ماریہ کے مموں کا دیدار کرنے کے بعد وہ کچن کی طرف جانے لگی اور کچن کے دروازے پر پہنچ کر پیچھے مڑ کر میری طرف دیکھا اور ہلکی سی ہونٹ پر زبان پھیر لی۔ میں تھوڑی دیر کیلئے سہم سا گیا مگر پھر ٹی وی کا ریموٹ اٹھا کر چینل بدلنے لگا۔ کسی چینل پر کچھ خاص مزہ نہیں آرہا تھا اور اوپر سے ماریہ آپی کی شکل آنکھوں میں تیر رہی تھی۔ میں اٹھ کر اس کے پیچھے کچن چلا گا وہ کچھ پکا رہی تھی جیسسے ہی مجھے دیکاھا اس نے تو وہ دیگچی پر تھوڑی سی جھکی اور اپنی گانڈ کو باہر کی طرف کر دیا اور بولی: کیوں چھوٹے کچھ چاہیئے کیا؟ میں نے جواب نہیں دیا نہیں آپی کچھ نہیں چاہئے۔ اس پر وہ بولی تو پھر کیا بات ہے۔ میں نہیں دیا ۔۔۔۔۔ ماریا نے اپنا دوپٹہ اتار کر اسے نیچے کمر پر باندھنا شروع کیا اور مسلس ہانڈی میں چمچہ ہلا رہی تھی۔۔۔۔ کچھ دیر تک میں یوں ہی خاموش کھڑا رہا۔۔۔۔ کچھ دیر بعد ماریہ خود بولی کہ چھوٹے کوئی گرل فرینڈ ہے کہ نہیں ۔۔۔ میں ہنسا اور بولا نہیں آپی میری کہاں سے گرل فرینڈ ہوگی۔۔۔ ماریہ ہنسی اور بولی کیوں تو لڑکا نہیں ہے کیا؟ میں زور سے ہنسا اور جواب دیا نہیں آپی لڑکا تو ہوں تو پر آپ کو تو پتہ ہے کہ میں زیادہ نکلتا ہی نہیں ہوں بس صرف خالہ کے ہاں کبھی کبھار جاتا ہوں۔۔۔۔ ماریہ بولی ہاں یہ بات تو ہے۔۔۔ میں نے نادانستہ طور پر پوچھا آپی کا کوئی بوائے فرینڈ ہے کیا۔۔۔۔ ماریہ نے حیرت زدہ چہرے سے پیچھے میری طرف دیکھا اور نفی میں جواب دیا۔۔۔۔ میں نے پوچھا آپی آپ پر تو کوئی بھی فدا ہو سکتا ہے اتنی خوبصورت تو ہوآپ۔۔۔۔ ماریہ آپی کھل کر ہنسی اور بولا نہیں یار کہاں ؟ میرا بھی آپ جیسا حال ہے۔۔۔۔ میں نے شرارتا کہا کہ مطلب اپکا بھی برا حال ہے۔۔۔۔ ماریہ آپی اس بات پر خوب ہنسی ۔۔۔۔اور جواب دیا کہ چھوٹے بہت پتہ ہے تمہیں ھاں۔۔۔۔۔ میں نے جواب میں کہا کہ نہیں آپی بس یوں ہی بولا میں۔۔۔۔۔ آپی دوبارہ سے ہانڈی میں جھکی اور گانڈ باہر کو نکلی تو میرے لنڈ نے اہستہ سا جھٹکا کھایا پر میں نے ہاتھ رکھ کر کنڑول کیا۔۔۔۔تھوڑے توقف کے بعد آپی خود بولی : ویسے چھوٹے بات تو تیری بھی سہی ہے حالت تو واقعی بری ہے۔۔۔۔میں نے خود کو معصوم ظاہر کرنے کیلئے جواب دیا وہ کیسے آپی؟ تو وہ بولی اب دیکھو نہ اس عمر میں تو خواہش ہوتی ہے نہ تو اسے پورا بھی تو کرنا پڑتا ہے ارو اس کے لئے کوئی تو چاہئے پر اپنا تو کوئی ہے ہی نہیں۔۔۔۔ اس پر میں نے کہا آپی تو میں تو اپکا اپنا ہوں نہ مجھ سے بات شیئر کیا کرے۔۔۔۔ وہ بولی بات صرف شیئر کرنے لی تو نہیں ہے نے ۔۔۔۔ میں نے بولا تو آپی اور کیا بات ہے وہ بھی شیئر کیا کریں۔۔۔۔ وہ بولی تم نہیں سمجھوگے۔۔۔ میں نے کہا تو سمجھائیں نا میں سمجھ جاؤںگا۔۔۔۔ وہ بولی جنسی خواہشات بھی تو ہوتی ہیں نا چھوٹے۔۔۔ میں بولا ہاں بلکل ہوتی ہیں لازمی بات ہیں۔۔۔ میرا یہ جواب سن کر ماریہ میری طرف مڑی اور مجھے غور سے دیکھنے لگی ۔۔۔ اس نے چونکہ دوپٹہ کمر پر باندھا تھا اور ممے اوپر ایسے ہی تھے تو میری نظریں اس کی کھلی گلے پر ٹکی جہاں اس کے ممے ہلکے ہلکے نظر آرہے تھے۔۔۔۔ ایک ساعت کہ میری اس کی نظریں آپس میں ملی تو اس نے قمیض کو تھوڑا سا نیچے کھینچا اور بولی دیکھو چھوٹے یہ بات تم امی یا کسی کو بتانا مت ہاں۔۔۔۔ میں بولا بالکل نہیں بتاؤنگا آپی میں نے مار تو نہیں کھانی کسی سے۔۔۔۔
جیسے کیسے کر کے آخر کار وہ دن آ ہی گیا جس کاآصف کو کافی دنوں سے انتظار تھا ۔۔۔ اور وہ تھا ماریا کی شادی کا دن ۔۔۔۔۔شادی کے دن سارا دن کاموں میں سارے گھر والے اسقدر مصروف رہے کہ کسی کو ایک دوسرے کے خبر گیریکا بھی وقت نہیں ملا ۔۔۔ رخصتی کے وقت آصف نے اپنی بہن کو رخصت کرتے ہوئے اس کے کان میں سرگوشی کی ” آج تو جیجا جی کے مزے لگنے والے ہیں ۔۔۔ اتنی پیاری لگ رہی ہو ۔۔۔ ” آصف نے اپنی بہن کاموڈ ٹھیک کرنے کے لئے اس کی تعریف کی تھیمگر ماریہ نے اسے اپنی طرف تھوڑا سا کھینچا اور اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے جواب دیا ” کل صبح ولیمہ کے لئے تم نے مجھے پالر تیار ہونے کے لیے لے کے جانا ہے اور کل تمہارے بھی مزے کرا دوں گی ۔۔۔ “۔۔آصف جو کہ سارا دن شادی کی مصروفیات میں گزرنے کے بعد بھول چکا تھا کہ اس کی بہن نے بھی اسے کچھ وعدہ کیا تھا جیسے ہی ماریا نے یاد دلایا تو اس کا لن اس کی شلوار میں اکڑنے لگا جسے اس نے بڑی مشکل سے چھپایا ۔۔۔ اس نے بڑیخوشی خوشی اپنی بہن کو روانہ کیا اس امید کے ساتھ کہ بالآخر کل کے دن اسے اپنی بہن کو چودنے کا موقع ملنے ہی والا تھا ۔۔۔ رات میں شادی کی ساری مصروفیات سے فارغ ہو کر جب اس رات کو اپنی ماں کے ساتھ اکیلے میں کچھ وقت ملا تو اس نے اپنی ماں سے اگلے دن مدد کرنے کا وعدہ یاد کرایا ۔۔۔ طاہرہ نے بھی مسکرا کر جواب دیا ۔۔طاہرہ : ” بیٹا پریشان نہ ہو کل تمہاری بہن کو چودنے میں تمھاری مدد کروں گی ۔۔۔ تم بھی کیا یاد کروگے کتنی زبردست ماں ملی ہے تمہیں ۔۔۔ تمہارا جب دل کرے تم اپنی ماں کوچود کر مزے لے سکتے ہو اور اب یہ تمہاری ماں تمہیں تمہاری بہن کو چودنے کی مدد کرے گی ۔۔۔ “۔آصف : ” بس کیا بتاؤں کہ میں کتنا خوش نصیب ہوں جو مجھے آپ جیسی سیکسی ماں ملی ۔۔۔ ایک بار ماریہ کو چودنے میں میری مدد کر دیں پھر دیکھیں میں کتنا آپ کو مزے کراتا ہوں ۔۔۔ “۔۔دونوں ماں بیٹا نہ جانے کتنی دیر اس طرح باتیں کرتے رہے آخر جب رات کافی ہونے لگی تو دونوں اپنے اپنے کمروں میں سونے کے لیے چلے گئے ۔۔۔ کافی دنوں کے بعد آج پہلی بار تھا کہ آصف اپنے کمرے میں اکیلا سویا تھا اور آج اسے مزے لینے کے لیے نہ تو اپنی ماں کا اور نہ ہی اپنی بہن کا جسم درکار تھا ۔۔۔ آصف بس صبح کو اپنی بہن کو چودنے اور اس کے بعد عمر بھر اپنی ماں اور بہن دونوں کو چودنے کے سپنے دیکھتے ہوئے سو گیا ۔۔۔۔۔اگلے دن صبح صبح آصف کی آنکھ کھلی تو اس کیماں اس کے بستر کے پاس بیٹھی اسے اٹھا رہی تھی ۔۔۔ آصف کی آنکھ کھلی تو اپنی ماں کو گیلے بالوں کے ساتھ دیکھ کر اسے مستی چڑھنے لگی ۔۔۔ اس نے اپنی ماں کی ران پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا اور اس کا لن بھی اچھلنے لگا ۔۔۔ طاہرہ نے اپنے بیٹے کی اکڑتے ہوئے لن کی طرف دیکھ کر شرماتے ہوئے مسکراتے ہوئے بولی ۔۔طاہرہ : ” بیٹا بچا کے رکھو آج تم نے اپنی بہن کوچودنا ہے ۔۔۔ اب جلدی سے اٹھو ناشتہ کرو اور ہم نے تمہاری بہن کے گھر جانا ہے ۔۔۔ تمہاری بہن کے سسرال والوں کو بتایا ہے کہ تم اور میں ماریا کو پارلرلے کر جائیں گے ۔۔۔ مگر ہم اسے وہاں سے لے کر واپس آ کر گھر میں آجائیں گے اور پارلر والی کو بھی میں نے دو گھنٹے بعد ہی گھر پے آنے کا کہا ہے ۔۔۔ تم دونوں کے پاس دو گھنٹے کا وقت ہو گا جو کرنا ہے کر لینا اس کے بعد پالروالی آئے گی تو ماریہ کو تیار کرا کر ہم یہیں سے ولیمے پر لے کر جائیں گے ۔۔۔ تمہارے ابو تو صبح صبح ہی ناشتہ کرکے ولیمے کی طرف نکل گئے ہیں ۔۔۔ اب تم بھی اٹھو اور جلدی سے ناشتہ کرو ورنہ لیٹ ہو جائیں گے ۔۔۔ “۔۔اپنی ماں کا یہ سارا پلان سن کر اس کو بھی اپنی ماں پر پیار آنے لگا مگر اب زیادہ سوچنے کا وقت نہیں تھا اس نے جلدی سے اٹھ کر نہا کر فریش ہوا اور ناشتہ کرنے بیٹھ گیا ۔۔۔ ناشتہ کرنے کے بعد دونوں ماں بیٹا ماریا کے سسرال کی طرف نکل گئے ۔۔۔ وہاں سب لوگوں نے ان دونوں کا بڑا پرجوش استقبال کیا ۔۔۔ جب کہ ماریہ کچھ مرجھائی لگ رہی تھی ۔۔۔ کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد طاہرہ نے ماریہ کی سسرال سے اجازت لی اور وہ دونوں ماریا کو لے کر گھر کی طرف نکل پڑے ۔۔۔ گھر پہنچ کر طاہرہ نے آصف کے ذمہ لگایا کہ وہ اپنی بہن سے پوچھے کہ آخر اس کی پریشانی کی وجہ کیا ہے ۔۔۔۔۔آصف نے اپنی بہن کو اکیلے میں لے جا کر اسے وجہ پوچھی تو ماریا غصے میں آکر اپنے نئے شوہر کو کوسنے لگی ۔۔۔ اس نے بڑی مشکل سے اسے غصے پر قابو دلایا اور اس سے غصے کی وجہ پوچھی ۔۔۔ ماریا اپنے شوہر کو کو اک بار پھر کوستے ہوے بولی کمینہ اک منٹ سے پہلے فارغ ہوگیا اور میں ویسے لیٹی رہی ساری رات ۔۔۔آصف اپنی بہن کی بات سن کر ہنسنے لگا اور اسے تسلی دی کہ وقت کے ساتھ اسکی ٹائمنگ بڑھ جائے گی ۔۔۔ پہلی بار میں ہر لڑکا جلدی فارغ ہو جاتا ہے ۔۔۔ پریشان نہ ہو سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔ ماریہ کو اپنے بھائی کی بات سن کر کچھ تسلی ہوئی ۔۔۔ لیکن پھر اس نے اپنی ماں کی طرف اشارہ کرکے آصف کو سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔۔۔ آصف سمجھ گیا کہ ماریا اپنی ماں کی موجودگی کے بارے میں پوچھ رہی ہے ۔۔۔ آصف نے ماریا کو ساری کہانی بتا دی کہ کس طرح اس کی ماں نے ان دونو کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔۔۔۔۔ماریا کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا ۔۔۔ اسکی ماں اپنے بیٹے کی مدد کر رہی تھی اپنی سگی بہن کو چودنے میں ۔۔۔ ایک لمحے کیلئے ماریا کو تو اس بات پر شرم آنے لگی مگر جتنا وہ اس بارے میں سوچتی گئی مزید گرم ہوتی گئی کہ ایک ماں اپنے بیٹے کی اور بیٹی کی مدد کر رہی ہے ایک دوسرے کو چودنے میں ۔۔۔ اور یہ کہ جب دونوں بہن بھائی اندر ایک دوسرے کو چودنے میں مصروف ہوں گے تو باہر بیٹھی ان کی ماں کو اچھی طرح معلوم ہوگا کہ اندر کیا ہو رہا ہے ۔۔۔ ماریا اس بارے میں بہت حیران تھی کہ آخر اس کے بھائی نے اپنی ماں کو منا کیسے لیا اس کی مدد کرنے میں ۔۔۔ اور اس سوال کے جواب میں آصف نے صرف اتنا کہا ۔۔۔آصف : ” بس میری پیاری بہن یہ سمجھ لو کہ امی کی پھدی کو جو ان کے بیٹے کے لن کا سواد لگ چکا ہے وہ اسے کھونا نہیں چاہتیں ۔۔۔ اور اسے خوش کرنے کے لیے وہ اپنی بیٹی کو بھی اس کے نیچے لٹانے پر راضی ہو گئیں ۔۔۔ “۔۔ماریا : ” یار میرا بہت دل کر رہا ہے کہ میں تمہیں امیکو چودتے ہوئے دیکھوں ۔۔۔ لیکن وہ پھر کبھی ابھی تو مجھے بس یہ دیکھنا ہے کہ ایسا کیا جادو ہے تم میں کہ تم نے اپنی ماں کو ہی رکھیل بننے پر مجبور کر دیا ہے ۔۔۔ “۔۔دونوں بہن بھائی اب کمرے میں اکیلے تھے جب کہ انکی ماں صوفے پہ بیٹھی ٹی وی دیکھنے لگی ۔۔۔ دونوں بہن بھائی نے جلدی سے اپنے کپڑےاتارے ۔۔۔ پہلے بھی کئی بار وہ اک دوسرے کو ننگا دیکھ چکے تھے مگر یہ پہلی بار تھا کہ وہ ایک دوسرے کی شہوت میں اس قدر گرفتار تھے کہ وہ اباپنے اوپر سب کنٹرول چھوڑ چکے تھے ۔۔۔ کپڑے اتارتے ہیں وہ دونوں بہن بھائی ایک دوسرے سے چمٹ گئے اور ایک دوسرے کے ہونٹ چومنا شروع کر دیا ۔۔۔ آصف نے پیار سے اپنی بہن کو اپنی باہوں میں اٹھایا اسے بیڈ پر لٹا کر اس کی ٹانگوں کی طرف اسے کا جسم چومتے ہوئے جانے لگا ۔۔۔ ماریہ کی سانسیں بہت تیز چل رہی تھی اور بالآخر اسے اپنا خواب پورا ہوتا ہوا نظر آرہا تھا ۔۔۔ اور وہ خواب تھا اپنے بھائی کا لن پھدی لینے کا ۔۔۔ آصف اپنی بہن کی پھدی چاٹنے میں مصروف تھا جب کہماریا مزے سے سسکاریاں بھر رہی تھی ۔۔۔ کچھ ہی دیر میں ماریا کی برداشت جواب دے گئی اور اس نےاپنے بھائی کا سر پکڑ کر اوپر اٹھایا اور بہت پیار سے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔ماریا : ” بس اب اور انتظار نہیں ہوتا بھائی ۔۔۔ جلدی سے اپنی بہن کا خواب پورا کر دو اور جو چیز تمہاریہے اسے اپنا لو ۔۔۔ “۔۔آصف کو اپنی بہن پر بہت پیارا آنے لگا اور اس نے اپنی بہن کو مزید نہ ہی انتظار کرواتے ہوئے اس کے اوپر چڑھا ماریا نے جلدی سے اپنی ٹانگیں اٹھا لیں اور آصف نے اپنا لن اپنی بہن کی پھدی پر سیٹ کیا اور آہستہ آہستہ سے اندر ڈالتا گیا ۔۔۔ ماریا اب کنواری تو نہ تھی لیکن یہ اس کی دوسری چدائی تھی اور دوسری چدائی اس کی بھائی کے تگڑے لن سے ہو رہی تھی تو اسے ہلکی تکلیف ہونے لگی مگر اس کے ساتھ ساتھ اس قدر شدید مزہ بھی آرہا تھا کہ کوئی تکلیف اب محسوس ہی نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔ ماریہ کو یہ خیال بہت گرم کر رہا تھا کہ اس کا بھائی اس کی پھدی میں اپنا لن ڈال کر اسے چودنے میں مصروف ہے جب کہ اس کی ماں باہر بیٹھ کر اپنے بچوں کی چدائی پر پہرا دے رہی ہے ۔۔۔۔۔جبکہ دوسری طرف آصف جس کو صرف اپنی خالا اور ماںکی شادی شدہ آنٹیوں والی پھدی ملی تھی پہلی بار اتنی ٹائٹ پھدی کو چود کر اسے بے انتہا مزہ آنے لگا ۔۔۔ آصف کو محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کی بہن کی پھدی اس کے لن کو اندر کھینچ رہیہے ۔۔۔ آصف آہستہ آہستہ اپنی رفتار بڑھاتا گیا جب کہ دوسری طرف ماریہ کی آہوں اور سسکیوں کی آواز پورے کمرے میں گھونج رہی تھی ۔۔۔ اپنی بہن کو چودتے ہوئے آصف کی نظر دروازے پر پڑی تو دروازہ تھوڑا سا کھلا ہوا تھا اور دروازے کے دوسری طرف اس نے اپنی ماں کو کھڑے ہوئے دیکھا ۔۔۔۔۔طاہرہ نے اپنے بیٹے کو اپنی طرف دیکھتے ہوئے پا کر اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا ۔۔۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی بیٹی اس وقت جیسے شدید مزے میں تھی وہ اس کو ڈسٹرب کرتی ۔۔۔ اپنی ماں کو دیکھتے ہوئے پا کر آصف کی چودنے میں مزید شدت آ گئی جبکہ ماریا کی آوازیں اونچی ہو چکی تھیں ۔۔۔ آصف نے دیکھا کہ اس کی ماں کا ایک ہاتھ اس کی شلوار میں بہت تیزی سے حرکت کر رہا ہے ۔۔۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ طاہرہ اپنے بچوں کی چدائی دیکھ کر فل گرم ہو چکی تھی ۔۔۔ جبکہ ادھر مار یا فارغہونے کے قریب تھی ۔۔۔ ماریا کی آہیں اب چیخوں میں بدل رہی تھی جبکہ وہ مزے کی انتہا گہرائیوں میں پہنچ چکی تھی ۔۔۔ ماریا فارغ ہونے لگی تو اس نے اپنی دونوں ٹانگوں سے اپنے بھائی کو اپنے اوپر کھینچ کر دبا لیا جبکہ اس کا جسم اس قدر شدت کےساتھ کانپنےاور اچھلنے لگا کے آصف بھی حیران ہو گیا ۔۔۔ سہاگ رات کو جو اس کی بھوک ادھوری رہ گئی تھی وہ اس کے بھائی نے پوری کر دی تھی ۔۔۔۔۔،آصف کچھ لمحے کے لیے رکا رہا مگر ماریا میں اب اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ مزید اپنے بھائی کا لن لے سکتی ۔۔۔ ماریا نے آصف کو اپنے اوپر سے ہٹایا اور اسے معذرت بھری نگاہ سے دیکھنے لگی ۔۔۔ آصف اپنی بہن کے جذبات کو سمجھ گیا اور اسے تسلی دینے لگا اور بولا ۔۔۔آصف : ” کوئی بات نہیں میری خیر ہے میں بس چاہتا ہوں کہ میری بہن خوش رہے ۔۔۔ “۔آصف نے دروازے کی طرف دیکھا جہاں اس کی ماں موجود نہ تھی ۔۔۔ آصف ماریہ سے بولا ۔۔آصف : ” تم مجھے امی کو چودتے ہوئے دیکھنا چاہتی تھی نہ تمہیں وہ بھی دکھا دیتا ہوں آج ۔۔۔ “۔۔آصف ننگا ہی بیڈ سے نیچے اترا اور کمرے کا دروازہ کھول کر ٹی وی لاؤنج میں چلا گیا جہاں اس کی ماںپھر سے ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھی ۔۔۔ اپنے بیٹے کو اپنی طرف ننگا آتے ہوئے دیکھ کر طاہرہتھوڑی گھبرا گئی ۔۔۔ وہ جانتی تھی کی اب اس گھر میں کوئی بھی راز راز نہ تھا مگر پھر بھی اپنی بیٹی کی موجودگی میں یہ سب کچھ کرتے ہوئے اسے بہت شرم آ رہی تھی ۔۔۔ آصف نے بغیر کچھ بولے جاتے ہی اپنی ماں کا دوپٹہ اتار دیا اور جلدی سے اس کے کپڑے اتارنے لگا گیا ۔۔۔ طاہرہ جانتی تھی کہ یہ سب کچھ غلط ہے کہ وہ اپنی بیٹی کی موجودگی میں یہ سب کچھ کرے مگر اس کا جسم اپنےبیٹے کو روکنے میں اس کا ساتھ بلکل نہ دے رہا تھا ۔۔۔ آصف اپنی ماں کو ننگا کر کے صوفے پر لٹا چکا تھا اور اس کی ٹانگوں کے درمیان میں آکر جیسے ہی اپنا لن اپنی ماں کی پھدی میں گھسایا توپچک کی آواز کے ساتھ پورا لن اندر چلا گیا ۔۔۔ آصف نے جھٹکے مارنے شروع کر دئیے جبکہ طاہر مزے سے اپنی آنکھیں بند کیے لیٹی ہوئی تھی ۔۔۔ کچھ دیر کے بعد ماریا بھی کمرے سے ننگی باہر نکلی ہوئی اس نے صوفے پر اپنی مارں اور بھائی کو چودتے ہوئے دیکھا تو اس سے رہا نہ گیا اور وہ صوفے کے پاس آکر اپنی ماں کے ساتھ نیچے فرش پر بیٹھ گئی ۔۔۔ اسے اپنی ماں بہت خوبصورت لگ رہی تھی اور ہر جھٹکے کے ساتھ اس کے ممے اوپر کو اچھلتے تھے ۔۔۔۔۔ماریا سے رہا نہ گیا اور اس نے اپنی ماں کے ممے کو پکڑ کر چوسنا شروع کر دیا ۔۔۔ طاہرہ نے ایک دم سے اپنی آنکھیں کھولیں تو اپنی بیٹی کو اپنے ممے چوستے دیکھ کر اسے مزید شہوت چڑھنے لگی ۔۔۔ طاہرہ اپنی بیٹی کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی ۔۔۔ کچھ ہی دیر میں دونوں ماں بیٹا فارغ ہونے لگے تو آصف نے جھٹکوں کی رفتار تیز کر دی جبکہ طاہرہ اپنی بیٹی کے سر کو اپنے ممے پر دبانے لگی ۔۔۔ ماریا شدت کے ساتھ ممے چوسنے لگی جبکہ طاہرہ فارغ ہونے لگی تو اسکا جسم جھٹکے کھانے لگا اور آصف نے بھی اپنی منی کا فوارہ اپنی ماں کی پھدی کے اندر ہی نکال دیا ۔۔۔ آصف نے اپنا لن باہر نکالا تو ماریا اپنی ماں کی پھدی کی طرف لپکی جہاں اسکی ماں کی پھدی سے ملا جلا رس نکل رہا تھا ۔۔۔ ماریا نے اپنی ماں کی طرف دیکھا تو طاہرہ شرمانے لگی اور اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی ۔۔۔ یوں تو تینوں ماں بیٹا اور بیٹی شرم اور حیا کی تمام حدیں پار کر چکے تھے مگر پھر بھی کچھ جھجک تھی جو ابھی باقی تھی ۔۔۔۔۔ان تینوں نے کپڑے پہن لیے اور چپ چاپ ٹی وی لاونج میں بیٹھ کر ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے جیسے ابھی کچھ دیر پہلے کچھ ہوا ہی نہیں تھا ۔۔۔ مگر حقیقت تو یہ تھی کہ انسیسٹ سی بھر پور چدائیوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہو چکا تھا جو کہ ساری زندگی ایک بہن کو بھائی کے نیچے ایک ماں کو اپنے بیٹے کے ساتھ اور ایک خالہ کو اپنے بھانجے سے چدوانے والا تھا ۔۔۔ گھر کا بھیدیگھر کی ہر پھدی میں لن گھسا چکا تھا اور اس طرح ایک اور ماں ‘ بہن اور ایک خالہ جسم کی بھوک سے تنگ آکر انسیسٹ کی شوقین انگنت فیملیوں میں اپنا نام شامل کر چکی تھیں ۔۔(ختم شد)
📖 ہماری پریمیم کہانیوں کو پڑھنے کے لیے ہمارے فورم کو جوائن کریں
🔗 فورم جوائن کریں