بے شرم باپ ۔۔۔۔(آخری قسط)
پو رنیما جلدی سے جھوٹے برتن اٹھا کر کچن میں بھاگ گئی اور رنجیت نے فون آن کیا۔ “ہیلو…” دوسری طرف رشمی کا فون تھا۔رشمی: “پاپا، آپ کہاں ہیں؟ گھر…
پو رنیما جلدی سے جھوٹے برتن اٹھا کر کچن میں بھاگ گئی اور رنجیت نے فون آن کیا۔ “ہیلو…” دوسری طرف رشمی کا فون تھا۔رشمی: “پاپا، آپ کہاں ہیں؟ گھر…
صبح 8 بجے کمل جیت، ریکھا اور ممتا کو لے کر رنجیت بس اسٹیشن پر آ گیا۔ تھوڑی دیر میں ہی بس آ گئی۔ اسے بس میں بٹھا کر روانہ…
جب رشمی کپڑے تبدیل کرنے کے لئے جا رہی تھی تو رنجیت نے روک دیا… رہنے دو… تم آج بہت خوبصورت لگ رہی ہو… اس کپڑے میں… آؤ… باتیں کرتے…
میں اگر ایک بار دن کی روشنی میں آ کر کمرے میں اندھیرا ہونے کے باوجود آسانی سے چل پھر سکتا تھا تو جو کر گھر کا رہنا والا ہو…
اس کے بعد وہاں سے فارغ ہوئے تو میں نے سوچا عثمان سے موبائل کا پتہ کرتا جاؤں اس نے کہا تھا میرا فون اس کے پاس ہے ابھی سوچ…
مجھے اس چیز کا کوئی علم نہیں تھا وہ کیا کر رہے ہیں میں کھلی آنکھوں سے ان کو دیکھ رہی تھی طارق ابھی بھی مجھے پکڑے ہوئے تھا طارق…
عابد نے خنجر مانی کے مارا مانی نے ٹریگر پر انگلی دبا دی گولی بھی چلی لیکن گولی ہوا میں چلی لیکن خنجر مانی کے کندھے پیوست ہو گیا عابد…
شانزل فارغ ہو گئی لیکن میں اپنی اسی سپیڈ سے لگا ہوا تھا ۔شانزل نے مجھے رکنے کا کہا بھی لیکن میں جس پوزیشن میں پہنچ چکا تھا وہاں رکنا…
میں تو جو اس کو چوم رہا تھا سو چوم رہا تھا وہ بھی پیچھے نہ رہی اس نے اپنے پیاسے پن کا کھل کر اظہار کیا۔۔۔۔ میں نے جیسے…
میں اب اس انتظار میں تھا کہ چھنو کس کا نام لیتی ہے لیکن چھنو نے بجائے کسی کا نام لینے کے اس کا ہاتھ پکڑا اور واپس چل پڑی۔۔۔…