صبح 8 بجے کمل جیت، ریکھا اور ممتا کو لے کر رنجیت بس اسٹیشن پر آ گیا۔ تھوڑی دیر میں ہی بس آ گئی۔ اسے بس میں بٹھا کر روانہ کر دیا۔ اس کے بعد رنجیت وہیں سے اپنے دفتر چلا گیا۔ رشمی بھی تیار ہو کر ہسپتال چلی گئی۔
جب رنجیت دفتر پہنچا تو اطلاع ملی کہ چاندنی چوک میں ایک بم دھماکہ ہوا ہے۔ وہ فوراً اپنی ٹیم کے ساتھ واقعہ کے مقام پر روانہ ہو گیا اور اپنی گشت بڑھا دی۔ چھان بین کرنے پر اسے پتا چلا کہ کچھ مجرمانہ عناصر ملک میں سماجی نظام کو خراب کرنا چاہتے تھے۔ اسے فکر ہوئی کہ اس کی بیوی گھر پہنچی یا نہیں۔ اس نے فون کیا۔ فون سوئچ آف تھا۔ پر دوبارہ فون کرنے پر کمل جیت نے فون اٹھایا۔
رنجیت: ارے بھائی، تم لوگ پہنچ گئے؟ ٹھیک ٹھاک؟
کمل جیت: جی جیجا جی، ابھی ابھی پہنچا ہوں۔ ہم فون کرنے والے تھے کہ آپ کا فون آ گیا۔
رنجیت: پتا ہے یہاں بم دھماکہ ہوا ہے۔ یہ اچھا ہوا کہ تم لوگ دہلی چھوڑ چکے تھے۔ ورنہ جا نہیں سکتے تھے۔ اور مجھے بھی فکر ہو رہی تھی۔
کمل جیت: جی ہاں، جب ہم لوگ گڑگاؤں کراس کر رہے تھے تو اطلاع ملی کہ دہلی میں بم دھماکہ ہوا ہے۔ پولیس والے ہر گاڑی کی تلاشی لے رہے تھے۔ پولیس والوں نے ہی ہمیں بتایا۔ دیدی تو فکر کر رہی تھی۔
رنجیت: اسے فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم لوگ ٹھیک سے ہیں۔ اور مجھے یہی ڈیوٹی ملی ہے۔ آج رات دیکھو گھر جاتا ہوں یا نہیں۔ کیا کریں ہم لوگوں کا کام ہی ایسا ہے۔ اوکے بھائی، ٹیک کیئر۔ پھر فون کرتا ہوں۔
پھر رنجیت نے رشمی کو فون کیا۔ بیٹا، آج میں رات کو نہیں آ پاؤں گا۔ مجھے اپنی ٹیم کے ساتھ چاندنی چوک رہنا پڑے گا۔ تم کھا کر سو جانا۔ اور ہاں اندر سے دروازہ لگا کر سو جانا۔
رشمی نے کہا: ٹھیک ہے پاپا۔
تقریباً 5 گھنٹے کے آپریشن کے بعد مجرم پکڑا گیا۔ صبح 3 بجے رنجیت گھر آیا۔ رشمی نے دروازہ کھولا اور پھر سو گئی۔ رنجیت بھی سو گیا۔ صبح رشمی جلدی اٹھ گئی۔ وہ جھاڑو دینے کے بعد فریش ہو گئی پھر کچن میں چائے بنانے لگی۔ اس کے بعد 2 کپ میں چائے لے کر رنجیت کے کمرے میں آئی۔ رنجیت صرف نیکر میں سو رہا تھا۔ پہلے کی طرح اس کا لنڈ باہر نکلا ہوا تھا جو کہ بہت وحشت ناک لگ رہا تھا۔ مانو وہ خواب میں ہی کسی کو چود رہا ہو۔ اس کی گانڈ اوپر نیچے ہو رہی تھی ۔یہ دیکھ کر رشمی بہت ہاٹ ہو گئی۔ وہ وہیں پر سٹول لے کر بیٹھ گئی اور اپنے باپ کے کرتوتوں کو دیکھنے لگی۔ تھوڑی دیر بعد رنجیت شانت ہو گیا۔ اس کے لنڈ سے منی بیڈ شیٹ پر بہہ گئی ۔ رشمی غور سے دیکھ رہی تھی۔ پھر بھی رنجیت نہیں اٹھا۔ شاید ایسا لگ رہا تھا کہ وہ جان بوجھ کر رشمی کو دکھانا چاہتا تھا۔ وہ چائے وہیں پر رکھ کر باتھ روم جانے چلی گئی، نہانے۔
باتھ روم کا کنڈا خراب ہو گیا تھا۔ وہ ٹھیک سے مناسب طریقے سے نہیں لگتا تھا۔ پھر بھی رشمی نہانے سے پہلے اپنے سارے کپڑےاتار کر اپنے بازوؤں کے بال صاف کرنے لگی۔ صاف کرنے کے بعد وہ باتھ لینا شروع کی۔ وہ وہیں زمین پر بیٹھ گئی اور بالٹی سے مگ میں پانی لے کر نہانے لگی۔ تبھی رنجیت نے اچانک دروازہ کھولا اور اپنے لنڈ سے پیشاب چھوڑ دیا۔ جب تک کہ رشمی کچھ بول پاتی رنجیت کا پیشاب سیدھا اس کے جسم اور خاص کر اس کے ناک اور منہ پر گرا۔ رنجیت اپنی آنکھیں بند کیے ہوئے تھا۔ اگر کھولا ہوتا تو سامنے رشمی دکھائی دیتی۔ رشمی کو ہی بولنا پڑا: پاپا؟ یہ کیا کر رہے ہو؟ میں نہا رہی ہوں نا… اور آپ نے میرے اوپر پیشاب کر دیا۔
رنجیت نے اپنی آنکھیں کھولیں تو دیکھا اور دنگ رہ گیا۔ رشمی بالکل ننگی اس کے سامنے تھی اور اس کے پیشاب کی دھار ابھی بھی اس کے جسم پر پڑ رہی تھی۔ وہ نا چاہتے ہوئے بھی اپنے آپ کو روک نہ سکا۔ پھر تھوڑی دیر بعد وہ صرف اتنا ہی کہا: سوری…
اور پھر باتھ روم سے نکل گیا۔ رشمی نے بھی پھر سے اپنے آپ کو فریش کیا پھر بھی اس کے جسم سے پیشاب کی بدبو آ رہی تھی۔ اس کا من نہ مانا تو وہ پھر سے پورے جسم کو نہلایا۔ تب جا کے وہ فریش ہوا۔ پر اس کے ناک اور منہ میں پیشاب کی کچھ بوندیں چلی گئی تھیں۔ پر اب کیا کیا جا سکتا ہے۔
وہ فریش ہو کر اپنے کمرے میں گئی۔ صبح کے 8:30 ہو رہے تھے۔ ارے باپ رے… لیٹ ہو گئے۔
کپڑے پہنے اور بیگ لے کر باہر آ گئی۔ پھر سٹی بس سے ہسپتال آ گئی۔
آج کے کاروائی کو نیہا کو بتایا۔ دونوں خوب ہنسیں۔ خاص طور پر نیہا۔ نیہا نے کہا: تم کہتی تھیں نا کہ کوئی موقع نہیں ملتا۔ دیکھا… تمہیں پورن روپ سے نہا دیا پاپا نے۔
ایسے ہی مواقع ڈھونڈتے رہو… پھر دیکھنا دہلی دور نہیں۔
شام کو جب رشمی گھر آئی تو رنجیت پہلے سے ہی گھر پر تھا۔
رشمی: ارے… آج آفس نہیں گئے؟
رنجیت: آج میری چھٹی تھی۔ اور ویسے بھی میرے جسم میں درد ہو رہا تھا۔ اس لیے۔
رشمی: تو آپ مجھے بتاتے۔ میں رک جاتی اور تیل لگا دیتی۔
رنجیت: جب میں اٹھا، تم جا چکی تھیں۔
رشمی نے اسے بتانا مناسب نہ سمجھا کہ آپ نے میرے اوپر پیشاب کر دیا ہے۔ وہ رک گئی، کہ کہیں رنجیت غصہ نہ کر جائے۔ وہ کچھ نہ بولی۔
کھانا بنائیں؟ کیا کھائیں گے؟
کچھ بھی جو تمہارا دل کرے۔
آج کھیر بناتے ہیں… آپ کا فیورٹ۔ اور ساتھ میں پوری اور آلو دم کی سبزی۔
رنجیت: گریٹ۔ بولو میں کیا مدد کروں؟
رشمی: آپ باہر جائیں اور 1 کلو دودھ لے کر آ جائیں۔ باقی کا میں کر لوں گی۔
رنجیت تیار ہو کر نکل گیا۔ رشمی کو بڑا عجب لگا۔ لو یہ تو سدھر گئے۔ کوئی سیکسی انٹریکشن نہیں۔
پھر رشمی نے سارا کام کیا۔ پھر رنجیت کا انتظار کرنے لگی۔
رشمی نے گاؤن پہن لیا اور آگے سے ایک بٹن کھول دیا تاکہ کام کرنے میں اور خاص کر جھکنے میں مشکل نہ ہو۔
تھوڑی دیر بعد رنجیت آ گیا۔ وہ صرف ایک ٹی شرٹ اور نیکر میں تھا۔
آتے ہی کہا: لو دودھ۔ کہاں رکھوں؟
رشمی نے کہا: کچن میں رکھ دو۔
رنجیت نے کچن میں رکھ دیا۔
تقریباً آدھے گھنٹے میں کھانا بن گیا۔ صرف پوری تلنی تھی۔
پاپا کھانا بن گیا ہے۔ جب کھائیں گے تو پوری تل دوں گی۔ اب بولو کیا کرنا ہے؟ بس ٹی وی دیکھتے ہیں۔
رشمی: آپ کا درد اب کیسا ہے؟
رنجیت: ٹھیک ہے۔ پر کمر میں درد ہے۔
رشمی: میں تیل لگا دوں؟
رنجیت: نہیں۔ ہاں… پین بالم لگا دو۔ کمر میں۔
رنجیت نے اپنی نیکر سرکا دیا۔ رشمی نے پین بالم لگانا شروع کیا۔ تبھی وہ رنجیت سے بولی: صبح آپ پتا ہے کیا کر دیا تھا؟
رنجیت: کیا؟
رشمی: آپ کو معلوم نہیں؟
رنجیت: نہیں تو۔ بولو۔
رشمی: آپ میرے چہرے پر پیشاب کر دیے تھے۔ میں نہا رہی تھی۔ آپ آئے اور پیشاب کر دیا ۔ میں نے روکنا بھی چاہا تب تک آپ سو سو کر دیا۔
رنجیت: سوری بیٹے۔ دراصل میں کچھ اور خواب دیکھ رہا تھا۔
رشمی: مجھے معلوم ہے کہ آپ خواب میں کسی کو چود رہے تھے۔ اور وہ بھی نیہا کو۔ ہے نا؟
رنجیت: ہنسنے لگا۔ تمہیں کیسے معلوم؟
رشمی: آپ سوتے ہوئے نیہا کا نام لے رہے تھے۔ اور پھر آپ کی منی بیڈ پر لگی ہوئی ہے ۔ دکھاؤں؟
رنجیت: شرمندہ ہو گیا۔ وہ صرف اپنی نظریں نیچے کیے ہوئے سوری کہا۔
رشمی کو اس پر رحم آ رہا تھا۔
رنجیت کی کمر کی مالش رشمی کر رہی تھی۔ وہ اچانک رنجیت سے بولی:
رشمی: پاپا… اب آپ آگے کی کہانی بتائیں۔
رنجیت: کس کی کہانی؟
رشمی: وہی آپ اپنی زندگی کی؟ جیسے کہ آپ نے نیہا کے ساتھ؟ وغیرہ وغیرہ… اگر آپ کا من رہے تو۔
رنجیت: من تو ہے پر کچھ ہچکچاہٹ ہے۔
رشمی: کیا؟
رنجیت: کیا ہم جو بھی کر رہے ہیں… وہ صحیح ہے؟
رشمی: پاپا… ایک پرانی کہاوت ہے… من چنگا تو کٹھوتی میں گنگا۔ اگر ہم لوگوں کا من صاف ہے تو باتیں کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ باتیں کرنے سے من ساتھ ہوتا ہے۔ اور پھر جو بھی ہوگا ایک دوسرے کی مرضی سے ہوگا نا۔ لیٹس اسٹارٹ۔
رنجیت: تھوڑا خاموش رہا۔ وہ رشمی کو دیکھتا رہا۔ کیسی لڑکی ہے۔ کل تک یہ بالکل شرمیلی گڑیا تھی، سیکس نے اسے کیا بنا دیا ہے۔ اسے یاد ہے جب وہ بیو ہوئی تھی ۔ وہ 3 سال تک کسی سے بات تک نہیں کی تھی۔ اور آج؟ آج وہ سیکس کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار تھی۔ اتناچینچ آیا کہاں سے؟ خیر۔ وہ بولا:
اگر تم چاہتی ہو تو میں بتاتا ہوں۔ ویسے جب نیہا تمہارے ساتھ آتی تھی تو میں اس کی آنکھوں کو دیکھتا رہتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک خمار دکھائی دیا۔ جیسے مانو کہہ رہا ہو کہ میں کئی سال سے نہیں سویا ہوں۔ کئی سال سے جسم کو سکون ملا ہے ۔ اور اس دن پارٹی میں جب میں اس کے ہسبینڈ سے ملا تھا تو بات سمجھ میں آ گئی۔ اس کی ہائٹ اور نکلا ہوا پیٹ نا سب کہہ دیا۔ ہمیں لگا کہ وہ اس گینڈے سے مطمئن ہی نہیں ہوگی۔ کون الو کا پٹھا ان دونوں کی شادی کروایا۔
رشمی: پاپا وہ دونوں بچپن کے دوست ہیں۔ اور دونوں کے پاپا ایک اچھے دوست ہیں۔
رنجیت: اچھا تو دوستی کی بلی چڑھ گئی نیہا۔ ہے نا؟
رشمی: ہنستے ہوئے… ہاں۔
رنجیت: تبھی میں نے پرن کیا کہ اس لڑکی کا اُدھار میں ضرور کروں گا۔ اس دن پارٹی میں میں نے یہ بات “بیٹا… تم لوگ ابھی تک بچے کے لیے کیوں نہیں سوچا” اس کے اندر کی بات جاننے کے لیے کہا۔
رشمی: آپ تو گریٹ ہیں۔ مجھے سب پتا ہے کہ آپ نے ایسا کیوں کہا تھا۔ آپ کے جانے کے بعد اس مدعے پر نیہا اور اس کے ہسبینڈ سے لڑائی ہوئی۔ اسی پراکرن میں اس کے ہسبینڈ کہہ دیا کہ تم آزاد ہو۔ کسی سے بھی سیکس کر کے بچہ پیدا کر سکتی ہو۔ اس دن نیہا خوب روئی۔ پر بات اتنی سیریس تھی کہ نیہا کو سٹیپ لینا پڑا۔ اور ویسے بھی اس کا ہسبینڈ خود بھی اس سے پلے جھاڑنا چاہتا تھا۔ کیونکہ وہ کیلیفورنیا جانا چاہتا تھا۔ اگر نیہا کا خیال رہے گا تو ریسرچ ٹھیک ڈھنگ سے نہیں کر پائے گا۔ سنتی ہوں کہ وہیں کسی لڑکی سے چکر ہے۔ جیسے کہ نیہا بتا رہی تھی۔
رنجیت: تم تو بہت جانتی ہو اس کے بارے میں۔
رشمی: کیوں نہیں ۔ وہ ہے ہی میری بیسٹ فرینڈ۔
رنجیت: اس نے ہی تیرے کو بولڈ بنا دیا ہے۔ ہے نا؟
رشمی: تو اس میں برا کیا ہے۔ ہر لڑکی کو بولڈ ہونا چاہیے۔ اور جہاں تک حق کی بات ہے تو پھر پیچھے کیوں رہوں؟
رنجیت: تو پھر تم نے 8 سال خراب کیوں کیا؟ تمہیں بھی کسی لڑکے سے تعلق بنا لینا چاہیے۔
رشمی: جب اپنے اوپر بات آئی تو وہ خاموش ہو گئی۔ بولی کچھ نہیں۔ بس سر نیچے کیے ہوئے سسکتی رہی۔ رنجیت کو برا لگا کہ اس نے دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا۔
رنجیت: سوری بابا۔ میرا کہنے کا مطلب یہ نہیں تھا۔ سوری۔
رشمی: کیوں بات نہیں۔ دراصل سماج اور خاندان کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ اور ویسے بھی ہم ہندوستانی عورتیں کر بھی کیا سکتے ہیں۔
رنجیت: جو ہوا سو ہوا۔ اب تم رونا دھونا بند کرو۔ تم اگر سننا چاہتی ہو تو بولو۔
رشمی: نے ہاں میں سر ہلا دیا اور مسکرا دی۔
رنجیت: لیکن مجھے اس طرح من نہیں لگے گا کہانی سنانے میں۔ تمہیں میرے سامنے بولڈ ہونا پڑے گا۔ میرا کہنے کا مطلب سمجھی؟
رشمی: کیا؟
رنجیت: وہی کہ میں صرف نیکر میں ہوں اور تم ساڑی میں۔ تم بھی برا اور پینٹی میں آ جاؤ۔ رشمی شرما گئی۔ وہ بولی ایک شرط ہے۔
رنجیت: کیا؟
رشمی: یہی کہ آپ ہاتھ نہیں لگائیں گے۔ بغیر میری رضامندی کے کہیں بھی ہاتھ نہیں لگائیں گے۔ منظور تو بولو۔
رنجیت: منظور۔ اور ویسے بھی میں تمہارے حسن کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ چھونا نہیں۔
رشمی: پاپا اگر آپ بدمعاشی نہ کرو تو آپ مجھے چھو بھی سکتے ہو۔ اور کسنگ بھی کر سکتے ہو۔ پر ہاں میری پینٹی اور برا نہیں اتارنا ۔ بولو کیا کہتے ہو؟
رنجیت: ہنستے ہوئے؟ اوکے۔ جیسے تم چاہو۔
رشمی: میں ابھی آئی۔ اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔ تھوڑی دیر بعد وہ آئی۔
رنجیت نے دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔ کیا غضب کی خوبصورت لگ رہی تھی۔ پینٹی اور برا میں وہ حُسن کی دیوی لگ رہی تھی۔ساتھ شہوت کی دیوی۔ برا اور پینٹی دونوں پنک کلر کی تھیں جو کہ اس کی سکن سے میچ کر رہی تھیں۔ وہ دھیرے دھیرے مسکراتے ہوئے رنجیت کے قریب آنے لگی۔ رنجیت نے اسے وہیں روک دیا۔ ذرا تمہاری خوبصورتی دیکھنا چاہتا ہوں۔ اسے دیکھتے ہی رنجیت کا لنڈ کھڑا ہو گیا۔ وہ اوپر سے نیچے اور پھر نیچے سے اوپر دیکھنے لگا۔ رشمی کو شرم آ رہی تھی۔ پر وہ اپنا سر نیچے کیے ہوئے کھڑی رہی۔ رنجیت کو اب رہا نہ گیا وہ کھڑا ہو گیا اور رشمی کے قریب جا کے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور اس کی پینٹی کے ابھرے ہوئے حصے… یہی چوت کے دروازے پر پہلے تو وہ سونگھا۔ پھر اس نے ایک ہلکا سا بوسہ کر دیا۔ سونگھنے سے اسے ایک غضب کا ٹیسٹ لگا۔ جیسے کہ رشمی ابھی ابھی پیشاب کر کے آئی ہو۔ پیشاب کی کچھ بوندیں پینٹی پر لگی ہوئی تھیں۔ رشمی سہم گئی۔ وہ صرف اتنا ہی کہی: کیا کرتے ہو… آہ ہ ہ ہ ہ۔ پاپا… اس کی سسکی نکل گئی۔
تبھی اس کے ماتھے کو الگ کرتے ہوئے کہی: میں نے منع کیا تھا نا۔
رنجیت: کیا کروں۔ تمہاری چوت کی خوشبو ہے ہی اتنی خوبصورت ۔ کیا ٹیسٹ ہے۔ مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے ان کے ٹیسٹ۔
رشمی: آپ بہک گئے ہیں۔ آپ کہانی سناؤ۔ نہیں تو میں چلی جاؤں گی۔
رنجیت: ارے میری جان۔ ایسی کیسے چلی جائے گی۔ آج میں “بیٹی چود” بننا چاہتا ہوں۔ اس کے کھلے پن سے رشمی شرم آگئی ۔ یہ تو ایک ڈوز میں ہی بے ہوش ہو گیا۔ اور اگر میں پورا ننگی ہو گئی تو کیا ہوگا۔ پر وہ اپنے اوپر خود پر کنٹرول بنائے رکھی۔
بولی: وہ تو ہے۔ پر کہانی؟ ٹھیک ہے۔ کہانی کہتا ہوں۔ پر تمہارے جسم کو بھی چکھوں گا۔ اگر تم اجازت دو تو۔
رشمی: شرمائی پھر وہ بولی: آپ میرے ٹاپ لیس پر کسنگ کرسکتے ہیں ۔ اور ہاں ہو سکے تو میری چھاتیوں کو دبا سکتے ہیں۔ پر نیچے کے حصے پر نہیں۔
رنجیت: نے سوچا: جو ملے لے لو۔ نہیں تو کہیں بگڑ گئی تو لینے کی دینے پڑ جائیں گے ۔
اوکے۔ جیسے تم چاہو۔ اور آگے کہنے لگا: جب میں میٹنگ میں تھا تو نیہا کا فون آیا۔ (اور رشمی کے برا کے اسٹریپ سے کھیلنے لگا۔) اسے ہٹا کر پھر چھوڑ دیتا تھا۔ برا کے کپ سیدھے چھاتیوں پر فٹ ہو جاتا تھا۔ ایسا وہ کئی بار کیا۔ جب کرتا تھا تو رشمی کو بہت اچھا لگ رہا تھا۔ کہانی تو ایک بہانہ تھا رشمی کے لیے۔
اب رشمی کو بھی مزا آنے لگا تھا۔ وہ ایک ہاتھ سے رنجیت کے گلے میں بانہیں ڈال دی اور دوسرے ہاتھ سے اس کے سینے کے بالوں کو سہلانے لگی۔ بولی: اب آگے بھی بولو۔
رنجیت: میں نے اسے 7 بجے کا وقت دیا۔ اور جب میں اس کے گھر آیا تو وہ دلہن کی طرح تیار میرا انتظار کر رہی تھی۔ پہلے تو ہم لوگوں نے چائے اور اسنیکس لیا پھر کھانا کھایا۔ اور پھر جب وہ روٹی بنا رہی تھی… وہ واقعہ بہت لولی تھا۔ مجھے معلوم ہے وہ واقعہ… واقعی بہت مدہوش دریش تھا۔ نیہا نے مجھے بتایا تھا کہ ایک روٹی کے بدلے اس کا ایک کپڑا۔ رنجیت کا لنڈ ایک دم کھڑا ہو گیا۔ وہ نیکر سے باہر آ گیا۔ رنجیت سے اب رہا نہیں گیا وہ رشمی کو اپنی بانہوں میں لے لیا اور اس کے ہونٹوں پر کسنگ کرنے لگا اور ساتھ ہی چوسنے لگا۔ رشمی نے شروع شروع میں تو تھوڑی مزاحمت کی۔ پھر وہ اپنا جسم ڈھیلا چھوڑ دیا۔ اور رنجیت کا ساتھ دینے لگی۔ اب رنجیت کے ہاتھ اس کی پیٹھ، پیٹ، سافٹ گانڈ اورسندر مموں پر تیر رہا تھا۔ اب رشمی نے بھی اب رنجیت کے ہونٹوں کو زور سے چوس رہی تھی ۔ اور وہ بھی لاج شرم تیاگ کر سیکس کو انجوائے کررہی تھی ۔
📖 ہماری پریمیم کہانیوں کو پڑھنے کے لیے ہمارے فورم کو جوائن کریں
🔗 فورم جوائن کریں