھے مزہ آ رہا تھا۔

تقریباً بیس منٹ بعد جاوید نے مجھے گھوڑی بنایا۔ میری کمر پکڑ کر پیچھے سے زور زور سے چودنے لگا۔ “تھپ… تھپ… تھپ…” کی آواز پورے کمرے میں گونج رہی تھی۔ میری چوت سے پانی بہہ رہا تھا۔ “بھائی… میں مر جاؤں گی… اور زور سے… ہاں… پھاڑ دو… آہ ہ ہ ہ!”

شائستہ نے نیچے لیٹ کر میری چوت چاٹنی شروع کر دی جب جاوید مجھے چود رہا تھا۔ یہ دونوں طرف سے حملہ تھا۔ میں کنٹرول کھو چکی تھی۔

پھر جاوید نے مجھے اٹھا کر دیوار سے لگا دیا۔ میری ایک ٹانگ اوپر اٹھا کر کھڑے ہو کر مجھے چودنے لگا۔ اس کی رفتار بہت تیز تھی۔ اس کا لن بار بار میری گہرائی میں گھس رہا تھا۔ “صائمہ… میں تمہیں روز چودوں گا… تم اب میری ہو…!”

“ہاں بھائی… میں تمہاری ہوں… جب چاہو چود لو… میری چوت تمہاری ہے… آہ آہ آہ آہ

آخری چند منٹوں میں جاوید کی رفتار اور تیز ہو گئی۔ میں نے اس کی کمر میں اپنے ناخن گاڑ دیے۔ آخر کار اس نے زور کا ایک جھٹکا لگایا اور اپنا گرم، موٹا مادہ میری چوت کے اندر چھوڑ دیا۔ گرم جھٹکے ایک کے بعد ایک… پورا اندر بھر دیا۔

ہم تینوں ہانپتے ہوئے بیڈ پر گر پڑے۔ جاوید کا لن اب بھی میری چوت میں تھا، تھوڑا تھوڑا سسک رہا تھا۔ شائستہ نے مسکراتے ہوئے کہا، “اب تم دونوں بھائی بہن نہیں… چودنے والے جوڑے ہو۔”

میں نے شرماتے ہوئے جاوید کے سینے پر سر رکھ دیا۔ اس نے میرے بالوں کو چوما اور بولا، “اب یہ دو دن ہماری ہیں… اور آگے بھی بہت کچھ ہونا ہے۔۔دو دن تک میں نے جاوید بھائی اور شائستہ نے خوب مزے کیے ۔۔آج بھی میں جاوید سے خوب چدواتی ہوں اور جب بھی کبھی موقع ملتا ہے شائستہ بھی شامل ہوجاتی ہے ۔(ختم شد)

📖 ہماری پریمیم کہانیوں کو پڑھنے کے لیے ہمارے فورم کو جوائن کریں

🔗 فورم جوائن کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *