میرا نام وکی ہے۔ میں نے بہت سی کہانیاں پڑھیں جن میں بہن کے ساتھ سیکس کی کہانیاں بہت پسند ہیں، لیکن 70 فیصد کہانیاں جھوٹی اور 20 فیصد سچائی سے ملتی جلتی ہوتی ہیں، 10 فیصد ہی بالکل سچی ہوتی ہیں۔ آج جو میں آپ کو کہانی سناؤں گا اسے پڑھ کر آپ کو اندازہ ہو جائے گا میری کہانی سچی ہے یا جھوٹی۔ میں نے بہت دفعہ سیکس کیا ہے جی ایف کے ساتھ، کزنز کے ساتھ، لیکن آج بہن کے ساتھ سیکس کی اسٹوری سناؤں گا جو سچی ہے اور میری زندگی کی پہلی اسٹوری لکھنے جا رہا ہوں۔
میرا نام وکی ہے، میں سیالکوٹ (پاکستان) میں رہتا ہوں، عمر 22 سال اور میری بہن مجھ سے 2 سال چھوٹی ہے، اس کا رنگ سفید ہے، فیگر 34-26-32 ہے، ہائٹ 5.6 ہے، بہت فٹ ہے، نام سحرش ہے… بہن کو چودنا اتنا آسان نہیں جتنا کہانیوں میں سنا ہے۔۔۔
سردیوں کے دن کی بات ہے میں کمبل لے کر لیٹا ہوا تھا کہ میرا لن کھڑا ہو گیا، میں نے نیٹ پر بہن چودنے والی کہانیاں بہت پڑھی ہیں۔ میرا دل کیا کیوں نہ بہن کو چودا جائے۔ وہ دوسرے روم میں سو رہی تھی۔ میں چپکے سے اس کے روم میں گیا، اس نے بلینکٹ نہیں لیا ہوا تھا۔ میرا لنڈ اور اکڑ گیا، کیا مست لگ رہی تھی۔۔۔ میں اس کے پاس بیٹھا اس کی قمیض کے اوپر سے اس کے ممے دبانے لگا۔۔۔ اس نے گلا بہت کھلا پہنا ہوا تھا۔ اس کا سفید رنگ مجھے پاگل کر رہا تھا۔۔۔ میں نے اوپر سے ہاتھ اندر ڈالا اور اس کے مموں کو دبانے لگا (یہ سارا قصہ ایک گھنٹے میں آہستہ آہستہ مکمل ہوا، ایک دم ہاتھ اندر نہیں ڈالا)۔ بہت ہی گرم اور نرم تھے بووبز۔۔۔ آہستہ سے اس کے نپل کو دبایا تو وہ ہلی، میں نے ہاتھ باہر نکال لیا۔۔۔ اور ڈر گیا۔
وہ دوبارہ سو گئی پھر میں نے ہاتھ اندر ڈالا اور مموں کو دبایا اور مٹھ مارتا رہا اور میں فارغ ہو گیا۔ اور اپنے روم میں گیا، میں نے ایسا بہت بار کیا۔۔۔ کبھی اس کی بنڈ دبا کے مٹھ مارتا کبھی اس کے مموں کو دبا کے مٹھ مارتا، لیکن یہ اس ٹائم کرتا جب وہ سو رہی ہوتی تھی۔ اس کو بھی شاید پتا لگ چکا تھا۔ وہ بھی مزے لیتی ہو مجھے اس بات کا علم نہیں۔۔۔
ایک بار میں ایسے ہی اس کے روم میں گیا تو وہی سب کچھ کرنے لگا، دیکھا اس کی شلوار پھدی پر سے پھٹی ہوئی ہے، مجھے نہیں پتا اس نے جان بوجھ کر پھاڑی یا اتفاق تھا، میں نے تھوڑی اور پھاڑ دی اور اس کی سفید چوت میرے سامنے تھی، ہلکے بال تھے اوپر جیسے 3-4 دن پہلے شیو کی ہو۔ پھر میں نے اس کی پھدی پر ہاتھ لگایا وہ گیلی تھی، میں سمجھ گیا کہ مزہ آ رہا ہے، میں نے پھر اس کی پھدی کو 2 منٹ چاٹا، وہ ایک دم ہلی میں ہٹ گیا لیکن وہ سوئی ہوئی تھی۔۔۔ اس کی پھدی بہت ٹائٹ تھی یہ اندازہ ہو گیا کہ سیل ہو گی۔۔۔۔
خیر اس دن بھی مٹھ ماری اور اپنے روم میں آ گیا۔۔۔ میں بہت پاگل ہونے لگا اس کی سیل توڑنے کے لیے۔۔۔۔ خیر وہ دن بھی آ گیا سب گھر والے کہیں گئے ہوئے تھے شادی تھی، میں تو گیا نہیں، سحرش نے جو گھر پر رہنا تھا۔۔۔ جب سب چلے
گئے تو دل میں کچھ کچھ ہونے لگا تو تھوڑی دیر بعد ہی سحرش نے کہا میں سونے لگی ہوں۔۔۔۔
میں سمجھ گیا آج اس کا بھی دل ہے لیکن دل میں ڈر بھی تھا نا مانی تو کیا ہو گا۔ خیر وہ سو گئی، اس کے سونے کے ایک گھنٹے بعد میں روم میں گیا، وہ باریک سی قمیض اور کاٹن کی وائٹ شلوار پہن کر سو رہی تھی۔۔۔ میں پاس جا کر بیٹھ گیا، اسی طرح مموں کے اندر ہاتھ گھسایا اور دبانے لگا۔ 20-25 منٹ گزر جانے کے بعد اس نے کروٹ بدلی، اس کے مموں کے نپل فل اکڑ چکے تھے، آج میں بھی مٹھ نہیں مار رہا تھا چودنے کا پروگرام تھا۔
اس نے کروٹ بدلی تو سیدھی ہو کر لیٹ گئی، اس کی باریک قمیض سے۔۔۔ ریڈ برا نظر آنے لگا اففففففف کیا بتاؤں سفید جسم پر ریڈ برا کیا لگ رہا تھا۔۔۔ خیر میں نے اب اس کی قمیض اوپر کر دی پیٹ نظر آنے لگا۔۔۔ میں نے تھوڑا ہاتھ اندر ڈالا تو اس کے برا کو ٹچ کرنے لگا، اس نے اپنا جسم ڈھیلا چھوڑا ہوا تھا میں سمجھ گیا کہ سونے کا ناٹک کر رہی ہے۔۔۔ میں نے تھوڑا زور لگا کر قمیض اور اوپر کی، اس کے ممے ریڈ برا میں کیا خوب لگ رہے تھے اور سحرش ابھی تک سونے کا ناٹک کر رہی تھی۔
میں نے اس کے برا کو اوپر کیا، اس کے گول سفید ممے (بووبز) باہر آگئے، کیا بتاؤں کیا لگ رہے تھے سفید مموں پر پنک نپل، میں تو پاگل ہوا جا رہا تھا۔۔۔ میں اس کو چھوٹے بچوں کی طرح چوسنے لگا۔ 10 منٹ چوسنے کے بعد اس کی پھدی پر ہاتھ لگایا، اتنی گیلی تھی شلوار بھی کہ جیسے پانی گرایا ہو شاید وہ چھوٹ گئی ہو۔۔۔۔ میں نے اس کی شلوار میں ہاتھ ڈال دیا اور ممے چوستا رہا۔ جب اس کی شلوار اتار دی میں حیران رہ گیا پنک کلر کی پھدی مجھے پاگل کر دے گی۔
ایک دم سحرش اٹھ گئی بولی “وکی بھائی یہ کیا کر رہے ہو؟” غصے سے۔ میں ڈر گیا میں نے کہا۔۔۔ وہ۔۔۔ یہ۔۔۔ بس۔۔۔ میں۔۔۔ نہیں میں ڈر گیا تھا میں نے کہا تمہیں پتا تو چل گیا ہے تم بھی تو جاگ رہی تھی، میں ابو کو بتاؤں گا کہ میرا کوئی قصور نہیں۔ ابو کا نام سنتے ہی گھبرا گئی کہتی ہے “اوکے کر لو جو کرنا ہے بس تمہارا لنڈ میں پھدی میں نہیں لوں گی بہت بڑا ہے ڈر لگتا ہے”۔
میں مان گیا ٹھیک ہے۔ میں نے اس کے سارے کپڑے اتروا لیے، پہلی بار سحرش کو پورا ننگا دیکھ رہا تھا وہ شرما رہی تھی یا ایکٹنگ کر رہی تھی۔ پھر میں نے بھی اپنے کپڑے اتار دیے صرف انڈر ویئر پہنا ہوا تھا۔ سحرش بولی “وکی بھائی یہ بھی اتار دو” میں نے کہا تم اتار دو نا۔ اس نے میرا انڈر ویئر اتارا 8 انچ کا لنڈ دیکھ کر اس کا منہ کھلا ہی رہ گیا۔۔۔ کہتی ہے “اتنا بڑا میں نے کبھی نہیں دیکھا”۔
خیر میں اور وہ جپھی لگا کے لیٹ گئے، میں اس کے ممے چوس رہا تھا اور ایک ہاتھ چکنی پھدی پر گھما رہا تھا۔۔۔ وہ سسک رہی تھی۔
آہہہہہہہہ۔۔۔۔ اوہہہہہہہ بہت مزہ آ رہا ہے، گدگدی بھی ہو رہی ہے” بولتی جا رہی تھی۔ میں اٹھا اور بولا کہ میرا لنڈ منہ میں ڈالو، بولی “نہیں میں نہیں کروں گی”۔ میں نے کہا ایک جگہ اندر لینا پڑے گا، منہ میں یا نیچے۔ اس نے ہچکچاتے ہوئے میرا لنڈ اپنے منہ میں ڈال دیا، ایک دم چھوڑ دیا کہتی ہے “یہ لیس دار نمکین کیا ہے؟” میں نے کہا کچھ نہیں تم آرام سے چوسو۔ وہ صرف میرا ٹوپا ہی اندر لے کے جا رہی تھی میں نے کہا اور اندر کرو۔
میں اس کی ٹانگوں کی طرف سر رکھ کے لیٹ گیا، اس کی پھدی چاٹنے لگا۔۔۔ اور وہ میرا لنڈ چاٹ رہی تھی۔ میں چھوٹنے ہی والا تھا کہ لنڈ منہ سے نکال لیا اور سیدھا ہو کر اس کی پھدی پر رکھ دیا، وہ بولی “نہیں وکی اندر نہیں کرنا”۔ میں نے کہا اوپر اوپر رگڑوں گا، وہ راضی ہو گئی۔۔۔ میں اس کی چکنی پھدی پر اپنا لنڈ رگڑ رہا تھا۔۔۔
اور اس کے ممے چوس رہا تھا وہ سسک رہی تھی۔ 5 منٹ بعد میں نے کہا “سحرش اندر کر دوں؟” وہ کچھ نہ بولی میں سمجھ گیا کہ اس کی آگ اور بھڑک چکی ہے۔ میں نے اس کی پھدی پر اپنا لنڈ رکھا، تھوڑا زور لگایا میرا لنڈ سلپ ہو کر نیچے چلا گیا۔ میں نے کہا بہت ٹائٹ ہے کبھی فنگرنگ یا کسی سے کروایا نہیں؟ وہ بولی “وکی بھائی مجھے ایسا سمجھا ہے؟” میں ہنسنے لگا بولا مذاق کر رہا ہوں۔۔۔
خیر 3-4 بار ایسا کیا میرا لنڈ سلپ ہو جائے، میں نے اس کو کہا ٹانگیں کھول دو اس نے نہ کھولیں، میں نے پکڑ کر ٹانگیں کھولیں۔ پاس پڑا لوشن میں نے بہت زیادہ اس کی پھدی پر پھینک لیا، وہ نڈھال پڑی تھی۔ اپنے لنڈ پر بھی لوشن لگایا اور اس کی پھدی پر لنڈ رکھ کر جھٹکا مارا، تقریباً 2 انچ لنڈ اندر چلا گیا۔ وہ چیخنے لگی “آہہہہہہہہ مر گئی وکیییییییی پلیززززز باہر نکالو مر جاؤں گی قسم سے”۔ میں نے کہا کچھ نہیں ہوتا۔ 2 منٹ رکا اس کو تھوڑا آرام آیا پر وہ رو رہی تھی۔
میں نے ایک اور جھٹکا مارا اور میرا پورا لنڈ اس کی پھدی میں تھا، وہ اونچا اونچا چیخنے اور رونے لگی، پانی مانگنے لگی، “مر گئیییییییی پلیز باہررررر نکالو تمہیں قسم ہے اوئیییییی مر گئی آآآآآآآہہہہہہ”۔ رو رہی تھی، میں اس کے رونے کی پرواہ کیے بنا اس کے مموں کو چوس رہا تھا اور 8-10 منٹ رکنے کے بعد جب وہ تھوڑا سنبھلی تو میں نے کہا “بہنا ابھی مزہ آنے والا ہے تم رو مت”۔
پھر میں جھٹکے مارنے لگا، ایک دم میرا لنڈ باہر آگیا میں نے اندر گھسانے کے لیے دیکھا تو لال ہوا تھا اور ساری بیڈ شیٹ خون سے بھری تھی۔ میں نے سحرش کو نہیں بتایا پھر میں نے اندر ڈالا اور جھٹکے لینے لگا اور میرے خیال سے سحرش کو بھی مزہ آ رہا تھا وہ آہستہ آہستہ “آہ آہ” کر رہی تھی۔ ایک دم میرا لنڈ بہت گیلا ہو گیا سحرش چھوٹ چکی تھی۔ 2 منٹ بعد میں بھی اس کے اندر ہی چھوٹ گیا اور وہ بولی “اب کیا ہو گا؟” میں نے کہا کچھ نہیں ابھی تمہیں ٹیب (ٹیبلٹ) لا دیتا ہوں کچھ نہیں ہو گا۔
جب وہ اٹھی تو اپنا بلڈ دیکھ کر پریشان ہو گئی، میں نے کہا کچھ نہیں ہوتا۔ قسم نہیں اٹھاتا پر جب وہ بیڈ سے نیچے اتری اس سے چلا نہیں جا رہا تھا۔ مجھے ڈر تھا کہ کسی کو پتا نہ لگ جائے، وہ نہانے لگ گئی اور میں بھی نہانے لگا۔ وہ نہا کر آئی تو بولی “وکی بہت درد ہو رہا ہے”۔ میں، پھر تھوڑی دیر بعد فون آیا ابو کا کہ ہم آج نہیں کل آئیں گے کنڈی تالے لگا کے رکھنا، میں خوش ہو گیا۔ اس رات سحرش کو 3 بار چودا میں نے، اس کو ٹیب بھی کھلا دی صبح تک وہ صحیح چلنے پھرنے لگی۔ اب تقریباً 4 ماہ سے سحرش مجھے نہیں دیتی، بہت بار چودا اسے، کہتی ہے “بس اب نہیں”۔ اس طرح میں نے اپنی بہن کا مزہ لوٹا۔
📖 ہماری پریمیم کہانیوں کو پڑھنے کے لیے ہمارے فورم کو جوائن کریں
🔗 فورم جوائن کریں